کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ! وبعد:

آج بہت سے مسالک بھی ایک دوسرے کو خوارج کہتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جو خوارج کو دراصل ممتاز اور نمایاں کرتی ہے؟ 

خوارج کی پہچان انکے (نہایت بھیانک اور) گمراہ فکر و عقیدے اور پھر اسی کی بنیاد پر اسلامی ریاستوں، مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں میں بغاوت، قتل و غارت گری اور اموال کو لوٹنے جیسے اعمال سے مشروط ہے.
اس بدترین گروہ کا شمار موجودہ مسالک یا مذاہب اربعہ میں سے کسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ایک الگ گروہ ہے، جو تمام مذاہب و مسالک سے اپنا حصہ حاصل کرسکتا ہے. اور اس فتنہ خوارج نے قرآن و سنت کے مطابق،دین اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر قیامت کی دیواروں تک، کسی نہ کسی تنظیم یا گروہ کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے.

جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم.

(ابن تيمية، النبوات : 222)

”وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے”۔
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496)

“اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔”
پھر آخر میں ابن تیمہ رحمہ اللہ فیصلہ کن طور پر لکھتے ہیں:
وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477)

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔
دین محمدیہ میں شریعت اسلامی کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک کھڑی کرنا اور مسلمانوں میں امن و عامہ کو تباہی سے دوچار کرنا خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔اس پر تاریخ گواہ ہے۔
ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ:
“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”
“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

اللہ تمام مسلمانوں پر رحم فرمائے۔ آمین