شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے؟

شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے۔

بسم اللہ الرحمان الرحیم

شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے؟

زمین پر احکام  اسلام کا اجراء اور  شریعت کا نفاذ اسلامی قوت و شوکت کا متقاضی ہے . اسی قوت و شوکت کےحصول کے لیے اسلام میں حاکم کا تقرر فرض کیا گیا ہے. مسلمان حاکم کی قوت کے بل پر زمین  پر دین قائم ہوتا ہے  اور دین کے معاملے میں کوتاہی اور جرم کرنے والوں کو اسی قوت سے روکا جاتا ہے. جرائم کی خاص تعداد،جو اللہ تعالی کی  طرف سے مقرر ہو چکی ہیں.انہیں شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں حدود کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ زنا کی حد، شراب پینے کی حد، چوری کی حد ، قتل  کی حد ۔ ان مخصوص حدود کے قیام کو فقہائے اسلام  نے  صرف حاکم کے ساتھ خاص کیا ہے۔ چنانچہ امام کاسانی رحمہ اللہ  بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں”

“واما شرائط جواز اقامتھا فمنھا ما یعم الحدود کلھا ، ومنھا ما یخص البعض دون البعض ، اما الذی یعم الحدود کلھا فھوالامامۃ وھو ان یکون  المقیم للحد ھو الامام  او من ولاۃ الامام”

(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع)

نفاذ حدود کی شرائط میں سے کچھ شرائط سب حدود پر منطبق ہوتی ہیں اور بعض شرائط کسی حد کے ساتھ خاص ہوتی ہیں، تو جو شرط سب حدوں پر منطبق ہوتی ہے، ان میں سے ایک شرط حاکم وقت کا ہونا ہے، یعنی ان حدود کو قائم کرنے والا یا تو خود حاکم ہو گا یا وہ شخص جسے حاکم نے بطور جلاد مقررکیا ہے.

اسی طرح حدود کے علاوہ  قصاص و دیت اور قتل و ارتداد کے مسئلے میں بھی فقہائے اسلام نے سزا کے اجراء کو حاکم کے ساتھ خاص کیا ہے.

جبکہ مرتد ، اور زندیق کے قتل کے معاملہ میں اس بات کی واضح صراحت موجود ہے  کہ اس کا اجراء حاکم اور اس کے نائب کا کام ہے ، اگر کوئی عام مسلمان ایسا کر دے تو اس پر قصاص اور دیت تو نہیں لیکن “افتیات علی الامام” یعنی قانون ہاتھ میں  لینے کے سبب  اسے حاکم  کچھ تعزیری سزا دے سکتا ہے۔

امام خرشی رحمہ اللہ نے “مختصر خلیل”  کی شرح میں لکھا ہے :

“المرتد اذاقتلہ مسلم بغیر اذن الامام فانہ لا یقتل بہ ولکن یودب”

(شرح الخرشی علی مختصر خلیل ، ج 8،ص4)

جب کسی مرتد کو کوئی عام مسلمان حاکم کی اجازت کے بغیر قتل کر دے تو اسے بدلے میں قتل تو نہیں کیا جائے گا لیکن  اسے قانون ہاتھ میں لینے کی وجہ سے اسے کچھ نہ کچھ سزا دی جائے گی.               

مختصر خلیل” کی شرح “مواہب الجلیل“میں لکھا ہے :

وقال القاضی عبدالوھاب  فی شرح الرسالۃ  وعرض التوبۃ واجب علی الظاہرمن المذہب الا انہ ان قتلہ قاتل قبل استتابتہ فبئس ما صنع ولا یکون فیہ قود ولا دیۃ انتھی.

(مواھب الجلیل لشرح مختصر خلیل ، ج 8 ص373 ،دار عالم الکتب )

قاضی عبدالوھاب رحمہ اللہ رسالہ کی شرح میں فرماتے ہیں:اس سے یہی معلوم ہو رہا ہےکہ مرتد شخص پر توبہ پیش کی جائے گی،لیکن اگر کسی نے اسے توبہ کرنے سے پہلے ہی اس کو قتل کر دیا تواس نے بہت برا فعل سر انجام دیا، لیکن  اس پر کوئی  قصاص اور دیت نہیں ہو گی، ہاں حاکم اسے تعزیراً سزا دے گا۔

علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ  ”منہاج الطالبین “ کی شرح ”مغنی المحتاج “ میں لکھتے ہیں :

ویقتلہ الامام او نائبہ لانہ قتل مستحق للہ تعالی فکان للامام ولمن اذن لہ،

(مغنی المحتاج الی معرفۃ  معانی الفاظ المشھاج ،ج4 ، ص 181)

مرتد کو حاکم وقت یا اس کا نائب (جلاد) قتل کرے گا. کیونکہ مارنا اللہ تعالیٰ کا حق ہےاوراللہ نے اس حق کوحاکم وقت اور جس شخص کو حاکم اجازت دے، اس کے سپرد کیا ہے، 

امام ابن  قدامہ رحمہ اللہ  ”المغنی “ میں لکھتے ہیں :

فان قتلہ غیر الامام ، اساء، ولا ضمان علیہ ، لانہ محل غیرمعصوم وعلی من  فعل ذلک  التعزیر ، لاءساتہ  وافتیاتہ .

(المغنی علی مختصر  الخرقی، ج 8 ص 90)

اگر مرتد کو حاکم کے علاوہ کوئی اور قتل کردے تو اس نے غلطی کی ہے  ، پر اس پر کوئی تاوان وغیرہ نہیں کیونکہ جس کو قتل کیا گیا ہے وہ مجرم تھا، ہاں قاتل کو تعزیری سزا ضرور دی جائے گی ، کیونکہ اس کے اپنے فیصلے اور فعل میں غلطی کی ہے۔

نوٹ:

آپ نے مندرجہ بالا مضمون میں اس بات کو دلائل کی روشنی میں پرکھ لیا ہو گا کہ مرتداور زندیق کو قتل کیا جائے گا اور یہ کام صرف اور صرف حاکم وقت اور ریاست کا حق ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص  اس حد کو خود سے ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرے کا امن خراب ہو گا اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور اسلام کسی صورت میں معاشرے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی لئے حاکم اس مرتد کے قاتل کو تعزیری سزا بھی دے گا۔

اوران دلائل سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو خوارج کسی بھی مسلم پر مرتد ہونے کا فتوی لگا کر مسلم عوام کو قتل کرتے رہتے ہیں۔ تو ان کا یہ فعل سراسر جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ مرتد کو قتل کرنا صرف اور صرف ریاست اور حاکم کا کام ہے۔ 
اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارا خاتمہ بالایمان فرمائے اور کل روز قیامت ہمیں ان خوش نصیبوں میں سے فرمائیں جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

آمین یا ارحم الراحمین