حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں غلطی کرتی ہیں

4-اقتدار چھیننا

جن دینی تحریکوں پر اقتدار کا نشہ سوار ہے وہ پہلے سے برسرِاقتدار حکومتوں کو ہر طریقے سے ختم کرنے کے آرزو مند رہتی ہیں۔اور موقع کی تلاش میں رہتی ہیں کہ ان سے اقتدار چھینا جائے۔ اس کے لیے وہ برسر اقتدار پارٹیوں کے کمزور پہلو تلاش کرکے ان کے خلاف عوام کو  بھڑکاتی ہیں۔ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں کہ برسرِاقتدار پارٹیوں میں کمزوریاں نہیں ہوتیں، یہاں تو یہ بتانا ہے کہ آیا شریعت میں اس بات کا جواز ہے کہ برسر ِاقتدار مسلمان حکمرانوں سے ان کا اقتدار بزور اور زبردستی چھینا جائے۔ جو لوگ دین نہیں جانتے ان کی بات تو علیحدہ ہے۔ دین داری کے دعوے داروں اور ملک میں اسلام کو رائج کرنے کا ادّعا رکھنے والوں کو اس کی کوئی دلیل تو مہیا کرنی چاہئے۔وہ ایسی کوئی آیت یا حدیث تو لائیں جس میں مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھیننے کی تعلیم ہو۔ ان کے سامنے یہ بات نہیں کہ فرعون کے ہاتھوں ظلم میں پسنے والے بنی اسرائیل کو فرعون سے اقتدار چھیننے کے بجائے اس کا علاقہ چھوڑنے کا حکم ہوا۔

انہی تحریکوں کے پروردہ ایک شخص سے راقم کی بات ہوئی تو اس نے واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ اللہ نے نہیں فرمایا کہ ظالموں سے اقتدار چھینو۔ میں نے کہا یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ تو وہ صاحب ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ اگر کوئی یہ دلیل پیش کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔”

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو”۔

(النسآء : 4)

  لہٰذا ہمیں نااہل لوگوں سے چھین کر حکومت اس کے اہل کے سپرد کرنی چاہیے۔ تو یہاں دو باتیں عرض ہیں کہ حکومت چھیننے کا یہاں ذکرنہیں ، دوسرے یہ کہ جو خود اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے شریعت کی نگاہ میں وہ خود ہی نااہل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے ہی ایک شخص کو نااہل قراردیا تھا۔ حوالہ آرہا ہے۔

5- حصول ِ اقتدار کا قرآن مجید میں کوئی حکم ہے؟

قرآن مجید اپنے ماننے والوں کو جن جن احکامات پر چلنے یا جن باتوں سے رکنے کا حکم دیتا ہے اور بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے  اسے صراحت  سے یا اشاروں سے سمجھا دیتا ہے مگر ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ بات لکھتا ہوں کہ حصولِ اقتدار کا حکم نہ صراحتًامجھے ملا ہے اور نہ اشارتاً۔ اگر حصول ِاقتدار اتناہی اہم فریضہ ہوتا ، جیسا کہ بعض جماعتوں نے  سمجھ رکھا ہے ، تو قرآن مجید میں اسکا حکم ہونا چاہیے تھا کہ اقتدار حاصل کرو۔

قرآم مجید میں ایسی وضاحتیں تو موجود ہیں کہ “جنہیں ہم زمین میں اقتدار دیتے ہیں تو  وہ تماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ کا نظام قائم کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

( الحج : 41)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جسے اللہ اپنی خوشنودی سے اقتدار نصیب فرمائے، ان کی یہ خصوسیات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ خوشنودی کا لفظ یہاں اس لیے استعمال کیا کہ فرعون ، ہامان ، نمرود کوبھی اقتدار   اللہ نے دیا تھا ور آج کے کافرون کو بھی دیتا ہےمگر اس میں اسکی رضا شامل نہیں ہوتی۔

زیادہ سے زیادہ ایسی تحریکوں کے پاس ایک یہ آیت اپنے موضوع پر موجود ہے کہ:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ۔

“تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے”۔

(آل عمران : 104)

یہاں “امۃ ” کا لفظ آیا ہے جس کے معنی لوگوں کے بھی ہیں۔  اگر جماعت مراد ہو بھی تو نبی کریم ﷺ کو ایک علیحدہ جماعت بنا کر اس کا ایک علیحدہ امیر مقرر کردینا چاہئے تھا جیسا کہ آج یہ لوگ سمجھتے ہیں۔  تیسرےیہ کہ جماعت اور حکومت دو علیحدہ علیحدہ اصطلاحیں ہیں۔ جماعت کا ہونا اور بات ہے اور حکومت کا اختیار اور بات ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے حکومت ضروری نہیں۔ ہر کوئی اپنی سطح پر یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ اگر یہ فریضہ حکومت ملنے کے بعد ہی ادا ہونا ہوتا تو قرآن مجید میں پہلے حکومت کےحصول کا ذکر ہوتا۔ اسی طرح جو جماعتیں اس آیت سے استدلال کرتی ہیں ان کے پاس حکومت نہیں ہے اور وہ اپنے طور پر یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ اس فریضے کو بڑے اچھے انداز سے نبھا رہے ہیں۔

اسی طرح ایسے لوگوں کی زبانوں پر علامہ اقبال کا ایک شعر بھی گردش کرتا ہے:

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو—-جدا ہودیں سیاست سے رہ جائی ہے چنگیزی

اور اس شعر کو وہ ایک شرعی حکم سمجھ کر اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی بھر پور کوکشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ شعر تو نظام حکومت اور سیاست سےدین کو الگ رکھنے کی روش کی مذمت میں ہے  کہ دین کو الگ رکھنے سے ہر نظام ظلم و ستم اور فساد سے عبارت ہوتا ہے۔ جبکہ قران و سنت اور ہماری سنہری تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست کا آغاز اقتدار ملنے کے بعد ہوتا ہے۔ حصول اقتدار کے لیے نہیں۔ اور ہماری بات اقتدار کےحصول کے متعلق چل رہی ہے۔ جسے اللہ اقتدار دے دے اسے کیا کرنا چاہیے یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اگر قرآن مجید میں یا حدیث نبوی میں حکومت اور اقتدار حاصل کرنے کا مسلمانوں کو کوئی حکم دیا گیا ہے تو ازراہ کرم ہمیں  بھی اس سے آگاہ کیا جائے تاکہ اپنے محترم قارئین تک ان نصوص کو پہنچایا جائے اور ان پر عمل درآمد ہو۔ حدیث میں تو عامل یا گورنر مقرر کرنے کی حد تک بھی کسی کی ذاتی چاہت یا شوق کو پسند نہیں کیا گیا چہ جائیکہ کسی کی چاہت کے مطابق اسے کسی ملک کا اقتدار سونپ دیا جائے۔ واضح حدیث ہے:

“لن نستعمل علی عملنا من ارادہ”۔

 “ہم اپنے امور پر اسے ہرگز عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ رکھتا ہے”۔

( صحیح  مسلم : 1733)

 دوسری حدیث  میں ہے:

  “انا واللہ لانولی علٰی عملنا ھٰذا أحداً سألہ أو حرص علیہ” ۔

“اللہ کی قسم ! بے شک ہم اس کارِ حکومت پر کسی کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کو بھی نہیں اس کی حرص رکھتا ہے”۔

(صحیح مسلم : 1733)

ایک اور حدیث میں فرمایا:

 “فا نک ان اعطیتھا عن مسالہ وکلت الیھا ون اعطیتھا عن غیر مسالہ اعنت علیھا”۔

 ” بے شک اگر تمہیں یہ امارت تمہارے مطالبے پر دی گئی تو تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر یہ امارت تمہارے مطالبے کے بغیر تمہیں دی گئی تو اس پر ( اللہ کی طرف سے) تمہاری مدد بھی کی جائے گی”۔

(صحیح مسلم : 1823)

6- حصول اقتدار کے ہنگامی طریقے

اس طبقے اور پہلے طبقے میں فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دیتاہے جبکہ پہلا  طبقہ انہیں ظالم ، فاسق اور نااہل تو قرار دیتا ہےمگر کافر نہیں۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ اس نظام کو ناجائز سمجھتا ہے جس سے  حکومت حاصل کی جائے ، اس لیے وہ کسی اور طریقے سے حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ پہلا طبقہ نظام جمہوریت کو درست سمجھتے ہوئے اسی کے تحت حکومت  کا متمنی ہے۔ مگر پہلے طبقے کی طرح اس دوسرے طبقے کا منہج اور طریقہ حصول اقتدار شرعی طور  پر محلِّ نظر ہے۔ اور گزشتہ صفحات میں کی گئی وضاحتیں اس کے لیے کافی ہیں مگر ایک مزید خامی جو اس طبقے کے اندر ہے وہ ہے اپنے اقتدار کے لئے بہت  سے مسلمانوں اور بلادِ اسلامیہ کو فتنہ وفساد سے دوچار کرنا ، وہاں کے باسیوں کے قتلِ عام کو روا سمجھنا ، ان پر حملے کرنا، حکومتوں کو نشانہ بنانا۔ یہ شریعتِ اسلامیہ میں بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔

اپنی سرگرمیں اور کارروائیوں کےلیے اس طبقے کا دامن بھی شرعی دلائل سے یکسر خالی ہے۔ پہلے طبقے کی طرح انہیں بھی حصولِ اقتدار کی منزل درکا ہے، اس سفر میں خواہ ہزاروں انسانوں کا خون ان کے سر آئے اور بلادِ اسلامیۃ شروفساد کی آماجگاہ بنے رہیں۔ پھر وہ فساد اور فسادیوں کے متعلق قرآن مجید کے تبصرے سے یکسر نابلد نظر آتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے؟

7-کیا پھر مسلمانوں کو اجتماعی یا انفرادی سطح پر ایسی کوئی کوشش کرنی چاہئے؟

اگر پہلے طبقے کے اقتدار کی چاہت اور اس کےحصول کا  طریقہ بھی درست نہیں اور دوسرے طبقے کا بھی درست نہیں کیا موجودہ مسلمانوں کو اس کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے؟ تیسرے طبقے کی طرح بس اپنے اپنے دائرہ میں مصروف رہنا چاہئے۔ نہیں ، نہیں۔

 مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ دین پر عمل ، دین کو غالب کرنے کی کوشش کریں، اور ہر مرحلے اور میدان میں اور نظریے اور سوچ اور فکر میں اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول کو اپنا شعار بنائیں اور اپنی اپنی سطح تک اس کی تنفیذ کی کوشش کریں۔۔۔۔ اس طرح ایک صالح معاشرہ قائم ہوگا اور پھر اللہ جسے چاہے گا اقتدار کی ذمہ داری سونپ دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی مکہ مکرمہ میں حکومت کی پیش کش کو ٹھکردایا تھا اور ساری توجہ لوگوں کے ذہن بدلنے پر دی تھی بالآخر بڑے ہی غیر محسوس انداز سے اللہ نے اہل ایمان کو مدینہ منورہ کے  اقتدار سے نوازا اور رفتہ رفتہ یہ پھیلتا ہی چلا گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اقتدار دینے کو اپنے ذمے لیا ہے۔

موجودہ اکثر  مسلمانوں سے یہ کام ہوتے نہیں ۔ یہ مستقل نوعیت کے کام ہیں۔ اس راہ میں مسلکوں اور جماعتوں کے بت پاش پاش ہوتے ہیں، کریڈٹ جماعتوں کے بجائے اسلام کو جاتا ہے۔اس لیے ہم ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ

الا ماشاء اللہ سب مسلمان ہی اپنی اپنی جماعت کو ترقی دینے میں مگن  ہیں اور جس نے جس تحریک  میں آنکھ کھولی ہے اور پرورش پائی ہے وہ اس کے نظریات سے سر مو انحراف کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اور اسلام ایک طرف کھڑا نظر آرہا ہے۔

یہاں ایک اور سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا اسلام نے حکومت سازی کے اتنے اہم مسئلے پر روشنی نہیں ڈالی ؟

 اسکا جواب آئندہ  مضمون میں دیا جائے گا ۔(ان شا ء اللہ)