عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

 عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم  باتیں 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم نکات جن کا علم ہونا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے ، وگرنہ وہ جانے انجانے میں خوارج کی صف میں شامل ہوسکتا ہے،ہم ان  اصول کو آسان الفاظ میں بیان کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ملاحظہ کیجیے ؛ 

  • مسلمانوں کے آئمہ  و امراء کے خلاف بغاوت کرنا کتاب و سنت سے حرام ہے۔
  • مسلمانوں کے ذمہ داروں مثلاً حکام اور علماء و امراء کی اطاعت معروف و بھلائی میں رعایا پر واجب ہے،اس میں کوئی شک نہیں۔
  • ہر وہ شخص جو ایسے امام کے خلاف بغاوت کرے جس پر مسلمانوں کی جماعت متفق ہو اور کبیرہ گناہ کی بنیاد پر اس کی تکفیر کرے اسے خارجی کہا جائے گا،اس کے حق میں حکومت وقت کے لئے حکم شرعی نافذ کرنا ضروری ہو جاتا ہے وگرنہ یہ مزید لوگوں کے عقائد میں خرابی پیدا کرے گا۔
  • تکفیر کے کچھ اصول ہیں جنہیں جاننا اور ازبر کرنا ضروری ہے،یہاں تک کہ طالب علم اپنے معاملے سے آگاہ ہو جائے۔
  • علم شرعی کے طلب گار کیلئے تکفیر کےضوابط کی معرفت بہت اہم ہے۔
  • تکفیر کے کچھ موانع ہیں جنہیں جانناضروری ہے۔
  • اہل سنت و جماعت تمام فرقوں میں متوسط و معتدل ہیں خواہ تکفیر کے مسئلہ میں یا دیگر مسائل میں ،اللہ سبحانہ و تعالی نے اس امت کے بارے میں ارشاد فرمایا:
    وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا 
    ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول [ﷺ] تم پر گواه ہوجائیں

(البقرۃ: 143)

  • تکفیر کا مسئلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ  کا حق ہے،لہذا کافر وہی ہے جسے اللہ اور اس کا رسول کافر قرار دیں۔
  • کسی بھی شخص پر کفر کا حکم لگانے سے پہلے چاہیے کہ بغیر علم اللہ کی ذات پر بات کہنے کے اندیشہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس میں بارہا غور و فکر کر لیا جائے ، کیونکہ جس کسی انسان پر کفر کا حکم لگایا جائے ، اس پر شریعت اسلامیہ میں موجود مرتد کے احکام کی تنفیذ ضروری ہو جاتی ہے جو کہ متفقہ طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے اس فریضہ کو اگر ہر کوئی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے گا معاشرے فساد اور تباہ بربادی کا شکار ہو گا اور یہ ہر گز بھی اسلام کے حق میں نہیں ہے ۔
  • تکفیر کے مسئلہ میں اہل سنت و جماعت کا مستند کتاب و سنت پر اجماع ہیں۔
  • اہل سنت و جماعت کے مخالف فرقے احوال و مقاصد کے اعتبار سے مختلف ہیں،چنانچہ ان میں سے کچھ کافر ہیں،کچھ فاسق،ظالم اور گمراہ ہیں،اور کچھ خطاکار ہیں،جن کی مغفرت کا امکان ہے،اس بات کی وضاحت میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ،امام ابن القیم،اور شیخ عبد الرحمان بن ناصر سعدی رحمہم اللہ کے اقوال پچھلے مضامین میں بیان کیے جا چکے ہیں ۔
  • شریعت اسلامیہ اہل قبلہ میں سےکسی پر بھی کفر کا حکم نہیں لگاتی،یہاں تک کہ اسے کھول کھول کر بتا دیا جائے،دلیل کے ساتھ حق کی راہنمائی کر دی جائے،وضاحت کے بعد فاسد عقلوں منتشر ذھنوں میں ابھرنے والے شبہات زائل کر دیئے جائیں، چنانچہ اس کے بعد بھی اگر کوئی اپنے کفر پر بدستور مصر (اڑا) رہے تو پھر حکومت وقت اس کے لئے کامیاب علاج موجود ہے، اور وہ شریعت اسلامیہ میں مرتد کے احکام ہیں، اس سے توبہ کرائی جائے گی،اگر توبہ کرلے تو ٹھیک وگرنہ اسے کفر وارتداد کی سزا میں حکومت وقت قتل کا فیصلہ سنا دے گی ، حکومت کے علاوہ کسی کو بھی کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ حدود کے نفاذ کو اپنے ہاتھ میں لے اس سے معاشرے میں مزید انارکی پھیلنے کا شدید اندیشہ ہو سکتا ہے ۔ 
  • دلیل و برھان کے ساتھ حق کی معرفت اور یہ کہ سابقہ دلائل کی روشنی میں نجات یافتہ جماعت”اہل سنت و جما عت“ ہی ہے اور ان کے علاوہ جو فرقے ہیں وہ حق پر نہیں بلکہ اپنے حالات کے اعتبار سے ہیں،جیساکہ پوائنٹ 11 میں گزرا۔اس بات کا علم کہ  حق و باطل کے مابین ستیزہ کاری  ہمیشہ سے رہی ہے لیکن الحمدللہ غلبہ و سر بلندی اخیر میں حق کی ہی ہوتی ہے،رہا باطل تو وہ مٹ جاتا ہےجب کہ حق ثابت و پائیدار ہوتا ہےکسی طرح نہیں  ڈگمگاتا۔
  • شرعی منہج سے انحراف کی خطر ناکی اور اس پر مرتب ہونے والے احکام کی معرفت۔

یہ تمام ایسی باتیں ہیں جنہیں یاد رکھنا اور ان کا خیال رکھنا ہر مسلمان کے لئے از حد ضروری ہے ۔ تاآنکہ ہم فتنہ و فساد سے محفوظ زندگی گزار سکیں ۔ ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے اعمال کو قبولیت بخشے اور ان کوہمارے لئے نفع بخش اور بابرکت بنائے،وہی اس کا مالک ہے اور اس پر قادر ہے۔آمین