مرکزی صفحہ » گمراہ فرقے » خوارج » خوارج دنیا کے بڑے حریص ہوتے ہیں

خوارج دنیا کے بڑے حریص ہوتے ہیں

image_pdfimage_print
خوارج دنیا کے حریص ہوتے ہیں

خوارج دنیا کے بڑے حریص ہوتے ہیں 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کے تمام تر اقدامات میں ایک چیز بڑی واضح دیکھی جا سکتی ہے کہ یہ مال ودولت اور ہر قسم کی دنیا داری کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے شور مچاتے ہیں مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرتے ہیں اور یہیں سے آگے نکل کر یہ خون بہانے تک پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ ان کے سب سے پہلے شخص کے عمل سے ہی ظاہر ہے ،جب نبیﷺ پر دنیا کی چیزیں تقسیم کرنے پر اعتراض کیاگیا۔

علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ فرماتےہیں :

خوارج کی ابتداء دنیا کی حرص کے سبب ہوئی ،جب نبیﷺ نے حنین کا مال تقسیم فرمایا،توگویا انہوں نے اپنی فاسد عقلوں سے یہ سمجھا کہ آپﷺ نے تقسیم کرنے میں عدل وانصاف نہیں کیا ،تو آپ سے یہ غیر متوقع بات کہہ ڈالی ۔

ان میں سے ایک شخص نے جس کا نام ذوالخویصرہ تھا ،نبیﷺکو کہنے لگا:

آپ نے انصاف نہیں کیا لہذا آپ انصاف سے کام لیں ۔

تو نبیﷺ نے فرمایا: 

لَقَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِل ، أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِي

اگر میں انصاف نہ کروں تو میں  ناکام ونامراد ہو جاؤں گا اور خسارے میں پڑ جاؤں گا ،اللہ تو زمین  والوں پر امین  بناکراعتماد کرے لیکن تم مجھ پر اعتماد نہیں کرتے۔

جب وہ آدمی واپس چلا گیا تو سیدنا عمربن خطاب﷜سے اس کے قتل کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: 

 دعه فإنه يخرج من ضئضئ هذا – أي من جنسه – قوم يحقر أحدكم صلاته مع صلاتهم ، وصيامه مع صيامهم ، وقراءته مع قراءتهم ، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ، فأينما لقيتموهم فاقتلوهم ، فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم  

(صحيح مسلم ، كتاب الزكاة ، باب ذكر الخوارج وصفاتهم (2449 ــ 2456) والمسند (616) وابن حبان (24))

اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کی نسل  سے ایسی قوم پیدا ہو گی کہ تم اپنی نماز ،روزہ اورتلاوت قرآن کو ان کے نماز روزے اور تلاوت قرآن کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے۔وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ،جہاں بھی تم ان کو پاؤ ،ان کو قتل کر دو کیونکہ ان کے قتل کرنے میں  قتل کرنے والے کیلئے اجرو ثواب ہے۔

پھر علی بن ابی طالب  رضی اللہ  ت عنہ کے دور خلافت میں ان کا ظہور ہوا اور جنگ نہروان میں وہ سارے خوارج قتل کیے گئے ۔ اس کے بعد ان میں  سے مختلف کنبے ، قبیلےاور بہت سے فرقے وجود میں آئے۔

(تفسیر ابن کثیر:2 /10)

خوارج قاتل عثمان رضی اللہ عنہ : 

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایۃ والنھایۃ میں مزید ذکر کیا ہے کہ خوارج نے عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں  داخل ہو کر ان کو قتل کیا تھا ،وہ لکھتے ہیں  :

پھر یہ فاجر لوگ گھر کے اندر موجود مال واسباب پر ٹوٹ پڑے اور سب کچھ لوٹ لیا اور یہ اس وقت ہوا کہ جب ان میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے کہا :

ہمارے لئے ان کا خون حلال ہے تو ان کا مال بالاولیٰ حلال ہے ۔ یہ سن کر ان لوگوں نے گھر میں موجود مال لوٹ لیا ۔

اس کے بعد سب نے بیک آواز ہو کر کہا کہ قبل اس کے کہ کوئی بیت المال تک پہنچے ،تم اس پر قبضہ کر لو ،لیکن ان کی آواز کو بیت المال کے محافظوں نے سن لیا تو انہوں نے صدا لگائی کہ لوگو! بچاؤ بچاؤ کیونکہ اس قوم کے قول میں سچائی نہیں ہے کہ ان کا مقصد حق کو قائم کرنا ،اچھی باتوں کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور ان کے علاوہ وہ کام کرنا ہے کہ جن کے بارے میں  ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اسی کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔لیکن درحقیقت یہ سب جھوٹے ہیں ان کا مقصد تو صرف دنیا ہے مگر اس آواز کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ شکست کھا گئے ۔اس کے بعد خوارج نے بیت المال پہنچ کر اس کا سارا مال لوٹ لیا ،اس وقت بیت المال کے اندر بہت زیادہ سازوسامان تھا ۔

(تفسیر ابن کثیر:10 /316 )

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :ابو عوانہ﷫ نے اپنی صحیح یعنی مسند ابو عوانہ میں ان احادیث کیلئے یہ باب باندھا ہے کہ:

اس مسئلہ کا بیان کہ خوارج کے خروج وبغاوت کا سبب مال غنیمت کی تقسیم میں  (بقول ان کے)ترجیح دینا تھا ،حالانکہ وہ ترجیح صحیح ودرست تھی ،مگر یہ ان پر مخفی رہی۔

(فتح الباری:12 /301)

امام مسلم  رحمۃ اللہ 

امام مسلم نیسابوری رحمہ اللہ نے خوارج اور ان کی صفات کو اپنی صحیح مسلم کی کتاب الزکاۃ میں داخل کیا ہے ،اور شاید ان کا اشارہ اسی معنی کی طرف ہے۔

(صحيح مسلم ، كتاب الزكاة ، باب ذكر الخوارج وصفاتهم (2449 ــ 2456) )

حسن بصری رحمۃ اللہ :

خوارج میں سے ایک شخص حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ خوارج کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

حسن بصری رحمہ اللہ نے جواب دیا : خوارج دنیا دار ہیں ۔

خارجی شخص نے کہا : آپ نے یہ بات کس بنیاد پر کہی ہے جبکہ ان کا کارکن نیزے کے سائے میں چلتا ہے،یہاں تک کہ وہ اس میں  ٹوٹ جاتا ہے اور وہ اپنے اہل وعیال کو چھوڑ کر نکل جاتا ہے ۔(یعنی وہ دنیا سے دور اس قدر خطرات میں رہتے ہیں ) 

حسن بصری رحمۃ اللہ نے کہا : مجھ سے حاکم کے متعلق بات کرو ،کیا وہ تمہیں نماز پڑھنے ،زکاۃ ادا کرنے اور حج وعمرہ کرنے سے روکتے ہیں ؟

خارجی شخص نے کہا : نہیں

تب حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نےکہا : میں سمجھتا ہوں کہ حکمران تم کو دنیاداری سے روکتے ہیں اور اس بنا پر تم ان سے لڑتے ہو۔

(البصائروالذخائر:1/156)

علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں :

بہت سے لوگ یا کثر لوگ جنہوں نے حکام کے خلاف بغاوت کی ،تو اس لیے کی تا کہ وہ حکام کے ترجیحی معاملہ وسلوک پر ان سے اختلاف ونزاع کریں،اور ان لوگون نے ان کے ترجیحی سلوک پر صبر نہیں کیا ،اس کے علاوہ حاکم کی دوسری برائیاں اور کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں ،تو حاکم کی خود غرضی اور اس کے ترجیحی سلوک کی بنا پر خارجی کا اس سے بغض رکھنا،اس کی برائیوں کو اور بڑھا دیتا ہے۔اور حاکم سے لڑنے والا اس گمان سے لڑتا ہے کہ فتنہ وفساد کا خاتمہ ہو اور دین سارے کا سارا اللہ کا ہو جائے ،اس کا سب سے اہم مقصد حکومت حاصل کرنا یا مال حاصل کرنا ہوتا ہے۔ 

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْـهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْـهَآ اِذَا هُـمْ يَسْخَطُوْنَ  

(التوبۃ:58)

اگر انہیں اس(مال غنیمت) میں سے مل جائے تو راضی ہوتے ہیں اور اگر نہ ملے تو فورً‌ا ناراض ہو جاتے ہیں۔

اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :

ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ:

وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا ، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا رَضِيَ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا سَخِطَ 

تین آدمی ہیں کہ اللہ قیامت والے دن نہ ہی کلام کرے گا اور نہ ہی نظر رحمت  سے دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا اور ان کیلئے دردناک عذاب ہوگا : 

ان میں سے ایک وہ ہے کہ جو کسی حاکم سے صرف دنیا حاصل کرنے کی غرض سے بیعت کرے ، اگر وہ اس کو دنیا کے مال میں  سے کچھ دے دے تو وہ راضی رہے لیکن اگر وہ اس کو نہ دے تو اس سے ناراض ہو جائے ۔

(بخاری:7212)

لہذا جب اس جہت سے بھی شبہ اور شہوت ہو اور اس جہت سے بھی شہوت و شبہ ہو تو فتنہ و فساد قائم ہو جاتا ہے ۔

(منھاج السنۃ (4 / 541 )

خارجی تنظیم داعش :

اسی طرح آپ موجودہ دور میں خوارج کی تنظیم داعش کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ کسی چالاکی ، چالبازی اور کفار کی یہودی صلیبی سازشوں کی مدد سے عراق و شام میں تیل کے کنوؤں پر قبضے شروع کیے گئے ، اپنی الگ سے کرنسی جاری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ، خواتین کو لونڈیاں بنا کر منڈیاں سجانے کی کوشش کی گئی ، مختلف ممالک کے لوگوں کو اغواء کیا گیا کہ اس سے مال و دولت حاصل کیا جائے گا ، سفیروں کو قید کر لیا گیا جس پر بڑی بڑی ڈیمانڈ پوری کروائی گئی ۔ غریب عوام کو بھاری رقوم کی لالچ دے کر داعش میں شامل کر نا وغیرہ سب ان کی دنیا داری میں شامل ہے ۔ ایسی ہی کئی ایک مثالیں موجود ہیں جو کہ کسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں ہیں ۔

تحریک طالبان پاکستان :

اسی طرح ٹی ٹی پی بھی پیسے اور حصول حکومت کی دوڑ میں پیچھے نہیں ہے ۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ کس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور کس کو کافر سمجھتے ہیں یہ دیکھیے کہ دنیا کے حصول میں کبھی یہاں خواتین ، بچوں ، ڈاکٹرز ، انجینئرز وغیرہ کو اغواء کیا جاتا کہ ان کی بدولت تاوان حاصل کیا جائے گا ۔ کئی ایک علاقوں میں ان کا جگا ٹیکس چلتا ہے اور پھر جو اس سے اپنا ہاتھ روک لیتا تھا یہ خبیث صفت خارجی تحریک طالبان کے خوارج اس کو مرتد کہتے ہوئے اس کی جان کے درپے ہو جاتے ، پاکستانی اخبارات ان کے گناہوں سے بڑی پڑی ہیں ۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں ان فتنوں سے محفوظ فرمائے اور مسلمانوں کی حفاظت فرمائے آمین 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

خوارج کے فرقے

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

  خوارج کے فرقے،القاب اور نام الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *