تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 2

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 2

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 

امام ابن تیمیہ ، امام ذھبی اور ابو الحسن الاشعری رحمہم اللہ کا آخری فیصلہ

فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد

کسی بھی مسلمان کو اپنے سوچے سمجھے اصول و قواعد پر کافر قرار دے دینا نہائت خطرناک عمل ہے جو کہ خوارج کا طرہ امتیاز ہے ، ہر دور میں سر فہرست خوارج کی ایک خاص نشانی رہی ہے جو خوارج کے تمام فرقوں اور گروہوں میں پائی جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اس فسادی عمل سے بطور خاص ڈرایا اور متنبہ فرمایا ہے اور اس کی تباہیوں سے آگاہ فرمایا ہے ۔ جو کئی مرتبہ ہم بیان کر چکے ہیں ۔ یہاں مختصرا ہم صرف چند اہم ائمہ عظام کا مسلمان کی تکفیر کے حوالے سے طریقہ کار بیان کیا جائے گا کہ کس طرح وہ اس مسئلہ کو حساس اور نہایت اہم سمجھتے ہوئے نہائت احتیاط سے کام لیتے اور ایک ایک لفظ سوچ سمجھے کر بیان فرماتےتھے ۔ 

امام ابو الحسن علی بن اسماعیل الاشعری کا اعلان حق

امام محمد بن احمد بن عثمان الذھبی ( المتوفی 748ھ ) لکھتے ہیں :

رأيت للاشعري كلمة أعجبتني وهي ثابتة رواها البيهقي، سمعت أبا حازم العبدوي، سمعت زاهر بن أحمد السرخسي يقول:

لما قرب حضور أجل أبي الحسن الاشعري في داري ببغداد، دعاني فأتيته، فقال: أشهد على أني لا أكفر أحدا من أهل القبلة، لان الكل يشيرون إلى معبود واحد، وإنما هذا كله اختلاف العبارات.

” میں نے اشعری کا ایک کلام دیکھا جس نے مجھے حیرت و تعجب میں ڈال دیا اور وہ ثابت ہے اسے امام بیھقی نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا میں نے ابو حازم العبدوی سے سنا انہوں نے کہا میں زاہر بن احمد السرخسی سے سنا وہ کہتے ہیں :

جب میرے گھر میں بغداد کے اندر ابو الحسن الاشعری کے موت کا وقت قریب ہو گیا ، تب انہوں نے مجھے بلایا تو میں ان کے پاس آیا انہوں نے کہا : مجھ پر گواہ ہو جا ، میں اہل قبلہ میں سے کسی ایک کی بھی تکفیر نہیں کرتا اس لئے کہ تمام ایک معبود کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور یہ سب محض عبارات کا اختلاف ہے ۔ “

یہ ابو الحسن الاشعری وہ ہیں جو اشاعرہ کے امام ہیں یہ پہلے معتزلی تھے پھر انہوں نے معتزلہ کی حمایت میں کتب لکھی تھیں پھر خود ان کا ابطال کیا اور دیوبندی اور بریلوی علماء انہیں عقیدے میں اپنا امام مانتے ہیں ۔

انہوں نے آخری زندگی میں کلمہ حق بلند کیا اور اہل السنۃ اہل الحدیث کا منہج اختیار کیا اور اہل القبلہ کی تکفیر سے رجوع کر لیا ۔ لیکن ان کے ماننے ولوں نے غلط روش اپنائی اور آج مسلمانان عالم کی تکفیر پر کمر بستہ ہیں اور محض تکفیر نہیں بلکہ تقتیل و تفجیر کی آخری حدوں کو چُھو رہے ہیں ۔ ھداھم اللہ تعالی الی صراط مستقیم ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا آخری قول

امام ذھبی رحمہ اللہ ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کا کلام نقل کرنے کے بعد اپنے اور اپنے شیخ محترم ابن تیمیہ کے بارے میں رقمطراز ہیں :

قلت: وبنحو هذا أدين، وكذا كان شيخنا ابن تيمية في أواخر أيامه يقول: أنا لا أكفر أحدا من الامة، ويقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ” لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن ” فمن لازم الصلوات بوضوء فهو مسلم.

” میں کہتا ہوں : اس طرز کو میں اپناتا ہوں اور اسی طرح ہمارے شیخ امام ابن تیمیہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کہتے تھے : میں امت میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا اور کہتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” وضوء کی حفاظت مومن کے علاوہ کوئی نہیں کرتا تو جس نے وضوء کے ساتھ نمازوں کو لازم کر لیا وہ مسلم ہے ۔ “

اس سے معلوم ہوا کہ امام ذھبی اور ان کے شیخ امام ابن تیمیہ کا بھی آخری فیصلہ یہی ہے کہ وہ کسی مسلم کی تکفیر نہیں کرتے تھے اور احتیاط کی روش اپنانے میں ہی خیر ہے ۔ بعض جہال امام ابن تیمیہ وغیرہ کی مجمل عبارات پیش کر کے لوگوں کی تکفیر پر کمر بستہ ہیں اور اسلام اور اہل اسلام کے لئے بدنما دھبہ ہیں ۔ ایسے جہال علمائے کرام کی تکفیر سے بھی نہیں چونکتے ۔

امام ابن تیمیہ کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا منکر ہے کہ جہلاء کو علماء کی تکفیر پر مسلط کر دیا جائے ۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

فإن تسليط الجهال على تكفير علماء المسلمين من أعظم المنكرات ؛ وإنما أصل هذا من الخوارج والروافض الذين يكفرون أئمة المسلمين

” پس بلا شبہ جہال کو مسلمانوں کے علماء کی تکفیر پر مسلط کر دینا سب سے بڑی منکر چیز ہے اور اس کی اصل خوارج اور روافض میں سے ہے جو آئمۃ المسلمین کی تکفیر کرتے ہیں ۔ “

خوارج اور روافض ایسے خبثاء ہیں جنہوں نے امت مسلمہ کے اولین گروہ مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی اور ان پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھولا اور آج انہی کی کوکھ سے جنم لینے والے بعض مُخبّثین امت مسلمہ کی تکفیر کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں ۔

اور حیرت و افسوس اس بات پر ہے کہ بعض اہل السنۃ ، اہل الحدیث کی طرف منسوب لوگ بھی اس آفت کی لپیٹ میں آچکے ہیں اس سے قبل اس بات کا اظہار امام دقیق العید اور علامہ ابن الوزیر الیمانی بھی کر چکے ہیں ۔

امام ابن دقیق العید فرماتے ہیں :

وهي ورطة عظيمة وقع فيها خلق من المتكلمين ومن المنسوبين إلى السنة وأهل الحديث

” اور یہ ایک بہت بڑا بھنور ہے جس میں متکلمین اور سنت و حدیث کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگ پھنس چکے ہیں۔ “

اور علامہ ابن الوزیر الیمانی رقمطراز ہیں :

فمن العجب تكفير كثير ممن لم يرسخ في العلم لكثير من العلماء وما دروا حقيقة مذاهبهم وهذه هذه وما يعقلها إلا العالمون

” تعجب ہے بہت سارے وہ لوگ جنہیں علم میں رسوخ نہیں ہے وہ کثیر علماء کی تکفیر کرتے ہیں اور وہ ان کی مذاہب کی حقیقت نہیں جانتے اور ان مباحث کو علماء کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا ۔ “

اور علماء کسی کی تکفیر کرنے سے قبل بار ہا دفعہ غور و فکر کرتے ہیں بلکہ جس قدر ممکن ہو کسی مسلم سے سرزد ہو جانے والے قول کفر کی توجیہات کرتے ہیں تا کہ وہ شخص مسلم برادری سے خارج نہ ہو اور اس کی گمراہی کی اصلاح ہو ۔

ماخوذ از

مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب