مرجئہ اور خوارج میں تقابل۔ علامہ بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ ​

مرجئہ اور خوارجمرجئہ اور خوارج میں تقابل

علامہ بدیع الدین شاہ الراشدی رحمہ اللہ  ​

 

مرجئہ کا نظریہ ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ نہیں ہیں ـجبکہ خوارج یہ نظریہ رکھتے ہیں ایک گناہ کا مرتکب بھی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ـ یعنی دو گروہ ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں ـ ادھر یہ کچھ بھی کریں کافرنہیں ہوتے ، ادھر ایک گناہ کریں تو کافر ہو جائیں ـ ہم اہل السنہ والجماعہ ان دونوں گروہوں کے درمیان میں ہیں ـ اللہ تعالٰی نے خود اس کی گواہی دی ہے ـ فرمان باری تعالٰی ہے :

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّ‌سُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا

سورہ البقرہ 143

ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو جائیں

وسط کے مطلب کی آئندہ الفاظ میں وضاحت کریں کہ-

لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ-عَلَى النَّاسِ

لوگوں کے گواہ تم بنو ، ـ

اور تماری گواہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیں ـ

وَيَكُونَ الرَّ‌سُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ـ

اس سے واضح ہوا کہ عدل والی چیز وہ ہے جو اللہ تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ہے ـ اس کے علاوہ سب افراط اور تفریط ہے ـ قرآن و سنت افراط و تفریط سے پاک ہیں ـ وحی الٰہی کی بتائی ہوئی ہر چیز کے ہم قائل ہیں ، ہم نے دونوں طرح کے دلائل کو مانا ہے ـ ہم نصوص کا آپس میں ٹکراؤ ہیدا نہیں کرتے ـ

مرجئہ نے اس طرح کے دلائل کو لیا ”

( من قال: لا إله إلا الله، دخل الجنة)

جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہو گا ”

اور باقی جو اعمال کے دلائل تھے ان کو پسِ پشت ڈال دیا ـ حالانکہ کہ لا الہ الا اللہ کا معنی یہاں بغیر اعمال کے پورا نہیں ہوتا ـ کیونکہمن قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ ” کے دو احتمال ہیں ـ

اولا : یا تو اس میں حصر کا مطلب یعنی اس سے خارج کوئی ایمان نہیں

دوم :: یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایمان کا ایک شعبہ ہے ـ

اولا الذکر میں حصر کا مطلب نہیں ہوسکتا ،کیونکہ اگر حصر کا معںٰی لیں گے تو مراد یہ ہوگی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول نہیں ہیں ـ

اب سوال ہے کہ آیا اس شخص کو مسلمان مانا جائے گا جو یہ بات کہتا ہے ـ ‘ کیونکہمن قال لا الہ الا اللہکہنے سے اگر جنت میں داخل ہو جائے گا ـ اگرچہ وہ نہ قیامت کو مانے نہ رسالت کو ! اگر حصر کا معنٰی کریں گے تو یہی مطلب ہو گا ـ

اور حقیقت یہ ہے کہ یہاں حصر نہیں ہے بلکہ اس کا معنٰی و مفہوم یہ ہے کہ ” لا الہ الا اللہ ” ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے ـ جو تمام شعبوں میں سے اعظم اور اعلٰی ہے ـ جس کے فقدان سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے ـ

یہ ایسا شعبہ ہے جس کے فقدان سے کل کا فقدان لازم آتا ہے- لہذا ان لوگوں کی اصطلاحات صحیح نہیں اور جو مذکور بالا اصول کو نہیں مانتا وہ مسلمان ہی نہیں ہے ـ تو مرجئہ نے ایک طرف کے دلائل کو لیا اور خوارج نے اعمال کے حوالے سے وارد و وعید والی آیتوں اور حدیثوں کو لے لیا اور دوسری جانب سے دلائل کو ترک کر دیا ـ لہذا دونوں گروہ ایک طرف کو تھامنے اور دوسری جانب کو چھوڑنے کے باعث ہلاک ہو گئے ـ

جبکہ ہم اہل الحدیث دونوں پر ایمان رکھتے ہیں ، ہم کہتے ہیں کہ اعمال ایمان کا حصہ ہیں َ ایمان کے اجزاء ہیں ، ان کی کمی سے ایمان گھٹتا ہےاور بڑھنے سے بڑھتا ہے ـ یہی صحیح بخاری کی کتاب الایمان میں بیان کردہ سلف کا عقیدہ ہے ـ مگر اس عقیدہ کے ساتھ ساتھ ہم کسی کی تکفیر کے قائل نہیں ہیں ـ ہم کسی کو کافر اسی عمل کے ارتکاب پر کہیں گے جس عمل پر تکفیر کے لیے نص وارد ہوئی ہو ـ

قرآن وحدیث میں جس گناہ گار کو کافر کہا گیا ہے ، اور جس فریضہ کے تارک کو کافر کہا گیا ہے ، ہم اسی کو کافر کہیں گے ہم اہنی طرف سے کفر کی تشریح نہیں کریں گے جیسا کہ خوارج نے کی –

یہ چند بڑے اختلافات تھے ـ اب جہمیہ میں بعض ایسے ہیں جو بلکل انکار کرتے ہیں ـ کچھ ایسے ہیں جو تاویل کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صوفیہ نکلے ـ ادھر مقابلہ اور معتزلہ و خوارج کا ہے ـ اور قدریہ اور جبریہ کا ہے ـ ہمارا عقیدہ ان تمام کے عقائد کے درمیان کا عقیدہ ہے ـ

بنیاری طور پر اصول یہ ہے کہ انسان اگر تمام اصو لوں کو سامنے رکھے تو عقائد کا لینا آسان ہوجاتا ہے ـ جیساکہ ربِ تعالٰی کا فرمانِ مبارک ہے :

هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ‌ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّـهُ ۗ وَالرَّ‌اسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَ‌بِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ‌ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ ”

(وہی اللہ تعالٰی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں ـ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں ، فتنہ کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے ، حالانکہ اس کی حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالٰی کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ اور مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لا چکے ہیں ، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں)

(سورة آل عمران-7 )

یہاں زیغ کا ہی نتیجہ ہے کہ یہ تمام فرقے منحرف ہو گئے اور راہ راست سے ہٹ گئے ـ اگر ان میں زیغ نہ ہوتا تو کم ازکم ان آیات پر تو عمل کرتے جو محکم ہیں ، جن میں اعتراض کی گنجائش نہیں ہے ـ لہذا معترضین ان آیات کا معنٰی نہیں کرتے جن میں تشابہ پایا جاتاہے ، اس لئے کہ یہ منکرینِ حدیث ہیں جو کہتے ہیں کہ فلاں روایت میں یہ ہے اور فلاں میں ـ لہذا جو تمہاری عقل کے مطابق ہے اس پر عمل کرو !ـ

یہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں کہ جیسا کہ اہل الرائے کرتے ہیں کہ اپنی تاویلات کو لیکر باقی کو رد کردیتے ہیں ـ رب تعالٰی کا فرمان ہے ” ھن ام الکتاب ” یہ اصل اور بنیاد ہے ـ اہل زیغ متشابہات کے پیچھے چلتے ہیں ـ جبکہ اللہ تعالٰی نے یقین عطا کیا ہے ، ان کا وطیرہ یہ ہے کہ

رَ‌بَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَ‌حْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ ”

(ائے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل میں ٹیڑھے نہ کردے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما ، یقننا تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے ـ)

(سورة آل عمران-8 )

تو یہ ایسا ماحول تھا کہ جس میں ان مسائل پر لکھنے کی بہت ضرورت تھی ـ اس لئے امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ کتاب مرتب فرمائی ـ گذاشتہ صفحات میں ان باطل عقائد کے حامل گروہوں کی توحید بیان ہوئی اب ہم اپنی اہل السنہ والجماعہ کی توحید سے متعلق وضاحت کرتے ہیں :

”ہماری توحید یہ ہے کہ ہم اللہ تعالٰی صفت وہ بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالٰی نے خود اپنے لئے بان کی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے حوالے سے بیان کی ہے ـاور اس صفت کی نفی کرتے ہین جس کی خود اللہ تعالٰی نے نفی کی ہے ـ اور جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی کی ہے ـ اپنی طرف سے ہم نہ اثبات کرتے ہیں نہ نفی کرتے ہیں ـ اور اگر ہم کوئی ایسی صفت اللہ تعالٰی کے لیے بیان کردیں جو اللہ تعالٰی کی صفت نہ ہو تو گویا ہم نے اللہ تعالٰی پر وہ بات کہی جس کے کہنے کا ہمیں حق نہیں ـ حالانکہ یہ گناہ سب سے بڑا حتی کہ شرک سے بھی بڑا ہے ـ

قُلْ إِنَّمَا حَرَّ‌مَ رَ‌بِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ‌ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ‌ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِ‌كُوا بِاللَّـهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔

” آپ فرما دیجیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اس بات کوکہ اللہ کےساتھ کسی ایسی چیزکوشریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو تم لوگ اللہ کے ذمہ ایسی بات نہ لگا دو جس کو تم جانتے نہیں “

(الاعراف-33 )

یہ شیطانی کام ہے کہ ہم اللہ تعالٰی پر وہ بات کہیں جس کا ہمیں علم نہیں ـ لہذا جس صفت کا ذکر نہیں ہم اس سے خاموش ہیں ـ اگر ہم نے یہ کہ دیا کہ یہ صفت اللہ کی نہیں تو مطلب ہوا کہ اللہ کی طرف سے ایسی بات منسوب نہ تھی ، اور اگر موجود ہے تو ہم نے اللہ کی طرف نقص کی نسبت کردی ـ

لہذا سلامتی کا طریقہ یہی ہے جس طرح سلف رحمہم اللہ کا عقیدہ ہے ـ اسی چیز کو ثابت کیا جائے جو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور اسی چیز کی نفی کی جائے جس کی کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نفی کی گئی ہے ـ اور جہاں سکوت ہے وہ سکوت اختیار کیا جائے ـ

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”

أهل البدع الذين يتكلمون في أسماء الله وصفاته وكلامه وعلمه وقدرته، ولا يسكتون عما سكت عنه الصحابة والتعابعين

(اہل ِ بدعت وہ ہیں جو اللہ کی ذات اس کے کلام اور اسکی صفات میں بات کرتے ہیں ـ اور اس چیز پر خاموش نہیں رہتے جس پر صحابہ و تابعین خاموش رہے تھے ”)

اور جب استواء کا مسئلہ آیا تو آپ نے فرمایا

الاستواء معلوم والكيف مجهول والايمان به واجب ,والجحود کفر والسؤال عنه بدعة 

(عرش پر مستوی ہونا معلوم ہے ، لیکن اسکی کیفیت مجہول ہے ـ اور اس پر ایمان لانا واجب ہے ـ اس کا انکار کفر ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے)

اہل الرائے پر بہت تعجب ہوتا ہے ـ ہم ان سے سوال کرتے ہیں ، اللہ تعالٰی کی توحید اور اس کی صفات کے سب سے پہلے مخاطب کون لوگ تھے ؟ یقننا وہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے ـ انہوں نے ان صفات کو سنا تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بابت سوالات کئے ؟ کیا وہ معنی جانتے تھے یا نہیں ؟ وہ بھی جانتے تھے کہ اللہ تعالٰی کے لیے جسم نہیں ہوسکتا ، تشبیہ بھی نہیں ہوسکتی ، انہوں نے اس بابت سوالات نہیں کئے ـ کیا سوال نہ کرنے سے ان کے ایمان میں کوئی نقص آیا ؟ بغیر سوال کے ان کا ایمان کامل و مکمل تھا ـ تو جب ان کا ایمان صفات میں سوال کئے بغیر مکمل ہوتا ہے تو ہمارا کیوں نہین ہوتا ـ ؟ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم خوامنخواہ تفصیل پوچھیں کہ بھائی استواء کیا ہے ؟ـ معنی معلوم ہے اور اللہ کی ذات بے مثل و بے مثال ہے ـ ان چند لفظوں میں ہماری توحید ہے جبکہ اہل باطل کی توحید جھگڑے اور تنازعات سے معمور ہے ـ

جتنا انسان ان مسائل کی تہہ میں جائے گا اتنا ہی الجھے گا ـ لہذا ضروری ہے کہ انسان تکلف میں نہ پڑے جو چیز سمجھ میں آجائے اور اس پر عمل کرے اور جو مشکل ہو ” فیکله الی عالمه -اس کو اہل علم کے سپرد کردے ” اور اسی پر اکتفا کرے ـ قرآن ایمان لانے کے لیے اتارا گیا ہے کوئی اکھاڑے بنانے کے لئے نہیں ـ

لہذا امام بخاری رحمہ اللہ و دیگر محدثین نے ان باطل نظریات و عقائد (جن کے ذریعے لوگوں نے کھیل تماشا بنا کر مسائل گھڑے )کی مکمل طور پر ناکہ بندی کی ـ اسی وجہ سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک مستقل باب قائم کیا ” باب اجیاد الاحاد ” اور اسی طرح ان کا جو حیلہ اور مکر تھا اس کا بھی ایک الگ اور مستقل عنوان قائم کیا ـ کیونکہ اہل الرائے ہر معاملے میں حیلہ اور مکر سے کام لیتے ہیں َ شیعہ کے ہاں ” تقیہ ” اور اہل الرائے کے ہاں ” حیلہ ” دونوں ایک ہی عمل ہیں ـ دونوں اصطلاحات کا مقصد ایک ہی ہے کہ ہر چیز جائز ہوجاتی ہے ـ

وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین ـ

بشکریہ البیان میگزین کراچی ـ