وضعی قوانین

مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان کا نفاذ ، جید علماء امت کی نظر میں

وضعی قوانین

خالصتاً وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان  کا نفاذ،علماء امت کی نظر 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

اہل سنت کا موقف ہے یہ ہے کہ مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا اس کا نفاذ خارج عن الملة نہیں ہے الا یہ کہ اس کے ساتھ استحلال قلبی یا انکار بھی ہو۔جبکہ خوارج اس قانون سے بالکل بے بہرہ اور بے پرواہ نظر آتے ہیں ۔ آئے دور حاضر کے جید علماء کے دلائل سے بات کو سمجھتے ہیں ؛ 

◀️ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”وخلاصة الکلام : لا بد من معرفة أن الکفر کالفسق والظلم ینقسم الی قسمین : کفر وفسق وظلم یخرج من الملة وکل ذلک یعود الی الاستحلال القلبی وآخر لا یخرج من الملة یعود الی الاستحلال العملی.”

        ”ہماری اس طویل بحث کا خلاصہ کلام کچھ یوں ہے کہ یہ جان لینا چاہیے کہ کفر بھی ظلم اور فسق کی مانند دو طرح کا ہے۔ ایک کفر’ ظلم اور فسق و فجور تو وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے نکل جانے کا باعث بنتا ہے اور یہ وہ قسم ہے جس میں کوئی شخص اسے  دل سے حلال سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے اور دوسرا کفر’ ظلم یا فسق وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا اور یہ وہ قسم ہے جس کا مرتکب عملی طور پر اس کفر’ ظلم یا فسق والے عمل کو حلال سمجھ رہا ہو یعنیدلی طور پر وہ اسے حرام اور گناہ ہی سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ٩’ ١٠)

◀️ سعودی عرب کے سابقہ مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد اطلعت علی الجواب المفید الذی تفضل بہ صاحب الفضیلة الشیخ محمد ناصر الدین الألبانی وفقہ اللہ المنشور فی صحیفة المسلمون الذی أجاب بہ فضیلتہ من سألہ عن ” تکفیر من حکم بغیر ما أنزل اللہ من غیر تفصیل” …

وقد أوضح أن الکفر کفران : أکبر وأصغر کما أن الظلم ظلمان وھکذا الفسق فسقان : أکبر وأصغر.

فمن استحل الحکم بغیر ما أنزل اللہ أو الزنی أو الربا أو غیرھما من المحرمات المجمع علی تحریمھا فقد کفر کفرا أکبر وظلم ظلما أکبر وفسق فسقا أکبر : ومن فعلھا بدون استحلال کان کفرہ کفرا أصغر وظلمہ ظلما أصغر.”

”میں تکفیر کے مسئلے میں اس جواب سے مطلع ہوا جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے اور وہ ‘المسلمون’ نامی اخبار میں نشر ہوا ہے ۔ اپنے اس فتوی میں انہوں نے’ بغیر کسی تفصیل کے اس شخص کی تکفیر کہ جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کیا ہو’ کے بارے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے …

شیخ ألبانی نے یہ واضح کیا ہے کہ کفر دو قسم کا ہے : ایک کفر اکبر اور دوسرا کفر اصغر جیسا کہ ظلم اور فسق و فجور بھی دو قسم کا ہے۔ ایک ظلم اکبر اور دوسرا ظلم اصغر ‘ اسی طرح ایک فسق اکبر اوردوسرا فسق اصغر۔

جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلہ کرنے کو جائز اور حلال سمجھا یا زنا یا سود یاان کے علاوہ مجمع علیہ حرام شدہ امور میں سے کسی امر کو حلال سمجھا تو اس کا کفر تو کفر اکبر ہے یا اس کا ظلم تو ظلم اکبر اور اس کا فسق تو فسق اکبر ہے۔ اور جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کو حلال جانے بغیر اس کے خلاف فیصلہ دیا تو اس کا کفر تو کفر اصغر ہے اور اس کا ظلم بھی ظلم اصغر ہے۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٣ ‘ ١٤) 

بعض لوگوں کو شیخ بن باز رحمہ اللہ کے ایک فتوی سے یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ وہ وضعی قوانین کے مطابق فیصلوں کو مطلق طور پر کفر سمجھتے تھے حالانکہ شیخ کا یہ فتوی بھی ان کے مذکورہ بالا فتاوی ہی کا ایک بیان ہے۔

◀️ شیخ بن باز رحمہ اللہ نے ایک جگہ فرمایا ہے:

” وکل دولة لا تحکم بشرع اللہ ولا تنصاع لحکم اللہ ولا ترضاہ فھی دولة جاھلیة کافرة ظالمة فاسقة بنص ھذة الآیات المحکمات”

” ہر ریاست جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم پرراضی نہ ہو تو وہ مذکورہ بالا محکم آیات کی روشنی میں جاہل ‘ کافر ‘ ظالم اور فاسق ریاست ہے ۔”

(المفصل فی شرح آیت الولاء والبراء : ص ٢٨٨) 

اس فتوی میں ‘ترضاہ‘ کے الفاظ اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ شیخ بن باز رحمہ اللہ اس مسلمان ریاست کی تکفیر کرتے ہیں جو غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے کو جائز اور حلال سمجھتی ہو اور یہی بات جمہور سلفی علماء بھی کہتے ہیں۔

شیخ بن باز رحمہ اللہ کے جلیل القدر تلامذہ نے بھی ان کی طرف اسی موقف کی نسبت کی ہے جسے ہم ان کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں ۔

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد ذھب بعض أھل العلم الی أن مجرد تحکیم قانون أو نظام عام مخالف لشرع اللہ تعالی کفر مخرج من الملة ولو لم یصحبہ اعتقاد أن ھذا القانون أفضل من شرع اللہ أو مثلہ أویجوز الحکم بہ …وقد رجح شیخای الشیخ عبد العزیز بن باز والشیخ ابن عثیمین رحمھما اللہ القول الأول؛

وھو أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ لا یکون کفرا مخرجا من الملة مطلقا حتی یصحبہ اعتقاد جواز الحکم بہ أو أنہ أفضل من حکم اللہ أو مثلہ أو أی مکفر آخر.”

” بعض اہل علم کا دوسراقول یہ ہے کہ مجرد کسی خلاف شرع وضعی قانون یا نظام عام سے فیصلہ کرنا ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے اگرچہ اس شخص کا یہ اعتقاد نہ بھی ہو کہ وضعی قانون اللہ کی شریعت سے افضل یا اس کے برابر ہے یا اس سے فیصلہ کرنا جائز ہے … ہمارے دونوں مشائخ کرام ‘ شیخ بن باز اور شیخ بن عثیمین رحمہما اللہ نے اس مسئلے میں پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ 

اور وہ یہ ہے کہ ؛ مطلق طور پر اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنا ایسا کفر نہیں ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہو حتی  کہ وہ فیصلہ کرنے والا شخص غیر اللہ کی شریعت کے  مطابق فیصلہ کرنے  کو جائز سمجھتا ہو یا شریعت سے افضل یا اسے بہتر سمجھتا ہو یا اس قسم کا کوئی کفریہ سبب پایا جاتا ہو۔”

(تسھیل العقیدة السلامیة : ص ٢٤٢۔٢٤٣)

◀️ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”والذی فھم من کلام الشیخین : أن الکفر لمن استحل ذلک وأما من حکم بہ علی أنہ معصیة مخالفة : فھذا لیس بکافر لأنہ لم یستحلہ لکن قد یکون خوفا أو عجزا أو ما أشبہ ذلک.”

”شیخین یعنی شیخ بن باز اور علامہ ألبانی کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے حاکم کا حقیقی کفر اس صورت میں واقع ہوگا جب وہ اپنے اس فعل کو بالکل جائز سمجھتا ہو جبکہ جو حاکم غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے اور اس کو معصیت یا دین کی مخالفت سمجھے تو وہ حقیقی کافر نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے اس فعل کو حلال نہیں سمجھا۔ بعض اوقات کوئی حاکم خوف یا عجز یا اس قسم کی وجوہات کی وجہ سے بھی شریعت کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے، (لہذا اس صورت میں بھی اس پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جائے گا)۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٦)

◀️ اسی طرح ایک اور مقام پر ایک سوال کے جواب میں شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سؤال: اذا ألزم الحاکم الناس بشریعة مخالفة للکتاب والسنة مع اعترافہ بأن الحق ما فی الکتاب والسنة لکنہ یری الزام الناس بھذا الشریعة شھوة أو لاعتبارات أخری ‘ ھل یکون بفعلہ ھذا کافر أم لابد أن ینظر فی اعتقادہ فی ھذہ المسألة ؟

فأجاب: أما فی ما یتعلق بالحکم بغیر ما أنزل اللہ فھو کما فی کتابہ العزیز ینقسم الی ثلاثہ أقسام : کفر وظلم وفسق علی حسب الأسباب التی بنی علیھا ھذا الحکم’

فھذا الرجل یحکم بغیر ما أنزل اللہ تبعا لھواہ مع علمہ بأن الحق فیما قضی اللہ بہ’ فھذا لا یکفر لکنہ بین فاسق وظالم.

وأما ذا کان یشرع حکما عاما تمشی علیہ الأمة یری أن ذلک من المصلحة وقد لبس علیہ فیہ فلا یکفر أیضا’ لأن کثیر من الحکام عندھم جھل بعلم الشریعة ویتصل بمن لا یعرف الحکم الشرعی وھم یرونہ عالما کبیرا فیحصل بذلک مخالفة

واذا کان یعلم الشرع ولکنہ حکم بھذا أو شرع ھذا وجعلہ دستورا یمشی الناس علیہ نعتقد أنہ ظالم فی ذلک وللحق الذی جاء فی الکتاب والسنة أننا لا نستطیع أن نکفر ھذا

وانما نکفر من یری أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ أولی أن یکون الناس علیہ أو مثل حکم اللہ عزوجل فان ھذا کافر لأنہ یکذب بقولہ تعالی ألیس اللہ بأحکم الحاکمین وقولہ تعالی أفحکم الجاھلیة یبغون ومن أحسن من اللہ حکما لقوم یوقنون.”

سوال: اگر کوئی حاکم کتاب و سنت کے مخالف کسی قانون کو نافذ کرتاہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ حق وہی ہے جو قرآن وسنت میں ہے اور اس قرآن وسنت کے مخالف قانون کو اپنی خواہش نفس یا کئی اور وجوہات کی بناء پر نافذ کرتا ہے تو کیا اپنے اس فعل سے وہ کافر ہو جائے گا یا یہ لازم ہے کہ اس مسئلے میں اس پر کفر کا فتوی لگانے کے لیے اس کا عقیدہ دیکھا جانا چاہیے؟

جواب: اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنے کی قرآن میں تین قسمیں یعنی کفر’ ظلم اور فسق و فجور بیان کی گئی ہیں اور ان قسموں کا اطلاق اس حکم کے اسباب کے اعتبار سے بدلتا جاتا ہے۔

پس اگر کسی شخص نے اپنی خواہش نفس کے تحت ما أنزل اللہ کے علاوہ سے فیصلہ کیا جبکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کا فیصلہ حق ہے تو ایسے شخص کی تکفیر نہ ہوگی اور یہ ظالم اور فاسق کے مابین کسی رتبے پر ہو گا۔

اور اگر کوئی حکمران اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مخالف کو تشریع عام یعنی عمومی قانون کے طور پر نافذ کرتا ہے تاکہ امت مسلمہ اس پر عمل کرے اور ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے (حالات کے مطابق) اس میں کوئی مصلحت دکھائی دیتی ہے حالانکہ اصل حقیقت اس سے پوشیدہ ہوتی ہے (یعنی اس میں کچھ جہالت پائی جاتی ہے ) تو ایسے حکمران کی بھی تکفیر نہ ہوگی کیونکہ اکثر حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شرعی احکام سے ناواقف ہوتے ہیں اور انہیں ایسے جاھل مشیروں کا قرب حاصل ہوتا ہے جنہیں وہ بہت بڑا عالم سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ پس اس طرح وہ شریعت کی مخالفت کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی حکمران شریعت کو جاننے اور علم ہونے کے باوجود کسی وضعی قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا یا اسے بطور قانون اور دستور نافذ کر دیا تاکہ لوگ اس پر عمل کریں تو ایسے حکمران کے بارے بھی ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ وہ اس مسئلے میں ظالم ہے اور وہ حق بات ہے جو قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہے کہ کہ ہم اس حکمران کی بھی تکفیر نہیں کر سکتے۔

ہم تو صرف اسی حکمران کی تکفیر کریں گے جو ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق اس عقیدے کے ساتھ فیصلہ کرے کہ لوگوں کاما أنزل اللہ کے علاوہ پر چلنا اللہ کے حکم پر چلنے سے بہتر ہے یا وہ اللہ کے حکم کے برابر ہے ۔ ایسا حکمران بلاشبہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے قول ‘ کیا اللہ تعالی سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ‘ اور ‘ کیا وہ جاہلیت کے فیصلے سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے ‘ ایسی قوم کے لیے جو کہ یقین رکھتے ہیں’ کا انکار کرتا ہے۔”

(تحکیم قوانین کے متعلق اقوال سلف: ص ٣١۔٣٢)

◀️ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پڑپوتے شیخ عبد اللطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ رحمہما اللہ فرماتے ہیں:

” وانما یحرم اذا کان المستند الی الشریعة باطلة تخالف الکتاب والسنة کأحکام الیونان والفرنج والتتر وقوانینھم التی مصدرھا آراؤھم وأھواؤھم وکذلک البادیة وعاداتھم الجاریة. فمن استحل الحکم بھذا فی الدماء أو غیرھا فھو کافر قال تعالی : ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فأولئک ھم الکفرون.

وھذہ الآیة ذکر فیھا بعض المفسرین : أن الکفر المراد ھنا: کفر دون الکفر الأکبر لأنھم فھموا أنھا تتناول من حکم بغیر ما أنزل اللہ وھو غیر مستحل لذک لکنھم لا ینازعون فی عمومھا للمستحل وأن کفرہ مخرج عن الملة.”

” اگر کتاب و سنت کے مخالف باطل احکامات مثلا ً یونانی’ انگریزی اور تاتاری قوانین کہ جن کا منبع و سر چشمہ اہل باطل کی خواہشات اور آراء ہوتی ہیں’ کو شرعی مرجع بنا لیا جائے تو یہ صرف ایک حرام کام ہے۔ اسی طرح کا معاملہ قبائلی جرگوںاور ان کے رسوم و رواج کے مطابق فیصلوںکا بھی ہےیعنی وہ بھی ایک حرام فعل ہے۔ پس جس نے ان باطل قوانین کے مطابق قتل و غارت اور دیگر مسائل میں فیصلہ کرنے کو حلال سمجھا تو ایسا شخص کافر ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: جو شخص اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ کافر ہے ۔

بعض مفسرین نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں کفر سے مراد کفر اکبر سے چھوٹا کفر یعنی “کفر اصغر” ہے کیونکہ ان مفسرین کے فہم کے مطابق اس آیت میں ما أنزل اللہ کے علاوہ کے مطابق فیصلہ کرنے سے مراد اس فیصلہ کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کرنا ہے لیکن اہل علم کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جو حکمران اس فیصلہ کو حلال سمجھتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔”

(منھاج التأسیس والتقدیس فی کشف شبھات داؤد بن جرجیس: ص٧٠’ دار الھدایة)

◀️ مفسر قرآن شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” فالحکم بغیر ما أنزل اللہ من أعمال أھل الکفر وقد یکون کفر ینقل عن الملة وذلک اذا اعتقد حلہ وجوازہ

وقد یکون کبیرة من کبائر الذنوب ومن أعمال الکفر قد استحق من فعلہ العذاب الشدید…فھو ظلم أکبر عند استحلالہ وعظیمة کبیرة عند فعلہ غیر مستحل لہ.”

”ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرناکفریہ فعل ہے اور بعض صورتوں میں یہ دائرہ اسلام سے اخراج کا باعث بھی بنتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص اپنے اس فعل کو حلال اور جائز سمجھتا ہو۔

اور بعض اوقات یہ فعل ایک کبیرہ گناہ اور کفریہ فعل ہوتا ہے جس کا فاعل شدید عذاب کا مستحق ہے…پس اگر اس شخص نے اپنے اس فعل کو حلال سمجھا تو یہ کفر اکبر ہے اور اگر اس فعل کو حلال نہ سمجھا تو اس وقت یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔”

(تفسیر سعدی: المائدة : ٤٥)

◀️ شیخ عبد المحسن العباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سوال: ”ھل استبدال الشریعة الاسلامیة بالقوانین الوضعیة کفر فی ذاتہ؟ أم یحتاج الی الاستحلال القلبی والاعتقاد بجواز ذلک؟ وھل ھناک فرق فی الحکم مرة بغیرما أنزل اللہ وجعل القوانین تشریعا عاما مع اعتقاد عدم جواز ذلک؟

الجواب: یبدو أنہ لا فرق بین الحکم فی مسألة أو عشرة أو مئة أو أقل أو أکثر فما دام الانسان یعتبر نفسہ أنہ مخطیء وأنہ فعل أمرا منکرا وأنہ فعل معصیة وأنہ خائف من الذنب فھذا کفر دونکفر وأما مع الاستحلال ولو کان فی مسألة واحدة وھو یستحل فیھا الحکم بغیر ما أنزل اللہ ویعتبرذلک حلالا فنہ یکون کفرا أکبر.” 

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

سوال: کیا شریعت اسلامیہ کی جگہ وضعی قوانین کا نفاذ بنفسہ کفر ہے؟ یا اس کے کفر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دلی طور پر اس فعل کو حلال سمجھتا اور اس کے جواز کا عقیدہ رکھتا ہو؟ کیا ایک مرتبہ ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے اور وضعی قوانین کو مستقل و عمومی قانون بنا لینے میں کوئی فرق ہے جبکہ قانون ساز اس قانون سازی کے جائز نہ ہونے کا بھی عقیدہ رکھتا ہو؟

جواب : یہ بات ظاہر ہے کہ کسی ایک مقدمہ یا دس یا سو یا اس سے زائد یا کم میں فیصلہ کرنے سےشرعی حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک انسان یہ سمجھتا ہو کہ وہ خطار کار ہے اور اس نے ایک برا اور نافرمانی کا کام کیا ہے اور اسے اپنے گناہ کا خوف بھی لاحق ہوتو یہ کفر اصغر ہے اور اگر وہ اپنے اس فعل کو حلال سمجھتا ہو’ چاہے ایک مقدمہ میں ہی کیوں نہ ہو اور وہ اس مقدمہ میں ماأنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کو حلال سمجھتا ہو تو یہ کفر اکبر ہو گا۔”

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”أن یضع تشریعا أو قانونا مخالفا لما جاء فی کتاب اللہ و سنة رسولہ و یحکم بہ معتقدا جواز الحکم بھذا القانون أو معتقدا أن ھذا القانون خیر من حکم اللہ أومثلہ فھذا شرک مخرج من الملة.”

” یہ کہ حکمران کوئی ایسی قانون سازی کرے جو کتاب اللہ اور سنت رسول کے مخالف ہو اور وہ اس قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو عقیدے کے اعتبار سے جائز سمجھتا ہو یا اس قانون کو اپنے عقیدے میں اللہ کے حکم سے بہتر خیال کرتا ہو یا اس کے برابر سمجھتا ہو تو یہ ایسا شرک ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے۔”

(تسھیل العقیدة الاسلامیة: ص ٢٤٢)

پس معاصر سلفی علماء کے نزدیک غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے حکمرانوں کا کفر دو قسم کا ہے:  کفر حقیقی اور کفر عملی’

اگر تو حکمران غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے اس کو حلال’ شریعت اسلامیہ سے بہتر’ اس کے برابر اور جائز سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں تو یہ کفر اعتقادی ہے ورنہ کفر عملی۔

◀️ اب اگر اس موقف کے قائل محترم مبشر احمد ربانی صاحب گمراہی پر ہیں یا مرجئہ ہیں تو ان کے ہم فہم و ہم مسلک سلف صالحین جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ، وہ بھی گمراہ و مرجئہ ہیں؟

اس تقسیم کے قائلین:

عبد اللہ بن عباس

امام احمد بن حنبل

امام محمد بن نصر مروزی

امام ابن جریر طبری

امام ابن بطہ

امام ابن عبد البر

امام سمعانی

امام ابن جوزی

امام ابن العربی

امام قرطبی

امام ابن تیمیہ

امام ابن قیم

امام ابن کثیر

امام شاطبی

امام ابن أبی العز الحنفی

امام ابن حجر عسقلانی

شیخ عبد للطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ

شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی

علامہ صدیق حسن خان

علامہ محمد أمین شنقیطی رحمہم اللہ أجمعین

شیخ عبد المحسن العباد

پاکستان کے مفسر قران شیخ عبد السلام الرستمی رحمہ اللہ

شیخ حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی حفطہ اللہ جیسے جید علماء کرام بھی شامل ہیں

اب یا تو یہ سب گمراہ ہیں یا پھر اہل السنۃ والجماعۃ پر “تحکیم بغیر ما انزل اللہ” کے مسئلے میں گمراہی اور ارجاء کا الزام لگانے والے خود سے خارجیت کے دھبے کو چھپانے کی معصومانہ کوشش کرتے پھر رہے ہیں؟؟؟




آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

موجودہ زمانے کے مسلم ممالک میں مسلم حکمرانوں پر غلط طریقہ کار سے  تنقید اور ان کی برائیوں کو اچھالا جاتا ہے جس کی ایک حد تک شریعت سے ہمیں بالکل اجازت نہیں ملتی ۔ حکمران چاہے جیسے بھی ہوں کتنے ہی گناہ گار کیوں نہ ہوں جب تک وہ مسلمان ہیں ، اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، مسلمان انہیں اپنا حکمران سمجھتے ہیں تب تک ان کے ساتھ ایسے رویہ اختیار کرنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ 

اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اگر آپ فلاں (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ صحیح مسلم ح: 2989 میں ہے) کے پاس جا کر گفتگو کرتے !! تو آپ نے فرمایا : تمہارا خیال ہے کہ میں ان سے گفتگو کروں تو تمہیں سنا کر اعلانیہ کروں !! میں خفیہ طور پر ان سے گفتگو کروں گا ۔

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : اللہ کی قسم میں نے اپنے اور ان کے درمیان (خفیہ طور پر) ان سے گفتگو کی ہے ،  بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو جاؤں۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 7098،3267،اور مسلم 2989)

چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے  امیر باعظمت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکمت کا اسلوب اپنایا کیونکہ امیر و حاکم کی نصیحت میں اس کے مقام و مرتبہ کی رعایت ضروری ہے ،اس لئے کہ لوگوں کے ساتھ  ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق  معاملہ کرنا حکمت  کی اساس ہے ،اسی  لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے : حدیث (مذکور) میں  امراء کی تعظیم ملحوظ رکھنے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش آنے نیز لوگ ان کے سلسلہ میں جو کچھ کہتے ہیں اس کو ان تک پہنچانے کا بیان ہے (اس سے غیب و چغلی اور لگائی بجھائی کے طور پر لوگوں کی باتیں پہنچانا مقصود نہیں) تا کہ وہ باز رہیں اور نرمی اور حسن ادائیگی کے ساتھ ان سے ہوشیار رہیں،اس بات کے پیش نظر کہ کسی کی ایذا رسانی کے بغیر مقصود حاصل ہو جائے۔

(فتح الباری 13/53، نیز دیکھئے: شرح نووی 328)

 انکار منکر کی شرط یہ ہے کہ اس سے بڑا منکر لازم نہ آئے، کیونکہ انکار منکر کے جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے درج ذیل چار درجے ہیں:

🔵پہلا درجہ: منکر زائل ہو جائے اور اس کی جگہ اس کی ضد (معروف) آجائے۔

🔴دوسرا درجہ : منکر بالکلیہ زائل نہ ہو بلکہ کم ہو جائے۔

🔵تیسرا درجہ: منکر کی جگہ ویسا ہی دوسرا منکر آجائے۔

🔴چوتھا درجہ: منکر کی جگہ پہلے سے بڑا منکر آجائے۔

مذکورہ درجات میں سے ابتدائی دو درجے تو مشروع ہیں اور تیسرا محل اجتہاد ہے اور چوتھا درجہ حرام ہے۔(اعلام الموقعین عن رب العالمین 3/16)

امام نووی رحمہ اللہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے قول”بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو ں “ کے سلسے میں فرماتے ہیں:ان کا مقصد امراء کو ان کی رعایا کے درمیان علانیہ تنبیہ کرنا ہے جیسا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین  عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا،اس میں امراء کے ساتھ ادب، نرمی ، انہیں خفیہ نصیحت اور لوگ جو کچھ ان کے بارے میں کہتے ہیں اسے ان تک پہنچانے کا بیان ہے تا کہ وہ اس سے باز رہیں…۔

(شرح نوووی 18/329)

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ  رعایا کے سامنے اور ان کی موجودگی میں مسلمانوں کے ولی امر کو علانیہ طور پر تنبیہ کرنا عام طور پر بہت بڑے شر و فساد  کا سبب ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کا نتیجہ اختلاف و افتراق یا امام المسلمین کے خلاف بغاوت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، اور ولی امر کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بھلائی کا حکم دے اور انہیں برائی سے روکے،پھر اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اس سے خامی کا صدور ہو کیونکہ وہ بشر ہے، لیکن اس کی اصلاح خفیہ  طور پر  حکمت اور محمود رواداری کے ساتھ کی جائے، اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے اور انتہائی متانت اور سنجیدگی سے اسے نصیحت کی جائے،یہی طریقہ قبولیت کے لائق ہے۔

( فتح الباری 13/52 ، عمدۃ القاری 15/166)

سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: مسلمانوں کے آئمہ و امراء کے عیوب  و نقائص کی تشہیر اور انہیں منبروں پر بیان کرناسلف کا طریقہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ تباہی و بربادی اور سمع و اطاعت نہ کرنے نیز اس بغاوت کا سبب ہے، جو سراپہ نقصان دہ ہے البتہ سلف صالحین کے یہاں معمول بہ طریقہ یہ تھا  کہ نصیحت ان کے اور ولی امر کے مابین ہوتی تھی اور خط و کبابت ہوا کرتی تھی یا ان علماء سے ملاقات ہوا کرتی تھی جو امراء و حکام سے تعلق رکھتے ہوں ،تاکہ انہیں بھلائی کی نصیحت کی جائے ، اور انکار منکر (برائی پر تنبیہ)کا طریقہ کار یہ ہے کہ منکر کے مرتکب کا ذکر کئے بغیر  انکار کیا جائے ،چنانچہ زنا کاری ،شراب نوشی ، اور سود خوری وغیرہ پر مرتکب کا ذکر  کیے بغیر تنبیہ کی جائے،اسی طرح گناہوں پرنکیر اور اس سے اجتناب کی تلقین بھی فاعل کا ذکر کیے بغیر کافی ہے،فاعل کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں خواہ حاکم ہو یا محکوم…۔

(حقوق الراعی والرعیہ، کے اخیر میں طبع شدہ  سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ   کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں،ص 27،28)




حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران کی  خیر خواہی آخر کیسے ؟ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

حکومت ، سلطہ اور جاہ جلال ایسی چیز ہےکہ جہاں ہر کسی کا اپنی مرضی کرنے کو جی چاہتا ہے تبھی تو وہ کئی گناہوں کو بالکل معمولی سمجھتے ہوئے کر گزرتا ہے ، جہاں اسے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اتنے کروڑوں  عوام میں تحت ہیں ، میں جو بھی کرنا چاہوں وہ ہو گا ۔ تو ایسے میں اللہ کی یاد اس کا ڈر ، خوف اور بھی کم ہو جاتی ہے ، اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کی کوتاہیاں اور برائی اچھالنے کی بجائے انہیں نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئیے اسی کے پیش نظر کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے ؛ 

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((الدين النصيحة، قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم))

(مسند احمد404،403/3 ومستدرک حاکم: 290/3)

“دین خیرخواہی ہے۔ہم نے پوچھا: کس سے؟ آپ نے فرمایا: اللہ سے،اس کی کتاب سے،اس کے رسول سے،مسلمانوں کے اماموں سے اور عام مسلمانوں سے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

((نضَّر الله امرأً سَمِع مقالتي فوَعَاها وحَفِظها وبَلَّغها، فرُبَّ حامل فِقْه إلى مَن هو أفقه منه، ثلاث لا يغلُّ عليهنَّ قلبُ مسلم: إخلاصُ العمل لله، ومناصحة أئمة المسلمين، ولزوم جماعتهم؛ فإنَّ الدَّعْوة تُحيط من ورائهم))

(فتح الباری 72،71/13)

اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیوں کہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھاسکتا،(۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیوں کہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی بات کے سننے اور اس کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانے،یاد کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے والے کے حق میں خوشی،چہرے کی تروتازگی اور اس کے حسن و جمال کی دعا فرمائی ہے جو ایمان کے آثار اور باطن کے اس سے روشن ہونے نیز دل کے مسرت  و شادمانی سے ہمکنار اور لذت یاب ہونے کے سبب چہرے کو عطا ہوتی ہے،چنانچہ جو ان چاروں مراتب کو انجام دے گا وہ نبی ﷺ کی ظاہر و باطن کے حسن  و جمال پر مشتمل دعا سے فیضیاب ہو گا۔

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم 1/276.274،بتحقیق علی بن حسن بن عبدالحمید)

امام ابن قیم  رحمہ اللہ  مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

  • نبی ﷺ کا فرمان: اور مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی…..۔

یہ چیز بھی  خیانت اور دھوکہ دہی کے منافی ہے کیونکہ خیر خواہی اور خیانت دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،چنانچہ جو شخص آئمہ و امراء اور امامت(رعایا) کی خیر خواہی کرے گا وہ خیانت سے بری ہو گا۔ 

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم: 1 /275 تا 278)

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

مسلمانوں کے امام وامراۃ کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں ان کی درستی, نیکی اور عدل و انصاف سے محبت کرنا نیز ان کے ہاتھوں پر امت کے اتفاق سے محبت اور ان پر امت کے اختلاف و افتراق کو ناپسند کرنا،اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کو نیکی سمجھنا ان کے خلاف بغاوت کے جواز کا عقیدہ رکھنے والے سے بغض رکھنا اور اللہ کی اطاعت میں ان کے غلبہ و سربلندی کو پسند کرنا۔

(جامع العلوم والحکم: 1/222)

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں حق پر ان کی مدد کرنا،اطاعت کرنا،انہیں حق کی نصیحت کرنا،نرمی و ملائمت سے انہیں تنبیہ کرنا،ان سے اختلاف کرنے اور لڑنے جھگڑنے سے احتراز کرنا اور ان کے لئے توفیق کی دعا کرنا نیز غیروں کو اس پر ابھارنا۔

(مرجع سابق 1/223 نیز مسلمانوں کے امراء کی اطاعت کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ ابن تیمیہ 28/391،390،ومنہاج السنۃ النبویہ 3/390)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں کے امراء کی اطاعت اور انکی خیر خواہی کا حکم دیا ہے وہ انسان پر بعینہ اسی طرح واجب ہےجس طرح پانچ وقت کی نمازیں ،زکاۃ، روزہ ،حج بیت اللہ اور ان کے علاوہ دیگر وہ  اعمال واجب ہیں جن  کی بجا آوری کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ اس نے اس کا معاہدہ نہ کیا ہو اور اس کے لیے پختہ خلاص نہ اٹھائی ہو، اور اگر وہ اس پر قسم کھالے تو یہ چیز امراء  کی اطاعت اور ان کی خیرخواہی کے سلسلہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مزید تاکید وتثبیت ہوگی،  چنانچہ ان کی باتوں کی قسم کھانے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قسم شدہ امر  کی خلاف ورزی کرے…. کیوں کہ اللہ عزوجل نے حکمرانوں اورامراءکی اطاعت اور خیرخواہی کو واجب قرار دیا ہے، وہ یوں بھی  واجب ہے  خواہ وہ  قسم نہ بھی کھائے ،تو اب جبکہ اس نے  قسم کھالی ہے ان کی اطاعت اس پر بدرجہ اولیٰ واجب ہوگی ،اسی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےجوان کی  نافرمانی اور خیانت سے منع فرمایا ہے وہ اس پر حرام ہیں خوا ہ  اس نے قسم نہ بھی کھائی ہو ۔

(فتاوی ابن تیمیہ 35/10،9)

اور آئمہ و امراء کو نصیحت ان کے اور ناصح کے مابین نرمی و ملائمت ،  حکمت  و دوراندیشی ،  عمدہ نصیحت اور مناسب اسلوب میں خفیہ طور پر ہوگی۔ 

شیخ علامہ عبدالرحمان بن ناصر سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رہا مسلمانوں کے آئمہ کی خیر خواہی کا مسئلہ:تو مسلمانوں کے آئمہ سے مراد سلطان اعظم سے لیکر امیر و قاضی تک ان کے امراء اور ذمہ داران ہیں،چونکہ ان لوگوں کے فرائض اور ذمہ داریاں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر ہیں،اس لئے ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے انہیں نصیحت کرنا واجب ہے،اس بات کے پیشِ نظر ان کی امامت کا اعتقاد رکھا جائے،ان کی ولایت ( حکمرانی) کا اعتراف کیا جائے،معروف میں ان کی اطاعت کی جائے،ان کے خلاف بغاوت نہ کی جائے،رعایا کو ان کی اطاعت اور ان کے حکم کی تعمیل پر ابھارا جائے،بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو،اپنی استطاعت بھر انہیں نصیحت اور اپنی رعایا کی دیکھ بھال  کے سلسلے میں جو چیزیں ان سے مخفی ہوں ان کی وضاحت کی جائے ـہر شخص اپنے اعتبار سےـ ان کی اصلاح و درستی اور تو فیق کیلئے  دعا کی جائے کیونکہ ان کی بہتری میں رعایا کی بہتری ہے ،انہیں برا بھلا کہنے،ان کی عیب جوئی  اور انکی خامیوں اور برائیوں کو  عام کرنے سے باز رہا جائے،کیونکہ اس میں برائی ،نقصان اور بہت بڑا فساد ہے،چنانچہ ان کی خیر خواہی کا تقاضہ  یہ ہے کہ ان چیزوں سے بچا جائے اور دوسروں کو تنبیہ کی جائے،اور جو شخص ان کی جانب سے کوئی نا جائز چیز دیکھے اسے چاہیے کہ انہیں علانیہ  نہیں بلکہ خفیہ طور پر نرمی اور ایسے اسلوب میں تنبیہ کرے  جو برمحل ہو  اور مقصود حاصل ہو جائے،کیونکہ ہر شخص بالخصوص  امراء اور حکام کے حق میں  یہی چیز مطلوب ہے،کیونکہ انہیں اس طرح تنبیہ کرنے میں بڑی خیر ہے، اور یہ سچائی اور اخلاص کی علامت ہے ،اور اس (مذکورہ طریقہ پر) نصیحت کرنے والے!دیکھنا لوگوں کی مدح سرائی آپ کی نصیحت  کو ضائع و برباد  نہ کردے،اس لئے کہ آپ لوگوں کو کہتے پھریں کہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے اور ایسا ایسا کہا ہے،کیونکہ یہ ریا کاری اور ضعف اخلاص کی علامت ہے،اور اس کے دیگر نقصانات بھی ہیں جو معروف ہیں۔

(الریاض الناضرۃ والحدائق النیرۃ الزاہرہ،ص38تا 49)




photo727360090787655056

موجودہ حکام اور انکے باطل نظام / ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ

photo727360090787655056
موجودہ حکام اور انکے باطل نظام 
 ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ

الشیخ ابو حذیفہ انصاری حفظہ اللہ 

۔

کچھ عرصہ قبل ایک خارجی فکر کے حامل شخص سے واسطہ پڑ گیا۔ میں اسے کافی پرانا جانتا تھا اور اکثر اوقات ہماری حکام، قتال، خروج جیسے موضوعات پر تفصیلی ابحاث بھی ہو چکی تھیں۔ اور ہر مرتبہ وہ مجھے آئندہ دلائل دکھانے کا کہہ کر مجلس کو سمیٹ دیتا۔ اس کے اس رویے پر میں بھی خوش تھا کہ بال ہر مرتبہ اسی کے کورٹ میں رہ جاتا ہے۔

لیکن اس مرتبہ جب واسطہ پڑا تو وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔
مجھے دیکھتے ہی کہتا : کہ جناب ، آج میں آپ کی سب سے بڑی مصروفیت ہوں، میں نے مسکرا کر ٹھیک ہے جناب۔

پھر اس نے بلا تاخیر و تمہید بحث کا انداز اختیار کر لیا۔ وہ مجھے کہنے لگا کہ جناب آپ کہتے ہیں کہ صحیح مسلم کی کتاب الامارۃ اور دیگر کتب احادیث میں امت مسلمہ کو، جن قسم کے حکام کے حوالے سے رہنمائی کی گئی ہے اور جس دور کی طرف اشارہ کر کے رہنمائی کی گئی ، ہمیں ان سے ڈیلنگ کرتے ہوئے ، انہیں احادیث مبارکہ سے رہنمائی لینی چاہیئے۔

میں نے کہا : جی بالکل درست، متبع قرآن و سنت کو ایسا ہی زیب دیتا ہے۔

وہ خارجی فکر کا حامل شخص طنزاً مسکرا کر بولا : ارے جناب ، وہ تمام احادیث شرعی حاکم کے بارے میں ہیں!
یعنی کے خلیفہ المسلمین نہ کہ موجودہ بادشاہ و جمہوری (غیر شرعی) حکام کے بارے۔۔۔

وہ اپنے اس فہم پر بڑا خوش تھا اور میری طرف ایسی نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ جیسے میں ابھی اسکے موقف کے حق ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ، اسکا شکریہ ادا کروں گا کہ ، ہاں واقعی میں نے تو کبھی اس جانب سوچا ہی نہیں !

لیکن سبحان اللہ ، بے شک حق اللہ تعالی کے پاس ہے۔

میں نے اسے کہا : کہ برائے کرم مجھے شرعی حاکم کی تعریف زرا کھل کر سمجھا دیں؟

وہ خارجی فکر کا حامل شخص بڑے اطمینان سے گویا ہوا اور کہا:
ارے بھائی ، ایسا حاکم ، جو قرآن و سنت پر عامل ہو اور اپنی ریاست یا ملک میں اسے قائم کرنے والا ہو، اسے شرعی امیر یا حاکم کہتے ہیں، اور صحیح مسلم کی کتاب الامارۃ یا دیگر کتب میں ایسے ہی حکام کے بارے میں آتا ہے کہ اگر وہ کبھی تم پر ظلم بھی کر بیٹھیں یا حق تلفی کریں یا کوڑے برسائیں تو ان پر صبر کرنا۔
اور جو قرآن و سنت اور شریعت کے خلاف یا علاوہ چلے وہ غیر شرعی حاکم ہے، اور یہ احادیث انکے بارے ہر گز نہیں !

سبحان اللہ، اس کی یہ تعریف اور تشریح سن کر میں مسکرانے سے نہ رک پایا۔

وہ میری مسکراہٹ سے تھوڑا سا گھبرایا اور بولا:
جناب، یہ ہنسی آپ کے منہ شیطان ڈال رہا ہے!

میں نے کہا : لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔(ویسے درحقیقت تھا ایسا ہی، کیونکہ مجھے خود اسی نے ہنسایا تھا)

بہرحال ، میں نے موضوع سے ہٹنے اور اس ذاتی وار کا جواب دینے کی بجائے، گفتگو کو آگے بڑھایا۔

میں نے اسے کہا : کہ او اللہ کے بندے کیا تو نے وہ احادیث پڑھی ہیں ؟؟؟

وہ کہتا : ہاں بالکل، کیا آپ صرف خود کو ہی اس قابل سمجھتے ہو!

میں نے کہا: جناب! ترش مزاجی کی ضرورت نہیں۔ مجھے آپ کی تشریح سے لگا کہ جیسے آپ نے وہ احادیث سرے سے دیکھی ہی نہیں ہیں!

وہ بولا کیا مطلب؟

میں نے کہا :کہ جناب ، نوٹ فرمالیں، جو تعریف آپ نے شرعی حاکم کی کیں ہیں ، وہاں موجود اکثراحادیث انکے بارے تو ہے ہی نہیں!
بلکہ آپ کی تعریف کے مطابق ، وہ تمام ‘‘غیر شرعی حکام‘‘ اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے پر وارد ہوئی ہیں؛

پھر میں نے اسے مختلف روایات کے اقتباسات دکھلائے:

1۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

«عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ»

ایک مسلمان پر سمع واطاعت فرض ہے چاہے اسے پسند ہو یا نا پسند ہو، الا یہ کہ اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے ، اگر امیر اسے نافرمانی کا حکم دے تو نہ تو اس پر سننا ہے او نہ ماننا۔

(بخاری 7144، مسلم: 1839 الفاظ مسلم کے ہیں)

2۔ حذیفۃ بن الیمانؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہا آپ ﷺ نے فرمایا: 

عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ: «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 

میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے۔۔۔۔

(مسلم:1847)

3۔ علقمہ بن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَقَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ» 

سلمۃ بن یزید الجعفیؓ نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا، وہ کہتے ہیں کہ : ہم نے کہا:

اے اللہ کے نبی اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق روکیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔

(مسلم:1846)

4۔ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:

«سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا» 

عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(صحیح مسلم:1854)

پھر میں نے کہا : کہ ان روایات میں جن حکام کا ذکر ہے، وہ آپ کی تعریف و تشریح کے مطابق غیر شرعی ہوئے، جبکہ اسلام کے مطابق وہ مسلمانوں کے حاکم ہی رہے اور انہی سے برتاو کے بارے اسلام نے باقاعدہ رہنمائی کی ہے۔

وہ اچانک پریشان ہوا، ہوتا بھی کیوں نا؟ اس کا خوشنماء فہم جل کر بھسم ہو چکا تھا۔ 

اس نے فورا اپنی جیب سے موبائل نکالا اور کسی کو کال ملانے لگا۔

جب کسی نے آگے سے فون اٹھایا تو اس نے ایک ہی سانس ساری صورتحال سے آگاہ کیا ، جو ابھی ابھی اس پر بیتی!سبحان اللہ ، فون پر دوسری جانب موجود شخص بھی کوئی بلا شاطر خارجی تھا۔ 

اس نے اس موضوع پر یکسر پینترا بدلتے ہوئے اس خارجی فکر کے حامل شخص سے کہا کہ آپ ان سے کہو کہ حاکم چلیں جیسا بھی ٹھیک ہے، ہمیں اس کے ساتھ شریعت کے مطابق ہی چلنا چاہیے لیکن یہاں مسئلہ حاکم کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کا نہیں ہے۔۔۔۔اور نہ ہی ہم اس بنیاد پر ان کی تکفیر اور ان سے جنگ کرتے ہیں، بلکہ ہماری لڑائی تو اس “باطل نظام ”  کی وجہ سے ہے، جو انہوں نے قائم کر رکھا ہے اور مسلط کر رکھا ہے۔ اور جتنی بھی احادیث ہیں وہ حکام کے بارے ہیں مگر نظام کا ان میں تذکرہ نہیں ہے!

سبحان اللہ ! 

 جب اس شخص نے فون بند کر کے دوبارہ اپنی گھبراہٹ سنبھالتے ہوئے مجھ پر یہ سوالات داغے تو یقین کیجئے، اس مرتبہ میں مسکرایا نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔ میرا تو قہقہ ہی نکل گیا۔
بہرحال ، میں نے مشکل خود کو قابو کرتے ہوئے اس سے التماس کی کہ چلیں مجھے یہ بتا دیں کہ باطل نظام کی تعریف کیا ہوتی ہے؟؟؟

وہ خارجی فکر کا شخص جھٹ سے بولا:
وہ نظام جو قرآن و سنت کے خلاف ہو، کافروں کی خواہشات کے مطابق ہو وغیرہ وغیرہ

میں کہا :  آپ کی تعریف تو ٹھیک ہے مگر آپ اور آپ کے فون پر موجود ‘‘ خفیہ شیخ‘‘ کی عقل لگتا ہے گھاس چرنے گئی ہوئی ہے۔

اتنے میں وہ غصے سے بولا کہ آپ ذاتیات پر حملے کی بجائے، اس بات کا جواب دیں۔

میں نے کہا : اللہ نے ہمیشہ حق کو ہر دور میں واضح کیا ہے، اور آج تم پر ان شاء اللہ میں بھی اپنے رب کی توفیق سے واضح کر دیتا ہوں۔

میں پھر وہی احادیث مبارکہ اس کو دکھائیں اور وہ مقامات دکھائے، جہاں باقاعدہ اسکے مطابق ‘‘غیر شرعی‘‘ حکمرانوں کے علاوہ اسی کی تعریفات کے عین مطابق باطل نظاموں کا بھی تذکرہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ایک عام مسلم مومن کو حاکم سے کیسا برتاو رکھنا چاہیے، اس جانب خوب رہنمائی کی گئی ہے۔

میں نے اسے مذکورہ مقامات دکھلائے:

عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ: «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 

میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے۔۔۔۔

(مسلم:1847)

قَالَ ﷺ : «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» 

قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟

قَالَ ﷺ : «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 

 

آپﷺ نے فرمایا:   ایسے لوگ (حاکم) پیدا ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے ہوں گے اور دل شیطان کے۔

میں نے کہا:  اے اللہ کے رسول! اگر میں ایسے لوگوں کو پالوں تو کیا کروں؟

آپﷺ نے فرمایا:

حاکم وقت کی سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا سارا مال لے لے۔ پھر بھی تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔۔۔۔۔۔۔

(مسلم:1847)

3۔ ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:

«سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا»

عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا،۔۔۔۔۔۔۔۔

(صحیح مسلم:1854)

میں نے کہا جناب ، اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر دیکھ لیں کہ رسول اللہ ﷺ ، جہاں حکام کے خود فاسق و فاجر اور ظالم ہونے کا بتلا رہے ہیں ، وہی انکے نظاموں کو بھی واضح فرما رہے ہیں کہ وہ قرآن و سنت کو چھوڑ کر دیگر نظاموں پر حکومتیں چلائیں گے۔ آپ ﷺ نے حتی کہ یہاں تک فرما دیا کہ ان کے دل شیطان کے ہوں گے، یعنی وہ شیطانی طریقہ کار اور نظاموں کو نہ صرف دلدادہ بلکہ انہیں مسلط بھی کریں گے۔

لہذا ، آپ کے دونوں ہی دعوے (حاکم غیر شرعی ہے پھر بعد میں نظام باطل ہے، اس لئے ہم انکی اطاعت سے نکلتے ، انکی تکفیر اور پھر خروج کرتے ہیں ) بے دلیل اور نفسانی خواہشات پر مبنی ہیں اور اسلام ان سے بری ہے۔

اور پھر میں نے اسے یہ  رسالہ ” حکام وقت کی اطاعت احادیث نبویہ کی روشنی میں “ ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، کہ جاؤ اور اسے پڑھو، زندگی رہی تو آئندہ ضرور ملاقات ہوگی۔اللہ حافظ




photo_2017-07-23_12-16-10

فتنۂ ابن اشعث (81ھ)۔

photo_2017-07-23_12-16-10

فتنۂ ابن اشعث (81ھ)

خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے 81ھ میں عراق پر اپنی گورنری کے ایام میں عبد الرحمن بن محمد بن اشعث کی قیادت میں شاہ ترکی ’’رتبیل‘‘ کے خلاف ایک لشکر جرار روانہ کیا۔ شاہ ترکی رتبیل نے اسلامی لشکر سے شکست کھانے کے بعد ایک جنگی چال چلتے ہوئے اسلامی لشکر کو  پہاڑوں میں گھیر کر تقریباً تیس ہزار (30،000) اسلامی سپاہ کو قتل کر ڈالا تھا۔ جس کا انتقام لینے کے لئے حجاج نے ایک جنگی مہم روانہ کی۔ جس میں ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں کو شامل کیا گیا حجاج نے اس عظیم لشکر پر دل کھول کر مال لٹایا اسی لئے اس لشکر کا نام بھی ’’ جیش طواویس ‘‘ رکھ دیا گیا۔ حجاج نے اس لشکر کو حکم دیا تھا کہ شاہِ ترکی کی مکمل طور پر شکست فاش اور اس کی حکومت کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنی ہے۔

ابن اشعث اس لشکر جرار کے ساتھ جس میں عراقی علماء و صالحین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی، روانہ ہوا اور رتبیل کو مسلسل شکست سے دوچار کیا ۔ اسلامی لشکر شاہ ترکی کے علاقوں میں دور تک گھس گیا اور شہر پہ شہر فتح ہوتے گئے حتیٰ کہ موسم سرما شروع ہو گیا۔ ابن اشعث نے اپنے رفقاء سے مشورہ کے بعد جنگ عارضی طور پر موقوف کر دی تاکہ مفتوحہ علاقوں کا انتظام و انصرام درست کیا جا سکے اور اپنی قوت کو دوبارہ مجتمع کیا جائے ، پھر موسم سرما گزرنے کے بعد دوبارہ قتال کا آغاز کیا جائے ۔ ابن اشعث نے یہ سب کچھ ایک خط میں عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کو لکھ بھیجا۔

ابن اشعث اور حجاج کی ناچاقی:

گورنر عراق حجاج اور ابن اشعث کے مابین پرانی  دشمنی تھی جب اسے یہ خط ملا تو وہ غضب ناک ہو گیا اور اس نے مسلسل جنگ جاری نہ رکھنے پر ابن اشعث کو جوابی خط میں خوب برا بھلا کہنا اور سخت لہجے میں اسے بزدلی اور کم ہمتی کا طعنہ دیتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا حکم صادر کیا۔ ابن اشعث کو جب یہ خط ملا تو اس نے اپنے مشیروں اور ساتھیوں سے مشاورت کی، جس پر انھوں نے حجاج کی رائے کو احمقانہ قرار دیا اور متفقہ طور پر فیصلہ دے دیا کہ ہم اس اللہ کے دشمن (حجاج) کی بات ہر گز نہ مانیں گے، وہ ایک ایک کر کے حجاج کے مظالم اور سیاہ کاریاں بیان کرتے گئے حتیٰ کہ آخر میں انھوں نے مل کر یہ اعلان کر دیا کہ حجاج کی بیعت توڑ کر ابن اشعث کے ہاتھ پر بیعت کی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور پورے لشکر نے ابن اشعث کو اپنا امیر مقرر کر لیا اور مرکز اسلامی سے بغاوت کر دی۔

خلیفۂ وقت اور گورنر عراق کے خلاف  بغاوت :

ابن اشعث نے شاہ ترکی رتبیل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر جنگ بندی کی پیش کش کی تاکہ اس جانب سے مطمئن ہو کر حجاج سے نمٹ سکے۔ شاہ ترکی نے اس پیشکش کو قبول کر لیا۔ اب ابن اشعث نے اپنے لشکر کے ہمراہ عراق کا رخ کیا تاکہ وہ حجاج کے ساتھ نبرد آزما ہو سکے۔ لشکر ابھی راستے ہی میں تھا کہ کسی نے یہ نعرہ بلند کر دیا کہ خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان کی بیعت توڑے بغیر، حجاج کی بیعت ختم نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ اسی کا مقرر کردہ گورنر ہے، چنانچہ سب نے خلیفہ عبد الملک کی بیعت بھی توڑ ڈالی۔ ابن اشعث نے والی خراسان مہلب بن ابی صفرہ ﷫کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر اس نے انکار کر دیا اور اسے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور امت کو تقسیم کرنے سے باز رہنے کی نصیحت کی۔

ابن اشعث عراق میں پہنچا اور چونکہ اس کے پاس بہت بڑا لشکر تھا ، اس لئے یہ پے در پے کئی معرکوں میں حجاج کے لشکروں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا، بہت سے نئے لوگ بھی اس کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ جب ابن اشعث بصرہ پہنچا تو وہاں کے علماء، فقہاء اور مشائخ کی بڑی تعداد نے عبد الملک اور حجاج سے بغاوت کر کے اس کی بیعت کر لی۔

علماء کرام کی وعظ و نصیحت :

اس موقع پر سیدنا حسن بصری﷫ جو کہ 300 سے زائد صحابہ کرام کے شاگرد ، اور فتنوں کے بارے گہری بصیرت رکھتے ہیں ۔انہوں نے اپنے وعظ و نصیحت سے ان لوگوں کو بغاوت سے باز رہنے کی بھر پور کوشش کی اور حجاج کے ظلم پر صبر کرنے اور مسلمانوں کی جمعیت سے جڑے رہنے کے شرعی احکام اور فرامین نبوی یاد دلائے۔ ان کے مواعظ میں یہ کلام بھی شامل تھا کہ : ’’ حجاج اللہ کا عذاب ہے اور اس لیے عذاب الٰہی کو بزور بازو روکنے کی کوشش نہ کرو بلکہ دعا اور اللہ کی طرف رجوع کرو۔ کیونکہ فرمان ربانی ہے :

‹وَلَقَدْ اَخَذْنَاھُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَکَانُوْا لِرَبِّہِمْ وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَ› 

’’اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، پھر بھی وہ نہ اپنے رب کے آگے جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے تھے۔‘‘ (المومنون : 76)

مشہور تابعی حضرت مجاہدبن جبر ﷫وغیرہ بھی لوگوں کو اس فتنے سے ڈراتے رہے اور مسلمانوں کی جمعیت سے مل کر رہنے کی نصیحت کرتے رہے مگر بے سود ! اکثریت نے اس پر کان نہ دھرے اور اس فتنے میں مشغول رہے۔ ابن اشعث نے کوفہ بھی فتح کر لیا اور اہل کوفہ کی اکثریت نے اس کی بیعت بھی کر لی اور یوں اس کے حامیوں کی تعداد اور بڑھ گئی اور فتنہ و اختلاف مزید بڑھتا گیا۔

خلیفۂ وقت عبد الملک بن مروان کی حکمت عملی :

ابن اشعث نے ہر مرتبہ حجاج کے شکروں کو شکست دی حتیٰ کہ ان کے درمیان برپا ہونے والے معرکوں کی تعداد اسّی سے زیادہ ہو گئی۔ عبدالملک بن مروان نے اس فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ابن اشعث کو پیشکش کی کہ وہ حجاج کو معزول کر کے اس کی جگہ گورنری اسے دے دیتا ہے مگر ابن اشعث اور اس کے ساتھیوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ حجاج نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ساری توجہ لشکر ابن اشعث کے علماء و صالحین پر مرکوز کر دی کیونکہ اس کے لشکر کی اصل قوت اور روح رواں یہی طبقہ تھا۔ اور آخر کار وہ اس تدبیر میں کامیاب رہا اور نتیجے میں ابن اشعث کا لشکر انتشار کا شکار ہو گیا اور وہ شکست کھا کر شاہ ترکی رتبیل کی پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔

آخر ابن اشعث نے خود کشی کر لی :

حجاج نے شاہ ترکی رتبیل کو دھمکی آمیز خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ وہ ابن اشعث کو اس کے حوالے کر دے ۔ اس پر رتبیل نے مجبوراً ایسا ہی کیا۔ ابھی ابن اشعث کو قیدی بنا کر حجاج کے پاس لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں اس نے بلندی سے کود کر خود کشی کر لی۔ اس کا سرکاٹ کر حجاج کے پاس لے جایا گیا۔ جسے پہلے عراق میں اور پھر خلیفۂ وقت عبد الملک کے پاس شام بھیج کر عوام الناس میں پھرایا گیا۔

حجاج بن یوسف کی انتقامی کاروائی :

بعد میں حجاج نے چن چن کر ابن اشعث کے ساتھیوں اور حامیوں کو قتل کرایا اور عراق میں ظلم و تشدد کی ایک نئی تاریخ رقم کی گئی حتیٰ کہ ان لوگوں کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار تک پہنچ گئی جنھیں حجاج کے حکم پر گرفتار کر کے قتل کیا گیا ان میں چار ہزار کے قریب علماءومشائخ اور صالحین بھی شامل تھے اور اس طرح یہ فتنہ اپنے انجام کو پہنچا۔

اس بغاوت کے نتائج :

1۔مسلمانوں کا باہمی انتشار، صف اسلام کی شکست و ریخت اور معاملات امت کا عدم استحکام۔

2۔بڑے پیمانے پر خون ریزی، حرمتوں کی پامالی اور بڑے فساد کا ظہور۔

3۔مملکت اسلام اس فتنے کے باعث فریضۂ جہاد سے ہٹ گئی جس کے نتیجے میں فتوحاتِ اسلامیہ کا سلسلہ رک گیا، حجاج کی خوبیوں میں جہاد و فتوحات کی محبت بھی شامل تھی۔

فتنۂ ابن اشعث اور امام شعبی ﷫ کا تبصرہ :

امام شعبی﷫ بھی ابن اشعث کے ساتھیوں میں شامل تھے اور حجاج نے انھیں امان دے دی تھی۔لیکن بعد میں اپنے اس فعل پر نادم ہوئے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ کیوں اس فتنے کا شکار ہو گئے ؟تو انھوں نے ایک شعر پڑھ کر جواب دیا کہ ؛

عَوى الذِئبُ فَاِستَأنَستُ بِالذِئبِ إِذا عَوى                    وَصَوَّتَ إِنسانٌ فَكِدتُ أَطيرُ

’’ میری حالت اس شخص کی تھی کہ جو بھیڑیے کی آواز سے مانوس اور انسانی آواز سے متوحش ہو کر بھاگ جاتا ہے۔‘‘

ماخوذ از حقیقۃ الخوارج لفیصل بن قزار الجاسم 




حکام-وقت

حکام وقت کی اطاعت احادیث نبویہ ﷺ کی روشنی میں ۔ الشیخ مفتی عبد العزیر نعیم حفظہ اللہ​

مسلم عادل حکمرانحکام وقت

حکام-وقت

حکام وقت کی اطاعت احادیث نبویہ ﷺ کی روشنی میں

الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم  حفظہ اللہ

ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کیااطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔    

(بخاری: 2957، الفاظ بخاری کے ہیں، نیز دیکھئے مسلم:1835)

ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

ایک مسلمان پر سمع واطاعت فرض ہے چاہے اسے پسند ہو یا نا پسند ہو، الا یہ کہ اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے ، اگر امیر اسے نافرمانی کا حکم دے تو نہ تو اس پر سننا ہے او نہ ماننا۔     

(بخاری 7144، مسلم: 1839 الفاظ مسلم کے ہیں)۔

حذیفۃ بن الیمانؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہا آپ ﷺ نے فرمایا

میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے ان میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے ہوں گے اور دل شیطان کے۔

میں نے کہا:

اے اللہ کے رسول! اگر میں ایسے لوگوں کو پالوں تو کیا کروں؟

آپﷺ نے فرمایا:

حاکم وقت کی سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تمہاری پیٹ پر مارے اور تمہارا سارا مال لے لے۔ سنو اور اطاعت کرو۔

(مسلم:1847)۔

علقمۃ ابن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

سلمۃ بن یزید بحفیؓ نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا، وہ کہتے ہیں کہ : ہم نے کہا:

اے اللہ کے نبی اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق روکیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سنو اور اطاعت کرو، ان کا کام وہ ہے جو انہیں سونپا گیا ہے اور تمہارا کام وہ ہے جو تمہیں سونپا گیا ہے۔ 

(مسلم:1846)

عیاض بن غنم ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

جو کوئی کسی صاحب منصب کو نصیحت کا ارادہ کرے تو اسے علانیۃ ظاہر نہ کرے بلکہ اس کا ہاتھ تھامے او اسے اکیلے میں لے جائے، اگر وہ اس کی بات سن لے تو ٹھیک ورنہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کردی۔       

السنۃ لابن ابی عاصم 1096، نیز البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔

ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:

عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا، اور جس نے ان پر انکار کیا اس کا ذمہ بری ہوگیا لیکن جو راضی ہو گیا اور اسی صورت کے پیچھے چل پڑا ،

صحابہ نے فرمایا :

کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟

آپﷺ نے فرمایا :

نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔

(صحیح مسلم:1854)۔

ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(

جو اطاعت سے نکلا اور جماعت سے الگ ہوا اور اسی حال میں مرگیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔

(مسلم: 1848)

عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

جس اپنے امیر کی کوئی بات بری لگے تو اس کو چاہئے کہ اس پر صبر کرے ؛ کیونکہ جو بھی امیر کی اطاعت سے ایک بالش بھی باہر نکلا اور پھر اسی حال میں مرگیاتو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوئی  ۔

(بخاری:7053، مسلم: 1849 الفاظ مسلم کے ہیں)

عرفجہ اشجعیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

جو تمہارے پاس اس حال میں آئے جبکہ تم پر ایک امیر قائم ہے اور تمہاری اجتماعیت کو توڑنے کی کوشش کرے یا اس میں انتشہار وتفرق پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اس کو قتل کردو۔

اور ایک روایت میں ہے :

تو اس تلوار سے اس کی گردن ماردو جو بھی ہو۔

(مسلم:1852)۔

10۔ نیز عبد اللہ بن عمر وبن عاص کی طویل مرفوع حدیث میں ہے:

جو کسی امیر کی بیعت کرے اور اسے اپنی وفاداری سونپ دے ، دل سے اس کی اطاعت پر راضی ہو جائے تو اسے چاہئے کہ حتی المقدور اس کی اطاعت کرے پھر اگر کوئی دوسرا آکر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اس کی گردن ماردو۔

(مسلم :1844)۔

11۔ ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :

جب دو امیروں کی بیعت ہو تو ان میں سے دوسرے کو قتل کردو۔

(مسلم)

12۔ عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

جو ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔

اور ایک روایت میں ہے:

جو ہم پر تلوار سونتے وہ ہم میں سے نہیں ۔

(مسلم :98۔99)

13۔ حزیفۃ بن یمانؓ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں :

لوگ رسول اللہﷺ سے بھلائی کے بارے میں سوال کرتے تھے جبکہ میں آپﷺ سے شر(برائی) کے بارے میں سوال کرتا تھا کہ کہیں مجھ تک نہ پہنچ جائے چنانچہ میں نے کہا:

اے اللہ کے رسول ﷺ ہم جاہلیت اور شر کی دلدلوں میں پھنسے ہوئے تھے پھر اللہ تعالی نے ہمیں یہ خیر عطا فرمائی تو کیااب اس خیر کے بعد بھی شر ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں،

میں نے کہا:

کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہے؟

آپ نے فرمایا: ہاں ، لیکن اس میں دھواں ہوگا،

میں نے کہا : دھواں کیسا؟

فرمایا : ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کو چھوڑ کر دوسری سنتیں اختیار کریں گے، اور میرے طریقے کو چھوڑ کر دوسرے طریقے اختیار کریں گے ، تم ان کی بعض باتوں کو پہچانو گے اور بعض کا انکار کرو گے،

میں نے کہا : تو کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہے؟

آپﷺ نے فرمایا: ہاں جنہم کی طرف بلانے والے لوگ ہوں گے، جوان کی دعوت قبول کرے گا وہ اسے جنہم میں پھینک دیں گے،

میں نے کہا: اے اللہ کے رسول آپ مجھے ان کے اوصاف ونشانیاں بتادیں (کہ وہ کیسے ہوں گے)

آپﷺ نے فرمایا: ہاں وہ ہماری طرح کے ہی ہوں گے اور ہماری ہی زبان بولیں گے،

میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ اگر مجھے یہ زمانہ مل جائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟

آپﷺ نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور اس کے امیر کو لازم پکڑنا ،

میں نے کہا : اور اگر ان کی نہ کوئی جماعت ہو اور نہ امام؟

آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ان تمام فرقوں سےا لگ ہوجانا اگرچہ تمہیں درخت کی ٹہنی سے ہی لٹکنا پڑے ، یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے اور تم اسی طریقے پر ہو۔

(بخاری:7084، مسلم:847 الفاظ مسلم کے ہیں)۔

امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں حدیث حذیفہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ :

مسلمانوں کی جماعت ار اس کے امام کو لازم پکڑنا چاہئے ، اس کی اطاعت کرنی چاہئے اگرچہ وہ فسق وفجور یا دیگر معصیت میں مبتلا ہو لوگوں کا مال غصب کرتا ہو یا دیگر گناہوں میں ملوث ہو ایسی صورت میں اگر وہ گناہ کا حکم نہ دے تو اس کی اطاعت فرض ہے۔

(شرح مسلم 12/237) ط۔دالفکر بیروت۔

14۔ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

بنواسرائیل کے امور کی تدبیر انبیاء کے ذمے تھے، جب بھی کوئی نبی وفات پاتا اس کے بعد ایک اور نبی آجاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، لیکن خلفا، بکثرت ہوں گے ،

صحابہ کرام نے فرمایا :

اے اللہ کے رسول پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟

آپﷺ نے فرمایا: جو پہلے امیر بنے اس کی بیعت نبھاؤ اور وفا کرو، ان کو ان کا حق دو: کیونکہ اللہ نے ان کے سپرد جو کیا ہے اللہ ان سے اس بارے میں پوچھے گا۔  

(بخاری 3455، مسلم 1842)

15۔ ابن مسعود سے روایت ہے کہا آپﷺ نے فرمایا:

امیری و تونگری عام ہوجائے گی، اور ایسے امور ظاہر ہوں گے جن کو تم براجانو گے،

صحابہ کرام نے عرض کی:

اے اللہ کے رسول! آپ ایسی حالت میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟

آپ نے فرمایا: جو تمہارے ذمے ان کا حق ہے اس کو ادا کرنا اور اپنا حق اللہ سے طلب کرنا۔   

(بخاری: 3603، مسلم :1843)۔

عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا :

تمہارے بہترین امراء وہ ہیں جن سے تم محبت رکھتے ہو اور وہ تم سے محبت رکھتے ہیں، اور جن کے لئے تم دعا کرتے ہو اور جو تمہارے لئے دعا کرتے ہیں، جبکہ تمہارے بدترین امراء وہ ہیں جن سے تم نفرت رکھتے ہو وہ تم سے نفرت رکھتے ہیں اور جن پر تم لعنت بھیجتے ہو اور جو تم پر لعنت بھیجتے ہیں، صحابہ نے عرض کی :

اے اللہ کے رسولﷺ کیا ایسے موقع پر ہم ان سے جنگ نہ کریں؟

آپﷺ نےفر مایا:

نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں، سن رکھو کہ جس پر کوئی امیر ہو اور وہ اسے کوئی ناجائز کام کرتا دیکھے، تو وہ اس نا جائز کام کو ناپسند کرے اور ہر گز اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے ۔  

(مسلم:1855)۔

17۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:

جس نے امیر کی اطاعت سے ہاتھ کھینچا اس کے لئے قیامت کے دن کوئی حجت نہیں ہوگی، اور جو اس حال میں مراکہ وہ جماعت سے الگ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔   

(السنۃ/ابن ابی عاصم 1075، البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے)

18۔ حارث ابن بشیرؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں: جماعت کو لازم پکڑنے کا، سننے اور اطاعت کرنے کا ، ہجرت کا، اللہ کی راہ میں جہاد کا، اور جو جماعت سے ایک بالش بھی باہر ہوا تو اس نے اسلام کا پٹہ اپنے گلے سے اتار پھینکا۔  

(ترمذی:2863، البانی نے حدیث کو صحیح کہاہے)

19۔ عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ نے فرمایا:

اللہ سے ڈرو ، اور سنو اور اطاعت کرو اگر چہ تمہارے اوپر ایک حبشی غلام امیر بنادیا جائے ،تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ سخت اختلافات دیکھے گا، اس لئے تم میری سنت کو لازم پکڑو اور میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کو لازم پکڑو او اس سے تمسک اختیار کرو۔

(اخرجہ ابن ابی عاصم السنۃ 54، البانی نے حدیث کو صحیح کہا ہے)

20۔ عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے بلایا ، ہم نے آپ ﷺ کی بیعت کی آپ نے ہم سے جن امور پر بیعت لی وہ یہ تھے کہ ہم سنیں اور اطاعت کریں چاہیں وہ کام ہمیں پسند ہو یا نہ ہو۔ اور ہمیں اس میں مشکل پیش آئے یا آسانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم امراء سے بغاوت نہ کریں

اور آپ نے فرمایا: سوائے اس کے کہ تم ان میں واضح کفر پاؤ جس پر تمہارے پاس اللہ کی طرف سے واضح وصاف دلیل ہو۔  

(صحیح مسلم، باب وجوب طاعۃ الامراء فی غیر معصیۃ ، وتحر یمھافی المعصیۃ)

21۔ انسؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اصحاب رسول اللہﷺ میں سے کبارصحابہ نے ہمیں سختی سے منع کیا: فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے:

نہ تو اپنے امراء کوگالی دو اور نہ ان کے پاس زیادہ جاؤ اور نہ ان سے بغض رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو؛ کیونکہ وقت بہت قریب ہے۔

22۔ تمیم داریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

دین نصیحت وخیر خواہی کا نام ہے۔

ہم نے کہا کس کی؟

آپ نے فرمایا: اللہ کے لئے اس کی کتاب کے لئے ، مسلمان امراء کے لئے اور عام مسلمانوں کے لئے۔

 (صحیح مسلم:55)




whatsapp-image-2017-01-01-at-2-33-53-pm

امیرالمومنين سيدنا علي رضی الله عنہ كا خوارج کے ساتھ معاملہ

whatsapp-image-2017-01-01-at-2-33-53-pm

امیرالمومنين سيدنا علي رضی الله عنہ كا خوارج کے ساتھ معاملہ

الحمد اللہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد!

امير المومنين سيدنا علي رضی اللہ عنہ نے خوارج سے جنگ نہروان کرنے سے پہلے اور جنگ کے بعد بھی مسلمانوں جیسا ہی معاملہ کیا تھا۔ یعنی  بغاوت کا جھنڈا لہرانے والے مسلمانوں جیسا معاملہ، ابھی یہ جنگ اپنے اختتام کو بھی نہیں پہنچی تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر میں حکم صادر فرما دیا تھا :

“وہ بھاگ جانے والے خارجی کا پیچھا  نہ کریں ۔ نہ ہی زخمی کو فوراً قتل کرنے کے لیے اس پر سوار  ہوجائیں اور نہ ہی مقتولین کا مُثلہ کا کریں ۔”

تا بعین فقہاء میں سے ایک بڑے عالم ِدین جناب شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ جو کہ ابو وائل کی کنیت سے معروف تھے اور وہ جنگ نہر دان میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھے ، بیان کرتے ہیں کہ :

” امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نہ ہی جنگِ جمل میں کسی شخص کو قیدی بنایا اور نہ ہی جنگ نہروان میں۔”

[السنن الکبری للبیھقی : 8/182 صحیح سند کے ساتھ مروی ہے ]

اس جنگ نہروان کے اختتام پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوارج کی باقی ماندہ ردی قسم کی چیزیں اٹھوا کر کوفہ لے گئے اور اعلان فرما دیا  کہ :جو بھی  شخص اپنی کسی چیز کو پہچانتا ہو اسے وہ لے لے ۔ چنا نچہ لوگ آکر اپنی چیزیں لینے لگے حتیٰ کہ آخر میں ایک ہنڈیا بچی جسے ایک شخص نے آکر لے لیا ۔ اس  روایت کی چندایک مختلف اسناد ہیں ۔

[دیکھیے : التلخیص الحبیر : 4/47 ] 

امير المومنين سيدنا رضی اللہ عنہ نے اپنے  لشکر کے درمیان صرف وہی چیزیں(بطور مال غنیمت)تقسیم فرمائی تھیں جنھیں خارجی اس جنگ میں صرف اسلحہ ، گھوڑوں اور ہتھیاروں کے مجموعہ کے طور پر لائے تھے۔ حالانکہ امير المومنين سيدنا علي رضی اللہ عنہ نے خوارج کی تکفیر بھی نہیں کی تھی اور جنگ سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے انھیں جماعۃ المسلمین میں واپس پلٹ آنے کے لیے کوشش بھی فرمائی تھی ۔ جس کے نتیجے میں  ان خوارج میں سے بہت سارے لوگ آپ کی طرف واپس پلٹ بھی آئے تھے ۔ پھر آپ نے ان کو وعظ ونصیحت بھی فرمائی اورجنگ وقتال سے ڈرایا بھی تھا  ۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : “وإنما كان كذلك لأن المقصود كفهم ودفع شرهم لا قتلهم فإن أمكن لمجرد القول كان أولى من القتال لما فيه من الضرر بالفريقين وهذا يدل على أن الخوارج فرقة من المسلمين كما قال بذلك كثير من العلماء”. 

یہ معاملہ بالکل ایساہی تھا (جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے ) اس لیے کہ اس سے مقصود  ان کے شر کو روکنا اور دور کرنا تھا نہ ان کو قتل کرنا ۔ چنا نچہ اگر ان کو شر وفساد سے باز رکھنا صرف  گفتگو سے ممکن ہوتا تو یہ جنگ وقتال سے بہتر تھا ۔ اس لیے کہ جنگ کے ذریعے فریقین کو ضرر پہنچے کا اندیشہ تھا۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ خوارج مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ ہے جیسا کہ بہت سارے علماء عظام نے اسی طرح بیان کیا ہے۔

[فتح الباری : 12/300،301 ، نیل الاوطار : 8/182 ] 

سيدنا  سعد بن ابي وقاص رضی اللہ عنہ خوارج كو “فاسقين”  كا  نام دیتے تھے چنا نچہ آپ کے  بیٹے جناب مصعب بن سعد ابی وقاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ :میں نے اپنے والد محترم حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پو چھا: یہ جو  قرآن میں  آیا ہے :

﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً (104) 

” کہہ وے کیا ہم تمہیں وہ لوگ بتائیں جواعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں ۔ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور سمجھتے ہیں کہ بے  شک وہ ایک اچھا کام کرر ہے  ہیں ۔”

اس سے کیا حروری یعنی خارجی لوگ مراد ہیں؟ تو جناب سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا :نہیں ! بلکہ اس سے یہودی اور نصاری مراد ہیں ۔ جہاں   تک یہودیوں کاتعلق ہے تو انہوں نے نبی کریم محمد رسول اللہ ﷺکو جھٹلایا ۔ (اس لیے ان کے اعمال  برباد ہو گئے)جبکہ نصاری نے جنت کا بھی انکار کردیا اور کہنے لگے :وہاں کھانے پینے کا سامان نہیں ہوگا (بلکہ جنت میں صرف  روحانی لذتیں ہوں گی ۔ اکثر فلسفیوں ، باطنیوں ، نیچریوں اور جاہل صوفیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے)جبکہ حروری یعنی خارجی لوگ  تو اللہ کے ساتھ پختہ عہد کر کے اسے توڑ دیتے ہیں اور سیدناسعد رضی اللہ عنہ ان کو “فاسقین “ کہا کرتے تھے ۔

[صحیح بخاری، کتاب التفسیر رقم الحدیث : 4728 ، فتح الباری : 5/842 ]  

ایک اور روایت میں  سیدنا سعد  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے  کہ ان سے جب خوارج کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا : “یہ وہ لوگ ہیں کہ جنھوں نے ٹیٹر ھا راستہ اختیار کر لیا اور پھر اللہ عز وجل نے بھی ان کو ٹیٹر ھی راہ چلا دیا ۔ ” 

[مصنف ابن ابی شیبہ : 15/324،325 ، الاعتصام للشاطبی : 1/62 ]

اس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پو چھا گیا: کیا خوارج  کفار ہیں؟

فرمایا :نہیں ! بلکہ وہ تو کفرسے فرار ہوئے تھے ۔

پو چھا گیا :کیا وہ منافقین ہیں؟

فرمایا : مناقين تو الله كا ذكر بہت  تھوڑا کر تے ہیں جبکہ خارجی تو اللہ کا ذکر اور عبادات بہت زیادہ کرتے ہیں۔

پو چھا گیا : پھر وہ کون ہیں ؟

فرمایا :“وہ ایک ایسی قوم ہیں کہ جنھوں نے ہم پر سر کشی کا ارتکاب کیا اور بھر ہم نے ان سے جنگ کی۔”

دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا :”خارجی ایک ایسی قوم ہیں جنھوں نے ہم پر سر کشی کی اور ہم ان پر کا میاب ہو گئے ۔”

ایک تیسری روایت میں ہے کہ فرمایا : “خارجی ایک ایسی قوم ہیں کہ جنہیں فتنہ نے آ گھیرا اور وہ اس فتنہ میں اندھے اور بہر ے ہو گئے ہیں۔یعنی حق سنتے ہیں اور نہ ہی حق دیکھتے ہیں۔” 

[مصنف عبد الرزاق: 10/150 مصنف ابن ابی شیبہ: 15/332 صحیح سند کے ساتھ مروی ہے] 

اس طرح امیر المومنین سیدنا علی  رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کو بالخصوص اور امتِ اسلامیہ کو بالعلوم اس کے بعد نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ہے :”اگر وہ کسی عدل وانصاف کرنے والے امیر المومنین کی مخالفت کریں تو ان سے جنگ کرو اور  اگر وہ کسی ظلم کرنے والے مسلمانوں کے حاکم کی مخالفت کریں تو پھر ان سے قتال نہ کرو ۔ بلکہ اس وقت ان کی بات سنی جائے ۔ 

[مصف ابن ابی شیبہ: 15/320 ، فتح الباری :12/301 صحیح سند کے ساتھ مروی ہے]  

غور طلب اہم بات :

امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خوارج سے جنگ کرنے اور جنگ جمل وصفین میں مسلمانوں سے لڑنے کے متعلق قابل غور بات یہ ہے کہ :جنگ جمل وصفین میں تو آپ رضی اللہ عنہ مسلمانوں سے جنگ کر کے بہت غمگین اور پشیمان ہوئے تھے جبکہ خارجیوں سے جنگ کرتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ پر خوشی اور مسرت کی کیفیت طاری تھی ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ الله “مجموع الفتاوی “میں فرماتے ہیں: فإن النص والإجماع فرق بين هذا وهذا وسيرة على رضى الله عنه تفريق بين هذا وهذا فإنه قاتل الخوارج بنص رسول الله وفرح بذلك ولم ينازعه فيه أحد من الصحابة وأما القتال يوم صفين فقد ظهر منه من كراهته والذم عليه ما ظهر

بلاشبہ نص صریح اور اجماعِ اُمت نے ان دونوں جنگوں کے درمیان واضح فرق کردیا ہے۔ اور آپ کی سیرت سے بھی یہی واضح ہے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ نے خوارج سے قتال رسول الله ﷺسے وارد نصِ صریح  کی بنیاد پر کیا تھا اس  لیے آپ کو خوارج سے خوشی حاصل ہوئی تھی۔ پھر یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعين میں سے کسی نے بھی اس ضمن میں آپ رضی اللہ عنہ سے مخالفت نہیں کی تھی ۔ جہاں تک صفین وجمل والے دن کا تعلق ہے تو اس دن جنگ کرتے ہوئے آپ کے چہرہ مبارک پر ندامت اور نا پسندگی کے آثار ظاہر تھے ۔

[مجموع الفتاوی لابن تیمیہ : 28/516 ] 




photo721249554916289081

غیرت کے نام پر قتل کا شرعی حکم - الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ تعالی

غيرت كى بنا پر قتل كا شرعی حكم

الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ تعالی 

سوال : ميں غيرت كى بنا پر كسى كو قتل كرنے كا حكم معلوم كرنا چاہتا ہوں، اور شرعى احكام كے مطابق اس سزا كو دینا   كس طرح ممكن ہے ؟

الجواب 

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد :

كسى مسلمان شخص كو ناحق قتل كرنا بہت عظيم اور بڑا جرم ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً}

{ اور جو كوئى كسى مومن كو قصدا قتل كر ڈالے اس كى سزا جہنم ہے، جس ميں وہ ہميشہ رہےگا، اس پر اللہ كا غضب ہے، اور اللہ تعالى نے اس پر لعنت كى ہے، اور اس كے ليے بڑا عذاب تيار كر ركھا ہے }

[النساء : 93 ]

اور امام بخارى رحمہ اللہ نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم ﷺ  نے فرمايا:

( لن يزال المؤمن في فسحة من دينه ما لم يصب دما حراما ) .

” مومن اس وقت اپنے دين كى وسعت ميں ہے جب تك وہ كسى كا حرام اور ناحق خون نہيں بہاتا “

[البخارى: 6355 ]

اور پھر نبى كريم ﷺ نے بيان فرمايا ہے كہ وہ كونسے اسباب ہيں جن كى بنا پر كسى كا خون مباح ہوتا ہے، اسے بيان كرتے ہوئے فرمايا:

( لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث : النفس بالنفس ، والثيب الزاني ، والمفارق لدينه التارك للجماعة )

” جو شخص بھى گواہى دے كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود نہيں، اور ميں اللہ كا رسول ہوں اس مسلمان شخص كا خون بہانا حلال نہيں، ليكن تين اشياء كى بنا پر: يا تو وہ شادى شدہ زانى ہو، اور قتل كے بدلے قتل كرنا، اور دين كو ترك كرنے اور جماعت سے عليحدہ ہونے والے شخص كو “

[البخارى : 6370 ،المسلم : 3175 ]

شادى شدہ شخص كا زنا كرنا ايك ايسا سبب ہے جس كى بنا پر اس كا قتل مباح ہو جاتا ہے، ليكن زانى كو اس وقت تك قتل نہيں كيا جا سكتا جب تك دو شرطيں نہ پائى جائيں:

پہلى شرط:

وہ شخص شادى شدہ ہو ” محصن ” ( اوپر كى حديث ميں اس كا بيان ہوا ہے ) اور علماء كرام نے الاحصان كا معنى بيان كيا ہے:

زكريا انصارى رحمہ اللہ اس كا معنى بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

المحصن: ہر وہ مرد يا عورت جو مكلف اور آزاد ہو جس نے صحيح نكاح كے بعد وطئى اور ہم بسترى كى ہو ” انتہى مختصرا.

[ديكھيں: اسنى المطالب : 4 / 128]

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

” احصان كى پانچ شروط ہيں:

1 – جماع.

2 – صحيح نكاح ميں ہو.

3 – بالغ ہو.

4 – عاقل ہو.

5 – آزاد ہو. انتہى.

[ديكھيں: الشرح الزاد ، طبعہ مصريہ : 6 / 120]

دوسرى شرط:

اس پر چار گواہوں كى گواہى سے حد ثابت ہو جائے اور وہ گواہى شرمگاہ كو شرمگاہ ميں ديكھنے كى گواہى ديں، يا پھر وہ خود اپنے اختيار سے بغير كسى جبر كے اعتراف كر لے.

اور جب اس پر حد ثابت ہو جائے تو پھر لوگوں ميں سے كسى بھى شخص كے ليے جائز نہيں كہ خود بخود ہى اس پر حد لاگو كر دے، بلكہ اس كے ليے حكمران يا اس كے نائب سے رجوع كرنا واجب ہے، چاہے وہ نائب معاملات پورے كرنے يا حد كى تنفيذ ميں نائب ہو، كيونكہ رعايا ميں سے كسى ايك شخص كا خود ہى حد لاگو كرنا بد نظمى اور فساد كا باعث ہو اور ہر كوئى اٹھ كر دوسرے كو قتل كرتا پھرےگا.

 

ابن مفلح حنبلى كہتے ہيں:

“تحرم إقامة حد إلا لإمام أو نائبه”

” امام يا نائب كے علاوہ كسى اور كے ليے حد لاگو كرنا حرام ہے “

[ الفروع : 6 / 63 ]

اور فقھاء اسلام ميں اس پر اتفاق پايا جاتا ہے، جيسا كہ الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

“يتفق الفقهاء على أن الذي يقيم الحد هو الإمام أو نائبه ، سواء كان الحد حقا لله تعالى كحد الزنى ، أو لآدمي كحد القذف” انتهى .

” فقھاء اس پر متفق ہيں كہ امام يا اس كا نائب ہى حد لاگو كريگا، چاہے وہ حد اللہ كے حق مثلا زنا ميں ہو، يا پھر آدمى كے حق ميں حد ہو مثلا حد قذف “ انتہى.

[الموسوعۃ الفقھيۃ : 5 / 280]

اور ايسا جرام كے مرتكب پر پردہ ڈالنا تا كہ وہ موت سے قبل توبہ كر لے اسے ذليل كرنے اور اس كے عيب كو ظاہر كرنے سے بہتر ہے، كيونكہ رسول كريم ﷺ كے سامنے جب ماعز اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ نے زنا كا اعتراف كيا تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض كر ليا، اور اسے چھوڑ ديا، حتى كہ ماعز نے كئى بار سامنے آ كر ايسا كيا تو رسول كريم ﷺ نے اس پر حد لاگو كى.

اس بنا پر؛ جسے لوگ غيرت كى بنا پر قتل كا نام ديتے ہيں يہ زيادتى اور ظلم ہے، كيونكہ اس ميں اسے بھى قتل كيا جا رہا ہے جو قتل كا مستحق نہ تھا، جب كنوارى لڑكى زنا كرتى ہے تو غيرت سے اسے بھى قتل كر ديا جاتا ہے حالانكہ اس كى شرعى سزا تو ايك سو كوڑے اور ايك سال جلاوطنى ہے، نہ كہ اس كى سزا قتل تھى.

كيونكہ نبى كريم ﷺ  كا فرمان ہے:

( البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام )

” جب كنوارہ كنوارى لڑكى سے زنا كرے تو ايك سو كوڑے اور ايك برس جلاوطنى ہے “ 

[المسلم]

چنانچہ جس نے اسے قتل كيا تو اس نے ايك مومن نفس اور جان كو قتل كيا جس كا قتل اللہ نے حرام كيا تھا.اور اس سلسلہ ميں شديد قسم كى وعيد بھى آئى ہے كيونكہ سورۃ الفرقان ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا (68) يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا (69) 

{ اور وہ لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہین پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا وہ سخت گناہ کو ملے گا }.

{ اسے قيامت كے روز دوہرا عذاب ديا جائيگا، اور وہ ذلت و خوارى كے ساتھ ہميشہ اسى ميں رہيگا }

[الفرقان 68 – 69]

آخری بات : 

اور اگر يہ فرض كر ليا جائے كہ يہ قتل كى مستحق تھى ( اگر شادى شدہ عورت زنا كرے تو ) تو پھر بھى اس حد كو صرف حكمران ہى جارى كر سكتا ہے ـ جيسا كہ اوپر بيان ہوا ہے ـ پھر بہت سارے حالات ميں يہ قتل صرف شبہ اور گمان كى بنا پر ہى كيا جاتا ہے، اور كسى بھى قسم كى تحقيق نہيں كى جاتى كہ آيا زنا ہوا بھى ہے يا نہيں۔  واللہ اعلم بالصواب 




photo721249554916289058

امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف خروج کرنے کے الزام کا جواب - فضیلۃ الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ

photo721249554916289058

امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر

 انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف

خروج کرنے کے الزام کا جواب

شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:

کیا شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ نے  انگریز کیساتھ ساز باز کر کے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیا اور سقوطِ خلافت
عثمانیہ  کا سبب بھی انہی کا خروج کرنا بنا ۔۔۔ ؟

جواب     :

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

دنیامیں جوشخص بھی خیرو بھلائی کےکام کرے گا اس کے دشمن ضرور ہوں گے اور کئی ہو نگے ، جنوں میں بھی ہو سکتے ہیں اور انسانوں میں بھی حتی کہ اللہ تعالی کے انبیاء بھی اس سے محفوظ نہيں رہ سکے ۔

زمانہ قدیم سے علماء کرام کے بھی دشمن اورمخالف پائے جاتے رہے ہیں اورخاص طور پر حق کی دعوت دینے والے لوگوں کو بہت ہی سخت قسم کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑ‌ا اس کی مثال شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی ہیں جنہوں نے بعض حاسدین سے بہت تکالیف اٹھائی جنہوں نے ان کوقتل کرنا بھی حلال کردیا تھا اور کچھ نے ان پر گمراہ اور مرتد ہونے کی تہمت لگائی۔

اسی طرح شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی بھی ان مظلوم علماء کرام میں سے ایک شخص تھے جن کےبارے میں لوگوں نے فتنہ پھیلانے کےلیے بغیر علم کے بہت کچھ کہا اوراس کام پر انہیں صرف حسد و بغض اوراپنے اندر بدعات کے رچ بس جانے کے علاوہ کسی اورچیز نے نہیں ابھارا یاپھر اس کا سبب جھالت اورنفسانی خواہشات والوں کی تقلید ہے ۔

اگلی سطور میں آپ کے سامنے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کےبارہ میں کچھ شبہات اوران کا رد پیش کرتے ہیں :

سعودی عرب کے سابقہ مفتی شیخ عبد الطیف آل شیخ  رحمہ اللہ کا تبصرہ

شيخ عبدالعزیز العبداللطیف رحمہ اللہ تعالی رقمطراز ہیں :

ادعى بعض خصوم الدعوة السلفية أن الشيخ الإمام محمد بن عبد الوهاب قد خرج على دولة الخلافة العثمانية ففارق بذلك الجماعة وشق عصا السمع والطاعة.

[دعاوی المناوئین لدعوۃ الشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ ص ( 233 )]

”سلفی دعوت کے کچھ مخالفین کا دعوی ہے کہ شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیااورجماعت میں افتراق کا باعث بنے اور (حاکم کی) سمع و اطاعت کوختم کرکے رکھ دیا ۔“

مزید ایک دوسری کتاب میں شیخ عبد العزیز العبد اللطیف کچھ اس طرح رقمطراز ہیں :

ويدَّعي ” عبد القديم زلُّوم ” أن الوهابيين بظهور دعوتهم قد كانوا سببا في سقوط دولة الخلافة ، يقول : ” وكان قد وجد الوهابيون كياناً داخل الدولة الإسلامية بزعامة محمد بن سعود ثم ابنه عبد العزيز فأمدتهم الإنجليز بالسلاح والمال واندفعوا على أساس مذهبي للاستيلاء على البلاد الإسلامية الخاضعة لسلطان الخلافة أي رفعوا السيف في وجه الخليفة وقاتلوا الجيش الإسلامي جيش أمير المؤمنين بتحريض من الإنجليز وإمداد منهم.” 

[کیف ھدمت الخلافۃ (خلافت کا خاتمہ کیسے ہوا)  ص10]

” عبدالقدیم زلوم ” کا دعوی ہے کہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ  کی دعوت کا ظاہر ہونا ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب تھا ۔ اس کا یہ کہنا ہے  کہ : اسلامی حکومت میں محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کے پیروکاروں نے محمد بن سعود اورپھر اس کے بیٹے عبدالعزيز کی زير قیادت شورش بپا کی تو برطانیہ نے انہیں مال واسلحہ مہیا کیا اوران کی یہ شورش سلطان و خلیفہ کے تابع بلاد اسلامیہ پرقبضہ کرنے کے لیے مذہبی بنیاد پرکی ۔یعنی انہوں نے انگریز کے تعاون اوراس کے ابھارنے کی بناء پر خلیفہ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی اوراسلامی لشکر سے لڑائی کی جو کہ امیر المومنین کا لشکر تھا”

خلافت و دولۃ ‏عثمانیہ کےخلاف محمد بن عبدالوھاب کے خروج کے بارہ میں پائے جانے والے شبہ کا جواب ذکر کرنے سے قبل مناسب ہے کہ ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کا خلیفۃ اور مسلمان حکمرانوں  کی سمع واطاعت کے بارہ میں عقیدہ ذکر کردیں ۔

شیخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کا  حکام کی اطاعت کے بارےعقیدہ 

ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ خلیفہ اور حاکم چاہے نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر ہو جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے اس کی سمع واطاعت واجب ہے اس لیے کہ اطاعت صرف اورصرف نیکی کے کام میں ہوتی ہے ۔

شیخ الامام محمد بن عبد الوہابؒ  اپنے ایک خط میں (جوکہ اہل قصیم کولکھا تھا )لکھتے ہیں :

وأرى وجوب السمع والطاعة لأئمة المسلمين برّهم وفاجرهم ما لم يأمروا بمعصية الله ومن ولي الخلافة واجتمع عليه الناس ورضوا به وغلبهم بسيفه حتى صار خليفة وجبت طاعته وحرم الخروج عليه.

[مجموعۃ مؤلفات الشیخ (5/11 )]

”میرا عقیدہ ہے کہ امام المسلمین کی سمع واطاعت کرنی چاہیے چاہے وہ امام نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر جب تک وہ نیکی کا حکم دیتا رہے اس کی اطاعت واجب ہے اورجب اللہ تعالی کی نافرمانی کاحکم دے اس میں اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی ۔ اورجوخلیفہ بنا دیاجائے  اورلوگ اس پر راضی ہوں اور لوگ اس کے پاس جمع ہو جائيں اور یا پھر وہ تلوار کے زور سے ان پر غالب ہوحتی کہ وہ خلیفہ بن جائے تو اس کی اطاعت واجب ہے اوراس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ “

اورایک دوسری جگہ پر شيخ یہ فرماتے ہیں :

الأصل الثالث : أن من تمام الاجتماع السمع والطاعة لمن تأمّر علينا ولو كان عبداً حبشيّاً 

[مجموع مؤ‎لفات الشیخ(1 /394) بحوالہ دعاوی المناوئین (233 – 234)]

”اجتماعیت کی تکمیل میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی ہم پرامیر بنادیا جائے ہم اس کی سمع واطاعت کریں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔“

اورشیخ عبدالعزيز العبداللطیفؒ  کہتے ہیں :

وبعد هذا التقرير الموجز الذي أبان ما كان عليه الشيخ من وجوب السمع والطاعة لأئمة المسلمين برّهم وفاجرهم ما لم يأمروا بمعصية الله

“اس  مختصر سے وضاحت کے بعد کہ جس میں شیخ رحمہ اللہ تعالی کا مسلمان حکمرانوں کی اس وقت تک سمع وطاعت کے وجوب کا عقیدہ سامنے رکھا گیا ہے ، جب تک وہ اللہ تعالی کی معصیت کا حکم نہ دے ، چاہے وہ حکمران نیک ہویا فاجر ۔”

تواب اس اہم مسئلہ کی طرف آتے ہیں، یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ” نجد ” اس دعوت کا منبع اور اصل مرکز (جہاں پریہ پروان چڑھی تھی )دولۃ عثمانیہ کے زیر سلطنت تھا ؟

شیخ محمد بن عبد الوہاب ؒپر الزام کا جواب

مدینہ یونیورسٹی کے سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر صالح العبود کا تبصرہ:

ڈاکٹر صالح عبود اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

ومهما يكن فإن ” نجداً ” لم تشهد نفوذاً مباشراً للعثمانيين عليها قبل ظهور دعوة الشيخ محمد بن عبد الوهاب كما أنها لم تشهد نفوذاً قويّاً يفرض وجوده على سير الحوادث داخلها لأية جهة كانت فلا نفوذ بني جبر أو بني خالد في بعض جهاتها ولا نفوذ الأشراف في بعض جهاتها الأخرى أحدث نوعاً من الاستقرار السياسي فالحروب بين البلدان النجدية ظلت قائمة والصراع بين قبائلها المختلفة استمر حادّاً عنيفاً . 

[عقیدہ الشيخ محمد بن عبدالوھاب واثرھا فی العالم الاسلامی (1 /27)]

”نجدتک عمومی طور پر خلافت عثمانیہ کا نفاذ ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی حکومت وہاں تک آئی اور نہ ہی وہاں پر کوئی خلافت عثمانیہ کی طرف سے گورنر ہی مقرر ہوا اورجب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دعوت کا ظہورہوا تواس وقت ترکی حکومت کی کوئی فوج بھی وہاں نہیں تھی۔

اس تاریخی حقیقت کی دلیل “دولہ عثمانیہ کی اداری تقسیمات کا استقرار “بھی ہيں جن میں سے ایک ترکی لیٹر جس کا مضمون ” آل عثمان کے دیوانی رجسٹرمیں قوانین کے مضامین ” ہے یعنی دیوانی رجسٹر میں آل عثمان کے قوانین، جسے یمین افندی نے تالیف کیا ہے جو کہ خاقانی دفتر کا 1018ھ الموافق 1609عیسوی میں خزانچی تھا ۔تو اس بیان سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ 11ھ کے شروع میں دولت عثمانیہ بتیس 32 حکومتوں میں تقسیم ہو چکی تھی جن میں چودہ عرب حکومتیں تھیں جن میں نجد شامل نہیں تھا سوائے احساء کا علاقہ کے لیکن وہ بھی اگر ہم احساء کو  نجد میں شامل سمجھیں تو(کیونکہ اس میں بھی اختلاف ہے کہ احساء اس وقت نجد کا حصہ تھا  یا نہیں ) ۔   “

شیخ صالح العثیمین کے فرزند ڈاکٹر عبداللہ عثیمین حفظہ اللہ کا تبصرہ

ڈاکٹر عبداللہ عثیمین کا کہنا ہے :

ومهما يكن فإن ” نجداً ” لم تشهد نفوذاً مباشراً للعثمانيين عليها قبل ظهور دعوة الشيخ محمد بن عبد الوهاب كما أنها لم تشهد نفوذاً قويّاً يفرض وجوده على سير الحوادث داخلها لأية جهة كانت فلا نفوذ بني جبر أو بني خالد في بعض جهاتها ولا نفوذ الأشراف في بعض جهاتها الأخرى أحدث نوعاً من الاستقرار السياسي فالحروب بين البلدان النجدية ظلت قائمة والصراع بين قبائلها المختلفة استمر حادّاً عنيفاً .  

[محمد بن عبدالوھاب حیاتہ وفکرہ ص (11) بحوالہ دعاوی المناوئین (234 – 235)]

”اورجو کچھ بھی ہو پھر بھی شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت کے ظہور سےقبل نجد نے عثمانیوں کی حکومت کا نفاذ نہیں دیکھا ، اوراسی طرح نجد نے کسی طرف سے بھی کوئی قوی نفاذ نہيں دیکھا جو وہاں ہونے والے واقعات کو قابو میں کرے، اور اس کے اطراف میں نہ تو بنوجبر کی حکومت کا نفاذ تھا یا پھر بنی خالد اورنہ ہی اس کے کسی کونے میں پنچائیت طرز عمل کا نفاذ ہوا، تونجدی علاقوں کی جنگیں اورلڑائياں قائم رہیں اوران کے مختلف قبائل کے درمیان جنگ وجدال بہت تیزي سے چلتا رہا۔  “

سعودی عرب کے سابقہ مفتی شیخ ابن بازؒ کا تبصرہ

اوراس مضمون اوربحث کومکمل کرنے کے لیے ہم فضیلۃ الشیخ علامہ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالی کابیان کردہ  اس شبہ کے جواب میں قول ذکر کرتے ہيں :

لم يخرج الشيخ محمد بن عبد الوهاب على دولة الخلافة العثمانية فيما أعلم وأعتقد فلم يكن في نجد رئاسة ولا إمارة للأتراك بل كانت نجد إمارات صغيرة وقرى متناثرة وعلى كل بلدة أو قرية – مهما صغرت – أمير مستقل… وهي إمارات بينها قتال وحروب ومشاجرات والشيخ محمد بن عبد الوهاب لم يخرج على دولة الخلافة وإنما خرج على أوضاع فاسدة في بلده فجاهد في الله حق جهاده وصابر وثابر حتى امتد نور هذه الدعوة إلى البلاد الأخرى 

[کیسٹوں پر ایک ریکارڈ مذاکرہ بحوالہ : دعاوی المناوئین ص237]

”میرے علم اوراعتقاد کے مطابق شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے دولۃ خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہيں کیا ، اورپھر نجد میں ترکیوں کی تو حکومت و سلطہ ہی نہیں تھا بلکہ نجد کے علاقے میں چھوٹی چھوٹی امارتیں اوربہت سی بستیاں پھیلی ہوئی تھیں ۔ اوران میں سے ہر ایک شہر یا علاقے اور بستی پر چاہے وہ جتنی بھی چھوٹی تھی امارت قائم تھی اورایک مستقل امیر تھا ۔۔۔ اوران امارتوں کے درمیان جنگ جدال اوراختلافات رہتے تھے ، اورشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہیں کیا  بلکہ ان کا خروج تواپنے علاقے میں ان غلط اورفاسد نظریات  کے متعلق تھا جو پیدا ہوچکے تھے انہوں نے اللہ تعالی کے لیےجہاد کیا اوراس کا حق بھی ادا کیا اوراس میں صبر کیا حتی کہ اس دعوت کا نور اورروشنی دوسرے شہروں اورعلاقوں تک جا پہنچی ۔ “

جامعہ الازہر سے فارغ التحصیل ڈاکٹر عجیل النشمی الکویتی کا تبصرہ

ڈاکٹر عجیل النشمی کہتے ہیں:

….. لم تحرك دولة الخلافة ساكنا ولم تبدر منها أية مبادرة امتعاض أو خلاف يذكر رغم توالي أربعة من سلاطين آل عثمان في حياة الشيخ 

[دیکھیں میگزین: مجلۃ المجتمع عدد نمبر:510]

”شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں خلاف عثمانیہ کی جانب سے نہ تو قابل ذکر اختلاف تھا اورنہ ہی دشواری پیش آئی اور نہ ہی عوام میں سےکسی کوبھی (خلافت عثمانیہ کیخلاف) متحرک کیا حالانکہ ان کے زندگی میں خلافت عثمانیہ کے تین سلطان بدلے ۔۔۔ اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ خلافت عثمانیہ کے بارے شیخ رحمہ اللہ کے تصورات کی عکاسی تھا اور دوسری طرف خلافت عثمانیہ کے ہاں شیخ رحمہ اللہ کی دعوت کی تصویر کیسی ہو گی ؟ ( اگلی سطور میں ملاحظہ کیجیے ) “

ڈاکٹر عجیل النشمی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں :

لقد كانت صورة حركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب لدى دولة الخلافة صورة قد بلغت من التشويه والتشويش مداه فلم تطلع دولة الخلافة إلا على الوجه المعادي لحركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب سواء عن طريق التقارير التي يرسلها ولاتها في الحجاز أو بغداد أو غيرهما ..أو عن طريق بعض الأفراد الذين يصلون إلى الأستانة يحملون الأخبار. 

[دیکھیں میگزین : المجتمع عدد نمبر ( 504 ) بحوالہ دعاوی المناوئين ص ( 238 – 239 )]

”شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوتی تحریک کی تصویر کوخلافت عثمانیہ کے ہاں غلط رنگ دیا گيا تو حکومت نے اس دعوتی تحریک کے خلاف دشمنی کا رویہ اختیار کرلیا جس کا سبب حجاز یا پھر بغداد کے گورنروں کے خلیفہ کو ارسال کردہ رسائل تھے یا پھر ان افراد کی بنا پر جوکچھ خبریں لے کر آستانہ پہنچتے تھے ۔“

اورزلوم کا یہ دعوی کہ شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب بنی ، اورانگریزنے خلافت عثمانیہ کے سقوط میں محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا تعاون کیا۔ تواس لمبے چوڑے دعوی کے جواب میں صاحب تحفۃ العروس، شیخ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد محمود مھدی استنبولی کہتے ہیں:

قد كان من واجب هذا الكاتب أن يدعم رأيه بأدلة وإثباتات وقديما قال الشاعر:

وإذا الدعاوى لم تقم بدليلها

                                بالنص فهي على السفاه دليل

مع العلم أن التاريخ يذكر أن هؤلاء الإنجليز وقفوا ضد هذه الدعوة منذ قيامها خشية يقظة العالم الإسلامي .

[دیکھیں کتاب : الشيخ محمد بن عبدالوھاب فی مرآۃ الشرق والغرب ص ( 240 ) ( شیخ محمد بن عبدالوھاب مشرق و مغرب کے آئینہ میں )]

”اس دعوی کے لکھنے والے پرضروری تھا کہ وہ اپنی اس رائے کے ثبوت میں دلائل بھی پیش کرتا ، زمانہ قدیم میں شاعر نے کہا تھا :

“اورجب دعوی کرنے والا اپنے دعوی پر کوئی بالنص دلیل قائم نہ کرسکے تووہ اس کے بے وقوفی کی دلیل ہے ۔ “

اوریہ بھی علم ہونا چاہیے کہ تاریخ اس بات کوذکر کرتی ہے کہ ان انگریزوں نے تواس دعوت کی ابتدا ہی سے عالم اسلام کی بیداری کے خوف سے مخالف کی تھی۔“

شیخ محمد بن عبد الوہابؒ پر خلافت عثمانیہ کیخلاف انگریز وں سے ملی بھگت کرنے کے الزام کی حقیقت

اسی طرح الشیخ محمود مھدی استنبولی کہتے ہیں :

والغريب المضحك المبكي أن يتهم هذا الأستاذ حركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب بأنها من عوامل هدم الخلافة العثمانية مع العلم أن هذه الحركة قامت حوالي عام 1811 م وأن الخلافة هدمت حوالي 1922 م .

[حوالہ سابقہ ص ( 64 )]

”اوریہ ایک عجیب و غریب اوررولانے والی مضحکہ خيز بات ہے کہ یہ پروفیسر صاحب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی تحریک پر تہمت لگاتے ہیں کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کی وجوہات میں سے ایک ہے لیکن یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ تحریک 1811 عیسوی میں شروع ہوئی اورخلافت عثمانیہ کا سقوط 1922 عیسوی میں ہوا ۔  “

انگریز تو خود شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کی تحریک کیخلاف تھا:

انگریز کا محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی  تحریک کے خلاف ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ انہوں نے مصر کے والی ابراھیم پاشا کو محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں  کے خلاف درعیہ کی لڑائی میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور یہ مبارکباد دینے کے لیے کیپٹن فورسٹر سیڈلر کوبھیجا تھا ۔

اس پرمزید یہ کہ ان کا اس برطانوی تحریک (جو کہ انہوں نے خلیج میں اس تحریک کی دعوت کوکم کرنے لیے قائم کررکھی تھی )کے ساتھ تعاون کا میلان بھی پایا جاتا تھا ۔ بلکہ اس خط میں توحکومت برطانیہ اورابراھیم پاشا کے درمیان محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں  کے نفوذ کی مکمل سرکوبی کرنے پر اتفاق کی رغبت کا اظہار کیا گيا ہے ۔

حنفی عالم دین مولانا منظور کی گواہی :

مشہور  دیوبندی  عالم مولانا محمد منظورنعمانی صاحب کہتے ہیں :

لقد استغل الإنجليز الوضع المعاكس في الهند للشيح محمد بن عبد الوهاب ورموا كل من عارضهم ووقف في طريقهم ورأوه خطرا على كيانهم بالوهابية ودعوهم وهابيين … وكذلك دعا الإنجليز علماء ديوبند – في الهند – بالوهابيين من أجل معارضتهم السافرة للإنجليز وتضييقهم الخناق عليهم 

[دیکھیں کتاب : دعایات مکثفۃ ضد الشيخ محمد بن عبدالوھاب ص ( 105 – 106 ) ( شيخ محمد بن عبدالوھاب کے خلاف بڑے بڑے الزامات )]

”ہندوستان میں انگریز نے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے مخالف حالات کوایک فرصت اورسنہری موقع سمجھتےہوئے اپنے مخالفین کو وھابی کہنا شروع کردیا اور اپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کو وھابیت کا نام دیا اوراسی طرح انگريز نے علماء دیوبند کوبھی انگريز کی مخالفت کرنے کی بنا پر وھابی کہنا شروع کیا اوران پر تنگی شروع کردی ۔“

مزید لکھتے ہیں کہ :

وبهذه النقول المتنوعة ينكشف زيف هذه الشبهة وتهافتها أمام البراهين العلمية الواضحة من رسائل الشيخ الإمام ومؤلفاته كما يظهر زيف الشبهة أمام الحقائق التاريخية التي كتبها المنصفون.

[دیکھیے: دعاوی المناوئين ( 239 – 240 )]

”توان مختلف بیانات اور شیخ محمد بن عبدالوھاب کی کتب رسائل سے واضح علمی دلائل سے اس شبہ کا کھوٹا پن اور جھوٹے ہونے کا انکشاف ہوتا ہے ، اوراسی طرح انصاف پسند تاریخ دانوں کے تاریخ حقائق سے بھی اس کا باطل پن واضح ہورہا ہے۔ “

آخری بات

آخرمیں ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے بارہ میں زبان درازی کرنے والے ہر شخص کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس سے باز آ جائے  اورسب معاملات میں اللہ سبحانہ وتعالی کا تقوی اورڈر اختیار کرے۔

ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کرلے اوراسے سیدھے راہ کی ھدایت نصیب فرمائے۔ واللہ اعلم