کیا اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والامطلقا کافر ہے؟

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!

کیا اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والامطلقا کافر ہے؟

 آیت تحکیم میں کفر سے کیا مراد ہے؟آیت تحکیم کی صحیح تفسیر صحابہ کرام اور آئمہ عظام کے فہم سے، نیز خوارج کا مدلل رد

عصرحاضر کے خوارج نے وہی مسئلہ اٹھا کر آج کل مسلمانوں کی تکفیر شروع کر رکھی ہے  جوپہلے خوارج کےگروہ نے اٹھا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  کی تکفیر کی تھی۔

یعنی اللہ کے قانون کے علاوہ کسی اور قانون سے فیصلہ کرنا یا پھر اللہ کے علاوہ کسی اور کو حَکم بنانا۔

  • سب سے مشہور دلیل جو خوارج اس باب میں پیش کرتے ہیں وہ یہ آیت ہے۔

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔(المائدہ : 44)

اس سے اگلی دو آیتوں میں ایسے لوگوں کو ظالم اور فاسق بھی کہا گیا ہے۔

خوارج کا کہنا ہے کہ اس آیت کے تحت جولوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں لہذا آج کے حکمران بھی ایسا ہی کرتے ہیں تو وہ کافر ہیں اور نظام بھی ایسا ہی ہے لہذا یہ نظام بھی کفریہ ہی ہے۔

آئیے اب دیکھتے ہیں اس آیت کی تفسیر اسلاف امت کیا کرتے ہیں ،سب سے پہلے رسول ﷺ کی زبان مبارک سے علم حاصل کرنے والے صحابہ کی تفسیر سنتے ہیں۔

جب ابن عباس رضی اللہ عنہ خوارج سے مناظرہ کرنے گئے تو انہیں کہا کہ میں تمہارے پاس انصار و مہاجرین، صحابہ کہ پاس سے آیا ہوں کہ تمہیں یہ بتادوں کہ اہل علم لوگ اس مسئلہ میں کیا کہتے ہیں، جن پر قرآن نازل ہوا، اور وہ وحی کو تم سے زیادہ سمجھتے ہیں، اور انہی کے درمیان وحی نازل ہوئی، اور تمہھارے ساتھ ان(یعنی صحابہ) میں سے کوئی ایک بھی نہیں (مسند احمد : 10598)۔

یاد رہے ابن عباس رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جن کونبی ﷺ نے دعا دی تھی کہ اے اللہ اسے کتاب (قرآن) کا علم عطا فرما(بخاری)۔

نیز سیدنا علی رضی اللہ نے خوارج سے مناظرے کے لیے بھی انہیں ہی بھیجا تھا، تو یہ ان معاملات اور ان آیات کی تفسیر سب سے زیادہ بہتر سمجھنے والے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:

ليس بالكفر الذي تذهبون إليه

اس (آیت )سے وہ کفر مراد نہیں ہے جو تم مراد لیتے ہو (یعنی کفراکبرمراد نہیں ہے)۔

ایک اور روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں:

إنه ليس بالكفر الذي يذهبون إليه، وإنه ليس كفراً ينقل عن الملة

ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون( كفر دون كفر)

اس سے مراد کفر اکبر نہیں ہے، اوریہ ایسا کفر نہیں ہے جو اسلام سے خارج کردے، (اللہ کا فرمان کہ):

جس نے اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کیا، پس یہی لوگ کافر ہیں، اس سے مراد کفر دون کفر ہے، (یعنی کفر سے چھوٹا کفر، کفر اصغرمراد ہے)۔

امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور صحیحین کی شرط پر اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، امام ذھبی رحمہ اللہ نے انکی موافقت کی ہے۔

 المستدرك:( 2/313)، السلسلة الصحیحۃ: 6/113، تفسیر ابن کثیر: 6/163)۔

تفسیر طبری میں (6/166) پر حسن سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں:

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ(المائدة:44)

قال: “من جحد ما أنزل الله، فقد كفر، ومن أقرّبه، لم يحكم به فهو ظالم فاسق۔

(اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ) جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کا انکار کیا (وہ کافر ہے)، البتہ جس نے اقرار کیا لیکن اس کے مطابق فیصلہ نہیں کیا تو وہ ظالم، فاسق ہے (کافر نہیں)۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں کونسا کفر مراد ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے وہ کفر مراد ہے جو اسلام سے خارج نہیں کرتا۔

سؤالات ابن هاني” (2/192)۔

قال إسماعيل بن سعد في “سؤالات ابن هاني” (2/192): “سألت أحمد: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ ، قلت: فما هذا الكفر؟ قال: “كفر لا يخرج من الملة”]۔

امام جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

میرے نزدیک سب زیادہ صحیح بات اس آیت کے بارے میں  یہ ہے کہ یہ آیت کفار، اھل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی تھی، کیونکہ اس سے اگلی پچھلی آیات بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ، اور یہ آیات ان کے بارے میں خبر دے رہی ہیں، لہذا یہ زیادہ لائق ہے کہ یہ آیات ان کفار کے حوالے سے خبر ہو۔

یعنی یہ آیات کفار کے ساتھ ہی خاص ہیں۔

اور اگر کہنے والا کہے کہ: آپ کیسے اس کو کفار کے ساتھ خاص کر سکتے ہیں جب کہ اللہ نے تو اسے عام رکھا ہے ہر اس شخص کے ساتھ جس نے اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کیا؟

تو ہم کہیں گے:

کہ اللہ تعالی نےاس آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کے قانون کا انکار کرنے والے ہیں اگرچہ وہ مسلمان ہوں یا کافر،

 پس اللہ نے خبر دی کہ انہوں نے(یہودیوں اور اہل کتاب)نے انکار کرتے ہوئے اللہ تعالی کے فیصلے کو چھوڑا اس لئے وہ کافر ہیں،

اور یہ آیت عام ہے ہر اس (مسلمان ) کے لئے جو اللہ کے قانون کا انکار کرتے ہوئےاس کے مطابق فیصلہ نہ کرے، جیسا کہ ابن عباس نے فرمایا۔تفسیر طبری: (6/166)۔

 امام نصر المروذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 جس طرح اعمال کی شاخیں ہیں اسی طرح صحابہ کرام اور تابعین نے کفر کی بھی شاخیں بنائی ہیں،  جس طرح اعمال کو چھوڑنے سےانسان کا ایمان کم تو ہوتا ہے پر ایمان سے خارج نہیں ہوتا اسی طرح اللہ تعالی کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا فاسق و فاجرتو ہوتا ہےلیکن اسلام سے خارج نہیں،ہاں اگر فیصلہ اللہ تعالی کے نازل کردہ کے مطابق نہیں کرتا اس کا انکار کرتے ہوئے تو یہ بھی اسی طرح ملت اسلامیہ سے خارج ہوگاجیسے اعمال کا انکار کرتے ہوئے ترک کرنے والا کافر ہوگا۔

 امام ابن عبدالبررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

علماء کا اس بات اجماع ہوچکا ہے کہ ( اللہ کے حکم کے علاوہ فیصلہ کرنا) کبیرہ گناہ ہے، جو اسکو جان بوچھ کر علم رکھنے کے باوجود کرے،اس کے متعلق  شریعت اسلامیہ میں شدید وعید ہے۔

اور اللہ نے فرمایا: جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں یہی لوگ، کافرہیں، فاسق ہیں، ظالم ہیں ، یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، ابن عباس اور حذیفہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بھی ہے،مگر یہ وہ کفر نہیں ہےجو اسلام سے خارج کردے اگرامت میں سے کوئی شخص یہ کام کرے تو اس وقت تک کافر نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالی ، اسکے فرشتوں، کتابوں ، رسولوں یا آخرت کے ساتھ کفر نہ کرے، اور اس آیت کی تفسیر کئی علماء سے مروی ہے، جن میں ابن عباس ، اور عطاء (تابعی) بھی ہیں۔”التمهيد” (5/74)

 امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اس بارے میں فیصلہ کن بات یہ ہے کہ جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے اس کا انکار کرتے ہوئے حالانکہ وہ جانتا ہو یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ کافر ہے ، البتہ جو خواہش نفس کی وجہ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہ ظالم ہے فاسق ہے۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی تفسیر منقول ہے۔  زاد المسير (2/366)۔

 امام ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اس میں صورتحال مختلف ہوگی اگروہ اپنے قانون کو یہ سمجھ کر اس سے فیصلہ کر رہا ہو کہ یہ بھی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے تو یہ کفر کو واجب کرنے والی بات ہے البتہ خواہش نفس اور گناہ کے طور پر کر رہا ہو تو اسکی مغفرت ہوسکتی ہے جیسا کہ اھل سنت کا قول ہے کہ گناہ گاروں کی بخشش ہوسکتی ہے۔أحكام القرآن” (2/624)۔

 امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالی کے اس فرمان کے ظاھری الفاظ سے استدلال خوارج کرتے ہیں، حالانکہ ان کے لیے اس آیت میں کوئی دلیل نہیں، کیونکہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لہذا اس آیت کے حکم میں انکے ساتھ وہی شریک ہوگا جو انکے جیسی حرکت کرے گا (یعنی تحریف کرے گا یا انکار کرے گا)۔

اور اسکی توضیح یہ ہے کہ: اگر مسلمان کسی مسئلے میں اللہ کا حکم جانتا ہے اورانکار کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ بلا اختلاف کافر ہے ، لیکن اگر وہ ایسا بے عملی کی وجہ سے کرتا ہے ،اور وہ اس حکم کی تصدیق بھی کرتا ہے نیز یہ بھی  جانتا ہے کہ اسکو نافذ کرنا واجب ہے، لیکن پھر بھی  وہ اس پر عمل نہیں  کرتا تووہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے،اور کناہگار ہے۔

اور یہی حکم دین کے ہر واضح مسئلے کا بھی ہے، مثال کے طور پرنماز وغیرہ،یعنی جیسے نماز کو چھوڑنے والا گناہگارتو ہےلیکن کافر نہیں اور کافر انکار کرنے والا ہوگا  چھوڑنے والا نہیں)اور یہی جمہور کا موقف ہے۔المفهم” (5/117)

اس آیت کی یہی تفسیر امام ابن بطہ، امام شاطبی، امام ابن تیمیہ ، امام ابن القیم، امام ابن کثیر، امام ابن حجر، امام سمعانی رحمھم اللہ ، اوربے شمار آئمہ نے کی ہے۔

 جو طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کی جارہی۔

یہ بھی یاد رہے کہ خوارج اسکے علاوہ بھی ایک آیت سے استدلال کرتے ہیں :

إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ (الأنعام آية:57)

 یعنی حکم صرف اللہ کی ہی ہے۔

یہ آیت خارجیوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مناظرے کے وقت پیش کی تھی۔

اور  ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا تھا کہ اللہ کے علاوہ انسانوں  کو فیصل بنانے کا ذکر قرآن میں بھی ہے ، بلکہ حکم موجود ہے مثلا:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُـمْ حُرُمٌ ۚ وَمَنْ قَتَلَـهٝ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّـعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ

اے ایمان والو! شکار کو نہ قتل کرو جب تم احرام میں ہو، اور تم میں سے جو کوئی اسے جان بوجھ کر مارے تو پھر بدلے میں اس مارے ہوئے کے برابر مویشی لازم ہے جو تم میں سے دو معتبر آدمی تجویز کریں بشرطیکہ قربانی کعبہ تک پہنچنے والی ہو ۔(المائدة آية: 95)

اور

وَاِنْ خِفْتُـمْ شِقَاقَ بَيْنِـهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِـهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّـٰهُ بَيْنَـهُمَا ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْـرًا

اور اگر تمہیں کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف شخص کو مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف شخص کو عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں میں موافقت کر دے گا، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔(النساء آية 35)

 اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت سے یہ استدلال کرنا کہ دور حاضر  کے مسلمان حکمران کیونکہ شریعت نافذ نہیں کرتے اس لیے کافر ہیں یہ خوارج کا مذہب ہے، اسی طرح مسلم ممالک کے نظاموں کو  کفریہ کہنا ، یہ بھی خوارج کا منہج ہے، اگرچہ ان ممالک کے آئین میں کچھ باتیں خلاف شریعت منظور کروالی گئی ہیں تو وہ شریعت سمجھ کر جائز نہیں کی گئیں بلکہ قانونا جائز کی گئی ہیں، مثال کے طور پر کوئی اپنے گھر میں ٹی وی رکھنے کی اجازت دیتا ہے یا اپنے بچوں کو گانے سننے کی اجازت دیتا ہے تو شرعی طور پر جائز سمجھ کر نہیں دیتا بلکہ اپنے گھر کے قانون میں اپنی عملی کوتاہی کی وجہ سے اسکی اجازت دیتا ہے، لہذا جب تک کوئی حکمران صراحتا یہ نہ کہے کہ میں اللہ کے حکم سے جمہوریت کو افضل سمجھتا ہوں، یا جمہوریت کو بھی اللہ کے حکم برابر سمجھتا ہوں، یا اللہ کے حکم کے خلاف قانون کے نفاذ کو شرعا جائز سمجھتا ہوں یا اللہ کے حکم کا انکار کرتا ہوں،تو ان صورتوں میں وہ کافراور ملت اسلامیہ سے خارج ہوجائےگا۔

نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کفر کے فتوے لگانے والے حضرات کبھی قانونی طریقے سے خلاف شریعت باتوں کو آئین کی روشنی میں چیلنج نہیں کرتے بلکہ صرف اپنے حلقے میں یا کتاب لکھ یا منبر سے ایسی چیزوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

علامہ تقی عثمانی صاحب جو کہ بڑے عالم بھی ہیں اور تقریبا 25 سال تک جج بھی رہ چکے ہیں وہ  فرماتے ہیں کہ کبھی کوئی مولوی طبقہ قانون کو باقاعدہ قانونی طریقے سے چیلنج کرنے نہیں آیا۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہی نظام تھا کہ جسے صحیح طریقے سے استعمال کیا گیا تو قادنیوں کو کافر قرار دلوایا گیا ۔

خاص کر کہ جب آئین میں صاف صاف لکھا ہے کہ حاکم اعلی اللہ کی ذات ہے اور کتاب و سنت کے مخالف کوئی فیصلہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

لہذا ان آیات کا مروجہ فہم جو خوارج لے رہے ہیں یہی فہم علی رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرنے والوں نے لیا تھا اوران  خوارج کے بارے میں علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ:

قالوا لا حكم إلا لله ، قال علي : كلمة حق أريد بها باطل۔

یعنی یہ خوارج کہتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں، تو یہ الفاظ تو صحیح ہے لیکن انکا معنی غلط جگہ پر استعمال کیا گیا ہے۔(صحیح مسلم : 1066)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا:

إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الكُفَّارِ، فَجَعَلُوهَا عَلَى المُؤْمِنِينَ

یہ (خوارج) وہ لوگ ہیں جو کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق اہلِ ایمان مومنین پر کرتے ہیں۔ (فتح الباري ” ( 12 / 286 )

اور جیسا کہ آپ نے دیکھا آئمہ کرام نے انکی پیش کردہ آیت کو یہودیوں اور اہل کتاب کے بارے میں نازل شدہ بتلایا ہے، لہذا یہ مسلمانوں پر فٹ کر رہے ہیں ۔

بعض لوگ یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ جمہوریت میں اکثریت کے فیصلے کو قانون بنایا جاتا ہے بھلے وہ خلاف شرع ہو، تو اس سے بھی انکا کافر ہونا  لازم نہیں آتا کیونکہ وہ قانون اللہ تعالی کے مقابل نہیں بنایا جاتا بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے بنایا جاتا ہے۔

اسکے علاوہ پاکستان (یو این او) کا نمائندہ ہے جو کہ بظاہر امن قائم کرنے کے لیے بنایا گئی ہے، اب پاکستان کی مجبوری ہے کہ اسکا حصہ بنے وگرنہ کئی طرح کی مشکلات دنیا بھر سے پیش آنے کی توقع ہے۔

 لہذا اگر خوف کی وجہ سے پاکستان اس نظام کا حصہ ہے تو یہ بھی کوئی کفر نہیں بلکہ اسلام میں تو اگر خطرات لاحق ہو کلمہ کفر کہنے کی بھی اجازت موجود ہے، نیز حدیث میں آتا ہے کہ جنگ دھوکہ ہے، لہذا بعض معاملات صرف کفار کو دکھا کر دھوکہ دینے کے لیے بھی کیے جاتے ہیں جو کہ یقینا کفر نہیں۔

 بالفرض اگر ایسا نہ بھی ہو، تو بھی انہیں اس وقت تک کافر نہیں کہا جاسکتا جب تک وہ اللہ کے حکم کے خلاف فیصلوں کو اپنے لیے بغیر تاویل کے جائز سمجھ لیں، جیسا کہ اوپر گذرا۔

صحیح مسلم ، کتاب الامارہ میں ایسی احادیث موجود ہیں جن سے ثابت ہے کہ بدترین قسم کے ظالم حکمران آئیں گے پھر بھی انکی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، حیرت ہے دور حاضر کے خوارج انکی اطاعت تو دور کی بات ہیں انکو مسلمان ہی نہیں سمجھتے، حالانکہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر کافر حکمران آنے والے ہوتے تو شریعت میں اسکا اشارہ موجود ہوتا بلکہ ابن ماجہ کی حسن حدیث میں ان حکمرانوں کا بھی ذکر ہے جو کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتے ہونگے لیکن پھر بھی انہیں کافر نہیں کہا گیا، چنانچہ حدیث میں آتا ہے

وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَيَتَخَيَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ۔

جب  حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دے گا۔ (ابن ماجہ: 4019)۔

یہ حدیث انکے دلائل پر بالکل واضح رد ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ غیر اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے علاوہ کسی اور کے قانون سے فیصلے کرنے کا مسئلہ تقریبا گذشتہ پچاس سالوں سے خوارج کے ساتھ معرکۃ الآراء بنا ہوا ہے ، جس پر الحمد للہ سلفی علماء نے خوارج کو بار بار دھول چٹائی ہیں، لیکن ابھی بہت سے نام نہاد سلفیوں میں اس کے جراثیم موجود ہے، اور ان جراثیموں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنے آپ کو سلفی کہنے والے حضرات اپنے نظریات جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی، اخوان المسلمین، حزب التحریر وغیرہ جیسی جماعتوں اور انکے فارغ مفکرین سےہی کیوں لیتے ہیں؟

اللہ تعالی ہم سب کو حق بات قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین