اسامہ کا شیخ ابن باز پر طعنہ زنی

اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی

اسامہ کا شیخ ابن باز پر طعنہ زنی

اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

بدعتی شخص کی بڑی علامات میں سےایک یہ بھی ہے کہ وہ سلف صالحین کے بارے طرح طرح کی باتیں بنائے گا اور ان کے شخصیت کو بگاڑ پر پیش کرنے کی کوشش کرے یعنی اگر کوئی شخص صحیح اور حقیقی منہج  پر قائم ہے تو صرف اپنے آپ کو ہی سمجھتا ہے یا جو اس کے ساتھ چلنے والے ہوتے ہیں ۔ 

اسی بارے میں امام ابو حاتم﷫فرماتے ہیں:

من علامۃ أھل البدع الوقیعۃ فی أھل الأثر

[اللا لکائی: 1/ 179]

“اہل بدعت کی علامت میں سے ہے کہ وہ اہل اثر (اسلاف)پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔” 

اور اسی نشانی پر پورا اترتے ہوئے اسامہ بن لادن کا یہ دعوی ہے کہ امام صاحب کے فتاوی امت کو گمراہی کے ستر گھاٹیاں نیچے لے جائیں گے۔

اسامہ بن لادن کے نصیحہ کمیٹی لندن کی جانب سے ( بتاریخ 27/07/1415 ھ ) لانچ کیے جانے والے خطاب میں الشیخ بن باز ﷫کے بارے میں کچھ اس طرح کہا :

ونحن سنذکرکم فضیلۃ الشی ببعض ھذہ الفتاوی والمواقف التی قد لا تلقون لھا بالاً، مع أنھا قد تھوی بھا الأمۃ سبعین خریفاً فی الضلال

فضیلۃ الشیخ ہم آپ کے سامنے آپ کے بعض ایسے فتاوی اور مواقف بیان کریں گے جن کی شاید آپ کو اتنی پرواہ نہ ہو مگر درحقیقت ان کے سبب امت گمراہی کی ستر گھاٹیوں میں جاگر سکتی ہے۔

اسی طرح یوں بھی کہا کہ امام صاحب کے فتوے ایسے خطر ناک ہیں کہ جو شرائط پر بھی پورے نہیں اترتے۔

پھر اپنے ایک دوسرے خطاب ( بتاریخ 28/08/1415ھ) میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو شیخ ابن باز ﷫کے فتاوی سے خبردار کرتے ہوئے کہا :

ولذا فانناتبہ الأمۃ الی خطورۃ مثل ھذہ الفتاوی الباطلۃ وغیر مستوفیۃ الشروط

اسی وجہ سے ہم امت کو ان باطل فتاویٰ کہ جو شروط پر پورے نہیں اترتے ،کی خطرا انگیزی سے خبردار کرتے ہیں۔

اسی طرح شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے بارے میں یوں کہا : “یہ حکومتی علماء ہیں جو ظالموں کی طرفداری کرتے ہیں۔”

ایک مرتبہ یوں بھی کہا :

ان علۃ المسلمین الیوم لیست فی الضعف العسکری، ولا فی الفقر المادی وانما علتھم خیانات الحاکم وتخاذل، وتخاذل الأ نظمۃ وضعف أھل الحق واقرار علماء السطلان لھذا الوضع ورکونھم الی الذین ظلموا من حکام السؤوسلاطین الفساد

مسلمانوں کی موجودہ بیماری عسکری قوت کی کمی نہیں، اور نہ ہی مادیت پرستی ہے ، بلکہ ان کی اصل بیماری حکمرانوں کی خیانتیں، نظاموں کی تباہی و رسوائی  اور اہل حق کی کمزوری ہے، اور حکومتی علماء کا اس صورتحال کو تسلیم کرنا اور ان برے حکمرانوں اور فسادی بادشاہوں کی طرفداری کرنا ہے۔

اسی طرح ایک جگہ کہا کہ امام صاحب کے مواقف امت اور اسلام پر عمل پیرا ہونے والوں کے لئے عظیم نقصانات کا باعث ہیں۔

ایک جگہ پر  کہتا ہے:

فقد سبق لنا فی ھیئۃ النصیحۃ والا صلاح أن وجھنا لکم رساۃ مفتوحۃ فی بیاننا رقم (۱۱) وذکر ناکم فیھا باللہ، وبواجبکم الشرعی تجاہ الملۃ والأمۃ، ونھینا کم فیھا علی مجموعۃ من الفتاوی والمواقف الصادرۃ منکم والتی ألحقت بالأ مۃ والعاملین للا سلام من العلماء والدعاۃ أضراراً جسیمۃ عظیمۃ

 کمیٹی برائے نصیحت واصلاح کی طرف سے آپ کو ایک کھلا خط ہمارے بیان رقم (۱۱) کی صورت میں موصول ہوچکا ہے جس میں ہم نے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس ملت وامت کی جانب سے جو آپ پر واجب ہوتا ہے ذکر کیا، اور اس میں ہم نے آپ کو ان مجموعہ فتاوی اور مواقف کہ جو آپ سے صادر ہوئے ہیں،ان سے روکا کہ  جو امت اور اسلام پر عمل پیدا ہونے والے علماء اور داعیان کے لئے بہت عظیم نقصان کا باعث ہیں۔

ایک جگہ پر  کہتا ہے کہ امام صاحب ظالم طاغوتوں کے دوست ہیں۔

جیسا کہ یوں کہا :

“فضیلۃ الشیخ لقد تقدمت بکم السن ، وقد کانت لکم أیاد بیضاء فی خدمۃ الاسلام سابقًأ ، فاتقوا اللہ وابتعدو اعن ھؤ لاء الطواغیت والظلمۃ الذین أعلنوا الحرب علی اللہ ورسولہ”

 فضیلۃ الشیخ آپ اتنے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور آپ کی اس سے پہلے اسلام کے لئے روشن خدمات ہیں، پس آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان طاغوتوں اور ظالموں سے دور رہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔

اسی طرح  کہتے ہیں کہ آپ کے فتاوی مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔

ایک جگہ پر  یوں کہا :

ونحن بین یدی فتوا کم الأ خیرۃ بشأن ما یسمی بھتانًا بالسلام مع الیھود والتی کانت فاجمعۃ للمسلمین حیث استجبتم للرغبۃ السیاسیۃ للنظام لما قرر اظھار ماکان یضمرہ من قبل ، من الدخول ھذہ المھزلۃ الاستسلامیۃ مع الیھود فأصد رتم فتوی تبیح السلام مطلقاً ومقید ًا مع الیھود

ہمارےسامنے آپ کا آخری فتوی موجود ہے جس کا عنوان ہے” یہود کے ساتھ صلح” جو کہ مسلمانوں کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں، کہ آپ نے اس نظام کے لئے سیاسی رغبت کا اظہار فرمایا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے جو پہلے مخفی تھی، یعنی آپ نے یہود کے ساتھ مطلق اور مقید صلح کو مباح قرار دینے کا فتوی جاری فرمایا۔

اسی طرح الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو ( بتاریخ ۰۸/۰۴/۱۴۲۲ھ) میں اور کیسٹ بعنوان “استعدوا للجھاد” (جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ) میں کہا اور کیا ہی برا کہا:

من زعم أن ھناک سلام دائم مع الیھود فھو قد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم

جو یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی صلح یہود کے ساتھ باقی ہے تو یقیناً اس نے اس چیز کا کفر کیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئی۔

اسی طرح بن لادن کا کہنا ہے کہ امام صاحب کے فتاوی لوگوں پر معاملے کو ملتبس اور مشتبہ کرنے کا سبب ہیں جسے ایک عام مسلمان بھی تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوگا۔

ایک جگہ پر  یوں کہا :

ان فتواکم ھذہ کانت تلبیسًا علی الناس لما فیھا من اجمال مخل وتعمیم مضل ، فھی لا تصلح فتوی فی حکم سلام منصف ، فضلاً عن ھذا السلام المذیف مع الیھود الذی ھو خیانۃ عظمی للاسلام والمسلمین، لایقرھا مسلم عادی فضلاً عن عالم مثلکم یفترض فیہ من الغیرۃ علی الملۃ والأمۃ

 آپ کا یہ فتوی لوگوں پر معاملے کو متلبس کرتا ہے کیونکہ اس میں جو خلل زدہ اجمال اور گمرہ کن عمومیت ہے وہ اس فتوی کو ایک منصافانہ صلح تک کے لئے ناقابل عمل بناتی ہے چہ جائیکہ یہود کے ساتھ اس مضحکہ خیز صلح کے لئے قابل عمل ہو، یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہے، ملت اور امت کے لئے غیرت ایک عام مسلمان کوبھی اسے قبول کرنے سے روکتی ہے چہ جائیکہ آپ جیسا عالم ایسی بات کرے۔

اس کے علاوہ مزید کئی دلائل موجود ہیں سو معاملہ آپ کے سامنے واضح ہے کہ بندہ ذاتی وجوہات کی بناء پر نہیں بلکہ ایک سوچ و فکر اور ایک عقیدے کے تحت مخالفت کر رہا ہے وہ ایک ایسے شخص کی جسے دنیا بھر میں شریعت اسلامیہ کا ایک پختہ عالم تسلیم کیا جاتا ہے ۔ نصیحت کو ٹھکرا کر اپنے اعمال کو حتمی سمجھتے ہوئے اس متفقہ شخصیت کے کیڑے نکالنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔ اور یہی خوارج کی سب سے بری عادت ہے ۔ 

دعا ہے کہ اللہ ہمیں دین حنیف کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اس پر صحیح معنوں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ 




خوارج کبار صحابہ کے قاتل

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی شہادت

خوارج کبار صحابہ کے قاتل
خوارج،کبار صحابہ کے قاتل
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت

حافظ عمر خطاب بهٹوی حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کی تاریخ میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ استدلالات  کی بنیاد پر امت کے کبار اور معزز لوگوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار صحابہ کرام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، میں اس کو فرداً فرداً بیان کررہا تھا۔

چنانچہ  امت مسلمہ میں خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد سیدنا زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کا نام آتا ہے ۔اور ان کے بعد خوارج کے ہاتھوں اللہ کی جنتوں کے مہمان بننے والے جلیل القدر صحابی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں ،  ہم   ان کی شہادت کی دلدوز داستان بھی بیان کریں گے۔

یہاں اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کی مختصر حالات زندگی اور فضائل ومناقب پر روشنی ڈالنا چاہوں گا تاکہ قاری پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے کہ خوارج اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور ان کا سب سے بڑا مشن اہل اسلام کو بچانا نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ان قائدین کو  دھوکے سے شہید کرنا ہے کہ جو امت محمدیہ  کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔

حالات زندگی اور خدمات:

علی بن ابی طالب (599ء –661ء) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ یہ نبیﷺکے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں بچپن میں نبیﷺ کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔اور انہی کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً دس یا گیارہ سال تھی۔

 اسلام قبول کرنے کے بعد  ان پر بھی مشکلات آئیں۔ہجرت کے وقت نبیﷺکے بستر پر آرام کیا اور حالت یہ تھی گھر سے باہر قریش کے سارے قبائل کے بہترین حرب و جنگ کے ماہر لوگ نبیﷺ کو قتل کرنے کا خیال دل میں رکھے باہر کھڑے تھے اور موقع کا انتظار کر رہے تھے۔ہجرت کے بعد تمام غزوات میں نبیﷺ کے ہمراہ رہے۔خندق کے موقع پر قریش کے ایک بڑے سورما عمرو بن عبدودجو کہ خندق پار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس کے مقابلے سے لوگ کتراتے تھے،اس کو قتل کیا۔خیبر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر فتح کروایا۔ایک غزوے میں نبیﷺ نے اپنا نائب بنایا ۔یہ کاتب نبیﷺ تھے ،چنانچہ جب سہیل نےصلح حدیبیہ کے موقع پر “رسول اللہ” کا لفظ مٹانے کو کہا تو انہوں نے انکار کردیا ،پھر نبیﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ لفظ مٹایا۔وفات نبویﷺ کے بعد خلفاء ثلاثہ کے مشیر خاص رہے۔چنانچہ تمام خلفاء میں سے کسی نے بھی انہیں کسی غزوے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی۔یہ صحابہ میں بہترین قاضی تھے ،اللہ نے معاملے کہ تہہ تک پہنچنے کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔یہ بہترین فقیہ تھے اور اہل علم اور کبار صحابہ میں سے شمار کئے جاتے تھے، چنانچہ جب صحابہ کسی مسئلے میں تردد کا شکار ہوجاتے تو ان سے رجوع کرتے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد امت نے انہیں بالاتفاق خلیفہ بنادیا۔(اختلافات اس بات پر تھے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان سے فوراً بدلہ لیں لیکن جناب علی کا یہ خیال تھا کہ حالت کو سنبھل لینے دیں پھر ان کا قصاص لیں گے)

شہادت:

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ بعد میں ان میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔ باغی جماعت کے بقیہ ارکان بدستور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد و پیش میں موجود رہے تاہم ان کی طاقت اب کمزور پڑ چکی تھی۔

چنانچہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے جنگ نہروان میں  خارجیوں کی جڑ کا ٹنے کے بعدبھاگنے والے خارجیوں میں سے تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا کہ حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔

انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ خود ساختہ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ اس کی ملاقات ایک حسین عورت قطام سے ہوئی ، جس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ ابن ملجم ا س کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ قطام نے نکاح کی شرط یہ رکھی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دےاور کچھ دنیاوی مال بطور حق مہر مانگا تو وہ کہنے لگا کہ میں صرف جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر سکتا ہوں تو وہ اسی پر راضی ہوگئی کہ وہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردےاور اپنا ایک چچا زاد بھائی “وردان “اس کی مدد پر مامور کردیا۔  جب اس کے اس مقصد کا پتہ ایک اور خارجی شبیب کو چلا تو اس نے  ابن ملجم کو روکا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات کا حوالہ بھی دیا لیکن ابن ملجم نے اسے قائل کر لیا۔

اس نے نہایت ہی سادہ منصوبہ بنایا اور صبح تاریکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف آ رہے تھے  تو اس نے آپ کے سر پرتلوار سے  حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔  اس کے بقیہ دو ساتھی جو حضرت معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہما کو شہید  کرنے روانہ ہوئے تھے، ناکام رہے۔ برک بن عبداللہ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے گیا تھا، انہیں زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اس دن بیمار تھے، اس وجہ سے انہوں نے فجر کی نماز پڑھانے کے لیے خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔  خارجی عمرو بن بکر نےانہیں  عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دھوکے میں شہید کر دیا۔ اس کے بعد وہ گرفتار ہوا اور مارا گیا۔

جناب علی رضی اللہ  عنہ شدید زخمی تھے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ وصیتیں کرنے کا وقت دے دیا، چنانچہ انہوں نے چند وصیتیں کیں ،جو وصیتیں ان کے ذات پر کیچڑ اچھالنے والے کے منہ پر زبردست طمانچہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔چنانچہ ان کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:

آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا:

میں تمہیں اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا رب ہے۔ اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ صرف اسلام ہی کی حالت میں جان دینا۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا، اس سے اللہ تم پر حساب نرم فرما دے گا۔ یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا، ان پر یہ نوبت نہ آنے دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مانگیں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بھی ڈرنا کیونکہ تمہارے نبیﷺ کی نصیحت ہے۔

(طبری:3/2،355)

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔ اپنے نبی کے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔پشت دکھانے، رشتوں کو توڑنے اور تفرقہ سے بچتے رہنا۔ نیکی اور تقوی کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور نافرمانی اور سرکشی میں کسی کی مدد نہ کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اللہ تعالی تمہاری ، تمہارے اہل خاندان کی حفاظت کرے جیسے اس نے تمہارے نبی کریمﷺ کی حفاظت فرمائی تھی۔ میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتا ہوں۔

(طبری:3/2،356)

ان وصیتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ کی رائے کیا تھی؟ آپ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خاص کر اس بات کی تلقین فرمائی کہ صحابہ کرام کو ساتھ ملایا جائے، ان سے تفرقہ نہ پیدا کیا جائے اور انہی کے ساتھ رہا جائے خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت حسن نے یہی کیا اور  قربانی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی، جس پر ملت اسلامیہ قیامت تک فخر کرتی رہے گی۔

اپنے قاتل کے بارے میں  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وصیت فرمائی:

بنو عبدالمطلب! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون نہ بہا دینا،  اور یہ کہتے نہ پھرنا کہ امیر المومنین قتل کیے گئے ہیں (تو ہم ان کا انتقام لے رہے ہیں) سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا۔ حسن! اگر میں اس کے وار سے مر جاؤں تو قاتل کو بھی ایک ہی وار میں ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیے۔ اس کی لاش کو بگاڑنا نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ مثلہ سے بچو ۔

(طبری:3/2،356)

اس کے بعد21 رمضان 40ھ کوفجر کی نماز کے وقت اسلام کا یہ بطل جلیل خوارج کی چالاکیوں کا شکار ہوکر ہمیشہ کیلئے امت محمدیہ کو داغ مفارقت دے گیا ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

اس کے بعد اس خارجی کو بھی قصاصاً قتل کردیا گیا۔          

“خس کم جہاں پاک”




کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ! وبعد:

آج بہت سے مسالک بھی ایک دوسرے کو خوارج کہتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جو خوارج کو دراصل ممتاز اور نمایاں کرتی ہے؟ 

خوارج کی پہچان انکے (نہایت بھیانک اور) گمراہ فکر و عقیدے اور پھر اسی کی بنیاد پر اسلامی ریاستوں، مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں میں بغاوت، قتل و غارت گری اور اموال کو لوٹنے جیسے اعمال سے مشروط ہے.
اس بدترین گروہ کا شمار موجودہ مسالک یا مذاہب اربعہ میں سے کسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ایک الگ گروہ ہے، جو تمام مذاہب و مسالک سے اپنا حصہ حاصل کرسکتا ہے. اور اس فتنہ خوارج نے قرآن و سنت کے مطابق،دین اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر قیامت کی دیواروں تک، کسی نہ کسی تنظیم یا گروہ کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے.

جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم.

(ابن تيمية، النبوات : 222)

”وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے”۔
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496)

“اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔”
پھر آخر میں ابن تیمہ رحمہ اللہ فیصلہ کن طور پر لکھتے ہیں:
وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477)

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔
دین محمدیہ میں شریعت اسلامی کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک کھڑی کرنا اور مسلمانوں میں امن و عامہ کو تباہی سے دوچار کرنا خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔اس پر تاریخ گواہ ہے۔
ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ:
“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”
“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

اللہ تمام مسلمانوں پر رحم فرمائے۔ آمین




خوارج کے فرقے

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

خوارج کے فرقے

 

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خارجیوں کے بہت سے فرقے اور جماعتیں ہیں،لیکن یہ سب خروج و بغاوت  اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر الگ رہنے پر متفق ہیں،ان کا سب سے مشہور نام “خوارج”ہے ، ان کو حروریہ بھی کہا جاتا ہے،کیونکہ ابتدائے امر میں کوفہ کے قریب ”حروراء “ نامی جگہ سے یہ لوگ نکلے تھے۔

⬅️ ان کا ایک نام مارقہ بھی ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے ان کے متعلق فرمایا:

“يمرقون من الدين”

وہ دین سے نکل جائیں گے۔

(بخاری4094) 

⬅️ ایک نام مکفرہ بھی ہے(یعنی تکفیر کرنے والے)کیونکہ یہ اپنے مخالفین،اور گناہ کرنے والوں  کو کافر قرار دیتے ہیں ۔

⬅️ ان کا ایک نام شُراۃ بھی ہے (یعنی خریدنے والے)کیونکہ انکا گمان تھا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لیا ہے،اور اسے جنت کے بدلے بیچ دیا ہے۔

⬅️ پہلے کے خارجیوں میں سب سے سخت قسم کے ازارقہ  تھے،جو نافع بن الازرق الحنفی کے پیروکار تھے،خوارج کے فرقوں میں  سے کوئی فرقہ ازراقہ سے زیادہ طاقتور اور ان سے زیادہ تعداد والا نہیں تھا،یہ لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کے زمانہ خلافت میں نافع کے ساتھ بصرہ سے نکل کر اہواز کی جانب گئے،اور اہواز اور اس کے آس پاس کے علاقوں اور اس کے ماوراء فارس اور کرمان کے شہروں پر قبضہ کر لیا ،اون ان علاقوں میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما   کے گورنروں کو قتل کر دیا۔

یہ ازارقہ خوارج کے تمام فرقوں میں سے  سب سے زیادہ انتہاپسند تھے ،ان کے کچھ منفرد اعتقادات تھے، جن کی وجہ سے وہ خوارج کے دیگر فرقوں سے الگ ہو گئے،ان کے وہ عقائد یہ ہیں:

🔵انہوں نے شادی شدہ زانی پر رجم کے شرعی حکم کو باطل قرار دیا۔

🔴جو شخص شادی شدہ مرد پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف نہیں ہے۔

🔵جو شادی شدہ عورت پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔

🔴انہوں نے چور کا ہاتھ کندھے کے پاس سے کاٹا،اور اس سزا کو انہوں نے ہر قسم کی چوری پر واجب کیا،خواہ چوری کیا ہوا مال کتنا ہی کم ہو۔

🔵انہوں نے حائضہ عورت پر حالت حیض میں نماز اور روزہ واجب قرار دیا۔

🔴انہوں نے ان تمام عورتوں اور بچوں کے خون کو مباح قرار دیا،جو ان کے خیمے(ان کی جماعت)کے نہیں تھے۔

🔵جو لوگ ان کے پاس ہجرت کر کے آتے تھے،ان کے سلسلے میں ان کا یہ معمول اور طریقہ کار تھا کہ ان میں سے ہر ایک کا امتحان لیتے تھے ، امتحان کی صورت یہ ہوتی تھی کہ اپنے مخالفین کے قیدیوں میں سے  ایک قیدی اس کے حوالے کر کے حکم دیتے تھے کہ اسے قتل کرو،اگر وہ قیدی کو قتل کر دیتا تو اس کو جماعت کی رکنیت کا پروانہ دیدیتے،ورنہ اسے قتل کر دیتے۔

🔵ان کا گمان تھا کہ ان کے مخالفین کے بچے مشرک ہیں، اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ ان کے مخالفین کے علاقے دیار کفر ہیں،اور ان کی امانتوں کو واپس کرنا واجب نہیں۔

🔵وہ یہود و نصاری اور مجوسیوں کا قتل حرام قرار دیتے ہیں۔

🔴ان کا کہنا ہے کہ جس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا وہ کافر ہے، اس کے سبب وہ اسلام سے مکمل طور پر خارج ہو گیا،اور دوسری ملتوں کے کفار کے ساتھ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔

🔵تحکیم کے معاملے میں وہ علی رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دیتے ہیں،اور دونوں حکم ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو ،اور اسی کے ساتھ عثمان، طلحہ، زبیر، عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور ان کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کو بھی کافر قرار کہتے ہیں،اور یہ کہ وہ سب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴ان کے موافقین اور متبعین میں سے جو شخص ہجرت کر کے ان کے علاقے میں نہیں آیااسے یہ مشرک گردانتے ہیں،خواہ وہ ان کے مذہب اور ان کے عقیدے میں ان کے موافق ہی کیوں نہ ہو۔

ان سب کے علاوہ بھی ان کی بدعتیں اور ہاکت خیز و تباہ کن گمراہیاں ہیں،دیکھیں

(تاریخ الطبری5/528،566،614،613،568)ومقالات الاسلامیین(1/157-162)

خوارج کے نت نئے طریقوں اور منصوبوں کی بنا پر ان کے نئے نئے نام اور القاب بھی سامنے آتے رہتے ہیں ، یا تو عوام الناس ان کو یہ نام و القاب  دیتے ہیں، یا وہ خود اپنے اوپر ان کا اطلاق کر لیتے ہیں، اس سے انہیں لوگوں سے اپنی حقیقت چھپانا مقصود ہوتا ہے ، ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا، اور اپنے گھناؤنے افعال کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، جیسے ہمارے موجودہ زمانے میں ان خوارج کو القاعدہ، الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام یعنی ”داعش“ اور الجبہۃ النصرۃ ، بوکو حرام ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار وغیرہ ناموں سے جانا جاتا ہے۔

⬅️ خوارج کے فرقوں میں سب سے زیادہ خبیث اور بد ترین فرقہ ”القعدیہ“ ہے ، ان کا کام صرف زبان کے زریعے حکمران کے خلاف خروج و بغاوت کرتے ہوئے آگ بھڑکا کر رکھنا ہوتا ہے ، اور غیر محسوس انداز میں یہ مسلم حکومت وقت کے خلاف مسلح باغیوں کی فوج تیار کر رہے ہوتے ہیں ، ان کی ذہن سازی اور دلائل مہیا کر رہے ہوتے ہیں ، اعلانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ حاکم کے عیوب و نقائص ذکر کر کے اور ان کی اچھی سیرت و کردار کی غلط تصویر کشی کر کے ان کے خلاف عوام کو ورغلاتے ہیں، اور حکومت و ریاست میں ان سے مزاحمت کرتے ہیں۔

فرقہ قعدیہ کے حوالے سے ہماری ویب سائٹ پر الگ سے ایک مضمون شائع کیا جا چکا ہے شائقین یہاں سے قعدیہ بدترین فرقہ خوارج کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔ 




خوارج دنیا کے حریص ہوتے ہیں

خوارج دنیا کے بڑے حریص ہوتے ہیں

خوارج دنیا کے حریص ہوتے ہیں

خوارج دنیا کے بڑے حریص ہوتے ہیں 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کے تمام تر اقدامات میں ایک چیز بڑی واضح دیکھی جا سکتی ہے کہ یہ مال ودولت اور ہر قسم کی دنیا داری کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے شور مچاتے ہیں مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرتے ہیں اور یہیں سے آگے نکل کر یہ خون بہانے تک پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ ان کے سب سے پہلے شخص کے عمل سے ہی ظاہر ہے ،جب نبیﷺ پر دنیا کی چیزیں تقسیم کرنے پر اعتراض کیاگیا۔

علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ فرماتےہیں :

خوارج کی ابتداء دنیا کی حرص کے سبب ہوئی ،جب نبیﷺ نے حنین کا مال تقسیم فرمایا،توگویا انہوں نے اپنی فاسد عقلوں سے یہ سمجھا کہ آپﷺ نے تقسیم کرنے میں عدل وانصاف نہیں کیا ،تو آپ سے یہ غیر متوقع بات کہہ ڈالی ۔

ان میں سے ایک شخص نے جس کا نام ذوالخویصرہ تھا ،نبیﷺکو کہنے لگا:

آپ نے انصاف نہیں کیا لہذا آپ انصاف سے کام لیں ۔

تو نبیﷺ نے فرمایا: 

لَقَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِل ، أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الأَرْضِ وَلاَ تَأْمَنُونِي

اگر میں انصاف نہ کروں تو میں  ناکام ونامراد ہو جاؤں گا اور خسارے میں پڑ جاؤں گا ،اللہ تو زمین  والوں پر امین  بناکراعتماد کرے لیکن تم مجھ پر اعتماد نہیں کرتے۔

جب وہ آدمی واپس چلا گیا تو سیدنا عمربن خطاب﷜سے اس کے قتل کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: 

 دعه فإنه يخرج من ضئضئ هذا – أي من جنسه – قوم يحقر أحدكم صلاته مع صلاتهم ، وصيامه مع صيامهم ، وقراءته مع قراءتهم ، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ، فأينما لقيتموهم فاقتلوهم ، فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم  

(صحيح مسلم ، كتاب الزكاة ، باب ذكر الخوارج وصفاتهم (2449 ــ 2456) والمسند (616) وابن حبان (24))

اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کی نسل  سے ایسی قوم پیدا ہو گی کہ تم اپنی نماز ،روزہ اورتلاوت قرآن کو ان کے نماز روزے اور تلاوت قرآن کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے۔وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ،جہاں بھی تم ان کو پاؤ ،ان کو قتل کر دو کیونکہ ان کے قتل کرنے میں  قتل کرنے والے کیلئے اجرو ثواب ہے۔

پھر علی بن ابی طالب  رضی اللہ  ت عنہ کے دور خلافت میں ان کا ظہور ہوا اور جنگ نہروان میں وہ سارے خوارج قتل کیے گئے ۔ اس کے بعد ان میں  سے مختلف کنبے ، قبیلےاور بہت سے فرقے وجود میں آئے۔

(تفسیر ابن کثیر:2 /10)

خوارج قاتل عثمان رضی اللہ عنہ : 

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایۃ والنھایۃ میں مزید ذکر کیا ہے کہ خوارج نے عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں  داخل ہو کر ان کو قتل کیا تھا ،وہ لکھتے ہیں  :

پھر یہ فاجر لوگ گھر کے اندر موجود مال واسباب پر ٹوٹ پڑے اور سب کچھ لوٹ لیا اور یہ اس وقت ہوا کہ جب ان میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے کہا :

ہمارے لئے ان کا خون حلال ہے تو ان کا مال بالاولیٰ حلال ہے ۔ یہ سن کر ان لوگوں نے گھر میں موجود مال لوٹ لیا ۔

اس کے بعد سب نے بیک آواز ہو کر کہا کہ قبل اس کے کہ کوئی بیت المال تک پہنچے ،تم اس پر قبضہ کر لو ،لیکن ان کی آواز کو بیت المال کے محافظوں نے سن لیا تو انہوں نے صدا لگائی کہ لوگو! بچاؤ بچاؤ کیونکہ اس قوم کے قول میں سچائی نہیں ہے کہ ان کا مقصد حق کو قائم کرنا ،اچھی باتوں کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور ان کے علاوہ وہ کام کرنا ہے کہ جن کے بارے میں  ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اسی کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔لیکن درحقیقت یہ سب جھوٹے ہیں ان کا مقصد تو صرف دنیا ہے مگر اس آواز کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ شکست کھا گئے ۔اس کے بعد خوارج نے بیت المال پہنچ کر اس کا سارا مال لوٹ لیا ،اس وقت بیت المال کے اندر بہت زیادہ سازوسامان تھا ۔

(تفسیر ابن کثیر:10 /316 )

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :ابو عوانہ﷫ نے اپنی صحیح یعنی مسند ابو عوانہ میں ان احادیث کیلئے یہ باب باندھا ہے کہ:

اس مسئلہ کا بیان کہ خوارج کے خروج وبغاوت کا سبب مال غنیمت کی تقسیم میں  (بقول ان کے)ترجیح دینا تھا ،حالانکہ وہ ترجیح صحیح ودرست تھی ،مگر یہ ان پر مخفی رہی۔

(فتح الباری:12 /301)

امام مسلم  رحمۃ اللہ 

امام مسلم نیسابوری رحمہ اللہ نے خوارج اور ان کی صفات کو اپنی صحیح مسلم کی کتاب الزکاۃ میں داخل کیا ہے ،اور شاید ان کا اشارہ اسی معنی کی طرف ہے۔

(صحيح مسلم ، كتاب الزكاة ، باب ذكر الخوارج وصفاتهم (2449 ــ 2456) )

حسن بصری رحمۃ اللہ :

خوارج میں سے ایک شخص حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ خوارج کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

حسن بصری رحمہ اللہ نے جواب دیا : خوارج دنیا دار ہیں ۔

خارجی شخص نے کہا : آپ نے یہ بات کس بنیاد پر کہی ہے جبکہ ان کا کارکن نیزے کے سائے میں چلتا ہے،یہاں تک کہ وہ اس میں  ٹوٹ جاتا ہے اور وہ اپنے اہل وعیال کو چھوڑ کر نکل جاتا ہے ۔(یعنی وہ دنیا سے دور اس قدر خطرات میں رہتے ہیں ) 

حسن بصری رحمۃ اللہ نے کہا : مجھ سے حاکم کے متعلق بات کرو ،کیا وہ تمہیں نماز پڑھنے ،زکاۃ ادا کرنے اور حج وعمرہ کرنے سے روکتے ہیں ؟

خارجی شخص نے کہا : نہیں

تب حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نےکہا : میں سمجھتا ہوں کہ حکمران تم کو دنیاداری سے روکتے ہیں اور اس بنا پر تم ان سے لڑتے ہو۔

(البصائروالذخائر:1/156)

علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں :

بہت سے لوگ یا کثر لوگ جنہوں نے حکام کے خلاف بغاوت کی ،تو اس لیے کی تا کہ وہ حکام کے ترجیحی معاملہ وسلوک پر ان سے اختلاف ونزاع کریں،اور ان لوگون نے ان کے ترجیحی سلوک پر صبر نہیں کیا ،اس کے علاوہ حاکم کی دوسری برائیاں اور کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں ،تو حاکم کی خود غرضی اور اس کے ترجیحی سلوک کی بنا پر خارجی کا اس سے بغض رکھنا،اس کی برائیوں کو اور بڑھا دیتا ہے۔اور حاکم سے لڑنے والا اس گمان سے لڑتا ہے کہ فتنہ وفساد کا خاتمہ ہو اور دین سارے کا سارا اللہ کا ہو جائے ،اس کا سب سے اہم مقصد حکومت حاصل کرنا یا مال حاصل کرنا ہوتا ہے۔ 

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْـهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْـهَآ اِذَا هُـمْ يَسْخَطُوْنَ  

(التوبۃ:58)

اگر انہیں اس(مال غنیمت) میں سے مل جائے تو راضی ہوتے ہیں اور اگر نہ ملے تو فورً‌ا ناراض ہو جاتے ہیں۔

اور صحیح حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :

ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ:

وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا ، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا رَضِيَ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا سَخِطَ 

تین آدمی ہیں کہ اللہ قیامت والے دن نہ ہی کلام کرے گا اور نہ ہی نظر رحمت  سے دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا اور ان کیلئے دردناک عذاب ہوگا : 

ان میں سے ایک وہ ہے کہ جو کسی حاکم سے صرف دنیا حاصل کرنے کی غرض سے بیعت کرے ، اگر وہ اس کو دنیا کے مال میں  سے کچھ دے دے تو وہ راضی رہے لیکن اگر وہ اس کو نہ دے تو اس سے ناراض ہو جائے ۔

(بخاری:7212)

لہذا جب اس جہت سے بھی شبہ اور شہوت ہو اور اس جہت سے بھی شہوت و شبہ ہو تو فتنہ و فساد قائم ہو جاتا ہے ۔

(منھاج السنۃ (4 / 541 )

خارجی تنظیم داعش :

اسی طرح آپ موجودہ دور میں خوارج کی تنظیم داعش کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ کسی چالاکی ، چالبازی اور کفار کی یہودی صلیبی سازشوں کی مدد سے عراق و شام میں تیل کے کنوؤں پر قبضے شروع کیے گئے ، اپنی الگ سے کرنسی جاری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ، خواتین کو لونڈیاں بنا کر منڈیاں سجانے کی کوشش کی گئی ، مختلف ممالک کے لوگوں کو اغواء کیا گیا کہ اس سے مال و دولت حاصل کیا جائے گا ، سفیروں کو قید کر لیا گیا جس پر بڑی بڑی ڈیمانڈ پوری کروائی گئی ۔ غریب عوام کو بھاری رقوم کی لالچ دے کر داعش میں شامل کر نا وغیرہ سب ان کی دنیا داری میں شامل ہے ۔ ایسی ہی کئی ایک مثالیں موجود ہیں جو کہ کسی سے بھی چھپی ہوئی نہیں ہیں ۔

تحریک طالبان پاکستان :

اسی طرح ٹی ٹی پی بھی پیسے اور حصول حکومت کی دوڑ میں پیچھے نہیں ہے ۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ کس کو مسلمان سمجھتے ہیں اور کس کو کافر سمجھتے ہیں یہ دیکھیے کہ دنیا کے حصول میں کبھی یہاں خواتین ، بچوں ، ڈاکٹرز ، انجینئرز وغیرہ کو اغواء کیا جاتا کہ ان کی بدولت تاوان حاصل کیا جائے گا ۔ کئی ایک علاقوں میں ان کا جگا ٹیکس چلتا ہے اور پھر جو اس سے اپنا ہاتھ روک لیتا تھا یہ خبیث صفت خارجی تحریک طالبان کے خوارج اس کو مرتد کہتے ہوئے اس کی جان کے درپے ہو جاتے ، پاکستانی اخبارات ان کے گناہوں سے بڑی پڑی ہیں ۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں ان فتنوں سے محفوظ فرمائے اور مسلمانوں کی حفاظت فرمائے آمین 




عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

 عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم  باتیں 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم نکات جن کا علم ہونا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے ، وگرنہ وہ جانے انجانے میں خوارج کی صف میں شامل ہوسکتا ہے،ہم ان  اصول کو آسان الفاظ میں بیان کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ملاحظہ کیجیے ؛ 

  • مسلمانوں کے آئمہ  و امراء کے خلاف بغاوت کرنا کتاب و سنت سے حرام ہے۔
  • مسلمانوں کے ذمہ داروں مثلاً حکام اور علماء و امراء کی اطاعت معروف و بھلائی میں رعایا پر واجب ہے،اس میں کوئی شک نہیں۔
  • ہر وہ شخص جو ایسے امام کے خلاف بغاوت کرے جس پر مسلمانوں کی جماعت متفق ہو اور کبیرہ گناہ کی بنیاد پر اس کی تکفیر کرے اسے خارجی کہا جائے گا،اس کے حق میں حکومت وقت کے لئے حکم شرعی نافذ کرنا ضروری ہو جاتا ہے وگرنہ یہ مزید لوگوں کے عقائد میں خرابی پیدا کرے گا۔
  • تکفیر کے کچھ اصول ہیں جنہیں جاننا اور ازبر کرنا ضروری ہے،یہاں تک کہ طالب علم اپنے معاملے سے آگاہ ہو جائے۔
  • علم شرعی کے طلب گار کیلئے تکفیر کےضوابط کی معرفت بہت اہم ہے۔
  • تکفیر کے کچھ موانع ہیں جنہیں جانناضروری ہے۔
  • اہل سنت و جماعت تمام فرقوں میں متوسط و معتدل ہیں خواہ تکفیر کے مسئلہ میں یا دیگر مسائل میں ،اللہ سبحانہ و تعالی نے اس امت کے بارے میں ارشاد فرمایا:
    وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا 
    ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول [ﷺ] تم پر گواه ہوجائیں

(البقرۃ: 143)

  • تکفیر کا مسئلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ  کا حق ہے،لہذا کافر وہی ہے جسے اللہ اور اس کا رسول کافر قرار دیں۔
  • کسی بھی شخص پر کفر کا حکم لگانے سے پہلے چاہیے کہ بغیر علم اللہ کی ذات پر بات کہنے کے اندیشہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس میں بارہا غور و فکر کر لیا جائے ، کیونکہ جس کسی انسان پر کفر کا حکم لگایا جائے ، اس پر شریعت اسلامیہ میں موجود مرتد کے احکام کی تنفیذ ضروری ہو جاتی ہے جو کہ متفقہ طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے اس فریضہ کو اگر ہر کوئی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے گا معاشرے فساد اور تباہ بربادی کا شکار ہو گا اور یہ ہر گز بھی اسلام کے حق میں نہیں ہے ۔
  • تکفیر کے مسئلہ میں اہل سنت و جماعت کا مستند کتاب و سنت پر اجماع ہیں۔
  • اہل سنت و جماعت کے مخالف فرقے احوال و مقاصد کے اعتبار سے مختلف ہیں،چنانچہ ان میں سے کچھ کافر ہیں،کچھ فاسق،ظالم اور گمراہ ہیں،اور کچھ خطاکار ہیں،جن کی مغفرت کا امکان ہے،اس بات کی وضاحت میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ،امام ابن القیم،اور شیخ عبد الرحمان بن ناصر سعدی رحمہم اللہ کے اقوال پچھلے مضامین میں بیان کیے جا چکے ہیں ۔
  • شریعت اسلامیہ اہل قبلہ میں سےکسی پر بھی کفر کا حکم نہیں لگاتی،یہاں تک کہ اسے کھول کھول کر بتا دیا جائے،دلیل کے ساتھ حق کی راہنمائی کر دی جائے،وضاحت کے بعد فاسد عقلوں منتشر ذھنوں میں ابھرنے والے شبہات زائل کر دیئے جائیں، چنانچہ اس کے بعد بھی اگر کوئی اپنے کفر پر بدستور مصر (اڑا) رہے تو پھر حکومت وقت اس کے لئے کامیاب علاج موجود ہے، اور وہ شریعت اسلامیہ میں مرتد کے احکام ہیں، اس سے توبہ کرائی جائے گی،اگر توبہ کرلے تو ٹھیک وگرنہ اسے کفر وارتداد کی سزا میں حکومت وقت قتل کا فیصلہ سنا دے گی ، حکومت کے علاوہ کسی کو بھی کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ حدود کے نفاذ کو اپنے ہاتھ میں لے اس سے معاشرے میں مزید انارکی پھیلنے کا شدید اندیشہ ہو سکتا ہے ۔ 
  • دلیل و برھان کے ساتھ حق کی معرفت اور یہ کہ سابقہ دلائل کی روشنی میں نجات یافتہ جماعت”اہل سنت و جما عت“ ہی ہے اور ان کے علاوہ جو فرقے ہیں وہ حق پر نہیں بلکہ اپنے حالات کے اعتبار سے ہیں،جیساکہ پوائنٹ 11 میں گزرا۔اس بات کا علم کہ  حق و باطل کے مابین ستیزہ کاری  ہمیشہ سے رہی ہے لیکن الحمدللہ غلبہ و سر بلندی اخیر میں حق کی ہی ہوتی ہے،رہا باطل تو وہ مٹ جاتا ہےجب کہ حق ثابت و پائیدار ہوتا ہےکسی طرح نہیں  ڈگمگاتا۔
  • شرعی منہج سے انحراف کی خطر ناکی اور اس پر مرتب ہونے والے احکام کی معرفت۔

یہ تمام ایسی باتیں ہیں جنہیں یاد رکھنا اور ان کا خیال رکھنا ہر مسلمان کے لئے از حد ضروری ہے ۔ تاآنکہ ہم فتنہ و فساد سے محفوظ زندگی گزار سکیں ۔ ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے اعمال کو قبولیت بخشے اور ان کوہمارے لئے نفع بخش اور بابرکت بنائے،وہی اس کا مالک ہے اور اس پر قادر ہے۔آمین




photo_2017-09-21_21-26-18

عقیدہ خوارج کا رد گناہگار مسلمان "کافر" نہیں ہوتا

photo_2017-09-21_21-26-18

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عقیدہ خوارج  کا رد

گناہگار مسلمان  “کافر” نہیں ہوتا!

الحمد للہ والصلوٰۃ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

خوارج کی مختلف علامات میں ایک بڑی واضح اور ان کے تمام فرقوں میں پائی جانے والی علامت یہ ہے کہ یہ کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔  امام نسفی رحمہ اللہ نے درج ذیل آیت کریمہ کی روشنی میں  خوارج پر کئی ردود لکھے :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ 

(سورة النساء8)

“اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔” 

چنانچہ توبہ نصوحہ (خالص توبہ) کبیرہ گناہ ہی سے ہوتی ہے۔

اسی طرح احادیث رسول اللہ ﷑ سے بھی کئی دلیلیں اخذ کی ہیں ،آپ ﷑ کا ارشاد ہے:

 لاَ يَزْنِى الزَّانِى حِينَ يَزْنِى وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ

[صحيح مسلم ]

“زنا کار زناکاری کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شراب خور شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔” 

 اسکی تفسیر میں  امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“صحیح قول جو محققین نے کہا ہےاس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ  وہ جب گناہ کرتا ہے تو کامل مومن نہیں ہوتا،یہ ان الفاظ میں سے ہےجن کااطلاق کسی چیز کی نفی کیلئے ہوتا ہے اور اس سے اس کے کمال اور عمدگی کی نفی مراد ہوتی ہے،جیسے کہا جاتا ہے:نفع بخش علم کے علاوہ کوئی علم نہیں،اور اونٹ کے علاوہ کوئی مال نہیں اور زندگی درحقیقت آخرت کی زندگی ہے۔” 

(صحیح مسلم بشرح نووی 1/41)

خوارج کی غلطی یہ ہے کہ  وہ کبیرہ و صغیرہ گناہوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے:

﴿ إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا 

(سورة النساء31)

“اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔” 

لہذا خوارج امت کی تکفیر کیلئے خواہ کتنی بھی کوشش کریں کامیاب نہیں ہو سکتے،خواہ تمام گناہوں کو کبائر ہی کیوں نہ بنا دیں لیکن کسی عقلی و سمعی دلیل کی راہ نہیں پا سکتے۔ 

(الخوارج والاصول التاریخیہ لمسئلۃ تکفیر المسلم،ص31) 

کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کے درمیان فرق کرنا ضروری: 

کبائر: کبیرہ کی تعریف میں اختلاف ہے،سب سے عمدہ تعریف یہ ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہیں جن پر کوئی حد (متعین اسلامی سزا) مرتب ہوتی ہو یا اس پر لعنت یا غضب کی وعید سنائی  گئی ہو۔

صغائر: صغیرہ گناہ وہ ہیں جن پر دنیا میں نہ کوئی حد مرتب ہوتی ہو اور نہ آخرت میں کوئی وعید،اور وعید سے مراد جہنم یا لعنت یا غضب کی وعید ہو ۔

 (شرح عقیدہ طحاویہ ص418 )

خوارج اور انکے ہم مشرب لوگ  جو کبیرہ گناہوں کے مرتکبین سے ایمان سلب کرتے ہیں،ان کی تردید اللہ عزوجل کے درج ذیل فرمان سے ہوتی ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ 

(البقرۃ : 178)

” اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔” 

چنانچہ اللہ نے  قاتل کو مومنوں  کے زمرہ سے  خارج نہیں کیا بلکہ اسے قصاص کے ولی کا بھائی قرار دیا ہے،اور بلاشبہ اس سے مراد دینی اخوت ہے۔

﴿ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ

(الحجرات : 9)

“اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم [سب] اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔” 

نیز ارشاد ہے:  ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ

(الحجرات: 10)

[یاد رکھو] “سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو۔” 

 کتاب و سنت کے نصوص اور اجماع امت دلالت کناں ہیں کہ زنا کار،چور اور تہمت گر وغیرہ کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان پر حد قائم کی جائے گی ، اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرتد نہیں ہیں۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص361)

رہا خوارج اور ان کے ہم مشرب لوگوں کے اس عقیدہ کی تردید کہ اہل کبائر جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے ،تو امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اہل کبائر…اگر حالت توحید میں وفات پائیں اور اللہ کو پہنچانتے ہوئے اس سے ملاقات کریں اگرچہ توبہ نہ کئے ہوں،ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہ رہیں گے بلکہ اللہ کی حکمت و مشیت تلے ہوں گے،اگر وہ چاہے تو اپنے فضل سے انہیں بخش دے اور معاف فرما دے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاء

(النساء: 48)

یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے۔

اور اگر چاہے تو اپنے عدل و انصاف کی بنیاد پر انہیں عذاب جہنم میں مبتلا کرے اور پھر اپنی رحمت اور اپنے اطاعت گزار سفارشیوں کی سفارش سے انہیں اس سے نکال کر جنت مین داخل فرما دے۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص416)

جیسا کہ آپﷺ کا ارشاد ہے:

مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ

(صحيح البخاري1237)

میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔

اہل کبائر کیلئے نبیﷺ کی سفارش:

اس بارے میں احادیث متواتر ہیں،آپ ﷺ کا ارشاد ہے:

شفاعتي لأهلِ الكبائرِ من أمَّتي

(صحيح الترمذي:2436، صحيح أبي داود:4739،صحيح الجامع:3714، صحيح الترغيب:3649)

ترجمہ:میری امت میں جولوگ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے میری شفاعت ان کے لیے ہو گی۔

نبی کریم  ﷺ سے سفارش چار مرتبہ : 

پہلی مرتبہ: آپﷺ اپنے رب کی اجازت کے بعد جیسا کہ قرآن نے وضاحت کی ہے، اپنی سفارش سے ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گےجن کے دل میں جو کے برابر بھی ایمان ہو گا۔

آپﷺ کا ارشاد ہے: فأخرج منها من كان في قلبه مثقال ذرة أو خردلة من إيمان

(صحیح مسلم1/183)

….چنانچہ میں جہنم سے ان لوگوں کو نکلواؤں گاجن کے دل میں ایک گیہوں یا جو کے برابر ایمان ہو گا۔

دوسری مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا۔

تیسری مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جن کے دل میں رائی کے دانے کےمعمولی ترین حصہ کے  برابر ایمان ہو گا۔

چوتھی مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جنہوں نے صرف”لاالہ الا اللہ“  کہا،چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : وَعِزَّتِي وَجَلالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ”

(صحیح مسلم1/183)

میری عزت،جلال،کبریائی،اور عظمت کی قسم! میں ان لوگوں کو جہنم سے ضرور نکالوں گا جنھوں نے”لاالہ الا اللہ“     کہا۔

تو یہ بات ہمارے سامنے بالکل واضح ہو گئی کہ خوارج کے دلائل بالکل کھوکھلے اور لاعلمی کا انعکاس ہیں ۔۔۔۔ اللہ رب العزت امت مسلمہ کو بالخصوص غیور نوجوانوں کو ان خوارج کے فتنے سے محفوظ فرمائے آمین ۔ 




photo_2017-09-13_10-00-21

خوارج کو قوم عاد اور ثمود کی طرح قتل کرنے کا حکم آخر کیوں ؟؟؟

photo_2017-09-13_10-00-21

خوارج کو قوم عاد اور ثمود کی طرح قتل کرنے کا حکم

آخر کیوں ؟؟؟

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خوارج ایک ایسی خبیث صفت قوم ہے کہ جس نے ہر موڑ اور ہر موقع پر اپنے اسلام اور اسلامیان کو لہو لہان کی اپنوں کی ہمیشہ انہوں نے مخالفت کی دکھ تو اس بات کا ہوتا ہے کہ اس دور کے خوارج نے صحابہ کرام کی بھی نہ چھوڑا ، ان کے تقوی اور اسلام پسندی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے صحابہ کرام کو بھی کافر سمجھنا شروع کر دیا۔

ان کے نزدیک سیدنا علی المرتضی ، عثمان غنی ذو النورین ،طلحہ ، زبیر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم ، اصحاب جمل ، معاویہ رضی اللہ عنہ ، دونوں حَکم (سیدنا معاویہ اور امیر المؤمنین علی المرتضی کے درمیان فیصلہ کرنے والے دونوں جج ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن العاص) سب کو یہ خوارج کافر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے شریعت اسلام کی خلاف ورزی کی ۔ جبکہ یہ خود امت کا قتل عام کر کے بھی اپنے آپ کو آٹے میں سے بال  کی طرح نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور شریعت اسلامیہ کا نام لیکر یہ درندے امت کا خون بہانے میں دن رات نئے سے نئے منصوبے اور طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ اللہ انہیں تباہ برباد کرے آمین

خوارج کے قبیح اور شنیع افعال و اعمال کی وجہ سے شریعت میں ان کی سخت ترین مذمت وارد ہوئی ہے ۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :  

من أبغض خلق اللہ

“اللہ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ لوگ”

(مسلم: 2517)

اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ان سے قتال کرنے کی بڑی فضیلت بیان کی اور امت کو اس فتنہ سے خبردار کیا ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے اس فتنہ کی سرکوبی کرنے والوں کے لئے امت کو خوشخبری بھی سنائی ؛  فرمایا : 

طوبی لمن قتلھم و قتلوہ

” اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے انہیں قتل کیا اور وہ ان خوارج کے ہاتھوں شہید ہو گیا ۔ ”

(ابو داؤد: 4767)

مزید آپ ﷺ نے ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا : 

فإنَ فی قتلھم أجراً عظیماً عند اللہ لمن قتلھم یوم القیامۃ

“پس یقینا ان (خوارج ) سے قتال کرنے والے شخص کے لئے قیامت کے دن اللہ کے ہاں بہت زیادہ اجر ہے ۔”

(بخاری: 6531)

مزید آپ ﷺ نے فرمایا :  لو یعلم الجیش الذین یصیبونھم ما قضی لھم علی لسان نبیھم ﷺ لاتکلوا عن العمل

“اگر خوارج سے قتال کرنے والا لشکر اس اجر کو جان لے جس کا فیصلہ ان کے نبی ﷺ کی زبان پر کر دیا گیا ہے تو وہ باقی سارے اعمال چھوڑ کر صرف اسی عمل (یعنی خوارج سے قتال والے عمل) پر اکتفاء کر بیٹھیں گے ۔ ”

(مسلم: 2516)

ایک جگہ رسول اللہ ﷺ نے حکماً فرمایا : أینما لقِیتُموھم فاقتلوھم

“جہاں تم ان خوارج سے ملو انہیں قتل کر دو۔ “ 

(بخاری : 4770)

ان سے بڑھ کر خود آنحضرت ﷺ نے ایک لمبی حدیث میں خوارج کے خلاف لڑنے والی امت مسلمہ کی نڈر ، بے باک اور دلیر افواج کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے ان خوارج کا قلعہ قمعہ کرنے کی خواہش کا اظہار کچھ اس طرح عزم کرتے ہوئے فرمایا :  

لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثمود

“اگر میں نے ان خوارج کو پا لیا تو میں انہیں قوم ثمود کی طرح قتل کروں گا ”

(بخاری: 4094)

اور دوسری روایت میں ہے :

لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ

” میں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ”

(بخاری : 3166)

امام قرطبی  رحمہ اللہ صحیح مسلم کی شرح المفہم میں نے یہی بات لکھتے ہیں :  

أنه ـ صلى الله عليه وسلم ـ كان يقتلهم قتلاً عامًا ؛ بحيث لا يبقى منهم أحدًا في وقت واحد ، لا يؤخر قتل بعضهم عن بعض ، ولا يقيل أحدًا منهم ، كما فعل الله بعاد ؛ حيث أهلكهم بالريح العقيم ، وبثمود حيث أهلكهم بالصيحة

یعنی رسول اللہ ﷺ ان خوارج کا قتل عام کریں گے تاکہ پوری طور پر ان میں سے کوئی بھی بچ نہ پائے ، نہ تو کسی کے قتل کو کسی وجہ سے مؤخر کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو کوئی گنجائش دی جائے گی جیسا کہ اللہ رب العزت نے قوم عاد حشر کیا  کہ انہیں بانجھ (خیر و برکت سے خالی  یعنی سراسر تباہی اور بربادی والی ) آندھی کے ساتھ ہلاک کیا ، اور قوم ثمود کو ہولناک چیخ  اور خوفناک کڑکنے والے بجلی سے نیست و نابود کر دیا گیا جیسے کبھی ان کا کبھی وجود ہی نہ تھا ۔

امام نووی رحمہ اللہ اپنی شرح صحیح مسلم میں اس کا معنی یوں بیان کرتے ہیں :

أي قتلا عاما مستأصلا كما قال تعالى ‹فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ› [الحاقۃ: 8] وفيه الحث على قتالهم وفضيلة لعلى رضي الله عنه في قتالهم

یعنی ان خوارج کا ایسا قتل عام کیا جائے کہ اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے ، جیسا کہ اللہ تعالی نے قوم عاد  کے بارے میں فرمایا ‹کیا تم نے ان میں سے کسی کو باقی دیکھا ›  اور اس میں خوارج سے قتال کرنے کی ترغیب بھی ہے اور علی رضی اللہ عنہ کی خوارج سے کی گئی جنگ کی بھی فضیلت واضح ہوتی ہے ۔

امام سیوطی رحمہ اللہ نے سنن نسائی کی شرح میں ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں اور محمد شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ نے بھی ابو داؤد کی شرح عون المعبود میں اس حدیث کے تحت یہی معنی بیان کیا ہے کہ ؛ ان خوارج کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے ، بالکل نیست و نابود کر دیا جائے ۔




photo_2017-09-13_10-00-22

اوصاف خوارج : خود پسندی اور تکبر

 photo_2017-09-13_10-00-22

اوصاف خوارج خود پسندی اور تکبر

خود پسندی اور اپنے عمل کےتئیں خود فریبی

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد !

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےخوارج کی کئی ایک نشانیاں بیان کر کے اس فتنے سے امت کو ڈرایا ہے، کیونکہ وہ دکھنے میں معمولی  اور ان کا گناہ اور انجام بڑا ہی بھیانک ہوتاہے،ان میں سے ایک نشانی اور وصف خود پسندی ہے ،اپنے کام بات کو سب سے اعلی و بہترین سمجھنا اور لوگوں کو حقیر جاننا، یہ کام خوارج میں عام پایا جاتا ہے،وہ بڑے بڑے علماء پر طنز کرتے ہیں ان کے فتاوی جات کا مذاق اڑاتے ہوئے رد کرتے ہیں،اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے،اور ہم ہی سب سے بڑھ کر حق پر ہیں،یہ کام اتنا سنگین ہے کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انس رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  میں نے آپ ﷺ  سے خود یہ حدیث نہیں سنی مجھے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ :

« إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ، حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمُ النَّاسُ، وَتُعْجِبَهُمْ نُفُوسُهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ »

{مسند احمد : 12886}

تمہارے اندر ایک قوم ہو گی جو عبادت کرے گی،اور سخت جانفشانی اور محنت ومشقت کے ساتھ عبادت کرے گی،یہاں تک کہ لوگوں کو انکی کثرت عبادت پر تعجب ہو گا،اور وہ خود پسندی اور غرور میں مبتلا ہو گی،پھر یہ لوگ دین سے اس طرح  نکل جائیں گے،جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

اور ایک روایت میں ہے:

« سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ ، وَسَيَجِيءُ قَوْمٌ يُعْجِبُونَكُمْ ، وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ»

{مستدرک حاکم : 2/ 147 ، 2648}

عنقریب میری امت میں اختلاف اور فرقہ بندی ہو گی،اور ایک قوم ایسی آئے گی،جو{اپنی کثرت عبادت کی بنا پر}تم کو تعجب میں ڈال دے گی،اور انکا نفس انہیں غرور و تکبر میں  مبتلا کر دے گا۔

اور خود پسندی اور غرور و تکبر باعث ہلاکت ہے۔

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

« ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ شُحٌّ مُطَاعٌ وَهَوًى مُتَّبَعٌ  وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ »

{مسند بزار: 7291}

تین چیزیں ہلاک و برباد کر دینے والی ہیں،بخل و حرص،خواہشات نفس کی اتباع،اور اپنی رائے پر مغرور ہونا۔

اور مسند بزار کی ایک روایت میں الفاظ کچھ یوں ہیں:{ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ  }

[مسند بزار: 6491]

آدمی کی خود پسندی اور اس کا اپنے نفس پر مغرور ہونا۔

اس حدیث سے معلوم ہواکہ انسان جب صرف اپنی رائے پر اعتماد کرتا ہے تو اس کے اندر غرور و تکبر پیدا ہو جاتا ہے،اور وہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے، اس کے نتیجے میں وہ اپنی رائے پر نظر ثانی نہیں کرتاہے،اور علماء کی مجالس میں بیٹھنے کی زحمت نہیں کرتاہے تاکہ اس  کی اپنی غلطی اورعیب واضح ہو سکے،بلکہ وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا علامہ اور سب سے بڑا فقیہ سمجھنے لگتا ہے،یہیں سے انحراف شروع ہوتا ہے،اور شیطان خواہش نفس کے زریعہ اسے دھوکہ و فریب میں مبتلا کر دیتا ہے،اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کے دوست و احباب ہوتے ہیں،جو اپنی جہالت کی وجہ سےاس کی بے جا تعریف کرکے اس میں ہوا بھرتے ہیں،اور پھر اس کی ہلاکت کا وقت آجاتا ہے،اور وہ دین سے نکل جاتا ہےپھر بھی وہ سمجھتا ہے کہ وہ مجاہدین میں سے ہے۔

 رسول اللہ ﷺ نے انہی  کے متعلق فرمایا تھا:

{یظھرالاسلام حتی یختلف التجار فی البحر،وحتی تخوض الخیل فی سبیل اللہ،ثم یظھر قوم یقرءون القرآن،یقولون: من اقرا منا؟ من اعلم منا؟من افقہ منا؟ ثم قال لاصحابہ: ھل فی الئک من خیر؟ قالو:اللہ ورسولہ اعلم،قال[اولئک منکم من ھذہ الامۃ،واولئک ھم وقود النار}

{طبرانی الاوسط : 6242}

اسلام غالب ہو گایہاں تک کہ تجار بکثرت سمندری سفر کریں گے،اور گھوڑے اللہ کے راستے میں کود پڑیں گے،پھر ایسے لوگ ظاہر ہوں گے،جو قرآن پڑھیں گے تو کہیں گے کہ ہم سے  بڑا قاری کون ہے؟ہم سے بڑا عالم کون ہے؟ہم سے بڑا فقیہ کون ہے؟ پھر نبی ﷺ نے اپنےصحابہ کرام سے پوچھا کہ کیا ان لوگوں میں کوئی خیر ہے؟انہوں نے فرمایا،اللہ اور اس کے رسول کو بہتر علم ہے،تو آپ نے فرمایا:وہ تم میں سے،اور اسی امت میں سے ہوں گے،اور وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ان ما اتخوف علیکم رجل قرآ القرآن، حتی اذا رئیت بھجتہ علیہ، وکان رداء للاسلام، غیرہ الی ما شاء اللہ، فانسلخ منہ، ونبذہ وراء ظھرہ، وسعی علی جارہ بالسیف، ورماہ بالشرک قال :قلت: یا نبی اللہ، آیھما اولی بالشرک، المرمی ام الرامی؟ قال: بل الرامی  

[صحیح ابن حبان:81 ، مسند بزار7293]

مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس آدمی کے متعلق ہے،جو قرآن پڑھے گا،یہاں تک کہ  جب اس کی رونق و خوبصورتی کے آثار اس پر نظر آئیں گے اور وہ اسلام کا معاون و مدد گار بھی ہو گا،تو وہ اس کو بدل ڈالے گا جس طرح اللہ چاہے گا،پھر وہ قرآن سے نکل جائے گا اور اسے پس پشت ڈال دے گا،اپنے پڑوسی کو تلوار سے مارنے کی کوشش کرے گا،اور اس پر شرک کی تہمت لگائے گا۔حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے نبی[ﷺ]دونوں میں سے شرک کا زیادہ مستحق کون ہوگا؟ جس پر شرک کی تہمت لگائی گئی وہ؟ یا جس نے تہمت لگائی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا شرک کی تہمت لگانے والا۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

{حتی اذا رئی علیہ بھجتہ، وکان رداء اللاسلام، اعتزل الی ما شاء اللہ}  

[مسند بزار: 2793]

یہاں تک کہ  جب  اس کے اوپر قرآن کی رونق و تروتازگی ظاہر ہو گی اور وہ اسلام کا مدد گار بھی ہو گا تو وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے گا۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

{حتی اذا رئیت بھجتہ، وکان رداءالاسلام، اغترہ الشیطان الی ما شاء اللہ}

[ ذم الکلام للھروی : 89]

یہاں تک کہ  جب  اس کے اوپر قرآن کی رونق و تروتازگی ظاہر ہو گی اور وہ اسلام کا مدد گار بھی ہو گاکہ شیطان اس کو دھوکہ و فریب میں مبتلا کر دے گا ۔

قابل غور ہے کہ اس شخص نے بھی بقیہ خوارج کے مثل  اس طرح قرآن پڑھا کہ  وہ حلق سے نیچے نہیں جاتا ہے،اس نے قرآن تو پڑھا ، لیکن بغیر سمجھے،اور اسی وجہ سے اس کو دھوکہ وفریب ہوا،پھروہ لوگوں سےبدظنی اور دین کو غلط سمجھنے کی بنا پر جماعت سے الگ ہو گیا،اور مسلمانوں کی تکفیر شروع کردی،پھر اس کے بعد ان کے خلاف تلوار اٹھائی اور اس کا استعمال پڑوسی سے شروع کیا،حالانکہ پڑوسی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ اس کے ساتھ بھلائی کی جائے،اور اس کو شر سے مامون و محفوظ رکھا جائے،لیکن خوارج کا معاملہ فطرت کے خلاف ہی چلتا ہے،احسان کرنے والوں کے ساتھ دھوکہ دہی،خیانت  اور احسان فراموشی اور ادائیگی حقوق  میں کوتاہی کرنا ہے۔

اسی طرح علامہ ابن کثیر  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قال أبو أيوب: وطعنت رجلا من الخوارج بالرمح فانفذته من ظهره وقلت له: أبشر يا عدو الله بالنار، فقال: ستعلم أينا أولى بها صليا.

قالوا: وجعل علي يمشي بين القتلى منهم ويقول: بؤسا لكم ! لقد ضركم من غركم، فقالوا: يا أمير المؤمنين ومن غرهم ؟ قال: الشيطان وانفس بالسوء أمارة، غرتهم بالاماني وزينت لهم المعاصي، ونبأتهم أنهم ظاهرون

(البدایۃ والنھایۃ : 10/ 588 ) 

ابو ایوب نے بیان کیا کہ میں نے خوارج میں سے ایک شخص کونیزہ مار کر اس کی پیٹھ سے پار کر دیا،اور اس سے کہا کہ اے اللہ کے دشمن!تمہیں جہنم کی آگ کی خوشخبری ہو،تو اس نے کہا،تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون جہنم میں داخلےکا زیادہ مستحق اور سزا وار ہے۔

علی رضی اللہ عنہ  ان کے مقتولین کے درمیان چلتے ہوئے کہنے لگے، تمہاراستیا ناس ہو ،بے شک تمہیں اسی نے نقصان پہنچایا جس نے تمہیں دھوکہ میں  ڈال دیا،لوگوں نے پوچھا کہ اے امیر المؤمنین! کس نے ان کو دھوکہ دیا؟ تو انہوں نے فرمایا:شیطان نے اور نفس نےجو برائی پر ابھارتا ہے،خواہشات کے ذریعے ان کودھوکہ دیا،اور معاصی اور گناہ کے کاموں کومزین و خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کیا،اور انہیں یہ بتایا کہ وہ غالب ہونے والے ہیں۔

خوارج کی خود فریبی کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اعمال کی تعریف کرتے ہیں،اور اس کے ذریعے سادہ لوح و نا تجربہ کار نوجوانوں کوشکوک و شبہات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  اللہ تعالی ہمیں ان جیسے تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے،اور منہج سلف کے مطابق دین اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے  آمین




Alfitan,Tabee

مشہور تابعی یزید الفقیر خوارج کے چنگل سے کیسے بچے

Alfitan,Tabee

مشہور تابعی یزید الفقیر خوارج کے چنگل سے کیسے بچے ! 

          الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

مشہور تابعی یزید الفقیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

             میں نوجوان تھا،میں نے قرآن پڑھا توخوارج کی ایک جماعت مجھ سے بے حد قریب ہو گئی،یہ لوگ مجھے اپنے مذہب اور فکر کی دعوت دینے لگے،اللہ کی مشیت دیکھو کہ میں ان کے ساتھ حج کیلئے بھی نکل گیا ،اسی دوران انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر تمہیں محمد ﷺ کے صحابہ میں سے کسی سےملاقات کرنے کی رغبت ہےتو ہمارے ساتھ چلو۔تو میں ان کے ساتھنکل پڑا تو  صحابی رسول  ﷺ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ،تو انہوں نے کہا : اے ابو سعید!ہم میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور خوب پڑھتے ہیں، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ابھی یہی باتیں چل ہی رہیں تھیں کہ  انہوں (خوارج ) نے ہمارے خلاف تلوار سونت لی،تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا  کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:

         إنَّ قوماً يقرأون القرآن لا يُجاوِز تراقِيَهم، يمرُقون من الإسلام كما يَمْرُق السّهم من الرَمِيَّة

             کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے،مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا،وہ اسلام سےاسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

(الطیوریات:  2/713 ، تاریخ الکبیر للبخاری : 3251 )

واقعہ کی تشریح :

             یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اس نوجوان(یزید الفقیر)نے قرآن تو پڑھ لیا تھا،لیکن اس کے پاس علم نہیں تھا، اور نہ وہ اہل علم کی صحبت میں رہا تھا،لہذا خوارج نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھایا،وہ اس کے آگے پیچھے رہتے،،اور اس سے جدا نہ ہوتے، اسے اپنے مذہب کی دعوت دیتے رہتے،پھر اس کو حج کی رغبت دلائی،تاکہ اس دوران اس سے تنہائی میں ملیں،اور اپنے شکوک و شبہات اور اپنے منہج سے اس کوآسودہ و مطمئن کردیں،جیسا کہ خوارج کا طریقہ ہےکہ وہ نوجوانوں کو ایسی جگہوں میں چلنے کی دعوت دیتے ہیں،جو اہل و عیال اور حکام کی نظروں سے دور ہوں،جیسے دور دراز  علاقوں میں کیمپ لگانا،حج و عمرہ کیلئے سفر کرنا،صحرا اور بیابانوں کی طرف جانا وغیرہ ۔

           پھر ان خوارج نے اس نوجوان کوصحابی  رسول ﷺ  سے ملاقات کی دعوت دی،تاکہ  صحابی  رسول ﷺ   سے مل کراس نوجوان کے سامنے یہ ظاہر کریں کہ وہ جس چیز کی دعوت دے رہے ہیں،وہ سب درست  ہے، صحابی  رسول ﷺ   کے پاس وہ اس لئے نہیں گئے تھے کہ ان کے علم سے استفادہ حاصل کریں،اور ان سے کچھ سیکھ سکیں،بلکہ اس لیے گئے تھے کہ ان سےوہ اپنے اعمال کی مدح و ستائش کروا سکیں۔ 

            چنانچہ انہوں (خوارج ) نے کہا : اے ابو سعید! (رضی اللہ عنہ) ہمارے اندر بہت سے ایسے لوگ ہیں  جو قرآن بہت زیادہ پڑھتے ہیں، اور عموما ایسا اس لیے کہا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے کی تعریف کی جائے، یا اس سے سکوت اختیار کیا جائے، اور نکیر نہ کی جائے، اور یہ اس نوجوان کے نزدیک ان کے مذہب کو صحیح ثابت کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے،جو ان کے ساتھ چل کر گیا ہو،ان کی صحبت میں رہا ہو،اور صرف ان کے ظاہری تقویٰ و صلاح کو دیکھتا ہو۔

           لیکن چونکہ صحابی  رسول ﷺ صاحب بصیرت اور سنت کا پختہ علم رکھتے تھے ،اور وہ ان لوگوں سے اچھی طرح واقف تھے،اس لیےانہوں نے ان کو ان خوارج کی چاہت کے مطابق جواب نہیں دیا، بلکہ ان کوبے نقاب کر دیا، اس پر انہوں نے اپنی حقیقت ظاہر کرتے ہوئےاپنا حقیقی چہرہ دکھایا اور تلوار  اٹھالی،اور اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کوایک عالم صحابی کی مجلس میں صرف ایک  مرتبہ بیٹھنے کے باعث خوارج کے شر سے بچا لیا۔

          ہمارے زمانے میں ٹھیک یہی صورت حال ہے کہ خوارج جب کسی نوجوان کواکیلے میں پاتے ہیں تو یہی کام کرتے ہیں، اور اسے صرف انہی لوگوں کے پاس لے کر جاتے ہیں،جن کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں،اور جن سے وہ مطمئن ہوتے ہیں،تاکہ ان کا معاملہ طشت از بام نہ ہو جائے،اور ان کی چال ناکام نہ ہو جائے،اور کبھی پہلے سے اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے،اور یہ کام بڑے ہی منظم طریقے سے کیا جاتا ہے،اسی کے ساتھ وہ اپنے جس شیخ یا پیشوا کے پاس نوجوان کو لے کر جاتے ہیں،اس کی شان میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں،اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں،اور اس کے اوپرالقاب و آداب کا بالہ بنا کر اسے آسمان تک اٹھا دیتے ہیں،تاکہ اس کے ذریعے کمزور لوگوں کو شکار کر لیں۔

         جبکہ یہ طریقہ کار بالکل بھی اہل سنت اور اہل علم کا نہیں رہا بلکہ یہ اس کے مخالف ہے ،کیونکہ علمائے اہل سنت نہ اپنی تعریف کرتے ہیں اور نہ ہی اسے پسند کرتے ہیں۔

       حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

       نفع بخش علم والے علماء کی علامات میں سے یہ ہےکہ وہ اپنے لیے نہ کسی حال کے قائل ہیں،اور نہ مقام کے،وہ تو تزکیہ اور مدح وستائش کودل سے ناپسند کرتے ہیں، وہ کسی طرح کا تکبر نہیں کرتے،اور نہ اپنے آپ کو کسی سے بڑا سمجھتے ہیں،اور جیسے جیسے ان کے علم میں اضافہ ہوتا ہے،اللہ کیلئے ان کی تواضع،خشیت اور عاجزی و انکساری میں اضافہ ہوتا ہے۔

اور نفع بخش علم کی علامات میں سے یہ ہے کہ یہ علم آدمی کو دنیا سے دور رہنے کی رہنمائی کرتا ہے،اور دنیا کی سب سے بڑی چیز ریاست و حکومت،شہرت و ناموری اور مدح و ستائش ہے۔

(بیان فضل علم السلف علی الخلف ص8)

حاصل کلام :

الغرض یزید الفقیر رحمہ اللہ کے اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علمائے اہل سنت کی ہم نشینی اختیار کرنے اور ان کی مجالس میں بیٹھنے سے انسان منحرف افکار ونظریات سے اور قرب قیامت اس زمانے میں بارش کے قطروں کی طرح پیدا ہونے فتنوں سے نجات پائے گا اور اپنے آپ کو محفوظ کر لے گا۔

ماخوذ از:

خوارج اور ان کے اوصاف

(ڈاکٹر محمدغیث)