در حقیقت "تکفیری" کون کہلاتا ہے؟

تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

درحقیقت ” تکفیری ” کون کہلاتا ہے؟ 

سوال :

آج کل عموما بہت سے گروہ ایک دوسرے کو تکفیری قرار دیتے نظر آتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “تکفیری ” کس شخص کو کہا جاتا ہے اور اصل “تکفیری لوگ ” کون ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں تو بظاہر محض فکری اختلافات کی بناء پر الزام تراشیاں جاری ہیں اور تکفیری وخارجی کے اتہامات کی بھر مار ہے ؟

الجواب بعون الوھاب

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

ہر مسلمان جب بھی وہ تلاوت قرآن کا سر انجام دیتا ہے یا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کسی نا کسی کی تکفیر ضرور کرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جن کو کفر کہا گیا ہے۔ مگر کسی عمل کے کفریہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسکا ہر ہر مرتکب کافر و مرتد قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ کہ قرآن و احادیث کے مجموعے اور فہم سلف سے یہ بات عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ نہایت قبیح کبیرہ گناہوں سے مسلمانوں کو ڈرانے اور تنبیہ کرنے کے مقصد سے انہیں بھی کفر قرار دیا ہے۔ حالانکہ انکا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہ قرار دیا جاتا اور نہ ہی ایسا سمجھا جاتا ہے

تو جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کفر کی دو اقسام ، قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین سے ہمیں ملتی ہیں ،وہ درج ذیل ہیں :

1- کفر اصغر (کبیرہ گناہ)

2- کفر اکبر ( ارتداد )

اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی:

ہر ایسے کام کہ جسے قرآن احادیث میں کفر کہا گیا ہو ، کا مرتکب لازمی نہیں دین اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا کیونکہ  ہوسکتا ہے کہ وہ عمل کفر اصغر یعنی کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہو۔ 

◀️ اگر کوئی مسلمان عورت یا مرد کسی ایسے عمل میں مبتلاء ہوتا ہے کہ جو ارتداد کے زمرے میں آتا ہو تو اس مسلمان کی تکفیر کرنے والا شخص تکفیری ہرگز نہیں بن جاتا یعنی محض کسی کو کافر قرار دے دینے سے کوئی تکفیری نہیں بن جاتا ۔ جب ہم کسی کے لیے لفظ “تکفیری” یا “فتنہء تکفیر” استعمال کرتے ہیں تو اس وقت تکفیر مطلق کی بات عموما نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ تکفیر معین کے حوالے سے بولے جاتے ہیں یا پھر کبھی کبھار تکفیر مطلق سے متعلق بھی ہوتے ہیں ۔ عموما ان سے مراد تکفیر معین ہی ہوتی ہے ۔

◀️ پس ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کی معین تکفیر کرے جبکہ اس نے کوئی کفریہ کام بھی نہ کیا ہو یا اگر کفریہ کام کیا ہو تو تکفیر معین کے اصول وقوانین کو ملحوظ رکھے بغیر اور انہیں اپلائی کیے بغیر وہ اس معین شخص کو کافر و مرتد قرار دینا شروع کر دے تو ایسے تکفیر کرنے والے کو تکفیری یا فتنہء تکفیر میں مبتلاء قرار دیا جاتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص نے تکفیر المعین کے اصول ضوابط جو کہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہیں پر پرکھے بغیر کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تو ایسا شخص تکفیری پکارا جائے گا ، کیونکہ اس نے ایک مسلمان کی ناحق تکفیر کی ہے اور شرعی قواعد وضوابط سے انحراف کیا ہے۔ 

◀️ ہاں اگر کوئی شخص کسی صریح کفریہ عمل میں ملوث کسی مسلمان پر تکفیر معین کے اصول وقوانین کا اطلاق کرکے اسکی معین تکفیر کرتا ہے تو ایسا کرنے والا شخص تکفیری نہیں کہلائے گا ۔ مگر یاد رہے یہ متبحر فی العلم علماء امت کا کام ہے بلکہ علماء کے گروہ کا کام ہے۔ اور عوام الناس، دینی مدارس کے طلباء، مساجد کے خطباء و آئمہ کو بھی اس مسئلے میں ایسے علماء کے پیچھا چلنا ہے جو تکفیر کرنے کے اہل ہیں اور تکفیر کے اصول ضوابط کا پورا علم اور ادراک رکھتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب 




فاسق اور فاجر کسے کہا جاتا ہے ؟

photo_2017-09-13_10-00-24

 فاسق اورفاجرکسے کہا جاتا ہے ؟

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

فاسق و فاجر تقریباً ہم معنیٰ الفاظ ہیں، جوکہ عربی زبان سے اردو میں آئے ہیں اور بطور صفت استعمال ہوتے ہیں۔

فاسق :

لغت میں فاسق، نافرمان اور حسن و فلاح کے راستے سے منحرف ہونے والے شخص کو کہتے ہیں۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے:
فسق فلان عن الجماعة إذ خرج عنها

فلاں شخص جماعت کا نافرمان ہو گیا، جب وہ جماعت سے نکل گیا۔

اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہتے ہیں جو حرام کا مرتکب ہو یا واجب کو ترک کرے یا اطاعتِ الٰہی سے نکل جائے۔

غیر عادل شخص کو بھی فاسق کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور حدودِ شرعی کو توڑنے والا بھی فاسق کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی دو طرح کی ہے:

ایک کلی اور دوسری جزوی۔

کلی اور واضح نافرمانی کفر ہے جس میں کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کو درست جانتا ہے۔ 

جبکہ جزوی نافرمانی فسق ہے جس میں ایک شخص دین الٰہی اور شریعتِ محمدی کی تصدیق بھی کرتا ہے مگر خواہشات نفس میں پڑ کر شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی بھی کر دیتا ہے، مگر اس کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ حکم عدولی غلط اور ناجائز ہے۔ ایسا کرنے والے کو فاسق کہتے ہیں۔
الفسق: في اللغة عدم إطاعة أمر الله وفي الشرع ارتكاب المسلم كبيرة قصدا أو صغيرة مع الإصرار عليها بلا تأويل
فسق، لغت میں اللہ کے حکم کی عدم تعمیل کو کہتے ہیں اور شرع میں اس سے مراد کسی مسلم کا بغیر تاویل کے قصداً گناہِ کبیرہ کا ارتکاب یا گناہِ صغیرہ پر اصرار ہے۔

(قواعد الفقه: 1: 412)

قرآنِ مجید نے بسا اوقات کفر کو بھی فسق کہا اور کئی مقامات پر کفر کو فسق سے الگ نافرمانی کے معنیٰ میں بھی بیان فرمایا۔ جیسے سورہ حجرات میں ارشاد فرمایا:
وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ
لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا فرمائی اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ فرما دیا اور کفر اور نافرمانی اور گناہ سے تمہیں متنفر کر دیا۔

(الحجرات، 49: 8) 

کفر پر فسق کا اطلاق کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَأْوَاهُمُ النَّارُ كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ
اور جو لوگ نافرمان ہوئے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ جب بھی اس سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اِس آتشِ دوزخ کا عذاب چکھتے رہو جِسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ 

(السجدة، 32 : 20) 

عربی زبان میں اس کی جمع فُسَّاقٌ اور فَوَاسِقُ، جبکہ مونث کے لیے فاسقہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اور اردو زبان میں اس کی جمع فاسِقِین اور جمع غیرندائی فاسِقوں مستعمل ہے۔
فاجر: 

فاجر کے لغوی معنیٰ گنہگار اور حق سے منہ موڑنے والے کے ہیں۔ گناہوں میں لت پت شخص کو بھی فاجر کہتے ہیں۔ اس کی جمع فاجرون، فُجَّار اور مؤنث فاجرۃ ہے۔

اہم بات :

اس میں ایک بہت بڑا نکتہ اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام اور تبع تابعین کرام تمام اسلاف امت برے حکام کی مذمت تو کی ، ان کی برائی کی نکیر تو کی انہیں فاسق کی بجائے فاجر بھی کہا لیکن اس کے باجود تمام اجتماعی معاملات نماز، روزہ ، عیدین ، حج اور حتی کہ جہاد بھی اسی حاکم کے ساتھ اور اس کی اطاعت میں رہ کر بجا لاتے تھے ، کیونکہ امت کی اجتماعیت اور امن و امان کی اہمیت سب سے بالا ہے خون خراب اور فساد مچانا دین کے نام پر بھی جائز نہیں اور ایسے طریقوں کی شریعت نے خود مذمت کی ہے ۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔




ہجرت، دار الاسلام اور دار الکفر - شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

ہجرت ، دار الاسلام اور دار الکفر

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

داعش نے جو ساری دنیا کے مسلمانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے زیر کنٹرول عراقی اور شامی علاقوں کی طرف ہجرت کر آئیں تو اس میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں۔

[یہ خبر بی بی سی کی ویب سائٹ پر بتاریخ 01 جولائی 2014ء کو نشر ہوئی تھی۔]

اسلام میں حرام کردہ گروہی تعصب اس طرح جھلکتا ہے اور اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔

 گروہی تعصب اور اس کے مفاسد:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جو شخص کسی گروہ کے بارے میں یہ ٹھان لیتا ہے کہ جس سے وہ دوستی کرے گا، اسے میں دوست رکھوں گا اور جس سے وہ دشمنی کرے گا، اسے دشمن سمجھوں گا۔ تو ایسا شخص شیطان کے راستہ میں لڑنے والے تاتاریوں جیسا ہے۔

اسی جیسا شخص نہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے، نہ مسلمان فوجی ہے  اور نہ ہی اس کا مسلمان فوج کا حصہ ہونا جائز ہے، بلکہ یہ تو شیطانی لشکر کا حصہ ہے۔‘‘ 

چہ جائیکہ جاہلوں کے نزدیک ، اور داعش میں تو اکثریت جاہل ہی اکٹھے ہوئے ہیں، اس چیز کو اپنایا جائے کہ مسلمانوں میں سے جو بھی ہجرت کرکے ان کے پاس نہ جائے ، اس کی تکفیر کی جائے۔

اسی سلسلہ میں ایک لطیفہ بھی سنتے جائیے۔ ابو العباس اَصَمّ کہتے ہیں :

ایک مرتبہ دو خارجی بیت اللہ کا طواف کررہے تھے۔ ایک دوسرے کو کہنے لگا: ’’یہ جو اتنی مخلوق یہاں پھر رہی ہے، ان میں سے میرے اور تمہارے علاوہ کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ دوسرا کہنے لگا: ’’جنت تو زمین وآسمان سے بھی بڑی ہے، کیا صرف ہم دونوں کےلیے بنی ہے؟‘‘ پہلا کہنے لگا: ’’ہاں۔‘‘ دوسرے نے کہا: ’’پھر تم ہی اسے سنبھالو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے خارجیت سے توبہ کرلی۔

[شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ لللالکائي: 2317]

 شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ہجرت اور اس کے قواعد وضوابط خوب واضح کیے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا:

’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ جب تم سے جہاد میں نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑا کرو۔‘‘ 

[صحیح البخاري: 2783، صحیح مسلم: 4864]

دوسری حدیث میں فرمایا: ’’جب تک دشمنوں سے جہاد باقی رہے گا، ہجرت بھی باقی رہے گی۔‘‘

[مسند أحمد: 22755، السنن الکبریٰ للنسائي: 7926، سنن النسائي: 7748، صحیح ابن حبان: 4866]

دونوں احادیث ہی صحیح اور برحق ہیں۔ وضاحت یہ ہے کہ پہلی حدیث میں وہ ہجرت مراد ہے جو آپﷺ کے زمانہ مبارک میں ہورہی تھی یعنی مکہ اور دیگر عرب علاقوں سے مدینہ کی طرف ہجرت۔ تو یہ ہجرت تب تک درست تھی جب تک مکہ دار الکفر اور دار الحرب تھا اور مدینہ دار الاسلام تھا۔ لہٰذا صاحب ِ استطاعت پر دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنا لازم تھا۔

جب مکہ فتح ہوگیا اور سارا عرب مشرف بہ اسلام ہوگیا تو سارا عرب دار الاسلام بن گیا۔ تب آپﷺ نے فرما دیا: ’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔‘‘

کسی بھی خطہ کا دار الکفر، دار الایمان یا دار الفاسقین ہونا ہمیشہ ہمیش کےلیے نہیں ہوتا بلکہ اس کے باشندوں کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔

حاشیہ (یہ بہت ہی باریک فقہی نکتہ ہے جس میں فقہاء غلطی کھاتے رہے ہیں کہ دار الکفر اور دار الاسلام کی تعریف کیا کی جائے؟ بعض معاصرین ابھی تک اسے سمجھ نہیں پا رہے۔ لہٰذا آپ خوب یاد رکھیں۔)

چنانچہ ہر وہ علاقہ جس کے باشندے مؤمن اور متقی ہوں، وہ اس وقت اولیاء اللہ کا علاقہ کہلائے گا۔ اور جس سرزمین کے باشندے کافر ہوں گے، وہ اس وقت دار الکفر کہلائے گا۔ اسی طرح جس سرزمین کے باشندے فاسق ہوں گے، اس  وقت اسے دار الفاسقین کہیں گے۔گویا جس سرزمین میں جس طرح کے لوگ رہتے ہیں، وہ انہی سے منسوب ہوکر دار الکفر، دار الایمان، دار الفاسقین وغیرہ کہلائے گا۔

اسی طرح  اگر مسجد کو شراب خانہ بنا دیا جائے یا وہاں فاسق وظالم رہنے لگیں ، یا اسے شرک کے اڈے گرجا گھر میں بدل دیا جائے  تو اپنے باشندوں کے حساب سے اس کا نام بھی بدل جائے گا۔

 اسی طرح اگر شراب خانہ یا دار الفاسقین وغیرہ کو مسجد بنا دیا جائے جس میں رب تعالیٰ کی عبادت شروع ہوجائے تو اسے پھر عبادت خانہ ہی کہا جائے گا۔

اسی طرح اگر ایک نیک آدمی فاسق وفاجر بن جائے اور کافر مؤمن بن جائے، یا مؤمن کافر ہوجائے وغیرہ تو ہر ایک جس حال میں چلا جائے گا، اس پر وہی حکم لگے گا۔‘‘  انتہی 

[مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ: 18/281]

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے دین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ 




داعش دہشت گرد تنظیم کی خلافت خود ساختہ اور سراسر غیر اسلامی ہے - مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کا کلمہ حق

بسم اللہ الرحمن الرحیم

التقریر
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین وبعد:
ان جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند ِاحدی الجمعیات الِاسلامیۃ العریقۃ فی الہند تہتم بالشؤون التعلیمیۃ والتربویۃ والدعویۃ والتنظیمیۃ والعمال الخیریۃ وتدعیم قضایا القلیۃ المسلمۃ وہی تقوم بتوعیۃ المسلمین عن قضایا الِاسلام والمسلمین الراہنۃ وتقدیم حلول المشکلات التی تواجہہا بین حین وآخر وہی ِایما نا بمسؤولیتہا تجاہ الِارہاب الذی یعتبر قرحۃ العصر الحاضر فنددتہ وعقدت بعنوانہ الاجتماعات والندوات کما أصدرت الفتاوی ضدہ فی الماضی وقامت بتہیئۃ الرای العام خلافہ من السالیب المملکنۃ و استمرارا لجہودہا الدعویۃ قامت بعقد ملتقی ضد منظمۃ داعش،، والمنظمات الخری مثلہا فی مجمع أہل الحدیث بأوکلا بنیودلہی فی الخامس عشر من شہرفبرایر ۵۱۰۲م بعد الظہر وشارک فیہا عدد کبیر من علماء جماعۃ أہل الحدیث ومسؤولی جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند ومسؤولی الجمعیات فی الولایات الہندیۃ أکثر من ۳۲ ولایۃ ہندیۃ، وعدد من مسؤولی الجمعیات الِاسلامیۃ الخری فی الہند کما شارک فیہا عدد لیس بالقصیر من الصحفیین فبدأ الملتقی بتلاوۃ آی من القرآن الکریم ثم ألقی أمین عام جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند الشیخ أصغرعلی ِامام مہدی السلفی کلمتہ حول الموضوع کما ذکر خدمات الجمعیۃ وِانجازاتہا ضد الِارہاب و أوضح أضرارہ ومسؤولیۃ العلماء تجاہ توعیۃ الناس عنہ و قدم فضیلۃ المین العام للجمعیۃ نص الفتوی ضد منظمۃ داعش والمنظمات الخری مثلہا ورد علی أسئلۃ المشارکین والصحفیین للندوۃ وأید العلماء الحضور ومشارکو الندوۃ ہذا العمل المبارک للجمعیۃ تجاہ ِاصدار الفتوی وأبدوا عن فرحتہم وغبطتہم لمبادرۃ الجمعیۃ ِالی عقد الندوۃ بالعنوان المذکور وِالیکم نص الفتوی للجمعیۃ ضد داعش والمنظمات الأخری مثلہا:
فتوی ضد منظمۃ داعش( الخلافۃ الِاسلامیۃ فی العراق والشام)المزورۃ

ماهو الحکم الشرعی فی الأمور الآتیۃ:
۱ رغم ہذہ الحقیقۃ بأن الِاسلام دین أمن وسلام، وہو لایجیز أی عدوان وعنف وِارہاب وتطرف تلصق تہمۃ الِاجراء ات الِارہابیۃ بالِاسلام والمسلمین فی البلدان المختلفۃ ومنہا الہند کما أن الِاسلام وممثلیہ من علمائہ الکبار بینوا حرمتہا فی مناسبات مختلفۃ بکل جدیۃ، وکذلک جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند أصدرت فتاوی ضد الِارہاب بتوقیع من ستۃ وثلاثین علماء تقریبا قبل عشرۃ أعوام وتأسیا بالجمعیۃ أصدرت عدد من المنظمات الِاسلامیۃ بالہند فتاوی ضد الِارہاب. رغم ہذا کلہ تلصق تہمۃ ہذہ الجریمۃ الشنیعۃ بالمسلمین فہل یجوز رد الِارہاب بالِارہاب کما یفعلہ بعض الناس من حملات انتحاریۃ؟

۲ ِان منظمۃ داعش (الدولۃ الِاسلامیۃ فی العراق والشام)المدعیۃ بالخلافۃ الِاسلامیۃ ومنظمات أخری مثلہا تقوم بالعملیات الِارہابیۃ وتحدث الذعر والرعب والہلع والخوف والدہشۃ بین الشعب الآمنین فی البلاد المختلفۃ وتحمل السلاح ضدہم وضد الحکومات وتہجمہم الہجمات المدمرۃ ضد الرجال البریاء والنساء والشیوخ والطفال فاختل المن والسلام و السکینۃ والطمانینۃ وتعکر ہدوء الصفو بسبب عملیاتہم الِاجرامیۃ وِاجراء اتہم الِارہابیۃ وأعمالہم التکفیریۃ کما تم ِاتلاف آلاف النفس فیہا ویعیش الناس تحت الخوف والدہشۃ کل حین عن النفس والأہل وذوی القربی والممتلکات فہل یجوز لمنظمۃ داعش باسم الخلافۃ الِاسلامیۃ وللمنظمات الخری أن تحاول اللعب بأمن البلاد وقانونہا والقصف علی الشوارع وِابادۃ المنشآت العسکریۃ واختطاف الطائرات واختلاس المؤظفین الجانب والسیاحین والصحفیین والممرضات وقتلہم والہجم علی النساء السافرات والمؤسسات التعلیمیۃ ومکاتب الجرائد والقنوات التلفزیونیۃ والسفارات وکذلک ِاثارۃ الشعب ضد الحکومات والمحاولۃ لِاضرار أمن البلاد؟
نرجو الِاجابۃ فی ضوء الکتاب والسنۃ وتوضیحہا توضیحا کاملا.

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
المستفتیۃ
جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند

.

.

الِاجابۃ
فنقول وباللہ التوفیق للصواب:

ان الِاسلام دین أمن وسلام وہبہ اللہ سبحانہ وتعالی خالق الخلق کلہ للناس وہو رحمۃ للعلمین لامجال فیہ للِارہاب بأی نوع کان واہتم ہذا الدین بالبشریۃ وکرامتہا واعتنی فی أمورہ بالوسطیۃ والاعتدال دائما، ولعب دورا بارزا فی استیلاء المن والمان وندد ِاحداث القلق والاضطراب فی المجتمع بنص: لاضرر ولاضرار . ِان اللہ تعالی ہو الرحمن الرحیم أرسل رسولہ محمدا صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین وتعالیمہ کلہا رحمۃ ومنزہۃ من العنف والعدوان ،ولقن الِاسلام الوسطیۃ والاعتدال والخوۃ والمودۃ وأداء حقوق الِانسان والجیران بدون انحیاز ِالی دین ومذہب، وأمر بأداء حقوق العباد بجانب حقوق اللہ، وِان الظلم والعدوان والقتل والہلاک أکبر ذنوب بعد الشرک باللہ والکفر بہ فی الِاسلام

فقال تعالی: ِانہ من قتل نفسا بغیرنفس أو فساد فی الرض فکأنما قتل الناس جمیعا ومن أحیاہا فکأنما أحیا الناس جمیعا (المائدۃ:۲۳)

ومن تعالیم الِاسلام أنہ لا یقتل طفال العدوونسائہم وشیوخہم ولا یقتل عبادہم فی المعابد ولا یقطع البساتین ولا یحرق الحرث ولا یہلک البہائم. وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: عذبت ِامرأۃ فی ہرۃ سجنتہا حتی ماتت فدخلت فیہا النار لا ہی أطعمتہا ولا سقتہا ِاذ حبستہا ولا ہی ترکتہا تأکل من خشاس الرض، ورجل دخل الجنۃ بسبب أنہ سقی الکلب.

ِان نظام الِاسلام لا یسمح لرجل أن ینتقم شخصا بسبب جرم شخص غیرہ

فقال تعالی: ولاتزر وازرۃ وزر أخری ( النعام:۴۶۱)

وِان توفیر الٔامن لغیر المسلمین فی الحکومۃ الِاسلامیۃ مسؤولیۃ المسلمین وحکامہم لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:

من قتل معاہدا فی غیر کنہہ حرم اللہ علیہ الجنۃ(ابوداود) صححہ اللبانی

وقال صلی اللہ علیہ وسلم: من قتل معاہدا لم یرح رائحۃ الجنۃ وِان ریحہا توجد من مسیرۃ أربعین عاما( صحیح البخاری)

وقال الِامام ابن حجر رحمہ اللہ: ثبت النہی عن قتل البہیمۃ بغیر حق والوعید فی ذلک فکیف بقتل الآدمی فکیف بالتقی الصالح .(فتح الباری)

وقال عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ: ِان من ورطات المور التی لامخرج لمن أوقع نفسہ فیہا سفک الدم الحرام بغیر حلہ.

لذا لا یجیز الشرع محاولۃ اللعب بأمن الدولۃ وقانونہا والقصف علی الشوارع والعمران وقذف القذائف وتدمیر المنشآت العسکریۃ واختطاف الطائرات واختلاس السیاحین والصحفیین والمؤظفین الجانب والممرضات وقتلہم والہجم علی النساء السافرات والمؤسسات التعلیمیۃ ومکاتب الجرائد والقنوات التلفزیونیۃ والسفارات وِاثارۃ الشعب ضد الحکومات ومحاولۃ ِافساد المن والمان کما أن الشرع وضع الشروط وقرر الضوابط للقیام بالمر بالمعروف والنہی عن المنکر، فما کلف الشرع کل شخص لتنفیذہما بل عین الحدود لکل شخص فی سائر المور لن بسبب عدم مراعاتہا تحدث الفتنۃ والفساد ویظہر السفک والقتل والدمار.

 وفی الآونۃ الخیرۃ قد ظہرت بعض المنظمات باسم الِاسلام أصبحت عارا لمسلمی العالم ففی السوال المذکور منظمۃ داعش وغیرہا التی تتسبب تشویہ سمعۃ الِاسلام والمسلمین وِاضرارہم لا تلائم جنایاتہم تعالیم الِاسلام السمحۃ ولا تمت لہا بصلۃ بأی حال بل العمال التی ترتکبہا والِاجراءات التی تتخذہا قد حرمہا الِاسلام البتۃ وہی کلہا ِاجراء ات أرہابیۃ کما أن ادعائاتہم المزورۃ بخلافۃ الدولۃ الِاسلامیۃغش وخداع مضادۃ للخلافۃ الِاسلامیۃ الحقیقیۃ لا توجد فیہا الشروط المشروعۃ المعتبرۃ، ولا تحقق مقتضیات ِاقامۃ الخلافۃ الِاسلامیۃ وأہدافہا السامیۃ

لذا یقول رئیس ہیئۃ کبار العلماء ومفتی عام المملکۃ العربیۃ السعودیۃ سماحۃ الشیخ العلامۃ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ : ِان داعش والمنظمات الخری مثلہا لا تمثل الِاسلام. کما قال سماحۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد والشیخ محمد المنجد وغیرہم من العلماء حفظہم اللہ وکذلک العلماء الکرام والمشایخ الکبار فی بلاد العرب یوضحون بأن ہؤلاء خوارج ہذہ الأمۃ قد شتتت شمل المسلمین فی الماضی البعید بقصور علمہم وسوء فہمہم ومعرفتہم للنصوص، وِان ما یسمونہ الجہاد ِانما ہو فتنۃ وِارہاب لن الجہاد لہ شروط وضوابط وہم لا یکترثونہا البتۃ، وکذلک لِاقامۃ الخلافۃ الِاسلامیۃ شروط وضوابط لا یجوز لحد بدون ِاکمالہا أن یسمی نفسہ خلیفۃ للمسلمین ولا یجوز لحد أن یلقب مثل ہذا الظالم الجائر بأمیر المؤمنین.

ان منظمۃ داعش وغیرہا من المنظمات التی ترتکب مثل ہذہ الجریمۃ الشنعاء حینما یسمع عن أخبارہا سامع أو یشاہد مناظرعملیاتہا المرہبۃ مشاہدیغلب علیہ الہلع والروع والدہشۃ وربما یصیح ویصرخ خوفا، ِان العنف والعدوان والظلم والقتل والسلب والنہب والفتنۃ والفساد وقتل وِاحراق السکان الآمنین بعد اختلاسہم، ہذہ کلہا أعمال شنیعۃ لایجیزہا الِاسلام لحیوان فضلا عن ِانسان ومزیدا علی ذلک ِانہ یتم ارتکابہا باسم الِاسلام متقمصۃ قمیص الخلافۃ الِاسلامیۃ، والحق أن ہذہ کلہا مؤامرۃ شنیعۃ من قبل عداء الِاسلام والمسلمین وجریمۃ نکراء ضد الِانسانیۃ جمعائ.

والسف کل السف علی أن بعض الرجال السذج یعتبرونہا رد فعل للظلم علی المسلمین الذی ہو اعوجاج فکری وسببہ قلۃ العلم والفہم فلا یجیزہا العقل السلیم لن الِاسلام لا یجیز الانتقام لأحد بِانسان برئ أو ِاضرار أحد بذنب شخص آخر کما أوضحناہ قبل ذلک بنصوص الکتاب والسنۃ وأقوال السلف الصالح.

وکیف یغیب عنا أسوۃ الصحابی المظلوم خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ حینما کان فی سجن الکفار حتی ِاذا أجمعوا قتلہ استعار موسا من بعض بنات الحارث یستحد بہا فأعارتہ قالت فغفلت عن صبی لہا قد درج ِالیہ حتی أتاہ فوضعہ علی فخذیہ وفی یدہ موسی ففزعت فرعۃ عرف ذلک منہا فقال أتخشین أن أقتلہ؟ ما کنت لقتل ذلک ِان شاء اللہ.

ان منظمۃ داعش لفئۃ رجال سفہاء مجنونین جل ہمہم ِاضعاف القوی الِاسلامیۃ والتفرقۃ بین صفوف المسلمین وتشویہ صورۃ الِاسلام النیرۃ وِاحداث النفور تجاہ الدین السماوی ودین الِانسانیۃ فہی خطر علی عالم الِانسانیۃ وسبب لزوال المۃ الِاسلامیۃ.

فہذہ المنظمات کافۃ منظمات ِارہابیۃ وتستحق الاستنکار والتندید کما أن نصرتہا بأی نوع کانت حرام فیجب علی المسلمین جمیعا أفرادا وجماعات ولا سیما العلماء وذوو البصیرۃ أن ینبہوا العالم عن خطرہا ویتخذوا ِاقدامات سلیمۃ للحفاظ علی الشباب المسلمین من أن یؤیدوہا أو یشجعوہا أو یساعدوہا مساعدۃ مادیۃ أو معنویۃ .

ہذا ما عندنا واللہ أعلم بالصواب وعلمہ أتم وأصح.

أسماء العلماء والمفتین وتوقیعاتہم




داعش کی حقیقت عالم عرب کے معروف عالم دین محدث مدینہ شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کا فتوی

داعش کی حقیقتداعش کی خلافتداعش کی حقیقت

عالم عرب کے معروف عالم دین محدث مدینہ

شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کا فتوی

کچھ سالوں قبل عراق میں ایک فرقہ نے جنم لیا جس نے شام وعراق میں اپنے آپ کو اسلامی حکومت سے متعارف کرایا.اور اس فرقے کی شہرت چار حروف والے کلمہ”داعش”سے ہوئی.اور یہ چاروں حروف چار ممالک کی طرف نشاندہی کرتے ہیں.جس کی زعامت اور سرداری کے پیچہے یہ لوگ لگے ہوئے ہیں.ان عاشقان ملک وخلافت میں سے کوئی ابو فلان الفلانی ہے تو کوئی ابو فلان ابن فلان ،کوئی اپنے شہر تو کوئی اپنے قبیلہ کی طرف منسوب ہے جیسا کہ بد باطن اور مجہولین عام طور سے کیا کرتے ہیں.

سوریا کی موجودہ جنگ کے ایک مدت گزرنے کے بعد اس فرقہ کے بہت سارے لوگ حکومت سے عدم جنگ کے نام پر شام میں داخل ہوئے.مگر ان لوگوں نے حکومت کے برسر پیکار سنیوں کا کہلم کہلا خون بہایا.ان کی ایسی خونریزی کی،اور چاکو سے ایسے ذبح کیا جس سے سن کر روح کانپ جاتی ہے.ابھی شروع رمضان میں اس باطل فرقے نے اپنا نام تبدیل کرکے”الخلافہ الاسلامیہ”رکہہ لیا.اور اس فرقہ کے خلیفہ جس کو ابوبکر البغدادی کہا جاتا ہے “موصل” کی ایک مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے کہا:

“میں تمہارا والی متعین کیا گیا ہوں،حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں”.

سچ ہے وہ محکوم سے بہتر نہیں ہے.اس لیے کہ اگر اس کے حکم اور اس کے ایما پر یہ قتل وخون اور انسانوں کو بیل بکریوں کی طرح ذبح کیا ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی.تو یقینا یہ اس کا بد ترین فعل ہے.

اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جو کسی کو راہ راست کی طرف بلاتا ہے تو اس کو اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا اس پر چلنے والے کو اور ان میں سے کسی کے ثواب میں کمی بہی نہیں ہوتی.اسی طرح جو کسی کو راہ بد کی طرف بلاتا ہے تو اس کو اس پر چلنے والے کے برابر گناہ ملتا ہے.اور کسی کے گناہ میں کوئی کمی بہی نہیں ہوتی” (مسلم)

اور مذکورہ جملہ جس کو بغدادی نے اپنے خطبہ کے دوران دہرایا ہے یہ وہ تاریخی جملہ ہے جس کو سب سے قبل حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جو کہ اس امت کے سب سے پہلے خلیفہ تہے انہوں نے اپنی خاکساری اور تواضع کی بنیاد پر کہا تہا.جب کہ صحابہ کرام کو دلیل وبرہان اور وہ عینی شہادت کی بنیاد پر معلوم تہا کہ اس امت کا سب سے بہتر اور برتر انسان حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ)ہیں.اور اس فرقہ اور اس کے مزعوم خلیفہ کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنا اور اپنے اعمال کا جائزہ لے.راہ راست کی طرف پلٹے قبل اس کے کہ وہ دیگر جماعتوں اور فرقوں کی طرح راکہہ کی طرح ہوا کے دوش پر منتشر ہوجائے اور اس کا نام ونشان مٹادیا جائے.

افسوس کی بات ہے کہ اس مزعوم خلافت کے فتنے نے بلاد حرمین کے بعض نونہانوں کو بھی متاثر کیا ہے.ان کی خوشی ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی پیاسا ریتیلی زمین کو دیکھ کر پانی کے دھوکہ میں پڑجاتا ہے.اور بعض نے تو اس مجہول خلیفہ کی بیعت کی بہی بات کی ہے،بہلا بتلائیے جس نے عام مسلمانوں کی تکفیر،ان کے بدترین قتل کا ارتکاب کیا،کیا اس سے کسی خیر کی امید کی جاسکتی ہے؟

ایسے تمام نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ہر مداری اور گہڑیال کے آنسو بہانے والے کے پیچھے بھاگنے سے بچیں.اور اپنے ہر معاملات میں کتاب وسنت اور سلف صالحین کی طرف رجوع کریں.جو ہر خیر کا چشمہ اور کامیابی کا ضامن ہے.

عربی میں اصل متن ملاحظہ کرنے کے لیےیہاں تشریف لائیں :
http://www.al-abbaad.com/index.php/articles/125-1435-09-28




کیا تنظیم الدولۃ (داعش) خارجی گروہ ہے ۔۔؟ ھیئۃ الشام الاسلامیہ (شامی جماعتوں) کی فتوی کمیٹی

الدولہ خارجی ہے

کیا تنظیم الدولۃ (داعش) خارجی گروہ ہے ۔۔؟

ھیئۃ الشام الاسلامیہ(شامی جماعتوں) کی علماءکمیٹی کا فتوی 

سوال :

کیا تنظیم (دولۃ) کو خوارج کے ساتھ متصف کرنا درست ہے، جبکہ خوارج تو وہ تھے جو کبائر گناہو پرتکفیر کرتے تھے اور تنظیم (دولۃ) کبائر گناہوں پر تکفیر کرنےکی رائے نہیں رکھتی ہے، اور خوارج تو وہ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے امام کے خلاف خروج کیا، اور شام یا عراق میں مسلمانوں کا کوئی امام نہیں ہے، بلکہ یہاں کے حکام تو اہل سنت کے ساتھ مخالفانہ رویہ رکھتے ہیں؟

پھر وہ کس طرح خوارج ہو سکتے ہیں جبکہ انہوں نے شریعت کو تھام رکھاہے، عراق اور شام میں جہاد کر رہے ہیں، اور شریعت کی حاکمیت کا مطالبہ کرتے ہیں؟
〰〰〰

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وبعد: خوارج امتِ اسلامیہ پر ایک خطرناک اور شرانگیزگروہ ہے، اس لیے سنتِ نبویﷺ کے اندران کی مکمل صفات کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے؛ تاکہ یہ لوگوں پر اپنے معاملہ پر تلبیس نہ کر سکیں، اور ان صفات کا اطلاق تنظیم (دولۃ) پرشدید تر اندازسےہوتا ہے۔ شرعی نصوص میں اس کی دلیل نہیں ہے کہ خوارج کا مسلمانوں کے امام کے خلاف خروج کرنا شرط ہے، یا کبائر گناہوں پر تکفیر کرناکوئی لازم امر ہے،یہ اصول اور تعریفات جن کا ذکر اہل علم کی جانب سے خوارج کے لیے کیا گیا ہے یہ فقط ان کے قریب ترین ضوابط کو بیان کرتے ہیں، یہ (فرقہ) خوارج کی صفات کے تناظر میں علمی اعتبار سے بیان ہوئے ہیں، اور اس میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں:

اولا:

سب سے پہلا معتبرضابطہ اورقطعی بات خوارج کی تعریف کے حوالے سےجوکسی گروہ کو اس صفت سے متصف کرتی ہے، وہ شرعی نصوص میں ان گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقے یا دیگر گروہوں سے متعلق وارد دلائل ہیں، سنتِ نبوی میں خوارج کی صفات کا تذکرہ موجود ہے، اور ایسا تفصیلی تذکرہ کسی دیگر فرقے کے بارے میں نہیں ملتا ہے،اس کی وجہ ان کاعظیم خطرہ اور امت کودھوکے میں جلد مبتلاکرنا ہے، اور ان میں سب سے اہم صفات یہ ہیں: تکفیر (ناحق) کرنا، ناحق خون کو حلال جاننا، قرآن وسنت کی نصوص سے متعلق سوء فہم رکھنا، طیش و افراط کا شکار ہونا، کم عمر اور ساتھ غرور وتکبر میں مبتلا ہونا ہے۔

ثانیا :

کثیر اہل علم نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ مذہبِ خوارج (کبائر کے مرتکب کی تکفیر کرنا) کی یہ صفت تمام ’خوارج‘ کے لیے جامع صفت نہیں ہے، نہ ہی یہ خروج کرنے کی واحد شرط ہے، بلکہ خوارج کے اندر وہ تمام شامل ہیں جو مسلمانوں کی ناحق تکفیر کرتے ہیں اور انکےخون کو حلال کرتے ہیں اگرچہ وہ کبائر کے مرتکب کے کفر کا عقیدہ نہ بھی رکھتے ہوں۔

اس لیے نبی ﷺ نے ان کی صفت کے متعلق آگاہی دی کہ (یہ اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں)، اور اہل علم نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ ان کے مسلمانوں کو قتل کرنے کا سبب: اپنے مخالفین پر کفر اور ارتداد کا حکم ہے۔

?قرطبیؒ [المفھم] میں کہتے ہیں:

’’پس یہ اس لیے کہ جب یہ ان پر کفر کا حکم لگاتے ہیں جو مسلمانوں میں سے ان کے خلاف خروج کرتا ہے، تو یہ ان کے خون کو حلال جانتے ہیں ‘‘

?ابن تیمیہؒ [الفتاوی] میں کہتے ہیں:

’’خوارج اپنے دین کو واجب التعظیم اور بلندتر سمجھتے ہیں: جماعت المسلمین میں سے نکل جاتےہیں، اور انکے خون اور اموال کا حلال کر لیتے ہیں ‘‘ اور فرمایا:

’’یہ اہل قبلہ کے خون کو حلال اس اعتقاد کے ساتھ کرتےہیں کہ یہ مرتدین ہیں اور یہ (اصلی) کفار( جو مرتدین نہیں ہیں )کے مقابلے میں اِن (اہل قبلہ) کے خون کو زیادہ حلال جانتے ہیں ‘‘ ابن عبدالبر [الاستذکار] میں کہتے ہیں:

’’یہ وہ قوم ہے جوکتاب اللہ سے تاویل کی بنیاد پر چیزوں کو حلال کرتی ہے: مسلمانوں کے خون کو حلال جانتی ہے، ان کی گناہوں پر تکفیر کرتی، اور ان کے خلاف ہتھیار اٹھاتی ہے ‘‘ وہ خوارج جو امیر المومنین سیدنا علیؓ بن ابی طالب اور دیگر صحابہ ؓ کے خلاف نکلے وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے ،جو کبائر گناہوں مثلاً زنا، چوری، شراب نوشی پر تکفیر کرنے کا عقیدہ رکھتے تھے، بلکہ انہوں نے صحابہؓ کی تکفیر تحکیم کے مسئلہ پر کی تھی، اور ان (صحابہؓ)کے ساتھ کوئی اصلاً گناہ کی بنیادپرتکفیرنہ تھی، پس انہوں نے سیدنا علیؓ اورسیدنا معاویہؓ اور اس (صلح) میں تحکیم کرنے والوں اور اس تحکیم پر راضی ہونے والوں کی تکفیر کی، ان کے خون کا حلال کیا،پھر اس کے بعد صحابہ ؓ نے ان کے اوپر خوارج ہونے کا حکم لگایا ، جن کے متعلق انہوں نے نبی اکرم ﷺسے ان کے افعال کے متعلق خبر سن رکھی تھی، پھر اس کے بعد صحابہؓ نے ان کے باقی مذہبی عقائد سے متعلق اِن خوارج سے استفسار نہیں کیا کہ آیا وہ (کبائر) گناہوں پر تکفیر کرتے ہیں کہ نہیں!

بلکہ [النجدات]جو بالاتفاق تمام اہل علم کے نزدیک خوارج کےبڑوں میں سے ہیں، وہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب کی تکفیر نہیں کرتے تھے،

ابو الحسن الاشعری [مقالات الاسلامیین] میں کہتے ہیں:

خوارج کے عقیدے سے متعلق یہ واضح ہے

’’یہ خوارج (کےدیگر گروہ) سوائے النجدات کےاس بات پر جمع ہوئے کہ تمام کبیرہ گناہوں کا مرتکب کفر پر ہے، جبکہ النجدات یہ رائے نہیں رکھتے تھے ‘‘ خوارج کے عقیدے سے متصف جامع صفت ’’ ناحق مسلمانوں کی تکفیر اور انکے خون کو جائز کرنا ہے‘‘،

اور اس تکفیر (ناحق)کرنے کی بہت ساری صورتیں ہو سکتی ہیں:

جیسا کہ کبائر گناہ کے مرتکب کی تکفیر یا مطلقاً کسی گناہ کی بنیاد پر تکفیر،یاایسے گناہ پر تکفیر جو اصلاً گناہ ہی نہیں ہے، یا ظن اور شبہات پر تکفیر یا امورِ احتمال (امکانات) ہونے کی بنیاد پر تکفیر یا ایسے امور پر تکفیر جن میں اختلافِ رائے اور اجتہاد جائز ہوتا ہے، یا شروط(تکفیر) کی تحقیق کے بغیر تکفیر اور موانع (تکفیر) میں کوتاہی کی بنیاد پر تکفیر قابلِ ذکر ہیں۔ جب علماء اُن پر خوارج ہونے کا حکم لگاتے ہیں جو کہ کبائر گناہوں کے مرتکب کی تکفیر کرتے ہیں،تو پھر اس شخص یا گروہ کا کیا معاملہ ہو گا جو صغائر پر تکفیر کرے اور اجتہادی امور کی بنیاد پر تکفیر کرے یا ان چیزوں پر تکفیر کرے جو جائز ہیں جیسا کہ مثلاً کفار کے ساتھ بیٹھنا یا ان سے پیغام رسانی کرنا۔

ثالثا :

اس لیے شرعی نصوص میں یہ شرط نہیں ہے کہ (مسلم امام کے خلاف خروج) خوارج کی جامع صفت ہے، بلکہ وہ تمام جو یہ عقائد رکھتے ہیں اور انکے منہج پر ہیں وہ سب کے سب خوارج ہیں، چاہے وہ امام کے خلاف خروج کریں یانہ کریں، اور (ائمہ کے خلاف خروج) خوارج کے نزدیک ناحق تکفیر اور مسلمانوں کے خون کو حلال جاننے کے نتیجہ کے طور پر ہوتا ہے، پس اگر خوارج کو امام مل جائے تو وہ اس کے خلاف خروج کرتے ہیں اور انکے خون اور اموال کو حلال جانتےہیں، اور اگر امام میسر نہ ہو تو وہ عامۃ المسلمین اوراولیٰ نیک سیرت مجاہدین اور علماء اور داعیان کے خلاف خروج کرتے ہیں۔

ان کو ’’خوارج‘‘ کی اصطلاح سے اس لیے پکارا جاتا ہے کیونکہ یہ احکامِ دین سے خروج کرتے اور جماعت المسلمین سے علیحدگی اختیار کر تے ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: [آخری زمانے میں ایک قوم پیدا ہو گی جو کم سِن ہوں گےاور وہ بے وقوف کم عقل ہوں گے، وہ اپنے بیان کے اعتبار سےبہترین کلام پیش کریں گے، وہ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن یہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ دین سے ایسے نکلے ہوں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر تمہارا ان سے سامنا ہو جائے تو ان سے قتال کرو، کیونکہ ان کو قتل کرنے پراللہ کے ہاں قیامت کے دن اجر دیا جائے گا]

اور جب لوگوں نے تاتاریوں کے حکم سے متعلق اختلاف کیا تو ابن تیمیہؒ نے انہیں خوارج کی اقسام میں سے قرار دیا حالانکہ انہوں نے امام کے خلاف خروج نہیں کیا تھا۔

?حافظ ابن کثیر [البداية والنهاية] میں کہتے ہیں:

’’ لوگوں نے تاتاریوں سے متعلق قتال کی نوعیت سے متعلق کلام کیا کہ ان کو کس ضمرے میں رکھا جائے، کیونکہ یہ اسلام کا اظہار کرتے ہیں، اور انہوں نے امام کے خلاف خروج بھی نہیں کیا ہے،کیونکہ یہ تاتاری تواس وقت امام کی اطاعت میں ہی نہ تھے یا پھر اس کے بعدامام کی مخالفت کی ہو!‘‘

? شیخ تقی الدین (ابن تیمیہؒ) کہتے ہیں:

’’ یہ تاتاری خوارج کی اُن اقسام میں سے ہیں ،جنہوں نے سیدنا علی اور سیدنا معاویہؓ کے خلاف خروج کیا تھا، میں دیکھتا ہوں یہ اس حکم(خوارج) کے زیادہ مستحق ہیں، یہ لوگ اس بات کا زعم رکھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں میں سے سب سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں کہ وہ اقامتِ حق کریں‘‘ اگر خوارج اپنی ریاست بھی قائم کر لیں، تو بھی یہ ان کی صفتِ خروج(عامۃالمسلمین اور خیار امت کے خلاف خروج) کو ختم نہیں کرتی، خوارج نے تو کئی بار تاریخ کے مختلف ادوار میں ریاستوں اور امارات کو قائم کیا ہے، بلکہ ان میں تو وہ فرقے بھی موجود رہے ہیں جنہوں نے خلافت کی دعوت دی، ان سب (ریاست، خلافت اور امارات کو موجودگی)کے باوجود ان کی صفتِ خروج (ائمہ یا عامۃ الناس یا خیار امت) پر واپس نہ لی گئی اور نہ ہی انہیں اس وقت تک خوارج کے حکم سے رخصت ملی جب تک کہ وہ اہل اسلام کی(ناحق) تکفیر کرتے رہے اور ان کے خون کو حلال جانتے رہے۔

رابعا :

اطاعت میں جاں فشانی کی دعوت اور نفس کی قربانی، شریعت کی تطبیق کی دعوت یا طواغیت سے قتال، اس بات کو لازم نہیں کرتے کہ اس فکری انحراف( مذہب ِخوارج) سے سلامتی مل چکی ہے، بلکہ یہ مذکورہ بالا اقوال تو خوارج کی طویل ترین تاریخ سے ایک معلوم بات ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے خوارج کی عبادات کے اندر جاں فشانی سے متعلق ہمیں خبر دی یہاں تک کہ ہمیں خود دھوکہ ہونے کا شائبہ ہوا، انہوں نے فرمایا:

’’ تم میں سے ہر ایک ان کی نمازوں کے مقابلے میں اپنی نمازوں کو حقیر جانے گا اور انکےروزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر جانے گا ‘‘ (متفق علیہ)

 

? حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں:

’’ ان کو [قراء، پڑھنے والے] اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی تلاوت اور عبادات میں بہت ریاضت کرتے تھے حالانکہ وہ قرآن مجید(احکاماتِ شریعہ) کی تاویل کر کے وہ باطل بات مراد لیتے تھے، جو اس میں مذکور نہ ہوتی تھی، اپنی مستبدانہ (جابرانہ، متشدد) رائے کو اختیار کرتے تھے، زہدو خشوع میں جزویات کا حد سے زیادہ خیال رکھنے والے تھے اور اسی طرح کے دیگر امورِ شریعہ میں یہ رویہ اپناتے تھے ‘‘

 

? السندی[ حاشيته على سنن النسائي ] میں کہتے ہیں:

’’ہر وہ جو خیارِ امت(امت کے نیک ترین لوگ) کے بعض ظاہری اقوال پر کلام کرتا ہے ، مثلاً إن الحكم إلا لله (حکم تو صرف اللہ ہی کا ہے)، اُن (اقوال کی)کی نقل کرے، اوراُس کو کتاب اللہ کی طرف دعوت سے منسوب کرے‘‘ خوارج کے بڑے عہدِ علیؓ بن ابی طالب کے دور میں جمع ہوئے، اور قرآن کو حکم بنانے کا عہد لیا، حق کو طلب کرنے کی بات کی اور ظلم سے انکار کیا، ظالموں سے جہاد کرنے اور دنیا سے بےرغبتی پر یکجا ہوئے، نیکی کی دعوت اور برائی سےبچنے کی نصیحت کی، پھر اس کے بعد صحابہؓ کے خلاف قتال پر نکل کھڑے ہوئے۔

 

خامسا :

بلاشبہ تنظیم (الدولۃ) سے متعدد(شرعی) خلاف ورزیاں سرزد ہوئی ہیں، یہ ان کے اقوال سے بھی نشر ہو کر ہم تک پہنچی ہیں اور ان کے متواتر افعال بھی اس پر گواہ ہیں، جو ہم سے اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم ان کے اوپریہ حکم لگائیں کہ یہ خوارج ہیں اور منہج نبوت سے انحراف پر ہیں، اور وہ وجوہات درجہ ذیل ہیں:

1- مسلمانوں کے ملکوں پر اِن کا یہ حکم لگانا کہ یہ کفر اور ارتداد کے ممالک ہیں، اور مسلمانوں کے اوپراپنی (تنظیم) کے اختیار اور اثرورسوخ والے علاقوں پر ہجرت کو واجب قرار دینا۔

2- جو ان کی مخالفت کرے ان پر کفر اور ارتداد کا حکم لگانا، ان کو صحوات(مرتدین) سے متصف کرنا، ان پر خیانت کرنے اور کفار کے آلہ کار ہونے الزام لگانا، صرف شبہ اور جو چیزاصلاً کفر نہیں ، کی بنیاد پرتکفیر کرنا ، جیسا کہ حکومتوں اورباقی نظم کے ساتھ تعامل کرنا اور ان کے مسوؤلین سے ملاقات کرنا۔

 

3- ان (دولۃ)کے منہج کی مخالفت کرنے والوں سے قتال کو حلال جاننا یا اپنی فرضی دولت (ریاست یا خلافت) کی بنیاد پر (غیر جانبدار شرعی عدالتوں میں)تسلیم ہونے سے انکار کرنا، مسلمانوں کے ساتھ جبر، غدر،قید،قتل، تعذیب والے معاملات کرنا اور مجاہدین کے مراکز پر دھماکہ خیر گاڑیاں بھیجنا، شامی انقلاب کے قائد مجاہدین، داعیان، اعلامی شہسواروں کو قتل کرنا،ان لوگوں کے خلاف جو عراق وشام میں ان کےنظم کے تابع نہ ہوں انکے خلاف عملی طور پر برسرپیکار ہونا، ان مسلمانوں کو قتل کرنا جن کو دشمن بھی قتل نہ کر سکا، ان سب جملۂ معاملات سے ان پر رسولﷺ کا یہ قول صادق آتا ہے: ’’یہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور مشرکین کو چھوڑ دیں گے‘‘ (متفق علیہ)

4- مسلمانوں کے مال کو اس حجت سے حلال کر کے لوٹنا کہ وہ منحرف جماعتوں سے لڑ رہے ہیں، بغیر حق کے ان کی ملکیت کو ضبط کرنا، عوامی وسائل مثلاً تیل کے کنوؤں وغیرہ سے حاصل ہونے والی آمدن سے متعلق اجارہ داری سے کام لینا، اور ان میں متمکن حاکم کی طرز پر اصراف سے کام لینا شامل ہے۔

5- امت مسلمہ  کے خلاف خروج کرنا، اور حق(اسلام) کو اپنے منہج میں محصور کر لینا، ان تمام پر جو اِن کی فکر اور منصوبےسے اختلاف کرے، اس پر دین کے دشمنوں کا حکم لگا دینا، اور آخر میں ان سب کو(نام نہاد خودساختہ) ’خلافت‘ کی دعوت دینا، اور تمام مسلمانوں پر اپنی بیعت کو لازم کرنا ہے۔

6- ان کے پاس کوئی بھی معروف علماء نہیں ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک مشہور ہوں،

جس طرح ابن عباس ؓ نے انکے جدِ امجدخوارج سے کہا تھا:

’’ میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار صحابہؓ کی جانب سے آیا ہوں۔۔۔ان کے دور میں قرآن نازل ہوا، تمہاری جماعت میں ان میں سےکوئی بھی نہیں ہے‘‘ ان کی غالب اکثریت ان کم سِن افراد کی ہے جن پربےقراری ، عجلت پسندی،جوش کا غلبہ ہے اور ساتھ یہ قلتِ نظر اور فہم وادراک سے بھی عاری ہیں، تنگ نظر ہیں اور بصیرت سے محروم ہیں، یہ بالکل ایسےہی ہیں جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: (کمِ سن وکم عقل بےوقوف)

7-  یہ سب محرکات انہیں غرور اور مسلمانوں کے معاملہ میں تکبر کی طرف لے گئے ہیں، یہ اپنے بارے میں گمان رکھتے ہیں کہ یہ ہی فقط مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں، اور یہی جہاد میں اللہ کی سنت سے متعلق اصل علم والے ہیں،پس اسی سبب یہ اپنے اعمال اور خودکو آگے بڑھانے سے کثرت سے فخر کرنے لگے ہیں۔

یہی وہ غرور ہے جو انہیں اہل علم اور اہل حکمت کے خلاف لے کر گیا ہے، انہوں نے انکےکلام کو چھوڑ دیا ہے، اپنے اوپر علم اور فہم کا تمام دعوی کر دیا ہے، ان تمام بڑے حادثات کا سامنا ان کی ناتجربہ کاری اور عدم غوروفکر کی وجہ سے اہلِ شام کو کرنا پڑا ہے، اپنے اور دیگر جماعتوں کے مابین غیرجانبدار تحکیم کا انکارکیا ہے۔

 اسطرح انہوں نے غاصب نظام(بشار الاسد) کی نصرت مجاہدین کے خلاف قتال اور حصار سے کی، ظالم نظام کے سامنے مجاہدین میں توڑ پھوڑ ڈالنے پر مسرت کا اظہار کیا، ان کے مراکز پر قبضہ کیا، حتی کہ یہ اب بھی بعید از قیاس بات نہ رہی ہے کہ ان کی صفوں میں اسلام دشمن عناصر اور بعض ملکوں کے خفیہ اداروں نے بھی ان کے اندر ڈیرہ جما لیا ہے، اس کے ذریعے یہ مجاہدینِ شام پر ضرب لگاتے ہیں اور ان اعمال(بد) کو سرانجام دیتے ہیں جس پر دشمن براہ راست جنگ کے سبب بھی عاجز آ چکا تھا۔ تنظیم (الدولۃ) میں وہ شر جمع ہوا جو اس سے قبل کسی بھی خوارج کے گروہ میں جمع نہ ہوا تھا، جس میں باطل پر اکٹھا ہونا، حق سے منع کرنا اور غیرجانبدار تحکیم کا انکار رکرنا، جھوٹ، غدر، خیانت، عہدتوڑنا، اسلام دشمنوں کی (اپنے اعمال کی وجہ سے) مدد کرنا، حتی کہ یہ مسلمانوں اور مجاہدین پر نصیری نظام کے مقابلہ میں سب سے بڑھ کر خطرہ بن گئے ہیں اور اولین خوارج سے شر،بدبختی اور انحراف میں سبقت لے گئے ہیں۔

?? ہم تنظیم (الدولۃ) پر یہ حکم لگاتے ہیں کہ یہ خوارج ہیں، یہ بات اس چیز کو لازم نہیں کرتی کہ ہم تمام افراد پر جو اس جماعت میں موجود ہیں ان پر (معین) حکم لگائیں؛ اگران کے اندر ایسےافراد موجود ہیں جو ان کے اقوال و احوال یا ان کے دھوکہ سے لاعلم ہیں، تو بھی یہ حکم(خوارج) کا اطلاق جماعت پر ہے، جس کی ضرورت فقط ان سے ساتھ تعامل کرنے کے مقصد سے بیان ہو رہی ہے، ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم ان کے شر کودور کریں اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے گمراہوں کو ہدایت دیں، انکے ظالمین کوبکھیر دیں، اور مسلمانوں کے اوپر ان کے شر کے لیے کافی ہو جائیں۔(آمین)

والحمد لله رب العالمين

مصدر: http://islamicsham.org/fatawa/1945




داعش کے متعلق سعودی عالم دین شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کا فتوی

سعودی شیخ کا فتویداعش کے متعلق سعودی عالم دین شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کا فتوی

سعودی عرب کے مشہور سلفی عالم دین شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ سے داعش کے متعلق سوال ہوا جس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے ۔ عربی متن اور آڈیو اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے۔
http://ar.alnahj.net/audio/1402

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:

شیخ بارک اللہ فیکم ! آپ تنظیم داعش کے بارے کیا کہتے ہیں جو مختلف نیوز چینلز اور دوسرے ذرائع ابلاغ پر پھیلے ہوئی ہے ؟

جواب:

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی اتمان الاکملان مبعوث رب العالمین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین اما بعد !

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا و آخرت کی بھلائی صرف اور صرف اسی چیز میں ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی پیروی کرنے میں اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے عمل کیا ہے ۔ اللہ عزوجل نے حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ، اور ان پر دین کو مکمل کر دیا ،

پھر صحابہ کرام ﷢ نے اللہ کےدین کو سمجھنے کا حق ادا کیا ، پھر ٹھیک ٹھیک اس پر عمل کیا اور انہوں نے اس سرزمین کو خیر و برکات سے بھر دیا ، لوگ فوج در فوج مشرف باسلام ہونے لگے ، دریں اثناء ایک ایسی لوگ ظاہر ہوئے جنہوں یہ باور کروایا کہ ہم اس دین کے لئے صحابہ کرام ﷢ سے زیادہ مخلص اور زیادہ غیرت مند ہیں ، خبردار !!! یہی لوگ خوارج ہیں ۔

یہ لوگ ہر زمانے میں ظاہر ہوتے رہے ہیں ، اور جب بھی یہ اپنا سر نکالنے کو شش کرتے ہیں تو کاٹ دیا جاتا ہے ان کے پہلے اور آخری کی وہی صفات ہیں جو رسول اللہﷺ نے بیان فرمائی ہیں ۔ یہ کم عمر ہوں گے ، کم عقل ہوں گے ، ساری دنیا کی بہترین باتیں کریں گے ، قرآن کی تلاوت کریں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ہمارے حق میں ہے حالانکہ یہ قرآن ان کے خلاف ہو گا ، ان کا ایمان ان کے حلق سے تجاوز نہیں کرے گا ، مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے ۔ جو بھی ان کی مخالفت کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا ، اور اسے یہ ختم کر دیں گے ، اس کا خون حلال سمجھ لیں گے ، اس کا مال غنیمت اور اس کی عورتیں لونڈیاں بنا لیا جائیں گی ۔

ایک دن انہی کے ایک ساتھی نے مجھے حج کے موقع پر کہا کہ : تمہارا ان حجاج کے بارے میں کیا خیال ہے جو تقریبا تین لاکھ ہیں ان میں سے ایک بھی اللہ کو نہیں پہچانتا ۔

میرے بھائیوں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کے اوائل کو یعنی علی ﷜ کی بھی تکفیر کی کیونکہ انہوں نے لڑائی کرنے کے بعد مال غنیمت اور قیدی نہیں بنائے تھے ، تو یہ ان لوگوں کی گمراہ سوچ ہے ۔

یہی لوگ داعش میں بھی موجود ہیں ، خوارج کی ان تمام صفات ان میں پائی جاتی ہیں ، یہ سارے سنت رسول ﷺ کے مخالف ہیں ، امت مسلمہ کے لئے شدید نقصان دہ ہیں ، شرعی جہاد کو امت مسلمہ سے اوجھل کیا جارہا ہے ، اپنے ہتھیاروں کو اہل السنۃ پر سونتے ہوئے ہوتے ہیں صرف اس دلیل کی بنا پر کہ وہ مرتد ہو چکے ہیں منافق ہو گئے ہیں ، اور ان کا قتل یہود و نصاری کےقتل سے زیادہ اہم ہے ۔

گزشتہ رمضان المبارک میں یہودیوں نے غزہ پر حملہ کیا ، مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ، حالانکہ یہ داعش تنظیم عراق اور شام میں ہونے کے باوجود فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کے لئے کھڑی ہوئی ؟؟؟ بالکل بھی توجہ نہیں کی بلکہ یہ تو سعودیہ دولۃ التوحید والسنۃ کی حدود پر چڑھ دوڑے ۔

رمضان المبارک کے پہلے پہلے جمعۃ کے دن عین نماز جمعہ کے موقع پر ان لوگوں نے حملہ کیا ، کیونکہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ تمام سعودی افواج جمعۃ المبارک کی نماز ادا کرتے ہیں ، انہوں نے کار بم دھماکا کیا اور شہر میں داخل ہو گئے ، فساد پھیلانے کی کوشش کی لیکن اللہ عزوجل نے انہیں ذلیل و رسوا کیا ۔

ادھر یمن میں اہل السنہ کو حوثی روافض شہید کر رہے ہیں اور القاعدہ یمن میں اپنی تمام ہتھیاروں سمیت موجود ہے ، ایک مرتبہ بھی اہل السنہ کی حمایت کے لئے کھڑے نہیں ہوئے بلکہ ان پر ہنستے ہیں اور خوش ہوتے ہیں ۔ میں ان جیسے لوگوں سے خیر کو کیسے تلاش کروں جو علماء کے مخالف ہیں ، اعتدال پسندی سے بالکل خالی ہیں ۔

میرے بھائیوں ان کی دلفریب باتوں کی مٹھاس سے بالکل بھی دھوکا نہیں کھانا چاہیے تحقیق رسول اللہ ﷺ نے انہی کے بارے فرمایا : یہ باتیں تو بڑی خوبصورت کریں گے لیکن کام بہت برے کریں گے ۔ اب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم خلافت کا قیام چاہتے ہیں ، ہم اللہ کی شریعت کو مسلمانوں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں ، اللہ کی قسم جو وحدہ لاشریک ہے ، اللہ کی قسم جو وحدہ لا شریک ہے ، اللہ کی قسم جو وحدہ لا شریک ہے ، کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ ان سے محبت کرے ، اور نہ ہی ان کے لئے دعاکی جائے البتہ ہدایت کی دعا کی جاسکتی ہے ۔ اور نہ ہی کسی مسلمان کے لئے کسی بھی علاقے میں ان کی بیعت کرنا جائز ہے ،

اور باقی یہ کہ میں اللہ کی تعریف بیان کرتا ہوں ، تم اپنے اپنے علاقوں میں ہی رہواور اللہ کی نافرمانی علاوہ اپنے حکام کی اطاعت کرو ، نیز ان کی خیر خواہی اور ان کو نصیحت بھی کی جائے اور ان کو توحید و سنت کے قریب کیا جائے ، انہی سے آپ خیر میں رہیں گے ان شاء اللہ۔




القائدہ کے مفتی ابوقتادہ فلسطینی کا داعش کے خارجی ہونے کا فتویٰ:

ابو قتادہ فلستینیالقاعدہ کے مفتی شیخ ابوقتادہ فلسطینی کا فتویٰ

مجاہدین اور محبان جہاد کے نام ایک پیغام

منجانب شیخ ابوقتادہ فلسطینی:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ خط میں شدید دکھ کیساتھ لکھ رہا ہوں اور اگر یہ اللہ کیساتھ اس عہد کے مطابق نہ ہوتا جوکہ اس نے اپنی مخلوق سے لیا تھا تو میں یہ خط کبھی نہ لکھتا۔اللہ گواہ ہیں کہ میں نے اس خط کو جاری نہ کرنے کے لیے اپنے آپ سے کتنی سخت جدوجہد کی ہے لیکن اس بات کے خوف نے کہ کہیں میں وہ سچ تو نہیں چھپا رہا جو کہ میں جانتا ہوں میں اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکا۔میں نے خاص حلقہ احباب میں اور عوامی سطح پر ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اہل جہاد پر سے کسی بھی نقصان کو ہٹاوں تاہم وہ لوگ جو کے جھوٹ ،شیطان اور گمراہی کا شکار ہوچکے ۔انکا عظیم مقصد صرف جہاد کو تباہ کرنا ہے اور اسکی بھلائی انہیں مقصود نہیں ہے ۔

ان الفاظ کا مخاطب “الدولۃ الاسلامیہ فی العراق کی قیادت اور شام میں انکی شاخ ہے “۔ مجھے اسپر مکمل شرح صدر حاصل ہوچکی جسمیں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہ گروہ (الدولۃ الاسلامیہ)بمعہ اسکی عسکری و اسلامی قیادت کے “جہنم کے کتے”  ہیں اور انکے اعمال اسپر گواہی دیتے ہیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کی اس تعریف پر سب سے زیادہ پورا اترتے ہیں جو کہ احادیث میں وارد ہوئی ہے۔ “وہ مسلمانوں کو ماریں گئیں اور کافروں کو چھوڑ دیں گئیں ۔

اللہ کی قسم ! اگر میں انہیں پا لوں تو قوم عاد کی طرح قتل کروں “۔ میں انکے بدترین اعمال کیوجہ سے اس فتوی کو دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا ۔ میں نے انہیں سمجھانے کی ہرممکن کوشش کی حتی کے انہوں نے نصحیت ،سچائی و رہنمائی کو ماننے سے انکار کردیا ۔

میرا یہ خطاب ان لوگوں کیساتھ ہے جو کے اپنے آپ کو ان سے منسوب کرتے ہیں اور جنکے دلوں میں رتی بھر بھی سنت ، دین یا اللہ کا خوف ہے ،جو مسلمانوں کا خون بہانے سے ڈرتے ہیں کہ یہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ تعریف کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ ہم ایسے لوگوں کے متعلق (خارجی کے علاوہ)کوئی اور نام تلاش کریں ۔

بعض لوگ یہ اعتراض کریں گے کہ خوارج کی تعریف ان کے عقیدے پر پورا نہیں اترتی کیونکہ خوارج یہ یقین کرتے تھے کہ جو بھی بندہ کبیرہ گناہ کرتا ہے وہ مرتد ہوتا ہے لیکن رسول اللہ ﷺ کی حدیث و تعریف ہمیں انکے رویے کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہے بغیر اس بحث میں جائے کہ انکا عقیدہ کیا تھا ۔ انکے بڑوں کا رویہ حضرت علی ﷜کے دور میں بھی ایسا ہی تھا جیسا کے آج انکا ہے ،اسلیے کسی کوبھی رسول اللہ ﷺ کے فتوی کے علاوہ بات نہیں کرنی چاہیے ۔ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جو کہ ایمان والوں کیساتھ لڑائی کرتے ہیں جیسے کے جبھۃ النصرہ۔(اللہ انکے کمانداروںوعلماء کی حفاظت فرمائے آمین )۔

یہ وہ ہیں جوحکیم الامت شیخ ایمن الظواہری جیسے جہاد کے رہنماوں پر پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا منہج بدل لیا ہے ،یہ وہ ہیں جو کے الفاظ سے دھوکہ دیتے ہیں ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ جہاد کے راستے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے نہ ہی یہ اہل جہاد کے عقیدے کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی انکی حکمت عملی کو ۔انکا یہ دعوی کتنا عجیب ہے کہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کاعقیدہ شیخ اسامہ بن لادن کے عقیدے سے ہٹ کر ہے !ماسوا انکے جو کہ انکے ہی جیسے ہیں ان کی بات کوئی نہیں سنتا جو ان لوگوں (مجاہدین رہنما)کی تاریخ کو نہیں جانتے اور انکے کارناموں کی انہیں کچھ خبر نہیں ہے ۔

یہ دوسروں کو اپنے الفاظ و اصطلاحات سے گمراہ ہونے کا الزام دیتے ہیں حالانکہ یہ خود اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں گمراہ ، جھوٹے و متکبر کہہ کر پکارا جائے !گو کہ ان کے الزامات کی اب میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں ہے اور یہ مجھے زیادہ متاثر نہیں کرتے لیکن انکے جرائم ہمارے سر پر یہ ذمہ داری ڈالتے ہیں کہ ہم ان سے اظہار برآت کریں کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی بتائی گئی خوارج کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔

مجھے اچھی طرح ادراک ہے کہ جاہل بہت ساری باتیں کریں گے جن میں سے کم از کم یہ بات ہوگی کہ “یہ بندہ جیل میں ہے اس لیے کچھ نہیں جانتا”۔ میں جوابا کہتا ہوں کہ اللہ گواہ ہیں کہ میں ان سے زیادہ جانتا ہوں ۔مسئلہ ہرگز یہ نہیں ہے کہ مجھے معلومات نہیں مل رہیں بلکہ دراصل یہ ہے کہ میں ان معلومات میں سے بہت کم ہی افشا کرسکتا ہوں ۔

میں اس مقام پر نہیں ہوں کہ میں ہرروز دوسروں کی طرح ایک نیا بیان جاری کرسکوں اور یہی وجہ ہے کہ میدان ان جیسے جہلاء کے لیے خالی پڑا ہے جو کے الدولۃ کے ساتھ یوں چمٹے ہوئے ہیں جیسے ایک جاہل اپنے قبیلے کیساتھ جہالت کیوجہ سے چمٹا ہوتا ہے ۔میرا یہ خطاب صرف ان لوگوں تک ہی محدود نہیں ہے اگر دین میں کوئی بدعت پھیلتی ہے تو اسکی مثال کتے کی بیماری کی طرح ہے جو کے ہرروز اسے اندر باہر سے کمزور و اندھا بنارہی ہوتی ہے ۔

میں اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں کہ معاملات اس حد تک پہنچے اور جہادی صفوف کی صفائی ہوئی اور اہل جہاد و اہل بدعت میں فرق واضح ہوگیا۔ میں مجاہدین شام کے دکھ کو محسوس کرسکتا ہوں جو کے انہیں ان لوگوں کے جرائم کی وجہ سے پہنچا ہے ،جو کبھی انکے ساتھ ملکر غداروں سے لڑرہے تھے لیکن انکے جنون و انتہا پسندی نے انہیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ ساتھیوں کا خون بھی حلال کربیٹھے ہیں ۔

میں ان تمام مجاہدین کو جو ان سے محبت رکھتے ہیں دعوت دیتا ہوں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کو غور سے پڑھیں اور سمجھیں “کہ میری امت میں ایک گروہ بقیہ رہے گا” یہ اس لیے کے وہ سمجھیں کہ یہ ایک گروہ (مجاہدین) ہمیشہ رہنے والا ہے  جسکو  یہ (الدولۃ کے خوارج )جہادی رہنماوں ،انکے کمانڈروں اور انکو جنہوں نے جہاد کا پودا اپنے خون سے سینچا ہے اور اپنی نسلوں کی زندگیاں اسکے لیے قربانی دی ہے ،مار کر توڑنا چاہتے ہیں !!۔اور ایسا کرنے کے بعد یہ خوفناک بیانات جاری کرتے ہیں !

میں اس لیے جبھۃ النصرہ میں علم سے محبت رکھنے والوں اور اسکے طالبین ،ڈاکٹر سامی العریدی حفظہ اللہ ، ابوماریہ العراقی حفظہ اللہ اور عبداللہ الشامی حفظہ اللہ اور انکے ساتھ ساتھ ڈاکٹر المحسینی کے صبر اور انکی کوششوں کا شکر گزار ہوں جو انہوں نے ان جاہلوں کے پھیلائے ہوئے شبہات کا جواب دینے کے لیے کی ہیں ۔میں یہاں الشام کے سارے اہل علم کا تذکرہ نہیں کرسکتا ۔

شام کا جہاد جہاں بدترین دشمن کے ہاتھوں مصائب کا شکار ہے وہاں ایسے جہلاء کے ہاتھوں بھی مصائب کا شکار ہے جو کے جہاد سے محبت رکھتے ہیں یہ بھی جہاد کو اسی طرح نقصان پہنچا رہے ہیں جیسے کے دشمن پہنچا رہا ہے ۔ایمان دار لوگوں کو انکے جرائم کے مقابلے پر صبر کرنا چاہیے

اہل علم اور اہل فراست کو اس حدیث پر غور کرنا چاہیے “میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کرتا”۔یہ حدیث نہ خیبر کے یہود سے متعلقہ ہے اور نہ ہی یہ قریش پر منطبق کی جاسکتی ہے حالانکہ وہ رسول اللہ کے سب سے سخت دشمن تھے ،اسکی وجہ یہ ہے کہ ان خوارج کا کتوں کے پاگل پن کی طرح کوئی علاج نہیں کیا جاسکتا اور ان میں سے اگر کوئی ایک بھی زندہ بچ گیا تو وہ امت محمدیہ کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہوگا ۔

اس گروہ خوارج کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے ۔ اگر ان میں سے ایک یا دو بھی زندہ بچ جائیں تو یہ اپنی گمراہی صحراوں میں اور ان جگہوں پر تیزی سے پھیلا دیں گئیں جہاں علم کی کمی ہو جسکا نتیجہ انکے دوبارہ ابھرنے کی صورت میں نکل سکتا ہے الدولۃ کا گروہ وہی خوارج کا گروہ ہے جو کے ماضی میں پایا جاتا تھا ،ان دونوں میں رتی بھر بھی فرق نہیں ہے ۔

اگر سوال کرنے والا انکے متعلق فتوی پوچھے یا اسکی دلیل طلب کرے تو اسے اہل جہاد کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔یہ بات ورطہ حیرت میں ڈالنے والی ہے کہ یہ ذلت کی اس انتہا پر پہنچ گئے ہیں کہ انہوں نے اہل جہاد کو بھی اپنا دشمن بنا لیا ہے !انہیں مرتدین کہتے ہیں انکے رہنماوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کے اموال کو حلال سمجھتے ہیں ! ان امور کے بعد شک و شبہ کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ؟ یہ میرا انکے متعلق فتوی ہے اور میں اسکے لیے اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں اور اگر یہ جہاد کے حق میں نہ ہوتا اور مجھے خاموش رہنے میں حکمت محسوس ہوتی تو میں ضرور ایسا ہی کرتا ۔ اللہ گواہ ہے کہ میرا ان الفاظ کا مقصد صرف نصیحت کرنا ہے اور سنت پر عملدارمد کرنا اور جہلاء کے شر کو رفع کرنا و جہاد کو ان سے پاک کرنا ہے ۔

یہ الفاظ میں ایسی جگہ(جیل خانہ) سے کہہ رہا ہوں جہاں سے میں اس فتوی پر اٹھنے والے سوالات کا جواب یا ان اعتراضات کا جواب نہیں دے پاؤں گا جو کہ اس فتوی سے متعلق اٹھائیں جائیں گئیں ۔زندگی کی نعمت تھوڑی ہے اور اسمیں اللہ ہی کو خوش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جتنی بھی کوئی کرسکے ۔جو کچھ میں نے اوپر کہا ہے وہی دوسرے علماء کا بھی فرمانا ہے جو کے اسی منہج سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہر کوئی اپنے طریقہ اور تاویلات رکھتا ہے ۔ اللہ تعالی ہم سب کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرے اور اس بات کی جانب جو کے اللہ کو خوش کرتی ہے اور اسے پسند ہے ۔اللہ تعالی جہاد کو اور مجاہدین کو فتح عظیم سے نوازے ۔ آمین




کیا شیخ ابن باز کا اسامہ بن لادن کے متعلق فتوی ان کی جانب جھوٹ منسوب ہے؟​ شیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)​۔

اسامہ کو نصیحٹابن باز کا فتوی

ابن-باز-کا-فتوی

اسامہ بن لادن کے متعلق شیخ ابن باز ؒ کے فتوی کی نسبت  

کیا یہ جھوٹ ہے؟

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)​


سوال:

احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ، یہ سائل کہتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرا سوال جس طرح لکھا ہے بالکل اسی طرح شیخ کے سامنے پیش کریں ورنہ میں بروز قیامت اللہ تعالیٰ کے دربار میں آپ سے جھگڑوں گا، سوال یہ ہے کہ کیا مسعری، فقیہ اور اسامہ بن لادن مسلمانوں کی جماعت سے نکلنے والے کہلائیں گے؟ آپ کی کیا رائے ہے ان کے بارے میں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ شیخ ابن باز(رحمۃ اللہ علیہ) نے اسامہ بن لادن کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا، اور جو فتوی شیخ(رحمۃ اللہ علیہ) کی جانب منسوب ہے وہ جھوٹا ہے، اور وہ اس مذکورہ مقولہ سے بہت حجت پکڑتے ہیں؟

جواب:

یہ افراد جو ہیں مسعری، فقیہ اور اسامہ بن لادن خود اپنے اقوال وافعال ہی سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور لوگ جانتے ہیں کہ ان پر کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا۔ اسی طرح شیخ ابن باز(رحمۃ اللہ علیہ) کا فتوی بالکل سچ ہے اور ہم نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے اور یہ شیخ(رحمۃ اللہ علیہ) کی حیات ہی میں مجموع الفتاوی کی صورت میں چھپ کر آپ کے سامنے پیش کیا جاتا رہا اور تمام مشائخ بھی اس سے باخبر ہیں، لیکن کسی نے بھی اس کی شیخ کی جانب نسبت کا انکار نہیں فرمایا، لہٰذا یہ فتوی جھوٹا نہیں۔ جو یہ دعوی کرے کہ یہ فتوی جھوٹا ہے تو وہ خود کذاب (سب سے بڑا جھوٹا ) انسان ہے۔

🔴 اسامہ بن لادن کا اس دور کے امام اہل السنہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ  پر طعنہ زنی کرنا​

امام ابو حاتم(رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:

“من علامۃ أھل البدع الوقیعۃ فی أھل الأثر”

[الکلا لکائی(1/179)]

(اہل بدعت کی علامت میں سے ہے کہ وہ اہل اثر پر طعنہ زنی اور تبرا بازی کرتے ہیں)

اسامہ بن لادن یہ دعوی کرتا ہے کہ امام صاحب کے فتاوی امت کو گمراہی کے ستر گھاٹیاں نیچے لے جائیں گے!​


🔴 اسامہ بن لادن امام عبد االعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ سے کئے گئے اپنے خطاب بتاریخ ۲۷/۰۷/۱۴۱۵ ھ جو نصیحہ کمیٹی لندن کی جانب سے صادر ہوا میں کہا:

” ونحن سنذ کرکم۔ فضیلۃ الشیخ ببعض ھذہ الفتاوی والمواقف التی قد لاتلقون لھا بالاً، مع أنھا قد تھوی بھا الأمۃ سبعین خریفاً فی الضلال”

(فضیلۃ الشیخ ہم آپ کے سامنے آپ کے بعض ایسے فتاوی اور مواقف بیان کریں گے جن کی شاید آپ کو اتنی پرواہ نہ ہو مگر درحقیقت ان کے سبب امت گمراہی کی ستر گھاٹیوں میں جاگر سکتی ہے)

🔵امام صاحب کے فتاوی خطر ناک ہیں اور شرائط پر پورے نہیں اترتے!​

پھر اپنے ایک دوسرے خطاب بتاریخ ۲۸/۰۸/۱۴۱۵ھ میں امت کو شیخ ابن باز (رحمۃ اللہ علیہ) کے فتاوی سے خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے:

” ولذا فانناتبہ الأ مۃ الی خطورۃ مثل ھذہ الفتاوی الباطلۃ وغیر مستوفیۃ الشروط”

(اسی وجہ سے ہم امت کو ان باطل فتاوی جو شروط پر پورے نہیں اترتے کی خطرا انگیزی سے خبردار کرتے ہیں)

🔵 امام صاحب حکومتی علماء میں سے ہیں جو ظالموں کی طر فداری کرتے ہیں!

دوسری جگہ کہا:

” ان علۃ المسلمین الیوم لیست فی الضعف العسکری، ولا فی الفقر المادی وانما علتھم خیانات الحاکم وتخاذل، وتخاذل الأ نظمۃ وضعف أھل الحق واقرار علماء السطلان لھذا الوضع ورکونھم الی الذین ظلموا من حکام السؤوسلاطین الفساد”

(مسلمانوں کی موجودہ بیماری عسکری قوت کی کمی نہیں، اور نہ ہی مادی قسم پر سی ہے ، بلکہ ان کی اصل بیماری حکمرانوں کی خیانتیں، نظاموں کا خذلان اور اہل حق کی کمزوری ہے، اور حکومتی علماء کا اس صورتحال کو تسلیم کرنا اور ان برے حکمرانوں اور فسادی بادشاہوں کی طرفداری کرنا ہے)

🔵 امام صاحب کے مواقف امت اور اسلام پر عمل پیرا ہونے والوں کے لئے عظیم نقصانات کا باعث ہیں!

اور کہا:

” فقد سبق لنا فی(ھیئۃ النصیحۃ والا صلاح (أن وجھنا لکم رساۃ مفتوحۃ فی بیاننا رقم(۱۱) وذکر ناکم فیھا باللہ، وبوا جبکم الشرعی تجاہ الملۃ والأمۃ، ونھینا کم فیھا علی مجموعۃ من الفتاوی والمواقف الصادرۃ منکم والتی ألحقت بالأ مۃ والعاملین للا سلام من العلماء والدعاۃ أضراراً جسیمۃ عظیمۃ”

(کمیٹی برائے نصیحت واصلاح کی طرف سے آپ کو ایک کھلا خط ہمارے بیان رقم(۱۱) کی صورت میں موصول ہوچکا ہے جس میں ہم نے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس ملت وامت کی جانب سے جو آپ پر واجب ہوتا ہے ذکر کیا، اور اس میں ہم نے آپ کو ان مجموعئہ فتاوی اور مواقف جو آپ سے صادر ہوئے سے روکا جو امت اور اسلام پر عمل پیدا ہونے والے علماء اور داعیان کے لئے بہت عظیم نقصان کا باعث ہیں)

🔵 امام صاحب ظالم طاغوتوں کے دوست ہیں!

اسی طرح کہا :

” فضیلۃ الشیخ لقد تقدمت بکم السن ، وقد کانت لکم أیاد بیضاء فی خدمۃ الاسلام سابقًأ ، فاتقوا اللہ وابتعدو اعن ھؤ لاء الطواغیت والظلمۃ الذین أعلنوا الحرب علی اللہ ورسولہ”

(فضیؒہ الشیخ آپ اتنے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور آپ کی اس سے پہلے اسلام کے لئے روشن خدمات ہیں، پس آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان طاغوتوں اور ظالموں سے دور رہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے)

🔵 ان کے فتاوی مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے!

یہ بات کچھ یوں کہی کہ :

” ونحن بین یدی فتوا کم الأ خیرۃ بشأن مایسمی بھتانًا بالسلام مع الیھود والتی کانت فاجمعۃ للمسلمین حیث استجبتم للرغبۃ السیاسیۃ للنظام لما قرراظھار ماکان یضمرہ من قبل ، من الدخول ھذہ المھزلۃ الاستسلا میۃ مع الیھود فأصد رتم فتوی تبیح السلام مطلقاً ومقید ًا مع الیھود

(ہمارےسامنے آپ کا آخری فتوی موجود ہے جس کا برمبنی بہتان عنوان ہے” یہود کے ساتھ صلح” جو کہ مسلمانوں کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں، کہ آپ نے اس نظام کے لئے سیاسی رغبت کا اظہار فرمایا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے جو پہلے مخفی تھی، یعنی آپ نے یہود کے ساتھ مطلق اور مقید صلح کو مباح قرار دینے کا فتوی جاری فرمایا)

🔴 اسی طرح الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو بتاریخ ۰۸/۰۴/۱۴۲۲ ھ میں اور کیسٹ بعنوان“استعدواللجھاد” (جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ) میں کہا اور کیا ہی برا کہا :

” من زعم أن ھناک سلام دائم مع الیھود فھوقد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم”

(جو یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی صلح یہود کے ساتھ باقی ہے تو یقیناً اس نے اس چیز کا کفر کیا جو محمد(ﷺ) پر نازل ہوئی)

🔵 امام صاحب کے فتاوی لوگوں پر معاملے کو ملتبس اور مشتبہ کرنے کا سبب ہیں جسے ایک عام مسلمان تک تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوگا!

اسامہ بن لادن نے کہا کہ : 

” ان فتوا کم ھذہ کانت تلبیسًا علی الناس لما فیھا من اجمال مخل وتعمیم مضل ، فھی لا تصلح فتوی فی حکم سلام منصف ، فضلاً عن ھذا السلام المذیف مع الیھود الذی ھوخیانۃ عظمی للاسلام والمسلمین، لایقر ھامسلم عادی فضلاً عن عالم مثلکم یفترض فیہ من الغیرۃ علی الملۃ والأمۃ”

(آپ کا یہ فتوی لوگوں پر معاملے کو متلبس کرتا ہے کیونکہ اس میں جو خلل زدہ اجمال اور گمرہ کن عمومیت ہے وہ اس فتوی کو ایک منصافانہ صلح تک کے لئے ناقابل عمل بناتی ہے چہ جائیکہ یہود کے ساتھ اس مضحکہ خیز صلح کے لئے قابل عمل ہو، یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہے، ملت اور امت کے لئے غیرت ایک عام مسلمان تک کو اسے قبول کرنے سے روکتی ہے چہ جائیکہ آپ جیسا عالم ایسی بات کرے)