مرکزی صفحہ » اسلام اور حکمران » حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

image_pdfimage_print

حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران کی  خیر خواہی آخر کیسے ؟ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

حکومت ، سلطہ اور جاہ جلال ایسی چیز ہےکہ جہاں ہر کسی کا اپنی مرضی کرنے کو جی چاہتا ہے تبھی تو وہ کئی گناہوں کو بالکل معمولی سمجھتے ہوئے کر گزرتا ہے ، جہاں اسے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اتنے کروڑوں  عوام میں تحت ہیں ، میں جو بھی کرنا چاہوں وہ ہو گا ۔ تو ایسے میں اللہ کی یاد اس کا ڈر ، خوف اور بھی کم ہو جاتی ہے ، اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کی کوتاہیاں اور برائی اچھالنے کی بجائے انہیں نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئیے اسی کے پیش نظر کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے ؛ 

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((الدين النصيحة، قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم))

(مسند احمد404،403/3 ومستدرک حاکم: 290/3)

“دین خیرخواہی ہے۔ہم نے پوچھا: کس سے؟ آپ نے فرمایا: اللہ سے،اس کی کتاب سے،اس کے رسول سے،مسلمانوں کے اماموں سے اور عام مسلمانوں سے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

((نضَّر الله امرأً سَمِع مقالتي فوَعَاها وحَفِظها وبَلَّغها، فرُبَّ حامل فِقْه إلى مَن هو أفقه منه، ثلاث لا يغلُّ عليهنَّ قلبُ مسلم: إخلاصُ العمل لله، ومناصحة أئمة المسلمين، ولزوم جماعتهم؛ فإنَّ الدَّعْوة تُحيط من ورائهم))

(فتح الباری 72،71/13)

اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیوں کہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھاسکتا،(۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیوں کہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی بات کے سننے اور اس کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانے،یاد کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے والے کے حق میں خوشی،چہرے کی تروتازگی اور اس کے حسن و جمال کی دعا فرمائی ہے جو ایمان کے آثار اور باطن کے اس سے روشن ہونے نیز دل کے مسرت  و شادمانی سے ہمکنار اور لذت یاب ہونے کے سبب چہرے کو عطا ہوتی ہے،چنانچہ جو ان چاروں مراتب کو انجام دے گا وہ نبی ﷺ کی ظاہر و باطن کے حسن  و جمال پر مشتمل دعا سے فیضیاب ہو گا۔

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم 1/276.274،بتحقیق علی بن حسن بن عبدالحمید)

امام ابن قیم  رحمہ اللہ  مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

  • نبی ﷺ کا فرمان: اور مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی…..۔

یہ چیز بھی  خیانت اور دھوکہ دہی کے منافی ہے کیونکہ خیر خواہی اور خیانت دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،چنانچہ جو شخص آئمہ و امراء اور امامت(رعایا) کی خیر خواہی کرے گا وہ خیانت سے بری ہو گا۔ 

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم: 1 /275 تا 278)

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

مسلمانوں کے امام وامراۃ کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں ان کی درستی, نیکی اور عدل و انصاف سے محبت کرنا نیز ان کے ہاتھوں پر امت کے اتفاق سے محبت اور ان پر امت کے اختلاف و افتراق کو ناپسند کرنا،اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کو نیکی سمجھنا ان کے خلاف بغاوت کے جواز کا عقیدہ رکھنے والے سے بغض رکھنا اور اللہ کی اطاعت میں ان کے غلبہ و سربلندی کو پسند کرنا۔

(جامع العلوم والحکم: 1/222)

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں حق پر ان کی مدد کرنا،اطاعت کرنا،انہیں حق کی نصیحت کرنا،نرمی و ملائمت سے انہیں تنبیہ کرنا،ان سے اختلاف کرنے اور لڑنے جھگڑنے سے احتراز کرنا اور ان کے لئے توفیق کی دعا کرنا نیز غیروں کو اس پر ابھارنا۔

(مرجع سابق 1/223 نیز مسلمانوں کے امراء کی اطاعت کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ ابن تیمیہ 28/391،390،ومنہاج السنۃ النبویہ 3/390)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں کے امراء کی اطاعت اور انکی خیر خواہی کا حکم دیا ہے وہ انسان پر بعینہ اسی طرح واجب ہےجس طرح پانچ وقت کی نمازیں ،زکاۃ، روزہ ،حج بیت اللہ اور ان کے علاوہ دیگر وہ  اعمال واجب ہیں جن  کی بجا آوری کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ اس نے اس کا معاہدہ نہ کیا ہو اور اس کے لیے پختہ خلاص نہ اٹھائی ہو، اور اگر وہ اس پر قسم کھالے تو یہ چیز امراء  کی اطاعت اور ان کی خیرخواہی کے سلسلہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مزید تاکید وتثبیت ہوگی،  چنانچہ ان کی باتوں کی قسم کھانے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قسم شدہ امر  کی خلاف ورزی کرے…. کیوں کہ اللہ عزوجل نے حکمرانوں اورامراءکی اطاعت اور خیرخواہی کو واجب قرار دیا ہے، وہ یوں بھی  واجب ہے  خواہ وہ  قسم نہ بھی کھائے ،تو اب جبکہ اس نے  قسم کھالی ہے ان کی اطاعت اس پر بدرجہ اولیٰ واجب ہوگی ،اسی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےجوان کی  نافرمانی اور خیانت سے منع فرمایا ہے وہ اس پر حرام ہیں خوا ہ  اس نے قسم نہ بھی کھائی ہو ۔

(فتاوی ابن تیمیہ 35/10،9)

اور آئمہ و امراء کو نصیحت ان کے اور ناصح کے مابین نرمی و ملائمت ،  حکمت  و دوراندیشی ،  عمدہ نصیحت اور مناسب اسلوب میں خفیہ طور پر ہوگی۔ 

شیخ علامہ عبدالرحمان بن ناصر سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رہا مسلمانوں کے آئمہ کی خیر خواہی کا مسئلہ:تو مسلمانوں کے آئمہ سے مراد سلطان اعظم سے لیکر امیر و قاضی تک ان کے امراء اور ذمہ داران ہیں،چونکہ ان لوگوں کے فرائض اور ذمہ داریاں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر ہیں،اس لئے ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے انہیں نصیحت کرنا واجب ہے،اس بات کے پیشِ نظر ان کی امامت کا اعتقاد رکھا جائے،ان کی ولایت ( حکمرانی) کا اعتراف کیا جائے،معروف میں ان کی اطاعت کی جائے،ان کے خلاف بغاوت نہ کی جائے،رعایا کو ان کی اطاعت اور ان کے حکم کی تعمیل پر ابھارا جائے،بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو،اپنی استطاعت بھر انہیں نصیحت اور اپنی رعایا کی دیکھ بھال  کے سلسلے میں جو چیزیں ان سے مخفی ہوں ان کی وضاحت کی جائے ـہر شخص اپنے اعتبار سےـ ان کی اصلاح و درستی اور تو فیق کیلئے  دعا کی جائے کیونکہ ان کی بہتری میں رعایا کی بہتری ہے ،انہیں برا بھلا کہنے،ان کی عیب جوئی  اور انکی خامیوں اور برائیوں کو  عام کرنے سے باز رہا جائے،کیونکہ اس میں برائی ،نقصان اور بہت بڑا فساد ہے،چنانچہ ان کی خیر خواہی کا تقاضہ  یہ ہے کہ ان چیزوں سے بچا جائے اور دوسروں کو تنبیہ کی جائے،اور جو شخص ان کی جانب سے کوئی نا جائز چیز دیکھے اسے چاہیے کہ انہیں علانیہ  نہیں بلکہ خفیہ طور پر نرمی اور ایسے اسلوب میں تنبیہ کرے  جو برمحل ہو  اور مقصود حاصل ہو جائے،کیونکہ ہر شخص بالخصوص  امراء اور حکام کے حق میں  یہی چیز مطلوب ہے،کیونکہ انہیں اس طرح تنبیہ کرنے میں بڑی خیر ہے، اور یہ سچائی اور اخلاص کی علامت ہے ،اور اس (مذکورہ طریقہ پر) نصیحت کرنے والے!دیکھنا لوگوں کی مدح سرائی آپ کی نصیحت  کو ضائع و برباد  نہ کردے،اس لئے کہ آپ لوگوں کو کہتے پھریں کہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے اور ایسا ایسا کہا ہے،کیونکہ یہ ریا کاری اور ضعف اخلاص کی علامت ہے،اور اس کے دیگر نقصانات بھی ہیں جو معروف ہیں۔

(الریاض الناضرۃ والحدائق النیرۃ الزاہرہ،ص38تا 49)

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

photo_2017-07-23_12-16-10

فتنۂ ابن اشعث (81ھ)۔

فتنۂ ابن اشعث (81ھ) خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *