خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدنا طلحہ،زبیر،عمار بن یاسررضی اللہ عنہم

سیدنا زبیر طلحہخوارج،کبار صحابہ کے قاتل

سیدنا زبیربن عوام و طلحہ بن عبید اللہ  اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم

خوارج کی فطرت میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ ہمیشہ اسلامی دنیا میں اختلاف اور فتنہ برپا کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جو شخص مسلمانوں کی باہمی لڑائی سے ہاتھ کھینچنا چاہے تو یہ اس کو شہید کر دیتے ہیں ۔اور اس معاملے میں وہ کسی کا لحاظ نہیں رکھتے بلکہ بے دھڑک اسے قتل کر دیتے ہیں  ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار اصحاب رسولﷺان دس اشخاص میں شامل ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے کہ جنہیں  اہل اسلام عشرہ مبشرہ کے نام سے جانتے ہیں۔چنانچہ ہم ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، اس کو فرداً فرداً بیان کر رہے تھے  ۔

چنانچہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ  امت مسلمہ میں سے خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد نبیﷺ کے ان دو جلیل القدر صحابہ کا نام آتا ہےکہ جن کے ناموں کی ترتیب بھی عشرہ مبشرہ میں اکٹھی ہے اور جو شہید بھی ایک ہی وجہ سے ہوئے یعنی سیدنا زبیر بن عوام اور طلحہ بن عبید اللہ  رضی اللہ عنہم۔اور ان کے بعد جناب عمار رضی اللہ عنہ کو خوارج نے قتل کیا۔

اس سے قبل کہ میں ان کی شہادت کا واقعہ بیان کروں اس سے پہلےمیں ان اصحاب کی اسلام کیلئے ناقابل فراموش خدمات کوبیان کرنا  مناسب سمجھتا ہوں تا کہ قارئین اس بات کو بخوبی جان لیں کہ  خوارج نے کیسے کیسے جلیل القدر اور عظیم المرتبت لوگوں کو صرف اہل اسلام کو لڑانے کی اپنی ناپاک خواہش پوری کرنے کیلئے قتل کر دیا۔

فضائل ومناقب:

نام زبیر،کنیت ابوعبداللہ، لقب حواری رسول اللہ۔ نبی کریم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر کے داماد۔ ہجرت سے 28 سال پہلے پیدا ہوئے۔ سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔اسلام اور نبیﷺ کے دفاع میں سب سے پہلے تلوار اٹھانے کا اعزاز رکھنے والے،ان کی والدہ ان کو بچپن میں بہت مارا کرتی تھیں تو کسی کے استفسار پر فرمانے لگیں کہ اگر ابھی سے یہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہنا سیکھ جائے گا تو آگے چل کر یہ قوموں کا سپہ سالار بن جائے گا۔ پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں بڑی جانبازی سے لڑے اور دیگر غزوات میں بھی بڑی شجاعت دکھائی ۔ جنگ خندق کے دن بنو قریظہ کی غداری کی تصدیق  کیلئے نبیﷺ کے تین دفعہ استفسار کرنےپر ہر دفعہ کھڑے ہوکر جانے کی اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر ان کی غداری کی تصدیق کی تو نبیﷺ نے یہ یادگارالفاظ ارشاد فرمائے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر  ہے۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ کے ذاتی دستے کے علمبردار تھے۔ جنگ فسطاط میں حضرت عمر نے چار افسروں کی معیت میں چار ہزار مجاہدین کی کمک مصر روانہ کی ۔ ان میں ایک افسر حضرت زبیر بھی تھے۔ اور اس جنگ کی فتح کا سہرا آپ کے سر ہے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد  ان کا قصاص لینے کا تقاضا کرنے لگے اور جناب معاویہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔

جنگ جمل کے موقع پر ان کا سامنا جناب علی  رضی اللہ عنہ سے ہوا تو دونوں حضرات کا آپس میں مکالمہ ہوا تو جناب زبیر نے لڑائی کا ارادہ ترک کردیا تو ان کے بیٹے اپنے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ آپ نے جب دونوں فریق میدان میں جمع کر دئیے‘ اور ایک دوسرے کی عداوت پر ابھار دیا تو اب چھوڑ کر جانے کا قصد فرماتے ہیں‘ مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کو دیکھ کر ڈر گئے‘ اور آپ کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی‘ یہ سن کر سیدنا زبیر اسی وقت اٹھے اور تن تنہا ہتھیار لگا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف گئے‘ اور ان کی فوج کے اندر داخل ہو کر اور ہر طرف پھر کر واپس آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آتے ہوئے دیکھ کر پہلے ہی اپنے آدمیوں کو حکم دے دیا تھا کہ خبر دار کوئی شخص ان سے متعرض نہ ہو اور ان کا مقابلہ نہ کرے‘ چنانچہ کسی نے ان کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی۔

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے واپس جا کر اپنے بیٹے سے کہا کہ میں اگر ڈرتا تو تنہا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اس طرح نہ جاتا‘ بات صرف یہ ہے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے سامنے قسم کھالی ہے کہ تمہارا مقابلہ نہ کروں گا اور تم سے نہ لڑوں گا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ قسم کا کفارہ دے دیں‘اور اپنے غلام کو آزاد کر دیں‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے‘ اور نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔

(صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ ، حدیث:۴۴۷)

شہادت:

جب لڑائی شروع ہو گئی‘ تو سیدنا زبیر ابن العوام رضی اللہ عنہ جو پہلے ہی سے ارادہ فرما چکے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہ لڑیں گے‘ میدان جنگ سے جدا ہو گئے‘ اتفاقاً سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ لیا اور بڑھ کر ان کو لڑائی کے لیے ٹوکا‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نہ لڑوں گا لیکن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ان کو لڑائی کا بانی سمجھنے کی وجہ سے ان سے سخت ناراض تھے‘انہوں نے حملہ کیا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کے ہر ایک وار کو روکتے اور اپنے آپ کو بچاتے رہے‘ اور خود ان پر کوئی حملہ نہیں کیا‘ یہاں تک کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھک کر رہ گئے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر چل دئیے‘ اہل بصرہ سے احنف بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کی ایک بڑی جمعیت لیے ہوئے دونوں لشکروں سے الگ بالکل غیر جانب دار حالت میں ایک طرف خیمہ زن تھے‘ انہوں نے پہلے ہی سے دونوں طرف کے سرداروں کو مطلع کر دیا تھا کہ ہم دونوں میں سے کسی کی حمایت یا مخالفت نہ کریں گے۔

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میدان جنگ سے نکل کر چلے تو احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی لشکر گاہ کے قریب سے ہو کر گذرے‘ احنف بن قیس کے لشکر سے ایک خارجی شخص عمرو بن الجرموز سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہو لیا‘ اور قریب پہنچ کر ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور کوئی مسئلہ ان سے دریافت کرنے لگا‘ جس سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کی نسبت کوئی شک و شبہ پیدا نہ ہوا‘ لیکن اس کی طبیعت میں کھوٹ تھا اور وہ ارادہ فاسد سے ان کے ہمراہ ہوا تھا‘ وادی السباع میں پہنچ کر نماز کا وقت آیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے‘ بحالت نماز جب کہ سجدہ میں تھے‘ عمروبن الجرموز نے ان پر وار کیا‘اور سیدنا زبیر اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون

 وہاں سے وہ سیدھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ علی رضی اللہ عنہ کی حفاظت پر مامور ایک شخص نے آ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا قاتل آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے‘ آپ نے فرمایا اس کو اجازت دے دو‘ مگر ساتھ ہی اس کو جہنم کی بھی بشارت سنا دو‘ جب وہ سامنے آیا اور آپ نے اس کے ساتھ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار دیکھی تو آپ کے آنسو نکل پڑے‘ اور کہا کہ اے ظالم یہ وہ تلوار ہے جس نے عرصہ دراز تک رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی ہے۔

عمرو بن الجرموز پر ان الفاظ کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں ان کے سامنے ہی چند گستاخانہ الفاظ کہہ کر تلوار خود اپنے پیٹ میں ہی جھونک کر مر گیا‘ اور اس طرح واصل جہنم ہو گیا۔

اب ہم جنا ب طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے ہیں:

مکمل نام طلحہ بن عبید اللہ ابومحمد کنیت،فیاض اورخیرلقب،والد کا نام عبیداللہ تھا، اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک اور حضرت محمد ﷺ کے صحابی تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔جنا ب ابو بکر کی دعوت پر اسلام لائے ۔بدر کے موقع پر نبیﷺ نے ان کو کہیں بھیجا ہوا تھا اس لئے شریک نہ ہوسکے لیکن مال غنیمت سے حصہ پایا اور اس معاملے میں بمثل عثمان قرار پائے۔

غزوۂ احد میں جان نثاری اورشجاعت کے جو بے مثل جوہردکھائے یقناً تمام اقوامِ عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے،تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا،حضرت ابوبکر صدیق نے ان کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔اور ان کا ایک ہاتھ سارے تیر جھیلنے کی وجہ سے شل ہو گیا تھا ۔درباررسالتﷺ سے اسی جان بازی کے صلہ میں “شہید” کا لقب ملا، صحابہ کرام کو واقعہ احد میں ان کی اس غیر معمولی شجاعت اورجانبازی کا دل سے اعتراف تھا، حضرت ابوبکر صدیق غزوۂ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ یہ طلحہ کا مخصوص دن تھا، حضرت عمر ان کو صاحبِِ احد فرمایا کرتےتھے۔ خود حضرت طلحہ کو بھی اس کارنامے پر بڑا ناز تھا اورہمیشہ لطف وانبساط کے ساتھ اس کی داستان سنایا کرتے تھے۔یہ ان دو اصحاب میں سے ایک ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے “فداک ابی وامی”میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں، سننے کا اعزا ملا۔اور دوسرے سعد بن ابی وقاص تھے ۔

جناب عثمان کی شہادت کے بعد  ان کا قصاص لینے کا تقاضا کرنے لگے اور جناب معاویہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔لیکن جنگ جمل کے موقع پر  جناب  زبیر کی پیروی کرتے ہوئے جنگ سے علیحدگی اختیا ر کرنا چاہی لیکن مروان بن الحکم جو کہ  اس لڑائی میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا‘ جب لڑائی شروع ہو گئی تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ میں بھی علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ہرگز نہ کروں گا‘ اسی خیال سے وہ لشکر سے الگ ہو کر ایک طرف کھڑے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی باتوں پر غور کر رہے تھے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ والی پیشگوئی کو یاد کر کے اس لڑائی سے بالکل جدا اور غیر جانب دار ہونا چاہتے تھے‘ اس حالت میں مروان بن الحکم نے ان کو دیکھا اور وہ سمجھ گیا کہ یہ لڑائی میں کوئی حصہ لینا نہیں چاہتے‘ اور صاف بچ کر نکل جانا چاہتے ہیں‘ چنانچہ اس نے اپنے غلام کو اشارہ کیا اس نے مروان کے چہرے پر چادر ڈال دی‘ مروان نے چادر سے اپنا منہ چھپا کر کہ کوئی شناخت نہ کرے ایک زہر آلود تیر کمان میں جوڑ کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنایا‘ یہ تیر سیدنا طلحہ کے پاؤں کو زخمی کر کے گھوڑے کے پیٹ میں لگا اور گھوڑا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے گرا‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے غلام کو بلایا ، جو اتفاقاً اس طرف ان کے سامنے آ گیا تھا ، انہوں نے اس غلام یا سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر جو وہاں آ گئے تھے ، نیابتاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی،چنانچہ سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ نے انہیں علاج کی غرض سے بصرہ بھیج دیا لیکن زہر اپنا کام مکمل کر چکا تھا اور یوں  36ھ میں نبیﷺ کا یہ عظیم جلیل القدر سپاہی خوارج کے دیے ہوئے زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے رب کے پاس جا پہنچا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

جناب عمار رضی اللہ عنہ :

اب ہم جناب عمار رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے ہیں:

نام عمارکنیت ابو یقظان،یاسر رضی اللہ عنہ اور سمیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے اور جلیل القدر صحابی تھے۔عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نےدوراسلام کے شروع میں اسلام قبول کیا۔ ان کے والد یاسر اور والدہ اسلام کے پہلے شہیدوں میں سے تھے۔ نبیﷺ نے ان کے اہل خانہ کے مصائب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا :

“صبراً آل یاسر،فان موعدکم الجنۃ”

اے آل یاسر صبر کرتے رہو،میں تم سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں۔

 یہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے سربراہ تھے۔ جنگ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔

جناب عثمان کی شہادت کے بعد یہ جناب علی کے ساتھیوں میں سے تھے اور انہی کو دیکھ کر جناب طلحہ و زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جنگ جمل سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔

انکی شہادت کی تفصیلات تو واضح نہیں ہیں لیکن یہ چونکہ جنگ صفین کے موقع پر شہید ہوئے اور ان کے بارے میں نبیﷺ کی یہ پیشین گوئی تھی کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل  کرے گا۔

(صحیح مسلم، حدیث 6966 ، 6970)

اسی لئے علماء یہ استدلال کرتے ہیں کہ  ان کو خوارج نے ہی موقع پاکر شہید کر دیا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

(تلخیص:تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی)