موجودہ پر فتن دور میں کرنے کے کام احادیث کی روشنی میں

موجودہ پر فتن دور میں کرنے کے کام احادیث کی روشنی میں 

آئیے پُر فتن دور میں کرنے کے چند کاموں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جن کی پابندی ایک عام مسلمان کے لئے ازحد ضروری ہے تا کہ وہ قُرب قیامت فتنوں سے محفوظ رہ سکے:

دانائی سے کام لیں:

جب فتنے ظاہر ہونے لگیں یا حالات بدلنے لگیں تو ایسے نازک حالات میں نرمی و بردباری اور دانائی سے کام لیں اور جلد بازی نہ کریں۔ نرمی اس بنیاد پر کہ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس کو عمدہ بناڈالتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جاتی ہے اس کو عیب دار بنادیتی ہے۔ سارے کاموں میں نرمی کا خیال رکھیں، رحم دلی سے پیش آئیں، غصہ ور نہ بنیں ۔ دانائی اس لیے کہ آپ ﷺنے قبیلہ عبدالقیس کے اشجع نامی آدمی سے کہا تھا’’تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں بردباری اور دانشمندی‘‘ دانشمندی و دانائی عمدہ خصلت ہے ۔فتنے کے لمحات اور بدلتے حالات کے وقت بردباری قابل ستائش ہے کیونکہ بردباری کے ذریعے ہر چیز کی اصلیت و حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے۔

غوروفکر کے بعد ہی حکم لگائیں:

فتنہ کے ظہور اور حالات کے بدلتے وقت بغیر سوچے سمجھے آپ کسی چیز کے بارے میں حکم نہ لگائیں اس قاعدہ پر عمل کرتے ہوئے کہ ’’کسی چیز پر حکم لگانا اس پر غوروفکر کرنے کے بعد ہوا کرتا ہے‘‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

‹ولاتقف مالیس لک بہ علم›  

(سورہ اسراء: 63)

 ’’جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ‘‘ یعنی ایسا معاملہ جس کو آپ نہیں جان رہے ہوں، اس کا پاس وخیال نہ ہو اور نہ ہی آپ کے پاس اس بارے میں کوئی ثبوت ہو تو اس سلسلے میں بات کرنے سے بچیں، چاہے آپ اس میں لیڈر بنیں ۔

عدل وانصاف کوملحوظ رکھیں:

تمام کاموں میں عدل وانصاف کو لازم پکڑیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو،گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو۔“(سورہ انعام) اور فرمان الہی ہے:”کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کردے،عدل کیا کروجو پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔“ (سورہ المائدہ﴾ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ جس جماعت سے محبت کرتے ہیں اور جس جماعت سے محبت نہیں کرتے دونوں کو ایک میزان وکسوٹی پر رکھ کر پرکھیں اور اس کے بعد حکم لگائیں۔

جماعت کولازم پکڑیں:

اللہ تعالی کا فرمان ہے: ‹وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا›

اوراللہ تعالی کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو ۔“

(آل عمران : 103)

اورنبی ﷺ نے فرمایا:”جماعت کو لازم پکڑو اوراختلاف سے بچو۔“

(ابوداؤد)

حضرت عثمان رضى الله عنه منیٰ میں اتمام کرتے تھے جبکہ سنت یہ ہے کہ نمازی منیٰ میں ہر چار رکعت والی نماز کو دو دو رکعت پڑھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شرعی تاویل کی بناءپر چار رکعت ہی پڑھتے رہے ،اس کے باوجود حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہکہا کرتے تھے نبی ﷺ کی سنت یہی ہے کہ ہرچار رکعت والی نماز دورکعت ہی پڑھی جائے، ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کہتے ہیں اور حضرت عثمانرضی اللہ عنہکے ساتھ چار رکعت پڑھتے ہیں آخرکیوں؟ تو انہوں نے فرمایا:”اختلاف بری بات ہے  

(سنن ابوداود)

 اور ایسا ان کے شرعی قاعدہ کو سمجھنے کی وجہ سے ہوا کیونکہ جو اس کے برخلاف کرے گا اسکے اور دوسروں کے فتنہ میں پڑنے سے مامون نہیں رہا جاسکتا۔

شرعی میزان پر پرکھیں:

جھنڈے جو فتنہ میں اٹھائے جاتے ہیں خواہ وہ دعاةکے ہوں یاملکوں کے‘ ضروری ہے کہ مسلمان ان کو صحیح کسوٹی پر وزن کریں ۔آپ دیکھیں کہ اس میں خالص اللہ تعالی کی عبادت وبندگی ہے یا نہیں ؟۔ رسالت محمدی کی گواہی پوری کی جاتی ہے یانہیں؟اوراس گواہی کا تقاضا ہے کہ شریعت مصطفوی کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔ کسوٹی پر پرکھنے کے بعد آپ پر لازم ہے کہ آپ کی محبت اس میزان کے لیے ہو جو صحیح طور پر اسلام کو بلندو بالا کرتا ہے ، پھرآپ ایسے لوگوں کو مخلصانہ نصیحت کریں۔ جب یہ میزان مشتبہ ہوجائے تو اس سلسلے میں مرجع علماء ہوں گے کیونکہ وہی لوگ صحیح شرعی حکم جانتے ہیں۔

فضیل بن عیاض رحمه الله اپنے وقت میں سلطان کے لیے کافی دعا کرتے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ ان کے لیے اپنے سے زیادہ دعا کرتے ہیں؟ فرمایا :ہاں کیونکہ اگر میں درست رہا تو میری درستگی اپنے لیے اور اپنے اردگرد رہنے والوں کے لیے ہوگی ، رہا سلطان کی درستگی تو وہ عام لوگوں کے لیے ہوگی۔

قول وعمل میں چوکس رہیں:

فتنے کے وقت گفتاروکردارکے کچھ الگ ہی ضابطے ہوتے ہیں چنانچہ ہروہ بات جو آپ کو اچھی لگے اسے کہہ ڈالنا یا ہر وہ کام جو اچھا لگے اسے کر گزرنا مناسب نہیں، کیونکہ فتنے کی گھڑیوں میں ایسا کرنے سے متعدد مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔

تعجب کی بات نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے کہا:

’’میں نے رسول اللہ ﷺ  سے دو بھرے برتن کے مانند حدیثیں یاد کیں (یعنی دوقسم کا علم سیکھا) جن میں سے ایک کو میں نے عام کردیا اور اگر دوسرے کوعام کرتا تو میری گردن کاٹ دی جاتی۔‘‘

(صحیح بخاری)

علماءکا کہنا ہے کہ اس سے مراد ایسی حدیثیں ہیں جو فتنے اور بنو امیہ وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں،شرعی احکام سے متعلق نہ تھیں اورحضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے یہ بات حضرت معاویہ رضى الله عنه کے زمانے میں کہی جبکہ لوگ گھمسان کی لڑائی اورجنگ وجدال کے بعد ان کے سایہ تلے اکٹھا ہوچکے تھے، انہوں نے انہیں اس لیے چھپا لیا تاکہ لوگ جدائی کے بعد حضرت معاویہ رضى الله عنه پر جو یکجا ہوچکے تھے پھر لڑنے بھڑنے نہ لگیں۔ اسی لیے حضرت ابن مسعود رضى الله عنه فرماتے ہیں: ’’آپ لوگوں سے کوئی ایسی بات نہ کریں جو ان کی سمجھ سے باہر ہو اور ان کے لیے فتنہ کا سبب بن جائے‘‘  (صحیح مسلم)

فتنے کے وقت لوگ بات کواچھی طرح سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں،لہذا ہر وہ بات جو معلوم ہے‘ نہیں کہنی چاہیے ، زبان پر لگام لگانا ضروری ہے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کی بات پر کیسے اثرات مرتب ہونگے؟آپ کی رائے کیا رنگ لائے گی؟ سلف رحمہم اللہ اپنے دین کی سلامتی کے پیش نظر فتنوں کے وقت بہت سارے مسائل میں خاموش رہے تاکہ اللہ سے امن وسلامتی کے ساتھ ملیں۔

صحیح بخاری کی روایت ہے،نبی صلى الله عليه وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ’’اگر تمہاری قوم کے لوگ کفر سے قریب نہ ہوتے(نئے مسلمان نہ ہوتے)تو کعبہ کو ڈھاکراس کو قواعد ِابراہیمی پربناڈالتا اور اس میں دو دروازے لگا دیتا۔‘‘ نبی پاک صلى الله عليه وسلم کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کفارِقریش جو نئے نئے اسلام لائے ہیں کعبہ کو توڑکر اسکو قواعدِابراہیمی پر بنانے اور اس میں دو دروازے لگانے (ایک سے داخل ہواجائے اور دوسرے سے نکلا جائے)سے ایسا نہ ہو کہ لوگ غلط سمجھ لیں یا یہ سمجھ لیں کہ آپ فخر کرنا چاہتے ہیں یا آپ دینِ ابراہیمی کی بے حرمتی کرنا چاہتے ہیں یا کچھ اور خیال کربیٹھیں اس لیے آپ نے اسکو چھوڑدیا۔

نیک اعمال کا التزام و اہتما م :

جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے ۔

’’بادروا بالاعمال فتنا کقطع الیل المظلم‘‘

’’لوگو! سخت سیا ہ رات کی طرح گھنے فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو  ( کیونکہ وہ فتنے اتنے خطر ناک ہوں گے کہ ) صبح کے وقت بندہ مؤمن ہو گا تو شام تک کافر ہو جائے گا اگر شام کو مؤمن ہو گا تو صبح تک کافر ہو جائے گاآدمی دنیا کے معمولی مفاد کے عوض اپنا دین بیچ دے گا ۔ ‘‘

اور کثرت سے اللہ کی عبادت کا اہتمام : کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا :

’’العبادۃ فی الھرج کا لھجرۃ الی‘‘ 

’’قتل و غار ت کے دور میں عبادت کرنا میں محمد ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کے مترادف ہے ۔ ‘‘

( صحیح مسلم رقم 2948) ( الشریعہ لآجری ص49 رقم 82)

فتنوں کے ایام میں مسلمان کے خلاف زبان اور ہاتھ کو روک لینا :

جیسا کہ سیدنا علی اور امیر معاویہرضی اللہ عنہکے درمیان ہونے والی جنگوں کے موقع پر سیدناعلیرضی اللہ عنہ ایک صحابی کے پاس آئے اور کہا کہ میرے ساتھ میدان جنگ میں چلو۔ تو اس صحابی نے کہا: میں نے نبیﷺ سے سنا ہے فتنوں کے دور میں تو لکڑی کی تلوار بنا لینا ( اور اب  جبکہ دو مسلمان گروہ باہم برسرپیکار رہیں ) اور میرے پاس لکڑی کی تلوار ہی ہے، اگراسی طرح پسند  کرتے ہیں تو چل پڑتا ہو ں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کو چھوڑ کر چلے گئے ۔

کسی کلمہ گو شخص یا جماعت یا ادارہ کی تکفیر سے اجتناب کرنا :

اگر آپ کو کسی شخص کے بارے میں کسی بات یا عمل کا علم ہوتا ہے تو آپ اس شخص یا ادارہ یا جماعت پر کفر کا حکم لگانے کی بجائے اس کے کفر یہ قول یا فعل پر حکم رکھیں ۔کہ اس کا فلاں کام یا بات کفر یہ یاشرکیہ ہے یعنی حکم عمل پر رکھیں افراد پر نہیں یہ سب سے محتاط انداز ہے اور اس معیّن شخص وغیرہ کی تکفیر سے اجتناب کریں ۔کیونکہ یہ آپکے ذمے نہیں !

فتنہ پرور لوگوں کی محافل سے کلی اجتناب

کم علم تکفیری اورگمراہ کن نظریا ت کے حامل لوگوں کی مجالس اور ان کے ساتھ بحث سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور دوست اگر برے ہوں تو بندہ بھی برا ہی سمجھا جاتا ہے۔

آخر میں ہم دعا گوہیں  کہ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اس فتنہ عظیم(فتنہ تکفیر) سے محفوظ فرمائے اور سیدھی راہ پر گامزن رکھے۔

آمین یا رب العالمین




باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا اہل سنت کا اصول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کا معمول

بعض سادہ لوح افراد کا یہ ماننا ہے کہ ہم ظاہر کا اعتبار کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں ہر کلمہ گو کے ساتھ اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیوں کہ ہرکسی کے پاس کچھ نہ کچھ خیر رہتا ہے، لہذا ہم کسی کے تعلق سے کسی کو چوکنا نہ کریں۔

شریعت کی رو سے یقیناً ہم ظاہر کے پابند ہیں ،اور اہل علم کسی بھی باطل فرقے اور گمراہ  کن تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں کی بنا پر ہی ان سے چوکنا کرتے ہیں ، کیوں کہ منحرف افکار اور غلط طریقہ کار اختیار کرنے والوں سے چوکنا کرنا اہل سنت کا اصول اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و تابعین کا معمول رہا ہے، جیسا کہ گزشتہ آرٹیکلز میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے متشابہ آیات کے پیچھے لگے رہنے والوں سے امت کو چوکنا کیا

(صحیح البخاری:4547)

اور بالخصوص خوارج کے متعلق فرمایا کہ جہاں کہیں تمہیں یہ ملیں تم ان کا قتل کرو کیوں کہ ان کے قاتل کے لیے روز قیامت اجر عظیم ہے۔

(صحیح البخاری:5057)

اورنبیﷺ کا فرمان ہے کہ اگریہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

( صحیح البخاری:7432)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے سے زیادہ خوارج سے جنگ کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 37886)

امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ خوارج سے جنگ کرنے میں اسلام کے اصل سرمایے کی حفاظت ہے، اور مشرکین سے جنگ کرنے میں نفع حاصل کرنا ہے، اور اصل سرمایے کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے ۔

(فتح الباری لابن حجر:37886)

اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ عدویہ نے حائضہ کی نمازوں کی قضا کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے انہیں خوارج سے چوکنا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم حروریہ (خارجی)ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں ، لیکن (معلومات حاصل کرنے کے لیے )سوال کر رہی ہوں ۔

(صحیح مسلم :ح69)

معاذہ عدویہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ گمراہ افکار  و افراد سے عوام کوبھی واقف رہنا چاہیے جیسا کہ وہ ان سے واقف تھیں اسی لیے کہا کہ میں حروریہ (خارجیہ)نہیں ہوں ، اوراگروہ خوارج سے واقف نہ ہوتیں تو ان کا جواب اس طرح نہیں ہوتا بلکہ سوال یہ ہوتا کہ حروری کون ہیں؟

مزید پتہ چلا کہ عوام کبھی طہارت ونماز کے مسائل سے ناواقف رہ سکتی ہے ، لیکن غلط نظریات کے حاملین سے انہیں واقفیت ضرور رہنی  چاہیے۔

جہاں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گمراہوں سے چوکنا کیا وہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی خوداپنے طور پر شر سے بچنے کی فکر کرتے اور رسول اللہ ﷺ سے شر کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری:ح3606)

وہب بن منبہ رحمہ اللہ اپنے کمسن سادہ لوح شاگردوں سے فرماتے کہ تم خوارج سےہوشیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہ سوچ و افکار میں پھنسا نہ لیں کیوں کہ وہ اس امت کے لیے شر ہیں۔

(سیرآعلام النبلاء، الطبقۃ الثانیہ ،وھب بن منبہ :ج4،ص553)

امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قدیم و جدیدزمانے کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ خوارج نمازی ، روزے دار، اور بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود بہت بری قوم ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں ، ان کی یہ ساری عبادتیں ان کے لیے کار آمد نہیں ،وہ امر بالمعروف و نہیں عن المنکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے مفید نہیں کیوں کہ یہ ایسی قوم ہیں جو اپنی خواہشات کی بنا پر قرآن کی تاویل کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں چوکنا کیا نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا خلفائے راشدین نے ان سے ہوشیارکیا اور دیگر صحابہ و تابعیں نے بھی ان کے خلاف شعور بیدار کیا اس لیے کہ یہ اور ان کے پیروانجاس وار جاس (نجس و ناپاک ) ہیں ،جو حاکموں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔

(الشریعہ ،باب ذم الخوارج،ج1،ص325)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خوارج یہودونصاری سے زیادہ مسلمانوں کےلیےشر ہیں کیونکہ وہ ہراس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے ہیں جو ان کا موافق نہ ہو ،مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی اولاد کوحلال سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی جہالت اور گمراہ کن بدعت کی وجہ سے انہی کاموں کو دین سمجھتے ہیں ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ الفصل السادس ،ج10،ص248)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج اگر طاقتور ہوجائیں تو عراق ہو کہ شام، ساری زمین میں فساد مچادیں ،نہ کسی چھوٹے بچے کو چھوڑیں اور نہ ہی کسی بچی کو ، نہ ہی کسی مرد کو بخشیں نہ ہی کسی عورت کو کیونکہ ان کے نزدیک لوگ اس قدر بگڑچکے ہیں کہ ان تمام کو قتل کرنا ہی ان کے سدھار کا واحد راستہ ہے۔

(البدایۃ والنھایۃ ج10،ص584)

امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خوارج کی ابتدا عراق سے ہوئی۔

(فتح الباری ،المقدمہ)

تعجب کی بات ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ساری دنیا میں خوارج کے شروفساد کے  لیے عراق اور شام کا نام لیا ، بالکل اسی طرح  امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی خوارج کی ابتدا عراق سے ہی بتلائی اور آپ دیکھ لیں کہ موجودہ دور کے خوارج یعنی تنظیم داعش عراق سے ہی  نکلی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ نبیﷺ سے لیکر عصر حاضر کے تمام علماء تک، ہر عالم نے گمراہ فرقوں اور باطل فرقوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ امت مسلمہ کے نوجوان جذباتی ہونے کی وجہ سے ان گمراہ تنظیموں کا بہت جلد شکار بن جاتے ہیں اسی لئے انہوں نے ہر دور میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امت مسلمہ کو ان خارجی تنظیموں سے آگاہ کیا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنظیموں کی سازش کو بھانپتے ہوئے اور اسلاف کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے احباب کو ان خارجی فکر کی تنظیموں کی سازشوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ ہمارے احباب نیکی کے جزبے میں ان تنظیموں کی فکر کا شکار نہ ہوجائیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




تکفیری وخارجی کون؟

خارجی کون سائٹ
💥💥تکفیری وخارجی کون؟؟ 💥💥

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

گزشتہ چند عشروں سے امت مسلمہ بدترین دہشت گردی کی زد  میں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک ترقی کی سفر کے بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہیں ، مگر قابل افسوس تو یہ ہے کہ جہاں یہ خود دہشت گردی کا شکار ہے وہاں دہشت گردی کے لیبل بھی انہی پر ہیں۔

غور و خوض کے بعد دیکھا جائے تو اس ساری صورتحال کا ذمہ دار بڑی حد تک خود مسلمان ہیں، کیونکہ حقیقی دین سے دوری اور کتاب وسنت کی اصل روح سے ناواقفیت نے مسلمانوں کو اس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ امت مسلمہ چونکہ پہلے ہی سے مختلف گروہوں اور مسالک میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اور شدت پسند، مسلح دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے مزید بھی نفرتوں اور عداوتوں کا شکار ہوگئی ہے ۔ مسلمان ، مسلمان پر کفر اور ارتداد کے فتوے لگاکر انہیں قتل کرنے پر تیار ہوجاتا ہے۔

یہ بات بڑی واضح ہے کہ اس ساری صورتحال کی وجہ تکفیری وخارجی سوچ ہے، کیونکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اسی وقت قتل کرنے پر تیار ہوتا ہے، جب وہ اسے کافر سمجھنے لگ جاتا ہے ، تب وہ اسے مرتد کے زمرے میں لاکر انکے جان ومال کو حلال سمجھ کر اس انتہائی شنیع اقدام پر تیار ہوجاتا ہے۔  لہذا منہج تکفیر کو اس صورتحال میں کلیدی کردار حاصل ہے، جو کہ حقیقی دین اسلام سے کوسوں دور ہے، بلکہ نبی کریم ﷺ نے اس تکفیری و خارجی سوچ کے فتنے سے بڑی شدت کے ساتھ ڈرایا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے تو یہ کلمہ ان میں سے کسی ایک پر ضرور لاگو ہوگا۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دوران جنگ قتل کر دیا ، جس نے قتل ہونے سے پہلے کلمہ پڑھا ، جس پر آپ ﷺ نے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : اے اسامہ ! قیامت والے دن جب اللہ کے ہاں یہ اپنا کلمہ پیش کرے گا تو تم اس کا کیسے سامنا کرو گے ؟

ان جیسی بے شمار صحیح احادیث مبارکہ آپ ﷺ سے مروی ہیں ، جس میں مسلمان کے حرمت و ناموس کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے اور اس حرمت کو پامال کرنے والی تکفیری سوچ و فکر کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جتنی بھی شدت پسند دہشتگرد مسلح تنظیمیں نمودار ہوتی ہیں، انکی سوچ وفکر و نظریات میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔  اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز نئے نئے نام سننے کے باوجود شدت پسند تحریکیں  تحریک طالبان، القاعدہ ، جبھہ نصرہ، اور بالآخر داعش تک کا سفر کرنے والی تمام دہشت گرد ، شدت پسند تکفیری گروہوں  میں ایک ہی سوچ اور ایک ہی منہج کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔  

یہ سب تکفیری وخارجی نظریے اور منہج کے حامل گروہ ہیں ، جسکا سادہ الفاظ میں مطلب یہ کہ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہ سمجھے، دین اسلام کے وسیع مفہوم کو محدود، مخصوص مسائل کا نام دے کر تشدد کی راہ اپنا لیتے ہیں ۔ 

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، آپ ﷺ نے اپنی امت کو جیسے ہر آنے والے شر سے خبردار فرمایا : اسی طرح آپ ﷺ نے فتنہ خوارج سے بھی متنبہ کیا اس کی علامات بتلائی، اور انکے خطرناک عزائم سے خبردار فرمایا۔ ان کے  بارے نبی کریم ﷺ سے بے شمار احادیث روایت کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکا شر اور نقصان اسلام کیلئے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور ان خوارج کے مابین گھمسان کی جنگیں لڑی گئی جس میں ان خوارج کی کثیر تعداد ہلاک ہوئی ۔ 

اس سوچ کی نشر واشاعت میں اکابرین وزعماء تحریک سید قطب  کو کلیدی کردار حاصل ہے، متشدد، بیانات و تصنیفات کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں کے اذہان کو خراب کیا اور تشدد کی راہ دکھائی  اور یوں مصر میں تکفیر کی تحریک کا آغاز اخوانی تحریک کے رہنما سید قطب کی تحریروں اور بیانات سے ہوا۔ سید قطب جو کوئی عالم دین نہ تھا بلکہ ایک ادیب اور شاعر تھا ، جس نے اسلامی عقائد کو توڑ مروڑ کر اسلامی  معاشروں اور سوسائٹیز پر کفر کے فتوے لگا کر فتنہ تکفیر کی بنیاد ڈالی ،

سید قطب کے بارے میں ایک اخوانی عالم دین یوسف القرضاوی کہتے ہیں :
”اس مرحلے میں سید قطب کی وہ کتابیں سامنے آئیں، جو سید قطب کے فکر کے آخری مرحلے کی نمائندگی کر رہی تھیں اور ان کتابوں میں اسلامی معاشروں کی تکفیر، نظام اسلامی کے قیام کی دعوت کو مؤخر کرنا اور فقہ اسلامی کی تجدید، تشکیل اور اجتہاد کے احیاء کی دعوت کو مقدم کرنا مترشح ہوتا ہے۔ اسی طرح سید قطب کی یہ کتابیں اسلامی معاشروں سے شعوری علیحدگی اور اپنے کے علاوہ سے قطع تعلقی کی دعوت دیتی ہیں…” اور یہ تمام افکار ان کی تفسیر ‘فی ظلال القرآن’ کے دوسرے ایڈیشن میں وضاحت سے موجود ہیں۔

(أولیات الحرکة الاسلامیة : ص ١١٠)

شیخ ابو حسام الدین طرفاوی نے بھی اپنی کتاب ‘الغلو فی التکفیر’ میں سید قطب کو تکفیری فکر اور تحریک کا حقیقی بانی قرار دیا ہے۔ 

علامہ البانی رحمہ اللہ نے سید قطب کے بارے کہا:
“اسکو نہ تو دین اسلام کے اصولوں کا علم تھا اور نہ ہی فروعات کا اور وہ دین اسلام سے منحرف تھا “۔ 

انکے علاوہ بیسیوں علماء کرام نے اس فکر کی ترویج میں سید قطب کا ہی نام سر فہرست ذکر کیا ہے۔ نظریہ تکفیر کے علاوہ یہ شخص کئی ایسے غلط نظریات کا حامل بھی تھا، جن میں سے اختصاراً درج ذیل ہے؛ 

جلیل القدر صحابہ کرام پرطعن، انبیاء کے لیے غیر مناسب کلمات کے استعمالات، وحدت الوجود کا قائل ہونا ، حلول کے عقیدے کے مطابق قرآنی آیات کی تفسیر ، صفات باری تعالی میں تحریف، مسلمان معاشروں کی تکفیر، مسئلہ جبر میں جبریہ کی تقلید، کلمہ توحید کی غلط تفسیر، عقیدے میں خبر واحد بلکہ خبر متواتر کابھی انکار، قرآن کو اللہ کی مخلوق قرار دینا، میزان کا انکار، اشتراکیت کا قائل ہونے، روح کو ازلی قرار دینے، بتوں اور قبر پرستی کے شرک کو شرک اکبر نہ سمجھنا، رؤیت باری تعالی، صفت ید، صفت وجہ [ید سے مراد ہاتھ اور وجہ سے مراد چہرہ  ہے جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہیں اور ان کو ہمارے اعضاء کے ساتھ تشبیہ دینا حرام ہے  اللہ تعالی کےہاتھ اور چہرہ ویسا ہی جیسا اس کی شان کے لائق ہے ] اور استواء علی العرش کی باطل تاویلات پیش کرنا، صفت کلام سے مراد اللہ کا ارادہ لینا، نبوی معجزات کی توہین اور عقیدہ الولاء و البراء میں غلو کرنا و دیگر غلط نظریات و افکار شامل ہے۔ سید قطب کے ایسے عقائد کی ایک کتاب “سید قطب اور عقیدہ و منہج ” 

مصر میں تکفیر کا دوسرا مرحلہ ‘جماعت المسلمین’ سے شروع ہوا جنہیں’جماعة التکفیر والھجرة‘ کا نام دیا گیا۔ اس جماعت کی ابتداء حسن البناء کی قائم کردہ جماعت ‘الاخوان المسلمون‘ کے ان اراکین سے ہوئی جنہیں حکومت مصر کی طرف سے پابند سلاسل کیا گیا، بعد میں انجینئر علی اسماعیل، شکری مصطفی، سے لیکر ماہر عبد اللہ زناتی نے اس فکر کی احیاء میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس جماعت کے بنیادی عقائد میں تکفیر اور ہجرت شامل ہے۔ تکفیر کے اصول کے تحت یہ ان حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔ یہ حکمرانوں کے علاوہ ان مسلمان معاشروں کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو اپنے حکمرانوں کے فیصلوں پر راضی ہوں یا انہیں ووٹ دیں یا کسی طرح سے بھی ان کے ساتھ تعاون کریں۔ یہ ان علماء کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے مسلمان حکمرانوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ یہ جماعت تمام مسلمانوں کے لیے اپنے امام سے بیعت کو واجب قرار دیتی ہے جس مسلمان تک ان کے امام کی دعوت پہنچ جائے اور وہ اس کی بیعت نہ کرے تو اس مسلمان کی بھی وہ تکفیر کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ان کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد نکل جائے تو وہ بھی ان کے نزدیک مرتد اور واجب القتل ہے۔ اپنے ہجرت کے اصول کے تحت انہوں نے تمام اسلامی معاشروں کو دور جاہلیت کے معاشرے قرار دیا اور ان سے قطع تعلقی کا حکم جاری کیا ۔ اس جماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ موجودہ اسلامی معاشروں میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں ہے کیونکہ یہ جاہلی معاشرے ہیں اور جاہلی معاشرے کو اللہ کے رسول نے ایمان کی دعوت دی لہذا ان مسلمان معاشروں کو بھی مکہ کے جاہلی معاشرے پر قیاس کرتے ہوئے صرف ایمان کی دعوت دینی چاہیے۔ اس جماعت کے بعض اکابرین کو پھانسی چڑھا دیا گیا، بعض نے اپنے افکار سے رجوع کر لیا اور بعض مختلف علاقوں اور بلاد اسلامیہ میں منتشر ہو کر اپنی  یہ سوچ و فکر پھیلانے لگ گئے۔

(الموسوعة المیسرة ‘ جماعات غالیة ‘ جماعة التکفیر والھجرة سے مختلف اقتباسات)

اسکے بعد اس فکر کے لوگ باہمی انتشار اور افتراق کا شکار ہوتے چلے گئے اور روس کے خلاف جہاد 1986 میں ایمن الظواہری اور انکی جماعت “مصری اسلامک جہاد” کے اراکین نے افغانستان کا رخ کیا اور وہاں اپنی اس زہریلی فکر و نظریات کے فروغ کے کھلے مواقع تھے۔
اور افغانستان میں دنیا بھر سے اخوانی فکر کے حاملین کو اکھٹا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، چونکہ اسامہ بن لادن مالی لحاظ سے ایک مضبوط بیک گراونڈ رکھتا تھا، لہذا اسکے ہاتھوں القاعدہ کی بنیاد ڈالی، اور پھر یہاں بیٹھ کر انہوں نے دنیا بھر میں اپنی مسلح کاروائیوں کو جاری رکھا ، اس دوران اپنی تکفیری و اخوانی فکر کی ترویج و اشاعت کا کام بھی کرتا رہا، یہاں تک کہ طالبان کی حکومت بنی اور پھر 9/11 کو امریکہ پر حملے کروا کر طالبان کی حکومت ختم کرنے کے باعث بنے ۔

اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی شخص چند مخصوص فقہی مسائل کی بنیاد پر سلفی نہیں کہلایا جاتا ، یا صرف رفع الیدین، امین بالجہر ماننے سے اہلحدیث نہیں ہوتا ، بلکہ سلفی منہج اور مسلک اہلحدیث ایک مکمل منہج و عقیدہ کا نام ہے، جس کو فالو کرنے والے کو سلفی کہا جاتا ہے۔

اسی لئے داعش اور القاعدہ و دیگر مسلح تنظیموں جیسی اخوانی تکفیری تحریکوں کے سربراہان سب کے سب رفع الیدین کیا کرتے ہیں مگر سلفی علماء انہیں ہرگز سلفی قرار دینے پر تیار نہیں، بلکہ یہ خود سلفی منہج کو اپنی تکفیری منہج کے سامنے بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سلفی حکومت سعودی عرب کی سب سے زیادہ مخالفت کرتے ہیں ، اور انکے حکمرانوں کو مرتد قرار دیتے ہیں۔

تو اس ساری صورتحال کی وجہ فتنہ تکفیر ہے ، جو ان تمام دہشت گرد اخوانی تنظیموں میں پایا جاتا ہے، جوکہ تحریک اخوان المسلمین کا بویا ہوا بیج ہے، جو کہ آج ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

قارئین کرام حیران ہونگے کہ اخوانی تحریک کے سربراہ سید قطب کی کتاب ” فی ضلال القران ” کو منہج تکفیر میں ایک اعلی مقام اور مرجعیت حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ عبداللہ عزام، اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری، ابوبکر بغدادی ، گلبدین حکمت یار ، مسعود اظہر ، ابو محمد العدناني ، أبو عمر الشيشاني جیسے جہادی سوچ رکھنے والے اپنی سوچ کی مرجع سید قطب کی کتاب کو قرار دیتے ہیں ، اور اس کتاب کی خاص تعریف کرتے ہیں، بلکہ کئی ایسی تصاویر منظر عام پر آئی ہے کہ جن میں یہ مذکورہ شخصیات خرافات و غلط نظریات سے بھرپور اس کتاب کا مطالعہ کرتے نظر آتے ہیں ۔
جبکہ دوسری طرف دنیا بھر میں اپنے آپ کو سیاسی اخوانی کہنے والے پاکستان میں جماعت اسلامی ، مصر میں جماعت الاخوان، افغانستان میں حزب اسلامی و دیگر تنظیمیں سید قطب کو اپنا ایک عظیم لیڈر ورہبر سمجھتی ہیں، اور انکے مخصوص نظریات وافکار سے نہ صرف متاثر ہیں بلکہ انہیں عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

ان تمام ثبوتوں اور قرائن سے علم الیقین ہوجاتا ہے کہ حاکمیت کا غلط مفہوم جسے سید قطب نے بیان کیا ، شدت پسند تحریکوں کے وجود کے بنیادی پتھروں میں سے ایک ہے، یہی وہ خارجی فکر ہے جس نے ان جماعتوں کو مسلم معاشرے کی تکفیر اور پھر انکے خلاف ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کیا، اور اس انتہائی سٹیج پر لاکر کھڑا کردیا کہ جس پر یہ لوگ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہیں سمجھتے۔

▪️ یہ بات ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ فتنہ تکفیر کی جڑ اخوانی فکر ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شدت پسند تحریکوں کے سربراہان اس فکر کے متبع نظر آتے ہیں ، اگرچہ اس فکر کو عملی جامہ پہنانے میں یہ سب مختلف ہیں ، کچھ زیادہ ہی متشدد جبکہ کچھ کم متشدد بن جاتے ہیں ، مگر سب کی سوچ اور فکر ایک ہوتی ہیں۔
داعش جیسی سفاک دہشت گرد تنظیم جس نے اپنے مخالف کو اذیت ناک موت دینے میں کوئی بھی طریقہ نہیں چھوڑا، آگ میں زندہ جلانے سے لیکر پانی میں ڈبونے، ٹینک کے نیچے لانے، گردنوں پر 20 ہزار وولٹ بجلی کے کیبل باندھ کر کرنٹ سے مارنے، اور ذبح کرنے تک انہوں نے اپنا متشدد نظریہ دنیا کے سامنے رکھا، اور پھر یہی داعش عراق اور شام میں دیواروں پر سید قطب کے متشدد نعرے درج کرکے دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے پیروکار ہیں۔
مگر اس کے باوجود اغیار کی کوشش ہوتی ہے کہ سلفیوں کو بدنام کیا جائے ، دنیا بھر میں پرامن ،اعتدال پسند، کتاب وسنت پر مبنی دعوت کا راستہ روکا جائے، اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے کہ یہ شدت پسند تحریکیں سلفی ہیں۔
مگر جب تک ہم مسلمان  زندہ ہیں منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کا دفاع کرتے رہینگے، اور نہ صرف مخالفین کے غلط پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینگے بلکہ تمام ثبوتوں کے ساتھ انکی حقیقت دنیا پر عیاں کرینگے۔ ان شاء اللہ ۔

و ما علینا الا البلاغ




خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدنا طلحہ،زبیر،عمار بن یاسررضی اللہ عنہم

سیدنا زبیر طلحہخوارج،کبار صحابہ کے قاتل

سیدنا زبیربن عوام و طلحہ بن عبید اللہ  اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم

خوارج کی فطرت میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ ہمیشہ اسلامی دنیا میں اختلاف اور فتنہ برپا کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جو شخص مسلمانوں کی باہمی لڑائی سے ہاتھ کھینچنا چاہے تو یہ اس کو شہید کر دیتے ہیں ۔اور اس معاملے میں وہ کسی کا لحاظ نہیں رکھتے بلکہ بے دھڑک اسے قتل کر دیتے ہیں  ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار اصحاب رسولﷺان دس اشخاص میں شامل ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے کہ جنہیں  اہل اسلام عشرہ مبشرہ کے نام سے جانتے ہیں۔چنانچہ ہم ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، اس کو فرداً فرداً بیان کر رہے تھے  ۔

چنانچہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ  امت مسلمہ میں سے خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد نبیﷺ کے ان دو جلیل القدر صحابہ کا نام آتا ہےکہ جن کے ناموں کی ترتیب بھی عشرہ مبشرہ میں اکٹھی ہے اور جو شہید بھی ایک ہی وجہ سے ہوئے یعنی سیدنا زبیر بن عوام اور طلحہ بن عبید اللہ  رضی اللہ عنہم۔اور ان کے بعد جناب عمار رضی اللہ عنہ کو خوارج نے قتل کیا۔

اس سے قبل کہ میں ان کی شہادت کا واقعہ بیان کروں اس سے پہلےمیں ان اصحاب کی اسلام کیلئے ناقابل فراموش خدمات کوبیان کرنا  مناسب سمجھتا ہوں تا کہ قارئین اس بات کو بخوبی جان لیں کہ  خوارج نے کیسے کیسے جلیل القدر اور عظیم المرتبت لوگوں کو صرف اہل اسلام کو لڑانے کی اپنی ناپاک خواہش پوری کرنے کیلئے قتل کر دیا۔

فضائل ومناقب:

نام زبیر،کنیت ابوعبداللہ، لقب حواری رسول اللہ۔ نبی کریم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر کے داماد۔ ہجرت سے 28 سال پہلے پیدا ہوئے۔ سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔اسلام اور نبیﷺ کے دفاع میں سب سے پہلے تلوار اٹھانے کا اعزاز رکھنے والے،ان کی والدہ ان کو بچپن میں بہت مارا کرتی تھیں تو کسی کے استفسار پر فرمانے لگیں کہ اگر ابھی سے یہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہنا سیکھ جائے گا تو آگے چل کر یہ قوموں کا سپہ سالار بن جائے گا۔ پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں بڑی جانبازی سے لڑے اور دیگر غزوات میں بھی بڑی شجاعت دکھائی ۔ جنگ خندق کے دن بنو قریظہ کی غداری کی تصدیق  کیلئے نبیﷺ کے تین دفعہ استفسار کرنےپر ہر دفعہ کھڑے ہوکر جانے کی اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر ان کی غداری کی تصدیق کی تو نبیﷺ نے یہ یادگارالفاظ ارشاد فرمائے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر  ہے۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ کے ذاتی دستے کے علمبردار تھے۔ جنگ فسطاط میں حضرت عمر نے چار افسروں کی معیت میں چار ہزار مجاہدین کی کمک مصر روانہ کی ۔ ان میں ایک افسر حضرت زبیر بھی تھے۔ اور اس جنگ کی فتح کا سہرا آپ کے سر ہے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد  ان کا قصاص لینے کا تقاضا کرنے لگے اور جناب معاویہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔

جنگ جمل کے موقع پر ان کا سامنا جناب علی  رضی اللہ عنہ سے ہوا تو دونوں حضرات کا آپس میں مکالمہ ہوا تو جناب زبیر نے لڑائی کا ارادہ ترک کردیا تو ان کے بیٹے اپنے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ آپ نے جب دونوں فریق میدان میں جمع کر دئیے‘ اور ایک دوسرے کی عداوت پر ابھار دیا تو اب چھوڑ کر جانے کا قصد فرماتے ہیں‘ مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کو دیکھ کر ڈر گئے‘ اور آپ کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی‘ یہ سن کر سیدنا زبیر اسی وقت اٹھے اور تن تنہا ہتھیار لگا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف گئے‘ اور ان کی فوج کے اندر داخل ہو کر اور ہر طرف پھر کر واپس آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آتے ہوئے دیکھ کر پہلے ہی اپنے آدمیوں کو حکم دے دیا تھا کہ خبر دار کوئی شخص ان سے متعرض نہ ہو اور ان کا مقابلہ نہ کرے‘ چنانچہ کسی نے ان کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی۔

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے واپس جا کر اپنے بیٹے سے کہا کہ میں اگر ڈرتا تو تنہا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اس طرح نہ جاتا‘ بات صرف یہ ہے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے سامنے قسم کھالی ہے کہ تمہارا مقابلہ نہ کروں گا اور تم سے نہ لڑوں گا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ قسم کا کفارہ دے دیں‘اور اپنے غلام کو آزاد کر دیں‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے‘ اور نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔

(صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ ، حدیث:۴۴۷)

شہادت:

جب لڑائی شروع ہو گئی‘ تو سیدنا زبیر ابن العوام رضی اللہ عنہ جو پہلے ہی سے ارادہ فرما چکے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہ لڑیں گے‘ میدان جنگ سے جدا ہو گئے‘ اتفاقاً سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ لیا اور بڑھ کر ان کو لڑائی کے لیے ٹوکا‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نہ لڑوں گا لیکن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ان کو لڑائی کا بانی سمجھنے کی وجہ سے ان سے سخت ناراض تھے‘انہوں نے حملہ کیا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کے ہر ایک وار کو روکتے اور اپنے آپ کو بچاتے رہے‘ اور خود ان پر کوئی حملہ نہیں کیا‘ یہاں تک کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھک کر رہ گئے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر چل دئیے‘ اہل بصرہ سے احنف بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کی ایک بڑی جمعیت لیے ہوئے دونوں لشکروں سے الگ بالکل غیر جانب دار حالت میں ایک طرف خیمہ زن تھے‘ انہوں نے پہلے ہی سے دونوں طرف کے سرداروں کو مطلع کر دیا تھا کہ ہم دونوں میں سے کسی کی حمایت یا مخالفت نہ کریں گے۔

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میدان جنگ سے نکل کر چلے تو احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی لشکر گاہ کے قریب سے ہو کر گذرے‘ احنف بن قیس کے لشکر سے ایک خارجی شخص عمرو بن الجرموز سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہو لیا‘ اور قریب پہنچ کر ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور کوئی مسئلہ ان سے دریافت کرنے لگا‘ جس سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کی نسبت کوئی شک و شبہ پیدا نہ ہوا‘ لیکن اس کی طبیعت میں کھوٹ تھا اور وہ ارادہ فاسد سے ان کے ہمراہ ہوا تھا‘ وادی السباع میں پہنچ کر نماز کا وقت آیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے‘ بحالت نماز جب کہ سجدہ میں تھے‘ عمروبن الجرموز نے ان پر وار کیا‘اور سیدنا زبیر اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون

 وہاں سے وہ سیدھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ علی رضی اللہ عنہ کی حفاظت پر مامور ایک شخص نے آ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا قاتل آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے‘ آپ نے فرمایا اس کو اجازت دے دو‘ مگر ساتھ ہی اس کو جہنم کی بھی بشارت سنا دو‘ جب وہ سامنے آیا اور آپ نے اس کے ساتھ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار دیکھی تو آپ کے آنسو نکل پڑے‘ اور کہا کہ اے ظالم یہ وہ تلوار ہے جس نے عرصہ دراز تک رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی ہے۔

عمرو بن الجرموز پر ان الفاظ کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں ان کے سامنے ہی چند گستاخانہ الفاظ کہہ کر تلوار خود اپنے پیٹ میں ہی جھونک کر مر گیا‘ اور اس طرح واصل جہنم ہو گیا۔

اب ہم جنا ب طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے ہیں:

مکمل نام طلحہ بن عبید اللہ ابومحمد کنیت،فیاض اورخیرلقب،والد کا نام عبیداللہ تھا، اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک اور حضرت محمد ﷺ کے صحابی تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔جنا ب ابو بکر کی دعوت پر اسلام لائے ۔بدر کے موقع پر نبیﷺ نے ان کو کہیں بھیجا ہوا تھا اس لئے شریک نہ ہوسکے لیکن مال غنیمت سے حصہ پایا اور اس معاملے میں بمثل عثمان قرار پائے۔

غزوۂ احد میں جان نثاری اورشجاعت کے جو بے مثل جوہردکھائے یقناً تمام اقوامِ عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے،تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا،حضرت ابوبکر صدیق نے ان کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔اور ان کا ایک ہاتھ سارے تیر جھیلنے کی وجہ سے شل ہو گیا تھا ۔درباررسالتﷺ سے اسی جان بازی کے صلہ میں “شہید” کا لقب ملا، صحابہ کرام کو واقعہ احد میں ان کی اس غیر معمولی شجاعت اورجانبازی کا دل سے اعتراف تھا، حضرت ابوبکر صدیق غزوۂ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ یہ طلحہ کا مخصوص دن تھا، حضرت عمر ان کو صاحبِِ احد فرمایا کرتےتھے۔ خود حضرت طلحہ کو بھی اس کارنامے پر بڑا ناز تھا اورہمیشہ لطف وانبساط کے ساتھ اس کی داستان سنایا کرتے تھے۔یہ ان دو اصحاب میں سے ایک ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے “فداک ابی وامی”میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں، سننے کا اعزا ملا۔اور دوسرے سعد بن ابی وقاص تھے ۔

جناب عثمان کی شہادت کے بعد  ان کا قصاص لینے کا تقاضا کرنے لگے اور جناب معاویہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔لیکن جنگ جمل کے موقع پر  جناب  زبیر کی پیروی کرتے ہوئے جنگ سے علیحدگی اختیا ر کرنا چاہی لیکن مروان بن الحکم جو کہ  اس لڑائی میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا‘ جب لڑائی شروع ہو گئی تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ میں بھی علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ہرگز نہ کروں گا‘ اسی خیال سے وہ لشکر سے الگ ہو کر ایک طرف کھڑے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی باتوں پر غور کر رہے تھے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ والی پیشگوئی کو یاد کر کے اس لڑائی سے بالکل جدا اور غیر جانب دار ہونا چاہتے تھے‘ اس حالت میں مروان بن الحکم نے ان کو دیکھا اور وہ سمجھ گیا کہ یہ لڑائی میں کوئی حصہ لینا نہیں چاہتے‘ اور صاف بچ کر نکل جانا چاہتے ہیں‘ چنانچہ اس نے اپنے غلام کو اشارہ کیا اس نے مروان کے چہرے پر چادر ڈال دی‘ مروان نے چادر سے اپنا منہ چھپا کر کہ کوئی شناخت نہ کرے ایک زہر آلود تیر کمان میں جوڑ کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنایا‘ یہ تیر سیدنا طلحہ کے پاؤں کو زخمی کر کے گھوڑے کے پیٹ میں لگا اور گھوڑا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے گرا‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے غلام کو بلایا ، جو اتفاقاً اس طرف ان کے سامنے آ گیا تھا ، انہوں نے اس غلام یا سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر جو وہاں آ گئے تھے ، نیابتاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی،چنانچہ سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ نے انہیں علاج کی غرض سے بصرہ بھیج دیا لیکن زہر اپنا کام مکمل کر چکا تھا اور یوں  36ھ میں نبیﷺ کا یہ عظیم جلیل القدر سپاہی خوارج کے دیے ہوئے زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے رب کے پاس جا پہنچا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

جناب عمار رضی اللہ عنہ :

اب ہم جناب عمار رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے ہیں:

نام عمارکنیت ابو یقظان،یاسر رضی اللہ عنہ اور سمیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے اور جلیل القدر صحابی تھے۔عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نےدوراسلام کے شروع میں اسلام قبول کیا۔ ان کے والد یاسر اور والدہ اسلام کے پہلے شہیدوں میں سے تھے۔ نبیﷺ نے ان کے اہل خانہ کے مصائب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا :

“صبراً آل یاسر،فان موعدکم الجنۃ”

اے آل یاسر صبر کرتے رہو،میں تم سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں۔

 یہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے سربراہ تھے۔ جنگ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔

جناب عثمان کی شہادت کے بعد یہ جناب علی کے ساتھیوں میں سے تھے اور انہی کو دیکھ کر جناب طلحہ و زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جنگ جمل سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔

انکی شہادت کی تفصیلات تو واضح نہیں ہیں لیکن یہ چونکہ جنگ صفین کے موقع پر شہید ہوئے اور ان کے بارے میں نبیﷺ کی یہ پیشین گوئی تھی کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل  کرے گا۔

(صحیح مسلم، حدیث 6966 ، 6970)

اسی لئے علماء یہ استدلال کرتے ہیں کہ  ان کو خوارج نے ہی موقع پاکر شہید کر دیا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

(تلخیص:تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی)




خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

ssss

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔

شہادت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

 

خوارج کی تاریخ میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ تقوے کی بنیاد پر امت کے کبار اور معزز لوگوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار صحابہ کرام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، اس کو فرداً فرداً بیان کریں گے۔ان شاء اللہ

امت مسلمہ میں سے خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں ۔اس سے قبل کہ میں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والے دلسوز واقعہ کی تفصیلات بیان کروں ،اس سے پہلےمیں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کی اسلام کیلئے ناقابل فراموش خدمات کوبیان کرنا  مناسب سمجھتا ہوں تا کہ قارئین اس بات کو بخوبی جان لیں کہ خوارج نے کس قدر جلیل القدر آدمی کو صرف ان کی خود ساختہ معمولی بشری لغزشوں کو بنیاد بناتے ہوئے ان کی ساری ناقابل فراموش خدمات کو یکسر بھلاتے ہوئے ان کو دردناک طریقے سے شہید کردیا۔

حالات زندگی وخدمات:

عثمان بن عفان اموی قریشی اہل اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد، داماد رسول، اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے،چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ،جن میں سے ایک یہ تھی کہ ؛

ان کا چچا آپ کو چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیا کرتا تھاکہ جس کی وجہ سے ان کا سانس لینا مشکل ہوجاتا تھا اور وہ کہتا تھا کہ اسلام کو چھوڑ دو لیکن یہ اسلام پر ثابت قدم رہے۔

ان کی کنیت ذو النورین تھی کیونکہ انھوں نےجناب محمد ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنھا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔

عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان اصحاب میں شامل ہیں کہ جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی ۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔

رسول اکرم ﷺ کوعثمان غنی رضی اللہ عنہ پر مکمل اعتمادتھااورنبیﷺ ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر جب نبیﷺ نے ان کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا تو اہل مکہ نے ان کی شہادت کی افواہ اڑادی تو نبیﷺ نے چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے جناب عثمان کے قصاص لینے پر مر مٹنے کی بیعت لی اور اس وقت نبیﷺ نے یادگار الفاظ ارشاد فرمائےکہ جو بلا شک و شبہ ان کی قدر منزلت کو بیان کرنے کیلئے کافی ہیں ،چنانچہ آپ ﷺ نے  جب سب صحابہ کرام سے بیعت لے لی تو آخر میں نبیﷺ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں  ہاتھ پر مارا اور فرمانے لگے کہ “یہ عثمان کا ہاتھ ہے”

سنہ 23ھ (644ء) میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔

ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی، اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔

لیکن خوارج نے جناب عثمان رضی اللہ عنہ کی ان ساری خدمات کو پس  پشت ڈالتے ہوئے ان کو چالیس دن محبوس وقید رکھنے کے بعد شہید کر دیا ۔اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

عبداللہ بن سبا المعروف ابن السوداء صنعا شہر کا رہنے والا ایک یہودی تھا، وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کو دولت خوب حاصل ہوتی ہے اور اب یہی دنیا میں سب سے بڑی فاتح قوم بن گئی ہے، مدینہ میں آ گیا اور بظاہر مسلمانوں میں شامل ہو گیا‘ مدینہ میں اس کا آنا اور رہنا بہت ہی غیر معروف اور ناقابل التفات تھا لیکن اس نے مدینہ میں رہ کر مسلمانوں کی اندرونی اور داخلی کمزوریوں کو خوب جانچا اور اسلام مخالف تدابیر کو خوب سوچا‘ انہیں ایام میں بصرہ کے اندر ایک شخص حکیم بن جبلہ(خارجی) رہتا تھا‘ اس نے یہ وطیرہ اختیار کیا کہ اسلامی لشکر کے ساتھ کسی فوج میں شریک ہو جاتا تو موقعہ پا کر ذمیوں کو لوٹ لیتا‘ کبھی کبھی اور لوگوں کو بھی اپنا شریک بناتا اور ڈاکہ زنی کرتا۔

اس کی ڈاکہ زنی کی خبریں مدینہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک پہنچیں۔ انہوں نے گورنر بصرہ کو لکھا کہ حکیم بن جبلہ کو بصرہ شہر کے اندر نظر بند رکھو اور حدود شہر سے باہر ہرگز نہ نکلنے دو‘ اس حکم کی تعمیل میں وہ بصرہ کے اندر محصور و نظر بند رہنے لگا‘ عبداللہ بن سبا حکیم بن جبلہ کے حالات سن کر مدینہ سے روانہ ہوا اور بصرہ میں پہنچ کر حکیم بن جبلہ کے مکان پر مقیم ہوا‘ یہاں اس نے حکیم بن جبلہ اور اس کے ذریعہ اس کے دوستوں اور دوسرے لوگوں سے مراسم پیدا کئے‘ اپنے آپ کو مسلمان اور حامی و خیر خواہ آل رسول ظاہر کر کے لوگوں کے دلوں میں اپنے منصوبے کے موافق فساد انگیز خیالات و عقائد پیدا کرنے لگا‘ کبھی کہتا کہ مجھ کو تعجب ہوتا ہے کہ مسلمان اس بات کے تو قائل ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے لیکن اس بات کو نہیں مانتے کہ سیدنا محمد ﷺ بھی دنیا میں ضرور آئیں گے۔

 چنانچہ اس نے لوگوں کو :ﯘاِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَاد

(القصص : ۲۸/۸۵)

کی غلط تفسیر سنا سنا کر اس عقیدہ پر قائم کرنا شروع کیا کہ سیدنا محمد کی مراجعت دوبارہ دنیا میں ضرور ہو گی‘ بہت سے لوگ اس کے اس فریب میں آ گئے‘ پھر اس نے ان کو اس عقیدے پر قائم کرنا شروع کیا کہ ہر پیغمبر کا ایک خلیفہ اور وصی ہوا کرتا ہے اور سیدنا محمدﷺ کے وصی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ جس طرح رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاتم الاوصیاء ہیں‘ پھر اس نے علانیہ کہنا شروع کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا دوسروں کو خلیفہ بنا کر بڑی حق تلفی کی ہے‘ اب سب کو چاہیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدد کریں اور موجودہ خلیفہ کو قتل یا معزول کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں۔

عبداللہ بن سبا یہ تمام منصوبے اور اپنی تحریک کی ان تمام تجویزوں کو مدینہ منورہ سے سوچ سمجھ کر بصرہ میں آیا تھا اور اس نے نہایت احتیاط اور قابلیت کے ساتھ رفتہ رفتہ اپنی بدعقیدگیوں کو شائع کرنا اور لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا۔

رفتہ رفتہ اس فتنے کا حال بصرے کے گورنر عبداللہ بن عامر کو معلوم ہوا تو انہوں نے عبداللہ بن سبا کو بلا کر پوچھا کہ تم کون ہو‘ کہاں سے آئے ہو اور یہاں کیوں آئے ہو؟ عبداللہ بن سبا نے کہا مجھ کو دین اسلام میں دلچسپی ہے، میں اپنے یہودی مذہب کی کمزوریوں سے واقف ہو کر اسلام کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور یہاں آپ کی رعایا بن کر زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں‘ عبداللہ بن عامر نے کہا کہ میں نے تمہارے حالات اور تمہاری باتوں کی تحقیق کی ہےتو مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم کوئی فتنہ برپا کرنا اور مسلمانوں کو گمراہ کر کے یہودی ہونے کی حیثیت سے جمعیت اسلامی میں افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہو۔

 چونکہ عبداللہ بن عامر کی زبان سے پتے کی باتیں نکل گئی تھیں‘ لہذا اس کے بعد عبداللہ بن سبا نے بصرے میں اپنا قیام مناسب نہ سمجھا اور اپنے خاص الخاص راز دار اور شریک کار لوگوں کو وہاں چھوڑ کر اپنی بنائی ہوئی جماعت کے لیے مناسب تجاویز و ہدایات سمجھا کر بصرہ سے چل دیا اور دوسرے اسلامی فوجی مرکز یعنی کوفہ میں آیا‘ یہاں پہلے سے ہی ایک جماعت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے عامل کی دشمن موجود تھی‘ عبداللہ بن سبا کو کوفہ میں آ کر بصرہ سے اپنی شرارتوں کو کامیاب بنانے کا زیادہ بہتر موقع ملا۔

قصہ مختصر اس نے اپنے ساتھ کافی لوگوں کویہ کہہ کر کہ جناب عثمان رضی اللہ عنہ بہت ظالم حاکم ہیں ، شریک کرلیا اور اس نے جناب عثمان کے خلاف بصرہ ،کوفہ اور شام سے اپنے ساتھیوں کو بلا لیا اور ان بلوائیوں نے مدینہ کا محاصرہ کرلیا اور جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان سے خلافت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کرنے لگے لیکن جناب عثمان فرمانے لگے کہ جو چادر مجھے اللہ نے پہنائی ہے میں اس کو نہیں اتا روں گا ۔

چنانچہ جناب علی رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس جانے کا حکم دیا لیکن اس نے دھوکے کے ساتھ ایک خط کہ جس میں  ان لوگوں کے قتل کا حکم درج تھا  وہ لوگوں کو دیااوراس کا الزام سیدنا عثمان پر لگا دیا کہ یہ خط ان کا ہے چنانچہ لوگ واپس  آگئے اور پھر جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔

صحابہ کرام کی اپنے خلیفہ سے محبت :

ان حالات کے پیش نظر کچھ صحابہ مدافعت کرنے لگے  لیکن جناب عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی نرم مزاجی کے باعث صحابہ کو ٹھہرنے کا حکم دے دیا لیکن بعض صحابہ پھر بھی ان کے گھر کا پہرہ دیتے رہے،چنانچہ جناب مغیرہ بن الاخنس رضی اللہ عنہ اور ان کے حواری ان بلوائیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے،اور حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ ،حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ان سے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے۔(یہاں ایک بات یاد رکھئے کہ جناب حسن بن علی کو جناب علی رضی اللہ عنہ نےمسلح پہرہ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ خود شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت مدینہ سے باہر تھے تو اس سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوتی ہے کہ جو جناب عثمان کی شہادت کا الزام نعوذ باللہ جناب علی رضی اللہ عنہ پر لگاتے ہیں )اسی طرح جناب ابو ہریرہ اور جناب عبداللہ بن سلام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابہ بھی بلوائیوں سے لڑنے لگے لیکن جناب عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں قسم دے کر واپس لوٹادیا۔

اسی طرح چالیس دن بیت گئے اور جناب عثمان رضی اللہ عنہ چالیس دن سے محصور تھے ۔بلوائیوں نے جناب عثمان کا پانی اور سامان رسد بھی بند کردیا ،جس کے نتیجے میں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں فاقہ اپنے عروج کو پہنچ گیا، بالآخر18 ذو الحجہ کا سورج طلوع ہوا تو آسمان دنیا نے ایک کریہہ ترین منظر دیکھا کہ حضرت عثمان پراس حالت میں تلوار سے حملہ کیا گیا کہ جب وہ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ چنانچہ آپ کی بیوی سیدہ نائلہ نے فوراً تلوار کےوار کو روکا جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں اور ان کی چیخ نکل گئی۔ مگر یہ آواز محافظ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک پہنچ نہ سکی۔ دوسرے وار سے خون عثمان رضی اللہ عنہ کےقطرے آیت قرآنی ‘‘فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم” پر گرے اور آپ روزہ کی حالت میں شہید ہوئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صحابہ کرام کو حضرت نائلہ کی آوازیں اس وقت سنائی دیں جب بلوائی اپنا کام کرچکے تھے۔

(البدایہ والنہایہ صفحہ 7؍188)

اپنا کام مکمل کرنے کے بعدقاتل فرار ہوگئے،جبکہ بعض حضرت عثمانؓ کے غلاموں کے ہاتھوں مارے گئے اور دو غلاموں نےبھی اس کوشش میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اب پہرہ دینے اور حفاظتی دستہ متعین کرنےکی ضرورت باقی نہ رہی۔ عمرو بن حمق(خارجی) نے حضرت عثمانؓ کے جسم اطہر پر نیزے کے 9 زخم لگائے جبکہ ایک ظالم عمیرنے پاؤں سے ٹھوکریں ماریں جس سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔داماد رسولﷺ سیدناعثمان ذوالنورین کی نعش تین دن تک بےگوروکفن پڑی رہی۔ تیسرے دن حضرت جبیر بن مطعم، حضرت حکیم بن حزام، حضرت ابوجہم بن حذیفہ اور حضرت خیار بن مکرم اسلمی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بعد نماز عشاء جنازہ اٹھایا۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نےنماز جنازہ پڑھائی، جبکہ باقی تین ساتھی اور حضرت عثمان کی دونوں بیویاں مقتدی تھیں۔

حضرت حکیم بن حزامؓ اور آپؓ کی دونوں بیویاں نگرانی کرتے رہے۔باقی تین آدمیوں نےجنت البقیع کےجنوب مشرقی کونے میں آپ کو لحد میں اُتارا اور قبربرابر کردی تاکہ لوگ پہچان نہ سکیں اور یوں امت اسلامیہ کا ایک دمکتا چمکتا ستارہ جہنمی کتے خوارج کے ہاتھوں ہمیشہ کیلئے امت محمدیہ کو داغ مفارقت دیتے ہوئے غروب ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

(تلخیص:تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی)




اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی

اسامہ کا شیخ ابن باز پر طعنہ زنی

اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

بدعتی شخص کی بڑی علامات میں سےایک یہ بھی ہے کہ وہ سلف صالحین کے بارے طرح طرح کی باتیں بنائے گا اور ان کے شخصیت کو بگاڑ پر پیش کرنے کی کوشش کرے یعنی اگر کوئی شخص صحیح اور حقیقی منہج  پر قائم ہے تو صرف اپنے آپ کو ہی سمجھتا ہے یا جو اس کے ساتھ چلنے والے ہوتے ہیں ۔ 

اسی بارے میں امام ابو حاتم﷫فرماتے ہیں:

من علامۃ أھل البدع الوقیعۃ فی أھل الأثر

[اللا لکائی: 1/ 179]

“اہل بدعت کی علامت میں سے ہے کہ وہ اہل اثر (اسلاف)پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔” 

اور اسی نشانی پر پورا اترتے ہوئے اسامہ بن لادن کا یہ دعوی ہے کہ امام صاحب کے فتاوی امت کو گمراہی کے ستر گھاٹیاں نیچے لے جائیں گے۔

اسامہ بن لادن کے نصیحہ کمیٹی لندن کی جانب سے ( بتاریخ 27/07/1415 ھ ) لانچ کیے جانے والے خطاب میں الشیخ بن باز ﷫کے بارے میں کچھ اس طرح کہا :

ونحن سنذکرکم فضیلۃ الشی ببعض ھذہ الفتاوی والمواقف التی قد لا تلقون لھا بالاً، مع أنھا قد تھوی بھا الأمۃ سبعین خریفاً فی الضلال

فضیلۃ الشیخ ہم آپ کے سامنے آپ کے بعض ایسے فتاوی اور مواقف بیان کریں گے جن کی شاید آپ کو اتنی پرواہ نہ ہو مگر درحقیقت ان کے سبب امت گمراہی کی ستر گھاٹیوں میں جاگر سکتی ہے۔

اسی طرح یوں بھی کہا کہ امام صاحب کے فتوے ایسے خطر ناک ہیں کہ جو شرائط پر بھی پورے نہیں اترتے۔

پھر اپنے ایک دوسرے خطاب ( بتاریخ 28/08/1415ھ) میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو شیخ ابن باز ﷫کے فتاوی سے خبردار کرتے ہوئے کہا :

ولذا فانناتبہ الأمۃ الی خطورۃ مثل ھذہ الفتاوی الباطلۃ وغیر مستوفیۃ الشروط

اسی وجہ سے ہم امت کو ان باطل فتاویٰ کہ جو شروط پر پورے نہیں اترتے ،کی خطرا انگیزی سے خبردار کرتے ہیں۔

اسی طرح شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے بارے میں یوں کہا : “یہ حکومتی علماء ہیں جو ظالموں کی طرفداری کرتے ہیں۔”

ایک مرتبہ یوں بھی کہا :

ان علۃ المسلمین الیوم لیست فی الضعف العسکری، ولا فی الفقر المادی وانما علتھم خیانات الحاکم وتخاذل، وتخاذل الأ نظمۃ وضعف أھل الحق واقرار علماء السطلان لھذا الوضع ورکونھم الی الذین ظلموا من حکام السؤوسلاطین الفساد

مسلمانوں کی موجودہ بیماری عسکری قوت کی کمی نہیں، اور نہ ہی مادیت پرستی ہے ، بلکہ ان کی اصل بیماری حکمرانوں کی خیانتیں، نظاموں کی تباہی و رسوائی  اور اہل حق کی کمزوری ہے، اور حکومتی علماء کا اس صورتحال کو تسلیم کرنا اور ان برے حکمرانوں اور فسادی بادشاہوں کی طرفداری کرنا ہے۔

اسی طرح ایک جگہ کہا کہ امام صاحب کے مواقف امت اور اسلام پر عمل پیرا ہونے والوں کے لئے عظیم نقصانات کا باعث ہیں۔

ایک جگہ پر  کہتا ہے:

فقد سبق لنا فی ھیئۃ النصیحۃ والا صلاح أن وجھنا لکم رساۃ مفتوحۃ فی بیاننا رقم (۱۱) وذکر ناکم فیھا باللہ، وبواجبکم الشرعی تجاہ الملۃ والأمۃ، ونھینا کم فیھا علی مجموعۃ من الفتاوی والمواقف الصادرۃ منکم والتی ألحقت بالأ مۃ والعاملین للا سلام من العلماء والدعاۃ أضراراً جسیمۃ عظیمۃ

 کمیٹی برائے نصیحت واصلاح کی طرف سے آپ کو ایک کھلا خط ہمارے بیان رقم (۱۱) کی صورت میں موصول ہوچکا ہے جس میں ہم نے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس ملت وامت کی جانب سے جو آپ پر واجب ہوتا ہے ذکر کیا، اور اس میں ہم نے آپ کو ان مجموعہ فتاوی اور مواقف کہ جو آپ سے صادر ہوئے ہیں،ان سے روکا کہ  جو امت اور اسلام پر عمل پیدا ہونے والے علماء اور داعیان کے لئے بہت عظیم نقصان کا باعث ہیں۔

ایک جگہ پر  کہتا ہے کہ امام صاحب ظالم طاغوتوں کے دوست ہیں۔

جیسا کہ یوں کہا :

“فضیلۃ الشیخ لقد تقدمت بکم السن ، وقد کانت لکم أیاد بیضاء فی خدمۃ الاسلام سابقًأ ، فاتقوا اللہ وابتعدو اعن ھؤ لاء الطواغیت والظلمۃ الذین أعلنوا الحرب علی اللہ ورسولہ”

 فضیلۃ الشیخ آپ اتنے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور آپ کی اس سے پہلے اسلام کے لئے روشن خدمات ہیں، پس آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان طاغوتوں اور ظالموں سے دور رہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔

اسی طرح  کہتے ہیں کہ آپ کے فتاوی مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔

ایک جگہ پر  یوں کہا :

ونحن بین یدی فتوا کم الأ خیرۃ بشأن ما یسمی بھتانًا بالسلام مع الیھود والتی کانت فاجمعۃ للمسلمین حیث استجبتم للرغبۃ السیاسیۃ للنظام لما قرر اظھار ماکان یضمرہ من قبل ، من الدخول ھذہ المھزلۃ الاستسلامیۃ مع الیھود فأصد رتم فتوی تبیح السلام مطلقاً ومقید ًا مع الیھود

ہمارےسامنے آپ کا آخری فتوی موجود ہے جس کا عنوان ہے” یہود کے ساتھ صلح” جو کہ مسلمانوں کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں، کہ آپ نے اس نظام کے لئے سیاسی رغبت کا اظہار فرمایا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے جو پہلے مخفی تھی، یعنی آپ نے یہود کے ساتھ مطلق اور مقید صلح کو مباح قرار دینے کا فتوی جاری فرمایا۔

اسی طرح الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو ( بتاریخ ۰۸/۰۴/۱۴۲۲ھ) میں اور کیسٹ بعنوان “استعدوا للجھاد” (جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ) میں کہا اور کیا ہی برا کہا:

من زعم أن ھناک سلام دائم مع الیھود فھو قد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم

جو یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی صلح یہود کے ساتھ باقی ہے تو یقیناً اس نے اس چیز کا کفر کیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئی۔

اسی طرح بن لادن کا کہنا ہے کہ امام صاحب کے فتاوی لوگوں پر معاملے کو ملتبس اور مشتبہ کرنے کا سبب ہیں جسے ایک عام مسلمان بھی تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوگا۔

ایک جگہ پر  یوں کہا :

ان فتواکم ھذہ کانت تلبیسًا علی الناس لما فیھا من اجمال مخل وتعمیم مضل ، فھی لا تصلح فتوی فی حکم سلام منصف ، فضلاً عن ھذا السلام المذیف مع الیھود الذی ھو خیانۃ عظمی للاسلام والمسلمین، لایقرھا مسلم عادی فضلاً عن عالم مثلکم یفترض فیہ من الغیرۃ علی الملۃ والأمۃ

 آپ کا یہ فتوی لوگوں پر معاملے کو متلبس کرتا ہے کیونکہ اس میں جو خلل زدہ اجمال اور گمرہ کن عمومیت ہے وہ اس فتوی کو ایک منصافانہ صلح تک کے لئے ناقابل عمل بناتی ہے چہ جائیکہ یہود کے ساتھ اس مضحکہ خیز صلح کے لئے قابل عمل ہو، یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہے، ملت اور امت کے لئے غیرت ایک عام مسلمان کوبھی اسے قبول کرنے سے روکتی ہے چہ جائیکہ آپ جیسا عالم ایسی بات کرے۔

اس کے علاوہ مزید کئی دلائل موجود ہیں سو معاملہ آپ کے سامنے واضح ہے کہ بندہ ذاتی وجوہات کی بناء پر نہیں بلکہ ایک سوچ و فکر اور ایک عقیدے کے تحت مخالفت کر رہا ہے وہ ایک ایسے شخص کی جسے دنیا بھر میں شریعت اسلامیہ کا ایک پختہ عالم تسلیم کیا جاتا ہے ۔ نصیحت کو ٹھکرا کر اپنے اعمال کو حتمی سمجھتے ہوئے اس متفقہ شخصیت کے کیڑے نکالنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔ اور یہی خوارج کی سب سے بری عادت ہے ۔ 

دعا ہے کہ اللہ ہمیں دین حنیف کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اس پر صحیح معنوں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ 




خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی شہادت

خوارج کبار صحابہ کے قاتل
خوارج،کبار صحابہ کے قاتل
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت

حافظ عمر خطاب بهٹوی حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کی تاریخ میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ استدلالات  کی بنیاد پر امت کے کبار اور معزز لوگوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار صحابہ کرام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، میں اس کو فرداً فرداً بیان کررہا تھا۔

چنانچہ  امت مسلمہ میں خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد سیدنا زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کا نام آتا ہے ۔اور ان کے بعد خوارج کے ہاتھوں اللہ کی جنتوں کے مہمان بننے والے جلیل القدر صحابی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں ،  ہم   ان کی شہادت کی دلدوز داستان بھی بیان کریں گے۔

یہاں اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کی مختصر حالات زندگی اور فضائل ومناقب پر روشنی ڈالنا چاہوں گا تاکہ قاری پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے کہ خوارج اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور ان کا سب سے بڑا مشن اہل اسلام کو بچانا نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ان قائدین کو  دھوکے سے شہید کرنا ہے کہ جو امت محمدیہ  کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔

حالات زندگی اور خدمات:

علی بن ابی طالب (599ء –661ء) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ یہ نبیﷺکے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں بچپن میں نبیﷺ کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔اور انہی کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً دس یا گیارہ سال تھی۔

 اسلام قبول کرنے کے بعد  ان پر بھی مشکلات آئیں۔ہجرت کے وقت نبیﷺکے بستر پر آرام کیا اور حالت یہ تھی گھر سے باہر قریش کے سارے قبائل کے بہترین حرب و جنگ کے ماہر لوگ نبیﷺ کو قتل کرنے کا خیال دل میں رکھے باہر کھڑے تھے اور موقع کا انتظار کر رہے تھے۔ہجرت کے بعد تمام غزوات میں نبیﷺ کے ہمراہ رہے۔خندق کے موقع پر قریش کے ایک بڑے سورما عمرو بن عبدودجو کہ خندق پار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس کے مقابلے سے لوگ کتراتے تھے،اس کو قتل کیا۔خیبر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر فتح کروایا۔ایک غزوے میں نبیﷺ نے اپنا نائب بنایا ۔یہ کاتب نبیﷺ تھے ،چنانچہ جب سہیل نےصلح حدیبیہ کے موقع پر “رسول اللہ” کا لفظ مٹانے کو کہا تو انہوں نے انکار کردیا ،پھر نبیﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ لفظ مٹایا۔وفات نبویﷺ کے بعد خلفاء ثلاثہ کے مشیر خاص رہے۔چنانچہ تمام خلفاء میں سے کسی نے بھی انہیں کسی غزوے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی۔یہ صحابہ میں بہترین قاضی تھے ،اللہ نے معاملے کہ تہہ تک پہنچنے کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔یہ بہترین فقیہ تھے اور اہل علم اور کبار صحابہ میں سے شمار کئے جاتے تھے، چنانچہ جب صحابہ کسی مسئلے میں تردد کا شکار ہوجاتے تو ان سے رجوع کرتے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد امت نے انہیں بالاتفاق خلیفہ بنادیا۔(اختلافات اس بات پر تھے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان سے فوراً بدلہ لیں لیکن جناب علی کا یہ خیال تھا کہ حالت کو سنبھل لینے دیں پھر ان کا قصاص لیں گے)

شہادت:

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ بعد میں ان میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔ باغی جماعت کے بقیہ ارکان بدستور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد و پیش میں موجود رہے تاہم ان کی طاقت اب کمزور پڑ چکی تھی۔

چنانچہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے جنگ نہروان میں  خارجیوں کی جڑ کا ٹنے کے بعدبھاگنے والے خارجیوں میں سے تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا کہ حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔

انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ خود ساختہ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ اس کی ملاقات ایک حسین عورت قطام سے ہوئی ، جس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ ابن ملجم ا س کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ قطام نے نکاح کی شرط یہ رکھی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دےاور کچھ دنیاوی مال بطور حق مہر مانگا تو وہ کہنے لگا کہ میں صرف جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر سکتا ہوں تو وہ اسی پر راضی ہوگئی کہ وہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردےاور اپنا ایک چچا زاد بھائی “وردان “اس کی مدد پر مامور کردیا۔  جب اس کے اس مقصد کا پتہ ایک اور خارجی شبیب کو چلا تو اس نے  ابن ملجم کو روکا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات کا حوالہ بھی دیا لیکن ابن ملجم نے اسے قائل کر لیا۔

اس نے نہایت ہی سادہ منصوبہ بنایا اور صبح تاریکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف آ رہے تھے  تو اس نے آپ کے سر پرتلوار سے  حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔  اس کے بقیہ دو ساتھی جو حضرت معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہما کو شہید  کرنے روانہ ہوئے تھے، ناکام رہے۔ برک بن عبداللہ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے گیا تھا، انہیں زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اس دن بیمار تھے، اس وجہ سے انہوں نے فجر کی نماز پڑھانے کے لیے خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔  خارجی عمرو بن بکر نےانہیں  عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دھوکے میں شہید کر دیا۔ اس کے بعد وہ گرفتار ہوا اور مارا گیا۔

جناب علی رضی اللہ  عنہ شدید زخمی تھے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ وصیتیں کرنے کا وقت دے دیا، چنانچہ انہوں نے چند وصیتیں کیں ،جو وصیتیں ان کے ذات پر کیچڑ اچھالنے والے کے منہ پر زبردست طمانچہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔چنانچہ ان کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:

آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا:

میں تمہیں اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا رب ہے۔ اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ صرف اسلام ہی کی حالت میں جان دینا۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا، اس سے اللہ تم پر حساب نرم فرما دے گا۔ یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا، ان پر یہ نوبت نہ آنے دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مانگیں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بھی ڈرنا کیونکہ تمہارے نبیﷺ کی نصیحت ہے۔

(طبری:3/2،355)

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔ اپنے نبی کے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔پشت دکھانے، رشتوں کو توڑنے اور تفرقہ سے بچتے رہنا۔ نیکی اور تقوی کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور نافرمانی اور سرکشی میں کسی کی مدد نہ کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اللہ تعالی تمہاری ، تمہارے اہل خاندان کی حفاظت کرے جیسے اس نے تمہارے نبی کریمﷺ کی حفاظت فرمائی تھی۔ میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتا ہوں۔

(طبری:3/2،356)

ان وصیتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ کی رائے کیا تھی؟ آپ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خاص کر اس بات کی تلقین فرمائی کہ صحابہ کرام کو ساتھ ملایا جائے، ان سے تفرقہ نہ پیدا کیا جائے اور انہی کے ساتھ رہا جائے خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت حسن نے یہی کیا اور  قربانی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی، جس پر ملت اسلامیہ قیامت تک فخر کرتی رہے گی۔

اپنے قاتل کے بارے میں  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وصیت فرمائی:

بنو عبدالمطلب! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون نہ بہا دینا،  اور یہ کہتے نہ پھرنا کہ امیر المومنین قتل کیے گئے ہیں (تو ہم ان کا انتقام لے رہے ہیں) سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا۔ حسن! اگر میں اس کے وار سے مر جاؤں تو قاتل کو بھی ایک ہی وار میں ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیے۔ اس کی لاش کو بگاڑنا نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ مثلہ سے بچو ۔

(طبری:3/2،356)

اس کے بعد21 رمضان 40ھ کوفجر کی نماز کے وقت اسلام کا یہ بطل جلیل خوارج کی چالاکیوں کا شکار ہوکر ہمیشہ کیلئے امت محمدیہ کو داغ مفارقت دے گیا ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

اس کے بعد اس خارجی کو بھی قصاصاً قتل کردیا گیا۔          

“خس کم جہاں پاک”




کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ! وبعد:

آج بہت سے مسالک بھی ایک دوسرے کو خوارج کہتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جو خوارج کو دراصل ممتاز اور نمایاں کرتی ہے؟ 

خوارج کی پہچان انکے (نہایت بھیانک اور) گمراہ فکر و عقیدے اور پھر اسی کی بنیاد پر اسلامی ریاستوں، مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں میں بغاوت، قتل و غارت گری اور اموال کو لوٹنے جیسے اعمال سے مشروط ہے.
اس بدترین گروہ کا شمار موجودہ مسالک یا مذاہب اربعہ میں سے کسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ایک الگ گروہ ہے، جو تمام مذاہب و مسالک سے اپنا حصہ حاصل کرسکتا ہے. اور اس فتنہ خوارج نے قرآن و سنت کے مطابق،دین اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر قیامت کی دیواروں تک، کسی نہ کسی تنظیم یا گروہ کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے.

جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم.

(ابن تيمية، النبوات : 222)

”وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے”۔
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496)

“اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔”
پھر آخر میں ابن تیمہ رحمہ اللہ فیصلہ کن طور پر لکھتے ہیں:
وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477)

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔
دین محمدیہ میں شریعت اسلامی کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک کھڑی کرنا اور مسلمانوں میں امن و عامہ کو تباہی سے دوچار کرنا خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔اس پر تاریخ گواہ ہے۔
ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ:
“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”
“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

اللہ تمام مسلمانوں پر رحم فرمائے۔ آمین




فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اسماء کو مانتے ہیں لیکن صفات کے منکر ہیں، بس وہ مجرد یعنی صفت سے عاری اسم مانتے ہیں۔ اسماء الہی صرف الفاظ ہيں کہ جن کا نہ کوئی معنی ہے اور نہ صفت ۔

انہیں معتزلہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے امام واصل بن عطاء مشہور جلیل القدر تابعی امام حسن بصری رحمہ اللہ کے شاگرد ہوا کرتے تھے۔ جب اس نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے کبیرہ گناہ کے مرتکب کے حکم کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ نے اہل سنت والجماعت کا جو قول ہے وہی فرمایا:

انہ مؤمن ناقص الایمان، مؤمن بایمانہ فاسق بکبیرتہ

وہ ناقص الایمان مومن ہے، اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے۔ 

مگر واصل بن عطاء اپنے شیخ کے اس جواب سے راضی نہ ہوا تو اس نے کنارہ کشی اختیار کرلی اور کہا: نہیں، میں ایسے کبیرہ گناہ کے مرتکب کو نہ مومن سمجھتا ہوں اور نہ کافر بلکہ وہ تو منزل بین المنزلتین  (دو منزلوں کے درمیان ایک منزل) پر ہے۔

پس اس نے اپنے استاد حسن بصری رحمہ اللہ کا حلقہ چھوڑ کر مسجد کے ایک کونے میں جگہ اختیار کرلی اور آہستہ آہستہ اوباش قسم کے لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے اور اس کے قول کے قائل ہوگئے۔

یہی حال ہوتا ہے گمراہی کے داعیان کا ہر دور میں کہ لازمی طور پر بہت سے لوگ ان کی طرف لپکے جاتے ہیں، اس میں بھی اللہ تعالی کی عظیم حکمتیں پنہاں ہیں۔انہوں نے حسن بصری جو کہ اہل سنت کے بہت بڑے امام تھے ، ان کی خیر وعلم والی مجلس کو چھوڑ کر ، اس گمراہ اور گمراہ گر معتزلی واصل بن عطاء کی مجلس اختیار کی۔

اس کے مشابہ بہت سے لوگ ہمارے اس زمانے میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو علماء اہل سنت والجماعت کی مجلس چھوڑ کر منحرف فکر کے مفکرین کی مجالس کو اختیار کرلیتے ہیں۔ پس آپ انہیں پائیں گے کہ انہی کی کیسٹوں اور کتابوں کی شدید حرص کرتے ہیں اور انہی پر قناعت کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔

اگر آپ ان سے کہیں کہ اس میں ایسی باتیں ہیں جو عقیدۂ اہل سنت والجماعت اور سلف صالحین کے خلاف ہے جیسے خلق قرآن ، یا تاویل صفات باری تعالی، یا پھر حکمرانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنا وغیرہ۔

تو وہ کہتے ہیں کہ: یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کتاب کی قرأت اور اس کی تقاریر سننے میں کوئی مانع نہیں، حالانکہ ہمارے سلف وخلف علماء کی کتب میں وہ کچھ ہے جو ان کی کتابیں پڑھنے سے ہمیں مستغنی کردیتا ہے۔ تو جو کوئی ان کی بات سنتاہے اسے وہ اس طرح سے گمراہ کرتے ہیں۔۔۔

﴿لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ

(النحل: 25)

تاکہ یہ لوگ اپنے کامل بوجھ بھی بروزقیامت اٹھائیں اور ان کے بھی جنہیں بغیر علم کے انہوں نے گمراہ کیا، کتنا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اپنے سر لے رہے ہیں۔ 

کیا یہ لوگ جانتے نہیں کہ ہمارے سلف صالحین تو اس سے بھی بائیکاٹ کرجایا کرتے تھے جو صرف ایک بدعت میں مبتلا ہوتا یا پھر صرف ایک صفت الہی کی تاویل کرتا؟

دیکھیں یہ امام عبدالوہاب بن عبدالحکم الوراق رحمہ اللہ جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے ہیں ان سے ابو ثور کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:  ”میں اس کے بارے میں وہی مؤقف رکھتا ہوں جو امام احمد رحمہ اللہ کا ہے کہ ابو ثور اور جو اس کے قول کا قائل ہو ان سب سے بائیکاٹ کیا جائے “۔

یہ صرف اس لیے کہ اس نے صورت الہی سے متعلق جو حدیث ہے اس کی ایسی تاویل کی جو سلف کے قول کے خلاف تھی۔ جب اس کا یہ حال ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا کہ جس کی غلطیوں کو بیان کرنے کے لیے کتابیں در کتابیں بھر دی جاتی ہیں؟؟!

اس کے باوجود آپ ان میں سے بعض کو یہ کہتا ہوا پائیں گے کہ:

یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کی کتب پڑھنے میں مانع نہیں!!۔ فلاحول ولاقوۃ الا باللہ۔

پس یہ لوگ تب  سے معتزلہ کے نام سے پہچانے جانے لگے کیونکہ انہوں نے اہل سنت والجماعت سے اعتزال (دوری) اختیار کی۔ انہوں نے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کیا اور اسماء کو صفات سے عاری محض بے صفت کا نام ثابت کیا۔ اور مرتکب کبیرہ گناہ کے بارے میں آخرت کے تعلق سے وہی خوارج کے قول کے قائل ہوگئے کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں رہے گا لیکن دنیا کے معاملے میں خوارج سے تھوڑا اختلاف کیا اور کہا کہ وہ دو منزلوں کے مابین ایک منزل میں ہے یعنی نہ مومن ہے نہ کافر۔ جبکہ خوارج اسے سیدھا کافر کہتے ہیں۔اور یہ مسلمان ہی نہیں مانتے ۔ فرق بہت معمولی ہے ۔ 

سبحان اللہ! کیا کوئی یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ انسان نہ مومن ہو اور نہ ہی کافر؟!۔

اللہ تعالی تو فرماتا ہے:   ﴿هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ

(التغابن: 2)

اسی اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا پس تم میں سے کوئی کافر ہے تو کوئی مومن

یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی المنزلۃ بین المنزلتین (دو منزلوں کے مابین کسی منزل) پر ہے، لیکن کیا یہ لوگ کچھ فقہ وفہم رکھتے بھی ہیں؟؟۔

پھر اس معتزلہ مذہب سے اشاعرہ مذہب پیدا ہوا۔ 

ماخوذ از

لمحة عن الفرق الضالة 




خوارج کے فرقے،القاب اور نام

خوارج کے فرقے

 

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خارجیوں کے بہت سے فرقے اور جماعتیں ہیں،لیکن یہ سب خروج و بغاوت  اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر الگ رہنے پر متفق ہیں،ان کا سب سے مشہور نام “خوارج”ہے ، ان کو حروریہ بھی کہا جاتا ہے،کیونکہ ابتدائے امر میں کوفہ کے قریب ”حروراء “ نامی جگہ سے یہ لوگ نکلے تھے۔

⬅️ ان کا ایک نام مارقہ بھی ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے ان کے متعلق فرمایا:

“يمرقون من الدين”

وہ دین سے نکل جائیں گے۔

(بخاری4094) 

⬅️ ایک نام مکفرہ بھی ہے(یعنی تکفیر کرنے والے)کیونکہ یہ اپنے مخالفین،اور گناہ کرنے والوں  کو کافر قرار دیتے ہیں ۔

⬅️ ان کا ایک نام شُراۃ بھی ہے (یعنی خریدنے والے)کیونکہ انکا گمان تھا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لیا ہے،اور اسے جنت کے بدلے بیچ دیا ہے۔

⬅️ پہلے کے خارجیوں میں سب سے سخت قسم کے ازارقہ  تھے،جو نافع بن الازرق الحنفی کے پیروکار تھے،خوارج کے فرقوں میں  سے کوئی فرقہ ازراقہ سے زیادہ طاقتور اور ان سے زیادہ تعداد والا نہیں تھا،یہ لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کے زمانہ خلافت میں نافع کے ساتھ بصرہ سے نکل کر اہواز کی جانب گئے،اور اہواز اور اس کے آس پاس کے علاقوں اور اس کے ماوراء فارس اور کرمان کے شہروں پر قبضہ کر لیا ،اون ان علاقوں میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما   کے گورنروں کو قتل کر دیا۔

یہ ازارقہ خوارج کے تمام فرقوں میں سے  سب سے زیادہ انتہاپسند تھے ،ان کے کچھ منفرد اعتقادات تھے، جن کی وجہ سے وہ خوارج کے دیگر فرقوں سے الگ ہو گئے،ان کے وہ عقائد یہ ہیں:

🔵انہوں نے شادی شدہ زانی پر رجم کے شرعی حکم کو باطل قرار دیا۔

🔴جو شخص شادی شدہ مرد پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف نہیں ہے۔

🔵جو شادی شدہ عورت پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔

🔴انہوں نے چور کا ہاتھ کندھے کے پاس سے کاٹا،اور اس سزا کو انہوں نے ہر قسم کی چوری پر واجب کیا،خواہ چوری کیا ہوا مال کتنا ہی کم ہو۔

🔵انہوں نے حائضہ عورت پر حالت حیض میں نماز اور روزہ واجب قرار دیا۔

🔴انہوں نے ان تمام عورتوں اور بچوں کے خون کو مباح قرار دیا،جو ان کے خیمے(ان کی جماعت)کے نہیں تھے۔

🔵جو لوگ ان کے پاس ہجرت کر کے آتے تھے،ان کے سلسلے میں ان کا یہ معمول اور طریقہ کار تھا کہ ان میں سے ہر ایک کا امتحان لیتے تھے ، امتحان کی صورت یہ ہوتی تھی کہ اپنے مخالفین کے قیدیوں میں سے  ایک قیدی اس کے حوالے کر کے حکم دیتے تھے کہ اسے قتل کرو،اگر وہ قیدی کو قتل کر دیتا تو اس کو جماعت کی رکنیت کا پروانہ دیدیتے،ورنہ اسے قتل کر دیتے۔

🔵ان کا گمان تھا کہ ان کے مخالفین کے بچے مشرک ہیں، اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ ان کے مخالفین کے علاقے دیار کفر ہیں،اور ان کی امانتوں کو واپس کرنا واجب نہیں۔

🔵وہ یہود و نصاری اور مجوسیوں کا قتل حرام قرار دیتے ہیں۔

🔴ان کا کہنا ہے کہ جس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا وہ کافر ہے، اس کے سبب وہ اسلام سے مکمل طور پر خارج ہو گیا،اور دوسری ملتوں کے کفار کے ساتھ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔

🔵تحکیم کے معاملے میں وہ علی رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دیتے ہیں،اور دونوں حکم ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو ،اور اسی کے ساتھ عثمان، طلحہ، زبیر، عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور ان کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کو بھی کافر قرار کہتے ہیں،اور یہ کہ وہ سب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴ان کے موافقین اور متبعین میں سے جو شخص ہجرت کر کے ان کے علاقے میں نہیں آیااسے یہ مشرک گردانتے ہیں،خواہ وہ ان کے مذہب اور ان کے عقیدے میں ان کے موافق ہی کیوں نہ ہو۔

ان سب کے علاوہ بھی ان کی بدعتیں اور ہاکت خیز و تباہ کن گمراہیاں ہیں،دیکھیں

(تاریخ الطبری5/528،566،614،613،568)ومقالات الاسلامیین(1/157-162)

خوارج کے نت نئے طریقوں اور منصوبوں کی بنا پر ان کے نئے نئے نام اور القاب بھی سامنے آتے رہتے ہیں ، یا تو عوام الناس ان کو یہ نام و القاب  دیتے ہیں، یا وہ خود اپنے اوپر ان کا اطلاق کر لیتے ہیں، اس سے انہیں لوگوں سے اپنی حقیقت چھپانا مقصود ہوتا ہے ، ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا، اور اپنے گھناؤنے افعال کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، جیسے ہمارے موجودہ زمانے میں ان خوارج کو القاعدہ، الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام یعنی ”داعش“ اور الجبہۃ النصرۃ ، بوکو حرام ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار وغیرہ ناموں سے جانا جاتا ہے۔

⬅️ خوارج کے فرقوں میں سب سے زیادہ خبیث اور بد ترین فرقہ ”القعدیہ“ ہے ، ان کا کام صرف زبان کے زریعے حکمران کے خلاف خروج و بغاوت کرتے ہوئے آگ بھڑکا کر رکھنا ہوتا ہے ، اور غیر محسوس انداز میں یہ مسلم حکومت وقت کے خلاف مسلح باغیوں کی فوج تیار کر رہے ہوتے ہیں ، ان کی ذہن سازی اور دلائل مہیا کر رہے ہوتے ہیں ، اعلانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ حاکم کے عیوب و نقائص ذکر کر کے اور ان کی اچھی سیرت و کردار کی غلط تصویر کشی کر کے ان کے خلاف عوام کو ورغلاتے ہیں، اور حکومت و ریاست میں ان سے مزاحمت کرتے ہیں۔

فرقہ قعدیہ کے حوالے سے ہماری ویب سائٹ پر الگ سے ایک مضمون شائع کیا جا چکا ہے شائقین یہاں سے قعدیہ بدترین فرقہ خوارج کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔