باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا اہل سنت کا اصول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کا معمول

بعض سادہ لوح افراد کا یہ ماننا ہے کہ ہم ظاہر کا اعتبار کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں ہر کلمہ گو کے ساتھ اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیوں کہ ہرکسی کے پاس کچھ نہ کچھ خیر رہتا ہے، لہذا ہم کسی کے تعلق سے کسی کو چوکنا نہ کریں۔

شریعت کی رو سے یقیناً ہم ظاہر کے پابند ہیں ،اور اہل علم کسی بھی باطل فرقے اور گمراہ  کن تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں کی بنا پر ہی ان سے چوکنا کرتے ہیں ، کیوں کہ منحرف افکار اور غلط طریقہ کار اختیار کرنے والوں سے چوکنا کرنا اہل سنت کا اصول اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و تابعین کا معمول رہا ہے، جیسا کہ گزشتہ آرٹیکلز میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے متشابہ آیات کے پیچھے لگے رہنے والوں سے امت کو چوکنا کیا

(صحیح البخاری:4547)

اور بالخصوص خوارج کے متعلق فرمایا کہ جہاں کہیں تمہیں یہ ملیں تم ان کا قتل کرو کیوں کہ ان کے قاتل کے لیے روز قیامت اجر عظیم ہے۔

(صحیح البخاری:5057)

اورنبیﷺ کا فرمان ہے کہ اگریہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

( صحیح البخاری:7432)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے سے زیادہ خوارج سے جنگ کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 37886)

امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ خوارج سے جنگ کرنے میں اسلام کے اصل سرمایے کی حفاظت ہے، اور مشرکین سے جنگ کرنے میں نفع حاصل کرنا ہے، اور اصل سرمایے کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے ۔

(فتح الباری لابن حجر:37886)

اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ عدویہ نے حائضہ کی نمازوں کی قضا کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے انہیں خوارج سے چوکنا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم حروریہ (خارجی)ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں ، لیکن (معلومات حاصل کرنے کے لیے )سوال کر رہی ہوں ۔

(صحیح مسلم :ح69)

معاذہ عدویہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ گمراہ افکار  و افراد سے عوام کوبھی واقف رہنا چاہیے جیسا کہ وہ ان سے واقف تھیں اسی لیے کہا کہ میں حروریہ (خارجیہ)نہیں ہوں ، اوراگروہ خوارج سے واقف نہ ہوتیں تو ان کا جواب اس طرح نہیں ہوتا بلکہ سوال یہ ہوتا کہ حروری کون ہیں؟

مزید پتہ چلا کہ عوام کبھی طہارت ونماز کے مسائل سے ناواقف رہ سکتی ہے ، لیکن غلط نظریات کے حاملین سے انہیں واقفیت ضرور رہنی  چاہیے۔

جہاں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گمراہوں سے چوکنا کیا وہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی خوداپنے طور پر شر سے بچنے کی فکر کرتے اور رسول اللہ ﷺ سے شر کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری:ح3606)

وہب بن منبہ رحمہ اللہ اپنے کمسن سادہ لوح شاگردوں سے فرماتے کہ تم خوارج سےہوشیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہ سوچ و افکار میں پھنسا نہ لیں کیوں کہ وہ اس امت کے لیے شر ہیں۔

(سیرآعلام النبلاء، الطبقۃ الثانیہ ،وھب بن منبہ :ج4،ص553)

امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قدیم و جدیدزمانے کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ خوارج نمازی ، روزے دار، اور بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود بہت بری قوم ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں ، ان کی یہ ساری عبادتیں ان کے لیے کار آمد نہیں ،وہ امر بالمعروف و نہیں عن المنکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے مفید نہیں کیوں کہ یہ ایسی قوم ہیں جو اپنی خواہشات کی بنا پر قرآن کی تاویل کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں چوکنا کیا نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا خلفائے راشدین نے ان سے ہوشیارکیا اور دیگر صحابہ و تابعیں نے بھی ان کے خلاف شعور بیدار کیا اس لیے کہ یہ اور ان کے پیروانجاس وار جاس (نجس و ناپاک ) ہیں ،جو حاکموں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔

(الشریعہ ،باب ذم الخوارج،ج1،ص325)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خوارج یہودونصاری سے زیادہ مسلمانوں کےلیےشر ہیں کیونکہ وہ ہراس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے ہیں جو ان کا موافق نہ ہو ،مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی اولاد کوحلال سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی جہالت اور گمراہ کن بدعت کی وجہ سے انہی کاموں کو دین سمجھتے ہیں ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ الفصل السادس ،ج10،ص248)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج اگر طاقتور ہوجائیں تو عراق ہو کہ شام، ساری زمین میں فساد مچادیں ،نہ کسی چھوٹے بچے کو چھوڑیں اور نہ ہی کسی بچی کو ، نہ ہی کسی مرد کو بخشیں نہ ہی کسی عورت کو کیونکہ ان کے نزدیک لوگ اس قدر بگڑچکے ہیں کہ ان تمام کو قتل کرنا ہی ان کے سدھار کا واحد راستہ ہے۔

(البدایۃ والنھایۃ ج10،ص584)

امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خوارج کی ابتدا عراق سے ہوئی۔

(فتح الباری ،المقدمہ)

تعجب کی بات ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ساری دنیا میں خوارج کے شروفساد کے  لیے عراق اور شام کا نام لیا ، بالکل اسی طرح  امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی خوارج کی ابتدا عراق سے ہی بتلائی اور آپ دیکھ لیں کہ موجودہ دور کے خوارج یعنی تنظیم داعش عراق سے ہی  نکلی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ نبیﷺ سے لیکر عصر حاضر کے تمام علماء تک، ہر عالم نے گمراہ فرقوں اور باطل فرقوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ امت مسلمہ کے نوجوان جذباتی ہونے کی وجہ سے ان گمراہ تنظیموں کا بہت جلد شکار بن جاتے ہیں اسی لئے انہوں نے ہر دور میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امت مسلمہ کو ان خارجی تنظیموں سے آگاہ کیا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنظیموں کی سازش کو بھانپتے ہوئے اور اسلاف کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے احباب کو ان خارجی فکر کی تنظیموں کی سازشوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ ہمارے احباب نیکی کے جزبے میں ان تنظیموں کی فکر کا شکار نہ ہوجائیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




قعدیہ بدترین فرقہ خوارج

  قعدیہ بدترین فتنہ خوارج  

“قعدیہ” بد ترین فرقہ خوارج 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد ! 

خوارج کے نت نئے طریقوں اور منصوبوں کی بناء پر ان کے نئے نئے نام اور القاب  بھی سامنے آتے رہتے ہیں،یا تو عوام الناس ان کویہ نئے نام و القاب دیتے ہیں،یا وہ خود اپنے اوپر ان کا اطلاق کرتے ہیں، اس سے ان کا مقصدلوگوں سے اپنی حقیقت چھپانا،ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا،اور اپنے گھناؤنے افعال کو خوبصورت بنا کے پیش کرنا ہوتا ہے،جیسے ہمارے موجودہ زمانے میں ان خوارج کو القاعدہ ، الدولۃ الإسلامیہ فی العراق والشام ، داعش ، بوکو حرام ، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار وغیرہ جیسے نام سے جانا جاتا ہے۔

خوارج کے فرقوں میں سب سے زیادہ خبیث فرقہ (القعدیہ) ہے، یہ لوگ زبان کے ذریعہ حاکم کے خلاف خروج وبغاوت کرتے ہیں، اور تلوار کے زریعے بغاوت کو پوشیدہ رکھتے ہیں، علانیہ اس اظہار نہیں کرتے ہیں، بلکہ حاکم کےعیوب ونقائص ذکر کر کے اور انکی اچھی سیرت و کردار کی غلط تصویر کشی کرکے عوام کو ان کے خلاف ورغلاتے ہیں، اور حکومت و ریاست میں ان سے مزاحمت کرتے ہیں۔

حافظ ابنِ حجر﷫ فرماتے ہیں:خوارج کے القعدیہ فرقے کے لوگ(حکام کے خلاف) جنگ کرنے کے قائل نہیں،بلکہ وہ لوگ ظالم حکمرانوں کے ظلم وستم پر حسبِ استطاعت انکی تکفیر کرتے ہیں،اور لوگوں کو اپنے اس قول اور رائے کو اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں،اس کے باوجود یہ لوگ خروج وبغاوت کو مزین کرکےاور خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔

(تھذیب التھذیب: 8/129)

آپ ﷫ مزید فرماتے ہیں:القعدیہ وہ لوگ ہیں،جو حکام کے خلاف بغاوت کو خوشنما بناکرلوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں،وہ خوداس کام کو براہ راست ہیں کرتے ہیں (گویا پردے کے پیچھے سے بغاوت کرتے ہیں)۔

(فتح الباری1/459)

یعنی القعدیہ اپنے ولاۃ وحکام کےعیوب ونقائص ذکر کرکے ان کے خلاف عام لوگوں کے دلوں میں کینہ وعداوت کا بیج بوتے ہیں،حکام پر طعن وتشنیع کیلئے عوام کوابھارتے ہیں ،اور ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے ہیں، اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم یہ سب دین کیلئے غیرت کی بناء پراور حق قائم کرنےاور برائی کا انکار کرنے کی خاطر کرتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ فتنہ وفساد بھڑکانےاور تلوار کےذریعہ خروج وبغاوت پھیلانے کی اصل بنیاد  ہیں،اور اس کیلئے راہ ہموار کرتے ہیں،

اسی بناء پر عبداللہ بن محمد الضعیف﷫ نے فرمایا:القعدیہ خارجی فرقوں میں سب سے خبیث فرقہ ہے۔

(مسائل الإمام أحمد لإبی داؤد ص271)

یہی کام عبداللہ بن سبا نےاس وقت کیا جب اس نے عثمان﷜ کےخلاف لوگوں کو ورغلایا۔

حافظ ابنِ عساکر﷫  فرماتے ہیں:وہ(عبداللہ بن سبا)یہودی تھا،لیکن اس نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکےمسلم ملکوں کا دوراہ کیا ، تاکہ وہاں کے مسلمانوں کو ان کے حکام کی اطاعت سے برگشتہ کردے،اور ان کے درمیان شروفساد ڈال دے….پھراس کے بعد(عبداللہ بن سبا نے)ان سے کہا کہ عثمان﷜ نے بہت سامال جمع کرلیا ہے،جسے انہوں نے ناحق حاصل کیاہے،اور وہ کہا کرتا تھا کہ پہلے تم اپنے امراء وحکام پر طعن وتشنیع شروع کرو،اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر(اچھی بات کا حکم دینے اور برائی سے روکنے)کا اظہار کرو،اس طرح تم لوگوں کو اپنی طرف مائل کر لو گے  ۔

(تاریخ دمشق 29/3-4)

نیزوں اورتلوارں سے خروج و بغاوت اسی وقت ہوتی ہےجب اس سے پہلےزبان کے زریعہ بغاوت ہو چکی ہو۔

اس کے دلائل میں سے ایک دلیل وہ حدیث ہے، جس میں ہے کہ علی ﷜ نے یمن سے رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ سونا بھیجا،جسے نبی ﷺ نے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا،تو ایک شخص(ذوالخویصرہ التمیمی)نے اپنی زبان سے یہ کہتے ہوئے رسول اللہﷺ   کی تقسیم  پر اعتراض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ اللہ سے ڈریں۔

آپﷺ نے فرمایا:

(ویلک أولست أحق اھل الأرض أن  یتقی اللہ)

تم پر افسوس، کیا میں اس روئے زمین پراللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟

راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ شخص چلا گیا،اس کے بعد نبیﷺ نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا،آپ ﷺنے فرمایا:

إنہ یخرج من ضئضئ ھذا قوم یتلون کتاب اللہ رطباً لا یجاوز حناجرھم،یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ -وأظنہ قال- :لئن أدرکتھم لأقتلنھم قتل ثمود۔

(صحیح البخاری  4094)

اس کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے،جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کریں گے،لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا،دین سے وہ لوگ اس طرح نکل جائیں گے،جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

راوی کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا، اگر میں ان کے دور میں ہوا اور وہ مجھے مل گئے تو میں ان خوارج کو قومِ ثمود کی طرح قتل کرڈالوں گا۔

یہاں ملاحظہ کریں:  اس شخص نے رسول اللہ ﷺ پر تلوار نہیں اٹھائی،بلکہ آپﷺ کے خلاف اپنی زبان استعمال کی،اور آپﷺ پر اعتراض کیا تھا،تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو خوارج کی اصل اور جڑ قرار دیا۔

اللہ ان شر پسند عناصر سے مسلمان معاشروں کو پاک فرمائے آمین ۔ 




فتنہ خلق قران​ ۔ حافظ اسلام جیراج پوری

photo721249554916288581فتنہ خلق قران​  تاریخ اسلام قران کی روشنی میں

 (حافظ اسلام جیراج پوری)

(صفحہ نمبر 94 تا 106)

معتزلہ نے جب تنزیہ ذات اور نفی ذات کا عقیدہ نکالا اس وقت اس بحث کے سلسلہ میں ذات باری سے صفت کلام کی نفی کے بعد قران کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث درمیان میں آئی۔ سب سے پہلے دوسری صدی ہجری کے آغاز میں جعد بن درہم نے قران کے مخلوق ہونے کا دعوٰی کیا پھر جہم بن صفوان نے اس کی پیروی کی محدثین نے اس قول کو خلاف اسلام قرار دیا چناچہ جعد بن درہم کو خالد بن عبداللہ قسری والئ عراق نے عید الاضحٰی کے دن بطور قربانی ذبح کیا اور جہم کو سلمہ بن احوز نے عرو میں قتل کر ڈالا۔ لیکن اس خیال کے پیرو باقی رہ گئے اور جہم کی نسب سے ان کی جماعت فرقہ جہمیہ کے نام سے موسوم ہوئی۔

مامون الرشید کے زمانے میں اس مسئلہ نے بہت شدت اختیار کر لی کیونکہ وہ خود اور اس کے درباری علماء اسی خیال کے ہو گئےاب انھوں نے محدثین کے خلاف قوت سے کام لینا شروع کیا بہت سے محدثوں کو کافر قرار دے کر قتل کر ڈالا اور سینکڑوں کو قید کی سزائیں دیں اور ابتلا و امتحان میں ڈال کر اذیتیں دیں اکثر علماء نے مجبوراً قران کو مخلوق کہہ کر اپنی جانیں بچائیں۔ مگر امام احمد بن حنبل اس ابتلاء میں ثابت قدم رہے 218 ہجری میں جبکہ مامون طرسوس میں تھا اس کے حکم سے اسحاق بن ابراہیم امیر بغداد نے امام احمد کو بیڑیاں پہنا کر سپاہیوں کی حراست میں اس کے پاس روانہ کیا مقام رقہ میں پہنچے تھے کہ مامون کے مرنے کی خبر آ گئی اس لیے پھر بغداد میں لا کر قید کر دئیے گئے۔
مامون اپنے بھائی معتصم کو جو اس کا جانشین ہوا سخت تاکید کر گیا کہ میرے بعد کوشش کر کے اس “مشرکانہ” عقیدے کو مٹا دینا ۔ بھائی کی وصیت نیز احمد بن داؤد راس الاعتزال کے اثر سے جو یحیٰ بن اکثام کی جگہ قاضی القضاۃ بھی تھا اور وزیر بھی معتصم نے 220 ہجری میں مجلس مناظرہ منعقد کی امام احمد بن حنبل پابچولاں لائے گئے خلیفہ اور وزیر دونوں جاہ جلال کے ساتھ جلوس فرما تھے دیگر علماء معتزلہ بھی جمع تھے قضاۃ فقہا امراء و روساء سے دربار بھرا ہوا تھا وہ معتصم کے سامنے بٹھائے گئے۔

معتصم: قران کی بابت کیا کہتے ہو ؟

امام احمد: کوئی آیت یا روایت پیش کی جائے اس کے مطابق کہنے کو تیار ہوں

ایک معتزلی: قران میں ہے “ما یاء تیھم من ذکر من ربھم محدث کیا محدث مخلوق نہیں ؟

امام احمد: قران کے لئے الذکر کا لفظ آیا ہے الف الم کے ساتھ اس میں ذکر بغیر الف لام کے ہے اسلئے اس سے قران مقصود نہیں۔

دوسرا معتزلی: قران میں ہے “اللہ خالق کل شئی” کیا قران شے نہیں ہے ؟

امام احمد: اللہ نے قران میں کئی جگہ اپنے لئے “نفس” کا لفظ استعمال کیا ہے مثلاً “کتب علی نفسۃ الرحمۃ” پھر فرماتا ہے “کل نفس ذائقۃ الموت” کیا تمھارے خیال میں نفس الہٰی کے لیے یہی موت ہے ؟

تیسرا معتزلی: عمران بن حصین سے روایت ہے کہ ” ان اللہ خلق الذکر “

امام احمد: اس روایت کا صحیح لفظ ہے “ان اللہ کتب الذکر”

چوتھا معتزلی: حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ “ما خلق اللہ من جنۃ ولا سماء ولا رض اعظم من ایۃ الکرسی”

امام احمد: خلق کا فعل جنت نار سماء اور ارض سے متعلق ہے نہ کہ ایتہ الکرسی سے ۔

پانچواں معتزلی: کلام اللہ کو غیر مخلوق کہنے سے اس کی مشابہت اللہ کے ساتھ لازم آتی ہے۔

امام احمد: اللہ احمد ہے صمد ہے نہ کوئی اس کا شبہیہ ہے نہ عدیل۔

لیس کمثلہ شئیی 1

معتصم: ہاں تم کیا کہتے ہو ؟

امام احمد: کوئی روایت یا آیت دیجیے تو اس کے مطابق کہوں ۔ ایک معتزلی نے عقلی دلائل دینے شروع کیے۔

امام احمد: میں اس کو نہیں جانتا ۔ نہ یہ آیت ہے نا روایت۔

معتزلی: (خلیفہ سے مخاطب ہو کر) امیر المومنین ! جب ان کو کوئی دلیل نظر آتی ہے تو ہمارے اوپر جھپٹ پڑتے ہیں اور جب ہم کچھ کہتے ہیں تو بول اٹھتے ہیں کہ میں اس کا نہیں جانتا۔

احمد بن داؤد: امیر المومنین ! یہ گمراہ ہے گمراہ کن اور بدعتی !

اس بحث کے بعد قید خانے واپس بھیج دئیے گئے دوسرے دن پھر لائے گئے اور مناظرہ ہوا تیسرے دن جب اہل دربار تھک کر مایوس ہو گئے تو اس وقت معتصم نے تازیانہ مارنے کا حکم دیا ۔ مسعودی کے مطابق 38 کوڑے لگائے گئے تھے کہ جسم سے خون جاری ہو گیا اور بے ہوش ہو گئے ۔

معتصم نے قید خانے بھجوا دیا اور ایک طبیب مقرر کر دیا جس کے علاج سے اچھے ہوئے۔ معتصم ان لوگوں کو جو قران کو غیر مخلوق کہے قتل کر دیتا تھا ۔ اس دن بھی جس دن امام احمد کو دربار میں بحث کے لئے طلب کیا تھا دو شخصوں کا اسی جرم میں قتل کر چکا تھا۔ لیکن امام موصوف کے قتل کی جرات اسلئے نہیں کی جس کے حسب ذیل اسباب تھے:

(1) امام احمد کے ساتھ جمہور کی عقیدت بہت زیادہ تھی اس لئے ڈرا کہ ان قتل سے فتنہ عام برپا ہو جائے گا جسے مٹا نا نہایت دشوار ہو گا۔
(2) معتصم خود شجاع تھا اور شجاعت کا قدر دان امام موصوف کے مناظرے سے ان کے استقلال اور ثبات کا نقش اس کے دل میں بیٹھ گیا جس کی وجہ سے ان کو قتل کرنا گوارا نہ کیا

(3) اس نے ان کے بشرہ سے ان کی راست بازی اور خلوص کو دیکھا اور سمجھ گیا کہ وہ صرف اس وجہ سے قران کو غیر مخلوق کہتے ہیں کہ مخلوق کہنے کی کوئی دلیل نہیں پاتے۔

آخر کار ان کو چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد سات سال تک زندہ رہا مگر پھر ان سے کچھ نہیں بولا ۔ 227 ہجری میں اس کے مرنے پر واثق خلیفہ ہوا وہ خلق قران کے عقیدہ کی حمایت کرتا رہا یہاں تک کہ احمد بن نصر کو اس کی مخالفت پر خود اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ لیکن امام احمد سے کبھی کچھ تعرض نہیں کیا۔

جب متوکل خلیفہ ہوا اور اس نے دیکھا کہ اس فضول بحث سے نہ خلافت کو کوئی فائدہ ہے نہ امت کو بلکہ دن بدن نفرت کی خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ 234 ہجری میں تمام صوبوں میں حکم بھیج دیا کہ کوئی قران کو مخلوق نہ کہے۔ اس پر سارے ملک میں خوشی منائی گئی اور جو لوگ معتزلہ کی سختیوں سے تنگ تھے خوش ہو گئے بلکہ رائے عامہ ان کے خلاف اس قدر بڑھک اٹھی کہ جمہور نے ان سے انتقام لینا شروع کیا متوکل نے محدثین کی مدارات کے لئے ان کو سامرہ میں بلا کر انعامات دئیے اور صفات اور رویت کی احادیث روایت کرنے کی آزادی عطا کی

چنانچہ ان کی مجالس میں غیر معمولی مجمع ہونے لگا امام احمد بن حنبل جو اس امتحان میں پورے اتر گئے تھے محدثوں کے سردار مانے گئے یہاں تک یہ اصول مسلمہ ہو گیا کہ جس کو وہ ثقہ کہہ دیں وہ ثقہ ہے جس کو ضعیف کہہ دیں وہ ضعیف ۔ لوگ متوکل کے شکرے کے ساتھ اس کے لیے دعائے خیر کہنے لگے۔ اور اس قدر تعریف کی کہ بعض حنابلہ نے اس بد تدبیر اور عیاش خلیفہ کو جس کے محل میں بقول ابوبکر خوارزمی 12،000 حرم تھیں خلفاء راشدین کے برابر قرار دیا۔ حنبلیوں کا زور اس قدر بڑھ گیا کہ انھوں نے بغداد میں احتساب اپنے ہاتھ میں لے لیا معتزلہ خوف سے چھپ گئے اور جماعتی لحاظ سے ان کا وجود ختم ہو گیا۔

تو ضیح مسئلہ​

خلق قران کا مسئلہ جس نے نا صرف امت بلکہ عباسی سلطنت میں تزلزل ڈال دیا تھا۔ محض فلسفیانہ غلو اور قران کی ناواقفیت کی بنا پر پیدا ہوا تھا۔ معتزلہ سمجھتے تھے کہ غیر مخلوق کہہ دینے سے قران قدیم ہو جاتا ہے جس سے قدماء کا تعدد لازم آتا ہے اسلیے یہ عقیدہ مشرکانہ ہے لہذا خلیفہ اسلام کا یہ فرض ہے کہ ایسے عقیدے کو جو توحید کے خلاف ہو قوت سے مٹائے ، دوسری طرف محدثوں کے پاس بھی غیر مخلوق کہنے کے دلائل اس قدر واضح نہ تھے کہ معتزلی کی تشفی کر سکتے نتیجہ یہ ہوا کہ تعصب درمیان میں ایا اور معاملہ بہت بڑھ گیا محدثین کے پاس اس کے علاوہ کیا چارہ تھا کہ رسول اللہ کی حدیثیں سنا سنا کر عوام کے ایمان کو جو ایمان کی قوت تھے تازہ رکھیں چناچہ متعدد حدیثیں اس مضمون کی کہ “القران کلام اللہ غیر مخلوق” مختلف پیرایوں میں رسول اللہ سے روایت کی گئیں اور وعظ و تذکیر کے ذریعے سے لوگوں میں پھیلائی گئیں لیکن اگر قران میں غور کیا جاتا تو یہ مسئلہ بالکل واضح ہو جاتا اور روایات کی مطلق ضرورت نہ پڑتی۔
امام احمد بن حنبل نے اپنے رسالہ رد جہمیہ میں سورہ اعرعاف کی آیت “الا لہ الخلق والامر” سے یہ استدلال کیا ہے کہ “خلق اور امر دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ قران میں یہ اصول عام ہے کہ جب وہ ایک ہی چیز کا مختلف الفاظ میں ذکر کرتا ہے تو ان کے درمیان فصل کے لئےواؤ نہیں لاتا مثلا ً سورہ حشر میں ہے “الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر” اور جب دو مختلف چیزیں ہوتی ہیں تو ان کے درمیان واؤ عاطفہ داخل کرتا ہے جیسے سورہ فاطر میں ہے۔
“و ما یستوی الا عمٰی والبصیر ولا الظلمات ولا النور ا ولا الظل ولا الحرور اوما یستوی الا حیاء ولا الاموات”
سورہ تحریم میں ایک ہی آیت میں دیکھو
“ازواجاً خیراً منکن مسلمت مومنات فانتات تائبات عابدات ثیبات و ابکاراً”

جہاں تک ایک ہی چیز کے مختلف اسماء اور صفات تھے وہاں تک بلا فصل رکھا لیکن ثیبا اور بکر دو مختلف صفتیں ہیں جن کا باہم اجتماع نہیں ہو سکتا اسلئے ان میں واؤ لا کر فصل کر دیا لہذا خلق کا اطلاق امر پر اور امر کا اطلاق خلق پر نہیں ہو سکتا قران امر ہے۔ سورہ طلاق میں ہے ” زالک امر اللہ انزلہ الیکم” اسلئے اس کو خلق نہیں کہہ سکتے یہ استدلال ان کا صحیح ہے لیکن عالم امر کی مزید حقیقت ان کے اوپر منکشف نہیں تھی کہ وہ عالم خلق کی طرح حادث ہے اور محدث کا لفظ اس کے لئے بولا جا سکتا ہے اس وجہ سے معتزلہ کے استدلال “ما یاء تیھم من ذکر من ربھم محدث” کا ٹھیک جواب وہ نہ دے سکے۔
اصلیت یہ ہے کہ امر کا لفظ جس طرح قران میں جا بجا بہت سے معنوں میں مستعمل ہوا ہے اسی طرح اس کی متعدد نوعیتیں بھی قران سے ثابت ہوتی ہیں۔

امر تکوینی یعنی اشیاء کی تخلیق کا حکم ۔

سورہ یسین میں ہے انما امرہ اذا اراد شیاء ان یقول لہ کن فیکون
اس کا حکم جب کہ وہ کسی شے کی تخلیق کا ارادہ کرتا ہے یہی ہے کہ اس سے کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔

امر تدبیری یعنی عالم خلق کے انتظامی اور تدبیری احکام سورہ یونس میں ہیں
“خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش یدبر الامرا”
آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر براجا تدبیر کرتے ہوئے امر کی۔

آیت زیر بحث “الا لہ الخلق والامر” میں جو امر مذکور ہے وہ تدبیری ہے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے کے بعد اللہ نے ان کے انتظام کی تدبیر کے لئے اپنے اوامر نافذ فرمائے۔

سورہ حم سجدہ میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے کہ ہم نے دو دن میں زمین پیدا کی پھر دو دن میں پہاڑ اور زمین کے جملہ اندرونی ذخیرے بنائے پھر دونوں دن میں ساتوں آسمان کھڑے کئے اس کے بعد

“اوحی فی کل اسماء امرھا” ساتوں بلندیوں میں ان کے تدبیر ی اور انتظامی اوامر نافذ کئے ایسا ہی ساتوں پستیوں کے مطلق

سورہ طلاق میں فرمایا
“خلق سبع سموات و من الارض مثلھن ینزل الامیر بینھن”
سات بلندیاں پیدا کیں اور ویسی ہی سات پستیاں جن میں اوامر اترتے ہیں۔

اس طرح بلندیوں اور پستیوں سب میں اوامر تدبیری نافذ ہیں۔ سورہ سجدہ میں ہے
“یدبر الامر من السماء الی الارض” وہ امر کی تدبیر کرتا ہے بلندی سے پستی تک۔

اب واضح ہو گیا کہ عالم امر عالم خلق کے بعد ہے جس کی ان آیات کے علاوہ بھی متعدد آیتوں میں تصریح ہے۔ سورہ سجدہ میں ہے
“خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش”
پیدا کیا آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پھر عرش پر مستولی ہوا۔

عرش اسی کا نام رکھا جہاں سے اوامر تدبیری نافذ ہوتے ہیں۔ اور جن کا نفاذ رحمت کی تجلی سے ہوتا ہے۔

“الرحمن علی العرش استوی” اس لئے عرش استواء علی العرش اور تنفیذ اوامر تدبیری سب خلق کے بعد کی چیزیں ہیں اور عالم خلق اور عالم امر دونوں حادثات ہیں اور دونوں کی ہر شے پر محدث کا لفظ بولا جا سکتا ہے۔
اسی امر تدبیری کے ذیل میں امر تشریعی ہے وہ بھی حادث اور محدث ہے بنی اسرائیل کے بارے میں سورہ جاثیہ میں ہے
“وایتنا ھم بینات من الامر” اور ہم نے کھلی دلیلیں امر (شریعت) کی ان کو دیں

خاتم النبین سے اسی سورہ میں خطاب ہے
“ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر” پھر ہم نے جھ کو عالم امر سے ایک شریعت پر لگا دیا

وحی اور کلام الہٰی اسی تشریعی امر میں داخل ہے سورہ طلاق میں ہے
“ذلک امر اللہ انزلہ الیکم” یہ امر الہٰی ہے جس کو اس نے تمھاری طرف اتارا۔

سورہ شورٰی میں ہے
” و کذالک اوحینا الیک روحاً من امرنا” ایسا ہی ہم نے تیری طرف اپنے امر کی ایک روح (قران) کی وحی کی
اس لئے قران جو امر تشریعی ہے حادث ہے اور محدث ہے مگر عالم امر سے ہے عالم خلق سے نہیں ہے لہذہ   اس کو مخلوق کہنا قران کے خلاف ہے۔