مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » تکفیر مسلم کے متعلق عقیدہ معتزلہ کا رد

تکفیر مسلم کے متعلق عقیدہ معتزلہ کا رد

image_pdfimage_print
تکفیر مسلم اور عقیدہ خوارج کا رد

تکفیر مسلم کے متعلق عقیدہ معتزلہ  کا رد

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد ! 

گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ معتزلہ ہے جو کہ خوارج کی طرح گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں اور انہیں ابدی جہنمی سمجھتے ہیں۔  ہم نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ان کے عقائد کا تذکرہ کیا تھا،اب ہم ان کے عقائد کا رد پیش کرتے ہیں۔توآئیے! گناہ گار مسلمانوں کو کافر قرار دینے کے بارےمیں  معتزلہ کے عقیدے کا قرآن و سنت کے کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں : 

کیا گناہ گار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے؟

محدثین کرام رحمہم اللہ عنہم نے سنت نبویہ میں ثابت احادیث  کو بنیاد بناتے ہوئےمعتزلہ کی گمراہیوں کا رد کیا ہے،جیسا کہ معتزلہ کے اس قول کا جواب کہ گناہگار ہمیشہ کیلئے جہنم میں رہیں گے۔

چنانچہ ابو سعید  خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدْ اسْوَدُّوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوْ الْحَيَاةِ شَكَّ مَالِكٌ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً

[صحيح البخاري، مع فتح الباری 1/72]

جنتی جنت اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے،پھر اللہ تعالی فرمائیں گے: جن کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہواسے جہنم سے نکال دو ،چنانچہ انہیں نکالا جائے گاحالانکہ وہ جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے،پھر انہیں نہر حیا یا نہر حیات(راوی حدیث مالک کواس لفظ میں شک ہے) میں ڈالا جائے گا،تو وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ لپٹا ہوا زرد رنگ میں نکلتا ہے۔

اور جب حدود کا قائم کرنا گناہگاروں کیلئے کفارہ اورتوبہ کے قائم مقام  تسلیم کر لیا گیا تو جس پر حد قائم نہ کی گئی  ،اور نہ ہی اس نے توبہ کی، اس کے گناہ کی بخشش اللہ کے ارادہ و مشیت کے تحت ہو گی، یعنی جیسا اللہ چاہے گا ویسے اس کے ساتھ سلوک کرے گا۔اوریہی چیز آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو سمجھائی چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:

تَعَالَوْا بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ

[صحيح البخاري،مع فتح الباری 7/219]

آؤ مجھ سے اس بات کاعہد کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤگے ، چوری نہ کروگے ، زنانہ کروگے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کروگے ، اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہ لگاؤ گے اور اچھی باتو ں میں میری نافرمانی نہ کروگے ، پس جو شخص اپنے اس عہد پر قائم رہے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس شخص نے اس میں کمی کی اور اللہ تعا لیٰ نے اسے چھپارہنے دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے ، چاہے تو اس پر سزا دے اور چاہے معاف کردے۔

 راوی حدیث حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے  ہم  نے نبیﷺسے ان امور پر بیعت کی ۔

غیر تائب گناہگار کے ہمیشہ  کیلئے  جہنم کا مستحق ہونے کے بارے میں معتزلہ اورقدریہ کے تشدد کے سبب  ان پر مشہور مثل”السید یعطی والعبد یمنع“ (یعنی آقا دے اور بندہ منع کردے) صادق آتی ہے۔اور اللہ کے لئے مثل اعلیٰ ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہ پر اصرار کرنے والے شخص کی (اگر اللہ چاہے تو) مغفرت کی صراحت فرمائی ہے،اور یہ(معتزلہ) اس صراحت کو ٹھکراتے ہیں اور(بزعم خویش) درستی اور درست ترین کے قاعدہ کی بنیاد پر مغفرت کا انکار کرتے ہیں جو فساد  و خراب ہونے کے زیادہ لائق و مستحق ہے۔

(موقف المعتزلہ من السنۃ النبویۃ و مواطن انحرافھم عنہا،ص148)

معتزلہ کے دو منزلوں والے قول کی تردید

رہا معتزلہ کے یہ قول کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب دو منزلوں کے درمیان ایک منزلہ میں ہو گا،تو اس کا رد کچھ یوں ہے۔

اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ

﴿البقرۃ: 178

اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔

چنانچہ اللہ نے قاتل کو مومنوں کے زمرہ خارج نہیں کیا بلکہ اسے مقتول کے ولی کا بھائی قرار دیا ،اور بلاشبہ اس سے مراد دینی اخوت ہے۔

اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے:

﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴿9﴾ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾

﴿الحجرات: 10﴾

اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم [سب] اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (9) [یاد رکھو] سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (10)

ان آیات سے معتزلہ کی تردید ہوتی ہے کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان گناہگاروں کو بھی مومن قرار دیا ہے۔

کتاب و سنت کے نصوص اوراجماع امت اس بات پر دلالت کرتے ہیں  کہ زنا کار، تہمت گر اور چور وغیرہ کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ ان پر حد قائم کی جائے گی،اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرتد نہیں ہیں۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص361)

اور خوارج کے مذہب کے مناقشہ میں کتاب و سنت کے قطعی دلائل گزر چکے ہیں کہ مسلمانوں میں سے  کبائر کے مرتکبین کو  ان کے گناہ کبیرہ(اگر وہ ان گناہوں کو  حلال نہ سمجھیں تو)اسلام سے خارج نہیں کرتے، لہذا اگر وہ مرنے سے پہلے توبہ کر لیں تو اللہ تعالی ان کی توبہ قبول فرمائے گا،اور اگر وہ بدستور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوئے مر جائیں تو ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے،اگر وہ چاہے تو انہیں جنت میں داخل کر دے اور اگر چاہے تو انہیں عذاب دے پھر اپنی رحمت اور اپنے اطاعت شعار سفارشیوں کی سفارش سے انہیں جہنم سے نکال دے۔

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 2

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ  امام ابن تیمیہ ، امام ذھبی اور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *