مرکزی صفحہ » عصرِحاضر کی تحریکیں » داعش » داعش سے دعوتِ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا اعلان براءت

داعش سے دعوتِ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا اعلان براءت

image_pdfimage_print

 داعش سے  منہج نبویﷺ کا اعلان براءت

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

دور حاضر میں خارجی تنظیم داعش کے ظہور کے بعددشمنوں نے یہ سازش شروع کر دی کہ داعش ، محمد بن عبد الوھاب ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی پیرو کار ہے ، انہیں کے مسلک کو اپنی دلیل بناتے ہیں لہذا یہ وہی لوگ ہیں ، ان کا عقیدہ و منہج وہی امام اہل السنہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کے سلفی عقیدہ و منہج جیسا ہے ۔ 

لیکن میں کہتا ہوں کہ ان دونوں کے منہج کو ایک قرار دینا  مچھلی اور سانڈے کو ایک قرار دینے کے مترادف  ہے۔

لیکن چونکہ کئی خارجی فرقوں  نے اس چیز  کا دعویٰ کیا ہے کہ ہماری  دعوت اور محمد بن عبد الوہاب  رحمہ اللہ  کی دعوت ایک ہے۔

تو میں نے مناسب سمجھا کہ میں ان کے اس دعوے کا پول کھولوں،چنانچہ  میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نے یہی دعویٰ کیا ہے، اور اس نے  امام محمد بن عبدالوھاب کی کتاب “الدررالسنیۃ “(الدررالسنیۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب کے اور ان کے شاگردوں  کے ان رسائل کا مجموعہ ہے کہ جس میں توحید کا بیان اور غلو فی التکفیر کی ممانعت  ہے) سے کچھ مقامات کو اپنی بات کے دفاع میں ذکر کیا ہے  تو  میں نے اس کا بغور مطالعہ کیا تو مجھے اس کے تمام دعوے جھوٹ پر مبنی دکھائی دیے ۔لیکن چونکہ ان کا یہ دعویٰ ہے  تو میں ان سے کچھ سوالات کرنا چاہوں گا،چنانچہ اگر وہ ان کے صحیح جواب دیں تو ہم ان کے اس دعوے کو صحیح مان لیں گے۔ان شاء اللہ 

میں ان سے  ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ “داعش” (دولت الاسلامیہ فی العراق والشام) انہوں نے امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے اس قول سے  لیا ہے کہ:

معین چیز کی تکفیر نہیں کی جائے گی مگر جب اس پر حجت قائم ہو جائے اور حجت یہ ہے کہ  اس کے پاس اللہ کاکلام پہنچ جائے اور اس کا کوئی عذر بھی نہ ہو تو وہ کافر ہے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہم اسی  شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو اللہ کی ہیئت کے بارے میں شرک کرے حالانکہ اس کیلئے بطلان شرک پر حجت واضح ہو چکی ہو۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہم ہر اس شخص کی تکفیر کرتے ہیں  کہ جو اسلام سے پھر جائے اور لوگوں کو اس سے روکے اور اسی طرح جو بندہ بتوں کی عبادت کرے حالانکہ اس کو اس بات کا علم ہو کہ  یہ مشرکوں کا کام اور دین ہے،اور اس کو لوگوں کیلئے مزین کر کے پیش کرے تو یہ وہ شخص ہے کہ جس کی ہم تکفیر کرتے ہیں ، اور ہر عالم بھی ان کو کافر قرار دیتا ہے،مگر جس کے دل میں کینہ و عداوت ہو یا وہ جاہل ہو۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے: جب کوئی شخص جہالت کی وجہ سےکافروں اور مشرکوں والا عمل کرے  یا کسی نے اس کو تنبیہ نہ کی ہو تو ہم اس شخص کو کافر قرار نہیں دیتے یہاں تک کہ  کوئی اس پر حجت قائم کرے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے: جب وہ انسان جو اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتا ہو لیکن اس کے کچھ اعمال کفریہ ہوں یا اس کا عقیدہ کفریہ ہو  اور اس کی وجہ یہ ہو کہ  وہ دینی تعلیمات سےجاہل ہو تو  وہ ہمارے نزدیک کافر نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر کفر کا فتویٰ لگانے والا  اس پر اتمام حجت  نہ کردے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہر وہ شخص جس کے پاس قرآن پہنچ جائے(یعنی وہ اس کے اسرار و رموز اور احکام سے واقف ہو جائے) تو اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے،لیکن جاہل کا معاملہ اس کے بر عکس ہے کہ وہ اہل علم کا محتاج ہوتا ہے۔

نوٹ: یہاں ایک بات ملاحظہ فرمائیں  کہ سابقہ تمام اقوال  میں کچھ امام صاحب سے  ،منقول ہیں اور  بعض ان کے شاگردوں کے ہیں۔

یا داعشی  شاید اس قول سے استدلال کرتے ہیں:فتنوں اور غلبہ  جہالت کے زمانے میں کسی کی معین تکفیر کرنا جائز نہیں ہے  مگر جب اس پر حجت قائم کر دی جائے اور اس کیلئے سارے معاملے کو کھول کر بیان کر دیا جائے۔

یا  شاید یہ قول ہو:ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے سوائے اس کے کہ  جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرے  اور اس پر حجت قائم کر دی گئی ہو۔

یا یہ نص ہو : ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے مگر جس پر تمام علماء کرام جمع ہو جائیں۔

اور اسی طرح:ہم اسی تعریف کے بعد کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں ،جب وہ جان لے اور اس کا انکار کرے۔

یا یہ قول ہو سکتا ہے: ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے  مگر جو توحید کو جان لے پھر اس کی خلاف ورزی کرے  اور اس کو گالی دے اور خوارج کے مذہب پر چلے اور وہ شرک کو پہنچانتا ہو اور اس کو محبوب رکھتا ہو  اور لوگوں کو اس کی طرف بلاتا  اور رغبت دلاتا ہو  جب اس پر حجت قائم ہو جائے  تو وہ کافر ہے۔

ہو سکتا ہے یہ قول ہو : یہ مشرکین اور ان جیسے جو اولیاء اللہ کی عبادت کرتے ہیں ہم انکو کافر قرار دیتے ہیں بشرطیکہ ان پر حجت قائم کردی گئی ہو۔

تو یہ چند اقوال تھے لیکن اس کے علاوہ بھی  اس طرح کے کئی اقوال ہیں لیکن ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو اس خارجی نے الدررالسنیۃ اور آئمۃ السلف پر بہتان لگایا ہے اس کو کھول کر واضح کر سکیں۔

تو یہ کچھ ائمہ  جن میں امام محمد بن عبدالوھاب  انکے بیٹے اور انکے ساتھی، انکے شاگرد اور ان کے شاگردوں کے شاگرد حضرات شامل ہیں ،کے تکفیر کے متعلق  چند اقوال تھے۔

تو میرا سوال یہ ہے کہ  ان اقوال میں کہاں سے داعش کا منہج نکلتا ہے؟

یقیناً کوئی بھی محقق اور ذی شعور  آدمی ان کے اس دعوے کی تردید کرے گا۔

اورہاں  اگر کسی کے پاس اس حوالے سے کچھ ہو تو ہمیں بھی دکھائیں  تاکہ ہم بھی اس سے مستفید ہو سکیں لیکن حقیقت بات یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں بس امام صاحب کا نام لے کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانا ہے کونسا کسی نے تحقیق کرنی ہے بس نام استعمال کرو۔

لہٰذا اس سے  یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ داعش اور نبوی دعوت میں زمین و آسمان کے مثل فرق ہے ۔اس لئے داعش اور نبوی منہج کے درمیان فرق سمجھیں اور کفار اور خوارج کے اس جال سے بچنے کی کوشش کریں۔

اللہ آپ کا حامی وناصر ہو،آمین

Print Friendly

About alfitan

مزید دیکھئے

داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

بسم اللہ الرحمان الرحیم اہل داعش سلفی نہیں سفلی ہیں مختلف شرپسند ذرائع ابلاغ یہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *