فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اسماء کو مانتے ہیں لیکن صفات کے منکر ہیں، بس وہ مجرد یعنی صفت سے عاری اسم مانتے ہیں۔ اسماء الہی صرف الفاظ ہيں کہ جن کا نہ کوئی معنی ہے اور نہ صفت ۔

انہیں معتزلہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے امام واصل بن عطاء مشہور جلیل القدر تابعی امام حسن بصری رحمہ اللہ کے شاگرد ہوا کرتے تھے۔ جب اس نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے کبیرہ گناہ کے مرتکب کے حکم کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ نے اہل سنت والجماعت کا جو قول ہے وہی فرمایا:

انہ مؤمن ناقص الایمان، مؤمن بایمانہ فاسق بکبیرتہ

وہ ناقص الایمان مومن ہے، اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے۔ 

مگر واصل بن عطاء اپنے شیخ کے اس جواب سے راضی نہ ہوا تو اس نے کنارہ کشی اختیار کرلی اور کہا: نہیں، میں ایسے کبیرہ گناہ کے مرتکب کو نہ مومن سمجھتا ہوں اور نہ کافر بلکہ وہ تو منزل بین المنزلتین  (دو منزلوں کے درمیان ایک منزل) پر ہے۔

پس اس نے اپنے استاد حسن بصری رحمہ اللہ کا حلقہ چھوڑ کر مسجد کے ایک کونے میں جگہ اختیار کرلی اور آہستہ آہستہ اوباش قسم کے لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے اور اس کے قول کے قائل ہوگئے۔

یہی حال ہوتا ہے گمراہی کے داعیان کا ہر دور میں کہ لازمی طور پر بہت سے لوگ ان کی طرف لپکے جاتے ہیں، اس میں بھی اللہ تعالی کی عظیم حکمتیں پنہاں ہیں۔انہوں نے حسن بصری جو کہ اہل سنت کے بہت بڑے امام تھے ، ان کی خیر وعلم والی مجلس کو چھوڑ کر ، اس گمراہ اور گمراہ گر معتزلی واصل بن عطاء کی مجلس اختیار کی۔

اس کے مشابہ بہت سے لوگ ہمارے اس زمانے میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو علماء اہل سنت والجماعت کی مجلس چھوڑ کر منحرف فکر کے مفکرین کی مجالس کو اختیار کرلیتے ہیں۔ پس آپ انہیں پائیں گے کہ انہی کی کیسٹوں اور کتابوں کی شدید حرص کرتے ہیں اور انہی پر قناعت کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔

اگر آپ ان سے کہیں کہ اس میں ایسی باتیں ہیں جو عقیدۂ اہل سنت والجماعت اور سلف صالحین کے خلاف ہے جیسے خلق قرآن ، یا تاویل صفات باری تعالی، یا پھر حکمرانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنا وغیرہ۔

تو وہ کہتے ہیں کہ: یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کتاب کی قرأت اور اس کی تقاریر سننے میں کوئی مانع نہیں، حالانکہ ہمارے سلف وخلف علماء کی کتب میں وہ کچھ ہے جو ان کی کتابیں پڑھنے سے ہمیں مستغنی کردیتا ہے۔ تو جو کوئی ان کی بات سنتاہے اسے وہ اس طرح سے گمراہ کرتے ہیں۔۔۔

﴿لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ

(النحل: 25)

تاکہ یہ لوگ اپنے کامل بوجھ بھی بروزقیامت اٹھائیں اور ان کے بھی جنہیں بغیر علم کے انہوں نے گمراہ کیا، کتنا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اپنے سر لے رہے ہیں۔ 

کیا یہ لوگ جانتے نہیں کہ ہمارے سلف صالحین تو اس سے بھی بائیکاٹ کرجایا کرتے تھے جو صرف ایک بدعت میں مبتلا ہوتا یا پھر صرف ایک صفت الہی کی تاویل کرتا؟

دیکھیں یہ امام عبدالوہاب بن عبدالحکم الوراق رحمہ اللہ جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے ہیں ان سے ابو ثور کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:  ”میں اس کے بارے میں وہی مؤقف رکھتا ہوں جو امام احمد رحمہ اللہ کا ہے کہ ابو ثور اور جو اس کے قول کا قائل ہو ان سب سے بائیکاٹ کیا جائے “۔

یہ صرف اس لیے کہ اس نے صورت الہی سے متعلق جو حدیث ہے اس کی ایسی تاویل کی جو سلف کے قول کے خلاف تھی۔ جب اس کا یہ حال ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا کہ جس کی غلطیوں کو بیان کرنے کے لیے کتابیں در کتابیں بھر دی جاتی ہیں؟؟!

اس کے باوجود آپ ان میں سے بعض کو یہ کہتا ہوا پائیں گے کہ:

یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کی کتب پڑھنے میں مانع نہیں!!۔ فلاحول ولاقوۃ الا باللہ۔

پس یہ لوگ تب  سے معتزلہ کے نام سے پہچانے جانے لگے کیونکہ انہوں نے اہل سنت والجماعت سے اعتزال (دوری) اختیار کی۔ انہوں نے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کیا اور اسماء کو صفات سے عاری محض بے صفت کا نام ثابت کیا۔ اور مرتکب کبیرہ گناہ کے بارے میں آخرت کے تعلق سے وہی خوارج کے قول کے قائل ہوگئے کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں رہے گا لیکن دنیا کے معاملے میں خوارج سے تھوڑا اختلاف کیا اور کہا کہ وہ دو منزلوں کے مابین ایک منزل میں ہے یعنی نہ مومن ہے نہ کافر۔ جبکہ خوارج اسے سیدھا کافر کہتے ہیں۔اور یہ مسلمان ہی نہیں مانتے ۔ فرق بہت معمولی ہے ۔ 

سبحان اللہ! کیا کوئی یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ انسان نہ مومن ہو اور نہ ہی کافر؟!۔

اللہ تعالی تو فرماتا ہے:   ﴿هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ

(التغابن: 2)

اسی اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا پس تم میں سے کوئی کافر ہے تو کوئی مومن

یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی المنزلۃ بین المنزلتین (دو منزلوں کے مابین کسی منزل) پر ہے، لیکن کیا یہ لوگ کچھ فقہ وفہم رکھتے بھی ہیں؟؟۔

پھر اس معتزلہ مذہب سے اشاعرہ مذہب پیدا ہوا۔ 

ماخوذ از

لمحة عن الفرق الضالة