داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

اہل داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

مختلف شرپسند ذرائع ابلاغ یہ باورکروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ داعش ایک سلفی تنظیم ہے جب کہ سعودی سلفی علماء کے سابقہ فتوؤں سے پتہ چلا کہ داعش سلفی نہیں ، بلکہ سفلی اور خوارج ہیں ، کیونکہ سلفی تو کتاب و سنت کے پابند رہتے ہیں اور کتاب و سنت میں حکمرانوں کی اطاعت کی ہدایت ہے اور فتنے و فساد اور دہشت گردی کی ممانعت ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ شرپسند ذرائع ابلاغ نے داعش کو سلفی اور وہابی قرار دیا ، جب کہ امام و مجدد محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دینی خدمات اور اسلامی تعلیمات سے روشناس سعودی حکومت نے نہ صرف داعش کو دہشت گرد قرار دیا بلکہ مختلف ممالک کے تعاون و اتحاد سے اس کے خلاف جنگ بھی جاری رکھی۔

علاوہ ازیں شیخ عبیدالجابر حفظہ اللہ لکچرار برائے رایل کمیشن الجبیل نے کہا کہ داعش القاعدہ سے علیحدہ ہوئی اور القاعدہ کو (مصر کی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم) اخوان المسلمین (جس کے معروف مفکر برطانیہ سے سند یافتہ اور تربیت یافتہ سید قطب ہے ،جس سے اسامہ بن لادن متاثر تھا۔) نے قائم کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ عراق میں داعش کا بانی ابو مصعب الزرقاوی ہے جو ابو محمد المقدسی کا شاگرد ہے اور محمد المقدسی محمد سرورزین العابدین اور حسن ایوب کا شاگرد ہے ،اور یہ دونوں مصر کی دہشت گردتنظیم اخوان المسلمین کے بڑے اور معروف مفکرین ہیں علاوہ ازیں مزید توجہ طلب بات یہ ہے کہ داعش وجبہۃ النصرہ نے صراحت کی ہے کہ ان کا فکری انحصار سید قطب کی کتابوں پر ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح قدیم خوارج کےعقائد توحید میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے عقائد توحید کے باب میں بھی خلل نہیں لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت  ہے۔

النہج الواضح کے لکچرار شیخ احمد السبیعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کے ایک ہاتھ میں ہتھیار اور دوسرے ہاتھ میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن ہوتی ہے۔

ملک عراق کے شہر موصل میں واقع فقہ کونسل کے نائب صدر شعبان عبدالکریم نے کہا کہ داعش اقامت دین و عدل کے سہارے مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جب کہ وہ دین و عدل سے کوسوں دور ہے  اور ہم دینی امور کےذمہ داران ہونے کی حیثیت سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ داعش خوارج ہیں اور ہمارے دین یا ہم اہل سنت کے نمائندے نہیں ہیں۔

بعض اہل علم نے کہا کہ جب ہم داعش کی جھوٹ اور خیانت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں منافق کہناپڑتا ہے۔اور جب ہم ان کو ناحق کافر قرار دینے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں خوارج کہنا پڑتا ہے۔اسی طرح جب ہم ان کے تقیہ کرنے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں روافض کہنا پڑتا ہے اور جب ہم ان کے ظلم و زیادتی  کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں باغی کہنا پڑتا ہے۔

محترم قارئین! ہم نے اس میں کچھ اقوال کو جمع کیا ہے تاکہ لوگوں خاص طور پر سلفی نوجوانوں کے ذہن سے یہ بات نکالی جا سکے کہ داعش سلفی جماعت ہے۔کیونکہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ داعش ایک سلفی نہیں بلکہ سلفیت کے لبادے میں چھپی ایک شعبدہ باز جماعت ہے۔ لہٰذا اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام مسلمانوں کو ان کی شعبدہ بازیوں اور ان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ فرمائے۔ آمیں یا ارحم الراحمین

وما علینا الا البلاغ المبین