دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور دوراں ہے

ففتھ جنریشن وار فئیر


دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور دوراں ہے.

اس نئے، نہایت ہی خطرناک طرز جنگ کو بھارت بھی وادی کشمیر میں آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کرنے اور کچلنے کے لئے نہایت منظم انداز میں لانچ کر چکا ہے.

چند ماہ پہلے وادی میں جب بھارتی فورسز طاقت سے تحریک آزادی کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئیں تو ان کی جانب سے وادی میں ایک نئے حربے کا آغاز کیا گیا۔ کچھ لوگ دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس بھارتی سازش کا حصہ بنے یا شکار ہوئے۔  

جب قاسم کی جدوجہد کہ جس نے دہلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا، برہان کے جذبے وادی میں آزادی کے خواب کو حقیقت کے قریب تر لا کھڑا کیا تو ایسے میں وادی کشمیر کو اپنے تسلط سے نکلتا دیکھتے ہی بھارت نے تحریک کو کمزور کرنے کے لئے کشمیری قوم کے جسموں کی بجائے انکے ذہنوں کو نشانے پر رکھ لیا اور قوم کو منتشر کرنے کے لیے ایک نیا حربہ اپنایا۔

اس نئے حربے سے بھارت نہ صرف آزادی کی تحریک کو چلنے کا منصوبہ رکھتا تھا بلکہ اس تحریک کے اہم پشتی بان اور کشمیری عوام کے دلوں کی دھڑکن، پاکستان کو بھی کشمیری مسلمانوں سے دور کرنے کو ہدف بنایا.

پاکستان کو کشمیری عوام سے جب بھارتی جبر دور نہیں کرسکا تو اس نے اس نئے حربے کا سہارا لیا.

اس مقصد کے لئے وادی میں القاعدہ اور داعش کی نمائش کا سہارا لیا گیا اور اس منصوبے میں انہیں یقینا کچھ بگڑے نوجوان بھی دستیاب ہوئے. اور انہی کے بل بوتے پر “انصار غزوۃ الہند” جیسے غیر معروف چھوٹے سے گروہ کو نہ صرف پنپنے کا موقع دیا گیا بلکہ اس کے مد مقابل تحریک سے وابستہ اور کشمیری قوم کو درست سمت میں لیجانے والے شہید قاسم و برہان کے وارثوں کو خصوصی نشانے پر رکھ لیا تاکہ اس سازش کی راہ کو صاف کیا جا سکے. اور جب تحریک کمزور ہو جائے تو آخر میں اس گمراہ فکر اور بگڑے نوجوانوں کے گینگ کو بھی ٹھکانے لگا کر کشمیریوں کو غلامی کے اندھیروں میں ایک بار پھر دھکیل دیا جائے.
اس مقصد کو پانے اور کشمیر کی خالص عوامی تحریک آزادی کو  دہشت  گردی کے ساتھ جوڑ کر متنازعہ بنانے کے لئے  انصار غزوۃ الہند کی شکل میں القاعدہ کا واویلا مچایا گیا۔

اور بھارت بہت پر امید تھا کہ جس طرح القاعدہ اور داعش نے شام اور افغانستان کے صاف و شفاف محازوں کو آلودہ کر کے عوام و مظلوم مسلمانوں میں جہاد اور فساد کے فرق کو مبہم کر دیا، اسی جیسا کشمیر میں کر پائے گا. لیکن ان کے اس حربے کو کشمیری عوام مجاہدین اور حریت قیادت نے نہ صرف یکسر مسترد کیا بلکہ مکمل اتحاد و یگانگت سے ناکام بھی بنایا۔

اپنی اس سازش کو بری طرح ناکام ہوتا دیکھ اس وقت بھارتی ایجنسیاں دوبارہ اس مردہ گھوڑے، انصارغزوۃ الہند کے جسم میں جان ڈالنے کے لئے چالیں چل رہی ہیں. 

حال ہی میں بھارتی ایجنسیوں نے ذاکر موسی اور ابو دجانہ شہید کی مختلف کالز کی ریکارڈنگ کو جوڑ کر ایک ایسا آڈیو کلپ لانچ کیا کہ جس سے وہ ذاکر موسی اور اسکے گروہ کو پھر عوام اور میڈیا میں زیر بحث لا سکیں.

آڈیوز کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک ایسا کلپ تیار کیا گیا جس میں ذاکر موسی اور دجانہ پاکستان کی دغابازیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اس میں حقیقت کیا ہے اس سے پہلے یہ بات پھر سے سمجھ لیں کہ یہ ایک  باقاعدہ منصوبہ ہے جس کے تحت  کشمیری عوام اور مجاہدین میں  پاکستان کے متعلق  غلط فہمیوں کو پیدا کیا جا سکے۔

اگر آپ کلپ کو بغور سنیں تو آپکو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ یہ مختلف کالز کو ملا کر ایک آڈیو بنائی گئی ہے۔  جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ  بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بیان کیا جا رہا ہے۔ اور ایسے جملے کاٹ کر نکالے گئے ہیں جو کشمیری عوام اور مجاہدین کے ذہنوں میں انتشار پیدا کریں ۔  اور اتحاد و اتفاق کی فضا کو ختم کیا جا سکے۔ اب کشمیری مجاہدین کی صفوں کے اتحاد کا ختم ہونا کس کے لیے فائدہ مند ہے یہ بات ہم میں ہر کوئی باخوبی جانتا ہے۔

یاد رکھئیے، جھوٹ اور دجل کبھی زیادہ دیر پوشیدہ نہیں رہ سکتا.

زرا سوچیے!

دجانہ اور ذاکر کی یہ کال ، دجانہ کی شہادت کے فورا بعد کیوں منظر عام پر نہ لائی گئی؟ کیا اس وقت کال نہیں تھی یا وقت موزوں نہیں تھا؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معمول کی کالز کو ریکارڈ کیوں کیا گیا۔؟  ابو دجانہ کی کالز کو ہی ریکاڈ کیوں کیا گیا؟

یہ بات تو طے ہے کہ دجانہ اور ذاکر کی موبائل کالز کو بھارتی ایجنسیوں نے ہی ریکارڈ کیا. کیونکہ اگر یہ ریکارڈنگ ذاکر گینگ نے خود کی ہوتی تو دجانہ کی شہادت کے فوری بعد جاری کرتے، اب اچانک ریلیز کا مقصد؟

اب اگر کال میں ہونے والی گفتگو پر بات کریں تو کیوں ان کا ہر آڈیو پاکستانی مجاہدین اور ان کو سپورٹ کرنے والوں کے خلاف ہی ہوتا ہے؟

الزام لگایا گیا کہ پاکستانی  مجاہدین کی لوکیشن حاصل کرنے کے بعد مخبری کرتے ہیں آڈیو میں موجود گفتگو کے مطابق دجانہ نے پاکستان والوں کو پن پوائنٹ لوکیشن نہیں بتائی تو دجانہ کی مخبری کس نے کی؟

استعمال بھارتی موبائل فون ہو رہے ہیں تو لوکیشن پاکستان کی بجائے بھارت کے پاس تو خود جارہی ہے، تو پاکستان پر الزام کیسا؟

سوال یہ ہے کہ ان کی اس مخبری کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان کشمیر کے لئے کیا ہے، کشمیری ہی نہیں ساری دنیا جانتی ہے.

یہ دنیا میں کشمیر کا سب سے بڑا وکیل ہے ۔ جس کی  فوج کی بڑی تعداد کشمیر کے باڈر پر تعینات ہے اور ہردن انڈین فورسز سے حالت جنگ میں ہے شہادتیں پیش کر رہی ہے۔

پاکستان، جس نے کشمیر کی حریت قیادت کو چھت مہیا کی ہے؟

جو تحریک آزادی کشمیر  کی ہر محاز پر اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

خیر بھارت کی یہ نئی چال تحریک آزادی کا ابھی تک کچھ نہیں بگاڑ سکی اور نہ آئندہ بگاڑپائے گی ان شاء اللہ ۔  

بھارت کی یہ ساری کوششیں لشکر اور حزب کی طرف نوجوانوں کا جھکاؤ روکنے، پاکستان کو بدنام کرنے ، مجاہدین کی صفوں میں انتشاز پیدا کرنے کے لیے ہیں ۔ جنہیں کشمیری اچھے سے جان چکے ہیں اور تحریک کے مخالف ہر ایجنڈے کا رد کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی پاکستان سے محبت “لا الہ الا اللہ” کے رشتے پر ہے جو کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ 

ہم ان نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں، جو اس بھارتی سازش کا دانستہ یا غیر دانستہ شکار ہوچکے ہیں کہ وہ اللہ سے ڈریں، کشمیری عوام کی امنگوں کو اپنائیں اور بھارتی سازشوں کو سمجھیں، تاکہ دنیا و آخرت میں عزت و کامرانی انکے حصے میں آسکے.آمین