abw emr

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

ssss

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔

شہادت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

 

خوارج کی تاریخ میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ تقوے کی بنیاد پر امت کے کبار اور معزز لوگوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار صحابہ کرام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، اس کو فرداً فرداً بیان کریں گے۔ان شاء اللہ

امت مسلمہ میں سے خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں ۔اس سے قبل کہ میں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والے دلسوز واقعہ کی تفصیلات بیان کروں ،اس سے پہلےمیں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کی اسلام کیلئے ناقابل فراموش خدمات کوبیان کرنا  مناسب سمجھتا ہوں تا کہ قارئین اس بات کو بخوبی جان لیں کہ خوارج نے کس قدر جلیل القدر آدمی کو صرف ان کی خود ساختہ معمولی بشری لغزشوں کو بنیاد بناتے ہوئے ان کی ساری ناقابل فراموش خدمات کو یکسر بھلاتے ہوئے ان کو دردناک طریقے سے شہید کردیا۔

حالات زندگی وخدمات:

عثمان بن عفان اموی قریشی اہل اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد، داماد رسول، اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے،چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ،جن میں سے ایک یہ تھی کہ ؛

ان کا چچا آپ کو چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیا کرتا تھاکہ جس کی وجہ سے ان کا سانس لینا مشکل ہوجاتا تھا اور وہ کہتا تھا کہ اسلام کو چھوڑ دو لیکن یہ اسلام پر ثابت قدم رہے۔

ان کی کنیت ذو النورین تھی کیونکہ انھوں نےجناب محمد ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنھا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔

عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان اصحاب میں شامل ہیں کہ جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی ۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔

رسول اکرم ﷺ کوعثمان غنی رضی اللہ عنہ پر مکمل اعتمادتھااورنبیﷺ ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر جب نبیﷺ نے ان کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا تو اہل مکہ نے ان کی شہادت کی افواہ اڑادی تو نبیﷺ نے چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے جناب عثمان کے قصاص لینے پر مر مٹنے کی بیعت لی اور اس وقت نبیﷺ نے یادگار الفاظ ارشاد فرمائےکہ جو بلا شک و شبہ ان کی قدر منزلت کو بیان کرنے کیلئے کافی ہیں ،چنانچہ آپ ﷺ نے  جب سب صحابہ کرام سے بیعت لے لی تو آخر میں نبیﷺ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں  ہاتھ پر مارا اور فرمانے لگے کہ “یہ عثمان کا ہاتھ ہے”

سنہ 23ھ (644ء) میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔

ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی، اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔

لیکن خوارج نے جناب عثمان رضی اللہ عنہ کی ان ساری خدمات کو پس  پشت ڈالتے ہوئے ان کو چالیس دن محبوس وقید رکھنے کے بعد شہید کر دیا ۔اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

عبداللہ بن سبا المعروف ابن السوداء صنعا شہر کا رہنے والا ایک یہودی تھا، وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کو دولت خوب حاصل ہوتی ہے اور اب یہی دنیا میں سب سے بڑی فاتح قوم بن گئی ہے، مدینہ میں آ گیا اور بظاہر مسلمانوں میں شامل ہو گیا‘ مدینہ میں اس کا آنا اور رہنا بہت ہی غیر معروف اور ناقابل التفات تھا لیکن اس نے مدینہ میں رہ کر مسلمانوں کی اندرونی اور داخلی کمزوریوں کو خوب جانچا اور اسلام مخالف تدابیر کو خوب سوچا‘ انہیں ایام میں بصرہ کے اندر ایک شخص حکیم بن جبلہ(خارجی) رہتا تھا‘ اس نے یہ وطیرہ اختیار کیا کہ اسلامی لشکر کے ساتھ کسی فوج میں شریک ہو جاتا تو موقعہ پا کر ذمیوں کو لوٹ لیتا‘ کبھی کبھی اور لوگوں کو بھی اپنا شریک بناتا اور ڈاکہ زنی کرتا۔

اس کی ڈاکہ زنی کی خبریں مدینہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک پہنچیں۔ انہوں نے گورنر بصرہ کو لکھا کہ حکیم بن جبلہ کو بصرہ شہر کے اندر نظر بند رکھو اور حدود شہر سے باہر ہرگز نہ نکلنے دو‘ اس حکم کی تعمیل میں وہ بصرہ کے اندر محصور و نظر بند رہنے لگا‘ عبداللہ بن سبا حکیم بن جبلہ کے حالات سن کر مدینہ سے روانہ ہوا اور بصرہ میں پہنچ کر حکیم بن جبلہ کے مکان پر مقیم ہوا‘ یہاں اس نے حکیم بن جبلہ اور اس کے ذریعہ اس کے دوستوں اور دوسرے لوگوں سے مراسم پیدا کئے‘ اپنے آپ کو مسلمان اور حامی و خیر خواہ آل رسول ظاہر کر کے لوگوں کے دلوں میں اپنے منصوبے کے موافق فساد انگیز خیالات و عقائد پیدا کرنے لگا‘ کبھی کہتا کہ مجھ کو تعجب ہوتا ہے کہ مسلمان اس بات کے تو قائل ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے لیکن اس بات کو نہیں مانتے کہ سیدنا محمد ﷺ بھی دنیا میں ضرور آئیں گے۔

 چنانچہ اس نے لوگوں کو :ﯘاِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَاد

(القصص : ۲۸/۸۵)

کی غلط تفسیر سنا سنا کر اس عقیدہ پر قائم کرنا شروع کیا کہ سیدنا محمد کی مراجعت دوبارہ دنیا میں ضرور ہو گی‘ بہت سے لوگ اس کے اس فریب میں آ گئے‘ پھر اس نے ان کو اس عقیدے پر قائم کرنا شروع کیا کہ ہر پیغمبر کا ایک خلیفہ اور وصی ہوا کرتا ہے اور سیدنا محمدﷺ کے وصی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ جس طرح رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاتم الاوصیاء ہیں‘ پھر اس نے علانیہ کہنا شروع کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا دوسروں کو خلیفہ بنا کر بڑی حق تلفی کی ہے‘ اب سب کو چاہیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدد کریں اور موجودہ خلیفہ کو قتل یا معزول کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں۔

عبداللہ بن سبا یہ تمام منصوبے اور اپنی تحریک کی ان تمام تجویزوں کو مدینہ منورہ سے سوچ سمجھ کر بصرہ میں آیا تھا اور اس نے نہایت احتیاط اور قابلیت کے ساتھ رفتہ رفتہ اپنی بدعقیدگیوں کو شائع کرنا اور لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا۔

رفتہ رفتہ اس فتنے کا حال بصرے کے گورنر عبداللہ بن عامر کو معلوم ہوا تو انہوں نے عبداللہ بن سبا کو بلا کر پوچھا کہ تم کون ہو‘ کہاں سے آئے ہو اور یہاں کیوں آئے ہو؟ عبداللہ بن سبا نے کہا مجھ کو دین اسلام میں دلچسپی ہے، میں اپنے یہودی مذہب کی کمزوریوں سے واقف ہو کر اسلام کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور یہاں آپ کی رعایا بن کر زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں‘ عبداللہ بن عامر نے کہا کہ میں نے تمہارے حالات اور تمہاری باتوں کی تحقیق کی ہےتو مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم کوئی فتنہ برپا کرنا اور مسلمانوں کو گمراہ کر کے یہودی ہونے کی حیثیت سے جمعیت اسلامی میں افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہو۔

 چونکہ عبداللہ بن عامر کی زبان سے پتے کی باتیں نکل گئی تھیں‘ لہذا اس کے بعد عبداللہ بن سبا نے بصرے میں اپنا قیام مناسب نہ سمجھا اور اپنے خاص الخاص راز دار اور شریک کار لوگوں کو وہاں چھوڑ کر اپنی بنائی ہوئی جماعت کے لیے مناسب تجاویز و ہدایات سمجھا کر بصرہ سے چل دیا اور دوسرے اسلامی فوجی مرکز یعنی کوفہ میں آیا‘ یہاں پہلے سے ہی ایک جماعت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے عامل کی دشمن موجود تھی‘ عبداللہ بن سبا کو کوفہ میں آ کر بصرہ سے اپنی شرارتوں کو کامیاب بنانے کا زیادہ بہتر موقع ملا۔

قصہ مختصر اس نے اپنے ساتھ کافی لوگوں کویہ کہہ کر کہ جناب عثمان رضی اللہ عنہ بہت ظالم حاکم ہیں ، شریک کرلیا اور اس نے جناب عثمان کے خلاف بصرہ ،کوفہ اور شام سے اپنے ساتھیوں کو بلا لیا اور ان بلوائیوں نے مدینہ کا محاصرہ کرلیا اور جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان سے خلافت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کرنے لگے لیکن جناب عثمان فرمانے لگے کہ جو چادر مجھے اللہ نے پہنائی ہے میں اس کو نہیں اتا روں گا ۔

چنانچہ جناب علی رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس جانے کا حکم دیا لیکن اس نے دھوکے کے ساتھ ایک خط کہ جس میں  ان لوگوں کے قتل کا حکم درج تھا  وہ لوگوں کو دیااوراس کا الزام سیدنا عثمان پر لگا دیا کہ یہ خط ان کا ہے چنانچہ لوگ واپس  آگئے اور پھر جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔

صحابہ کرام کی اپنے خلیفہ سے محبت :

ان حالات کے پیش نظر کچھ صحابہ مدافعت کرنے لگے  لیکن جناب عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی نرم مزاجی کے باعث صحابہ کو ٹھہرنے کا حکم دے دیا لیکن بعض صحابہ پھر بھی ان کے گھر کا پہرہ دیتے رہے،چنانچہ جناب مغیرہ بن الاخنس رضی اللہ عنہ اور ان کے حواری ان بلوائیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے،اور حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ ،حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ان سے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے۔(یہاں ایک بات یاد رکھئے کہ جناب حسن بن علی کو جناب علی رضی اللہ عنہ نےمسلح پہرہ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ خود شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت مدینہ سے باہر تھے تو اس سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوتی ہے کہ جو جناب عثمان کی شہادت کا الزام نعوذ باللہ جناب علی رضی اللہ عنہ پر لگاتے ہیں )اسی طرح جناب ابو ہریرہ اور جناب عبداللہ بن سلام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابہ بھی بلوائیوں سے لڑنے لگے لیکن جناب عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں قسم دے کر واپس لوٹادیا۔

اسی طرح چالیس دن بیت گئے اور جناب عثمان رضی اللہ عنہ چالیس دن سے محصور تھے ۔بلوائیوں نے جناب عثمان کا پانی اور سامان رسد بھی بند کردیا ،جس کے نتیجے میں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں فاقہ اپنے عروج کو پہنچ گیا، بالآخر18 ذو الحجہ کا سورج طلوع ہوا تو آسمان دنیا نے ایک کریہہ ترین منظر دیکھا کہ حضرت عثمان پراس حالت میں تلوار سے حملہ کیا گیا کہ جب وہ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ چنانچہ آپ کی بیوی سیدہ نائلہ نے فوراً تلوار کےوار کو روکا جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں اور ان کی چیخ نکل گئی۔ مگر یہ آواز محافظ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک پہنچ نہ سکی۔ دوسرے وار سے خون عثمان رضی اللہ عنہ کےقطرے آیت قرآنی ‘‘فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم” پر گرے اور آپ روزہ کی حالت میں شہید ہوئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صحابہ کرام کو حضرت نائلہ کی آوازیں اس وقت سنائی دیں جب بلوائی اپنا کام کرچکے تھے۔

(البدایہ والنہایہ صفحہ 7؍188)

اپنا کام مکمل کرنے کے بعدقاتل فرار ہوگئے،جبکہ بعض حضرت عثمانؓ کے غلاموں کے ہاتھوں مارے گئے اور دو غلاموں نےبھی اس کوشش میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اب پہرہ دینے اور حفاظتی دستہ متعین کرنےکی ضرورت باقی نہ رہی۔ عمرو بن حمق(خارجی) نے حضرت عثمانؓ کے جسم اطہر پر نیزے کے 9 زخم لگائے جبکہ ایک ظالم عمیرنے پاؤں سے ٹھوکریں ماریں جس سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔داماد رسولﷺ سیدناعثمان ذوالنورین کی نعش تین دن تک بےگوروکفن پڑی رہی۔ تیسرے دن حضرت جبیر بن مطعم، حضرت حکیم بن حزام، حضرت ابوجہم بن حذیفہ اور حضرت خیار بن مکرم اسلمی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بعد نماز عشاء جنازہ اٹھایا۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نےنماز جنازہ پڑھائی، جبکہ باقی تین ساتھی اور حضرت عثمان کی دونوں بیویاں مقتدی تھیں۔

حضرت حکیم بن حزامؓ اور آپؓ کی دونوں بیویاں نگرانی کرتے رہے۔باقی تین آدمیوں نےجنت البقیع کےجنوب مشرقی کونے میں آپ کو لحد میں اُتارا اور قبربرابر کردی تاکہ لوگ پہچان نہ سکیں اور یوں امت اسلامیہ کا ایک دمکتا چمکتا ستارہ جہنمی کتے خوارج کے ہاتھوں ہمیشہ کیلئے امت محمدیہ کو داغ مفارقت دیتے ہوئے غروب ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

(تلخیص:تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی)