25994727_866713536861793_364562664009123730_n

امریکہ،داعش کی نرسریوں کا مالی

25994727_866713536861793_364562664009123730_n

امریکہ،داعش کی نرسریوں کا مالی

“شام ، عراق ، افغانستان اور کشمیر ایک نظر” 

پچھلے کئی ماہ سے میں ایک افغان نیوز ایجنسی “خامہ پریس” کی نیوز دیکھ رہا ہوں جہاں ہر ایک دو دن بعد یہ خبر آتی ہے کہ امریکہ نے فلاں جگہ فضائی حملے میں اتنے داعشی مار دئیے، افغان فوج نے فلاں جگہ کاروائی میں اتنے داعشی ماردئیے یہاں تک کہ ایک دن خبر آئی کہ ایک کاروائی میں 50 داعشی مارے گئے۔

ان تمام نیوز کو مدنظر رکھتے ہوئے جب میں اندازہ لگاتا ہوں تو یہ تقریبا پندرہ یا سولہ سو(1500/1600) داعشی بنتے ہیں۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کیا واقعی امریکہ نے اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ داعشی ماردئے؟؟ یقین نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کوئی صداقت ہے اسکی وجہ یہ ہیکہ دو دن پہلے نیویارک ٹائم نیوز نے ایک خبر لگائی، وہ خبر یہ ہیکہ۔ ” مارچ 2017 میں امریکہ نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں داعش کے 700 جنگجوں موجود ہیں اور اب سال کے آخر میں انہوں نے یہ دعوٰی کیا کہ ہم نے 1600 جنگجوؤں کو ماردیا ہے۔

اس خبر اور امریکہ کے متضاد دعوؤں کو دیکھ کرثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں نہ ہی داعش کے خلاف کوئی کاروائی کی ہے اور نہ ہی کسی ایک داعشی کو مارا ہے۔ بلکہ وہ ان کو وہاں مضبوط کررہا ہے اور ان کو اسلحہ دے رہا ہے۔ اور افغان اور انڈین خفیہ ایجنسیز کے ذریعے ان کو ٹریننگ دلوارا رہا ہے۔

اور جہاں وہ ان کو افغانستان میں افغان طالبان کے خلاف استعمال کررہا ہے وہاں دوسری طرف وہ ان کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے متعدد بار ٹی وی پر بیٹھ کر یہ انکشاف کیا کہ امریکہ نہ صرف داعش کو افغانستان میں مضبوط کررہا ہے بلکہ ان کو اسلحہ بھی فراہم کررہا ہے اور انکی مالی مدد بھی کررہا ہے۔

اسی طرح روس متعدد بار یہ کہہ چکا ہے کہ امریکہ شام میں داعش کے جنگجوؤں ٹریننگ اور اسلحہ و مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو شامی افواج کے چنگل سے بھی چھڑاچکا ہے جسکا انکشاف کچھ عرصہ قبل شامی حکام کی جانب سے بھی کیا گیا۔ اسی طرح نامعلوم ہیلی کاپٹرز کا داعش کے جنگجوؤں کو مختلف جگہوں پر اتارنے کے ساتھ ساتھ ان کو نامعلوم ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اسلحہ ملنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ افغانستان میں ایسا کون ہے جو نامعلوم ہیلی کاپٹرز کے ذریعے داعش کی مدد کررہا ہے تو جواب صاف ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ کے علاوہ ایسا کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔ ان تمام باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اور یہ تمام باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے۔ مگر ہمارے کچھ جوشیلے اور دین سے محبت کرنے والے نوجوان دین کے نام پر امریکہ کے لئے استعمال ہورہے ہیں اور ان کو اس بات کا نہ اندازہ تک نہیں ہے۔ ان للہ و انا الیہ راجعون

لہذا ہمیں خود بھی ان باتوں کو سمجھ کر لوگوں کو داعش کی حقیقت کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ داعش کو استعمال کرکے امریکہ نے بڑی حد تک عراق و شام میں کامیابی حاصل کی اور اب وہ یہ کھیل افغانستان میں کھیل رہا ہے جہاں وہ داعش کو نہ صرف افغان طالبان کے خلاف استعمال کررہا ہے بلکہ ان کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرکے اور ان کو ٹریننگ دے نہ صرف پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ اور وہاں بھی ان کو اپنے مقاصد میں کامیابی مل رہی ہے۔ اور یہ سب دیکھ کر اب انڈیا یہی کھیل داعش اور القاعدہ کی صورت میں کشمیر میں کھیلنا چاہتی ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر پلیٹ فارم پر اس کے خلاف کام کریں لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کریں اور کفار کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین