داعش اور شریعت (جدید ایڈیشن)۔

داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت

(جدید ایڈیشن)

ایک تحقیقی جائزہ 

مصنف : مناظر اسلام فضیلۃ الشیخ محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ 

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

ٹوٹل صفحات :176 

سائز : 4 ایم بی

ڈاؤنلوڈ لنک :https://archive.org/details/Daesh_aor_shariat_aek_jaeza_201706

خارجی تنظیم داعش نے اپنی خود ساختہ جھوٹی خلافت کے نام پر امت مسلمہ کا بے دریغ خون بہایا، اسلام کے نام پر ایسے ایسے قبیح اور شنیع جرائم کا ارتکاب کیا کہ جس کا کسی بھی صورت میں دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

اس کتاب میں مناظر اسلام محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں داعش کے تمام جرائم کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی جائزہ اور ان کے غلط استدلال کا رد پیش کر کے ان خوارج کے قبیح چہرے کو خوب واضح کیا ہے ۔

78b33a42-a4bd-488a-aa34-359eeb6310eb

مکتبہ رد فتن 




تلبیسات داعش (جدید ایڈیشن)۔

تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش

(جدید ایڈیشن)

داعش کے گمراہ کن نظریات کا تعاقب

مصنف : فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفطہ اللہ تعالی

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

ٹوٹل صفحات : 128

ڈاؤنلوڈ لنک : https://archive.org/details/Talbisat_Daesh 

سائز : 3 ایم بی

داعش امت مسلمہ کے لئے ایک خطرناک فتنہ بن کر ابھرنے والی ، خوارج کے افکار کو پروان چڑھانے والی تنظیم جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف قسم کے اشکالات اور شبہات پھیلا کر مسلمانوں کو دھکا دے رہی ہے ۔

اس کتاب میں فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ نے اس خارجی تنظیم کے مسلمانوں میں پھیلائے گئے اشکالات و شبہات کا تعاقب کرتے ہوئے قرآن و سنت کے روشنی میں مدلل اور تحقیقی جواب پیش کیا ہے ۔ 

866fac73-4980-4f4e-9ea4-9deb230552ea

مکتبۃ رد فتن 




امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف خروج کرنے کے الزام کا جواب - فضیلۃ الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ

photo721249554916289058

امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر

 انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف

خروج کرنے کے الزام کا جواب

شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:

کیا شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ نے  انگریز کیساتھ ساز باز کر کے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیا اور سقوطِ خلافت
عثمانیہ  کا سبب بھی انہی کا خروج کرنا بنا ۔۔۔ ؟

جواب     :

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

دنیامیں جوشخص بھی خیرو بھلائی کےکام کرے گا اس کے دشمن ضرور ہوں گے اور کئی ہو نگے ، جنوں میں بھی ہو سکتے ہیں اور انسانوں میں بھی حتی کہ اللہ تعالی کے انبیاء بھی اس سے محفوظ نہيں رہ سکے ۔

زمانہ قدیم سے علماء کرام کے بھی دشمن اورمخالف پائے جاتے رہے ہیں اورخاص طور پر حق کی دعوت دینے والے لوگوں کو بہت ہی سخت قسم کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑ‌ا اس کی مثال شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی ہیں جنہوں نے بعض حاسدین سے بہت تکالیف اٹھائی جنہوں نے ان کوقتل کرنا بھی حلال کردیا تھا اور کچھ نے ان پر گمراہ اور مرتد ہونے کی تہمت لگائی۔

اسی طرح شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی بھی ان مظلوم علماء کرام میں سے ایک شخص تھے جن کےبارے میں لوگوں نے فتنہ پھیلانے کےلیے بغیر علم کے بہت کچھ کہا اوراس کام پر انہیں صرف حسد و بغض اوراپنے اندر بدعات کے رچ بس جانے کے علاوہ کسی اورچیز نے نہیں ابھارا یاپھر اس کا سبب جھالت اورنفسانی خواہشات والوں کی تقلید ہے ۔

اگلی سطور میں آپ کے سامنے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کےبارہ میں کچھ شبہات اوران کا رد پیش کرتے ہیں :

سعودی عرب کے سابقہ مفتی شیخ عبد الطیف آل شیخ  رحمہ اللہ کا تبصرہ

شيخ عبدالعزیز العبداللطیف رحمہ اللہ تعالی رقمطراز ہیں :

ادعى بعض خصوم الدعوة السلفية أن الشيخ الإمام محمد بن عبد الوهاب قد خرج على دولة الخلافة العثمانية ففارق بذلك الجماعة وشق عصا السمع والطاعة.

[دعاوی المناوئین لدعوۃ الشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ ص ( 233 )]

”سلفی دعوت کے کچھ مخالفین کا دعوی ہے کہ شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیااورجماعت میں افتراق کا باعث بنے اور (حاکم کی) سمع و اطاعت کوختم کرکے رکھ دیا ۔“

مزید ایک دوسری کتاب میں شیخ عبد العزیز العبد اللطیف کچھ اس طرح رقمطراز ہیں :

ويدَّعي ” عبد القديم زلُّوم ” أن الوهابيين بظهور دعوتهم قد كانوا سببا في سقوط دولة الخلافة ، يقول : ” وكان قد وجد الوهابيون كياناً داخل الدولة الإسلامية بزعامة محمد بن سعود ثم ابنه عبد العزيز فأمدتهم الإنجليز بالسلاح والمال واندفعوا على أساس مذهبي للاستيلاء على البلاد الإسلامية الخاضعة لسلطان الخلافة أي رفعوا السيف في وجه الخليفة وقاتلوا الجيش الإسلامي جيش أمير المؤمنين بتحريض من الإنجليز وإمداد منهم.” 

[کیف ھدمت الخلافۃ (خلافت کا خاتمہ کیسے ہوا)  ص10]

” عبدالقدیم زلوم ” کا دعوی ہے کہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ  کی دعوت کا ظاہر ہونا ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب تھا ۔ اس کا یہ کہنا ہے  کہ : اسلامی حکومت میں محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کے پیروکاروں نے محمد بن سعود اورپھر اس کے بیٹے عبدالعزيز کی زير قیادت شورش بپا کی تو برطانیہ نے انہیں مال واسلحہ مہیا کیا اوران کی یہ شورش سلطان و خلیفہ کے تابع بلاد اسلامیہ پرقبضہ کرنے کے لیے مذہبی بنیاد پرکی ۔یعنی انہوں نے انگریز کے تعاون اوراس کے ابھارنے کی بناء پر خلیفہ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی اوراسلامی لشکر سے لڑائی کی جو کہ امیر المومنین کا لشکر تھا”

خلافت و دولۃ ‏عثمانیہ کےخلاف محمد بن عبدالوھاب کے خروج کے بارہ میں پائے جانے والے شبہ کا جواب ذکر کرنے سے قبل مناسب ہے کہ ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کا خلیفۃ اور مسلمان حکمرانوں  کی سمع واطاعت کے بارہ میں عقیدہ ذکر کردیں ۔

شیخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کا  حکام کی اطاعت کے بارےعقیدہ 

ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ خلیفہ اور حاکم چاہے نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر ہو جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے اس کی سمع واطاعت واجب ہے اس لیے کہ اطاعت صرف اورصرف نیکی کے کام میں ہوتی ہے ۔

شیخ الامام محمد بن عبد الوہابؒ  اپنے ایک خط میں (جوکہ اہل قصیم کولکھا تھا )لکھتے ہیں :

وأرى وجوب السمع والطاعة لأئمة المسلمين برّهم وفاجرهم ما لم يأمروا بمعصية الله ومن ولي الخلافة واجتمع عليه الناس ورضوا به وغلبهم بسيفه حتى صار خليفة وجبت طاعته وحرم الخروج عليه.

[مجموعۃ مؤلفات الشیخ (5/11 )]

”میرا عقیدہ ہے کہ امام المسلمین کی سمع واطاعت کرنی چاہیے چاہے وہ امام نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر جب تک وہ نیکی کا حکم دیتا رہے اس کی اطاعت واجب ہے اورجب اللہ تعالی کی نافرمانی کاحکم دے اس میں اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی ۔ اورجوخلیفہ بنا دیاجائے  اورلوگ اس پر راضی ہوں اور لوگ اس کے پاس جمع ہو جائيں اور یا پھر وہ تلوار کے زور سے ان پر غالب ہوحتی کہ وہ خلیفہ بن جائے تو اس کی اطاعت واجب ہے اوراس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ “

اورایک دوسری جگہ پر شيخ یہ فرماتے ہیں :

الأصل الثالث : أن من تمام الاجتماع السمع والطاعة لمن تأمّر علينا ولو كان عبداً حبشيّاً 

[مجموع مؤ‎لفات الشیخ(1 /394) بحوالہ دعاوی المناوئین (233 – 234)]

”اجتماعیت کی تکمیل میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی ہم پرامیر بنادیا جائے ہم اس کی سمع واطاعت کریں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔“

اورشیخ عبدالعزيز العبداللطیفؒ  کہتے ہیں :

وبعد هذا التقرير الموجز الذي أبان ما كان عليه الشيخ من وجوب السمع والطاعة لأئمة المسلمين برّهم وفاجرهم ما لم يأمروا بمعصية الله

“اس  مختصر سے وضاحت کے بعد کہ جس میں شیخ رحمہ اللہ تعالی کا مسلمان حکمرانوں کی اس وقت تک سمع وطاعت کے وجوب کا عقیدہ سامنے رکھا گیا ہے ، جب تک وہ اللہ تعالی کی معصیت کا حکم نہ دے ، چاہے وہ حکمران نیک ہویا فاجر ۔”

تواب اس اہم مسئلہ کی طرف آتے ہیں، یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ” نجد ” اس دعوت کا منبع اور اصل مرکز (جہاں پریہ پروان چڑھی تھی )دولۃ عثمانیہ کے زیر سلطنت تھا ؟

شیخ محمد بن عبد الوہاب ؒپر الزام کا جواب

مدینہ یونیورسٹی کے سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر صالح العبود کا تبصرہ:

ڈاکٹر صالح عبود اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

ومهما يكن فإن ” نجداً ” لم تشهد نفوذاً مباشراً للعثمانيين عليها قبل ظهور دعوة الشيخ محمد بن عبد الوهاب كما أنها لم تشهد نفوذاً قويّاً يفرض وجوده على سير الحوادث داخلها لأية جهة كانت فلا نفوذ بني جبر أو بني خالد في بعض جهاتها ولا نفوذ الأشراف في بعض جهاتها الأخرى أحدث نوعاً من الاستقرار السياسي فالحروب بين البلدان النجدية ظلت قائمة والصراع بين قبائلها المختلفة استمر حادّاً عنيفاً . 

[عقیدہ الشيخ محمد بن عبدالوھاب واثرھا فی العالم الاسلامی (1 /27)]

”نجدتک عمومی طور پر خلافت عثمانیہ کا نفاذ ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی حکومت وہاں تک آئی اور نہ ہی وہاں پر کوئی خلافت عثمانیہ کی طرف سے گورنر ہی مقرر ہوا اورجب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دعوت کا ظہورہوا تواس وقت ترکی حکومت کی کوئی فوج بھی وہاں نہیں تھی۔

اس تاریخی حقیقت کی دلیل “دولہ عثمانیہ کی اداری تقسیمات کا استقرار “بھی ہيں جن میں سے ایک ترکی لیٹر جس کا مضمون ” آل عثمان کے دیوانی رجسٹرمیں قوانین کے مضامین ” ہے یعنی دیوانی رجسٹر میں آل عثمان کے قوانین، جسے یمین افندی نے تالیف کیا ہے جو کہ خاقانی دفتر کا 1018ھ الموافق 1609عیسوی میں خزانچی تھا ۔تو اس بیان سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ 11ھ کے شروع میں دولت عثمانیہ بتیس 32 حکومتوں میں تقسیم ہو چکی تھی جن میں چودہ عرب حکومتیں تھیں جن میں نجد شامل نہیں تھا سوائے احساء کا علاقہ کے لیکن وہ بھی اگر ہم احساء کو  نجد میں شامل سمجھیں تو(کیونکہ اس میں بھی اختلاف ہے کہ احساء اس وقت نجد کا حصہ تھا  یا نہیں ) ۔   “

شیخ صالح العثیمین کے فرزند ڈاکٹر عبداللہ عثیمین حفظہ اللہ کا تبصرہ

ڈاکٹر عبداللہ عثیمین کا کہنا ہے :

ومهما يكن فإن ” نجداً ” لم تشهد نفوذاً مباشراً للعثمانيين عليها قبل ظهور دعوة الشيخ محمد بن عبد الوهاب كما أنها لم تشهد نفوذاً قويّاً يفرض وجوده على سير الحوادث داخلها لأية جهة كانت فلا نفوذ بني جبر أو بني خالد في بعض جهاتها ولا نفوذ الأشراف في بعض جهاتها الأخرى أحدث نوعاً من الاستقرار السياسي فالحروب بين البلدان النجدية ظلت قائمة والصراع بين قبائلها المختلفة استمر حادّاً عنيفاً .  

[محمد بن عبدالوھاب حیاتہ وفکرہ ص (11) بحوالہ دعاوی المناوئین (234 – 235)]

”اورجو کچھ بھی ہو پھر بھی شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت کے ظہور سےقبل نجد نے عثمانیوں کی حکومت کا نفاذ نہیں دیکھا ، اوراسی طرح نجد نے کسی طرف سے بھی کوئی قوی نفاذ نہيں دیکھا جو وہاں ہونے والے واقعات کو قابو میں کرے، اور اس کے اطراف میں نہ تو بنوجبر کی حکومت کا نفاذ تھا یا پھر بنی خالد اورنہ ہی اس کے کسی کونے میں پنچائیت طرز عمل کا نفاذ ہوا، تونجدی علاقوں کی جنگیں اورلڑائياں قائم رہیں اوران کے مختلف قبائل کے درمیان جنگ وجدال بہت تیزي سے چلتا رہا۔  “

سعودی عرب کے سابقہ مفتی شیخ ابن بازؒ کا تبصرہ

اوراس مضمون اوربحث کومکمل کرنے کے لیے ہم فضیلۃ الشیخ علامہ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالی کابیان کردہ  اس شبہ کے جواب میں قول ذکر کرتے ہيں :

لم يخرج الشيخ محمد بن عبد الوهاب على دولة الخلافة العثمانية فيما أعلم وأعتقد فلم يكن في نجد رئاسة ولا إمارة للأتراك بل كانت نجد إمارات صغيرة وقرى متناثرة وعلى كل بلدة أو قرية – مهما صغرت – أمير مستقل… وهي إمارات بينها قتال وحروب ومشاجرات والشيخ محمد بن عبد الوهاب لم يخرج على دولة الخلافة وإنما خرج على أوضاع فاسدة في بلده فجاهد في الله حق جهاده وصابر وثابر حتى امتد نور هذه الدعوة إلى البلاد الأخرى 

[کیسٹوں پر ایک ریکارڈ مذاکرہ بحوالہ : دعاوی المناوئین ص237]

”میرے علم اوراعتقاد کے مطابق شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے دولۃ خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہيں کیا ، اورپھر نجد میں ترکیوں کی تو حکومت و سلطہ ہی نہیں تھا بلکہ نجد کے علاقے میں چھوٹی چھوٹی امارتیں اوربہت سی بستیاں پھیلی ہوئی تھیں ۔ اوران میں سے ہر ایک شہر یا علاقے اور بستی پر چاہے وہ جتنی بھی چھوٹی تھی امارت قائم تھی اورایک مستقل امیر تھا ۔۔۔ اوران امارتوں کے درمیان جنگ جدال اوراختلافات رہتے تھے ، اورشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہیں کیا  بلکہ ان کا خروج تواپنے علاقے میں ان غلط اورفاسد نظریات  کے متعلق تھا جو پیدا ہوچکے تھے انہوں نے اللہ تعالی کے لیےجہاد کیا اوراس کا حق بھی ادا کیا اوراس میں صبر کیا حتی کہ اس دعوت کا نور اورروشنی دوسرے شہروں اورعلاقوں تک جا پہنچی ۔ “

جامعہ الازہر سے فارغ التحصیل ڈاکٹر عجیل النشمی الکویتی کا تبصرہ

ڈاکٹر عجیل النشمی کہتے ہیں:

….. لم تحرك دولة الخلافة ساكنا ولم تبدر منها أية مبادرة امتعاض أو خلاف يذكر رغم توالي أربعة من سلاطين آل عثمان في حياة الشيخ 

[دیکھیں میگزین: مجلۃ المجتمع عدد نمبر:510]

”شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں خلاف عثمانیہ کی جانب سے نہ تو قابل ذکر اختلاف تھا اورنہ ہی دشواری پیش آئی اور نہ ہی عوام میں سےکسی کوبھی (خلافت عثمانیہ کیخلاف) متحرک کیا حالانکہ ان کے زندگی میں خلافت عثمانیہ کے تین سلطان بدلے ۔۔۔ اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ خلافت عثمانیہ کے بارے شیخ رحمہ اللہ کے تصورات کی عکاسی تھا اور دوسری طرف خلافت عثمانیہ کے ہاں شیخ رحمہ اللہ کی دعوت کی تصویر کیسی ہو گی ؟ ( اگلی سطور میں ملاحظہ کیجیے ) “

ڈاکٹر عجیل النشمی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں :

لقد كانت صورة حركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب لدى دولة الخلافة صورة قد بلغت من التشويه والتشويش مداه فلم تطلع دولة الخلافة إلا على الوجه المعادي لحركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب سواء عن طريق التقارير التي يرسلها ولاتها في الحجاز أو بغداد أو غيرهما ..أو عن طريق بعض الأفراد الذين يصلون إلى الأستانة يحملون الأخبار. 

[دیکھیں میگزین : المجتمع عدد نمبر ( 504 ) بحوالہ دعاوی المناوئين ص ( 238 – 239 )]

”شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوتی تحریک کی تصویر کوخلافت عثمانیہ کے ہاں غلط رنگ دیا گيا تو حکومت نے اس دعوتی تحریک کے خلاف دشمنی کا رویہ اختیار کرلیا جس کا سبب حجاز یا پھر بغداد کے گورنروں کے خلیفہ کو ارسال کردہ رسائل تھے یا پھر ان افراد کی بنا پر جوکچھ خبریں لے کر آستانہ پہنچتے تھے ۔“

اورزلوم کا یہ دعوی کہ شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب بنی ، اورانگریزنے خلافت عثمانیہ کے سقوط میں محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا تعاون کیا۔ تواس لمبے چوڑے دعوی کے جواب میں صاحب تحفۃ العروس، شیخ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد محمود مھدی استنبولی کہتے ہیں:

قد كان من واجب هذا الكاتب أن يدعم رأيه بأدلة وإثباتات وقديما قال الشاعر:

وإذا الدعاوى لم تقم بدليلها

                                بالنص فهي على السفاه دليل

مع العلم أن التاريخ يذكر أن هؤلاء الإنجليز وقفوا ضد هذه الدعوة منذ قيامها خشية يقظة العالم الإسلامي .

[دیکھیں کتاب : الشيخ محمد بن عبدالوھاب فی مرآۃ الشرق والغرب ص ( 240 ) ( شیخ محمد بن عبدالوھاب مشرق و مغرب کے آئینہ میں )]

”اس دعوی کے لکھنے والے پرضروری تھا کہ وہ اپنی اس رائے کے ثبوت میں دلائل بھی پیش کرتا ، زمانہ قدیم میں شاعر نے کہا تھا :

“اورجب دعوی کرنے والا اپنے دعوی پر کوئی بالنص دلیل قائم نہ کرسکے تووہ اس کے بے وقوفی کی دلیل ہے ۔ “

اوریہ بھی علم ہونا چاہیے کہ تاریخ اس بات کوذکر کرتی ہے کہ ان انگریزوں نے تواس دعوت کی ابتدا ہی سے عالم اسلام کی بیداری کے خوف سے مخالف کی تھی۔“

شیخ محمد بن عبد الوہابؒ پر خلافت عثمانیہ کیخلاف انگریز وں سے ملی بھگت کرنے کے الزام کی حقیقت

اسی طرح الشیخ محمود مھدی استنبولی کہتے ہیں :

والغريب المضحك المبكي أن يتهم هذا الأستاذ حركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب بأنها من عوامل هدم الخلافة العثمانية مع العلم أن هذه الحركة قامت حوالي عام 1811 م وأن الخلافة هدمت حوالي 1922 م .

[حوالہ سابقہ ص ( 64 )]

”اوریہ ایک عجیب و غریب اوررولانے والی مضحکہ خيز بات ہے کہ یہ پروفیسر صاحب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی تحریک پر تہمت لگاتے ہیں کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کی وجوہات میں سے ایک ہے لیکن یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ تحریک 1811 عیسوی میں شروع ہوئی اورخلافت عثمانیہ کا سقوط 1922 عیسوی میں ہوا ۔  “

انگریز تو خود شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کی تحریک کیخلاف تھا:

انگریز کا محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی  تحریک کے خلاف ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ انہوں نے مصر کے والی ابراھیم پاشا کو محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں  کے خلاف درعیہ کی لڑائی میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور یہ مبارکباد دینے کے لیے کیپٹن فورسٹر سیڈلر کوبھیجا تھا ۔

اس پرمزید یہ کہ ان کا اس برطانوی تحریک (جو کہ انہوں نے خلیج میں اس تحریک کی دعوت کوکم کرنے لیے قائم کررکھی تھی )کے ساتھ تعاون کا میلان بھی پایا جاتا تھا ۔ بلکہ اس خط میں توحکومت برطانیہ اورابراھیم پاشا کے درمیان محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں  کے نفوذ کی مکمل سرکوبی کرنے پر اتفاق کی رغبت کا اظہار کیا گيا ہے ۔

حنفی عالم دین مولانا منظور کی گواہی :

مشہور  دیوبندی  عالم مولانا محمد منظورنعمانی صاحب کہتے ہیں :

لقد استغل الإنجليز الوضع المعاكس في الهند للشيح محمد بن عبد الوهاب ورموا كل من عارضهم ووقف في طريقهم ورأوه خطرا على كيانهم بالوهابية ودعوهم وهابيين … وكذلك دعا الإنجليز علماء ديوبند – في الهند – بالوهابيين من أجل معارضتهم السافرة للإنجليز وتضييقهم الخناق عليهم 

[دیکھیں کتاب : دعایات مکثفۃ ضد الشيخ محمد بن عبدالوھاب ص ( 105 – 106 ) ( شيخ محمد بن عبدالوھاب کے خلاف بڑے بڑے الزامات )]

”ہندوستان میں انگریز نے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے مخالف حالات کوایک فرصت اورسنہری موقع سمجھتےہوئے اپنے مخالفین کو وھابی کہنا شروع کردیا اور اپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کو وھابیت کا نام دیا اوراسی طرح انگريز نے علماء دیوبند کوبھی انگريز کی مخالفت کرنے کی بنا پر وھابی کہنا شروع کیا اوران پر تنگی شروع کردی ۔“

مزید لکھتے ہیں کہ :

وبهذه النقول المتنوعة ينكشف زيف هذه الشبهة وتهافتها أمام البراهين العلمية الواضحة من رسائل الشيخ الإمام ومؤلفاته كما يظهر زيف الشبهة أمام الحقائق التاريخية التي كتبها المنصفون.

[دیکھیے: دعاوی المناوئين ( 239 – 240 )]

”توان مختلف بیانات اور شیخ محمد بن عبدالوھاب کی کتب رسائل سے واضح علمی دلائل سے اس شبہ کا کھوٹا پن اور جھوٹے ہونے کا انکشاف ہوتا ہے ، اوراسی طرح انصاف پسند تاریخ دانوں کے تاریخ حقائق سے بھی اس کا باطل پن واضح ہورہا ہے۔ “

آخری بات

آخرمیں ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے بارہ میں زبان درازی کرنے والے ہر شخص کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس سے باز آ جائے  اورسب معاملات میں اللہ سبحانہ وتعالی کا تقوی اورڈر اختیار کرے۔

ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کرلے اوراسے سیدھے راہ کی ھدایت نصیب فرمائے۔ واللہ اعلم




میں نے القاعدہ کیوں چھوڑی؟۔ سابقہ القاعدہ اور موجودہ داعش کے لیڈر ابوجریرالشمالی کے قلم سے

ابو جریر الشمالی

میں نے القاعدہ کیوں چھوڑی

میں نے القاعدہ کیوں چھوڑی؟

سابقہ القاعدہ اور موجودہ داعش کے لیڈر

ابو جریر الشمالی کے قلم سے

ایڈیٹر نوٹ:

واہ شاناں رب رحمان دیاں۔۔۔ وہ دن یاد آ گیا جب ایک کتاب “گوانتاناموبے کی ٹوٹی زنجیریں” مارکیٹ میں نمودار ہوئی۔۔ جسمیں جھوٹ اور دجل کی حدود کو پھلانگا گیا۔۔ مجایدین حقہ پر جاسوسی کے گھٹیا الزامات لگائے گئے۔۔ کشمیری مجاہدین کو کفار کا ایجینٹ اور مرجئیہ ثابت کر کے القائدہ کے خارجی منہج کی طرف دعوت دی گئی۔۔ لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔۔۔ آج اسی القائدہ کی اپنی جڑیں اسوقت ہل کر رہ گئیں جب داعش نامی تنظیم سامنے آئی۔!! اب یہ القائدہ اپنے ہی بوئے ہوئے بیج کو کاٹ رہی ہے۔۔

لیجئے سنئے اب اندر کے راز۔۔ کل دوسروں کو مرجئہ کا الزام دینی والی القائدہ کیساتھ آج داعش نے مرجئہ کا لقب چپکا دیا۔۔ کل دوسروں کو ایجینٹ کہنے والی القائدہ کا بھانڈہ اپنے ہی ہاتھ سے پھوٹ گیا کہ جس کو داعش نے جاسوسی اور لواطت کے قبیح فعل میں مرتکب قرار دیدیا۔۔۔ کل جب القائدہ کو کوئی کہتا کہ تم خوارج کی ڈگر پر چل رہے تو یہ دوسروں کو ارجائیت کا طعنہ دیتے۔۔ لیکن آج حالات نے پلٹا کھایا اور القائدہ کو داعش نے اسوقت مرجئیہ کہہ مارا جب القائدہ نے داعش کو خارجی کہا۔۔ واہ رے سبحان تیری قدرت۔۔۔!!!!!

سنئے القائدہ کے ظاہری تقوی کے پیچھے کیا چھپا ہے؟۔یہ کہانی کسی “الڑ بلڑ” کی نہیں بلکہ ابو جریر الشمالی کی ہے۔ جی ہاں یہ کوئی عام آدمی نہیں۔۔ پہلے ابو معصب زرقاوی کیساتھ رہا۔۔۔ پھر ایران میں کئی سال جیل کاٹی اور پھر رہائی کے بعد فساد فی سبیل الشیطان کیلئے وزیرستان کے لئے رخت سفر باندھا۔۔ ۔ ابھی حال ہی میں القائدہ کو چھوڑ کر جب حق القائدہ سے داعش کی گود میں منتقل ہوا تو ابو جریر الشمالی نے اپنے تلخ تجربات کو ایک رسالہ میں ڈھالا جو کہ داعش کے آفیشل رسالے “دابق” میں چھپا جو کہ آن لائن اس لنک پر دستیاب ہے۔۔اس رسالہ میں سے چند اہم اقتباسات یہاں پیش خدمت ہیں تاکہ آپ لوگوں تک اندر کی کہانی مختصر وقت میں پہنچ جائے۔۔!!

file12 (1)

نائن الیون سے پہلے القاعدہ مرجئہ کے  منہج پر تھی ۔

صفحہ نمبر ۲ سے اقتباس:

“گیارہ ستمبر سے پہلے ہم تنظیم القاعدہ کواسکے بعض قائدین کےاسی کی دہائی کے آواخر اور نوے کی دہائی کے بیانات کی وجہ سے ایک اِرجائی سوچ کی حامل جہادی جماعت سمجھتے تھے مثلاً مرتد حکمرانوں خصوصا سعودی خاندان اور ان کی افواج کے بارے خیالات کی وجہ سے اور ان حکمرانوں اور افواج کے ارتداد کو ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے۔”

افغان طالبان کی توحید ناقص ہے۔

صفحہ نمبر ۳ سے اقتباس:

“ہم افغان طالبان کو بھی اپنے ساتھیوں کی توحید کے بارےمیں ناقص تربیت کا ذمہ دار گردانتے تھے۔تربیت میں اس کوتاہی کی وجہ سے ان کے بہت سے لوگ قبروں کے طواف اور تعویذ پہننے جیسےشرکیہ اعمال میں مبتلا ہوگئے ۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ابھی تک یہ معاملات موجود ہیں۔”

نائن الیون سے پہلے زرقاوی اور بن لادن کے اختلاف کے بارے میں:

صفحہ نمبر ۳ سے اقتباس:

“نوے کی دہائی کے آخر میں افغانستان کے شہر ہرات، جوکہ شیعہ اکثریت کا علاقہ تھا اور مہاجر مجاہدین گروپوں کے مراکزسے بہت دور تھا، میں ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ نے اپنے چند ساتھیوں پر مشتمل مرکز قائم کیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ابھی اپنے گروپ کو باقی گروہوں سے علیحدہ رکھنا اور روز مرہ کی ملاقاتوں جیسے معمولات سے بچنا چاہتے تھے،تاکہ اس بہانے خفیہ اداروں کے اندر گھس آنے سے بچا جاسکے۔انہوں نے اس لئے بھی اپنے آپ کو علیحدہ رکھا کیونکہ باقی گروپوں کے لوگ ان پر شدت پسند ، خارجی اور تکفیری جیسے الزامات لگاتے تھے۔

جہاں تک ہمارے دوسرے ساتھیوں کا گروپ ، جوکہ اردن میں ہی مقیم رہا، کا تعلق ہے تو اس نے افغانستان میں جاری جہاد کی حمایت نہیں کی[ گیارہ ستمبر سے پہلے تک]۔اسکی بجائے انہوں نے اردن میں قیام اور توحید کی دعوت پھیلانا بہتر تصور کیا ، خصوصاً جب ایک ساتھی افغانستان سے واپس آیا اور وہاں کے حالات ، طالبان اور ان کی شریعت کی خلاف ورزیوں کے بارےمیں بات ہوئی۔”

مصعب الزرقاوی اور اسامہ بن لادن اختلاف کا خاتمہ:

صفحہ ۴ سے اقتباس:

“گیارہ ستمبر کے حملوں کےکچھ بعد شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے اپنے چند خطابات میں حرمین الشریفین کے حکمرانوں اور ان کی افواج کےمرتد ہونے کو واضح کیا اور ان کے خلاف جہادکے فرض کی یاد دہانی کروائی۔

اب شیخ زرقاوی رحمہ اللہ کے موحّد مجاہدین اور شیخ اسامہ رحمہ اللہ اور اُن کی تنظیم کے درمیان اتحاد میں جو رکاوٹیں تھیں وہ ختم ہوگئیں۔”

وزیرستانی “مجاہدین” خود شریعت سے متصادم قوانین نافذ کرنے کے مرتکب:

صفحہ ۵ سے اقتباس:

“سب سے پہلا اور بڑا صدمہ جو مجھے پہنچا وہ یہ تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ وزیرستان کا علاقہ مکمل طور پر آزاد ہےاور کوئی بھی آدمی وہاں مرتد پاکستانی فوج سے مڈبھیڑ کئے بغیر آسانی سے اسکے طول و عرض میں گھوم پھر سکتا ہے۔میری سوچ تھی کہ وہاں مجاہدین ہی فیصلہ ساز ہیں اور انہوں نے وہاں شرعی قوانین نافذ کررکھے ہوں گے۔لیکن صد افسوس کہ قبائلی قوانین ہی وہاں غالب تھے۔اس زمین پر شرعی قوانین کی برکات کی بجائے یہی قبائلی قوانین ہی لوگوں پر مسلط تھے۔ مرتد پاکستانی فوج نے ہر چوٹی اور ہر پہاڑ پر قبضہ کررکھا تھا اور ہر قریہ و شہر کے لوگ اس کی نظر میں تھے۔”

القاعدہ خود دوسروں کو خارجی ثابت کرنے میں مصروف:

صفحہ پانچ سے اقتباس:

“جہاں تک مجاہدین کے زمینی حقائق کی بات ہے تو بڑے عجیب و غریب حالات تھے۔ سب سے بڑی جماعت، قاعدۃ الجہاد جو کہ بلاشبہ مسلمانوں کی اکثریت کے دلوں کی دھڑکن اور آنکھوں کا تارہ بن چکی تھی اور وہ اس میں شمولیت کے شدت سے خواہش مند تھے،اور توقع کرتے تھے کہ یہ جماعت ان کی آزادی کی جدوجہد، طاغوتی نظاموں کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرنے، زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ ، اُن کے حقوق کی حفاظت اور مظلوموں کی مدد جیسے کاموں میں رہنمائی کرے گی۔لیکن اِس علاقے میں ہم نے ان میں سے کوئی بھی بات نہیں پائی،

بلکہ اِس کی بجائے تنظیم القاعدہ اس علاقے کے مجاہدین کومتشدد تکفیری ، خارجی اور جزوی تکفیری جیسے خانوں میں بانٹنے میں مصروف عمل تھی۔وہ ہر اس شخص کو اپنے قریب کرلیتے جو ارجاء میں ڈوبا ہوتا تاکہ تنظیم سے خارجی سوچ کوکچلا جائے(اپنے مزعومہ نظریے کے مطابق:از مترجم) اورنکال باہر کیا جائے۔

یہی وجہ تھی کہ وہ تنظیمی ڈھانچہ جو القاعدہ کی قیادت سے رابطہ میں تھا اپنے مزعومہ منہج کی بنیاد پر لوگو ں کو پرکھتا تھا۔اسکا نتیجہ یہ تھا کہ ایسا بھائی جو کہ حقیقی طور پر صحیح منہج کا حامل ہوتا جسے یہ اپنا مخالف گردانتے تھے وہ اِس قابل نہیں تھا کہ وہ تنظیم کی شرعی یا عسکری غلطیوں پر تنقید کرسکے یا اصلاح کر سکے۔اس کی بجائے ان بھائیوں کے تنظیم سے مکمل اخراج، تنہا کرنا، رکاوٹیں ڈالنا،علاقہ بدر کرنا اور حتی کہ بے عزتی کرنے جیسے حربے استعمال کیے جاتے تھے۔”

القاعدہ کا ابو جریر کو خارجی کا لقب دیا:

صفحہ ۶ سے اقتباس:

“میرانشاہ پہنچنے کے چند دن بعد تنظیم القاعدہ کی شرعی کمیٹی کے امیر نے مجھے اس بات پر دھمکایا اور برا بھلا کہا کہ میں نے ایران کے بارے میں رافضی کا لفظ استعمال کیا ہےجہاں میں نے آٹھ سال قید میں گزارے۔میں نے یہ لفظ تب استعمال کیا جب ساتھی وہاں پہنچنے پر مجھ سے ملنے آئے اور مجھ سے میرے حالات اور رہائی وغیرہ کے متعلق دریافت کیا۔پھر مجھ پر خارجی اور تکفیری ہونے کا الزام لگایا گیا اور شرعی کمیٹی کے اس وقت کے امیر سلیم الطرابلسی اللیبی رحمہ اللہ نےمجھے کہا کہ”اردن واپس چلے جاؤ اور وہاں جس کی مرضی تکفیر کرو ہم تمہاری حمایت کریں گے”۔ یہ دوسرا صدمہ تھا جو مجھے پہنچا۔”

ابوجریر نے وزیرستانی مجاہدوں میں کیا دیکھا؟

صفحہ ۶ سے

“میں نے اِس علاقے میں جو کوتاہیاں مجھے نظر آئیں اُن کے بارے میں تنظیم کی ہر سطح اور ہر ساتھی کو نشاندہی کرنا شروع کردی۔یہ مندرجہ ذیل تھیں۔

1️⃣۔ یہ علاقہ مسلح مجاہدین سے بھرا پڑا ہے اور اِن میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ علاقے کا کنٹرول سنبھال سکیں، تو پھر کیوں اللہ کے قانون کا نفاذ نہیں کیا جارہا ؟

2️⃣۔ کیوں طاغوتی قبائلی قوانین (جرگہ سسٹم )بغیر کسی حیل و حجت کے لوگوں پر جاری و ساری ہے حتی کہ لوگوں کو اس کے بارے میں نصیحت تک کرنا گوارا نہیں کیا گیا؟

3️⃣۔ مجاہدین امریکہ سے لڑنے کے لئے افغانستان میں داخل ہونے اور واپس آنے کے لئے پاکستانی فوج کی مدد کیوں لیتے ہیں؟

4️⃣۔ کیا وزیرستان کے علاقے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے سٹرکوں کی تعمیر و بحالی اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی کہ وہ اس علاقہ میں کوئی خاص مشن رکھتی ہے؟

5️⃣۔کیوں علاقے کے بچے ،بچیاں گورنمنٹ کے لادینی سکولوں میں کثیر تعداد میں داخلہ لے رہے ہیں اور علاقہ کے عمائدین کو اس بارے میں کوئی نصیحت یا روک ٹوک نہیں کی جاتی، اور مجاہدین کے لئے سکول کیوں نہیں قائم کیے جاتے؟خصوصا ًالقاعدہ کی مرکزی قیادت نے مہاجر اور انصارمجاہدین کے بچوں کے لئے سکول اور تربیت کے نظام میں بہت لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، سوائے حالیہ عرصے میں تنظیم کے مخصوص بچوں کے لئےکچھ اقدامات کیے گئے۔

6️⃣۔وزیرستان کے لوگوں کی شرعی اور اخلاقی خامیوں پر نصیحت نہ کرنے پر کیوں اصرار کیا جاتا ہے؟اور یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اس میں بھی شرعی فوائد ہیں اور اِن کو اپنے آپ سے متنفرکرنے یا اِن سے محاذ آرائی سے گریز کیا جائے

7️⃣۔میں نے تنظیم کی قیادت سے ان کے سکیورٹی سربراہ اور منصوبہ ساز ابو عبیدہ المقدسی [عبداللہ العدم رحمہ اللہ ]کے ذریعے درخواست کی تھی کہ وہ عرب بیداری کی تحریکوں یعنی عرب سپرنگ کی بہت زیادہ ستائش نہ کریں۔

8️⃣۔ہمیں مجاہدین کی مختلف جماعتوں کو جوڑنا ، اکٹھا کرنا اور ان کےاور تنظیم کے درمیان جو کوئی مسائل زیر التواء ہیں ان کوحل کرنا چاہیئے۔

9️⃣۔ ہمیں خواتین کو اس علاقے سے نکال لینا چائیے تاکہ اُن کی موجودگی کسی اچانک فوجی آپریشن جیسا کہ متوقع ہے، کی صورت میں مجاہدساتھیوں کی نقل و حرکت میں حائل نہ ہوجائے اور وہ مشکل میں پڑ جائیں۔ علاقہ میں بلند پہاڑی چوٹیوں کی وجہ سے خواتین کی موجودگی میں نقل و حمل مشکل ہوجاتی ہے۔اور ویسے بھی وہاں ان کے قیام کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی۔

القاعدہ اسامہ بن لادن کے منہج سے ہٹ گئی

صفحہ ۷ سے اقتباس:

“افسوس کہ میں نے تنظیم قاعدۃ الجہاد کو شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد اُسی پرانی ڈگر پر چلتے ہوئے پایا جو کہ شیخ رحمہ اللہ کے اُن بیانات سے پہلے والی تھی جس میں انہوں نے سعودی بادشاہ اور افواج کی واضح الفاظ میں تکفیر کی تھی۔پس جو القاعدہ میری قید سے پہلے تھی ، رہائی کے بعد بھی اسی القاعدہ سے میرا سامنا ہوا۔اور یہ ڈگر اِرجاء کی تھی جو کہ احتیاط اور فوائد کے حیلے بہانوں کے لبادوں میں لپٹی ہوئی تھی۔ سب سے حیران کن بات عصر ِحاضر کے رافضی طبقہ کی تکفیر میں ہچکچاہٹ تھی، جن کی شیطانیت ہر خاص و عام پر روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔جہاں تک میرے زمانہِ قید کے دوران تنظیم کے مؤقف کی بات ہے تو مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت کیا صورت حال تھی۔”

ابو عبیدہ المقدسی مرجیہ کے عقیدہ پر

صفحہ ۷ سے اقتباس:

“ابو عبیدہ المقدسی،القاعدہ کی اِرجائی سوچ کےحامل تھےلیکن انہوں نے کبھی بھی باہمی گفت و شنید یا تبادلہ خیال کو ترک نہیں کیا، بلکہ وہ بات سنتے ،جواب دیتے اور اِس پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔میرا انکے بارے میں گمان تھا کہ ان میں بہت اچھائیاں ہیں ،باوجود کہ عام یا نجی محفلوں میں ہمارے درمیان بحث و مباحثہ میں تیز کلامی بھی ہوجاتی۔حتیٰ کہ میں نے ان سے بہت عجیب و غریب باتیں سنیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ تنظیم القاعدہ ،جامعہ الازہر کے سابقہ مفتی طنطاوی اور یوسف القرضاوی کو بھی مسلمان مفکّر مانتی ہے اور انکی تکفیر نہیں کرتی۔”

ملا عمر مجاہد قوم پرستی میں مبتلا:

صفحہ ۷ سے اقتباس:

“اسی اثناء میں طالبان کے عربی رسالے “الصمود” میں ملّا محمد عمر مجاہد وفقہ اللہ کے حوالے سے ایک بیان چھپا جو کہ انہوں نے سن ۱۴۳۳ہجری کی عید الفطر کے موقع پر مسلم امّہ کے نام دیا تھا اور امریکیوں کے نکلنے کے بعد افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے وضاحت کی تھی۔ انہوں نے کچھ ایسے خیالات کا بھی اظہار کیا جو کہ اسلام کے لئےمضر تھے اور قوم پرستانہ اور وطنیت کی چھاپ لیے ہوئے تھے۔اِس میں انہوں نے بین الاقوامی معاہدوں اور سرحدات کا احترام کرنے کو کہا، عرب انقلابات کے ذریعے خطے میں حکومتوں کو گرانے پر اِن قوموں کو مبارک باد دی اور ان ممالک کو خیر باد کہنے والے ستم رسیدہ مہاجر مجاہدین کو واپس اپنے ملکوں میں جانے کو کہا۔”

ملا عمر کے بیانات کا رد کیا گیا جسکا جواب دینے سے وہ قاصر رہے:

صفحہ ۹ سے اقتباس:

“میں نے ملا عمر وفقہ اللہ کے اس بیان کا رد لکھا اور تنظیم کو بھی اسکے بارے توجہ دلائی۔ابو عبیدہ المقدسی رحمہ اللہ نے مجھے لکھنے پر ابھارا۔میں نے حقانی گروپ سے بھی اس بارے میں پوچھا جو کہ ملا محمد عمر وفقہ اللہ کی وزیرستان میں نمائندگی کرتا تھاتو انہوں نے بھی مجھے ملا محمد عمر وفقہ اللہ کے بیان کے رد میں لکھنے کو کہا۔پس میں نے اسکا رد لکھا اور حقانی گروپ کے ذریعے ملا عمر وفقہ اللہ کو بھیجا۔اُدھر سے جواب ملا کہ اسکا ردِّعمل عید الاضحی پر آپ کو مل جائے گا۔لیکن افسوس کہ ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔میں ملا عمر وفقہ اللہ کے نمائندے محب اللہ سے ملا اور اس رد کی ایک نقل اسے بھی دی۔لیکن افسوس کہ پھر بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔”

“دارالسلام” وزیرستان اسلام سے کوسوں دور:

صفحہ ۹ سے اقتباس:

“میں نے اپنے اردگر د نگاہ ڈالی تو مجھے کہیں پر بھی اسلام اپنی حقیقی شکل و صورت میں قائم ہوتے ہوئے نظر نہ آیا۔زمین مجھ پر تنگ ہوگئی۔”

طالبان کے مختلف دھڑےکس کس ڈگر پر؟

صفحہ ۱۰ سے اقتباس:

“میں نے اس علاقے کی فطرت ، لوگوں اور دوسرے معاملات جن کے بارے میں ،میں غیر واضح تھا، سیکھا۔میں نے مختلف گروہوں اور خصوصی طور پر طالبان کہلانے والے مختلف دھڑوں کے بارے میں جانا۔

1️⃣۔ افغان طالبان جیسا کہ حقانی گروپ ہے۔انکی اصل افغانی تھی۔ اور انکا مقصد افغانستان تھا، جیساکہ وہ کہتے ہیں۔وہ ملا محمدعمر وفقہ اللہ کو اپنا اعلیٰ رہنماء مانتے ہیں۔

2️⃣۔وزیرستانی طالبان جو کہ اپنے آپ کو پاکستانی کہلواتے ہیں۔انکے بہت سے کمانڈر ہیں جن میں سے گل بہادر، غلام خان،گوڈ عبدالرحمان وغیرہ شامل ہیں۔وہ اپنے آپ کو پاکستان کے پختون شمار کرتے ہیں۔یہ علاقے میں دوسرے گروپوں کے نفع ونقصان سے بالاتر ہوکرصرف اپنے مفادات کے لئےکام کرتے ہیں۔انکا پاکستانی جاسوسی اداروں سے بہت مضبوط تعلق ہے۔یہ بھی ملا عمر کو اپنا رہنما مانتے ہیں۔

3️⃣۔قبائلی علاقہ میں خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان کے علاقے کے آزاد طالبان۔یہ لوگ پاکستانی حکومت کے مضبوط اتحادی ہیں۔افیون اور چرس کی پیداوار پر گزر بسر کرتے ہیں۔تحریک ِطالبان پاکستان کے خلاف لڑتے ہیں اور بزور قوت انکو سٹرکوں پر سفر سے روکتے ہیں۔وہ بہت سے ناموں سے جانے جاتے ہیں، مثلاً لشکر اسلام، انصارا لاسلام،جماعت التوحید، منگل باغ وغیرہ ۔(ایڈیٹر نوٹ: خیبر ایجنسی کی انصار الاسلام کا عراق کی انصار الاسلام سے کوئی تعلق نہیں)

4️⃣۔ وادی سوات اور پشاور کے گردونواح میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے بعد وہاں سے نقل مکانی کرکے آنے والے تحریک طالبان پاکستان کے لوگ۔یہ لوگ غالباً وزیرستان کے علاقے میں موجود سب گروہوں میں سےبہترین لوگ تھے۔لیکن بد قسمتی سے پاکستانی انٹیلی جنس ان کے اندر نقب لگانے میں کامیاب ہوگئی، اور انکے کچھ قبائلی عمائدین کو بھڑکایا اور قیادت کے مسئلے پر آپس میں لڑائی کرنے پر اکسایا۔وہ مختلف قبائلی حلقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہر حلقے کا اپنا امیر ہوتا ہے۔ میری وزیرستان آمد سے پہلے انہوں نے وادی ِسوات میں شرعی نظام کا نفاذ کیا تو تنظیم القاعدہ نے فوراً اپنا ایک پختون نمائندہ مفتی حسن نامی تحریک کے لوگوں سے ملنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ انہیں قائل کرے کہ وہ بڑی اور اَرفع حکمت کی خاطر شریعت کے نفاذ میں جلدی نہ کریں۔جب مفتی حسن ،شیخ مقبول( شاہد اللہ شاہد)، تحریک کے مفتی سے ملے تو شیخ مقبول نے ان کو شریعت کے فوری نفاذ کی اہمیت کا قائل کرلیا۔پس مفتی حسن نئے خیالات کے ساتھ واپس پلٹے اور تنظیم القاعدہ کے سامنے اِن سوالات کو پیش کیا۔لیکن اس کا صلہ انہیں تنظیم سے اخراج کی صورت میں ملا۔اَب وہ تحریک طالبان پاکستان کےایک رکن ہیں۔یہ باتیں مجھے تحریک کے کچھ رہنماؤں نے بتائیں جو کہ ان واقعات کےگواہ ہیں۔”

القاعدہ و طالبان لواطت اور جاسوسی کے قبیح فعل میں مبتلا:

صفحہ ۱۱ سے اقتباس:

“شمالی وزیرستان سے چھ ماہ کی میری غیرحاضری کے دوران کافی واقعات رونما ہوئے۔اِن واقعات نے تنظیم کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا۔سب سے سنگین مسئلہ تنظیم کے کچھ ساتھیوں کی اولاد کا تھا ، شہید [جیسا کہ انکے بارے ہمارا گمان ہے]ساتھیوں کے بیٹوں کا،قائدین کے بیٹوں کا۔یہ لوگ لواطت کے فحش کام میں مبتلا ہوئے اور بالآخر جاسوسی کے مرتکب ہوئے تھے،جیسا کہ اِس سے پہلے سوڈان میں کچھ دوسرے بھائیوں کے ساتھ یہ ہوچکا تھا۔انکی غداری کے نتیجہ میں دسیوں فضائی حملے ہوچکے تھے اور نتیجتاًکافی ساتھی شہید ہوگئے۔ہم نے تنظیم کی خاموشی کے خلاف آواز اٹھائی اور اُن پر دباؤ ڈالا کہ وہ امارتِ اسلامی افغانستان سے ہٹ کر آزادانہ اِن لوگوں پر مقدمہ چلائیں۔لیکن تنظیم نے یہ موقف اپناتے ہوئے کہ وہ امارتِ اسلامیہ سے بیعت ہے اور انکی پابند ہے ، اس بات پر اصرار کیا کہ وہ امارت ِاسلامیہ سے ہی فیصلہ کے لئے قاضی بلوائیں گے۔ہم نے تنظیم القاعدہ سے امارت ِاسلامیہ سے ہٹ کر آزادانہ مقدمہ چلانے کی درخواست اس لیے کی تھی کہ ہمارے اور امارت کے درمیان امارت کے فقہی تعصب کی وجہ سے جاسوسی اور فحاشی کی سزاء میں فقہی اختلافات موجود تھے ۔

(ایڈیٹر نوٹ:امارت اسلامیہ کے قاضی دیوبندی(ماتریدی حنفی) ہیں۔مرتد ہونے والے “مسلم” جاسوس پر حُکم لگانے میں اُن کے اندر ارجاء ہے۔جاسوسی اور لواطت کی سزائیں ان کے ہاں دوسرے مکاتب ِ فکر کے مقابلے میں نرم ہیں-القاعدہ کا امارت اسلامیہ کو حَکم بنانے پر اصرار اسی لیے تھا تاکہ مجرموں کو قتل کی سزا سے بچایا جا سکے- اسی وجہ سے مصنف اور اسکے ساتھیوں نے اصرار کیا کہ مقدمہ تنظیم القاعدہ خود چلائے -)”

امارت نے اس معاملہ میں دخل دینے سے معذرت کرلی اور اسکی بجائے واپس تنظیم کی طرف فیصلہ لوٹا دیا۔

اِن نوجوانوں کی کہانی ہر طرف پھیل گئی اور تنظیم ایک مذاق بن کررہ گئی۔مجاہدین اور عام لوگوں کی طرف سے سوالات اُٹھنا شروع ہوگئے، کہ تنظیم اِن پر حد قائم کرنے میں تاخیر کیوں کررہی ہے اور فیصلہ ہوئے بغیر تنظیم القاعدہ نے کیوں ملزموں کو قید سے رہا کردیاہے۔؟”

داعش کے بارے ظواہری کا پروپیگینڈا:

صفحہ ۱۴ سے اقتباس:

“الظواہری اسکے بعد متواتر ذرائع ابلاغ پر ایک معصوم صلح کار کے طور پر نمودار ہوتے رہےاور ریاست اور بیعت کے معاملے میں فیصلہ کرنے میں قیادت کے “حق” اور اسکی سمع و اطاعت کے “فرض ” ہونے پر زور دیتے رہے۔انہوں نے دولتِ اسلامیہ اور اسکے رہنماء کو بدترین خصلتوں کے حامل کے طور پر پیش کرنا شروع کردیایہاں تک کہ شام میں ہتھیار اٹھانے والے ہر گروہ نے دولت ِاسلامیہ کو اپنا نشانہ بنالیا، اور الظواہری کے پرپیچ خیالات کے جال میں آکر بہت سے گروہ ان بھول بھلیوں میں پھنس گئے۔”

القاعدہ نے مال و عہدہ دیکر کر خریدنے کی کوشش کی:

صفحہ ۱۵ سے اقتباس:

“تنظیم نے مال ودولت اور عہدوں کی شکل میں ہمارے دل جیتنے اور ان میں موجود غصہ کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن اللہ کے فضل سے وہ اس میں ناکام ہوگئے۔”

القاعدہ  سے ابو جریر کے سوالات:

صفحہ ۱۵ سے اقتباس:

“جو سوالات ہم نے تنظیم القاعدہ کے سامنے پیش کیے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

1️⃣۔ تنظیم اپنا عقیدہ شائع کرے بالخصوص روافض کے بارے میں۔

2️⃣۔طاغوت مرسی کے بارے میں ایمن الظواہری کی دعا کا شرعی ثبوت پیش کریں۔

3️⃣۔الظواہری کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کو خارجی قرار دینے کی وجوہات بیان کریں۔

4️⃣۔ جہادی لائحہ عمل کو قتال سے ہٹاکر پرامن مظاہرو ں اور عوامی حمایت کے حصول کی طرف پھیرنے کی وجوہات بیان کی جائیں۔

ان سوالات کا کوئی جواب نہیں آیا حتیٰ کہ میرانشاہ سے آخری مجاہد بھی نکل گیا چونکہ جون ۲۰۱۴ میں پاکستانی فوج اس علاقے میں داخل ہوگئی تھی اور اسکا محاصرہ کر لیا تھا ۔اس موقع پر ہم نے تنظیم کو الٹی میٹم دیا کہ وہ دوبارہ غور کرے اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے باز آجائے۔ لیکن بدقسمتی سےاس مضمون کی اشاعت تک بھی ایمن الظواہری تنظیم کو ذلت کی پستیوں تک لے جانے میں مصروف عمل ہے۔”

القاعدہ  تنظیم کا آخر کیا بنا؟

صفحہ ۱۵ سے اقتباس:

“تنظیم القاعدہ ایک بپھرے ہوئے سانڈ کی مانند ادھر ادھر چکرانے لگی،اسکے حمایتی ہر جگہ اور ہر خاص وعام ،مجاہد ہو یا غیر مجاہد،جماعت ہو یا فردکے گرد چکر کاٹنے لگےتاکہ تنظیم کی بھنور میں پھنسی کشتی اور اسکے تھکے ہوئے ملاح کو بچایا جا سکے-

انہوں نے ہمارے خلاف جھوٹ کے پُل باندھ دیے اور سخت ترین الفاظ میں ہمارا تذکرہ کیا۔تکفیری ، خارجی، مسلمانوں کے قاتل اور وہابی جیسے القابات دیئے،اور لوگوں کو ڈرایا کہ ہم قاتل ہیں اور ان سب کو ذبح کردیں گے۔”

وزیرستانیوں کا حنفی سلفی اختلاف بڑکھانے کی کوشش:

صفحہ ۱۶ سے اقتباس:

“پھر تنظیم نے مسلکی منافرت کا پتہ کھیلنے کی کوشش کی ،خصوصا ًاس لیے کہ زیادہ تر لوگ حنفی مسلک تھے۔انہوں نے دعوی کیا کہ اس بیعت کی وجہ سے ہم نے انکے مسلک اور انکے امیر کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے، اور اِس علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے سپاہیوں کے طور پر ہماری موجودگی انکی تنظیم اور امیر کے خلاف بغاوت ہے۔”

القاعدہ  نے داعشیوں سے ہاتھ کھینچ لیا:

صفحہ ۱۶ سے اقتباس:

“القاعدہ کے حمایتیوں نے بغیر کسی شرم وحیا کےہمارے خلاف جنگ شروع کردی ، اور جن ساتھیوں نے دولتِ اسلامیہ کی بیعت کا اعلان کیا تھا،تنظیم نے فورا ً انکے کفالے/مشاہرے بند کردیے اور خواتین ، بچوں اور بیماروں تک کا بھی لحاظ نہیں کیا۔پس مخیر حضرات جو صدقات و اموال جہادی عمل کو چلانے اوراللہ کی رضا کی خاطر القاعدہ اور اسکے ارکان کو دیتے تھے، اس کو الظواہری نے مستحق افراد کے ہاتھوں میں جانے سے اس وجہ سے روک دیاکہ وہ حق کی حمایت کرتے تھے اور اپنے دین کا نظام غالب کرنا چاہتے تھے۔اسکی بجائے الظواہری نے ان صدقات و اموال کو حق اور اہل حق کےخلاف جنگ بڑھکانے میں صرف کیا۔سبحان اللہ۔”

ازبکوں کو القاعدہ  نے خارجی قرار دیدیا:

صفحہ ۱۶ سے اقتباس:

” تنظیم القاعدہ نے یہ بہانہ کرتے ہوئے ان (ازبکوں) کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا کہ یہ ازبک تکفیری ، خارجی اور انتہا پسند ہیں ، جس کے نتیجہ میں بہت سے ازبک شہید ہو گئے ۔یہ گروپ وہاں سے نکل کر شمالی وزیرستان میں میر علی اور میرانشاہ کی طرف جانے پر مجبور ہوگیا۔تنظیمالقاعدہ والے دولت ِاسلامیہ کی بیعت کرنے والے ساتھیوں کے خلاف اکھٹے کھڑے ہونے کے لئے اس گروپ کے آگے گڑگڑائے، لیکن انہیں وہاں سےناکام و نامراد واپس آنا پڑا۔”

القاعدہ  اور خفیہ اداروں سے تعلقات:

صفحہ ۱۷ سے اقتباس:

“تنظیم القاعدہ پھر امارتِ اسلامیہ افغانستان کے نمائندہ گوڈعبدالرحمان ، جو کہ امریکی اور پاکستانی خفیہ اداروں کے لئے جاسوس بھرتی کرنے میں بھی ملوث تھا، کے پاس گئی۔تاکہ اسکے اور تنظیم القاعدہ کے درمیان تعلقات جو کہ اس پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد خراب ہوگئے تھے۔”

القاعدہ  پر دیوبندی صوفیوں کا قبضہ:

صفحہ ۱۷ سے اقتباس:

“اور بلاشبہ میرا دل اُس وقت مسرت سے بھر جاتا ہے جب میں ان مخلص پنجابی ساتھیوں کے گروہ کو یاد کرتا ہوں جنہوں نےتنظیم القاعدہ کو خیر باد کہ دیا۔اور جو کچھ تنظیم القاعدہ میں باقی بچا اس پر الظواہری اورعاصم عمر اور احمد فاروق نامی دواشخاص کی شکل میں دیو بندی صوفیوں کے گروہ کا راج ہوگیا۔تنظیم نے ان کو اپنے دماغ یعنی “السحاب میڈیا” کے اردو شعبہ کا اختیار دے کر سب کچھ بگاڑ کر رکھ دیا۔تنظیم کے انجینئر مختار المغربی جوکہ تنظیم اور ان دو دیو بندیوں کے درمیان رابطہ کار ہیں ، نے تنظیم القاعدہ برصغیرکے نام پر القاعدہ کو ایک دیوبندی تنظیم بنا کر رکھ دیا ۔اور انہوں نے مہاجر مجاہدین کو دور ہٹا دیا کیونکہ وہ اب انکی ضرورت محسوس نہیں کر رہےتھے-“

ایڈیٹر نوٹ:

قارئین یہ تھی “درد بھری” کہانی۔۔۔ کیا سمجھے آپ؟؟؟

📛 جو القائدہ شریعت کے نفاذ کی ٹھیکیدار بنی پھرتی ہے وہ وزیرستان میں خود قبائلی قوانین پر فیصلہ کرتی ہے۔۔۔
🔵 کہاں ہیں “ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہمہ الکفرون” پڑھنے والے؟؟

❌ شریعت کے نفاذ کے ٹھیکیدار خود لواطت اور جاسوسی کے قبیح فعل میں مبتلا ہیں۔۔!!!

🔴 کہاں ہیں الولاء والبراء کے عقائد کی خود ساختہ تشریحات کرنے والے؟؟ ہے کوئی جو ان القائدہ کے حکم بغیر ما انزل اللہ اور تولی موالات اور کفار کی جاسوسیوں کے جرم میں سزا کی بات کرے؟؟

📺 کہاں گیا السحاب میڈیا؟؟

⏳ داعش کو خارجی کہنے والے القاعدہ کے نادانو۔!! اک نظر اپنے گریبانوں میں بھی مار لو۔۔۔ یہ خارجیت اصل میں تو تمہاری ہی کوک سے نکلی ہی تمہارے بطن سے ہے۔۔۔ جو نشانیاں داعش پر فٹ کرتے ہو وہ پہلے تم پر ہی صادق آتی ہیں۔۔!!!

♻️ اب اپنا بویا ہوا بیج کاٹو۔۔۔۔




کتابوں کے لیے یہاں کلک کریں

 


نام کتاب : حرمت مسلم اور مسئلہ تکفیر 

تالیف : الشیخ محمد یوسف ربانی حفظہ اللہ تعالی 

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ

کرنے کے لئے یہاں کلک کریں 

click_003

 

۷۷pos

نام کتاب : الولاء والبراء اور عصر حاضر کی انتہا پسندی 

تالیف : الشیخ عارف بن ناصر بن حاتم الشریف حفظہ اللہ تعالی 

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ

کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

click_003

book pنننos

نام کتاب : مسئلہ تکفیر کب فتنہ تکفیر بنتا ہے 

تالیف : الشیخ ابو القاسم ارسلان حفظہ اللہ  

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ

کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

click_003 

bookئئئی pos

نام کتاب : ظالم و فاسق حکمران کی تکفیر کی بنیادوں کا شرعی جائزہ  

تالیف : حافظ زبیر حفظہ اللہ  

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ

کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

click_003

boo۳k pos

نام کتاب : سرطان العصر فتنہ تکفیر 

تالیف : الشیخ ابو محمد ناصر حفظہ اللہ 

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ کرنے

کے لئے یہاں کلک کریں

click_003

 

shahbaz

نام کتاب : سرطان العصر فتنہ تکفیر 

تالیف : الشیخ احسان الحق شہباز حفظہ اللہ  (فاضل مدینہ یونیورسٹی)

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ کرنے

کے لئے  یہاں کلک کریں

click_003

 

بھت

نام کتاب : مسلمان کو کافر قرار دینے کا فتنہ 

تالیف : الشیخ عبد السلام بن محمد حفظہ اللہ 

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ کرنے

کے لئے  یہاں کلک کریں

click_003

 

islam by rahm dushman

نام کتاب : اسلام اور پاکستان کے بے رحم دشمن  

تالیف : ابو عمر عفی اللہ عنہ 

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ کرنے

کے لئے  یہاں کلک کریں

click_003

bookئئ pos

نام کتاب: اہل السنۃ اور مرجئہ آئمہ سلف کی نظر میں                 

تالیف : الشیخ ابو عبد اللہ طارق حفظہ اللہ تعالی 

آن لائن مطالعہ اور ڈاؤنلوڈ

کرنے کے لئے یہاں کلک کریں ۔ 

click_003