مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » عقیدہ معتزلہ اور تکفیر مسلم

عقیدہ معتزلہ اور تکفیر مسلم

image_pdfimage_print
تکفیر مسلم کے متعلق معتزلہ کا عقیدہ

عقیدہ معتزلہ اور تکفیر مسلم 

 

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد ! 

رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق اس امت کے 73 تہتر گروہ اور فرقے بنیں گے لیکن ان میں سے کامیاب اور صحیح منہج نبوی پر گامزن صرف ایک ہی گروہ ہو گا جو نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے اسوہ پر عمل پیرا ہو گا ۔ باقی تمام گروہ گمراہ کہلائیں گے ۔ 

یاد رہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کامیاب گروہ کے علاوہ باقی تمام گروہ کے لوگوں کو کافر اور ابدی جہنمی نہیں کہا جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس بات کو بیان کیا کہ باقی تمام گروہ گمراہ ضرور ہیں لیکن کافر نہیں ، اپنے گناہوں کی سزا دیے جائیں گے اور آخر جنت میں داخل کر دیے جائیں گے لہذا ہمیں بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ خود سے کسی کو کافر اور ہمیشہ جہنم میں رہنے والا قرار دے دیں ۔ان گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ قدریہ (معتزلہ) ہے ، آئیے اس بارے میں قرآن و سنت کے دلائل سے ان کے عقیدہ کا جائزہ لیتے ہیں ۔ 

مسلمانوں کی تکفیر اور عقیدہ معتزلہ : 

حق سے منحرف فرقہ قدریہ (معتزلہ) خود بیس فرقوں میں تقسیم ہیں جن میں سے ہر فرقہ اپنے علاوہ تمام فرقوں  کی کافر سمجھتا ہے،ان کے عقائد میں سے بعض چیزوں پر سب متفق ہیں، ان کا اس دعوی پر بھی اتفاق ہے کہ امت مسلمہ کا فاسق شخص دو درجوں کے درمیانی درجہ میں ہوتا ہے۔

(الفرق بین الفرق ص24)

وجہ تسمیہ :

معتزلہ کی وجہ تسمیہ جاننے کے لئے حسن بصری رحمہ اللہ کا ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے :

ایک شخص حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس آیا اور اس نے کہا:

اے دین کے امام ! ہمارے زمانہ میں ایک ایسی جماعت  کا ظہور ہوا ہے جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب مسلمانوں کو کافر کہتی ہے،اور کبیرہ گناہ  اس کے نزدیک ایسا کفر ہے جو ملت سے خارج کر دیتا ہے،یہ خوارج میں سے فرقہ وعیدیہ ہے،اور ایک ایسی جماعت ظاہر ہوئی ہےجو کبیرہ گناہ کے مرتکبین کو امید دلاتی ہے اور کبیرہ گناہ اس کے نزدیک کچھ بھی نقصان نہیں پہنچاتا،بلکہ اس کے عقیدہ و مذہب کے مطابق عمل ایمان کے ارکان میں سے نہیں ہے،اور جس طرح کفر کے ساتھ اطاعت (نیکی) فائدہ نہیں پہنچاتی اسی طرح ایمان کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچاتا، یہ امت کی وہ جماعت ہے جو”ارجاء“ یعنی عمل کو ایمان  سے خارج کرنے کی قائل ہے،تو آپ ہمیں اس بارے میں کس عقیدہ کی راہنمائی کرتے ہیں؟

حسن بصری رحمہ اللہ نے اس بارے میں غور کیا لیکن جواب دینے سے پہلے ہی واصل بن عطاء نے کہا :

کبیرہ کا مرتکب نہ مطلق مومن ہے اور نہ ہی مطلق کافر،بلکہ وہ دونوں مقامات کے درمیان ایک تیسرے مقام میں ہے،نہ مومن ہے نہ کافر۔

پھر وہ کھڑا ہوا  اور مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستوں کے پاس الگ تھلگ ہو کر حسن بصری رحمہ اللہ کے شاگردوں کی ایک جماعت کو اپنا جواب سمجھانے اور اس کی مزید وضاحت کرنے لگا،تو حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:

”اعتزلنا واصل“ یعنی واصل ہم سے الگ ہو گیا۔ 

چنانچہ وہ اور اس کے متبعین ”معتزلہ“ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔

(الملل والنحل للشہرستانی1/48)

گناہ گار لوگ نہ مومن نہ کافر : 

آخرت میں گناہگاروں  کے بارے میں ان کا مذہب خوارج کے مذہب کے موافق ہے،اور وہ ہےگناہگاروں کے جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہنے کا، رہا دنیا میں تو وہ خوارج کی طرح فاسقوں کا خون و مال حلال نہیں سمجھتے،لیکن وہ گناہگاروں کو ایمان سےخارج کرنے میں خوارج کے موافق اور انکے کفر میں داخل ہونے میں ان کے مخالف ہیں۔ 

چنانچہ معتزلہ کہتے ہیں  کہ وہ ایمان سے خارج ہو گئے لیکن کفر میں داخل نہ ہوئے،لہذا وہ دو منزلوں کے مابین ایک منزل میں ہیں۔

اور خوارج تو کبیرہ گناہوں کی بنیاد پر فاسقون کو ایمان سے خارج کر کے انہیں کفر میں داخل کر دیتے ہیں ۔

(الاجوبۃ المفیدہ علی الاسئلۃ العقیدہ ص59،وشرح عقیدہ طحاویہ ص356)

جبکہ معتزلہ کہتے ہیں  کہ گناہگار لوگ  نہ مومن ہیں اور نہ ہی کافر،بلکہ ہم انہیں فاسق کہتے ہیں،چنانچہ انھوں نے فسق کو( کفر و ایمان ) دونوں منزلوں کے درمیان ایک منزلہ قرار دیا،لیکن( دنیا کی طرح ) آخرت میں دو منزلوں کے درمیان ایک منزلہ کا فیصلہ نہ کیابلکہ خوارج کی طرح ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنم کا مستحق قرار دیا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ انھوں نے زبانی طور پر ان کی مخالفت کی اور حقیقت میں انکی موافقت کی،اور سب کے سب خطا کار اور گمراہ قرار پائے۔

(معارج القبول بشرح سلم الوصول فی التوحید 2/421)

المختصر :

معتزلہ کے عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب دنیا میں دو منزلوں کے درمیان ایک منزل میں ہو گا جبکہ اگر توبہ نہ کرے تو قیامت کے روز ہمیشہ ہمیش کیلئے جہنم کا مستحق ہو گا۔

(موقف المعتزکہ من السنۃ النبویہ ومواطن انحرافھم عنہا ،ص140،ایڈیشن 99 داراللواء)

کبیرہ گناہ کا مرتکب  مومن نہیں ہوتا : 

معتزلہ کا یہ  عقیدہ ہے کہ  کبیرہ گناہ کا مرتکب شخص  مومن اور مسلمان نہیں ہوتا جس کی دلیل میں اللہ عزوجل کا یہ فرمان پیش کرتے ہیں : 

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

(التوبہ 128)

تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں  جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں۔

چنانچہ قاضی عبدالجبار کے تبصرہ کے مطابق رسول اللہ ﷺ  کیلئے جائز نہیں کہ وہ کبائر کے مرتکبین میں سے جن پر حد قائم کریں اور لعنت کریں،ان پر مہربان اور رحم کرنے والے ہوں۔ 

اسی طرح احادیث نبوی ﷺ میں سے یہ دلائل پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 

« لاَ يَزْنِى الزَّانِى حِينَ يَزْنِى وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ »

[ صحيح مسلم ]

زنا کار زناکاری کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شراب خور شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔

علاوہ ازیں یہ حدیث بھی پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ

[مسند احمد3/135]

بے ایمان ہے وہ شخص جس کے پاس امانت  نہیں،اور بے دین ہے وہ شخص جس کے پاس عہدوپیمان نہیں۔

گناہ گار ہمیشہ ہمیش  عذاب جہنم کے مستحق ہیں : 

معتزلہ کے ہاں یہ بھی بڑا واضح عقیدہ پایا جاتا ہے کہ گناہ گار ہمیشہ کے لئے جہنم میں ہی رہے گا جس کی دلیل نبی ﷺ کے اس فرمان سے لیتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

« مَنَ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِى يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِى بَطْنِهِ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ شَرِبَ سَمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّى فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا ». 

[ صحيح البخاري ،مع فتح الباری3/226]

جس نے کسی لوہے کے ذریعے خودکشی کی اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا جسے وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیش  اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا،اور جس نے زہر پی کر خود کشی کی وہ اسے جہنم کی آگ میں  ہمیشہ ہمیش گھونٹتا رہے گا،اور جس نے پہاڑ سے کود کر خود کشی کی وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش کودتا  رہے گا۔

اسی طرح نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : 

( يدخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار ثم يقوم مؤذن بينهم يا أهل النار لا موت ويا أهل الجنة لا موت خلود )

[صحيح البخاري، مع فتح الباری11/406]

جنتی جنت میں چلے جائیں گے اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے،پھر ایک آواز لگانے والا کہے گا:اے  جہنمیو!اے جنتیو! اب موت نہیں آنی ہے،سب کے سب جس(نعمت و عذاب) میں ہیں اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

 ان سب باتوں سے معتزلہ کا عقیدہ گناہگار مسلمانوں کے متعلق واضح ہوا جو سراسر قرآن و حدیث اور منہج سلف کے مخالف ہے ہم آئندہ پبلش میں کوشش کریں گے کہ وہ  عقیدہ بیان  کریں جو  قرآن وسنت  اور منہج سلف کے عین مطابق ہو۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 2

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ  امام ابن تیمیہ ، امام ذھبی اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *