غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا

غیر شرعی قرار داد پاس کرنے کے سبب حکمرن پر تنقید کرنا.

غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

اکثر ہمارے معاشرے میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی ایسی قرارداد پاس کر دی جاتی ہے جو بسا اوقات شریعت اسلامی کے مخالف بھی ہو سکتی ہے ۔

سوال: کیا غیر شرعی ، گناہ والی یا شریعت مخالف قرارداد یا بل وغیرہ پاس کرنے پر حکمران پر اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ اس بارے میں سلف صالحین کا کیا عمل ہوا کرتا تھا؟ 

جواب: حکمران کی اطاعت واجب ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ

اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالی کی، اور اطاعت کرو رسول اللہ کی ، اور ان کی بھی جو تمہارےحکمران ہیں۔

(النساء: 59)

پس جو بات واجب اور اصل ہے وہ حکمران کی اطاعت ہے لیکن اگر وہ کسی معصیت وگناہ کا حکم دے تو اس کی اس معصیت میں اطاعت نہیں کی جائےگی۔ کیونکہ آپ ﷺ  کا فرمان ہے:

’’لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ‘‘ 

(خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔

[رواہ احمد برقم (20653)، والطبرانی فی الکبیر (18/381) واللفظ لہ عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ]

اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:

’’إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ‘‘

(اطاعت تو صرف معروف کاموں میں کی جاتی ہے)

[رواہ البخاری برقم (7145، 4340)، ومسلم برقم (1840) من حدیث علی رضی اللہ عنہ]

لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپ حکمران کے خلاف خروج کریں یا اس کا تختہ الٹنا چاہیں، بس یہ ہے کہ آپ وہ معصیت نہ کریں جس کا وہ حکم دے رہا ہے اور اس کے علاوہ جن باتوں کا وہ حکم دے اسے بجالائیں۔ آپ اسی کی حکومت کے ماتحت رہیں، نہ اس کے خلاف خود نکلیں اور نہ دوسروں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر ابھاریں، نہ ہی مجلسوں میں اور لوگوں کے سامنے اس کے خلاف باتیں کریں، کیونکہ اس سے شروفتنہ پھیلتا ہے۔ اور لوگوں کو ایسے وقت میں حکام کے خلاف بغض سے بھرنا جبکہ کفار ہماری تاک لگائے بیٹھے گردش ایام کے منتظر ہیں، اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر انہیں اس بات کی خبر ہوجائے تو وہ ان جذبانی مسلمانوں میں اپنا زہر سرائیت کرکے انہیں ان کے حکمرانوں کے خلاف بھڑکائیں گے، جس کے نتیجے میں فتنہ وفساد ہوگا،اور نتیجہ کافروں کا مسلمانوں پر تسلط کی صورت میں سامنے آئے گا۔

لہذا حکمران خواہ کیسے بھی ہوں ان میں خیر کثیر اور عظیم مصالح ہوتےہیں۔ وہ بھی ایک بشر ہیں معصوم نہیں بعض باتوں میں غلطی کرجاتےہیں۔ لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خفیہ طور پر نصیحت کی جائے، یا ان تک پہنچائی جائے۔ اور ان کے سامنے صحیح بات پیش کی جائے۔لیکن مجالس میں بیٹھ کر ان پر کلام کرنا اور اس سے بھی شدید تر خطبوں اور تقاریر میں ان پر کلام کرنا اہل شقاق واہل نفاق واہل شر کا طریقہ ومنہج ہے کہ جو مسلمانوں کی حکومت میں انتشار مچانا چاہتے ہیں۔

ماخوذ از

(الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ، سوال: 14)

 اللہ تعالی ہمیں اسلامی قوانین اورمنہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین




کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام

5555555

کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنی کتاب نواقض الاسلام میں آٹھویں ناقض اسلام یہ بیان کرتےہیں کہ:

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مدد کرنا اور ہر مصیبت میں ان کے کندھے سے کندھے ملا کر  کھڑے ہونا ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَآاَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّه مِنْـهُـمْ   اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ

(سورۃ المائدۃ 51)

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔

اور شیخ صالح بن فوزان رحمہ اللہ اس کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے یہاں کفارکے ساتھ  دوستی کی ایک قسم  ”مظاہرہ“ پر بات کی ہے۔ وگرنہ دوستی کی تو کئی ایک قسمیں ہیں۔مثلاً دلی محبت، غیر مسلموں کو مسلمانوں پر ترجیح دینا ، ان کی مدح و تعریف کرنا  اور اس جیسی اور بھی کئی قسمیں ہیں ،حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کفار سے نفرت و دشمنی رکھنا ،اور ان سے براءت کا اعلان کرنا مسلمانوں پر واجب کیا ہے  ۔اور اسی کو اسلام میں  ”الولاء والبراء“ اور”الموالاۃ “کا نام دیا جاتا ہے ۔

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مددکرنےکی کچھ صورتیں ہیں اور سب کے علیحدہ علیحدہ احکام ہیں:

پہلی قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد ان کے کفر و شرک اور گمراہی کی  محبت کی وجہ سے کرنا تواس قسم کے شخص کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے میں  کوئی شک نہیں ۔چنانچہ جو یہ کام کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اورانہی کے متعلق اللہ رب العزت کا فرمان ہے: (فَاِنَّه مِنْـهُـمْ)۔

دوسری قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد اپنی خوشی سے  نہیں کرتا بلکہ اسے اس کام پر مجبور کیا گیا ہے  اور وہ کفار سے  نفرت کرتا ہے۔اور اس کے دل میں ڈر بھی ہے کہ کہیں میں دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے عمل  کا ارتکاب نہ کر بیٹھوں ،اور وہ وہاں سے ہجرت کی استطاعت بھی نہیں رکھتا تو ایسا شخص اس وعید میں شامل نہیں ہے اور اس کی مثال بدر میں کفار کے ساتھ حاضر ہونے والے ان مسلمانوں کی ہے کہ مشرکین مکہ نے انہیں مسلمانوں کے خلاف نکلنے پر مجبور کیا تھا اور انہیں نکلنا پڑا ۔حالانکہ ان کے دل  تو صرف مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے تھے اور کائنات میں ان کے نزدیک مبغوض ترین مخلوق مشرک تھے۔ پھر بھی اللہ تعالی نے ان مسلمانوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ہجرت  کرنے سے کون سی چیز آڑے رہی کہ انہوں نے ہجرت نہ کی اور مشرکین مکہ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔

لیکن جو شخص ہجرت نہیں  کرتا   حالانکہ وہ ہجرت کی استطاعت بھی رکھتا ہے  اور وہ مشرکین کے ساتھ  رہتا ہے  اور وہ (مشرکین) اس کو زبردستی اس کو مسلمانوں کے خلاف قتال   پر لے جاتے ہیں  ، تو یہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے ۔

لیکن اگر وہ ہجرت کی استطاعت نہیں رکھتے تھے تو ان پر ملامت نہیں اور وہ اس وعید میں شامل نہیں ہیں۔کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ:

 (لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا)

(سورۃ البقرہ 286)

اللہ کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا ۔

تیسری قسم :

جو شخص مسلمانوں کے خلاف مشرکین و کفار کی مدد کر تا ہے  ، اور وہ اپنی مرضی سے کر رہا ہے اس پر اس کو کسی نے مجبور بھی نہیں کیا  حالانکہ وہ ان کفار کے دین سے نفرت بھی کرتا ہے ، تو یہ شخص کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گنا ہ کا مرتکب ہے  ،اور یہ کفر میں واقع ہو رہا ہے ۔

④چوتھی قسم :

کوئی شخص کفار کی مدد معاہد یا ذمی کفار کے خلاف کرے   تو یہ جائز نہیں ہے حرام ہے ، اوریہ اس لئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے معاہدے کو نقصان پہنچے گا ، اور جن کفار سے معاہدہ ہوتو کسی مسلمان کے لئے ان سے قتال کرنا جائز نہیں ۔

کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے :

مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا

(صحیح بخاری: 3166)

جس نے کو حلیف  کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو تواس (جنت )سے   چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی سکتی ہے۔

حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تو حلیف (معاہد ) کفار  کے خلاف مسلمانوں کی مدد سے بھی روک دیا  ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معاہد کفار کے خلاف غیر معاہد کفار کی مدد کی جائے۔چنانچہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِى الـدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَـهُـمْ مِّيْثَاقٌ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرٌ

(سورۃ الانفال:72)

اور اگر وہ دین کے معاملہ میں مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنی لازم ہے مگر سوائے ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ ان میں اور تم میں عہد ہو، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

 جب مسلمان ہم سے کفار کے خلاف مدد مانگیں تو ہمیں ہر صورت ان کی مدد کرنی چاہیے  مگر ایک صورت میں  ہمیں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے  ، کہ مسلمان ہم سے ان کفار کے خلاف مدد طلب کر رہے ہوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان عہد ہو  ، تو اس صورت ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم مسلمانوں کی مدد کریں ، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمیں عہد کو وفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

⑤پانچویں قسم :

کفارکی مدد نہ کرنا لیکن ان سے محبت  و الفت رکھنا ، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے ، جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں :

( لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَلَوْ كَانُـوٓا اٰبَآءَهُـمْ اَوْ اَبْنَآءَهُـمْ اَوْ اِخْوَانَـهُـمْ اَوْ عَشِيْـرَتَـهُـمْ ۚ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُـمْ بِـرُوْحٍ مِّنْهُ۔

(سورۃ المجادلۃ: 22)

آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگو ں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو کہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول :

( وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْـرَاهِيْـمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَآ اِيَّاهُۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَـهٓ اَنَّه عَدُوٌّ لِّلّـٰهِ تَبَـرَّاَ مِنْهُ ۚ اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْـمٌ)

(التوبۃ: 114)

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے، بے شک ابراہیم بڑے نرم دل تحمل والے تھے۔

مزید اللہ تعالیٰ کا یہ قول:

(يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّىْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْـهِـمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ ۙ اَنْ تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ رَبِّكُمْ…………………………رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ)

(سورۃ الممتحنہ:4)

اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان کے پاس دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ تمہارے پاس جو سچا دین آیا ہے اس کے یہ منکر ہو چکے ہیں، رسول کو اور تمہیں اس بات پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ اپنے رب پر ایمان لائے ہو، اگر تم جہاد کے لیے میری راہ میں اور میری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو تو ان کو دوست نہ بناؤ، تم ان کے پاس پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم مخفی اور ظاہر کرتے ہو، اور جس نے تم میں سے یہ کام کیا تو وہ سیدھے راستہ سے بہک گیا۔اگر وہ تم پر قابو پائیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی سے دراز کریں اور چاہتے ہیں کہ کہیں تم کافر ہو جاؤ۔نہ تمہیں تمہارے رشتے ناطے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن نفع دیں گے، وہ (اللہ) تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بیر ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ مگر ابراھیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں تمہارے لیے معافی مانگوں گا اور میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی بات کا مالک بھی نہیں ہوں، اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

آپ غور کیجئے کہ پوری سورۃ الممتحنہ  کفار کے ساتھ لگاؤاور محبت  کے حرام ہونے پر ہےاور ساری سورۃ ممتحنہ کا موضوع کفار کے ساتھ نفرت و عداوت  اور کسی قسم کی محبت نہ رکھنے پر ہے ،اگرچہ وہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ قریب ہی کیوں نہ ہوں ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس بات  پر مہر لگا دی کہ یہ فعل  کسی صورت جائز نہیں ہے ،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ قَدْ يَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ)

(سورۃ الممتحنہ :13)

اے ایمان والو! اس قوم سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ تو آخرت سے ایسے نا امید ہو گئے کہ جیسے کافر اہلِ قبور سے نا امید ہو گئے۔

 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آیت کی وعید کے زمرے میں شامل ہونے سے بچائے۔آمین




کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں

کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں

000000

کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں!

محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی کتاب نواقض اسلام کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد بن علی المشیقح نے اپنی کتاب “اطایب الزھر ” میں کفار سے دوستی اور محبت کے موضوع پر درج ذیل بحث رقم کی ہے :

اہل علم کے نزدیک ”ولاء“ اور ”تولی“ کے درمیان فرق کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس میں دوقسم کے اقوال منقول ہیں:

1۔کچھ علماء نے دونوں کو ہم معنی قرار دیا ہے۔

2۔جبکہ کچھ علماء نے ولاء اور تولی کے درمیان فرق کیا ہے۔

چنانچہ ﴿يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ﴾ میں لفظ”ولاء”اور﴿وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّه  مِنْـهُـمْ﴾ میں لفظ”تولی”کے درمیان فرق یہ بیان کرتے ہیں کہ ولاء تولی سے عام ہے “ولاء” یعنی دوستی کرنا ممنوع ہے لیکن”مخرج عن الملۃ “عمل  نہیں جبکہ اس کے مد مقابل “تولی” یعنی دلی دوستی رکھنا اور ان کے دین پر راضی ہونا “مخرج عن الملۃ “عمل ہے۔کیونکہ اس ضمن میں آنے والی آیات، الولاء اور تولی پر دی گئی وعید  میں فرق کرتیں ہیں ۔

مزید یوں سمجھ لیجیے کہ پہلے قول میں مطلق طور پر کفار سے دوستی کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل آیات سے واضح ہے ؛

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِـرِيْنَ اَوْلِيَـآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّـٰهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِيْنًا 

(النساء 144)

اے ایمان والو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ، کیا تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لینا چاہتے ہو۔

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٝ مِنْـهُـمْ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ

(سورۃ المائدۃ 51)

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 

اور دوسرا قول کہ اس وعید میں کچھ اضافہ پایا جاتا ہے کہ ایسی دوستی کرنے والا (مسلمان) انہیں (کفار) میں سے ہو جائے گا ۔جیساکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ؛

﴿ وَمَن یَتَوَلَّھُم مِّنکُمْ فَاِنَّہُ مِنْھُم ﴾

سو آئیے اب ہم “الولاء” پر بات کرتے ہیں ؛

ولاء یعنی کفار کے ساتھ دوستی کرنے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے کچھ کفر ہیں  اور کچھ فسق ہیں  جو کہ ذیل میں بیان کی جائیں گی:

کفار  کے ساتھ دوستی  کی صورتیں:

① کفار سے محبت :

کفار سے محبت کرنا قطعی طور پر حرام ہے اور اگر اس محبت کا باعث اور وجہ ان کفار کے دین سے محبت ہو جو کہ کفر و فسق اور اللہ کے ساتھ شرک پر مبنی ہے تو یہ محبت دین اسلام سے خارج کر دینے والی قرار پائے گی ۔

اور اگر معاملہ ایسا نہیں ہے یعنی کفار سے صرف بظاہر محبت ہے  تب بھی یہ حرام ہے، بالکل بھی جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں پر کافروں کے ساتھ بغض رکھنا واجب ہے۔

جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ اِبْـرَاهِـيْمَ وَالَّـذِيْنَ مَعَه  ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِـمْ اِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّهِۖ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّـٰى تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَحْدَه۔

(  الممتحنۃ :4 )

بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اوربغض ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ۔

علاوہ ازیں اس قسم سے طبعی محبت کو استثناء حاصل  ہے  کیونکہ اس پر انسان کو ملامت نہیں کیا جا سکتا ،مثلاً ایک مسلمان کسی کافر سے، بیٹا، بیوی یا کوئی اور رشتہ ہونے کی وجہ سے محبت کرتا ہے، اس سے اچھا برتاؤ رکھتا ہے، اس سے صلہ رحمی کرتا ہے۔  تو اس پر ملامت نہیں۔

②  مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو دلی دوست بنانا:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ

(آل عمران: 118)

اے ایمان والو! اپنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ ۔

یعنی (مسلمانوں)کے علاوہ کفار میں سے کسی کو اپنا دلی دوست نہیں بنانا کہ وہ آپ کے ہر راز سے واقفیت حاصل کر سکے لہذا یہ دوستی بھی حرام ہے ۔

جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ مقام بدر کی جانب روانہ ہوئے، راستے میں حرہ مقام پر پہنچے تو ایک شخص نے ملاقات کی جو کہ شجاعت اور بہادری میں بڑا مشہور تھا صحابہ کرام اسے دیکھتے ہی خوش ہو گئے وہ شخص رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگا: میں آپ کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لئے حاضر ہوا ہوں تاکہ کچھ حاصل کر سکوں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے؟ اس نے کہا ؛ نہیں! سو آپ ﷺ نے فرمایا : واپس لوٹ جاؤ کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا۔

(صحیح مسلم: 1817)

معلوم ہوا کہ اپنی راز داری والی خفیہ باتوں یا خفیہ معاملات میں کسی کافر کو شامل کرنا ہر گز جائز نہیں ہے۔

③ کفار سے مشابہت اختیار کرنا:

کفار کے ساتھ ایسی چیزوں میں مشابہت اختیار کرنا جو خاص ان کی علامات کو ظاہر کریں، چاہے وہ ان کی عادات و اطوار سے متعلق ہوں یا ان کے رہن سہن سے متعلق ہوں، قطعی طور پر حرام ہیں ۔

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

(مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ)

مسند احمد: (5114) سنن ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی لبس الشھرۃ (4031) امام البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے ۔

جس نے کسی (غیرمسلم) قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے ۔

یعنی جن چیزوں سے کفار کی پہچان یا ان کی خاصیت ظاہر ہوتی ہو ان سے بچنا ضروری ہے البتہ جوچیز ہر معاشرے میں عام ہواور کسی کی خاص نشانی یا علامت نہ ہو تو ایسی چیز کو اپنانے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا ۔ یہی شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف ہے ۔

اقتضاء الصراط المستقیم : (1/553)

④ کفار کو “السلام علیکم “کہنے میں پہل کرنا:

نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے  :

 “لاَ تَبْدَؤوا اليَهُودَ وَلاَ النَّصَارَى بالسَّلامِ، وَإذَا لَقِيْتُم أحَدَهُم فى الطَّريق، فَاضْطَرُّوهُ إلى أَضْيَقِهِ”

(رواہ مسلم 2167)

تم یہودو نصاری کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو ، اور جب کسی راستے پر تمہاری ان سے ملاقات ہو جائے تو انہیں تنگ راستے کی طرف دھکیل دو (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو کہ وہ کنارے سے ہو کر چلیں )

غیر مسلموں کو سلام کرنے میں پہل کرنا بالکل جائز نہیں کیونکہ سلام دوسرے مسلمان کے لئے حفاظت و سلامتی کی  ایک دعا ہے ، جبکہ کفار اس کے حقدار نہیں ہیں ۔

اسی لئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

اگر کفار کا یوں حال دریافت کر لیا جائے کہ تمہاری صبح کیسی رہی  یا تمہاری شام کیسی رہی ؟ خوش آمدید ، اھلاًو سھلا ًو مرحبا جیسے کلمات کہہ دیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں انہیں کوئی دعا نہیں دی جا رہی ۔

⑤غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں پر انہیں مبارک باد دینا:

اس قسم کی بھی دین اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ، قطعی طور پر حرام ہے جیسا کہ عیسائیوں کی کرسمس یا اس جیسی دیگر تقریبات میں شرکت کرنا بلکہ ان کی محافل میں شرکت کرنے والے شخص کا ایمان خطرے میں ہے کیونکہ یہ ان کے دین سے خوش ہونے کی ایک علامت ہے ۔

علاوہ ازیں انہیں دنیوی غرض و غایت سے کوئی مبارکباد پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ مثلاً تجارت میں زیادہ نفع حاصل ہونے پر، کسی گم شدہ کے واپس لوٹ آنے پر ، کسی اہم انعام کے ملنے پر وغیرہ وغیرہ ۔ یہ دو صورتوں میں جائز ہے:

پہلی صورت: مکافات عمل

بدلہ چکانے کی صورت میں، یعنی کہ انہوں نے مسلمانوں کو مبارکباد دی تو مسلمانوں نے بھی مکافات عمل میں ایسا کر دیا ۔ تو ایسا کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، نبی اکرم ﷺ بھی مشرکین کے تحفے قبول کر لیا کرتے تھے، جیسا کہ آپ ﷺ نے ایک یہودی عورت کی طرف سے بھنی ہوئی بکری  کا تحفہ بھی قبول کیا تھا ۔

(بخاری :2617)

دوسری صورت: شرعی مصلحت کے تحت

جب کوئی شرعی مصلحت پیش نظر ہو کہ ان کی تالیف قلب کی جا رہی ہو یا انہیں دین اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں یہ مشروع عمل ہے ۔ جیسا کہ ایک یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک روز وہ بیمار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ۔

 صحیح بخاری : کتاب المرضی ، باب عیادۃ المشرک، (5657)

اس  طرح عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مشرک بھائی کو دھاری دار جبہ تحفہ دیا تھا ۔

(مسلم کتاب اللباس: 2068)

⑥کفار کو مسلمانوں پر حکمران بنانا اور ایک کافر کی شخصی خدمت کرنا :

یوں سمجھ لیجیے کہ اس کا دھوبی ، اس کا باورچی یا گھر میں نوکر یا نوکرانی کسی مسلمان کو مقرر کر دیا جائے تو یہ بالکل جائز نہیں اسی طرح کسی کافر کو مسلمانوں کے معاملات  پر نگران بنانا  بھی جائز نہیں ۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے : (وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّـٰهُ لِلْكَافِـرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا)

(النساء:  141)

اور اللہ تعالی کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہرگز غالب نہیں کرے گا۔

جبکہ یہ بات واضح ہے کہ اسلام ہمیشہ غالب ہی ہوتا ہے، مغلوب نہیں ۔

⑦ ان کو  چھوڑ دینا کہ وہ اپنے دین کے شعائر کا اظہار کرتے پھریں ، جیسے شراب پینا ، خنزیر کا گوشت کھانا ، یا ناقوس بجانا اور اس جیسے باقی شعائر ۔

کفار کے ساتھ دوستی کی کچھ اور صورتیں:

  • کفار کو دینوی معاملات میں مبارکباد دینا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
  • ان کی تیمارداری کرنا ، ان کو تحفے دینا ،یعنی  جب وہ بیمار ہو جائیں  تو ان کی زیارت کے لیے جانا، اور تحفے تحائف کو تبادلہ کرنا، یا دیگر معاملات میں ان سے حسن سلوک روا رکھنا۔ جس میں دو صورتیں گزشتہ سطور میں بیا ن کی جا چکی ہیں ۔

البتہ سلام میں پہل کرنا  کسی صورت جائز نہیں ہے ، لیکن اگر کوئی غیر مسلم سلام کہنے میں پہل کر لے تو انہیں سلام کا جواب دینے کے تین طریقے بیان کیے جاتے ہیں :

پہلی قسم :

اگر وہ سلام کو بطور بد دعا استعمال کریں تو جواب میں صرف”وعلیکم” کہا جائے گا ، جیسا کہ یہودی نبی کریم ﷺ کو (نعوذ باللہ) یوں سلام کیا کرتے تھے ؛ “السام علیکم” یعنی تمہاری موت ہو ۔

 تو آپ ﷺ ان کو جواب میں صرف “وعلیکم ” فرماتے تھے ۔

صحیح بخاری ، کتاب الادب ، باب الرفق فی الامر کلہ رقم (6024)، صحیح مسلم ، کتاب السلام ، باب البھی عن ابتداء اھل الکتاب بالسلام وکیف یرد علیھم رقم(2165)

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب یہودی تمہارے پاس آئیں اور تمہیں  اپنے مطابق سلام کہیں”السام علیکم ” (یعنی تمہاری موت ہو )

تو تم جواب میں کہو “علیک” (یعنی تمہاری موت ہو )۔

(صحیح مسلم:2164)

امام ابن دقیق العبد رحمہ اللہ  نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ انہیں صرف “وعلیکم” یا “علیک” اس لئے کہا جاتا ہے کہ جو بھی اس کی  نیت میں ہو گا وہ اسے مل جائے گا۔ اگر اس نے کوئی غلط نیت رکھی تو وہ اسی پر ہو گی اور اگر اس نے واقعی اچھی نیت سے سلام کہی ہے تو اس کا بھی اسے اسی طرح کا جواب مل جاتا ہے ۔ لہذا دونوں صورتوں میں کسی کی حق تلفی نہیں ہے ۔

(شرح الالمام 2/296)

دوسری قسم :

اگر وہ بغیر غلطی کیے صراحتاً سلام پیش کرتے ہیں تو پھر مکافات عمل کے تحت انہیں سلام کا جواب دیا جائے ۔ یعنی جب وہ کہیں “السلام علیکم”  تو آپ اس کے جواب میں  وعلیکم السلام  کہہ سکتے ہیں۔

اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول شاہد ہے :( وَاِذَا حُيِّيْتُـمْ بِتَحِيَّـةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْـهَآ اَوْ رُدُّوْهَا )

(سورۃ النساء: 86 )

اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا اس جیسی ہی کہو۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں جمہور علماء کا اختلاف ہے کہ ان کو جواب دینا چاہیے یا نہیں ، الغرض اکثر محدثین نے اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ جواب دینا بہتر ہے ۔

(زادالمعاد 2/389 )

تیسری قسم:

یہ استقبال کے باقی کلمات کے متعلق ہے جیسے کسی کو خوش آمدید کہنا ، اھلا و سھلا ومرحبا کہنا وغیرہ اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا یہی ہے کہ یہود و نصاری کو ایسے کلمات کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

غیرمسلموں کے واجبات:

خرید و فروخت اور دیگر تمام معاملات میں ان کے ساتھ عدل کو ملحوظ خاطر رکھا جائے،دھوکا دہی ، اور ان کے حقوق غصب کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے ۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

“اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى وَيَنْـهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ”

(النحل 90)

بے شک اللہ انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اور بے حیائی اور بری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے، تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ

(صحیح جامع الصغیر للالبانی)

مظلوم کی بددعا سے بچو ، کیونکہ اس (بددعا ) کے اور اللہ تعالیٰ  کے درمیان کوئی حجاب نہیں  ۔

اسی طرح انصاف کرنے کے حوالے سے مسلمانوں کو حکم باری تعالی بھی ہے:

لَّا يَنْهَاكُمُ اللّـٰهُ عَنِ الَّـذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَـرُّوْهُـمْ وَتُقْسِطُوٓا اِلَيْـهِـمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ

(الممتحنۃ: 8)

اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اسی طرح  ان کے مالی حقوق کا خیال رکھا جائے گا ۔

اسی طرح یہ بھی ان کا حق ہے کہ ان کو اسلام کی دعوت دی جائے  گی ،اور گاہے بگاہے انہیں ترغیب  دلائی جاتی رہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی سے واضح ہے:

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْـهُـمْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ ۚ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِـهٖ ۖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ

(النحل : 125  )

اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا، اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر، بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے، اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے۔

اسی طرح ان کے ساتھ کیے ہوئے وعدے پورے کئے جائیں گے ، ذمی کے ساتھ ذیادتی  کرنا ، ان کی عزت  یا مال کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا  حرام ہے جائز نہیں ہے ، جب تک وہ عہد نہ توڑیں یا دھوکہ دہی  یا خیانت کا ارتکاب نہ کریں  ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

( فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَـهُـمْ ۚ)

(سورۃ التوبۃ:7)

اگر وہ قائم رہیں تو تم بھی قائم رہو۔

اگر تم ان کی طرف سے خیانت سے ڈرو  ، تو ان سے عہد توڑ دو  ، اور ان  کو بتلا دو کہ اب تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی عہد نہیں ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

 وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْـهِـمْ عَلٰى سَوَآءٍ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَآئِنِيْنَ

(سورۃ الانفال: 58)

اور اگر تمہیں کسی قوم سے دغا بازی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو اس طرح کہ تم اور وہ برابر ہو جاؤ، بے شک اللہ دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا۔

تو اس ساری تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا اور انہیں اپنا دلی دوست بنانا حرام ہے سوائے چند صورتوں کے،جن کا ذکر تفصیلاً گزر چکا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین




مسلم-کون؟

مسلم کون ہے؟

بسم اللہ الرحمان الرحیم

مسلم کون ہے؟

عن أنس، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ”

(أخرجه البخاري391)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص ہماری نماز پڑھے، ہمارے قبلہ (خانہ کعبہ ) کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائےتو یہ شخص ایسا مسلم ہے کہ اس کے لئے اللہ و رسول کا ذمہ (حفاظتِ جان و مال) ہے،پس اللہ کے ذمہ کو مت توڑو۔

فقہ الحدیث:

  1. اللہ اور رسول کے ذمہ کا مطلب ہے کہ وہ شخص اللہ و رسول کی امان ، عہد اور ضمانت ہے اس کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی ، اسے تمام وہی  حقوق میسر ہوں گے جو عام مسلمانوں کو حاصل ہیں ، یہ علیحدہ بات ہے کہ جب وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے گا جس کی سزا موت ہے تو اسے مسلمان حاکم و قاضی قتل کرا سکتا ہے ، اسی طرح اگر وہ نواقض اسلام کا ارتکاب کرے گا تو ثبوت و اقامتِ حجت کے بعد اس کے بنیادی حقوق ختم کر دئیے جائیں گے۔
  2. اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ دین اسلام میں اعمال کا اعتبار ظاہر پر ہے ، یعنی ظاہری طور پر ارکانِ اسلام ادا کرنے والا شخص ہی مسلم ہے لہذا اس پر اسلام کے ظاہری احکام نافذ ہوں گے ، رہا مسئلہ باطنی طور پر بھی مسلم و فرمان بردار ہونا تو یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
  3. ایمان کے ساتھ اعمال بھی ضروری ہیں جب کہ مرجئہ یہ باطل عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ اعمال ضروری نہیں ہیں ، اس حدیث سے ان مرجئہ پر بھی واضح رد ہوتا ہے۔
  4. اس حدیث اور دوسرے دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز اسی طرح پڑھنی چاہیے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم نے نماز پڑھی ہے۔
  5. اہلِ قبلہ پر اہلِ اسلام کے احکام جاری ہوں گےاِلّا یہ کہ وہ کفرِ صریح اور نواقضِ اسلام کا ارتکاب کریں، اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کے پیروکار ، قادیانی مرزائی و لاہوری سب اہل اسلام (اہلِ قبلہ) سے خارج ، کافر اور غیر مسلم ہیں ، اس طرح کتاب و سنت اور اجماع سے جن لوگوں کا کافر و غیر مسلم ہونا ثابت ہے وہ بھی اہلِ قبلہ اور اہلِ اسلام سے خارج ہیں۔حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ



شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے؟

شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے۔

بسم اللہ الرحمان الرحیم

شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے؟

زمین پر احکام  اسلام کا اجراء اور  شریعت کا نفاذ اسلامی قوت و شوکت کا متقاضی ہے . اسی قوت و شوکت کےحصول کے لیے اسلام میں حاکم کا تقرر فرض کیا گیا ہے. مسلمان حاکم کی قوت کے بل پر زمین  پر دین قائم ہوتا ہے  اور دین کے معاملے میں کوتاہی اور جرم کرنے والوں کو اسی قوت سے روکا جاتا ہے. جرائم کی خاص تعداد،جو اللہ تعالی کی  طرف سے مقرر ہو چکی ہیں.انہیں شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں حدود کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ زنا کی حد، شراب پینے کی حد، چوری کی حد ، قتل  کی حد ۔ ان مخصوص حدود کے قیام کو فقہائے اسلام  نے  صرف حاکم کے ساتھ خاص کیا ہے۔ چنانچہ امام کاسانی رحمہ اللہ  بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں”

“واما شرائط جواز اقامتھا فمنھا ما یعم الحدود کلھا ، ومنھا ما یخص البعض دون البعض ، اما الذی یعم الحدود کلھا فھوالامامۃ وھو ان یکون  المقیم للحد ھو الامام  او من ولاۃ الامام”

(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع)

نفاذ حدود کی شرائط میں سے کچھ شرائط سب حدود پر منطبق ہوتی ہیں اور بعض شرائط کسی حد کے ساتھ خاص ہوتی ہیں، تو جو شرط سب حدوں پر منطبق ہوتی ہے، ان میں سے ایک شرط حاکم وقت کا ہونا ہے، یعنی ان حدود کو قائم کرنے والا یا تو خود حاکم ہو گا یا وہ شخص جسے حاکم نے بطور جلاد مقررکیا ہے.

اسی طرح حدود کے علاوہ  قصاص و دیت اور قتل و ارتداد کے مسئلے میں بھی فقہائے اسلام نے سزا کے اجراء کو حاکم کے ساتھ خاص کیا ہے.

جبکہ مرتد ، اور زندیق کے قتل کے معاملہ میں اس بات کی واضح صراحت موجود ہے  کہ اس کا اجراء حاکم اور اس کے نائب کا کام ہے ، اگر کوئی عام مسلمان ایسا کر دے تو اس پر قصاص اور دیت تو نہیں لیکن “افتیات علی الامام” یعنی قانون ہاتھ میں  لینے کے سبب  اسے حاکم  کچھ تعزیری سزا دے سکتا ہے۔

امام خرشی رحمہ اللہ نے “مختصر خلیل”  کی شرح میں لکھا ہے :

“المرتد اذاقتلہ مسلم بغیر اذن الامام فانہ لا یقتل بہ ولکن یودب”

(شرح الخرشی علی مختصر خلیل ، ج 8،ص4)

جب کسی مرتد کو کوئی عام مسلمان حاکم کی اجازت کے بغیر قتل کر دے تو اسے بدلے میں قتل تو نہیں کیا جائے گا لیکن  اسے قانون ہاتھ میں لینے کی وجہ سے اسے کچھ نہ کچھ سزا دی جائے گی.               

مختصر خلیل” کی شرح “مواہب الجلیل“میں لکھا ہے :

وقال القاضی عبدالوھاب  فی شرح الرسالۃ  وعرض التوبۃ واجب علی الظاہرمن المذہب الا انہ ان قتلہ قاتل قبل استتابتہ فبئس ما صنع ولا یکون فیہ قود ولا دیۃ انتھی.

(مواھب الجلیل لشرح مختصر خلیل ، ج 8 ص373 ،دار عالم الکتب )

قاضی عبدالوھاب رحمہ اللہ رسالہ کی شرح میں فرماتے ہیں:اس سے یہی معلوم ہو رہا ہےکہ مرتد شخص پر توبہ پیش کی جائے گی،لیکن اگر کسی نے اسے توبہ کرنے سے پہلے ہی اس کو قتل کر دیا تواس نے بہت برا فعل سر انجام دیا، لیکن  اس پر کوئی  قصاص اور دیت نہیں ہو گی، ہاں حاکم اسے تعزیراً سزا دے گا۔

علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ  ”منہاج الطالبین “ کی شرح ”مغنی المحتاج “ میں لکھتے ہیں :

ویقتلہ الامام او نائبہ لانہ قتل مستحق للہ تعالی فکان للامام ولمن اذن لہ،

(مغنی المحتاج الی معرفۃ  معانی الفاظ المشھاج ،ج4 ، ص 181)

مرتد کو حاکم وقت یا اس کا نائب (جلاد) قتل کرے گا. کیونکہ مارنا اللہ تعالیٰ کا حق ہےاوراللہ نے اس حق کوحاکم وقت اور جس شخص کو حاکم اجازت دے، اس کے سپرد کیا ہے، 

امام ابن  قدامہ رحمہ اللہ  ”المغنی “ میں لکھتے ہیں :

فان قتلہ غیر الامام ، اساء، ولا ضمان علیہ ، لانہ محل غیرمعصوم وعلی من  فعل ذلک  التعزیر ، لاءساتہ  وافتیاتہ .

(المغنی علی مختصر  الخرقی، ج 8 ص 90)

اگر مرتد کو حاکم کے علاوہ کوئی اور قتل کردے تو اس نے غلطی کی ہے  ، پر اس پر کوئی تاوان وغیرہ نہیں کیونکہ جس کو قتل کیا گیا ہے وہ مجرم تھا، ہاں قاتل کو تعزیری سزا ضرور دی جائے گی ، کیونکہ اس کے اپنے فیصلے اور فعل میں غلطی کی ہے۔

نوٹ:

آپ نے مندرجہ بالا مضمون میں اس بات کو دلائل کی روشنی میں پرکھ لیا ہو گا کہ مرتداور زندیق کو قتل کیا جائے گا اور یہ کام صرف اور صرف حاکم وقت اور ریاست کا حق ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص  اس حد کو خود سے ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرے کا امن خراب ہو گا اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور اسلام کسی صورت میں معاشرے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی لئے حاکم اس مرتد کے قاتل کو تعزیری سزا بھی دے گا۔

اوران دلائل سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو خوارج کسی بھی مسلم پر مرتد ہونے کا فتوی لگا کر مسلم عوام کو قتل کرتے رہتے ہیں۔ تو ان کا یہ فعل سراسر جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ مرتد کو قتل کرنا صرف اور صرف ریاست اور حاکم کا کام ہے۔ 
اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارا خاتمہ بالایمان فرمائے اور کل روز قیامت ہمیں ان خوش نصیبوں میں سے فرمائیں جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

آمین یا ارحم الراحمین




مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان کا نفاذ ، جید علماء امت کی نظر میں

وضعی قوانین

خالصتاً وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان  کا نفاذ،علماء امت کی نظر 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

اہل سنت کا موقف ہے یہ ہے کہ مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا اس کا نفاذ خارج عن الملة نہیں ہے الا یہ کہ اس کے ساتھ استحلال قلبی یا انکار بھی ہو۔جبکہ خوارج اس قانون سے بالکل بے بہرہ اور بے پرواہ نظر آتے ہیں ۔ آئے دور حاضر کے جید علماء کے دلائل سے بات کو سمجھتے ہیں ؛ 

◀️ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”وخلاصة الکلام : لا بد من معرفة أن الکفر کالفسق والظلم ینقسم الی قسمین : کفر وفسق وظلم یخرج من الملة وکل ذلک یعود الی الاستحلال القلبی وآخر لا یخرج من الملة یعود الی الاستحلال العملی.”

        ”ہماری اس طویل بحث کا خلاصہ کلام کچھ یوں ہے کہ یہ جان لینا چاہیے کہ کفر بھی ظلم اور فسق کی مانند دو طرح کا ہے۔ ایک کفر’ ظلم اور فسق و فجور تو وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے نکل جانے کا باعث بنتا ہے اور یہ وہ قسم ہے جس میں کوئی شخص اسے  دل سے حلال سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے اور دوسرا کفر’ ظلم یا فسق وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا اور یہ وہ قسم ہے جس کا مرتکب عملی طور پر اس کفر’ ظلم یا فسق والے عمل کو حلال سمجھ رہا ہو یعنیدلی طور پر وہ اسے حرام اور گناہ ہی سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ٩’ ١٠)

◀️ سعودی عرب کے سابقہ مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد اطلعت علی الجواب المفید الذی تفضل بہ صاحب الفضیلة الشیخ محمد ناصر الدین الألبانی وفقہ اللہ المنشور فی صحیفة المسلمون الذی أجاب بہ فضیلتہ من سألہ عن ” تکفیر من حکم بغیر ما أنزل اللہ من غیر تفصیل” …

وقد أوضح أن الکفر کفران : أکبر وأصغر کما أن الظلم ظلمان وھکذا الفسق فسقان : أکبر وأصغر.

فمن استحل الحکم بغیر ما أنزل اللہ أو الزنی أو الربا أو غیرھما من المحرمات المجمع علی تحریمھا فقد کفر کفرا أکبر وظلم ظلما أکبر وفسق فسقا أکبر : ومن فعلھا بدون استحلال کان کفرہ کفرا أصغر وظلمہ ظلما أصغر.”

”میں تکفیر کے مسئلے میں اس جواب سے مطلع ہوا جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے اور وہ ‘المسلمون’ نامی اخبار میں نشر ہوا ہے ۔ اپنے اس فتوی میں انہوں نے’ بغیر کسی تفصیل کے اس شخص کی تکفیر کہ جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کیا ہو’ کے بارے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے …

شیخ ألبانی نے یہ واضح کیا ہے کہ کفر دو قسم کا ہے : ایک کفر اکبر اور دوسرا کفر اصغر جیسا کہ ظلم اور فسق و فجور بھی دو قسم کا ہے۔ ایک ظلم اکبر اور دوسرا ظلم اصغر ‘ اسی طرح ایک فسق اکبر اوردوسرا فسق اصغر۔

جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلہ کرنے کو جائز اور حلال سمجھا یا زنا یا سود یاان کے علاوہ مجمع علیہ حرام شدہ امور میں سے کسی امر کو حلال سمجھا تو اس کا کفر تو کفر اکبر ہے یا اس کا ظلم تو ظلم اکبر اور اس کا فسق تو فسق اکبر ہے۔ اور جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کو حلال جانے بغیر اس کے خلاف فیصلہ دیا تو اس کا کفر تو کفر اصغر ہے اور اس کا ظلم بھی ظلم اصغر ہے۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٣ ‘ ١٤) 

بعض لوگوں کو شیخ بن باز رحمہ اللہ کے ایک فتوی سے یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ وہ وضعی قوانین کے مطابق فیصلوں کو مطلق طور پر کفر سمجھتے تھے حالانکہ شیخ کا یہ فتوی بھی ان کے مذکورہ بالا فتاوی ہی کا ایک بیان ہے۔

◀️ شیخ بن باز رحمہ اللہ نے ایک جگہ فرمایا ہے:

” وکل دولة لا تحکم بشرع اللہ ولا تنصاع لحکم اللہ ولا ترضاہ فھی دولة جاھلیة کافرة ظالمة فاسقة بنص ھذة الآیات المحکمات”

” ہر ریاست جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم پرراضی نہ ہو تو وہ مذکورہ بالا محکم آیات کی روشنی میں جاہل ‘ کافر ‘ ظالم اور فاسق ریاست ہے ۔”

(المفصل فی شرح آیت الولاء والبراء : ص ٢٨٨) 

اس فتوی میں ‘ترضاہ‘ کے الفاظ اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ شیخ بن باز رحمہ اللہ اس مسلمان ریاست کی تکفیر کرتے ہیں جو غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے کو جائز اور حلال سمجھتی ہو اور یہی بات جمہور سلفی علماء بھی کہتے ہیں۔

شیخ بن باز رحمہ اللہ کے جلیل القدر تلامذہ نے بھی ان کی طرف اسی موقف کی نسبت کی ہے جسے ہم ان کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں ۔

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد ذھب بعض أھل العلم الی أن مجرد تحکیم قانون أو نظام عام مخالف لشرع اللہ تعالی کفر مخرج من الملة ولو لم یصحبہ اعتقاد أن ھذا القانون أفضل من شرع اللہ أو مثلہ أویجوز الحکم بہ …وقد رجح شیخای الشیخ عبد العزیز بن باز والشیخ ابن عثیمین رحمھما اللہ القول الأول؛

وھو أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ لا یکون کفرا مخرجا من الملة مطلقا حتی یصحبہ اعتقاد جواز الحکم بہ أو أنہ أفضل من حکم اللہ أو مثلہ أو أی مکفر آخر.”

” بعض اہل علم کا دوسراقول یہ ہے کہ مجرد کسی خلاف شرع وضعی قانون یا نظام عام سے فیصلہ کرنا ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے اگرچہ اس شخص کا یہ اعتقاد نہ بھی ہو کہ وضعی قانون اللہ کی شریعت سے افضل یا اس کے برابر ہے یا اس سے فیصلہ کرنا جائز ہے … ہمارے دونوں مشائخ کرام ‘ شیخ بن باز اور شیخ بن عثیمین رحمہما اللہ نے اس مسئلے میں پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ 

اور وہ یہ ہے کہ ؛ مطلق طور پر اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنا ایسا کفر نہیں ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہو حتی  کہ وہ فیصلہ کرنے والا شخص غیر اللہ کی شریعت کے  مطابق فیصلہ کرنے  کو جائز سمجھتا ہو یا شریعت سے افضل یا اسے بہتر سمجھتا ہو یا اس قسم کا کوئی کفریہ سبب پایا جاتا ہو۔”

(تسھیل العقیدة السلامیة : ص ٢٤٢۔٢٤٣)

◀️ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”والذی فھم من کلام الشیخین : أن الکفر لمن استحل ذلک وأما من حکم بہ علی أنہ معصیة مخالفة : فھذا لیس بکافر لأنہ لم یستحلہ لکن قد یکون خوفا أو عجزا أو ما أشبہ ذلک.”

”شیخین یعنی شیخ بن باز اور علامہ ألبانی کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے حاکم کا حقیقی کفر اس صورت میں واقع ہوگا جب وہ اپنے اس فعل کو بالکل جائز سمجھتا ہو جبکہ جو حاکم غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے اور اس کو معصیت یا دین کی مخالفت سمجھے تو وہ حقیقی کافر نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے اس فعل کو حلال نہیں سمجھا۔ بعض اوقات کوئی حاکم خوف یا عجز یا اس قسم کی وجوہات کی وجہ سے بھی شریعت کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے، (لہذا اس صورت میں بھی اس پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جائے گا)۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٦)

◀️ اسی طرح ایک اور مقام پر ایک سوال کے جواب میں شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سؤال: اذا ألزم الحاکم الناس بشریعة مخالفة للکتاب والسنة مع اعترافہ بأن الحق ما فی الکتاب والسنة لکنہ یری الزام الناس بھذا الشریعة شھوة أو لاعتبارات أخری ‘ ھل یکون بفعلہ ھذا کافر أم لابد أن ینظر فی اعتقادہ فی ھذہ المسألة ؟

فأجاب: أما فی ما یتعلق بالحکم بغیر ما أنزل اللہ فھو کما فی کتابہ العزیز ینقسم الی ثلاثہ أقسام : کفر وظلم وفسق علی حسب الأسباب التی بنی علیھا ھذا الحکم’

فھذا الرجل یحکم بغیر ما أنزل اللہ تبعا لھواہ مع علمہ بأن الحق فیما قضی اللہ بہ’ فھذا لا یکفر لکنہ بین فاسق وظالم.

وأما ذا کان یشرع حکما عاما تمشی علیہ الأمة یری أن ذلک من المصلحة وقد لبس علیہ فیہ فلا یکفر أیضا’ لأن کثیر من الحکام عندھم جھل بعلم الشریعة ویتصل بمن لا یعرف الحکم الشرعی وھم یرونہ عالما کبیرا فیحصل بذلک مخالفة

واذا کان یعلم الشرع ولکنہ حکم بھذا أو شرع ھذا وجعلہ دستورا یمشی الناس علیہ نعتقد أنہ ظالم فی ذلک وللحق الذی جاء فی الکتاب والسنة أننا لا نستطیع أن نکفر ھذا

وانما نکفر من یری أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ أولی أن یکون الناس علیہ أو مثل حکم اللہ عزوجل فان ھذا کافر لأنہ یکذب بقولہ تعالی ألیس اللہ بأحکم الحاکمین وقولہ تعالی أفحکم الجاھلیة یبغون ومن أحسن من اللہ حکما لقوم یوقنون.”

سوال: اگر کوئی حاکم کتاب و سنت کے مخالف کسی قانون کو نافذ کرتاہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ حق وہی ہے جو قرآن وسنت میں ہے اور اس قرآن وسنت کے مخالف قانون کو اپنی خواہش نفس یا کئی اور وجوہات کی بناء پر نافذ کرتا ہے تو کیا اپنے اس فعل سے وہ کافر ہو جائے گا یا یہ لازم ہے کہ اس مسئلے میں اس پر کفر کا فتوی لگانے کے لیے اس کا عقیدہ دیکھا جانا چاہیے؟

جواب: اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنے کی قرآن میں تین قسمیں یعنی کفر’ ظلم اور فسق و فجور بیان کی گئی ہیں اور ان قسموں کا اطلاق اس حکم کے اسباب کے اعتبار سے بدلتا جاتا ہے۔

پس اگر کسی شخص نے اپنی خواہش نفس کے تحت ما أنزل اللہ کے علاوہ سے فیصلہ کیا جبکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کا فیصلہ حق ہے تو ایسے شخص کی تکفیر نہ ہوگی اور یہ ظالم اور فاسق کے مابین کسی رتبے پر ہو گا۔

اور اگر کوئی حکمران اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مخالف کو تشریع عام یعنی عمومی قانون کے طور پر نافذ کرتا ہے تاکہ امت مسلمہ اس پر عمل کرے اور ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے (حالات کے مطابق) اس میں کوئی مصلحت دکھائی دیتی ہے حالانکہ اصل حقیقت اس سے پوشیدہ ہوتی ہے (یعنی اس میں کچھ جہالت پائی جاتی ہے ) تو ایسے حکمران کی بھی تکفیر نہ ہوگی کیونکہ اکثر حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شرعی احکام سے ناواقف ہوتے ہیں اور انہیں ایسے جاھل مشیروں کا قرب حاصل ہوتا ہے جنہیں وہ بہت بڑا عالم سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ پس اس طرح وہ شریعت کی مخالفت کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی حکمران شریعت کو جاننے اور علم ہونے کے باوجود کسی وضعی قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا یا اسے بطور قانون اور دستور نافذ کر دیا تاکہ لوگ اس پر عمل کریں تو ایسے حکمران کے بارے بھی ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ وہ اس مسئلے میں ظالم ہے اور وہ حق بات ہے جو قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہے کہ کہ ہم اس حکمران کی بھی تکفیر نہیں کر سکتے۔

ہم تو صرف اسی حکمران کی تکفیر کریں گے جو ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق اس عقیدے کے ساتھ فیصلہ کرے کہ لوگوں کاما أنزل اللہ کے علاوہ پر چلنا اللہ کے حکم پر چلنے سے بہتر ہے یا وہ اللہ کے حکم کے برابر ہے ۔ ایسا حکمران بلاشبہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے قول ‘ کیا اللہ تعالی سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ‘ اور ‘ کیا وہ جاہلیت کے فیصلے سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے ‘ ایسی قوم کے لیے جو کہ یقین رکھتے ہیں’ کا انکار کرتا ہے۔”

(تحکیم قوانین کے متعلق اقوال سلف: ص ٣١۔٣٢)

◀️ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پڑپوتے شیخ عبد اللطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ رحمہما اللہ فرماتے ہیں:

” وانما یحرم اذا کان المستند الی الشریعة باطلة تخالف الکتاب والسنة کأحکام الیونان والفرنج والتتر وقوانینھم التی مصدرھا آراؤھم وأھواؤھم وکذلک البادیة وعاداتھم الجاریة. فمن استحل الحکم بھذا فی الدماء أو غیرھا فھو کافر قال تعالی : ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فأولئک ھم الکفرون.

وھذہ الآیة ذکر فیھا بعض المفسرین : أن الکفر المراد ھنا: کفر دون الکفر الأکبر لأنھم فھموا أنھا تتناول من حکم بغیر ما أنزل اللہ وھو غیر مستحل لذک لکنھم لا ینازعون فی عمومھا للمستحل وأن کفرہ مخرج عن الملة.”

” اگر کتاب و سنت کے مخالف باطل احکامات مثلا ً یونانی’ انگریزی اور تاتاری قوانین کہ جن کا منبع و سر چشمہ اہل باطل کی خواہشات اور آراء ہوتی ہیں’ کو شرعی مرجع بنا لیا جائے تو یہ صرف ایک حرام کام ہے۔ اسی طرح کا معاملہ قبائلی جرگوںاور ان کے رسوم و رواج کے مطابق فیصلوںکا بھی ہےیعنی وہ بھی ایک حرام فعل ہے۔ پس جس نے ان باطل قوانین کے مطابق قتل و غارت اور دیگر مسائل میں فیصلہ کرنے کو حلال سمجھا تو ایسا شخص کافر ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: جو شخص اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ کافر ہے ۔

بعض مفسرین نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں کفر سے مراد کفر اکبر سے چھوٹا کفر یعنی “کفر اصغر” ہے کیونکہ ان مفسرین کے فہم کے مطابق اس آیت میں ما أنزل اللہ کے علاوہ کے مطابق فیصلہ کرنے سے مراد اس فیصلہ کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کرنا ہے لیکن اہل علم کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جو حکمران اس فیصلہ کو حلال سمجھتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔”

(منھاج التأسیس والتقدیس فی کشف شبھات داؤد بن جرجیس: ص٧٠’ دار الھدایة)

◀️ مفسر قرآن شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” فالحکم بغیر ما أنزل اللہ من أعمال أھل الکفر وقد یکون کفر ینقل عن الملة وذلک اذا اعتقد حلہ وجوازہ

وقد یکون کبیرة من کبائر الذنوب ومن أعمال الکفر قد استحق من فعلہ العذاب الشدید…فھو ظلم أکبر عند استحلالہ وعظیمة کبیرة عند فعلہ غیر مستحل لہ.”

”ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرناکفریہ فعل ہے اور بعض صورتوں میں یہ دائرہ اسلام سے اخراج کا باعث بھی بنتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص اپنے اس فعل کو حلال اور جائز سمجھتا ہو۔

اور بعض اوقات یہ فعل ایک کبیرہ گناہ اور کفریہ فعل ہوتا ہے جس کا فاعل شدید عذاب کا مستحق ہے…پس اگر اس شخص نے اپنے اس فعل کو حلال سمجھا تو یہ کفر اکبر ہے اور اگر اس فعل کو حلال نہ سمجھا تو اس وقت یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔”

(تفسیر سعدی: المائدة : ٤٥)

◀️ شیخ عبد المحسن العباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سوال: ”ھل استبدال الشریعة الاسلامیة بالقوانین الوضعیة کفر فی ذاتہ؟ أم یحتاج الی الاستحلال القلبی والاعتقاد بجواز ذلک؟ وھل ھناک فرق فی الحکم مرة بغیرما أنزل اللہ وجعل القوانین تشریعا عاما مع اعتقاد عدم جواز ذلک؟

الجواب: یبدو أنہ لا فرق بین الحکم فی مسألة أو عشرة أو مئة أو أقل أو أکثر فما دام الانسان یعتبر نفسہ أنہ مخطیء وأنہ فعل أمرا منکرا وأنہ فعل معصیة وأنہ خائف من الذنب فھذا کفر دونکفر وأما مع الاستحلال ولو کان فی مسألة واحدة وھو یستحل فیھا الحکم بغیر ما أنزل اللہ ویعتبرذلک حلالا فنہ یکون کفرا أکبر.” 

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

سوال: کیا شریعت اسلامیہ کی جگہ وضعی قوانین کا نفاذ بنفسہ کفر ہے؟ یا اس کے کفر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دلی طور پر اس فعل کو حلال سمجھتا اور اس کے جواز کا عقیدہ رکھتا ہو؟ کیا ایک مرتبہ ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے اور وضعی قوانین کو مستقل و عمومی قانون بنا لینے میں کوئی فرق ہے جبکہ قانون ساز اس قانون سازی کے جائز نہ ہونے کا بھی عقیدہ رکھتا ہو؟

جواب : یہ بات ظاہر ہے کہ کسی ایک مقدمہ یا دس یا سو یا اس سے زائد یا کم میں فیصلہ کرنے سےشرعی حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک انسان یہ سمجھتا ہو کہ وہ خطار کار ہے اور اس نے ایک برا اور نافرمانی کا کام کیا ہے اور اسے اپنے گناہ کا خوف بھی لاحق ہوتو یہ کفر اصغر ہے اور اگر وہ اپنے اس فعل کو حلال سمجھتا ہو’ چاہے ایک مقدمہ میں ہی کیوں نہ ہو اور وہ اس مقدمہ میں ماأنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کو حلال سمجھتا ہو تو یہ کفر اکبر ہو گا۔”

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”أن یضع تشریعا أو قانونا مخالفا لما جاء فی کتاب اللہ و سنة رسولہ و یحکم بہ معتقدا جواز الحکم بھذا القانون أو معتقدا أن ھذا القانون خیر من حکم اللہ أومثلہ فھذا شرک مخرج من الملة.”

” یہ کہ حکمران کوئی ایسی قانون سازی کرے جو کتاب اللہ اور سنت رسول کے مخالف ہو اور وہ اس قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو عقیدے کے اعتبار سے جائز سمجھتا ہو یا اس قانون کو اپنے عقیدے میں اللہ کے حکم سے بہتر خیال کرتا ہو یا اس کے برابر سمجھتا ہو تو یہ ایسا شرک ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے۔”

(تسھیل العقیدة الاسلامیة: ص ٢٤٢)

پس معاصر سلفی علماء کے نزدیک غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے حکمرانوں کا کفر دو قسم کا ہے:  کفر حقیقی اور کفر عملی’

اگر تو حکمران غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے اس کو حلال’ شریعت اسلامیہ سے بہتر’ اس کے برابر اور جائز سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں تو یہ کفر اعتقادی ہے ورنہ کفر عملی۔

◀️ اب اگر اس موقف کے قائل محترم مبشر احمد ربانی صاحب گمراہی پر ہیں یا مرجئہ ہیں تو ان کے ہم فہم و ہم مسلک سلف صالحین جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ، وہ بھی گمراہ و مرجئہ ہیں؟

اس تقسیم کے قائلین:

عبد اللہ بن عباس

امام احمد بن حنبل

امام محمد بن نصر مروزی

امام ابن جریر طبری

امام ابن بطہ

امام ابن عبد البر

امام سمعانی

امام ابن جوزی

امام ابن العربی

امام قرطبی

امام ابن تیمیہ

امام ابن قیم

امام ابن کثیر

امام شاطبی

امام ابن أبی العز الحنفی

امام ابن حجر عسقلانی

شیخ عبد للطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ

شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی

علامہ صدیق حسن خان

علامہ محمد أمین شنقیطی رحمہم اللہ أجمعین

شیخ عبد المحسن العباد

پاکستان کے مفسر قران شیخ عبد السلام الرستمی رحمہ اللہ

شیخ حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی حفطہ اللہ جیسے جید علماء کرام بھی شامل ہیں

اب یا تو یہ سب گمراہ ہیں یا پھر اہل السنۃ والجماعۃ پر “تحکیم بغیر ما انزل اللہ” کے مسئلے میں گمراہی اور ارجاء کا الزام لگانے والے خود سے خارجیت کے دھبے کو چھپانے کی معصومانہ کوشش کرتے پھر رہے ہیں؟؟؟




آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

موجودہ زمانے کے مسلم ممالک میں مسلم حکمرانوں پر غلط طریقہ کار سے  تنقید اور ان کی برائیوں کو اچھالا جاتا ہے جس کی ایک حد تک شریعت سے ہمیں بالکل اجازت نہیں ملتی ۔ حکمران چاہے جیسے بھی ہوں کتنے ہی گناہ گار کیوں نہ ہوں جب تک وہ مسلمان ہیں ، اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، مسلمان انہیں اپنا حکمران سمجھتے ہیں تب تک ان کے ساتھ ایسے رویہ اختیار کرنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ 

اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اگر آپ فلاں (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ صحیح مسلم ح: 2989 میں ہے) کے پاس جا کر گفتگو کرتے !! تو آپ نے فرمایا : تمہارا خیال ہے کہ میں ان سے گفتگو کروں تو تمہیں سنا کر اعلانیہ کروں !! میں خفیہ طور پر ان سے گفتگو کروں گا ۔

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : اللہ کی قسم میں نے اپنے اور ان کے درمیان (خفیہ طور پر) ان سے گفتگو کی ہے ،  بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو جاؤں۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 7098،3267،اور مسلم 2989)

چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے  امیر باعظمت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکمت کا اسلوب اپنایا کیونکہ امیر و حاکم کی نصیحت میں اس کے مقام و مرتبہ کی رعایت ضروری ہے ،اس لئے کہ لوگوں کے ساتھ  ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق  معاملہ کرنا حکمت  کی اساس ہے ،اسی  لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے : حدیث (مذکور) میں  امراء کی تعظیم ملحوظ رکھنے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش آنے نیز لوگ ان کے سلسلہ میں جو کچھ کہتے ہیں اس کو ان تک پہنچانے کا بیان ہے (اس سے غیب و چغلی اور لگائی بجھائی کے طور پر لوگوں کی باتیں پہنچانا مقصود نہیں) تا کہ وہ باز رہیں اور نرمی اور حسن ادائیگی کے ساتھ ان سے ہوشیار رہیں،اس بات کے پیش نظر کہ کسی کی ایذا رسانی کے بغیر مقصود حاصل ہو جائے۔

(فتح الباری 13/53، نیز دیکھئے: شرح نووی 328)

 انکار منکر کی شرط یہ ہے کہ اس سے بڑا منکر لازم نہ آئے، کیونکہ انکار منکر کے جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے درج ذیل چار درجے ہیں:

🔵پہلا درجہ: منکر زائل ہو جائے اور اس کی جگہ اس کی ضد (معروف) آجائے۔

🔴دوسرا درجہ : منکر بالکلیہ زائل نہ ہو بلکہ کم ہو جائے۔

🔵تیسرا درجہ: منکر کی جگہ ویسا ہی دوسرا منکر آجائے۔

🔴چوتھا درجہ: منکر کی جگہ پہلے سے بڑا منکر آجائے۔

مذکورہ درجات میں سے ابتدائی دو درجے تو مشروع ہیں اور تیسرا محل اجتہاد ہے اور چوتھا درجہ حرام ہے۔(اعلام الموقعین عن رب العالمین 3/16)

امام نووی رحمہ اللہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے قول”بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو ں “ کے سلسے میں فرماتے ہیں:ان کا مقصد امراء کو ان کی رعایا کے درمیان علانیہ تنبیہ کرنا ہے جیسا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین  عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا،اس میں امراء کے ساتھ ادب، نرمی ، انہیں خفیہ نصیحت اور لوگ جو کچھ ان کے بارے میں کہتے ہیں اسے ان تک پہنچانے کا بیان ہے تا کہ وہ اس سے باز رہیں…۔

(شرح نوووی 18/329)

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ  رعایا کے سامنے اور ان کی موجودگی میں مسلمانوں کے ولی امر کو علانیہ طور پر تنبیہ کرنا عام طور پر بہت بڑے شر و فساد  کا سبب ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کا نتیجہ اختلاف و افتراق یا امام المسلمین کے خلاف بغاوت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، اور ولی امر کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بھلائی کا حکم دے اور انہیں برائی سے روکے،پھر اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اس سے خامی کا صدور ہو کیونکہ وہ بشر ہے، لیکن اس کی اصلاح خفیہ  طور پر  حکمت اور محمود رواداری کے ساتھ کی جائے، اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے اور انتہائی متانت اور سنجیدگی سے اسے نصیحت کی جائے،یہی طریقہ قبولیت کے لائق ہے۔

( فتح الباری 13/52 ، عمدۃ القاری 15/166)

سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: مسلمانوں کے آئمہ و امراء کے عیوب  و نقائص کی تشہیر اور انہیں منبروں پر بیان کرناسلف کا طریقہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ تباہی و بربادی اور سمع و اطاعت نہ کرنے نیز اس بغاوت کا سبب ہے، جو سراپہ نقصان دہ ہے البتہ سلف صالحین کے یہاں معمول بہ طریقہ یہ تھا  کہ نصیحت ان کے اور ولی امر کے مابین ہوتی تھی اور خط و کبابت ہوا کرتی تھی یا ان علماء سے ملاقات ہوا کرتی تھی جو امراء و حکام سے تعلق رکھتے ہوں ،تاکہ انہیں بھلائی کی نصیحت کی جائے ، اور انکار منکر (برائی پر تنبیہ)کا طریقہ کار یہ ہے کہ منکر کے مرتکب کا ذکر کئے بغیر  انکار کیا جائے ،چنانچہ زنا کاری ،شراب نوشی ، اور سود خوری وغیرہ پر مرتکب کا ذکر  کیے بغیر تنبیہ کی جائے،اسی طرح گناہوں پرنکیر اور اس سے اجتناب کی تلقین بھی فاعل کا ذکر کیے بغیر کافی ہے،فاعل کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں خواہ حاکم ہو یا محکوم…۔

(حقوق الراعی والرعیہ، کے اخیر میں طبع شدہ  سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ   کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں،ص 27،28)




حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران کی  خیر خواہی آخر کیسے ؟ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

حکومت ، سلطہ اور جاہ جلال ایسی چیز ہےکہ جہاں ہر کسی کا اپنی مرضی کرنے کو جی چاہتا ہے تبھی تو وہ کئی گناہوں کو بالکل معمولی سمجھتے ہوئے کر گزرتا ہے ، جہاں اسے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اتنے کروڑوں  عوام میں تحت ہیں ، میں جو بھی کرنا چاہوں وہ ہو گا ۔ تو ایسے میں اللہ کی یاد اس کا ڈر ، خوف اور بھی کم ہو جاتی ہے ، اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کی کوتاہیاں اور برائی اچھالنے کی بجائے انہیں نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئیے اسی کے پیش نظر کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے ؛ 

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((الدين النصيحة، قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم))

(مسند احمد404،403/3 ومستدرک حاکم: 290/3)

“دین خیرخواہی ہے۔ہم نے پوچھا: کس سے؟ آپ نے فرمایا: اللہ سے،اس کی کتاب سے،اس کے رسول سے،مسلمانوں کے اماموں سے اور عام مسلمانوں سے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

((نضَّر الله امرأً سَمِع مقالتي فوَعَاها وحَفِظها وبَلَّغها، فرُبَّ حامل فِقْه إلى مَن هو أفقه منه، ثلاث لا يغلُّ عليهنَّ قلبُ مسلم: إخلاصُ العمل لله، ومناصحة أئمة المسلمين، ولزوم جماعتهم؛ فإنَّ الدَّعْوة تُحيط من ورائهم))

(فتح الباری 72،71/13)

اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیوں کہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھاسکتا،(۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیوں کہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی بات کے سننے اور اس کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانے،یاد کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے والے کے حق میں خوشی،چہرے کی تروتازگی اور اس کے حسن و جمال کی دعا فرمائی ہے جو ایمان کے آثار اور باطن کے اس سے روشن ہونے نیز دل کے مسرت  و شادمانی سے ہمکنار اور لذت یاب ہونے کے سبب چہرے کو عطا ہوتی ہے،چنانچہ جو ان چاروں مراتب کو انجام دے گا وہ نبی ﷺ کی ظاہر و باطن کے حسن  و جمال پر مشتمل دعا سے فیضیاب ہو گا۔

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم 1/276.274،بتحقیق علی بن حسن بن عبدالحمید)

امام ابن قیم  رحمہ اللہ  مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

  • نبی ﷺ کا فرمان: اور مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی…..۔

یہ چیز بھی  خیانت اور دھوکہ دہی کے منافی ہے کیونکہ خیر خواہی اور خیانت دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،چنانچہ جو شخص آئمہ و امراء اور امامت(رعایا) کی خیر خواہی کرے گا وہ خیانت سے بری ہو گا۔ 

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم: 1 /275 تا 278)

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

مسلمانوں کے امام وامراۃ کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں ان کی درستی, نیکی اور عدل و انصاف سے محبت کرنا نیز ان کے ہاتھوں پر امت کے اتفاق سے محبت اور ان پر امت کے اختلاف و افتراق کو ناپسند کرنا،اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کو نیکی سمجھنا ان کے خلاف بغاوت کے جواز کا عقیدہ رکھنے والے سے بغض رکھنا اور اللہ کی اطاعت میں ان کے غلبہ و سربلندی کو پسند کرنا۔

(جامع العلوم والحکم: 1/222)

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں حق پر ان کی مدد کرنا،اطاعت کرنا،انہیں حق کی نصیحت کرنا،نرمی و ملائمت سے انہیں تنبیہ کرنا،ان سے اختلاف کرنے اور لڑنے جھگڑنے سے احتراز کرنا اور ان کے لئے توفیق کی دعا کرنا نیز غیروں کو اس پر ابھارنا۔

(مرجع سابق 1/223 نیز مسلمانوں کے امراء کی اطاعت کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ ابن تیمیہ 28/391،390،ومنہاج السنۃ النبویہ 3/390)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں کے امراء کی اطاعت اور انکی خیر خواہی کا حکم دیا ہے وہ انسان پر بعینہ اسی طرح واجب ہےجس طرح پانچ وقت کی نمازیں ،زکاۃ، روزہ ،حج بیت اللہ اور ان کے علاوہ دیگر وہ  اعمال واجب ہیں جن  کی بجا آوری کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ اس نے اس کا معاہدہ نہ کیا ہو اور اس کے لیے پختہ خلاص نہ اٹھائی ہو، اور اگر وہ اس پر قسم کھالے تو یہ چیز امراء  کی اطاعت اور ان کی خیرخواہی کے سلسلہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مزید تاکید وتثبیت ہوگی،  چنانچہ ان کی باتوں کی قسم کھانے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قسم شدہ امر  کی خلاف ورزی کرے…. کیوں کہ اللہ عزوجل نے حکمرانوں اورامراءکی اطاعت اور خیرخواہی کو واجب قرار دیا ہے، وہ یوں بھی  واجب ہے  خواہ وہ  قسم نہ بھی کھائے ،تو اب جبکہ اس نے  قسم کھالی ہے ان کی اطاعت اس پر بدرجہ اولیٰ واجب ہوگی ،اسی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےجوان کی  نافرمانی اور خیانت سے منع فرمایا ہے وہ اس پر حرام ہیں خوا ہ  اس نے قسم نہ بھی کھائی ہو ۔

(فتاوی ابن تیمیہ 35/10،9)

اور آئمہ و امراء کو نصیحت ان کے اور ناصح کے مابین نرمی و ملائمت ،  حکمت  و دوراندیشی ،  عمدہ نصیحت اور مناسب اسلوب میں خفیہ طور پر ہوگی۔ 

شیخ علامہ عبدالرحمان بن ناصر سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رہا مسلمانوں کے آئمہ کی خیر خواہی کا مسئلہ:تو مسلمانوں کے آئمہ سے مراد سلطان اعظم سے لیکر امیر و قاضی تک ان کے امراء اور ذمہ داران ہیں،چونکہ ان لوگوں کے فرائض اور ذمہ داریاں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر ہیں،اس لئے ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے انہیں نصیحت کرنا واجب ہے،اس بات کے پیشِ نظر ان کی امامت کا اعتقاد رکھا جائے،ان کی ولایت ( حکمرانی) کا اعتراف کیا جائے،معروف میں ان کی اطاعت کی جائے،ان کے خلاف بغاوت نہ کی جائے،رعایا کو ان کی اطاعت اور ان کے حکم کی تعمیل پر ابھارا جائے،بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو،اپنی استطاعت بھر انہیں نصیحت اور اپنی رعایا کی دیکھ بھال  کے سلسلے میں جو چیزیں ان سے مخفی ہوں ان کی وضاحت کی جائے ـہر شخص اپنے اعتبار سےـ ان کی اصلاح و درستی اور تو فیق کیلئے  دعا کی جائے کیونکہ ان کی بہتری میں رعایا کی بہتری ہے ،انہیں برا بھلا کہنے،ان کی عیب جوئی  اور انکی خامیوں اور برائیوں کو  عام کرنے سے باز رہا جائے،کیونکہ اس میں برائی ،نقصان اور بہت بڑا فساد ہے،چنانچہ ان کی خیر خواہی کا تقاضہ  یہ ہے کہ ان چیزوں سے بچا جائے اور دوسروں کو تنبیہ کی جائے،اور جو شخص ان کی جانب سے کوئی نا جائز چیز دیکھے اسے چاہیے کہ انہیں علانیہ  نہیں بلکہ خفیہ طور پر نرمی اور ایسے اسلوب میں تنبیہ کرے  جو برمحل ہو  اور مقصود حاصل ہو جائے،کیونکہ ہر شخص بالخصوص  امراء اور حکام کے حق میں  یہی چیز مطلوب ہے،کیونکہ انہیں اس طرح تنبیہ کرنے میں بڑی خیر ہے، اور یہ سچائی اور اخلاص کی علامت ہے ،اور اس (مذکورہ طریقہ پر) نصیحت کرنے والے!دیکھنا لوگوں کی مدح سرائی آپ کی نصیحت  کو ضائع و برباد  نہ کردے،اس لئے کہ آپ لوگوں کو کہتے پھریں کہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے اور ایسا ایسا کہا ہے،کیونکہ یہ ریا کاری اور ضعف اخلاص کی علامت ہے،اور اس کے دیگر نقصانات بھی ہیں جو معروف ہیں۔

(الریاض الناضرۃ والحدائق النیرۃ الزاہرہ،ص38تا 49)




موجودہ حکام اور انکے باطل نظام / ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ

photo727360090787655056
موجودہ حکام اور انکے باطل نظام 
 ایک خارجی کی عجیب وغریب بوکھلاہٹ

الشیخ ابو حذیفہ انصاری حفظہ اللہ 

۔

کچھ عرصہ قبل ایک خارجی فکر کے حامل شخص سے واسطہ پڑ گیا۔ میں اسے کافی پرانا جانتا تھا اور اکثر اوقات ہماری حکام، قتال، خروج جیسے موضوعات پر تفصیلی ابحاث بھی ہو چکی تھیں۔ اور ہر مرتبہ وہ مجھے آئندہ دلائل دکھانے کا کہہ کر مجلس کو سمیٹ دیتا۔ اس کے اس رویے پر میں بھی خوش تھا کہ بال ہر مرتبہ اسی کے کورٹ میں رہ جاتا ہے۔

لیکن اس مرتبہ جب واسطہ پڑا تو وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔
مجھے دیکھتے ہی کہتا : کہ جناب ، آج میں آپ کی سب سے بڑی مصروفیت ہوں، میں نے مسکرا کر ٹھیک ہے جناب۔

پھر اس نے بلا تاخیر و تمہید بحث کا انداز اختیار کر لیا۔ وہ مجھے کہنے لگا کہ جناب آپ کہتے ہیں کہ صحیح مسلم کی کتاب الامارۃ اور دیگر کتب احادیث میں امت مسلمہ کو، جن قسم کے حکام کے حوالے سے رہنمائی کی گئی ہے اور جس دور کی طرف اشارہ کر کے رہنمائی کی گئی ، ہمیں ان سے ڈیلنگ کرتے ہوئے ، انہیں احادیث مبارکہ سے رہنمائی لینی چاہیئے۔

میں نے کہا : جی بالکل درست، متبع قرآن و سنت کو ایسا ہی زیب دیتا ہے۔

وہ خارجی فکر کا حامل شخص طنزاً مسکرا کر بولا : ارے جناب ، وہ تمام احادیث شرعی حاکم کے بارے میں ہیں!
یعنی کے خلیفہ المسلمین نہ کہ موجودہ بادشاہ و جمہوری (غیر شرعی) حکام کے بارے۔۔۔

وہ اپنے اس فہم پر بڑا خوش تھا اور میری طرف ایسی نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ جیسے میں ابھی اسکے موقف کے حق ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ، اسکا شکریہ ادا کروں گا کہ ، ہاں واقعی میں نے تو کبھی اس جانب سوچا ہی نہیں !

لیکن سبحان اللہ ، بے شک حق اللہ تعالی کے پاس ہے۔

میں نے اسے کہا : کہ برائے کرم مجھے شرعی حاکم کی تعریف زرا کھل کر سمجھا دیں؟

وہ خارجی فکر کا حامل شخص بڑے اطمینان سے گویا ہوا اور کہا:
ارے بھائی ، ایسا حاکم ، جو قرآن و سنت پر عامل ہو اور اپنی ریاست یا ملک میں اسے قائم کرنے والا ہو، اسے شرعی امیر یا حاکم کہتے ہیں، اور صحیح مسلم کی کتاب الامارۃ یا دیگر کتب میں ایسے ہی حکام کے بارے میں آتا ہے کہ اگر وہ کبھی تم پر ظلم بھی کر بیٹھیں یا حق تلفی کریں یا کوڑے برسائیں تو ان پر صبر کرنا۔
اور جو قرآن و سنت اور شریعت کے خلاف یا علاوہ چلے وہ غیر شرعی حاکم ہے، اور یہ احادیث انکے بارے ہر گز نہیں !

سبحان اللہ، اس کی یہ تعریف اور تشریح سن کر میں مسکرانے سے نہ رک پایا۔

وہ میری مسکراہٹ سے تھوڑا سا گھبرایا اور بولا:
جناب، یہ ہنسی آپ کے منہ شیطان ڈال رہا ہے!

میں نے کہا : لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔(ویسے درحقیقت تھا ایسا ہی، کیونکہ مجھے خود اسی نے ہنسایا تھا)

بہرحال ، میں نے موضوع سے ہٹنے اور اس ذاتی وار کا جواب دینے کی بجائے، گفتگو کو آگے بڑھایا۔

میں نے اسے کہا : کہ او اللہ کے بندے کیا تو نے وہ احادیث پڑھی ہیں ؟؟؟

وہ کہتا : ہاں بالکل، کیا آپ صرف خود کو ہی اس قابل سمجھتے ہو!

میں نے کہا: جناب! ترش مزاجی کی ضرورت نہیں۔ مجھے آپ کی تشریح سے لگا کہ جیسے آپ نے وہ احادیث سرے سے دیکھی ہی نہیں ہیں!

وہ بولا کیا مطلب؟

میں نے کہا :کہ جناب ، نوٹ فرمالیں، جو تعریف آپ نے شرعی حاکم کی کیں ہیں ، وہاں موجود اکثراحادیث انکے بارے تو ہے ہی نہیں!
بلکہ آپ کی تعریف کے مطابق ، وہ تمام ‘‘غیر شرعی حکام‘‘ اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے پر وارد ہوئی ہیں؛

پھر میں نے اسے مختلف روایات کے اقتباسات دکھلائے:

1۔ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

«عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ»

ایک مسلمان پر سمع واطاعت فرض ہے چاہے اسے پسند ہو یا نا پسند ہو، الا یہ کہ اگر اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے ، اگر امیر اسے نافرمانی کا حکم دے تو نہ تو اس پر سننا ہے او نہ ماننا۔

(بخاری 7144، مسلم: 1839 الفاظ مسلم کے ہیں)

2۔ حذیفۃ بن الیمانؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہا آپ ﷺ نے فرمایا: 

عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ: «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 

میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے۔۔۔۔

(مسلم:1847)

3۔ علقمہ بن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا، فَمَا تَأْمُرُنَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَقَالَ: «اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ» 

سلمۃ بن یزید الجعفیؓ نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا، وہ کہتے ہیں کہ : ہم نے کہا:

اے اللہ کے نبی اگر ہم پر ایسے امراء مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق روکیں تو ایسی صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔

(مسلم:1846)

4۔ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:

«سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا» 

عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(صحیح مسلم:1854)

پھر میں نے کہا : کہ ان روایات میں جن حکام کا ذکر ہے، وہ آپ کی تعریف و تشریح کے مطابق غیر شرعی ہوئے، جبکہ اسلام کے مطابق وہ مسلمانوں کے حاکم ہی رہے اور انہی سے برتاو کے بارے اسلام نے باقاعدہ رہنمائی کی ہے۔

وہ اچانک پریشان ہوا، ہوتا بھی کیوں نا؟ اس کا خوشنماء فہم جل کر بھسم ہو چکا تھا۔ 

اس نے فورا اپنی جیب سے موبائل نکالا اور کسی کو کال ملانے لگا۔

جب کسی نے آگے سے فون اٹھایا تو اس نے ایک ہی سانس ساری صورتحال سے آگاہ کیا ، جو ابھی ابھی اس پر بیتی!سبحان اللہ ، فون پر دوسری جانب موجود شخص بھی کوئی بلا شاطر خارجی تھا۔ 

اس نے اس موضوع پر یکسر پینترا بدلتے ہوئے اس خارجی فکر کے حامل شخص سے کہا کہ آپ ان سے کہو کہ حاکم چلیں جیسا بھی ٹھیک ہے، ہمیں اس کے ساتھ شریعت کے مطابق ہی چلنا چاہیے لیکن یہاں مسئلہ حاکم کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کا نہیں ہے۔۔۔۔اور نہ ہی ہم اس بنیاد پر ان کی تکفیر اور ان سے جنگ کرتے ہیں، بلکہ ہماری لڑائی تو اس “باطل نظام ”  کی وجہ سے ہے، جو انہوں نے قائم کر رکھا ہے اور مسلط کر رکھا ہے۔ اور جتنی بھی احادیث ہیں وہ حکام کے بارے ہیں مگر نظام کا ان میں تذکرہ نہیں ہے!

سبحان اللہ ! 

 جب اس شخص نے فون بند کر کے دوبارہ اپنی گھبراہٹ سنبھالتے ہوئے مجھ پر یہ سوالات داغے تو یقین کیجئے، اس مرتبہ میں مسکرایا نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔ میرا تو قہقہ ہی نکل گیا۔
بہرحال ، میں نے مشکل خود کو قابو کرتے ہوئے اس سے التماس کی کہ چلیں مجھے یہ بتا دیں کہ باطل نظام کی تعریف کیا ہوتی ہے؟؟؟

وہ خارجی فکر کا شخص جھٹ سے بولا:
وہ نظام جو قرآن و سنت کے خلاف ہو، کافروں کی خواہشات کے مطابق ہو وغیرہ وغیرہ

میں کہا :  آپ کی تعریف تو ٹھیک ہے مگر آپ اور آپ کے فون پر موجود ‘‘ خفیہ شیخ‘‘ کی عقل لگتا ہے گھاس چرنے گئی ہوئی ہے۔

اتنے میں وہ غصے سے بولا کہ آپ ذاتیات پر حملے کی بجائے، اس بات کا جواب دیں۔

میں نے کہا : اللہ نے ہمیشہ حق کو ہر دور میں واضح کیا ہے، اور آج تم پر ان شاء اللہ میں بھی اپنے رب کی توفیق سے واضح کر دیتا ہوں۔

میں پھر وہی احادیث مبارکہ اس کو دکھائیں اور وہ مقامات دکھائے، جہاں باقاعدہ اسکے مطابق ‘‘غیر شرعی‘‘ حکمرانوں کے علاوہ اسی کی تعریفات کے عین مطابق باطل نظاموں کا بھی تذکرہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ایک عام مسلم مومن کو حاکم سے کیسا برتاو رکھنا چاہیے، اس جانب خوب رہنمائی کی گئی ہے۔

میں نے اسے مذکورہ مقامات دکھلائے:

عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ، فَجَاءَ اللهُ بِخَيْرٍ، فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ: «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 

میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو نہ تو میری سنت پر چلیں گے اور نہ میرے طریقے کی پیروی کریں گے۔۔۔۔

(مسلم:1847)

قَالَ ﷺ : «يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ» 

قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟

قَالَ ﷺ : «تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ» 

 

آپﷺ نے فرمایا:   ایسے لوگ (حاکم) پیدا ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے ہوں گے اور دل شیطان کے۔

میں نے کہا:  اے اللہ کے رسول! اگر میں ایسے لوگوں کو پالوں تو کیا کروں؟

آپﷺ نے فرمایا:

حاکم وقت کی سنو اور اس کی اطاعت کرو، اگرچہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا سارا مال لے لے۔ پھر بھی تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔۔۔۔۔۔۔

(مسلم:1847)

3۔ ام سلمۃؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نےفرمایا:

«سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ» قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ؟ قَالَ: «لَا، مَا صَلَّوْا»

عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کی بعض باتیں تمہیں اچھی لگیں گی اوربعض بری ، چنانچہ تو جوان کی غلط باتوں کو پہچان لے اس کا ذمہ بری ہوگیا،۔۔۔۔۔۔۔۔

(صحیح مسلم:1854)

میں نے کہا جناب ، اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر دیکھ لیں کہ رسول اللہ ﷺ ، جہاں حکام کے خود فاسق و فاجر اور ظالم ہونے کا بتلا رہے ہیں ، وہی انکے نظاموں کو بھی واضح فرما رہے ہیں کہ وہ قرآن و سنت کو چھوڑ کر دیگر نظاموں پر حکومتیں چلائیں گے۔ آپ ﷺ نے حتی کہ یہاں تک فرما دیا کہ ان کے دل شیطان کے ہوں گے، یعنی وہ شیطانی طریقہ کار اور نظاموں کو نہ صرف دلدادہ بلکہ انہیں مسلط بھی کریں گے۔

لہذا ، آپ کے دونوں ہی دعوے (حاکم غیر شرعی ہے پھر بعد میں نظام باطل ہے، اس لئے ہم انکی اطاعت سے نکلتے ، انکی تکفیر اور پھر خروج کرتے ہیں ) بے دلیل اور نفسانی خواہشات پر مبنی ہیں اور اسلام ان سے بری ہے۔

اور پھر میں نے اسے یہ  رسالہ ” حکام وقت کی اطاعت احادیث نبویہ کی روشنی میں “ ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، کہ جاؤ اور اسے پڑھو، زندگی رہی تو آئندہ ضرور ملاقات ہوگی۔اللہ حافظ