مرکزی صفحہ » عصرِحاضر کی تحریکیں » القاعدہ » اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی

اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی

image_pdfimage_print
اسامہ کا شیخ ابن باز پر طعنہ زنی

اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

بدعتی شخص کی بڑی علامات میں سےایک یہ بھی ہے کہ وہ سلف صالحین کے بارے طرح طرح کی باتیں بنائے گا اور ان کے شخصیت کو بگاڑ پر پیش کرنے کی کوشش کرے یعنی اگر کوئی شخص صحیح اور حقیقی منہج  پر قائم ہے تو صرف اپنے آپ کو ہی سمجھتا ہے یا جو اس کے ساتھ چلنے والے ہوتے ہیں ۔ 

اسی بارے میں امام ابو حاتم﷫فرماتے ہیں:

من علامۃ أھل البدع الوقیعۃ فی أھل الأثر

[اللا لکائی: 1/ 179]

“اہل بدعت کی علامت میں سے ہے کہ وہ اہل اثر (اسلاف)پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔” 

اور اسی نشانی پر پورا اترتے ہوئے اسامہ بن لادن کا یہ دعوی ہے کہ امام صاحب کے فتاوی امت کو گمراہی کے ستر گھاٹیاں نیچے لے جائیں گے۔

اسامہ بن لادن کے نصیحہ کمیٹی لندن کی جانب سے ( بتاریخ 27/07/1415 ھ ) لانچ کیے جانے والے خطاب میں الشیخ بن باز ﷫کے بارے میں کچھ اس طرح کہا :

ونحن سنذکرکم فضیلۃ الشی ببعض ھذہ الفتاوی والمواقف التی قد لا تلقون لھا بالاً، مع أنھا قد تھوی بھا الأمۃ سبعین خریفاً فی الضلال

فضیلۃ الشیخ ہم آپ کے سامنے آپ کے بعض ایسے فتاوی اور مواقف بیان کریں گے جن کی شاید آپ کو اتنی پرواہ نہ ہو مگر درحقیقت ان کے سبب امت گمراہی کی ستر گھاٹیوں میں جاگر سکتی ہے۔

اسی طرح یوں بھی کہا کہ امام صاحب کے فتوے ایسے خطر ناک ہیں کہ جو شرائط پر بھی پورے نہیں اترتے۔

پھر اپنے ایک دوسرے خطاب ( بتاریخ 28/08/1415ھ) میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو شیخ ابن باز ﷫کے فتاوی سے خبردار کرتے ہوئے کہا :

ولذا فانناتبہ الأمۃ الی خطورۃ مثل ھذہ الفتاوی الباطلۃ وغیر مستوفیۃ الشروط

اسی وجہ سے ہم امت کو ان باطل فتاویٰ کہ جو شروط پر پورے نہیں اترتے ،کی خطرا انگیزی سے خبردار کرتے ہیں۔

اسی طرح شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے بارے میں یوں کہا : “یہ حکومتی علماء ہیں جو ظالموں کی طرفداری کرتے ہیں۔”

ایک مرتبہ یوں بھی کہا :

ان علۃ المسلمین الیوم لیست فی الضعف العسکری، ولا فی الفقر المادی وانما علتھم خیانات الحاکم وتخاذل، وتخاذل الأ نظمۃ وضعف أھل الحق واقرار علماء السطلان لھذا الوضع ورکونھم الی الذین ظلموا من حکام السؤوسلاطین الفساد

مسلمانوں کی موجودہ بیماری عسکری قوت کی کمی نہیں، اور نہ ہی مادیت پرستی ہے ، بلکہ ان کی اصل بیماری حکمرانوں کی خیانتیں، نظاموں کی تباہی و رسوائی  اور اہل حق کی کمزوری ہے، اور حکومتی علماء کا اس صورتحال کو تسلیم کرنا اور ان برے حکمرانوں اور فسادی بادشاہوں کی طرفداری کرنا ہے۔

اسی طرح ایک جگہ کہا کہ امام صاحب کے مواقف امت اور اسلام پر عمل پیرا ہونے والوں کے لئے عظیم نقصانات کا باعث ہیں۔

ایک جگہ پر  کہتا ہے:

فقد سبق لنا فی ھیئۃ النصیحۃ والا صلاح أن وجھنا لکم رساۃ مفتوحۃ فی بیاننا رقم (۱۱) وذکر ناکم فیھا باللہ، وبواجبکم الشرعی تجاہ الملۃ والأمۃ، ونھینا کم فیھا علی مجموعۃ من الفتاوی والمواقف الصادرۃ منکم والتی ألحقت بالأ مۃ والعاملین للا سلام من العلماء والدعاۃ أضراراً جسیمۃ عظیمۃ

 کمیٹی برائے نصیحت واصلاح کی طرف سے آپ کو ایک کھلا خط ہمارے بیان رقم (۱۱) کی صورت میں موصول ہوچکا ہے جس میں ہم نے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس ملت وامت کی جانب سے جو آپ پر واجب ہوتا ہے ذکر کیا، اور اس میں ہم نے آپ کو ان مجموعہ فتاوی اور مواقف کہ جو آپ سے صادر ہوئے ہیں،ان سے روکا کہ  جو امت اور اسلام پر عمل پیدا ہونے والے علماء اور داعیان کے لئے بہت عظیم نقصان کا باعث ہیں۔

ایک جگہ پر  کہتا ہے کہ امام صاحب ظالم طاغوتوں کے دوست ہیں۔

جیسا کہ یوں کہا :

“فضیلۃ الشیخ لقد تقدمت بکم السن ، وقد کانت لکم أیاد بیضاء فی خدمۃ الاسلام سابقًأ ، فاتقوا اللہ وابتعدو اعن ھؤ لاء الطواغیت والظلمۃ الذین أعلنوا الحرب علی اللہ ورسولہ”

 فضیلۃ الشیخ آپ اتنے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور آپ کی اس سے پہلے اسلام کے لئے روشن خدمات ہیں، پس آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان طاغوتوں اور ظالموں سے دور رہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔

اسی طرح  کہتے ہیں کہ آپ کے فتاوی مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔

ایک جگہ پر  یوں کہا :

ونحن بین یدی فتوا کم الأ خیرۃ بشأن ما یسمی بھتانًا بالسلام مع الیھود والتی کانت فاجمعۃ للمسلمین حیث استجبتم للرغبۃ السیاسیۃ للنظام لما قرر اظھار ماکان یضمرہ من قبل ، من الدخول ھذہ المھزلۃ الاستسلامیۃ مع الیھود فأصد رتم فتوی تبیح السلام مطلقاً ومقید ًا مع الیھود

ہمارےسامنے آپ کا آخری فتوی موجود ہے جس کا عنوان ہے” یہود کے ساتھ صلح” جو کہ مسلمانوں کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں، کہ آپ نے اس نظام کے لئے سیاسی رغبت کا اظہار فرمایا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے جو پہلے مخفی تھی، یعنی آپ نے یہود کے ساتھ مطلق اور مقید صلح کو مباح قرار دینے کا فتوی جاری فرمایا۔

اسی طرح الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو ( بتاریخ ۰۸/۰۴/۱۴۲۲ھ) میں اور کیسٹ بعنوان “استعدوا للجھاد” (جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ) میں کہا اور کیا ہی برا کہا:

من زعم أن ھناک سلام دائم مع الیھود فھو قد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم

جو یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی صلح یہود کے ساتھ باقی ہے تو یقیناً اس نے اس چیز کا کفر کیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئی۔

اسی طرح بن لادن کا کہنا ہے کہ امام صاحب کے فتاوی لوگوں پر معاملے کو ملتبس اور مشتبہ کرنے کا سبب ہیں جسے ایک عام مسلمان بھی تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوگا۔

ایک جگہ پر  یوں کہا :

ان فتواکم ھذہ کانت تلبیسًا علی الناس لما فیھا من اجمال مخل وتعمیم مضل ، فھی لا تصلح فتوی فی حکم سلام منصف ، فضلاً عن ھذا السلام المذیف مع الیھود الذی ھو خیانۃ عظمی للاسلام والمسلمین، لایقرھا مسلم عادی فضلاً عن عالم مثلکم یفترض فیہ من الغیرۃ علی الملۃ والأمۃ

 آپ کا یہ فتوی لوگوں پر معاملے کو متلبس کرتا ہے کیونکہ اس میں جو خلل زدہ اجمال اور گمرہ کن عمومیت ہے وہ اس فتوی کو ایک منصافانہ صلح تک کے لئے ناقابل عمل بناتی ہے چہ جائیکہ یہود کے ساتھ اس مضحکہ خیز صلح کے لئے قابل عمل ہو، یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہے، ملت اور امت کے لئے غیرت ایک عام مسلمان کوبھی اسے قبول کرنے سے روکتی ہے چہ جائیکہ آپ جیسا عالم ایسی بات کرے۔

اس کے علاوہ مزید کئی دلائل موجود ہیں سو معاملہ آپ کے سامنے واضح ہے کہ بندہ ذاتی وجوہات کی بناء پر نہیں بلکہ ایک سوچ و فکر اور ایک عقیدے کے تحت مخالفت کر رہا ہے وہ ایک ایسے شخص کی جسے دنیا بھر میں شریعت اسلامیہ کا ایک پختہ عالم تسلیم کیا جاتا ہے ۔ نصیحت کو ٹھکرا کر اپنے اعمال کو حتمی سمجھتے ہوئے اس متفقہ شخصیت کے کیڑے نکالنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔ اور یہی خوارج کی سب سے بری عادت ہے ۔ 

دعا ہے کہ اللہ ہمیں دین حنیف کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اس پر صحیح معنوں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ 

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

خوارج دنیا کے حریص ہوتے ہیں

خوارج دنیا کے بڑے حریص ہوتے ہیں

خوارج دنیا کے بڑے حریص ہوتے ہیں  الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *