حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں غلطی کرتی ہیں

4-اقتدار چھیننا

جن دینی تحریکوں پر اقتدار کا نشہ سوار ہے وہ پہلے سے برسرِاقتدار حکومتوں کو ہر طریقے سے ختم کرنے کے آرزو مند رہتی ہیں۔اور موقع کی تلاش میں رہتی ہیں کہ ان سے اقتدار چھینا جائے۔ اس کے لیے وہ برسر اقتدار پارٹیوں کے کمزور پہلو تلاش کرکے ان کے خلاف عوام کو  بھڑکاتی ہیں۔ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں کہ برسرِاقتدار پارٹیوں میں کمزوریاں نہیں ہوتیں، یہاں تو یہ بتانا ہے کہ آیا شریعت میں اس بات کا جواز ہے کہ برسر ِاقتدار مسلمان حکمرانوں سے ان کا اقتدار بزور اور زبردستی چھینا جائے۔ جو لوگ دین نہیں جانتے ان کی بات تو علیحدہ ہے۔ دین داری کے دعوے داروں اور ملک میں اسلام کو رائج کرنے کا ادّعا رکھنے والوں کو اس کی کوئی دلیل تو مہیا کرنی چاہئے۔وہ ایسی کوئی آیت یا حدیث تو لائیں جس میں مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھیننے کی تعلیم ہو۔ ان کے سامنے یہ بات نہیں کہ فرعون کے ہاتھوں ظلم میں پسنے والے بنی اسرائیل کو فرعون سے اقتدار چھیننے کے بجائے اس کا علاقہ چھوڑنے کا حکم ہوا۔

انہی تحریکوں کے پروردہ ایک شخص سے راقم کی بات ہوئی تو اس نے واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ اللہ نے نہیں فرمایا کہ ظالموں سے اقتدار چھینو۔ میں نے کہا یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ تو وہ صاحب ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ اگر کوئی یہ دلیل پیش کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔”

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو”۔

(النسآء : 4)

  لہٰذا ہمیں نااہل لوگوں سے چھین کر حکومت اس کے اہل کے سپرد کرنی چاہیے۔ تو یہاں دو باتیں عرض ہیں کہ حکومت چھیننے کا یہاں ذکرنہیں ، دوسرے یہ کہ جو خود اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے شریعت کی نگاہ میں وہ خود ہی نااہل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے ہی ایک شخص کو نااہل قراردیا تھا۔ حوالہ آرہا ہے۔

5- حصول ِ اقتدار کا قرآن مجید میں کوئی حکم ہے؟

قرآن مجید اپنے ماننے والوں کو جن جن احکامات پر چلنے یا جن باتوں سے رکنے کا حکم دیتا ہے اور بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے  اسے صراحت  سے یا اشاروں سے سمجھا دیتا ہے مگر ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ بات لکھتا ہوں کہ حصولِ اقتدار کا حکم نہ صراحتًامجھے ملا ہے اور نہ اشارتاً۔ اگر حصول ِاقتدار اتناہی اہم فریضہ ہوتا ، جیسا کہ بعض جماعتوں نے  سمجھ رکھا ہے ، تو قرآن مجید میں اسکا حکم ہونا چاہیے تھا کہ اقتدار حاصل کرو۔

قرآم مجید میں ایسی وضاحتیں تو موجود ہیں کہ “جنہیں ہم زمین میں اقتدار دیتے ہیں تو  وہ تماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ کا نظام قائم کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

( الحج : 41)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جسے اللہ اپنی خوشنودی سے اقتدار نصیب فرمائے، ان کی یہ خصوسیات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ خوشنودی کا لفظ یہاں اس لیے استعمال کیا کہ فرعون ، ہامان ، نمرود کوبھی اقتدار   اللہ نے دیا تھا ور آج کے کافرون کو بھی دیتا ہےمگر اس میں اسکی رضا شامل نہیں ہوتی۔

زیادہ سے زیادہ ایسی تحریکوں کے پاس ایک یہ آیت اپنے موضوع پر موجود ہے کہ:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ۔

“تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے”۔

(آل عمران : 104)

یہاں “امۃ ” کا لفظ آیا ہے جس کے معنی لوگوں کے بھی ہیں۔  اگر جماعت مراد ہو بھی تو نبی کریم ﷺ کو ایک علیحدہ جماعت بنا کر اس کا ایک علیحدہ امیر مقرر کردینا چاہئے تھا جیسا کہ آج یہ لوگ سمجھتے ہیں۔  تیسرےیہ کہ جماعت اور حکومت دو علیحدہ علیحدہ اصطلاحیں ہیں۔ جماعت کا ہونا اور بات ہے اور حکومت کا اختیار اور بات ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے حکومت ضروری نہیں۔ ہر کوئی اپنی سطح پر یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ اگر یہ فریضہ حکومت ملنے کے بعد ہی ادا ہونا ہوتا تو قرآن مجید میں پہلے حکومت کےحصول کا ذکر ہوتا۔ اسی طرح جو جماعتیں اس آیت سے استدلال کرتی ہیں ان کے پاس حکومت نہیں ہے اور وہ اپنے طور پر یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ اس فریضے کو بڑے اچھے انداز سے نبھا رہے ہیں۔

اسی طرح ایسے لوگوں کی زبانوں پر علامہ اقبال کا ایک شعر بھی گردش کرتا ہے:

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو—-جدا ہودیں سیاست سے رہ جائی ہے چنگیزی

اور اس شعر کو وہ ایک شرعی حکم سمجھ کر اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی بھر پور کوکشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ شعر تو نظام حکومت اور سیاست سےدین کو الگ رکھنے کی روش کی مذمت میں ہے  کہ دین کو الگ رکھنے سے ہر نظام ظلم و ستم اور فساد سے عبارت ہوتا ہے۔ جبکہ قران و سنت اور ہماری سنہری تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست کا آغاز اقتدار ملنے کے بعد ہوتا ہے۔ حصول اقتدار کے لیے نہیں۔ اور ہماری بات اقتدار کےحصول کے متعلق چل رہی ہے۔ جسے اللہ اقتدار دے دے اسے کیا کرنا چاہیے یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اگر قرآن مجید میں یا حدیث نبوی میں حکومت اور اقتدار حاصل کرنے کا مسلمانوں کو کوئی حکم دیا گیا ہے تو ازراہ کرم ہمیں  بھی اس سے آگاہ کیا جائے تاکہ اپنے محترم قارئین تک ان نصوص کو پہنچایا جائے اور ان پر عمل درآمد ہو۔ حدیث میں تو عامل یا گورنر مقرر کرنے کی حد تک بھی کسی کی ذاتی چاہت یا شوق کو پسند نہیں کیا گیا چہ جائیکہ کسی کی چاہت کے مطابق اسے کسی ملک کا اقتدار سونپ دیا جائے۔ واضح حدیث ہے:

“لن نستعمل علی عملنا من ارادہ”۔

 “ہم اپنے امور پر اسے ہرگز عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ رکھتا ہے”۔

( صحیح  مسلم : 1733)

 دوسری حدیث  میں ہے:

  “انا واللہ لانولی علٰی عملنا ھٰذا أحداً سألہ أو حرص علیہ” ۔

“اللہ کی قسم ! بے شک ہم اس کارِ حکومت پر کسی کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کو بھی نہیں اس کی حرص رکھتا ہے”۔

(صحیح مسلم : 1733)

ایک اور حدیث میں فرمایا:

 “فا نک ان اعطیتھا عن مسالہ وکلت الیھا ون اعطیتھا عن غیر مسالہ اعنت علیھا”۔

 ” بے شک اگر تمہیں یہ امارت تمہارے مطالبے پر دی گئی تو تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر یہ امارت تمہارے مطالبے کے بغیر تمہیں دی گئی تو اس پر ( اللہ کی طرف سے) تمہاری مدد بھی کی جائے گی”۔

(صحیح مسلم : 1823)

6- حصول اقتدار کے ہنگامی طریقے

اس طبقے اور پہلے طبقے میں فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دیتاہے جبکہ پہلا  طبقہ انہیں ظالم ، فاسق اور نااہل تو قرار دیتا ہےمگر کافر نہیں۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ اس نظام کو ناجائز سمجھتا ہے جس سے  حکومت حاصل کی جائے ، اس لیے وہ کسی اور طریقے سے حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ پہلا طبقہ نظام جمہوریت کو درست سمجھتے ہوئے اسی کے تحت حکومت  کا متمنی ہے۔ مگر پہلے طبقے کی طرح اس دوسرے طبقے کا منہج اور طریقہ حصول اقتدار شرعی طور  پر محلِّ نظر ہے۔ اور گزشتہ صفحات میں کی گئی وضاحتیں اس کے لیے کافی ہیں مگر ایک مزید خامی جو اس طبقے کے اندر ہے وہ ہے اپنے اقتدار کے لئے بہت  سے مسلمانوں اور بلادِ اسلامیہ کو فتنہ وفساد سے دوچار کرنا ، وہاں کے باسیوں کے قتلِ عام کو روا سمجھنا ، ان پر حملے کرنا، حکومتوں کو نشانہ بنانا۔ یہ شریعتِ اسلامیہ میں بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔

اپنی سرگرمیں اور کارروائیوں کےلیے اس طبقے کا دامن بھی شرعی دلائل سے یکسر خالی ہے۔ پہلے طبقے کی طرح انہیں بھی حصولِ اقتدار کی منزل درکا ہے، اس سفر میں خواہ ہزاروں انسانوں کا خون ان کے سر آئے اور بلادِ اسلامیۃ شروفساد کی آماجگاہ بنے رہیں۔ پھر وہ فساد اور فسادیوں کے متعلق قرآن مجید کے تبصرے سے یکسر نابلد نظر آتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے؟

7-کیا پھر مسلمانوں کو اجتماعی یا انفرادی سطح پر ایسی کوئی کوشش کرنی چاہئے؟

اگر پہلے طبقے کے اقتدار کی چاہت اور اس کےحصول کا  طریقہ بھی درست نہیں اور دوسرے طبقے کا بھی درست نہیں کیا موجودہ مسلمانوں کو اس کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے؟ تیسرے طبقے کی طرح بس اپنے اپنے دائرہ میں مصروف رہنا چاہئے۔ نہیں ، نہیں۔

 مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ دین پر عمل ، دین کو غالب کرنے کی کوشش کریں، اور ہر مرحلے اور میدان میں اور نظریے اور سوچ اور فکر میں اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول کو اپنا شعار بنائیں اور اپنی اپنی سطح تک اس کی تنفیذ کی کوشش کریں۔۔۔۔ اس طرح ایک صالح معاشرہ قائم ہوگا اور پھر اللہ جسے چاہے گا اقتدار کی ذمہ داری سونپ دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی مکہ مکرمہ میں حکومت کی پیش کش کو ٹھکردایا تھا اور ساری توجہ لوگوں کے ذہن بدلنے پر دی تھی بالآخر بڑے ہی غیر محسوس انداز سے اللہ نے اہل ایمان کو مدینہ منورہ کے  اقتدار سے نوازا اور رفتہ رفتہ یہ پھیلتا ہی چلا گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اقتدار دینے کو اپنے ذمے لیا ہے۔

موجودہ اکثر  مسلمانوں سے یہ کام ہوتے نہیں ۔ یہ مستقل نوعیت کے کام ہیں۔ اس راہ میں مسلکوں اور جماعتوں کے بت پاش پاش ہوتے ہیں، کریڈٹ جماعتوں کے بجائے اسلام کو جاتا ہے۔اس لیے ہم ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ

الا ماشاء اللہ سب مسلمان ہی اپنی اپنی جماعت کو ترقی دینے میں مگن  ہیں اور جس نے جس تحریک  میں آنکھ کھولی ہے اور پرورش پائی ہے وہ اس کے نظریات سے سر مو انحراف کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اور اسلام ایک طرف کھڑا نظر آرہا ہے۔

یہاں ایک اور سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا اسلام نے حکومت سازی کے اتنے اہم مسئلے پر روشنی نہیں ڈالی ؟

 اسکا جواب آئندہ  مضمون میں دیا جائے گا ۔(ان شا ء اللہ)




حصول-اقتدار-کا-قرآنی-تصور-حصہ-اول

حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں  غلطی کرتی ہیں

حصول-اقتدار-کا-قرآنی-تصور-حصہ-اول

حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں  غلطی کرتی ہیں

حصول اقتدار کے حوالے سے موجودہ دور میں عالمی سطح پر مسلم دینی جماعتوں اور تحریکوں کے چار رجحانات نظر آتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو اپنی تمام دینی اور جماعتی سرگرمیوں کا محور حصولِ اقتدار کو سمجھتی ہیں۔ ان کی ہر کاوش اور کوشش یہاں تک کہ دروسِ قرآن اور تعلیمِ قرآن کا مطلب بھی یہ نظر آتا ہے کہ اقتدار اللہ کے نیک بندوں کے پاس آنا چاہیے۔ اور پھر وہ اپنے آپ کو اعلیٰ پائے کے نیک ، متقی اور باصلاحیت لوگ سمجھ کر زندگی اور اسکا ایک ایک لمحہ حصولِ اقتدار کی خاطر گزار دیتے ہیں۔

 انکی کوشش یہ ہے کہ مغرب کا جو نظامِ جمہوریت چلا آرہا ہے ،اسی کے تحت حکومت اور اقتدار حاصل کیا جائے۔

دوسرا دینی طبقہ وہ ہے  جو حصولِ اقتدار کی کوشش کرتا ہے مگر وہ موجودہ نظامِ جمہوریت کو درست نہیں سمجھتا اور وہ جمہوریت کے علاوہ کسی اور طریقے سے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس طریقے کو خلافت، ملوکیت یا جمہوریت کسی نظامِ حکومت سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔

تیسرا دینی طبقہ وہ ہے جو اقتدار کے حصول کی کوشش کرتا ہےاور نہ ان کے اہداف و مقاصد میں ایسی کوئی بات ہے اور نہ ہی ان  کے منشور میں یہ بات شامل ہے۔وہ بس اپنے آپ میں مگن ہیں۔اپنے اپنے نظریات خواہ   وہ درست ہو یا غلط، ان کے پرچار کےلئے وہ کوشاں ہیں، اسی کے لئے وہ جیتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض کی طرف سے کبھی کبھی اقتدار کے حصول کی کوشش محسوس ہوتی ہے یا انفرادی طور پر ایسے کئی رجحانات سامنے آتے ہیں۔جیسے ہمارے ہاں کی تبلیغی جماعت ہے اور یہ  عالمی سطح کی ایک جماعت ہے، یا دعوتِ اسلامی ہے۔اسی طرح بعض دیگر دینی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں۔

اس کے علاوہ کئی دینی جماعتیں خلافت کے لئے زمین ہموار اور ماحول سازگار بنانے کے لئے کوشاں ہیں ۔

تعصب سے بالا اور قرآن فہمی کا ذوق رکھنے والے قارئین ! ذیل میں ہم حصول ِاقتدار کا قرآنی منشور پیش کرتے ہیں ۔ اور آپ کو دعوتِ فکر دیتے ہیں۔ پہلے کی طرح اب بھی ہیں اپنا موقف زبردستی منوانے کا شوق نہیں۔ اختلاف رکھنے کا حق ہر ایک کے پا محفوظ ہے۔ تو لیجیے قرآن میں حصولِ اقتدارکی راہ نمائیاں ۔

قرآن مجید نے لوگوں کی ذہن سازی کی ہے کہ اقتدار کا مالک اللہ ہے۔

1-اقتدار کا مالک اللہ ہے ، وہ جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے

اس ضمن میں قرآن مجید نے بادشاہت کو بھی اللہ کی عنایت قرار دیا ہے، خلافت کو بھی اور وزارت کو بھی۔

(الف) بادشاہت اللہ کی طرف سے ہے:

 اس کے کئی ایک دلائل قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں:

1قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ ۔

“کہہ دیجیے اے بادشاہت کےمالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہت چھین لیتا ہے”۔

(آل عمران : 26)

2-إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا.

“بے شک اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے”۔

(البقرۃ : 247)

3- وَاٰتٰهُ اللّٰهُ المُلكَ.

“اور اللہ تعالیٰ نے انہیں (داود علیہ السلام کو ) بادشاہت دی”۔

( البقرۃ:  251)

4-یوسف علیہ السلام کی دعا:

رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ.

“میرے رب ! تحقیق تو نے مجھے بادشاہت میں سےکچھ نوازا۔”

(یوسف:  101)

5-بنی اسرائیل کے باشاہوں کو بھی اللہ نے بادشاہت دی جیسا  کہ موسیٰ علیہ السلام  نے اپنی قوم سے کہا :

اذْکُرُوْا نِعْمَۃ اللّٰہ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآء ۔

“اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم میں انبیاء بھی بنائے اور تمہیں بادشاہ بھی بنایا”۔

(المائدہ:  20)

6-ذولقرنین کے متعلق فرمایا:

إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ
“بے شک ہم نے  اسے زمین میں اقتدار دیا”۔

 (الکھف:  84)

7- بادشاہت اللہ کی طرف سے ہے حتیٰ کہ کسی کافر اور فاسق کوبھی بادشاہت ملتی ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ہے۔ نمرود  کے بارے میں اللہ نے فرمایا:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ.
“کیا آپ نے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا جس نے ابراہیم علیہ السلام  سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے بادشاہت دی”۔

 (البقرۃ:  258)

یہ علیحدہ بات ہے کہ ایسے لوگوں  کو اقتدار دینے میں اللہ کیی رضا شامل نہیں ہوتی محض ارادہ ہوتا ہے۔

(ب) خلافت بھی اللہ کی طرف سے ہے:

 فرمان باری تعالیٰ ہے :

وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ

“اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان والوں اور عمل صالح اختیار کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں خلافت دے گا جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلافت دی تھی “۔

(النور:  55)

(ج) وزارت بھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے:

سیدنا یوسف علیہ السلام کو مصر کی وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا گیا۔ تیرھویں پارے کے  آغاز میں اس کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 وكَذٰلِكَ مَكَّـنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِ .
” اور اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کوزمین (مصر ) میں اقتدار دیا”۔

( یوسف:  56)

مذکورہ آیا ت اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں کہ زمین کی بادشاہت ،خلافت یا اقتدرا و ر وزارت اللہ  کے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ کسی کا اقتدار  یا حکومت اس کی رضا سے ہوتا ہے اور کسی کا اقتدار محض اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور اس میں اسکی رضا شامل نہیں ہوتی۔

اگلا سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے تو کیا بندوں کو کوشش  نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اقتدار لیں۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ:

 نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَـهُـمْ مَّعِيْشَتَـهُـمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا.

” ہم نے دنیا کی زندگی  میں ان کے مابین روزی تقسیم کی ہے”۔

( الزخرف:  32)

تو کیا بندوں کو حق حاصل نہیں کہ وہ روزی حاصل کرنے کے لئے جستجو کریں؟ اسی طرح اقتدار اللہ تعالیٰ دیتا ہے تو بندوں کو اقتدار لینے بلکہ چھیننے کا حق حاصل نہیں؟ تو آئیے یہ سمجھنے کو کوشش کرتے ہیں۔

2- اللہ سے اقتدار لینے کے لئے بندوں کی کوشش

سابقہ مثال کا جواب یہ ہے کہ روزی اللہ تعالیٰ نے تقسیم کی ہے اور ساتھ لوگوں کوحکم بھی دیا ہے کہ وہ روزی تلاش بھی کریں۔ اور اللہ کے برگزیدہ بندے بھی محنت کرکے روزی تلاش کرتے رہے۔ مگر  اقتدار لینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا اور پورے قرآن  مجید میں اللہ تعالیٰ نے جن جن ہستیوں کو اقتدار دینے کا تذکرہ کیا ہے ان میں کسی کی طر ف سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کا تذکرہ نہیں فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے جن انبیائے کرام علیھم السلام کو بادشاہت سے نوازا یا وزارت نصیب فرمائی، اسی طرح اس امت میں جن کو خلافت سے نوازا گیا انہوں اپنے طور پر ان عہدوں کی کوئی کمپین چلائی؟ اوڑھنا بچھونا حصول اقتدار کو بنایا؟ اپنے آپ کو اس کا واحد اہل ثابت کرنے کی کوشش کی۔۔؟ نہیں، ان میں سے کسی نے بھی ایسا کچھ نہیں کیا۔

اگر کوئی شخص کہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے خود کہا تھا کہ :

اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ.

“مجھے سرزمین (مصر) کے خزانوں پر مامور کردیں”۔

(یوسف:  55)

 تو ہم کہیں گے کہ کیا یوسف علیہ السلام نے وزارتِ مصر ملنے سے پہلے کی تمام قربانیاں مصر کے اقتدار کے لئے دی تھیں۔کیا ان کے حاشیہِ خیال میں بھی ایسی بات تھی۔ انھوں نے اللہ کا خوف دل میں رکھا اور اس کے احکام کی بجا آور ی کی اور ایک دن ایسا آیا کہ بادشاہ نے خود یہ اظہار کیا:

ائْتُـوْنِىْ بِه اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِىْ.

“انہیں (یوسف علیہ السلام) کو میرے پاس لاؤ، میں انہیں خاص الخاص اپنے لئے  رکھنا چاہتا ہوں”۔

( یوسف:  54)

جب بادشاہ نے یہ اظہار کیا تواس وقت یوسف علیہ السلام  نے خواہش کا اظہار کیا کہ (اگر اصلاح مطلوب ہے تو) مجھے سرزمین مصر کے خزانوں پر مامور کردیں۔

سیدنا یوسف علیہ السلام  کے علاوہ پہلے عنوان کے تحت جن جن کا ذکر ہوا ہے ان میں سے کسی کی حصول اقتدار  کے لیے کوئی کوشش سامنے نہیں آئی ۔ طالوت ہوں کہ داؤد علیہ السلام ، بنی اسرائی کے بادشاہ ہوں یا رحمت عالم ﷺ  کے خلفاء ، آپ کو ان کی طرف سے حصول اقتدارکی خاطر دعوتیں کرنے ، سرگرمیاں دکھانے، افطار ڈنر دینے، لوگوں سے اس سلسلے میں میل جول رکھنے کا شوق تھا نہ ان کا یہ مطمح نظر تھا۔

دراصل  وہ اللہ کے احکام سے یہی سمجھے تھے کہ خلافت و حکومت اللہ کے اختیا رمیں ہے ۔ وہ جسے چاہے گا یہ سونپ دے گا ہمیں بس اس کے احکام ماننے ہیں۔ اگر حصول اقتدار کے پیش نظر کوئی سرگرمیاں  اختیار کی ہوتیں، اس کی خاطر قوم سےمکالمے کیے ہوتے تو ان کا کچھ نہ کچھ حصہ تو ضرور اللہ تعالیٰ قراآں مجید میں بیان فرمادیتا مگر اقتدار سے نوازے جانے والے انبیاء  کرام علیھم السلام اور بعض دیگر شخصیات کے واقعات اور ان ک مختلف پہلوؤں میں حصول اقتدار کی سرگرمیوں کا کوئی اشارہ تک محسوس نہیں ہوتا۔

ہاں! سیدنا سلیمان علیہ السلام کی دعا ضرور تھی کہ :

 وَهَبْ لِـىْ مُلْكًا لَّا يَنْبَغِىْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِىْ.

” اور مجھ ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کے لائق نہ ہو”۔  

:  35)

 یاد رہے ! یہ دعا بھی حالت اقتدار میں مانگی کئی تھی نہ کہ اقتدار سے پہلے ۔ یہ دعا تو یہ درس دیتی ہے کہ اقتدار اللہ کے پاس ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اقتدار ظالموں کے پاس ہے  جبکہ یہ ہمارے پاس ہونا چاہئے تو وہ یہ دعا کرے  کہ اللہ! ہمیں یہاں کا اقتدار نصیب فرمادے۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو خلافت عطا ہوئی ۔ کوئی بھی صاحب علم وتحقیق کیا یہ ثابت کرسکتا ہے کہ انہوں نے خلافت کے حصول کے لئے کوئی مہم  جوئی کی تھی یا رفاقتِ رسول ﷺ کی سعادت وہ حصول   اقتدار کے لئے کرتے رہے؟ میں اپنے مطالعے کی حد تک کہتا ہوں کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے جمع ہونے اورسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو خلافت ملنے سے قبل خود سیدنا  ابوبکر رضی اللہ کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ انہیں خلیفہ بننا ہے۔ وہ اس کے لئے مہم جوئی کیا کرتے!!  جس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلافت  ملی  وہ مکمل واقعہ بول کر یہ بتارہا ہے کہ انصارو مہاجرین کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ چند ہی لمحوں بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسند خلاف پر جلوہ افروز ہوں گے۔یہ صورت حال دیکھ کر واقعی اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں خلافت سے نواز کر اپنا وعدہ پورا کردیا۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ جماعتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے کتنے ہی امیر حکومت کے لئے جستجو کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ایک امیر نے جہاںسرگرمیاں چھوڑی تھیں، دوسرے نے وہی سے آکر آغاز کیا۔ اپنے آپ کو نامزد کیا، اہل ثابت کرنے کی کوشش کی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی خلافت ملنے کا اندازہ نہ تھا ور اسی طرح بعد والے خلفاء  رضی للہ عنھم کو ۔ یہاں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ کی خلافت کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔  بڑی مشکل سے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خلافت کی ذمہ داری اٹھانے پر مجبور کیاگیا۔ اس کے باوجود جب وہ خطبہ خلافت دینے کے لئے منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو کہنے لگے:  لوگوں!! حکومت کے معاملے میں میری رائے کے بغیر ہی مجھے اس آزمائش سے دوچار کیا گیا ہے،  نہ میرا یسا کوئی مطالبہ تھا ، اور نہ  مسلمانوں کا مشور ہ تھا۔ اور میں نے جو آپ سے بیعت لی ہے اسے ختم کرتا ہوں، لہذا تم اپنے لیے کسی اور کو پسند کرلو۔ یہ سن کر موجود تمام لوگ یکبارگی پکارنے لگے: امیر المومنین! ہم نے آپ کو اختیا رکیا ہے، ہم آپ پر راضی ہیں۔ خیروبرکت سے آپ ہمارے معاملے کے والی بنیں۔ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہاللہ نے محسوس کیا کہ اس کے بغیر چارہ نہیں  ہے ، تب انھوں بات آگے بڑھائی۔۔۔۔

(تاریخ دمشق )357:45

ایک طرف یہ کردار ہے اور دوسری طرف یہ دینی تحریکوں کے لوگ ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ نظام حکومت کو خلفائے راشدین کےمطابق چلانے کے دعویدار بھی ہیں۔ اور اپنی تقریر و تحریر کو انھی کے کارناموں سے مزیّن کرتے ہیں۔

مگر جن لوگوں نے حالیہ دینی تحریکوں کے آنگن میں آنکھ کھولی ہے وہ کبھی بھی ان حقائق کو ماننے کے لئے تیا رنہیں ہیں۔ وہ تو بس ایک ہی بات کہتے ہیں اور کرتے ہیں کہ اسلام کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ اقتدار ، اقتدار اور بس اقتدار۔۔۔ اور اس کے اہل ہیں بھی بس وہ خود، وہی اور وہی۔

جب راقم نے بعض تحریکوں اور ان کے منشور کو اسی ایک نقطے پر مرکوز پایا، حصول اقتدار کی ریلیوں میں گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا اور اس کی خاطر کفن پہنتے دیکھا تو اس پہلو سے قرآن و سنت کا مطالعہ کیا اور اسی کا ایک  مختصر خلاصہ پیش کیا جارہا ہے۔

3- حصول اقتدار کے لئے ہر ناجائز طریقہ بھی جائز ٹھہرا

جن جماعتوں یا تحریکوں نے حصول اقتدار ہی کو اپنی منزل سمجھا ہے وہ اس امر کو بھی لازم نہیں سجھتیں کہ حصول اقتدار کا طریقہ بھی جائز ہونا چاہئے۔انہیں لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کےلئے جو کچھ کرنا پڑے وہ اس کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ وہ اتحاد کے دلفریب نعروں کی آڑ میں حق کے اظہار سے باز رہتے ہیں۔ وہ لوگوں سے یہ تو پوچھتے ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ  بریلوی تھے، دیوبندی تھے، شیعہ تھے، یا اہلحدیث اور یہ پوچھ کر یہ  بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ ان میں سے کچھ بھی نہیں تھے لیکن خود اپنی جماعت کو مسلک کی سطح پر لے جاتے ہیں۔۔۔۔ اور لوگوں سے یہ نہیں پوچھتے کہ مکی دور میں رسول اکرم ﷺ نے اقتدار چھیننے کی کتنی تحریکیں بنائی تھیں؟ آپ ﷺ نے سیاسی استحکام کے لئے مسلمانوں کو کتنے گروہوں میں تقسیم کیا تھا کہ ہر کوئی علیحدہ علیحدہ امیر بنا کر ساری زندگی اپنی جماعت کے گرد ہی گھومتا رہے۔ اسی طرح ایسی جماعتیں غیر اسلامی طریقوں سے اسلام کا غلبہ چاہتی ہیں۔  دراصل ایسی جماعتیں اسلام کا نام لے کر عوام کو دھوکا دینا چاہتی ہیں۔

جاری ہے…..




داعش سے دعوتِ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا اعلان براءت

 داعش سے  منہج نبویﷺ کا اعلان براءت

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

دور حاضر میں خارجی تنظیم داعش کے ظہور کے بعددشمنوں نے یہ سازش شروع کر دی کہ داعش ، محمد بن عبد الوھاب ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی پیرو کار ہے ، انہیں کے مسلک کو اپنی دلیل بناتے ہیں لہذا یہ وہی لوگ ہیں ، ان کا عقیدہ و منہج وہی امام اہل السنہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کے سلفی عقیدہ و منہج جیسا ہے ۔ 

لیکن میں کہتا ہوں کہ ان دونوں کے منہج کو ایک قرار دینا  مچھلی اور سانڈے کو ایک قرار دینے کے مترادف  ہے۔

لیکن چونکہ کئی خارجی فرقوں  نے اس چیز  کا دعویٰ کیا ہے کہ ہماری  دعوت اور محمد بن عبد الوہاب  رحمہ اللہ  کی دعوت ایک ہے۔

تو میں نے مناسب سمجھا کہ میں ان کے اس دعوے کا پول کھولوں،چنانچہ  میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نے یہی دعویٰ کیا ہے، اور اس نے  امام محمد بن عبدالوھاب کی کتاب “الدررالسنیۃ “(الدررالسنیۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب کے اور ان کے شاگردوں  کے ان رسائل کا مجموعہ ہے کہ جس میں توحید کا بیان اور غلو فی التکفیر کی ممانعت  ہے) سے کچھ مقامات کو اپنی بات کے دفاع میں ذکر کیا ہے  تو  میں نے اس کا بغور مطالعہ کیا تو مجھے اس کے تمام دعوے جھوٹ پر مبنی دکھائی دیے ۔لیکن چونکہ ان کا یہ دعویٰ ہے  تو میں ان سے کچھ سوالات کرنا چاہوں گا،چنانچہ اگر وہ ان کے صحیح جواب دیں تو ہم ان کے اس دعوے کو صحیح مان لیں گے۔ان شاء اللہ 

میں ان سے  ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ “داعش” (دولت الاسلامیہ فی العراق والشام) انہوں نے امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے اس قول سے  لیا ہے کہ:

معین چیز کی تکفیر نہیں کی جائے گی مگر جب اس پر حجت قائم ہو جائے اور حجت یہ ہے کہ  اس کے پاس اللہ کاکلام پہنچ جائے اور اس کا کوئی عذر بھی نہ ہو تو وہ کافر ہے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہم اسی  شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو اللہ کی ہیئت کے بارے میں شرک کرے حالانکہ اس کیلئے بطلان شرک پر حجت واضح ہو چکی ہو۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہم ہر اس شخص کی تکفیر کرتے ہیں  کہ جو اسلام سے پھر جائے اور لوگوں کو اس سے روکے اور اسی طرح جو بندہ بتوں کی عبادت کرے حالانکہ اس کو اس بات کا علم ہو کہ  یہ مشرکوں کا کام اور دین ہے،اور اس کو لوگوں کیلئے مزین کر کے پیش کرے تو یہ وہ شخص ہے کہ جس کی ہم تکفیر کرتے ہیں ، اور ہر عالم بھی ان کو کافر قرار دیتا ہے،مگر جس کے دل میں کینہ و عداوت ہو یا وہ جاہل ہو۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے: جب کوئی شخص جہالت کی وجہ سےکافروں اور مشرکوں والا عمل کرے  یا کسی نے اس کو تنبیہ نہ کی ہو تو ہم اس شخص کو کافر قرار نہیں دیتے یہاں تک کہ  کوئی اس پر حجت قائم کرے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے: جب وہ انسان جو اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتا ہو لیکن اس کے کچھ اعمال کفریہ ہوں یا اس کا عقیدہ کفریہ ہو  اور اس کی وجہ یہ ہو کہ  وہ دینی تعلیمات سےجاہل ہو تو  وہ ہمارے نزدیک کافر نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر کفر کا فتویٰ لگانے والا  اس پر اتمام حجت  نہ کردے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہر وہ شخص جس کے پاس قرآن پہنچ جائے(یعنی وہ اس کے اسرار و رموز اور احکام سے واقف ہو جائے) تو اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے،لیکن جاہل کا معاملہ اس کے بر عکس ہے کہ وہ اہل علم کا محتاج ہوتا ہے۔

نوٹ: یہاں ایک بات ملاحظہ فرمائیں  کہ سابقہ تمام اقوال  میں کچھ امام صاحب سے  ،منقول ہیں اور  بعض ان کے شاگردوں کے ہیں۔

یا داعشی  شاید اس قول سے استدلال کرتے ہیں:فتنوں اور غلبہ  جہالت کے زمانے میں کسی کی معین تکفیر کرنا جائز نہیں ہے  مگر جب اس پر حجت قائم کر دی جائے اور اس کیلئے سارے معاملے کو کھول کر بیان کر دیا جائے۔

یا  شاید یہ قول ہو:ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے سوائے اس کے کہ  جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرے  اور اس پر حجت قائم کر دی گئی ہو۔

یا یہ نص ہو : ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے مگر جس پر تمام علماء کرام جمع ہو جائیں۔

اور اسی طرح:ہم اسی تعریف کے بعد کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں ،جب وہ جان لے اور اس کا انکار کرے۔

یا یہ قول ہو سکتا ہے: ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے  مگر جو توحید کو جان لے پھر اس کی خلاف ورزی کرے  اور اس کو گالی دے اور خوارج کے مذہب پر چلے اور وہ شرک کو پہنچانتا ہو اور اس کو محبوب رکھتا ہو  اور لوگوں کو اس کی طرف بلاتا  اور رغبت دلاتا ہو  جب اس پر حجت قائم ہو جائے  تو وہ کافر ہے۔

ہو سکتا ہے یہ قول ہو : یہ مشرکین اور ان جیسے جو اولیاء اللہ کی عبادت کرتے ہیں ہم انکو کافر قرار دیتے ہیں بشرطیکہ ان پر حجت قائم کردی گئی ہو۔

تو یہ چند اقوال تھے لیکن اس کے علاوہ بھی  اس طرح کے کئی اقوال ہیں لیکن ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو اس خارجی نے الدررالسنیۃ اور آئمۃ السلف پر بہتان لگایا ہے اس کو کھول کر واضح کر سکیں۔

تو یہ کچھ ائمہ  جن میں امام محمد بن عبدالوھاب  انکے بیٹے اور انکے ساتھی، انکے شاگرد اور ان کے شاگردوں کے شاگرد حضرات شامل ہیں ،کے تکفیر کے متعلق  چند اقوال تھے۔

تو میرا سوال یہ ہے کہ  ان اقوال میں کہاں سے داعش کا منہج نکلتا ہے؟

یقیناً کوئی بھی محقق اور ذی شعور  آدمی ان کے اس دعوے کی تردید کرے گا۔

اورہاں  اگر کسی کے پاس اس حوالے سے کچھ ہو تو ہمیں بھی دکھائیں  تاکہ ہم بھی اس سے مستفید ہو سکیں لیکن حقیقت بات یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں بس امام صاحب کا نام لے کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانا ہے کونسا کسی نے تحقیق کرنی ہے بس نام استعمال کرو۔

لہٰذا اس سے  یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ داعش اور نبوی دعوت میں زمین و آسمان کے مثل فرق ہے ۔اس لئے داعش اور نبوی منہج کے درمیان فرق سمجھیں اور کفار اور خوارج کے اس جال سے بچنے کی کوشش کریں۔

اللہ آپ کا حامی وناصر ہو،آمین




حب الوطنی کے ردمیں غلو:

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!

کچھ لوگ تقوی اختیار کرنے میں غلو کا شکار ہیں اور اخلاص میں غلو کی وجہ سے بالخصوص القاعدہ اور داعش پاکستان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ جہاد کشمیر اس لیے درست نہیں کیونکہ یہ ملک کے لیے جہاد ہے جسے یہ “وطنیت” کہتے ہیں۔

یاد رکھیے!ہر چیز کے لیے اللہ تعالی نے ایک حد مقرر کر رکھی ہے اوراس حد سے آگے گزرنا اور اس میں غلو کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ملک کی طرف نسبت کرنا اور “دفاع پاکستان” کا نام لینا درست نہیں ۔
اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجیے کہ کسی بھی ملک کی محبت اور اس کی طرف نسبت کرنا اسلام کے مزاج کے بالکل خلاف نہیں ہے بلکہ بعض اوقات کسی وطن سے محبت کرنا مومنوں کا شیوہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام فطرت کے عین مطابق ہے۔
اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو وطن کی محبت ایک طبعی اور فطری چیز ہے جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے ،وطن سے محبت اور اس کی طرف نسبت کے حوالے سے قرآن و حدیث میں بہت سے شواہداور دلائل موجود ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْـهِـمْ اَنِ اقْتُلُـوٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَـعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْـهُـمْ

{النساء 66}

اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے۔
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالی نے جلا وطنی کو قتل کے برابر قرار دیا ہے ۔

[مفاتیح الغیب المعروف التفسیر الکبیر:15/515]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آرہے ہوتے اور مدینہ کے قریب پہنچ کر اس کی دیواریں نظر آنے لگتیں تو مدینہ کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے۔

[صحیح البخاری 1886]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وفی الحدیث دلالۃ علی فضل المدینۃ ،وعلی مشروعیۃ حب الوطن ،والحنین الیہ۔

[فتح الباری :3/621]

اس حدیث سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن سے محبت کی جاسکتی ہے۔
یہی بات امام عینی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “عمدۃ القاری” میں اور امام مبارکپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “تحفۃ الاحوذی” میں درج کی ہے۔
اسی طرح مکہ والوں کے مظالم سے تنگ ہوکر اور زخموں سے چور ہو کر اللہ تعالی کے حکم سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرمانے لگے تو مکہ کی طرف منہ کرکے آبدیدہ ہوکر کہنے لگے:
والله انک لخیر ارض الله، واحب ارض الله الی الله، ولولا اني اخرجت منک ما خرجت»

[ترمذي ۳۹۲۱]

اللہ کی قسم تو اللہ کی سب سے بہترین زمین ہے اور اللہ تعالی کی سب سے زیادہ پسندیدہ زمین ہے ،اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
کیا اس وقت مکہ دارالایمان تھا ؟
ہرگز نہیں ۔۔۔!
یہ حب الوطنی ہی تھی کہ 360 بتوں کا مرکز ہونے کے باوجود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسندیدہ قرار دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے تو فرمایا :
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْاَشَدَّ حُبًّا
یا اللہ مکہ کی طرح مدینے کو ہمارا محبوب بنا دے بلکہ مکہ سے زیادہ ) محبوب بنا دے

(بخاری ج1 ص{5654)

صحیح البخاری کو قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب سمجھا جاتا ہے اور اس کتاب کی نسبت بخارا شہر کی طرف ہے وہ بخارا کہ جہاں امام بخاری رحمہ اللہ کو پاوں رکھنے کی بھی اجازت تک نہ تھی ، پھر بھی بخارا کی طرف نسبت تھی ، امام ترمذی ، امام نسائی وغیرھم اکثر ائمہ کی اپنے ملکوں کی طرف نسبت تھی۔
تو کیا ہم پاکستان کی طرف اپنی نسبت نہیں کرسکتے ؟جس کے ہم پر کئی احسان ہیں، جس کا قرض ہمیں چکانا ہے، اس کے برعکس جو شخص اس نسبت کو برداشت نہیں کرتا وہ اپنے تقوی اور دین کے معاملے میں غلو کا شکار ہوچکا ہے ،اسے اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لینا ہوگا ۔
میں تو یہی کہتا ہوں :شرعی دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک و ملت کی طرف نسبت ، اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
امام ذھبی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی پسندیدہ چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
وكان يجبُ عائشة، ويحبُ أباها، ويحبّ أسامة، ويحب سبطيه، ويحب الخلواء والعسل، ويحبّ جُبل أحد، ويحب وطنه، ويحبّ الأنصار، إلى أشياء لا تُحصى مما لا يغني المؤمن عنها قط.

{سیر اعلام النبلاء للذھبی }

نبی صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، ان کے والد محترم ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے،اور اسامہ رضی اللہ عنہ سے اور اپنے دونوں نواسوں سے شدید محبت کرتےتھے، میٹھے اور شہد کو بھی پسند کرتے تھے ،جبل احداور اپنے وطن سے محبت کرتے تھے انصار سے بھی پیار کرتے تھے اور ہر اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ جن سے ایک مومن کبھی بھی بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک کی طرف نسبت اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
ہاں البتہ یہ وطنی محبت اسلام مخالف نہیں ہونی چاہیے بلکہ دین اسلام کی سر بلندی میں ممدو معاون ہونی چاہیے ،اگر دین اسلام اور ملک و ملت مقابل ہوں تواسلام کی خاطر ہر چیز قربان ہے۔
نوٹ:
ہم یہ بات دلائل صحیحہ کی روشنی میں ثابت کرچکے کہ وطن ، ریاست و ملک اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس سے محبت شعائر اسلام کی مخالفت نہیں بلکہ ایک مومن کیلئے دینی فریضہ ہے کہ وہ ہر اس ملک سے محبت کرے جو دین اسلام کے نام پر بنا ہو اور اس کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرے اس کے خلاف ہر پراپیگنڈے سے بچے تاکہ اس کا ایمان کامل رہے ۔
یہ وطن عزیز ملک خدادِ پاکستان اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ پر ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ان گنت قربانیاں دی گئی اور اس کے دستور میں یہ بات شامل کی گئی کہ اس کا قانون اسلام کے عین مطابق ہو گا ، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں لوگ بدلتے رہے ذہنیت میں تبدیلی آنے کی وجہ سے قوانین بھی بدل گئے لیکن آج بھی اس قانون میں یہ بات موجود ہے کہ جو شق اسلام مخالف قرار پائے گی اس کا نفاذ یہاں نہیں ہو گا ۔
کچھ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف بلکہ یہ کہنا غلو نہ ہو گا کہ اسلام کے لبادوں میں اسلام دشمن ممالک کی ایک گہری سازش اور مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ جو اسلام کے نام پرپیدا ہوا لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی اسلام اور اسلامی ممالک کو ہوا وہ ہے القاعدہ اور داعش اور ان کے نظریات پر چلنے والی کچھ اور تنظیمیں جنہوں نے مسلمان ممالک کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کے جواز کے فتوے دیئے اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا پھر مسلم علماء نے ان کا تعاقب کر کے ان کے شریعت مخالف نظریات اور نعروں سے لوگوں کو آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ دین نہیں بلکہ دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے نظریات ہیں۔

اب 2018میں انہوں نے کشمیر کا رخ کیا کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر ہندوستان نے غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے ،اور ہندوستان حکومت کی ہر کوشش رائیگاں چلی گئی کہ وہ کشمیروں کے دلوں سے پاکستان کی محبت کا قلع قمع کر سکیں بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ دن بہ دن ان کی محبت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور انشاءاللہ ہوتا رہے گا،جب ہندوستان حکومت زورِ بازو کشمیریوں کو جھکا نہ سکی تو اس نے اگلا داوٴ لگایا کہ ان کے نظریات کو خراب کردیا جائے تو اس نے اس پلان کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے “داعش” اور “القاعدہ” کا سہارا لیا ،القاعدہ نےکشمیر میں “ذاکرموسی” کو اپنے ساتھ ملایا اور “انصار غزوۃ الھند” کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھ کر ذاکر موسی کو اس کا امیر مقرر کردیا ۔
اور پھر یہ نعرہ بلند کیا کہ وطن کیلئے جہاد کرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے ،اور اس کی وضاحت یوں کی کہ کشمیری پاکستان کا نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان ” لگا کر جہاد کررہے ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے اور واضح کفر ہے ، اس لیے یہ نعرہ ختم کر کے صرف ہندوستان کے خلاف اپنے حقوق کے لیے جہاد کریں ۔
ہم اوپر شریعت اسلامیہ کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں کہ اسلامی ملک سے محبت کرنا ایک مومن کے لیے ضروری ہے،اسلامی ملک سے محبت اور اس کے ساتھ ملنے کے لیے کوشش، کوشش میں اگر جہاد کی بھی ضرورت پڑے تو کیا جاسکتا ہے اور یہ جہاد 100فیصد حقیقی اسلامی سنت نبوی کے عین مطابق جہاد ہو گا جیسا کہ تاریخ نبوی ﷺ سے اس کے کئی ایک شواہدملتے ہیں۔
ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں جب تک زندہ رکھے دین اسلام اور منہج نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنےوالا بنا کر زندہ رکھےاور ہمارا خاتمہ بالایمان ہو ،رب العالمین ہم سے راضی ہو اور ہم اس سے راضی ہوں ۔




داعش: ابتداء اور نظریاتی بنیادیں

داعش:ابتداء اور نظریاتی بنیادیں

شام اور عراق میں داعش ایک عسکریت پسند نام نہاد جہادی گروپ ہے جو خلافت کو دوبارہ بحال کرنے کا دعوی کرتا ہے اور فی الحال عراق و شام کی سرزمین پرظالمانہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔داعش کی ابتداکے بارے میں اردنی عسکریت پسند ابومصعب الزرقاوی کی طرز زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے پتہ لگایا جا سکتاہے۔زرقاوی مجرمانہ سوچ کا حامل شخص تھا، شراب بنانے،مخرب الاخلاق حرکات کے ارتکاب ،جنسی حملے کرنے کے حوالے سے جانا جاتاتھا اور وہ انہی جرائم پر گرفتا ر بھی ہوا۔ 1999ء میں جیل سے رہا ہونے کے بعد عسکریت پسند بن گیا اور افغانستان چلا آیا، جہاں اس کی ملاقات القاعدہ کے رہنماؤں سے ہوئی۔

افغانستان پرامریکی حملے کے بعد زرقاوی فرار ہو کر عراق آگیا اور اس نے عراق میں مسلح کارروائیاں شروع کر دیں، بے رحمی کے ساتھ لوگوں کو مارا،وہاں وہ ایک بے رحم شخص کے طور پر پہچانا جانے لگا۔اس کے گروپ نے عراق میں کئی خودکش حملے کئے۔ یہ گروپ غیرملکی فوج کی بجائے امدادی کارکنوں اور عراقی شہریوں کو نشانہ بنا نے کے حوالے سے بدنام تھا ۔زرقاوی گروپ نے اہل تشیع اور ان کی امام بارگاہوں کو بھی نشانہ بنایا ۔ان کے مقاصد میں امریکہ کی سربراہی میں برسر پیکار اتحادی فوج کو عراق سے نکالنا اور پھر عراق میں فرقہ وارانہ جنگ کا آغاز کرنااور افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود ساختہ اسلامک سٹیٹ کا قیام تھا۔

ستمبر 2004ء میں زرقاوی طویل مذاکرت کے بعد اسامہ بن لادن کی بیعت کر کے القاعدہ نیٹ ورک کا حصہ بن گیا۔ اسکے گروپ نے نام تبدیل کر کے’’ القاعدہ اِن عراق‘‘ رکھ لیا۔ تاہم دونوں گروپوں کے درمیان تعلق کشیدہ رہا کیونکہ القاعدہ بھی زرقاوی کو بہت زیادہ متشدد اور انتہاپسند سمجھتی تھی۔القاعدہ عرا ق میں اس گروپ کی طرف سے اہل تشیع کو بڑے پیمانے پربلاامتیا زنشانہ بنانے پر خوش نہ تھی جسے زرقاوی گروپ نے اپنے نام نہاد جہادی منصوبے کے لیے نقصان دہ جانا۔ اس حوالے سے 2005ء میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے زرقاوی کے نام خط لکھا اور خط میں ناراضگی کا اظہار کیا۔

جون 2006ء میں زرقاوی مارا گیا، اس کے بعد مصری بم ساز ابو ایوب المصری ’’القاعدہ اِن عراق‘‘ کا نیاامیر بنا۔

2006ء میں ہی المصری نے گروپ کو عراقی ظاہر کرنے کے لیے اس کا نام تبدیل کر کے ’’ اسلامک سٹیٹ اِن عراق‘‘ رکھ دیا اور عراق کے باسی ابو عمر البغدادی کو اس کا امیر مقرر کیا۔

’’اسلامک سٹیٹ ان عراق ‘‘نے تیزی سے خود کو وسعت دی۔ تاوان اور تیل کی سمگلنگ سے سالانہ لاکھوں ڈالر اکٹھے کئے۔دولت کی ریل پیل اور روزگار فراہم کرنے کے باوجود بھی یہ گروپ عراقی عوام کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ غیر ملکی جنگجؤوں کی شرکت اور پر تشدد نظریات کے باعث عراقی عوام اس گروپ سے دور رہے۔

اس پر تشدد ماحول نے عراقی سنیوں کو بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور صوبہ انبار میں سنیوں کی ’’تحریک سہاوا‘‘نے بھی پر پرزے نکالے۔ چونکہ ’’اسلامک سٹیٹ‘‘ تشدد سے کام لے رہی تھی جس کے باعث ’’تحریک سہاوا‘‘ مغربی اتحادی افواج کے ساتھ مل کر ’’ اسلامک سٹیٹ ان عراق‘‘ کے خلاف لڑی۔اسلامک سٹیٹ ظالمانہ اور پرتشدد حربوں کے باعث تنہاء ہوگئی اور اسے مختلف گروپوں کی طرف سے شدید مزاحمت اور ردّ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران تنظیم کے بہت سارے غیر ملکی جنگجو بھی مارے گئے اوراس کا اثرماند پڑ گیا ،جس کے نتیجے میں2007ء سے 2009ء کے عرصے میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کافی حد تک کم ہوگیا۔

2010ء میں دونوں المصری اور البغدادی(ابو عمر البغدادی) مارے گئے۔

2009 ء میں امریکی انخلا کے آغاز سے سہاوا تحریک کمزورہوئی اور اسلامک سٹیٹ کے نام نہاد جہادی ’’موصل‘‘ منتقل ہوگئے،جہاں گروپ کو از سر نو منظم کیا گیا۔

2010ء کے وسط میں ’’اسلامک سٹیٹ ‘‘عراقی حکومت سے زیادہ تنخواہیں دینے کی پوزیشن میں تھی اور اس نے’’تحریک سہاوا‘‘ کے ارکان کوبھی بھرتی کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران گروپ نے اسلامک سٹیٹ منصوبے کو جائز ثابت کرنے کیلئے ایک بھرپور پراپیگنڈا مہم کا بھی آغاز کیا ۔

2010ء میں ابو عمر البغدادی کے مرنے کے بعد ابو بکر البغدادی نے اس کی جگہ لے لی۔ 2011-12ء کے دوران اسلامک سٹیٹ نے خود کو اہل تشیع والے جنوبی عراق اور کرد علاقوں تک وسعت دی ۔انہوں نے مختلف جیلوں میں قید باغیوں کو رہا کیا اور اپنی حاکمیت سنی اکثریت والے عراق میں بھی بڑھا لی ،شام کی خانہ جنگی نے اسلامک سٹیٹ کو شام تک وسعت دینے میں مدد فراہم کی، 2011ء کے وسط میں اسلامک سٹیٹ کی شام میں مقیم لیڈر شپ نے ’’جبہۃ النصریٰ‘‘ کی تشکیل کیلئے مقامی عسکریت پسند گروپوں سے تعاون کرنا شروع کردیا، النصریٰ نے 2012ء میں عوامی پہچان بنائی اور اپنی کارروائیاں2012ء کی پہلی ششماہی تک جاری رکھیں، اگرچہ اس نے اپنی توجہ سرکاری اہداف کو نشانہ بنانے پر مرکوز رکھی تاہم ان حملوں کے دوران بڑے پیمانے پرعام شہری بھی نشانہ بنے، اپریل2013ء میں ابو بکر البغدادی نے ایک دفعہ پھر نام تبدیل کرتے ہوئے اسے’’ اسلامک سٹیٹ ان عراق و شام‘‘(دولت اسلامی عراق و شام) بنادیا۔

البغدادی اپنے منصوبے کے تحت آگے بڑھا، بالآخر جون2014ء میں ایک آڈیو ریکارڈنگ جاری کی گئی جس میں ابو بکر البغدادی کی امارت میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

اس اعلان کے بعد مغرب سے4ہزار کے قریب افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر اسلامک سٹیٹ پہنچے جو مغرب میں بسنے والے47ملین سے زائدمسلمانوں کے مقابلے میں بہت تھوڑی تعداد ہے، ماہر کریم نالوجی ’’Simon Cottee ‘‘کے مطابق اسلامک سٹیٹ کی طرف جانیوالے مغربی لوگوں کی نفسیات سے واضح ہوتا ہے کہ’’امنگوں سے بھرپور سوچ کی طاقت اور خواہش کیسے عقل پر غالب آ سکتی ہے‘‘۔انسداد دہشتگردی کے ماہر ’’Matthew Levitt‘‘ اتفاق کرتے ہیں کہ ’’کئی لوگوں کیلئے جو شناخت اور مقصد کے مضبوط احساس کی کمی سے دوچار ہوتے ہیں، کوعالمی انقلابی پرتشدد بیانیہ، جوابات اور حل مہیا کرتا ہے: یہ ان لوگوں کیلئے بہت طاقتور پیغام ہوسکتا ہے جوجوابات تلاش کررہے ہوں‘‘۔

اکثر افراد جن کی شناخت داعش کیلئے لڑنے والوں کے طور پر ہوئی ان کی ابتدائی زندگی تکالیف اور مسائل سے بھری ہوئی تھی، کئی ایسے تھے جن کے والدین نہیں تھے یا وہ گھر میں بد سلوکی کا شکار تھے، نوجوان ہمیشہ کسی رول ماڈل کی تلاش میں ہوتے ہیں، ابو بکر بغدادی کی شکل میں انہیں ایک طاقتور پیشوا نظر آیا جس کا ذکر دنیا بھر میں ہو رہا تھا اور وہ توجہ کا مرکز بنا رہا، اسی طرح بہت سارے نوجوان ایڈوینچرازم کا شکار ہو کر مختلف جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور پر تشدد جرائم کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔

اس گروپ میں سابق آمر صدام حسین کی آرمی کے کئی فوجی اور پولیس بشمول اس کی خفیہ پولیس کے اہلکار بھی سنی اور شیعہ ملیشیا میں شامل ہوگئے تھے، یہ شمولیت امریکہ کی طرف سے 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد ہوئی اور یہ شیعہ، سنی عسکری گروپس بھی اس حملے کے بعد وجود میں آئے، کچھ اندازوں کے مطابق 30 فیصد سینئر داعش ملٹری کمانڈرز عراقی آرمی اور پولیس کے آفیسرز ہیں، ابو عمرالبغدادی بھی عراقی آرمی کا سابق آفیسر تھا ،جس نے سابق باتھسٹس حکومت کے اہلکاروں کو ملیشیا میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ اسلامک سٹیٹ گروپ کا کمانڈ اینڈ کنڑول سسٹم اور تکنیک بالکل وہی نظر آتی ہے جو صدام حکومت کی خفیہ پولیس والوں کی تھی۔

داعش کے نظریہ کو جابرانہ نقطہ نظر کے طور پر بیان کیا جاتاہے، داعش نے تسلیم شدہ سکالرز کی تحقیق سے مستفید ہونے کی بجائے اپنے عالمانہ حکام بنائے، جن کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی، داعش کا نظریہ تین جدید دستاویزات سے معلوم کیا جا سکتاہے:

ان تینوں میں سے زیادہ معروف ابوبکر النجی کی 2000ء کے اوائل میں لکھی گئی کتاب ’’بربریت کا انتظام‘‘ ہے۔

یہ دستاویز اسلامک سٹیٹ کی تشکیل کیلئے سٹریٹجک روڈمیپ کی حیثیت رکھتی ہے جو ماضی کی عسکریت پسند تنظیموں کی کوششوں سے الگ و منفرد ہے، حضورﷺ اور ان کے صحابہؓ کی مثالوں پر انحصار کرنے کی بجائے النجی اپنے تشدد کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے نظریے کو جواز فراہم کرنے کیلئے کثرت سے غیر مسلم تاریخ دانوں اورنظریہ دانوں کا حوالہ دیتانظر آتا ہے۔

داعش کے نظریات اردنی عسکریت پسند ابو مصعب زرقاوی کے نظریات سے اخذ کئے گئے ہیں، خاص طور پراس کی تکفیری سوچ سے داعش بہت متاثرہوئی، داعش کا دعوی ہے کہ جو ان کی خلافت کو مسترد کرینگے وہ خود بخود مرتد ہو جائینگے (اور داعش کے لوگوں کے لیے مرتدین کو مارنے میں کوئی امر مانع نہیں۔

داعش کے نظریے کا ایک اور اہم حصہ تمام مسلمانوں کو جہاد میں شمولیت کیلئے بلانا ہے، یہ نقطہ نظر جہادکے فرض ہونے کی مخصوص اور غلط تشریح سے ابھرتاہے، داعش جنگجوؤں کی غیر مسلموں کو بندوق کے زور پر زبردستی مسلمان بنانے کی بہت سی رپورٹس ہیں، داعش نے قرون وسطیٰ کی غلامی کو دوبارہ متعارف کروانے کی کوشش کی، انہوں نے عراق کے یزیدی اور مسیحی اقلیت کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا(جسے اب وہ موصل میں عراقی و اتحادی افواج کی گولہ باری سے بچنے کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں) داعش عراق میں باتھسٹ حکومت کے ظلم وجبر اور خوف وہراس پھیلانے کے ماڈل کی وارث ہے۔ داعش ناقص سکالرز اور اسلامی قانون کے جعلی حوالے استعمال کر کے دھوکا دیتی ہے، اسلامی قوانین کی تشریح میں اختلاف کے حوالے سے جو تسلیم شدہ روایات ہیں داعش اس کا ناجائز استعمال کر رہی ہے۔

نوٹ:

یہی نام نہاد اسلامی جہادی تنظیم اب اس درپے ہے کہ کشمیر کواپنے شکنجے میں لیا جائے، ان آزاد مسلمانوں کو بھی غلامی کا شکار بنا دیا جائے ، اس لیے وہاں اپنے نظریات پھیلانے کی بہت سی کوششیں کیں اور کر رہے ہیں تاکہ اس کا بھی وہی حال کیا جاسکے جو حال عراق و شام کا اور اس میں بسنے والے مسلمانوں کا کیا۔

یعنی کچھ کو اپنے ساتھ ملایا اور انکی دنیا و آخرت برباد کر دی ، اور کچھ وہ جو ان کےوحشی نظریات کا شکار نہ بنے انکو اپنی وحشت کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مسلمان ہمیشہ سے ہی سستی کا شکار رہے ہیں کہ تاریخ کی تاریکیوں سے عبرت نہیں پکڑتے وگرنہ وہ ان جسیی وحشی تظیموں کا شکار نہ ہوتے۔

ایک سلیم الفطرت انسان بھی ان کے ظلم کے حربے دیکھ کر پہچان جاتا ہے کہ لوگ انسانیت بھی گرے ہوئے ہیں ۔

اسلام اس کائنات میں سب سے زیادہ پرامن دین ہے انسانوں تو کجا جانوروں پربھی ظلم کی سوچ کو ختم کرتا ہے اور اہل اسلام کو کائنات میں سب سے زیادہ امن پسند ہونا چاہیے،اس تنظیم کو دیکھ کر ان کے انسان ہونے میں بھی شک ہوتا ہے اس سے بڑھ کر کہ ہم اس کو مسلمان جانیں،یہ اور اس جیسی تنظیمیں اسلام کے لبادے میں کائنات کی بدترین مخلوق ہیں۔

پھرلوگوں کا ان کی طرف مائل ہونا یہ بہت بڑی بے وقوفی اور حماقت کی علامت ہے ،اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

مسلمان تو زندہ بھی اسی لیے رہتا ہے کہ وہ اپنے رب کو راضی کر کے اپنی آخرت بہتر بنا سکے تو پھر وہ کیوں ایسے کام کرے جس سے اس کا رب سخت ناراض ہو اور اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجائے۔

ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں مسلمان بنائے اوراسلام کے لبادوں میں “شرالخلق والخلیقۃ” تنظیموں کے شرسے آگاہ رہنے اور اس سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین




غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا

غیر شرعی قرار داد پاس کرنے کے سبب حکمرن پر تنقید کرنا.

غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

اکثر ہمارے معاشرے میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی ایسی قرارداد پاس کر دی جاتی ہے جو بسا اوقات شریعت اسلامی کے مخالف بھی ہو سکتی ہے ۔

سوال: کیا غیر شرعی ، گناہ والی یا شریعت مخالف قرارداد یا بل وغیرہ پاس کرنے پر حکمران پر اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ اس بارے میں سلف صالحین کا کیا عمل ہوا کرتا تھا؟ 

جواب: حکمران کی اطاعت واجب ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ

اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالی کی، اور اطاعت کرو رسول اللہ کی ، اور ان کی بھی جو تمہارےحکمران ہیں۔

(النساء: 59)

پس جو بات واجب اور اصل ہے وہ حکمران کی اطاعت ہے لیکن اگر وہ کسی معصیت وگناہ کا حکم دے تو اس کی اس معصیت میں اطاعت نہیں کی جائےگی۔ کیونکہ آپ ﷺ  کا فرمان ہے:

’’لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ‘‘ 

(خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔

[رواہ احمد برقم (20653)، والطبرانی فی الکبیر (18/381) واللفظ لہ عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ]

اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:

’’إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ‘‘

(اطاعت تو صرف معروف کاموں میں کی جاتی ہے)

[رواہ البخاری برقم (7145، 4340)، ومسلم برقم (1840) من حدیث علی رضی اللہ عنہ]

لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپ حکمران کے خلاف خروج کریں یا اس کا تختہ الٹنا چاہیں، بس یہ ہے کہ آپ وہ معصیت نہ کریں جس کا وہ حکم دے رہا ہے اور اس کے علاوہ جن باتوں کا وہ حکم دے اسے بجالائیں۔ آپ اسی کی حکومت کے ماتحت رہیں، نہ اس کے خلاف خود نکلیں اور نہ دوسروں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر ابھاریں، نہ ہی مجلسوں میں اور لوگوں کے سامنے اس کے خلاف باتیں کریں، کیونکہ اس سے شروفتنہ پھیلتا ہے۔ اور لوگوں کو ایسے وقت میں حکام کے خلاف بغض سے بھرنا جبکہ کفار ہماری تاک لگائے بیٹھے گردش ایام کے منتظر ہیں، اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر انہیں اس بات کی خبر ہوجائے تو وہ ان جذبانی مسلمانوں میں اپنا زہر سرائیت کرکے انہیں ان کے حکمرانوں کے خلاف بھڑکائیں گے، جس کے نتیجے میں فتنہ وفساد ہوگا،اور نتیجہ کافروں کا مسلمانوں پر تسلط کی صورت میں سامنے آئے گا۔

لہذا حکمران خواہ کیسے بھی ہوں ان میں خیر کثیر اور عظیم مصالح ہوتےہیں۔ وہ بھی ایک بشر ہیں معصوم نہیں بعض باتوں میں غلطی کرجاتےہیں۔ لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خفیہ طور پر نصیحت کی جائے، یا ان تک پہنچائی جائے۔ اور ان کے سامنے صحیح بات پیش کی جائے۔لیکن مجالس میں بیٹھ کر ان پر کلام کرنا اور اس سے بھی شدید تر خطبوں اور تقاریر میں ان پر کلام کرنا اہل شقاق واہل نفاق واہل شر کا طریقہ ومنہج ہے کہ جو مسلمانوں کی حکومت میں انتشار مچانا چاہتے ہیں۔

ماخوذ از

(الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ، سوال: 14)

 اللہ تعالی ہمیں اسلامی قوانین اورمنہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین




داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

  • امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا اہل سنت و جماعت کے اصول میں یہ داخل ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے گہری وابستگی ہو اور حکمرانوں کے خلاف خروج نہ ہو۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ، ج28،ص 128)

لیکن داعش اہل سنت و جماعت کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے اور مسلم حکمرانوں سے جنگ کرتی ہے لہذا اگر وہ اپنے آپ کو سنی ظاہر کرے تب بھی اسلام کی نظر میں وہ سنی نہیں۔

  • محدث وفقیہ علامہ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش سے منسوب افراد انجانے ہیں ،جو کنیت اور نسب کے سہارے درپردہ رہتے ہیں ،اور چاقووں سے اہل سنت کا قتل کرتے ہیں جوکہ انسانیت کے قتل کی بدترین شکل ہے لہذا اس فتنے سے متاثر کمسن نوجوانوں کو محفوظ رہنا چاہیے ،اور اہل علم سے اسی طرح استفادہ کرنا چاہیے جس طرح خوارج سے متاثر ہونے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ کی نصیحت سے یذید الفقیر رحمہ اللہ نے اپنا مؤقف تبدیل کردیا تھا۔

(موقع الشیخ عبدالمحسن العباد، فتنۃ الخلافۃ الداعشیۃ العراقیۃ المزعومۃ )

  • رابطہ علمائے شام کے صدر شیخ اسامہ الرفاعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش ایک تکفیری و انتہا پسند تنظیم ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتی اور مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتی ہے جبکہ ان کا یہ خیال انہیں کفر تک پہنچاتا ہے اسی لیے ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب وسنت اور علمائے امت کی طرف رجوع کریں اور لوگ داعش  کے ساتھ ساتھ حزب اللہ (لبنان  کی شیعہ دہشت گرد تنظیم ) سے بھی احتیاط برتیں۔

(موقع الدررالشامیۃ ،دولۃ العراق والشام فی میزان علماء الاسلام)

  • علمائے ازہر مصر نے کہا کہ داعش عراق کی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کا طرز عمل انتہائی وحشیانہ ہے جو بے قصوروں کے خون کی پیاسی ہے جس کے خاتمے کے لیے سب کو متحد ہوجانا چاہیے ۔

(مؤسسۃ دام برس الاعلامیۃ الازھر یعرب عن….)

  • اتحاد عالمی برائے علمائے اسلام دوحہ قطر کے معتمد عمومی نے کہا کہ داعش کی کاروائیاں ناقابل قبول ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کی شبیہ کو بگاڑ کر پیش کررہی ہیں لہذا اسلام کی سچی تصویر پیش کرنے کے لیے علمائے دین کا کردار انتہائی ضروری ہے۔
  • ملک شام کے مناظر اسلام عدنان بن محمد العرعور حفظہ اللہ نے فرمایا کہ داعش ملک شام میں عراق کے راستے داخل ہوئے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور پھر اپنی حکومت کا اعلان کر دیا ، مقامی باشندوں پر خیانت کا الزام لگایا اور انہیں کافر و مرتد قرار دیا (ان کے عقیدے کے مطابق مرتد ہونے کے بعد) توبہ کی مہلت دیے بغیر ان کے قتل کو لازمی قرار دیا اور قتل سے نجات کی ایک ہی راہ بتائی کہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

مزید فرمایا کہ داعش نے حکومت کے سربراہان و افسران کو اغوا کیا ،حکمرانوں کو کافر قرار دیا عورتوں اور بچوں کو بے گھر کیا اور بے قصور باشندوں کو بہیمانہ انداز سے ذبح کیا ،آخر یہ کونسی خلافت ہے؟

  • مصر کے عالم محمد سعید رسلان حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش انسانت کی بلی چڑھا کر اپنے معبود کا تقرب حاصل کرنا چاہتی ہے جس کا سربراہ جلاد ہے ،اور یہ تمام جہنم کے کتے ہیں لہذا ان کا بائیکاٹ کرو۔

(ذکر کردہ اور آئندہ اقوال شبکۃ الامام الآجری پر دستیاب ہیں جو اکثر MP3کی شکل میں ہیں )

  • ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ مدرس مسجد بنوی نے تین دفعہ قسم اٹھائی اور فرمایا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ داعش کو پسند کرے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرے کیونکہ وہ امت کے لیے نقصان دہ ہیں ۔

مزید فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو دین میں صحابہ سے بہتر سمجھتے ہیں فلسطین پر یہود کے مظالم ہیں لیکن انہوں نے عراق اور شام میں رہ کر فلسطینی مسلمانوں کا دفاع نہیں کیا بلکہ سعودی عرب کے حدود کے قریب آگئے ،بعینہ یمن میں اہل السنہ کو حوثی روافض بری طرح موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور القاعدہ نے یمن میں رہ کر اہل السنہ کا دفاع نہیں کیا۔

                مزید  فرمایا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ان  کے ہاتھ  پر بیعت کرے۔

  • ماہر عدلیہ ڈاکٹر سعد الحمید حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش نے دو بڑی سنگین غلطیاں کی ہیں:

(1)ناحق کافر قرار دینا۔             (2) بے قصوروں کا خون بہانا۔

  • شیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ ملک شام میں جاری جنگ جسے لوگ جہاد کا نام دیتے ہیں وہ در حقیقت فتنہ ہے ۔
  • محقق شیخ عبدالعزیز بن مرزوق الطریفی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش خوارج ہیں جو اللہ کے حکم کو قبول نہیں کرتے ہیں لہذا ان سے تعلق رکھنا جائز نہیں ہے ۔
  • داعی شیخ عبداللہ آل سعد المطیری حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش جاہل ہیں جنہوں نے بہت ساری شرعی خلاف ورزیاں کی ہیں مثال کے طورپر انہوں نے شرعی عدالت کا انکار کیا ،ناحق کافر و مرتد قرار دیا ،بے قصوروں کا خون بہایا ،لہذا میں ان کے بڑوں کو اللہ سے توبہ کرنے اور حق کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور ان سے وابستہ افراد کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہوں۔
  • سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خود کش اور فدائی حملہ کرنا برائی ،گناہ ،شروفساد اورظلم وعناد ہے جسے انجام دینے والوں کا اللہ اور آخرت کے دن پر صحیح ایمان نہیں بلکہ وہ خباثت نفس  و شراست طبیعت  اور حسد میں مبتلا ہیں ،لہذا میں تمام کو نصیحت کرتا ہوں  کہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔
  • عاید بن خلیف الشمری حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کا نبوی منہج سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ نبیﷺ جب علی رضی اللہ عنہ کو جہاد کے لیے روانہ کرتے تو تاکید کرتے کہ جاؤ انہیں اسلام کی دعوت دو اسی طرح انبیاء میں نوح ،ابراہیم ،موسی علیھم السلام اور محمدﷺ نے صبر سے کام لیا اور داعش کی طرح ذبح کرنے والی حکومتیں قائم نہیں کیں ،بلکہ نبی ﷺ نے مدینے کے یہود کو اسلام کی دعوت  دی ،اور انہیں امن دیا علاوہ ازیں دین اسلام میں مرتد کو تین دن تک توبہ کی مہلت دی جاتی ہے لیکن داعش کی ترتیب بالکل مختلف ہے۔
  • شیخ محمد بن رمزان الہاجری حفظہ اللہ لکچرار برائےرایل کمیشن الجبیل نے فرمایا کہ داعش اور جبہۃ النصرۃ حق پر نہیں کیونکہ یہ نومولود تنظیم ہے اور بنی ﷺ کے فرمان کے مطابق برحق جماعت ہمیشہ سے تھی اور تاقیامت رہے گی۔

مزید فرمایا کہ جس طرح خوارج کے پاس توحید کے باب میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے پاس بھی (بظاہر ) توحید کے باب میں خلل نہیں ، لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا ،حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت ہے۔

مزید فرمایا کہ غور طلب بات یہ ہے کہ داعش سے وابستہ افراد کی کنیتیں ہیں جیسے ابو مصعب الزرقاوی ،ابو بکر البغدادی ،ابو محمد الجولانی….. اور ان کے نام ان جانے ہیں۔

مزید فرمایا کہ داعش  خودکش اور فدائی حملوں کے ذریعے شہادت کی توقع رکھتی ہے جب کہ نبی ﷺ نے شہادت خودکشی کرنے والے کے لیے نہیں  بلکہ قتل کیے جانے والے کے لیے بتائی ، اور قتل کیے جانے سے پہلے حتی الامکان بچاؤ کا سامان اختیار کرنے پر ابھارا اور خود  زرہ پہنی۔

مزید فرماتے ہیں کہ داعش نے جب دیکھا کہ اہل علم  انہیں خوارج قرار دے رہے ہیں اور خوارج کی علامت سر حلق کرنا ہے ، تو اس علامت سے بچنے کے لیے وہ اپنے بال لمبے رکھنے لگے ہیں، لیکن خواہ بال حلق کیے ہوں یا لمبے رکھے ہوں فکر کے اعتبار سے وہ خوارج ہی ہیں۔

مزید فرمایا کہ اس تنظیم کے ساتھ علماء نہیں بلکہ سب کے سب سفہاء و جہلاء (نادان و بے وقوف ) ہیں۔

مزید فرمایا کہ ان کا خود ساختہ خلیفہ ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔

اور فرمایا کہ داعش نوجوانوں کو جہاد ،شہادت ،جنت ، اور حور…. جیسے الفاظ سے گمراہ کرتی ہے اور انہیں دھوکہ دیتی ہے۔

مزید فرمایا کہ قدیم زمانے کے خوارج حاکم کو طاغوت کہتے تھے اور داعش بھی مسلم حاکم کو طاغوت سے تعبیر کرتی ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح سےاول خوارج نے عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کیا اسی طرح داعش مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے۔

مزید فرمایا کہ اہل سنت کا اصلاح  کرنے کا طریقہ احسن انداز سے ہوتا ہے ، لیکن داعش کا اصلاح کرنے کا طریقہ سلاح یعنی ہتھیار سے ہوتا ہے جو کہ خوارج کا طریقہ ہے۔

مزید فرمایا کہ مکہ میں شرک عام تھا ، کعبے کے اطراف بت تھے لیکن صحابہ نے کبھی داعش کی روش اختیار نہیں کی ، اور دور اندیشی  کی سے کام لیتے ہوئے حالات کے پیش نظر قریش کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا۔

اور فرمایا کہ داعش کی ظاہری  دینی شکل و صورت یا ان کے فدائی کا مرتے وقت مسکرانے سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قاتل عبدالرحمان بن ملجم حافظ قرآن تھا، جس کی کسی وقت عمر رضی اللہ عنہ تعریف کی تھی ، اس باوجود وہ قاتل اور خارجی ثابت ہوا اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ، اور جس نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو شہید کیا وہ نماز کے لیے اول وقت میں آیا تھا۔

اور داعش ایک خونخوار اور وحشی تنظیم ہے ، جو صرف اہل سنت یا مسلمانوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

اور فتنہ پروروں سے آگاہ کرنا اور انہیں رسوا کرنا انتہائی  اعلی درجے کا جہاد ہے۔

شیخ بدربن علی العتیبی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ قدیم خوارج نے نبی ﷺ اور عثمان  رضی اللہ عنہ کے عدل اور ان کی امانت میں شک کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی ہمارے حکمرانوں کے ساتھ کررہے ہیں، قدیم خوارج نے علی رضی اللہ عنہ و معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کو کافر قرار دیا بالکل اسی طرح یہ شرپسند فسادی بھی ہمارے امراء و علماء کو کافر قرار دیتے ہیں اور انہیں طاغوت کا لقب دیتے ہیں ، قدیم خوارج نے جعلی خطوط کا سہارا لیا اور علماء کے اقوال کو خلط ملط کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے کلام سے غلط استدلال کرتے ہیں قدیم خوارج نے حاکم کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ،اس کی اصلاح کیے بغیر انقلاب لانے کی کوشش کی ، حاکموں پر بہتان باندھا ،انہیں یہود و نصاری کے غلام کہا منبروں پر انہیں برا کہا، انہیں کھلے طور پر کافر سمجھا ، ان کی خودساختہ خامیوں کو اچھالا ، کفر کی ساری آیات کا ان ہی کو مصداق جانا، تحکیم کے معاملے میں جہالت کا مظاہرہ کیا بعض آیات سے استدلال کیا اور بعض کو نظر انداز کیا، حکمرانوں کوسرعام رسواکیا، مسلمانوں کی زمین سےہجرت کرنے کو لازم قرار دیا ، جہاد اور توحید کا نعرہ بلند کیا، خود کو شہید و جنتی اور دوسروں کو جہنمی کہا، اسلامی  حکومت میں قیام پذیر ذمیوں کا قتل کیا، اور علماء کی بے حرمتی کی بالکل اسی طرح آج یہ شر پسند فسادی بھی کررہے ہیں۔

(موقع صید الفوائد ،ثلاثون علامۃ تدل…….)

بعض نے کہا کہ داعش گناہوں، اور اختلافی  مسائل کی بنا پر مسلمانوں کا قتل کرتی ہے، کبھی تو کسی مسلمان کو راستے میں کسی غیر مسلم سے بات چیت کرتے دیکھ کر قتل کرتی ہے،اور کبھی تو اس آدمی کا بھی قتل کرتی ہے جو ان کے وضع کردی جہاد کو چھوڑ کر حج کے لیے جاتا ہے۔

بعض نے کہا کہ ابو بکر البغدادی کو ارباب حل و عقد نے منتخب کیا ہے، اور جب اس کا رہنما (الظواہری ) ہی اس کی کرتوتوں سے راضی نہیں تھا تو وہ کیسے دوسروں سے اپنی بیعت کی کا تقاضہ کرسکتا ہے؟

بعض نے کہا کہ بغدادی کی ریاست غیر شرعی ہے، اور اس کے جھنڈے تلے جنگ کرنی جائز نہیں، کیوں کہ اس نے اللہ کی شریعت سے روگردانی کی ہے۔

بعض نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی عالم نے داعش کو درست قرار نہیں دیا، نہ ہی اس کے ساتھ اچھا گمان رکھا، اور نہ ہی ان کی جانب سے دفاع کیا ، بلکہ تمام اہل علم نے بالاتفاق انہیں ظالم قرار دیا۔

بعض نے کہا کہ داعش باغی، غالی، خونی اور گمراہ تنظیم ہے جو مسلمانوں کے مابین بڑی مہارت سے فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے، اور اسلامی ریاست کے بہانے باطل پھیلارہی ہے، اسی لیے ہر ممکن ذریعے سے اس کا مقابلہ کرنا واجب ہے۔

حیدرآباد دکن کے مفتیان میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مفتی خلیل احمد صاحبان نے بھی داعش سے چوکنا کیا ، بلکہ سارے ہندوستان سے تقریباً 1050علمائے کرام نے فتوٰی جاری کیا جس میں داعش کی مذمت  اور مخالفت کی اور کہا کہ داعش انتہائی خطرناک و خوف ناک اور غیر اسلامی بلکہ غیر انسانی ودہشت گرد تنظیم ہے کیونکہ وہ اسلام کے نام پر انسانیت کو شرمندہ کرنے والی گھناؤنی حرکتیں کر رہی  ہے، اور انسانی خون پانی کی طرح بہا رہی ہے لہذا دنیا بھر کے علمائے کرام کو ہر ممکن ذریعے سے اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف شعور بیدار کرنا چاہیے اور اس کی طرف سے جاری کردہ قتل کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنا غیر اسلامی اور شریعت کے مغائر ہے۔

واضح رہے کہ ذکر کردہ فتوٰی پر 1070 مذہبی تنظیموں نے دستخط کیا اور اس کی نقل 50 ممالک کو روانہ کیں۔

تعجب کی بات ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے داعش کی زائد جارحیت و سفاکانہ بربریت کے پیش نظر اسے ایک وحشی اور درندہ صفت تنظیم قرار دیا ہے۔

ایک جائزہ.

اللہ تعالی تمام انسانوں خاص کر مسلمانوں اور اسلام کو ان کے شر سےمحفوظ فرمائے۔آمین




داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

اہل داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

مختلف شرپسند ذرائع ابلاغ یہ باورکروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ داعش ایک سلفی تنظیم ہے جب کہ سعودی سلفی علماء کے سابقہ فتوؤں سے پتہ چلا کہ داعش سلفی نہیں ، بلکہ سفلی اور خوارج ہیں ، کیونکہ سلفی تو کتاب و سنت کے پابند رہتے ہیں اور کتاب و سنت میں حکمرانوں کی اطاعت کی ہدایت ہے اور فتنے و فساد اور دہشت گردی کی ممانعت ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ شرپسند ذرائع ابلاغ نے داعش کو سلفی اور وہابی قرار دیا ، جب کہ امام و مجدد محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دینی خدمات اور اسلامی تعلیمات سے روشناس سعودی حکومت نے نہ صرف داعش کو دہشت گرد قرار دیا بلکہ مختلف ممالک کے تعاون و اتحاد سے اس کے خلاف جنگ بھی جاری رکھی۔

علاوہ ازیں شیخ عبیدالجابر حفظہ اللہ لکچرار برائے رایل کمیشن الجبیل نے کہا کہ داعش القاعدہ سے علیحدہ ہوئی اور القاعدہ کو (مصر کی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم) اخوان المسلمین (جس کے معروف مفکر برطانیہ سے سند یافتہ اور تربیت یافتہ سید قطب ہے ،جس سے اسامہ بن لادن متاثر تھا۔) نے قائم کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ عراق میں داعش کا بانی ابو مصعب الزرقاوی ہے جو ابو محمد المقدسی کا شاگرد ہے اور محمد المقدسی محمد سرورزین العابدین اور حسن ایوب کا شاگرد ہے ،اور یہ دونوں مصر کی دہشت گردتنظیم اخوان المسلمین کے بڑے اور معروف مفکرین ہیں علاوہ ازیں مزید توجہ طلب بات یہ ہے کہ داعش وجبہۃ النصرہ نے صراحت کی ہے کہ ان کا فکری انحصار سید قطب کی کتابوں پر ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح قدیم خوارج کےعقائد توحید میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے عقائد توحید کے باب میں بھی خلل نہیں لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت  ہے۔

النہج الواضح کے لکچرار شیخ احمد السبیعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کے ایک ہاتھ میں ہتھیار اور دوسرے ہاتھ میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن ہوتی ہے۔

ملک عراق کے شہر موصل میں واقع فقہ کونسل کے نائب صدر شعبان عبدالکریم نے کہا کہ داعش اقامت دین و عدل کے سہارے مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جب کہ وہ دین و عدل سے کوسوں دور ہے  اور ہم دینی امور کےذمہ داران ہونے کی حیثیت سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ داعش خوارج ہیں اور ہمارے دین یا ہم اہل سنت کے نمائندے نہیں ہیں۔

بعض اہل علم نے کہا کہ جب ہم داعش کی جھوٹ اور خیانت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں منافق کہناپڑتا ہے۔اور جب ہم ان کو ناحق کافر قرار دینے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں خوارج کہنا پڑتا ہے۔اسی طرح جب ہم ان کے تقیہ کرنے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں روافض کہنا پڑتا ہے اور جب ہم ان کے ظلم و زیادتی  کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں باغی کہنا پڑتا ہے۔

محترم قارئین! ہم نے اس میں کچھ اقوال کو جمع کیا ہے تاکہ لوگوں خاص طور پر سلفی نوجوانوں کے ذہن سے یہ بات نکالی جا سکے کہ داعش سلفی جماعت ہے۔کیونکہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ داعش ایک سلفی نہیں بلکہ سلفیت کے لبادے میں چھپی ایک شعبدہ باز جماعت ہے۔ لہٰذا اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام مسلمانوں کو ان کی شعبدہ بازیوں اور ان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ فرمائے۔ آمیں یا ارحم الراحمین

وما علینا الا البلاغ المبین




موجودہ پر فتن دور میں کرنے کے کام احادیث کی روشنی میں

موجودہ پر فتن دور میں کرنے کے کام احادیث کی روشنی میں 

آئیے پُر فتن دور میں کرنے کے چند کاموں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جن کی پابندی ایک عام مسلمان کے لئے ازحد ضروری ہے تا کہ وہ قُرب قیامت فتنوں سے محفوظ رہ سکے:

دانائی سے کام لیں:

جب فتنے ظاہر ہونے لگیں یا حالات بدلنے لگیں تو ایسے نازک حالات میں نرمی و بردباری اور دانائی سے کام لیں اور جلد بازی نہ کریں۔ نرمی اس بنیاد پر کہ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس کو عمدہ بناڈالتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جاتی ہے اس کو عیب دار بنادیتی ہے۔ سارے کاموں میں نرمی کا خیال رکھیں، رحم دلی سے پیش آئیں، غصہ ور نہ بنیں ۔ دانائی اس لیے کہ آپ ﷺنے قبیلہ عبدالقیس کے اشجع نامی آدمی سے کہا تھا’’تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں بردباری اور دانشمندی‘‘ دانشمندی و دانائی عمدہ خصلت ہے ۔فتنے کے لمحات اور بدلتے حالات کے وقت بردباری قابل ستائش ہے کیونکہ بردباری کے ذریعے ہر چیز کی اصلیت و حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے۔

غوروفکر کے بعد ہی حکم لگائیں:

فتنہ کے ظہور اور حالات کے بدلتے وقت بغیر سوچے سمجھے آپ کسی چیز کے بارے میں حکم نہ لگائیں اس قاعدہ پر عمل کرتے ہوئے کہ ’’کسی چیز پر حکم لگانا اس پر غوروفکر کرنے کے بعد ہوا کرتا ہے‘‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

‹ولاتقف مالیس لک بہ علم›  

(سورہ اسراء: 63)

 ’’جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ‘‘ یعنی ایسا معاملہ جس کو آپ نہیں جان رہے ہوں، اس کا پاس وخیال نہ ہو اور نہ ہی آپ کے پاس اس بارے میں کوئی ثبوت ہو تو اس سلسلے میں بات کرنے سے بچیں، چاہے آپ اس میں لیڈر بنیں ۔

عدل وانصاف کوملحوظ رکھیں:

تمام کاموں میں عدل وانصاف کو لازم پکڑیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو،گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو۔“(سورہ انعام) اور فرمان الہی ہے:”کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کردے،عدل کیا کروجو پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔“ (سورہ المائدہ﴾ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ جس جماعت سے محبت کرتے ہیں اور جس جماعت سے محبت نہیں کرتے دونوں کو ایک میزان وکسوٹی پر رکھ کر پرکھیں اور اس کے بعد حکم لگائیں۔

جماعت کولازم پکڑیں:

اللہ تعالی کا فرمان ہے: ‹وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا›

اوراللہ تعالی کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو ۔“

(آل عمران : 103)

اورنبی ﷺ نے فرمایا:”جماعت کو لازم پکڑو اوراختلاف سے بچو۔“

(ابوداؤد)

حضرت عثمان رضى الله عنه منیٰ میں اتمام کرتے تھے جبکہ سنت یہ ہے کہ نمازی منیٰ میں ہر چار رکعت والی نماز کو دو دو رکعت پڑھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شرعی تاویل کی بناءپر چار رکعت ہی پڑھتے رہے ،اس کے باوجود حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہکہا کرتے تھے نبی ﷺ کی سنت یہی ہے کہ ہرچار رکعت والی نماز دورکعت ہی پڑھی جائے، ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کہتے ہیں اور حضرت عثمانرضی اللہ عنہکے ساتھ چار رکعت پڑھتے ہیں آخرکیوں؟ تو انہوں نے فرمایا:”اختلاف بری بات ہے  

(سنن ابوداود)

 اور ایسا ان کے شرعی قاعدہ کو سمجھنے کی وجہ سے ہوا کیونکہ جو اس کے برخلاف کرے گا اسکے اور دوسروں کے فتنہ میں پڑنے سے مامون نہیں رہا جاسکتا۔

شرعی میزان پر پرکھیں:

جھنڈے جو فتنہ میں اٹھائے جاتے ہیں خواہ وہ دعاةکے ہوں یاملکوں کے‘ ضروری ہے کہ مسلمان ان کو صحیح کسوٹی پر وزن کریں ۔آپ دیکھیں کہ اس میں خالص اللہ تعالی کی عبادت وبندگی ہے یا نہیں ؟۔ رسالت محمدی کی گواہی پوری کی جاتی ہے یانہیں؟اوراس گواہی کا تقاضا ہے کہ شریعت مصطفوی کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔ کسوٹی پر پرکھنے کے بعد آپ پر لازم ہے کہ آپ کی محبت اس میزان کے لیے ہو جو صحیح طور پر اسلام کو بلندو بالا کرتا ہے ، پھرآپ ایسے لوگوں کو مخلصانہ نصیحت کریں۔ جب یہ میزان مشتبہ ہوجائے تو اس سلسلے میں مرجع علماء ہوں گے کیونکہ وہی لوگ صحیح شرعی حکم جانتے ہیں۔

فضیل بن عیاض رحمه الله اپنے وقت میں سلطان کے لیے کافی دعا کرتے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ ان کے لیے اپنے سے زیادہ دعا کرتے ہیں؟ فرمایا :ہاں کیونکہ اگر میں درست رہا تو میری درستگی اپنے لیے اور اپنے اردگرد رہنے والوں کے لیے ہوگی ، رہا سلطان کی درستگی تو وہ عام لوگوں کے لیے ہوگی۔

قول وعمل میں چوکس رہیں:

فتنے کے وقت گفتاروکردارکے کچھ الگ ہی ضابطے ہوتے ہیں چنانچہ ہروہ بات جو آپ کو اچھی لگے اسے کہہ ڈالنا یا ہر وہ کام جو اچھا لگے اسے کر گزرنا مناسب نہیں، کیونکہ فتنے کی گھڑیوں میں ایسا کرنے سے متعدد مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔

تعجب کی بات نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے کہا:

’’میں نے رسول اللہ ﷺ  سے دو بھرے برتن کے مانند حدیثیں یاد کیں (یعنی دوقسم کا علم سیکھا) جن میں سے ایک کو میں نے عام کردیا اور اگر دوسرے کوعام کرتا تو میری گردن کاٹ دی جاتی۔‘‘

(صحیح بخاری)

علماءکا کہنا ہے کہ اس سے مراد ایسی حدیثیں ہیں جو فتنے اور بنو امیہ وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں،شرعی احکام سے متعلق نہ تھیں اورحضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے یہ بات حضرت معاویہ رضى الله عنه کے زمانے میں کہی جبکہ لوگ گھمسان کی لڑائی اورجنگ وجدال کے بعد ان کے سایہ تلے اکٹھا ہوچکے تھے، انہوں نے انہیں اس لیے چھپا لیا تاکہ لوگ جدائی کے بعد حضرت معاویہ رضى الله عنه پر جو یکجا ہوچکے تھے پھر لڑنے بھڑنے نہ لگیں۔ اسی لیے حضرت ابن مسعود رضى الله عنه فرماتے ہیں: ’’آپ لوگوں سے کوئی ایسی بات نہ کریں جو ان کی سمجھ سے باہر ہو اور ان کے لیے فتنہ کا سبب بن جائے‘‘  (صحیح مسلم)

فتنے کے وقت لوگ بات کواچھی طرح سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں،لہذا ہر وہ بات جو معلوم ہے‘ نہیں کہنی چاہیے ، زبان پر لگام لگانا ضروری ہے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کی بات پر کیسے اثرات مرتب ہونگے؟آپ کی رائے کیا رنگ لائے گی؟ سلف رحمہم اللہ اپنے دین کی سلامتی کے پیش نظر فتنوں کے وقت بہت سارے مسائل میں خاموش رہے تاکہ اللہ سے امن وسلامتی کے ساتھ ملیں۔

صحیح بخاری کی روایت ہے،نبی صلى الله عليه وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ’’اگر تمہاری قوم کے لوگ کفر سے قریب نہ ہوتے(نئے مسلمان نہ ہوتے)تو کعبہ کو ڈھاکراس کو قواعد ِابراہیمی پربناڈالتا اور اس میں دو دروازے لگا دیتا۔‘‘ نبی پاک صلى الله عليه وسلم کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کفارِقریش جو نئے نئے اسلام لائے ہیں کعبہ کو توڑکر اسکو قواعدِابراہیمی پر بنانے اور اس میں دو دروازے لگانے (ایک سے داخل ہواجائے اور دوسرے سے نکلا جائے)سے ایسا نہ ہو کہ لوگ غلط سمجھ لیں یا یہ سمجھ لیں کہ آپ فخر کرنا چاہتے ہیں یا آپ دینِ ابراہیمی کی بے حرمتی کرنا چاہتے ہیں یا کچھ اور خیال کربیٹھیں اس لیے آپ نے اسکو چھوڑدیا۔

نیک اعمال کا التزام و اہتما م :

جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے ۔

’’بادروا بالاعمال فتنا کقطع الیل المظلم‘‘

’’لوگو! سخت سیا ہ رات کی طرح گھنے فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو  ( کیونکہ وہ فتنے اتنے خطر ناک ہوں گے کہ ) صبح کے وقت بندہ مؤمن ہو گا تو شام تک کافر ہو جائے گا اگر شام کو مؤمن ہو گا تو صبح تک کافر ہو جائے گاآدمی دنیا کے معمولی مفاد کے عوض اپنا دین بیچ دے گا ۔ ‘‘

اور کثرت سے اللہ کی عبادت کا اہتمام : کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا :

’’العبادۃ فی الھرج کا لھجرۃ الی‘‘ 

’’قتل و غار ت کے دور میں عبادت کرنا میں محمد ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کے مترادف ہے ۔ ‘‘

( صحیح مسلم رقم 2948) ( الشریعہ لآجری ص49 رقم 82)

فتنوں کے ایام میں مسلمان کے خلاف زبان اور ہاتھ کو روک لینا :

جیسا کہ سیدنا علی اور امیر معاویہرضی اللہ عنہکے درمیان ہونے والی جنگوں کے موقع پر سیدناعلیرضی اللہ عنہ ایک صحابی کے پاس آئے اور کہا کہ میرے ساتھ میدان جنگ میں چلو۔ تو اس صحابی نے کہا: میں نے نبیﷺ سے سنا ہے فتنوں کے دور میں تو لکڑی کی تلوار بنا لینا ( اور اب  جبکہ دو مسلمان گروہ باہم برسرپیکار رہیں ) اور میرے پاس لکڑی کی تلوار ہی ہے، اگراسی طرح پسند  کرتے ہیں تو چل پڑتا ہو ں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کو چھوڑ کر چلے گئے ۔

کسی کلمہ گو شخص یا جماعت یا ادارہ کی تکفیر سے اجتناب کرنا :

اگر آپ کو کسی شخص کے بارے میں کسی بات یا عمل کا علم ہوتا ہے تو آپ اس شخص یا ادارہ یا جماعت پر کفر کا حکم لگانے کی بجائے اس کے کفر یہ قول یا فعل پر حکم رکھیں ۔کہ اس کا فلاں کام یا بات کفر یہ یاشرکیہ ہے یعنی حکم عمل پر رکھیں افراد پر نہیں یہ سب سے محتاط انداز ہے اور اس معیّن شخص وغیرہ کی تکفیر سے اجتناب کریں ۔کیونکہ یہ آپکے ذمے نہیں !

فتنہ پرور لوگوں کی محافل سے کلی اجتناب

کم علم تکفیری اورگمراہ کن نظریا ت کے حامل لوگوں کی مجالس اور ان کے ساتھ بحث سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور دوست اگر برے ہوں تو بندہ بھی برا ہی سمجھا جاتا ہے۔

آخر میں ہم دعا گوہیں  کہ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اس فتنہ عظیم(فتنہ تکفیر) سے محفوظ فرمائے اور سیدھی راہ پر گامزن رکھے۔

آمین یا رب العالمین




باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا اہل سنت کا اصول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کا معمول

بعض سادہ لوح افراد کا یہ ماننا ہے کہ ہم ظاہر کا اعتبار کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں ہر کلمہ گو کے ساتھ اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیوں کہ ہرکسی کے پاس کچھ نہ کچھ خیر رہتا ہے، لہذا ہم کسی کے تعلق سے کسی کو چوکنا نہ کریں۔

شریعت کی رو سے یقیناً ہم ظاہر کے پابند ہیں ،اور اہل علم کسی بھی باطل فرقے اور گمراہ  کن تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں کی بنا پر ہی ان سے چوکنا کرتے ہیں ، کیوں کہ منحرف افکار اور غلط طریقہ کار اختیار کرنے والوں سے چوکنا کرنا اہل سنت کا اصول اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و تابعین کا معمول رہا ہے، جیسا کہ گزشتہ آرٹیکلز میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے متشابہ آیات کے پیچھے لگے رہنے والوں سے امت کو چوکنا کیا

(صحیح البخاری:4547)

اور بالخصوص خوارج کے متعلق فرمایا کہ جہاں کہیں تمہیں یہ ملیں تم ان کا قتل کرو کیوں کہ ان کے قاتل کے لیے روز قیامت اجر عظیم ہے۔

(صحیح البخاری:5057)

اورنبیﷺ کا فرمان ہے کہ اگریہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

( صحیح البخاری:7432)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے سے زیادہ خوارج سے جنگ کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 37886)

امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ خوارج سے جنگ کرنے میں اسلام کے اصل سرمایے کی حفاظت ہے، اور مشرکین سے جنگ کرنے میں نفع حاصل کرنا ہے، اور اصل سرمایے کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے ۔

(فتح الباری لابن حجر:37886)

اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ عدویہ نے حائضہ کی نمازوں کی قضا کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے انہیں خوارج سے چوکنا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم حروریہ (خارجی)ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں ، لیکن (معلومات حاصل کرنے کے لیے )سوال کر رہی ہوں ۔

(صحیح مسلم :ح69)

معاذہ عدویہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ گمراہ افکار  و افراد سے عوام کوبھی واقف رہنا چاہیے جیسا کہ وہ ان سے واقف تھیں اسی لیے کہا کہ میں حروریہ (خارجیہ)نہیں ہوں ، اوراگروہ خوارج سے واقف نہ ہوتیں تو ان کا جواب اس طرح نہیں ہوتا بلکہ سوال یہ ہوتا کہ حروری کون ہیں؟

مزید پتہ چلا کہ عوام کبھی طہارت ونماز کے مسائل سے ناواقف رہ سکتی ہے ، لیکن غلط نظریات کے حاملین سے انہیں واقفیت ضرور رہنی  چاہیے۔

جہاں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گمراہوں سے چوکنا کیا وہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی خوداپنے طور پر شر سے بچنے کی فکر کرتے اور رسول اللہ ﷺ سے شر کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری:ح3606)

وہب بن منبہ رحمہ اللہ اپنے کمسن سادہ لوح شاگردوں سے فرماتے کہ تم خوارج سےہوشیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہ سوچ و افکار میں پھنسا نہ لیں کیوں کہ وہ اس امت کے لیے شر ہیں۔

(سیرآعلام النبلاء، الطبقۃ الثانیہ ،وھب بن منبہ :ج4،ص553)

امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قدیم و جدیدزمانے کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ خوارج نمازی ، روزے دار، اور بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود بہت بری قوم ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں ، ان کی یہ ساری عبادتیں ان کے لیے کار آمد نہیں ،وہ امر بالمعروف و نہیں عن المنکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے مفید نہیں کیوں کہ یہ ایسی قوم ہیں جو اپنی خواہشات کی بنا پر قرآن کی تاویل کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں چوکنا کیا نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا خلفائے راشدین نے ان سے ہوشیارکیا اور دیگر صحابہ و تابعیں نے بھی ان کے خلاف شعور بیدار کیا اس لیے کہ یہ اور ان کے پیروانجاس وار جاس (نجس و ناپاک ) ہیں ،جو حاکموں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔

(الشریعہ ،باب ذم الخوارج،ج1،ص325)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خوارج یہودونصاری سے زیادہ مسلمانوں کےلیےشر ہیں کیونکہ وہ ہراس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے ہیں جو ان کا موافق نہ ہو ،مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی اولاد کوحلال سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی جہالت اور گمراہ کن بدعت کی وجہ سے انہی کاموں کو دین سمجھتے ہیں ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ الفصل السادس ،ج10،ص248)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج اگر طاقتور ہوجائیں تو عراق ہو کہ شام، ساری زمین میں فساد مچادیں ،نہ کسی چھوٹے بچے کو چھوڑیں اور نہ ہی کسی بچی کو ، نہ ہی کسی مرد کو بخشیں نہ ہی کسی عورت کو کیونکہ ان کے نزدیک لوگ اس قدر بگڑچکے ہیں کہ ان تمام کو قتل کرنا ہی ان کے سدھار کا واحد راستہ ہے۔

(البدایۃ والنھایۃ ج10،ص584)

امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خوارج کی ابتدا عراق سے ہوئی۔

(فتح الباری ،المقدمہ)

تعجب کی بات ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ساری دنیا میں خوارج کے شروفساد کے  لیے عراق اور شام کا نام لیا ، بالکل اسی طرح  امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی خوارج کی ابتدا عراق سے ہی بتلائی اور آپ دیکھ لیں کہ موجودہ دور کے خوارج یعنی تنظیم داعش عراق سے ہی  نکلی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ نبیﷺ سے لیکر عصر حاضر کے تمام علماء تک، ہر عالم نے گمراہ فرقوں اور باطل فرقوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ امت مسلمہ کے نوجوان جذباتی ہونے کی وجہ سے ان گمراہ تنظیموں کا بہت جلد شکار بن جاتے ہیں اسی لئے انہوں نے ہر دور میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امت مسلمہ کو ان خارجی تنظیموں سے آگاہ کیا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنظیموں کی سازش کو بھانپتے ہوئے اور اسلاف کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے احباب کو ان خارجی فکر کی تنظیموں کی سازشوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ ہمارے احباب نیکی کے جزبے میں ان تنظیموں کی فکر کا شکار نہ ہوجائیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ