تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

در حقیقت "تکفیری" کون کہلاتا ہے؟

تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

درحقیقت ” تکفیری ” کون کہلاتا ہے؟ 

سوال :

آج کل عموما بہت سے گروہ ایک دوسرے کو تکفیری قرار دیتے نظر آتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “تکفیری ” کس شخص کو کہا جاتا ہے اور اصل “تکفیری لوگ ” کون ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں تو بظاہر محض فکری اختلافات کی بناء پر الزام تراشیاں جاری ہیں اور تکفیری وخارجی کے اتہامات کی بھر مار ہے ؟

الجواب بعون الوھاب

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

ہر مسلمان جب بھی وہ تلاوت قرآن کا سر انجام دیتا ہے یا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کسی نا کسی کی تکفیر ضرور کرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جن کو کفر کہا گیا ہے۔ مگر کسی عمل کے کفریہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسکا ہر ہر مرتکب کافر و مرتد قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ کہ قرآن و احادیث کے مجموعے اور فہم سلف سے یہ بات عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ نہایت قبیح کبیرہ گناہوں سے مسلمانوں کو ڈرانے اور تنبیہ کرنے کے مقصد سے انہیں بھی کفر قرار دیا ہے۔ حالانکہ انکا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہ قرار دیا جاتا اور نہ ہی ایسا سمجھا جاتا ہے

تو جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کفر کی دو اقسام ، قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین سے ہمیں ملتی ہیں ،وہ درج ذیل ہیں :

1- کفر اصغر (کبیرہ گناہ)

2- کفر اکبر ( ارتداد )

اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی:

ہر ایسے کام کہ جسے قرآن احادیث میں کفر کہا گیا ہو ، کا مرتکب لازمی نہیں دین اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا کیونکہ  ہوسکتا ہے کہ وہ عمل کفر اصغر یعنی کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہو۔ 

◀️ اگر کوئی مسلمان عورت یا مرد کسی ایسے عمل میں مبتلاء ہوتا ہے کہ جو ارتداد کے زمرے میں آتا ہو تو اس مسلمان کی تکفیر کرنے والا شخص تکفیری ہرگز نہیں بن جاتا یعنی محض کسی کو کافر قرار دے دینے سے کوئی تکفیری نہیں بن جاتا ۔ جب ہم کسی کے لیے لفظ “تکفیری” یا “فتنہء تکفیر” استعمال کرتے ہیں تو اس وقت تکفیر مطلق کی بات عموما نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ تکفیر معین کے حوالے سے بولے جاتے ہیں یا پھر کبھی کبھار تکفیر مطلق سے متعلق بھی ہوتے ہیں ۔ عموما ان سے مراد تکفیر معین ہی ہوتی ہے ۔

◀️ پس ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کی معین تکفیر کرے جبکہ اس نے کوئی کفریہ کام بھی نہ کیا ہو یا اگر کفریہ کام کیا ہو تو تکفیر معین کے اصول وقوانین کو ملحوظ رکھے بغیر اور انہیں اپلائی کیے بغیر وہ اس معین شخص کو کافر و مرتد قرار دینا شروع کر دے تو ایسے تکفیر کرنے والے کو تکفیری یا فتنہء تکفیر میں مبتلاء قرار دیا جاتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص نے تکفیر المعین کے اصول ضوابط جو کہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہیں پر پرکھے بغیر کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تو ایسا شخص تکفیری پکارا جائے گا ، کیونکہ اس نے ایک مسلمان کی ناحق تکفیر کی ہے اور شرعی قواعد وضوابط سے انحراف کیا ہے۔ 

◀️ ہاں اگر کوئی شخص کسی صریح کفریہ عمل میں ملوث کسی مسلمان پر تکفیر معین کے اصول وقوانین کا اطلاق کرکے اسکی معین تکفیر کرتا ہے تو ایسا کرنے والا شخص تکفیری نہیں کہلائے گا ۔ مگر یاد رہے یہ متبحر فی العلم علماء امت کا کام ہے بلکہ علماء کے گروہ کا کام ہے۔ اور عوام الناس، دینی مدارس کے طلباء، مساجد کے خطباء و آئمہ کو بھی اس مسئلے میں ایسے علماء کے پیچھا چلنا ہے جو تکفیر کرنے کے اہل ہیں اور تکفیر کے اصول ضوابط کا پورا علم اور ادراک رکھتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب 




داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت (جدید ایڈیشن)۔

داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت

(جدید ایڈیشن)

ایک تحقیقی جائزہ 

مصنف : مناظر اسلام فضیلۃ الشیخ محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ 

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

ٹوٹل صفحات :176 

سائز : 4 ایم بی

ڈاؤنلوڈ لنک :https://archive.org/details/Daesh_aor_shariat_aek_jaeza_201706

خارجی تنظیم داعش نے اپنی خود ساختہ جھوٹی خلافت کے نام پر امت مسلمہ کا بے دریغ خون بہایا، اسلام کے نام پر ایسے ایسے قبیح اور شنیع جرائم کا ارتکاب کیا کہ جس کا کسی بھی صورت میں دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

اس کتاب میں مناظر اسلام محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں داعش کے تمام جرائم کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی جائزہ اور ان کے غلط استدلال کا رد پیش کر کے ان خوارج کے قبیح چہرے کو خوب واضح کیا ہے ۔

78b33a42-a4bd-488a-aa34-359eeb6310eb

مکتبہ رد فتن 




تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش (جدید ایڈیشن)۔

تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش

(جدید ایڈیشن)

داعش کے گمراہ کن نظریات کا تعاقب

مصنف : فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفطہ اللہ تعالی

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

ٹوٹل صفحات : 128

ڈاؤنلوڈ لنک : https://archive.org/details/Talbisat_Daesh 

سائز : 3 ایم بی

داعش امت مسلمہ کے لئے ایک خطرناک فتنہ بن کر ابھرنے والی ، خوارج کے افکار کو پروان چڑھانے والی تنظیم جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف قسم کے اشکالات اور شبہات پھیلا کر مسلمانوں کو دھکا دے رہی ہے ۔

اس کتاب میں فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ نے اس خارجی تنظیم کے مسلمانوں میں پھیلائے گئے اشکالات و شبہات کا تعاقب کرتے ہوئے قرآن و سنت کے روشنی میں مدلل اور تحقیقی جواب پیش کیا ہے ۔ 

866fac73-4980-4f4e-9ea4-9deb230552ea

مکتبۃ رد فتن 




تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 2

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 2

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 

امام ابن تیمیہ ، امام ذھبی اور ابو الحسن الاشعری رحمہم اللہ کا آخری فیصلہ

فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد

کسی بھی مسلمان کو اپنے سوچے سمجھے اصول و قواعد پر کافر قرار دے دینا نہائت خطرناک عمل ہے جو کہ خوارج کا طرہ امتیاز ہے ، ہر دور میں سر فہرست خوارج کی ایک خاص نشانی رہی ہے جو خوارج کے تمام فرقوں اور گروہوں میں پائی جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اس فسادی عمل سے بطور خاص ڈرایا اور متنبہ فرمایا ہے اور اس کی تباہیوں سے آگاہ فرمایا ہے ۔ جو کئی مرتبہ ہم بیان کر چکے ہیں ۔ یہاں مختصرا ہم صرف چند اہم ائمہ عظام کا مسلمان کی تکفیر کے حوالے سے طریقہ کار بیان کیا جائے گا کہ کس طرح وہ اس مسئلہ کو حساس اور نہایت اہم سمجھتے ہوئے نہائت احتیاط سے کام لیتے اور ایک ایک لفظ سوچ سمجھے کر بیان فرماتےتھے ۔ 

امام ابو الحسن علی بن اسماعیل الاشعری کا اعلان حق

امام محمد بن احمد بن عثمان الذھبی ( المتوفی 748ھ ) لکھتے ہیں :

رأيت للاشعري كلمة أعجبتني وهي ثابتة رواها البيهقي، سمعت أبا حازم العبدوي، سمعت زاهر بن أحمد السرخسي يقول:

لما قرب حضور أجل أبي الحسن الاشعري في داري ببغداد، دعاني فأتيته، فقال: أشهد على أني لا أكفر أحدا من أهل القبلة، لان الكل يشيرون إلى معبود واحد، وإنما هذا كله اختلاف العبارات.

” میں نے اشعری کا ایک کلام دیکھا جس نے مجھے حیرت و تعجب میں ڈال دیا اور وہ ثابت ہے اسے امام بیھقی نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا میں نے ابو حازم العبدوی سے سنا انہوں نے کہا میں زاہر بن احمد السرخسی سے سنا وہ کہتے ہیں :

جب میرے گھر میں بغداد کے اندر ابو الحسن الاشعری کے موت کا وقت قریب ہو گیا ، تب انہوں نے مجھے بلایا تو میں ان کے پاس آیا انہوں نے کہا : مجھ پر گواہ ہو جا ، میں اہل قبلہ میں سے کسی ایک کی بھی تکفیر نہیں کرتا اس لئے کہ تمام ایک معبود کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور یہ سب محض عبارات کا اختلاف ہے ۔ “

یہ ابو الحسن الاشعری وہ ہیں جو اشاعرہ کے امام ہیں یہ پہلے معتزلی تھے پھر انہوں نے معتزلہ کی حمایت میں کتب لکھی تھیں پھر خود ان کا ابطال کیا اور دیوبندی اور بریلوی علماء انہیں عقیدے میں اپنا امام مانتے ہیں ۔

انہوں نے آخری زندگی میں کلمہ حق بلند کیا اور اہل السنۃ اہل الحدیث کا منہج اختیار کیا اور اہل القبلہ کی تکفیر سے رجوع کر لیا ۔ لیکن ان کے ماننے ولوں نے غلط روش اپنائی اور آج مسلمانان عالم کی تکفیر پر کمر بستہ ہیں اور محض تکفیر نہیں بلکہ تقتیل و تفجیر کی آخری حدوں کو چُھو رہے ہیں ۔ ھداھم اللہ تعالی الی صراط مستقیم ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا آخری قول

امام ذھبی رحمہ اللہ ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کا کلام نقل کرنے کے بعد اپنے اور اپنے شیخ محترم ابن تیمیہ کے بارے میں رقمطراز ہیں :

قلت: وبنحو هذا أدين، وكذا كان شيخنا ابن تيمية في أواخر أيامه يقول: أنا لا أكفر أحدا من الامة، ويقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ” لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن ” فمن لازم الصلوات بوضوء فهو مسلم.

” میں کہتا ہوں : اس طرز کو میں اپناتا ہوں اور اسی طرح ہمارے شیخ امام ابن تیمیہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کہتے تھے : میں امت میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا اور کہتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” وضوء کی حفاظت مومن کے علاوہ کوئی نہیں کرتا تو جس نے وضوء کے ساتھ نمازوں کو لازم کر لیا وہ مسلم ہے ۔ “

اس سے معلوم ہوا کہ امام ذھبی اور ان کے شیخ امام ابن تیمیہ کا بھی آخری فیصلہ یہی ہے کہ وہ کسی مسلم کی تکفیر نہیں کرتے تھے اور احتیاط کی روش اپنانے میں ہی خیر ہے ۔ بعض جہال امام ابن تیمیہ وغیرہ کی مجمل عبارات پیش کر کے لوگوں کی تکفیر پر کمر بستہ ہیں اور اسلام اور اہل اسلام کے لئے بدنما دھبہ ہیں ۔ ایسے جہال علمائے کرام کی تکفیر سے بھی نہیں چونکتے ۔

امام ابن تیمیہ کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا منکر ہے کہ جہلاء کو علماء کی تکفیر پر مسلط کر دیا جائے ۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

فإن تسليط الجهال على تكفير علماء المسلمين من أعظم المنكرات ؛ وإنما أصل هذا من الخوارج والروافض الذين يكفرون أئمة المسلمين

” پس بلا شبہ جہال کو مسلمانوں کے علماء کی تکفیر پر مسلط کر دینا سب سے بڑی منکر چیز ہے اور اس کی اصل خوارج اور روافض میں سے ہے جو آئمۃ المسلمین کی تکفیر کرتے ہیں ۔ “

خوارج اور روافض ایسے خبثاء ہیں جنہوں نے امت مسلمہ کے اولین گروہ مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی اور ان پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھولا اور آج انہی کی کوکھ سے جنم لینے والے بعض مُخبّثین امت مسلمہ کی تکفیر کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں ۔

اور حیرت و افسوس اس بات پر ہے کہ بعض اہل السنۃ ، اہل الحدیث کی طرف منسوب لوگ بھی اس آفت کی لپیٹ میں آچکے ہیں اس سے قبل اس بات کا اظہار امام دقیق العید اور علامہ ابن الوزیر الیمانی بھی کر چکے ہیں ۔

امام ابن دقیق العید فرماتے ہیں :

وهي ورطة عظيمة وقع فيها خلق من المتكلمين ومن المنسوبين إلى السنة وأهل الحديث

” اور یہ ایک بہت بڑا بھنور ہے جس میں متکلمین اور سنت و حدیث کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگ پھنس چکے ہیں۔ “

اور علامہ ابن الوزیر الیمانی رقمطراز ہیں :

فمن العجب تكفير كثير ممن لم يرسخ في العلم لكثير من العلماء وما دروا حقيقة مذاهبهم وهذه هذه وما يعقلها إلا العالمون

” تعجب ہے بہت سارے وہ لوگ جنہیں علم میں رسوخ نہیں ہے وہ کثیر علماء کی تکفیر کرتے ہیں اور وہ ان کی مذاہب کی حقیقت نہیں جانتے اور ان مباحث کو علماء کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا ۔ “

اور علماء کسی کی تکفیر کرنے سے قبل بار ہا دفعہ غور و فکر کرتے ہیں بلکہ جس قدر ممکن ہو کسی مسلم سے سرزد ہو جانے والے قول کفر کی توجیہات کرتے ہیں تا کہ وہ شخص مسلم برادری سے خارج نہ ہو اور اس کی گمراہی کی اصلاح ہو ۔

ماخوذ از

مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب 




Untitled-1

فاسق اور فاجر کسے کہا جاتا ہے ؟

photo_2017-09-13_10-00-24

 فاسق اورفاجرکسے کہا جاتا ہے ؟

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

فاسق و فاجر تقریباً ہم معنیٰ الفاظ ہیں، جوکہ عربی زبان سے اردو میں آئے ہیں اور بطور صفت استعمال ہوتے ہیں۔

فاسق :

لغت میں فاسق، نافرمان اور حسن و فلاح کے راستے سے منحرف ہونے والے شخص کو کہتے ہیں۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے:
فسق فلان عن الجماعة إذ خرج عنها

فلاں شخص جماعت کا نافرمان ہو گیا، جب وہ جماعت سے نکل گیا۔

اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہتے ہیں جو حرام کا مرتکب ہو یا واجب کو ترک کرے یا اطاعتِ الٰہی سے نکل جائے۔

غیر عادل شخص کو بھی فاسق کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور حدودِ شرعی کو توڑنے والا بھی فاسق کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی دو طرح کی ہے:

ایک کلی اور دوسری جزوی۔

کلی اور واضح نافرمانی کفر ہے جس میں کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کو درست جانتا ہے۔ 

جبکہ جزوی نافرمانی فسق ہے جس میں ایک شخص دین الٰہی اور شریعتِ محمدی کی تصدیق بھی کرتا ہے مگر خواہشات نفس میں پڑ کر شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی بھی کر دیتا ہے، مگر اس کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ حکم عدولی غلط اور ناجائز ہے۔ ایسا کرنے والے کو فاسق کہتے ہیں۔
الفسق: في اللغة عدم إطاعة أمر الله وفي الشرع ارتكاب المسلم كبيرة قصدا أو صغيرة مع الإصرار عليها بلا تأويل
فسق، لغت میں اللہ کے حکم کی عدم تعمیل کو کہتے ہیں اور شرع میں اس سے مراد کسی مسلم کا بغیر تاویل کے قصداً گناہِ کبیرہ کا ارتکاب یا گناہِ صغیرہ پر اصرار ہے۔

(قواعد الفقه: 1: 412)

قرآنِ مجید نے بسا اوقات کفر کو بھی فسق کہا اور کئی مقامات پر کفر کو فسق سے الگ نافرمانی کے معنیٰ میں بھی بیان فرمایا۔ جیسے سورہ حجرات میں ارشاد فرمایا:
وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ
لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا فرمائی اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ فرما دیا اور کفر اور نافرمانی اور گناہ سے تمہیں متنفر کر دیا۔

(الحجرات، 49: 8) 

کفر پر فسق کا اطلاق کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَأْوَاهُمُ النَّارُ كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ
اور جو لوگ نافرمان ہوئے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ جب بھی اس سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اِس آتشِ دوزخ کا عذاب چکھتے رہو جِسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ 

(السجدة، 32 : 20) 

عربی زبان میں اس کی جمع فُسَّاقٌ اور فَوَاسِقُ، جبکہ مونث کے لیے فاسقہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اور اردو زبان میں اس کی جمع فاسِقِین اور جمع غیرندائی فاسِقوں مستعمل ہے۔
فاجر: 

فاجر کے لغوی معنیٰ گنہگار اور حق سے منہ موڑنے والے کے ہیں۔ گناہوں میں لت پت شخص کو بھی فاجر کہتے ہیں۔ اس کی جمع فاجرون، فُجَّار اور مؤنث فاجرۃ ہے۔

اہم بات :

اس میں ایک بہت بڑا نکتہ اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام اور تبع تابعین کرام تمام اسلاف امت برے حکام کی مذمت تو کی ، ان کی برائی کی نکیر تو کی انہیں فاسق کی بجائے فاجر بھی کہا لیکن اس کے باجود تمام اجتماعی معاملات نماز، روزہ ، عیدین ، حج اور حتی کہ جہاد بھی اسی حاکم کے ساتھ اور اس کی اطاعت میں رہ کر بجا لاتے تھے ، کیونکہ امت کی اجتماعیت اور امن و امان کی اہمیت سب سے بالا ہے خون خراب اور فساد مچانا دین کے نام پر بھی جائز نہیں اور ایسے طریقوں کی شریعت نے خود مذمت کی ہے ۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔




07221208-7266-4b5b-9a41-532ffbd9d493

معاہد ومستأمن (غیر ملکی سفیر وسیاح وغیرہ) کو عمداً یا خطاً قتل کرنے کی حرمت

07221208-7266-4b5b-9a41-532ffbd9d493

معاہد ومستأمن (غیر ملکی سفیر وسیاح وغیرہ) کو

عمداً یا خطاً قتل کرنے کی حرمت

فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ

الحمد للہ وحدہ والصلاۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ، امابعد!

اسلام میں ذمی (وہ غیر مسلم جو مسلم ملک میں جزیہ دے کر رہتے ہیں) معاہد (جو اسلامی ملک میں معاہدے کے تحت آیا ہو) اور مستأمن (جسے مسلمانوں نے امان دی ہو) کو قتل کرنا حرام ہے۔ اس بارے میں شدید وعید وارد ہوئی ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری حدیث نمبر: 3166 میں حدیث روایت فرمائی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی رحمۃ للعالمین ﷺ نےفرمایا:
’’مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا‘‘
(جس کسی نے معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو چالیس سال کی مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے)۔

امام بخاری رحمہ اللہ اسے کتاب الجزیۃ میں باب ’’إِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا بِغَيْرِ جُرْمٍ‘‘ (جو کسی معاہدکو بلاجرم کے قتل کرے اس کا گناہ)کے تحت لے کر آئے ہیں ۔

اسی طرح سے اسے کتاب الدیات میں باب  ’’إِثْمِ مَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا بِغَيْرِ جُرْمٍ‘‘ (جو کسی ذمی کو بلاجرم کے قتل کرے اس کا گناہ)کے تحت بھی لائے ہيں اور وہاں یہ الفاظ ہیں:
’’مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا‘‘

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں اسی حدیث کے ضمن میں ذمی اور معاہد کی تعریف کرتے ہوئےفرماتےہیں:  اس سے مراد ہر وہ شخص جس کا مسلمانوں سے عہد ہو چاہے جزیہ کے ذریعے ہو یا حکمران کی جانب سے کسی معاہدے کے تحت ہو یا کسی بھی مسلمان نے اسے امان دی ہو۔

اور امام نسائی رحمہ اللہ اپنی کتاب سنن نسائی حدیث نمبر: 4750 میں ان الفاظ سے روایت کرتے ہیں:
’’مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا‘‘
(جس کسی نے اہل ذمہ میں سے کسی کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو چالیس سال کی مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے)۔

اسی طرح سے حدیث نمبر:4749 میں بھی صحیح سند کے ساتھ صحابہ کرام میں سے کسی شخص سے روایت کرتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا‘‘
(جس کسی نے اہل ذمہ میں سے کسی شخص کو قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو ستر سال کی مسافت سے بھی سونگھی جاسکتی ہے)۔

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے فرمایا:
’’مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ‘‘
(جس کسی نے معاہد کو بے وقت قتل کیا اللہ تعالی نے اس پر جنت حرام فرمادی)۔

اسےامام ابو داود رحمہ اللہ نے حدیث نمبر:2760 اور امام نسائی رحمہ اللہ نےحدیث نمبر: 4747 میں صحیح سند کے ساتھ روایت فرمایا۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے حدیث نمبر:4748 میں ان الفاظ کا اضافہ نقل فرمایا:
’’أَنْ يَشُمَّ رِيحَهَا‘‘
(اللہ تعالی نے اس پر حرام کردیا کہ وہ جنت کی خوشبو بھی سونگھ پائے)۔

امام المنذری رحمہ اللہ  نے الترغیب والترہیب 2/635 میں فرمایا:  ’’فِي غَيْرِ كُنْهِهِ‘‘ کا معنی ہے بے وقت یعنی ایسے وقت میں قتل نہيں کیا جب اس کا قتل جائز تھا یعنی اس کا کوئی عہد ومعاہدہ نہیں تھا۔

اور فرمایا: اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت فرمایا اور اس کے الفاظ ہیں:
’’مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا، لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَ إِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ‘‘
(جس کسی نے ناحق کسی معاہد جان کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پاسکے گا حالانکہ اس کی خوشبو تو سو سال کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے)۔

شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے۔ جہاں تک معاملہ ہے کسی معاہد کو خطاً قتل کرنا تو اللہ تعالی نے اس بارے میں دیت اور کفارہ واجب قرار دیا ہے۔

فرمان الٰہی ہے:

﴿وَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰٓى اَھْلِهٖ وَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنة ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ۡ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا(النساء: 92)
(اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیمان ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا بھی ضروری ہے، پس جو نہ پائے اس کے ذمے لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئے ، اور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے)

آخر میں میں کہوں گا کہ اے نوجوانوں اپنے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو، اور شیطان کا شکار نہ بنو، جو تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی ذلت ورسوائی کو جمع کردے گا۔ اور مسلمانوں کے بارے میں ان کے بوڑھوں، ناتوانوں اور نوجوانوں کے بارے میں بھی اللہ تعالی سے ڈرو۔ اسی طرح سے مسلمان عورتوں کے بارے میں ان کی ماؤں، بیٹیوں، بہنوں، پھوپھیوں اور خالاؤں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو۔ عمر رسیدہ بزرگوں سے لے کر شیرخوار بچوں تک کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرو۔ معصوم جانوں کے ضائع ہونے اور قابل احترام مال کے تلف ہونے کے بارے میں ہی کچھ اللہ کا ڈر پیدا کرو۔

﴿فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ(البقرۃ: 24)
(اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں)

﴿وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ، ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ(البقرۃ: 281)
(اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا)

﴿يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا، وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْءٍ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهٗٓ اَمَدًۢا بَعِيْدًا(آل عمران: 30)
(جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت سی دوری ہوتی)

﴿يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ، وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهِ، وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ، لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ(عبس: 34-37)
(اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے، ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامن گیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی)

اپنی نیند سے بیدار ہوجاؤ اور خواب غفلت سے ہوش میں آؤ۔ زمین میں فساد پھیلانے کی خاطر شیطان کی سواری نہ بنو۔
اللہ عزوجل سے دعاء ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان کے دین کا صحیح فہم عطاء فرمائے۔ اور انہيں فتنوں کی گمراہیوں سے محفوظ فرمائے، خواہ ظاہر ہوں یا باطن۔ اور اللہ تعالی درود وسلام اور اپنی برکت اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آل اور تمام اصحاب پر نازل فرمائے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین




photo721249554916289081

غیرت کے نام پر قتل کا شرعی حکم - الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ تعالی

غيرت كى بنا پر قتل كا شرعی حكم

الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ تعالی 

سوال : ميں غيرت كى بنا پر كسى كو قتل كرنے كا حكم معلوم كرنا چاہتا ہوں، اور شرعى احكام كے مطابق اس سزا كو دینا   كس طرح ممكن ہے ؟

الجواب 

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد :

كسى مسلمان شخص كو ناحق قتل كرنا بہت عظيم اور بڑا جرم ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً}

{ اور جو كوئى كسى مومن كو قصدا قتل كر ڈالے اس كى سزا جہنم ہے، جس ميں وہ ہميشہ رہےگا، اس پر اللہ كا غضب ہے، اور اللہ تعالى نے اس پر لعنت كى ہے، اور اس كے ليے بڑا عذاب تيار كر ركھا ہے }

[النساء : 93 ]

اور امام بخارى رحمہ اللہ نے ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم ﷺ  نے فرمايا:

( لن يزال المؤمن في فسحة من دينه ما لم يصب دما حراما ) .

” مومن اس وقت اپنے دين كى وسعت ميں ہے جب تك وہ كسى كا حرام اور ناحق خون نہيں بہاتا “

[البخارى: 6355 ]

اور پھر نبى كريم ﷺ نے بيان فرمايا ہے كہ وہ كونسے اسباب ہيں جن كى بنا پر كسى كا خون مباح ہوتا ہے، اسے بيان كرتے ہوئے فرمايا:

( لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث : النفس بالنفس ، والثيب الزاني ، والمفارق لدينه التارك للجماعة )

” جو شخص بھى گواہى دے كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود نہيں، اور ميں اللہ كا رسول ہوں اس مسلمان شخص كا خون بہانا حلال نہيں، ليكن تين اشياء كى بنا پر: يا تو وہ شادى شدہ زانى ہو، اور قتل كے بدلے قتل كرنا، اور دين كو ترك كرنے اور جماعت سے عليحدہ ہونے والے شخص كو “

[البخارى : 6370 ،المسلم : 3175 ]

شادى شدہ شخص كا زنا كرنا ايك ايسا سبب ہے جس كى بنا پر اس كا قتل مباح ہو جاتا ہے، ليكن زانى كو اس وقت تك قتل نہيں كيا جا سكتا جب تك دو شرطيں نہ پائى جائيں:

پہلى شرط:

وہ شخص شادى شدہ ہو ” محصن ” ( اوپر كى حديث ميں اس كا بيان ہوا ہے ) اور علماء كرام نے الاحصان كا معنى بيان كيا ہے:

زكريا انصارى رحمہ اللہ اس كا معنى بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

المحصن: ہر وہ مرد يا عورت جو مكلف اور آزاد ہو جس نے صحيح نكاح كے بعد وطئى اور ہم بسترى كى ہو ” انتہى مختصرا.

[ديكھيں: اسنى المطالب : 4 / 128]

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

” احصان كى پانچ شروط ہيں:

1 – جماع.

2 – صحيح نكاح ميں ہو.

3 – بالغ ہو.

4 – عاقل ہو.

5 – آزاد ہو. انتہى.

[ديكھيں: الشرح الزاد ، طبعہ مصريہ : 6 / 120]

دوسرى شرط:

اس پر چار گواہوں كى گواہى سے حد ثابت ہو جائے اور وہ گواہى شرمگاہ كو شرمگاہ ميں ديكھنے كى گواہى ديں، يا پھر وہ خود اپنے اختيار سے بغير كسى جبر كے اعتراف كر لے.

اور جب اس پر حد ثابت ہو جائے تو پھر لوگوں ميں سے كسى بھى شخص كے ليے جائز نہيں كہ خود بخود ہى اس پر حد لاگو كر دے، بلكہ اس كے ليے حكمران يا اس كے نائب سے رجوع كرنا واجب ہے، چاہے وہ نائب معاملات پورے كرنے يا حد كى تنفيذ ميں نائب ہو، كيونكہ رعايا ميں سے كسى ايك شخص كا خود ہى حد لاگو كرنا بد نظمى اور فساد كا باعث ہو اور ہر كوئى اٹھ كر دوسرے كو قتل كرتا پھرےگا.

 

ابن مفلح حنبلى كہتے ہيں:

“تحرم إقامة حد إلا لإمام أو نائبه”

” امام يا نائب كے علاوہ كسى اور كے ليے حد لاگو كرنا حرام ہے “

[ الفروع : 6 / 63 ]

اور فقھاء اسلام ميں اس پر اتفاق پايا جاتا ہے، جيسا كہ الموسوعۃ الفقھيۃ ميں درج ہے:

“يتفق الفقهاء على أن الذي يقيم الحد هو الإمام أو نائبه ، سواء كان الحد حقا لله تعالى كحد الزنى ، أو لآدمي كحد القذف” انتهى .

” فقھاء اس پر متفق ہيں كہ امام يا اس كا نائب ہى حد لاگو كريگا، چاہے وہ حد اللہ كے حق مثلا زنا ميں ہو، يا پھر آدمى كے حق ميں حد ہو مثلا حد قذف “ انتہى.

[الموسوعۃ الفقھيۃ : 5 / 280]

اور ايسا جرام كے مرتكب پر پردہ ڈالنا تا كہ وہ موت سے قبل توبہ كر لے اسے ذليل كرنے اور اس كے عيب كو ظاہر كرنے سے بہتر ہے، كيونكہ رسول كريم ﷺ كے سامنے جب ماعز اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ نے زنا كا اعتراف كيا تو آپ ﷺ نے اس سے اعراض كر ليا، اور اسے چھوڑ ديا، حتى كہ ماعز نے كئى بار سامنے آ كر ايسا كيا تو رسول كريم ﷺ نے اس پر حد لاگو كى.

اس بنا پر؛ جسے لوگ غيرت كى بنا پر قتل كا نام ديتے ہيں يہ زيادتى اور ظلم ہے، كيونكہ اس ميں اسے بھى قتل كيا جا رہا ہے جو قتل كا مستحق نہ تھا، جب كنوارى لڑكى زنا كرتى ہے تو غيرت سے اسے بھى قتل كر ديا جاتا ہے حالانكہ اس كى شرعى سزا تو ايك سو كوڑے اور ايك سال جلاوطنى ہے، نہ كہ اس كى سزا قتل تھى.

كيونكہ نبى كريم ﷺ  كا فرمان ہے:

( البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام )

” جب كنوارہ كنوارى لڑكى سے زنا كرے تو ايك سو كوڑے اور ايك برس جلاوطنى ہے “ 

[المسلم]

چنانچہ جس نے اسے قتل كيا تو اس نے ايك مومن نفس اور جان كو قتل كيا جس كا قتل اللہ نے حرام كيا تھا.اور اس سلسلہ ميں شديد قسم كى وعيد بھى آئى ہے كيونكہ سورۃ الفرقان ميں اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا (68) يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا (69) 

{ اور وہ لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہین پکارتے اور نہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرے گا وہ سخت گناہ کو ملے گا }.

{ اسے قيامت كے روز دوہرا عذاب ديا جائيگا، اور وہ ذلت و خوارى كے ساتھ ہميشہ اسى ميں رہيگا }

[الفرقان 68 – 69]

آخری بات : 

اور اگر يہ فرض كر ليا جائے كہ يہ قتل كى مستحق تھى ( اگر شادى شدہ عورت زنا كرے تو ) تو پھر بھى اس حد كو صرف حكمران ہى جارى كر سكتا ہے ـ جيسا كہ اوپر بيان ہوا ہے ـ پھر بہت سارے حالات ميں يہ قتل صرف شبہ اور گمان كى بنا پر ہى كيا جاتا ہے، اور كسى بھى قسم كى تحقيق نہيں كى جاتى كہ آيا زنا ہوا بھى ہے يا نہيں۔  واللہ اعلم بالصواب 




photo721249554916289058

امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف خروج کرنے کے الزام کا جواب - فضیلۃ الشیخ صالح المنجد حفظہ اللہ

photo721249554916289058

امام الدعوۃ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ پر

 انگریز کیساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کیخلاف

خروج کرنے کے الزام کا جواب

شیخ صالح المنجد حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:

کیا شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ نے  انگریز کیساتھ ساز باز کر کے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیا اور سقوطِ خلافت
عثمانیہ  کا سبب بھی انہی کا خروج کرنا بنا ۔۔۔ ؟

جواب     :

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

دنیامیں جوشخص بھی خیرو بھلائی کےکام کرے گا اس کے دشمن ضرور ہوں گے اور کئی ہو نگے ، جنوں میں بھی ہو سکتے ہیں اور انسانوں میں بھی حتی کہ اللہ تعالی کے انبیاء بھی اس سے محفوظ نہيں رہ سکے ۔

زمانہ قدیم سے علماء کرام کے بھی دشمن اورمخالف پائے جاتے رہے ہیں اورخاص طور پر حق کی دعوت دینے والے لوگوں کو بہت ہی سخت قسم کی دشمنی کا سامنا کرنا پڑ‌ا اس کی مثال شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی ہیں جنہوں نے بعض حاسدین سے بہت تکالیف اٹھائی جنہوں نے ان کوقتل کرنا بھی حلال کردیا تھا اور کچھ نے ان پر گمراہ اور مرتد ہونے کی تہمت لگائی۔

اسی طرح شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی بھی ان مظلوم علماء کرام میں سے ایک شخص تھے جن کےبارے میں لوگوں نے فتنہ پھیلانے کےلیے بغیر علم کے بہت کچھ کہا اوراس کام پر انہیں صرف حسد و بغض اوراپنے اندر بدعات کے رچ بس جانے کے علاوہ کسی اورچیز نے نہیں ابھارا یاپھر اس کا سبب جھالت اورنفسانی خواہشات والوں کی تقلید ہے ۔

اگلی سطور میں آپ کے سامنے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کےبارہ میں کچھ شبہات اوران کا رد پیش کرتے ہیں :

سعودی عرب کے سابقہ مفتی شیخ عبد الطیف آل شیخ  رحمہ اللہ کا تبصرہ

شيخ عبدالعزیز العبداللطیف رحمہ اللہ تعالی رقمطراز ہیں :

ادعى بعض خصوم الدعوة السلفية أن الشيخ الإمام محمد بن عبد الوهاب قد خرج على دولة الخلافة العثمانية ففارق بذلك الجماعة وشق عصا السمع والطاعة.

[دعاوی المناوئین لدعوۃ الشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ ص ( 233 )]

”سلفی دعوت کے کچھ مخالفین کا دعوی ہے کہ شيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج کیااورجماعت میں افتراق کا باعث بنے اور (حاکم کی) سمع و اطاعت کوختم کرکے رکھ دیا ۔“

مزید ایک دوسری کتاب میں شیخ عبد العزیز العبد اللطیف کچھ اس طرح رقمطراز ہیں :

ويدَّعي ” عبد القديم زلُّوم ” أن الوهابيين بظهور دعوتهم قد كانوا سببا في سقوط دولة الخلافة ، يقول : ” وكان قد وجد الوهابيون كياناً داخل الدولة الإسلامية بزعامة محمد بن سعود ثم ابنه عبد العزيز فأمدتهم الإنجليز بالسلاح والمال واندفعوا على أساس مذهبي للاستيلاء على البلاد الإسلامية الخاضعة لسلطان الخلافة أي رفعوا السيف في وجه الخليفة وقاتلوا الجيش الإسلامي جيش أمير المؤمنين بتحريض من الإنجليز وإمداد منهم.” 

[کیف ھدمت الخلافۃ (خلافت کا خاتمہ کیسے ہوا)  ص10]

” عبدالقدیم زلوم ” کا دعوی ہے کہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ  کی دعوت کا ظاہر ہونا ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب تھا ۔ اس کا یہ کہنا ہے  کہ : اسلامی حکومت میں محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کے پیروکاروں نے محمد بن سعود اورپھر اس کے بیٹے عبدالعزيز کی زير قیادت شورش بپا کی تو برطانیہ نے انہیں مال واسلحہ مہیا کیا اوران کی یہ شورش سلطان و خلیفہ کے تابع بلاد اسلامیہ پرقبضہ کرنے کے لیے مذہبی بنیاد پرکی ۔یعنی انہوں نے انگریز کے تعاون اوراس کے ابھارنے کی بناء پر خلیفہ کے مقابلہ میں تلوار اٹھائی اوراسلامی لشکر سے لڑائی کی جو کہ امیر المومنین کا لشکر تھا”

خلافت و دولۃ ‏عثمانیہ کےخلاف محمد بن عبدالوھاب کے خروج کے بارہ میں پائے جانے والے شبہ کا جواب ذکر کرنے سے قبل مناسب ہے کہ ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کا خلیفۃ اور مسلمان حکمرانوں  کی سمع واطاعت کے بارہ میں عقیدہ ذکر کردیں ۔

شیخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کا  حکام کی اطاعت کے بارےعقیدہ 

ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ خلیفہ اور حاکم چاہے نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر ہو جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے اس کی سمع واطاعت واجب ہے اس لیے کہ اطاعت صرف اورصرف نیکی کے کام میں ہوتی ہے ۔

شیخ الامام محمد بن عبد الوہابؒ  اپنے ایک خط میں (جوکہ اہل قصیم کولکھا تھا )لکھتے ہیں :

وأرى وجوب السمع والطاعة لأئمة المسلمين برّهم وفاجرهم ما لم يأمروا بمعصية الله ومن ولي الخلافة واجتمع عليه الناس ورضوا به وغلبهم بسيفه حتى صار خليفة وجبت طاعته وحرم الخروج عليه.

[مجموعۃ مؤلفات الشیخ (5/11 )]

”میرا عقیدہ ہے کہ امام المسلمین کی سمع واطاعت کرنی چاہیے چاہے وہ امام نیک و صالح ہو یا پھر فاسق و فاجر جب تک وہ نیکی کا حکم دیتا رہے اس کی اطاعت واجب ہے اورجب اللہ تعالی کی نافرمانی کاحکم دے اس میں اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی ۔ اورجوخلیفہ بنا دیاجائے  اورلوگ اس پر راضی ہوں اور لوگ اس کے پاس جمع ہو جائيں اور یا پھر وہ تلوار کے زور سے ان پر غالب ہوحتی کہ وہ خلیفہ بن جائے تو اس کی اطاعت واجب ہے اوراس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ “

اورایک دوسری جگہ پر شيخ یہ فرماتے ہیں :

الأصل الثالث : أن من تمام الاجتماع السمع والطاعة لمن تأمّر علينا ولو كان عبداً حبشيّاً 

[مجموع مؤ‎لفات الشیخ(1 /394) بحوالہ دعاوی المناوئین (233 – 234)]

”اجتماعیت کی تکمیل میں یہ بھی شامل ہے کہ جو بھی ہم پرامیر بنادیا جائے ہم اس کی سمع واطاعت کریں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ۔“

اورشیخ عبدالعزيز العبداللطیفؒ  کہتے ہیں :

وبعد هذا التقرير الموجز الذي أبان ما كان عليه الشيخ من وجوب السمع والطاعة لأئمة المسلمين برّهم وفاجرهم ما لم يأمروا بمعصية الله

“اس  مختصر سے وضاحت کے بعد کہ جس میں شیخ رحمہ اللہ تعالی کا مسلمان حکمرانوں کی اس وقت تک سمع وطاعت کے وجوب کا عقیدہ سامنے رکھا گیا ہے ، جب تک وہ اللہ تعالی کی معصیت کا حکم نہ دے ، چاہے وہ حکمران نیک ہویا فاجر ۔”

تواب اس اہم مسئلہ کی طرف آتے ہیں، یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ” نجد ” اس دعوت کا منبع اور اصل مرکز (جہاں پریہ پروان چڑھی تھی )دولۃ عثمانیہ کے زیر سلطنت تھا ؟

شیخ محمد بن عبد الوہاب ؒپر الزام کا جواب

مدینہ یونیورسٹی کے سابقہ ڈائریکٹر ڈاکٹر صالح العبود کا تبصرہ:

ڈاکٹر صالح عبود اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

ومهما يكن فإن ” نجداً ” لم تشهد نفوذاً مباشراً للعثمانيين عليها قبل ظهور دعوة الشيخ محمد بن عبد الوهاب كما أنها لم تشهد نفوذاً قويّاً يفرض وجوده على سير الحوادث داخلها لأية جهة كانت فلا نفوذ بني جبر أو بني خالد في بعض جهاتها ولا نفوذ الأشراف في بعض جهاتها الأخرى أحدث نوعاً من الاستقرار السياسي فالحروب بين البلدان النجدية ظلت قائمة والصراع بين قبائلها المختلفة استمر حادّاً عنيفاً . 

[عقیدہ الشيخ محمد بن عبدالوھاب واثرھا فی العالم الاسلامی (1 /27)]

”نجدتک عمومی طور پر خلافت عثمانیہ کا نفاذ ہی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی حکومت وہاں تک آئی اور نہ ہی وہاں پر کوئی خلافت عثمانیہ کی طرف سے گورنر ہی مقرر ہوا اورجب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دعوت کا ظہورہوا تواس وقت ترکی حکومت کی کوئی فوج بھی وہاں نہیں تھی۔

اس تاریخی حقیقت کی دلیل “دولہ عثمانیہ کی اداری تقسیمات کا استقرار “بھی ہيں جن میں سے ایک ترکی لیٹر جس کا مضمون ” آل عثمان کے دیوانی رجسٹرمیں قوانین کے مضامین ” ہے یعنی دیوانی رجسٹر میں آل عثمان کے قوانین، جسے یمین افندی نے تالیف کیا ہے جو کہ خاقانی دفتر کا 1018ھ الموافق 1609عیسوی میں خزانچی تھا ۔تو اس بیان سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ 11ھ کے شروع میں دولت عثمانیہ بتیس 32 حکومتوں میں تقسیم ہو چکی تھی جن میں چودہ عرب حکومتیں تھیں جن میں نجد شامل نہیں تھا سوائے احساء کا علاقہ کے لیکن وہ بھی اگر ہم احساء کو  نجد میں شامل سمجھیں تو(کیونکہ اس میں بھی اختلاف ہے کہ احساء اس وقت نجد کا حصہ تھا  یا نہیں ) ۔   “

شیخ صالح العثیمین کے فرزند ڈاکٹر عبداللہ عثیمین حفظہ اللہ کا تبصرہ

ڈاکٹر عبداللہ عثیمین کا کہنا ہے :

ومهما يكن فإن ” نجداً ” لم تشهد نفوذاً مباشراً للعثمانيين عليها قبل ظهور دعوة الشيخ محمد بن عبد الوهاب كما أنها لم تشهد نفوذاً قويّاً يفرض وجوده على سير الحوادث داخلها لأية جهة كانت فلا نفوذ بني جبر أو بني خالد في بعض جهاتها ولا نفوذ الأشراف في بعض جهاتها الأخرى أحدث نوعاً من الاستقرار السياسي فالحروب بين البلدان النجدية ظلت قائمة والصراع بين قبائلها المختلفة استمر حادّاً عنيفاً .  

[محمد بن عبدالوھاب حیاتہ وفکرہ ص (11) بحوالہ دعاوی المناوئین (234 – 235)]

”اورجو کچھ بھی ہو پھر بھی شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت کے ظہور سےقبل نجد نے عثمانیوں کی حکومت کا نفاذ نہیں دیکھا ، اوراسی طرح نجد نے کسی طرف سے بھی کوئی قوی نفاذ نہيں دیکھا جو وہاں ہونے والے واقعات کو قابو میں کرے، اور اس کے اطراف میں نہ تو بنوجبر کی حکومت کا نفاذ تھا یا پھر بنی خالد اورنہ ہی اس کے کسی کونے میں پنچائیت طرز عمل کا نفاذ ہوا، تونجدی علاقوں کی جنگیں اورلڑائياں قائم رہیں اوران کے مختلف قبائل کے درمیان جنگ وجدال بہت تیزي سے چلتا رہا۔  “

سعودی عرب کے سابقہ مفتی شیخ ابن بازؒ کا تبصرہ

اوراس مضمون اوربحث کومکمل کرنے کے لیے ہم فضیلۃ الشیخ علامہ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالی کابیان کردہ  اس شبہ کے جواب میں قول ذکر کرتے ہيں :

لم يخرج الشيخ محمد بن عبد الوهاب على دولة الخلافة العثمانية فيما أعلم وأعتقد فلم يكن في نجد رئاسة ولا إمارة للأتراك بل كانت نجد إمارات صغيرة وقرى متناثرة وعلى كل بلدة أو قرية – مهما صغرت – أمير مستقل… وهي إمارات بينها قتال وحروب ومشاجرات والشيخ محمد بن عبد الوهاب لم يخرج على دولة الخلافة وإنما خرج على أوضاع فاسدة في بلده فجاهد في الله حق جهاده وصابر وثابر حتى امتد نور هذه الدعوة إلى البلاد الأخرى 

[کیسٹوں پر ایک ریکارڈ مذاکرہ بحوالہ : دعاوی المناوئین ص237]

”میرے علم اوراعتقاد کے مطابق شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے دولۃ خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہيں کیا ، اورپھر نجد میں ترکیوں کی تو حکومت و سلطہ ہی نہیں تھا بلکہ نجد کے علاقے میں چھوٹی چھوٹی امارتیں اوربہت سی بستیاں پھیلی ہوئی تھیں ۔ اوران میں سے ہر ایک شہر یا علاقے اور بستی پر چاہے وہ جتنی بھی چھوٹی تھی امارت قائم تھی اورایک مستقل امیر تھا ۔۔۔ اوران امارتوں کے درمیان جنگ جدال اوراختلافات رہتے تھے ، اورشيخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف خروج نہیں کیا  بلکہ ان کا خروج تواپنے علاقے میں ان غلط اورفاسد نظریات  کے متعلق تھا جو پیدا ہوچکے تھے انہوں نے اللہ تعالی کے لیےجہاد کیا اوراس کا حق بھی ادا کیا اوراس میں صبر کیا حتی کہ اس دعوت کا نور اورروشنی دوسرے شہروں اورعلاقوں تک جا پہنچی ۔ “

جامعہ الازہر سے فارغ التحصیل ڈاکٹر عجیل النشمی الکویتی کا تبصرہ

ڈاکٹر عجیل النشمی کہتے ہیں:

….. لم تحرك دولة الخلافة ساكنا ولم تبدر منها أية مبادرة امتعاض أو خلاف يذكر رغم توالي أربعة من سلاطين آل عثمان في حياة الشيخ 

[دیکھیں میگزین: مجلۃ المجتمع عدد نمبر:510]

”شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی عنہ کی زندگی میں خلاف عثمانیہ کی جانب سے نہ تو قابل ذکر اختلاف تھا اورنہ ہی دشواری پیش آئی اور نہ ہی عوام میں سےکسی کوبھی (خلافت عثمانیہ کیخلاف) متحرک کیا حالانکہ ان کے زندگی میں خلافت عثمانیہ کے تین سلطان بدلے ۔۔۔ اوپر جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ خلافت عثمانیہ کے بارے شیخ رحمہ اللہ کے تصورات کی عکاسی تھا اور دوسری طرف خلافت عثمانیہ کے ہاں شیخ رحمہ اللہ کی دعوت کی تصویر کیسی ہو گی ؟ ( اگلی سطور میں ملاحظہ کیجیے ) “

ڈاکٹر عجیل النشمی اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں :

لقد كانت صورة حركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب لدى دولة الخلافة صورة قد بلغت من التشويه والتشويش مداه فلم تطلع دولة الخلافة إلا على الوجه المعادي لحركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب سواء عن طريق التقارير التي يرسلها ولاتها في الحجاز أو بغداد أو غيرهما ..أو عن طريق بعض الأفراد الذين يصلون إلى الأستانة يحملون الأخبار. 

[دیکھیں میگزین : المجتمع عدد نمبر ( 504 ) بحوالہ دعاوی المناوئين ص ( 238 – 239 )]

”شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوتی تحریک کی تصویر کوخلافت عثمانیہ کے ہاں غلط رنگ دیا گيا تو حکومت نے اس دعوتی تحریک کے خلاف دشمنی کا رویہ اختیار کرلیا جس کا سبب حجاز یا پھر بغداد کے گورنروں کے خلیفہ کو ارسال کردہ رسائل تھے یا پھر ان افراد کی بنا پر جوکچھ خبریں لے کر آستانہ پہنچتے تھے ۔“

اورزلوم کا یہ دعوی کہ شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی دعوت ہی خلافت عثمانیہ کے سقوط کا سبب بنی ، اورانگریزنے خلافت عثمانیہ کے سقوط میں محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا تعاون کیا۔ تواس لمبے چوڑے دعوی کے جواب میں صاحب تحفۃ العروس، شیخ البانی رحمہ اللہ کے شاگرد محمود مھدی استنبولی کہتے ہیں:

قد كان من واجب هذا الكاتب أن يدعم رأيه بأدلة وإثباتات وقديما قال الشاعر:

وإذا الدعاوى لم تقم بدليلها

                                بالنص فهي على السفاه دليل

مع العلم أن التاريخ يذكر أن هؤلاء الإنجليز وقفوا ضد هذه الدعوة منذ قيامها خشية يقظة العالم الإسلامي .

[دیکھیں کتاب : الشيخ محمد بن عبدالوھاب فی مرآۃ الشرق والغرب ص ( 240 ) ( شیخ محمد بن عبدالوھاب مشرق و مغرب کے آئینہ میں )]

”اس دعوی کے لکھنے والے پرضروری تھا کہ وہ اپنی اس رائے کے ثبوت میں دلائل بھی پیش کرتا ، زمانہ قدیم میں شاعر نے کہا تھا :

“اورجب دعوی کرنے والا اپنے دعوی پر کوئی بالنص دلیل قائم نہ کرسکے تووہ اس کے بے وقوفی کی دلیل ہے ۔ “

اوریہ بھی علم ہونا چاہیے کہ تاریخ اس بات کوذکر کرتی ہے کہ ان انگریزوں نے تواس دعوت کی ابتدا ہی سے عالم اسلام کی بیداری کے خوف سے مخالف کی تھی۔“

شیخ محمد بن عبد الوہابؒ پر خلافت عثمانیہ کیخلاف انگریز وں سے ملی بھگت کرنے کے الزام کی حقیقت

اسی طرح الشیخ محمود مھدی استنبولی کہتے ہیں :

والغريب المضحك المبكي أن يتهم هذا الأستاذ حركة الشيخ محمد بن عبد الوهاب بأنها من عوامل هدم الخلافة العثمانية مع العلم أن هذه الحركة قامت حوالي عام 1811 م وأن الخلافة هدمت حوالي 1922 م .

[حوالہ سابقہ ص ( 64 )]

”اوریہ ایک عجیب و غریب اوررولانے والی مضحکہ خيز بات ہے کہ یہ پروفیسر صاحب شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کی تحریک پر تہمت لگاتے ہیں کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کی وجوہات میں سے ایک ہے لیکن یہ علم ہونا چاہیے کہ یہ تحریک 1811 عیسوی میں شروع ہوئی اورخلافت عثمانیہ کا سقوط 1922 عیسوی میں ہوا ۔  “

انگریز تو خود شیخ محمد بن عبد الوہابؒ کی تحریک کیخلاف تھا:

انگریز کا محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی  تحریک کے خلاف ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ انہوں نے مصر کے والی ابراھیم پاشا کو محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں  کے خلاف درعیہ کی لڑائی میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور یہ مبارکباد دینے کے لیے کیپٹن فورسٹر سیڈلر کوبھیجا تھا ۔

اس پرمزید یہ کہ ان کا اس برطانوی تحریک (جو کہ انہوں نے خلیج میں اس تحریک کی دعوت کوکم کرنے لیے قائم کررکھی تھی )کے ساتھ تعاون کا میلان بھی پایا جاتا تھا ۔ بلکہ اس خط میں توحکومت برطانیہ اورابراھیم پاشا کے درمیان محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں  کے نفوذ کی مکمل سرکوبی کرنے پر اتفاق کی رغبت کا اظہار کیا گيا ہے ۔

حنفی عالم دین مولانا منظور کی گواہی :

مشہور  دیوبندی  عالم مولانا محمد منظورنعمانی صاحب کہتے ہیں :

لقد استغل الإنجليز الوضع المعاكس في الهند للشيح محمد بن عبد الوهاب ورموا كل من عارضهم ووقف في طريقهم ورأوه خطرا على كيانهم بالوهابية ودعوهم وهابيين … وكذلك دعا الإنجليز علماء ديوبند – في الهند – بالوهابيين من أجل معارضتهم السافرة للإنجليز وتضييقهم الخناق عليهم 

[دیکھیں کتاب : دعایات مکثفۃ ضد الشيخ محمد بن عبدالوھاب ص ( 105 – 106 ) ( شيخ محمد بن عبدالوھاب کے خلاف بڑے بڑے الزامات )]

”ہندوستان میں انگریز نے شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے مخالف حالات کوایک فرصت اورسنہری موقع سمجھتےہوئے اپنے مخالفین کو وھابی کہنا شروع کردیا اور اپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کو وھابیت کا نام دیا اوراسی طرح انگريز نے علماء دیوبند کوبھی انگريز کی مخالفت کرنے کی بنا پر وھابی کہنا شروع کیا اوران پر تنگی شروع کردی ۔“

مزید لکھتے ہیں کہ :

وبهذه النقول المتنوعة ينكشف زيف هذه الشبهة وتهافتها أمام البراهين العلمية الواضحة من رسائل الشيخ الإمام ومؤلفاته كما يظهر زيف الشبهة أمام الحقائق التاريخية التي كتبها المنصفون.

[دیکھیے: دعاوی المناوئين ( 239 – 240 )]

”توان مختلف بیانات اور شیخ محمد بن عبدالوھاب کی کتب رسائل سے واضح علمی دلائل سے اس شبہ کا کھوٹا پن اور جھوٹے ہونے کا انکشاف ہوتا ہے ، اوراسی طرح انصاف پسند تاریخ دانوں کے تاریخ حقائق سے بھی اس کا باطل پن واضح ہورہا ہے۔ “

آخری بات

آخرمیں ہم شیخ محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ تعالی کے بارہ میں زبان درازی کرنے والے ہر شخص کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اس سے باز آ جائے  اورسب معاملات میں اللہ سبحانہ وتعالی کا تقوی اورڈر اختیار کرے۔

ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول کرلے اوراسے سیدھے راہ کی ھدایت نصیب فرمائے۔ واللہ اعلم




ابن تیمیہ ۱

ہجرت، دار الاسلام اور دار الکفر - شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

ہجرت ، دار الاسلام اور دار الکفر

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

داعش نے جو ساری دنیا کے مسلمانوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے زیر کنٹرول عراقی اور شامی علاقوں کی طرف ہجرت کر آئیں تو اس میں بہت سی خرابیاں موجود ہیں۔

[یہ خبر بی بی سی کی ویب سائٹ پر بتاریخ 01 جولائی 2014ء کو نشر ہوئی تھی۔]

اسلام میں حرام کردہ گروہی تعصب اس طرح جھلکتا ہے اور اسلام کا نام بدنام ہوتا ہے۔

 گروہی تعصب اور اس کے مفاسد:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جو شخص کسی گروہ کے بارے میں یہ ٹھان لیتا ہے کہ جس سے وہ دوستی کرے گا، اسے میں دوست رکھوں گا اور جس سے وہ دشمنی کرے گا، اسے دشمن سمجھوں گا۔ تو ایسا شخص شیطان کے راستہ میں لڑنے والے تاتاریوں جیسا ہے۔

اسی جیسا شخص نہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے، نہ مسلمان فوجی ہے  اور نہ ہی اس کا مسلمان فوج کا حصہ ہونا جائز ہے، بلکہ یہ تو شیطانی لشکر کا حصہ ہے۔‘‘ 

چہ جائیکہ جاہلوں کے نزدیک ، اور داعش میں تو اکثریت جاہل ہی اکٹھے ہوئے ہیں، اس چیز کو اپنایا جائے کہ مسلمانوں میں سے جو بھی ہجرت کرکے ان کے پاس نہ جائے ، اس کی تکفیر کی جائے۔

اسی سلسلہ میں ایک لطیفہ بھی سنتے جائیے۔ ابو العباس اَصَمّ کہتے ہیں :

ایک مرتبہ دو خارجی بیت اللہ کا طواف کررہے تھے۔ ایک دوسرے کو کہنے لگا: ’’یہ جو اتنی مخلوق یہاں پھر رہی ہے، ان میں سے میرے اور تمہارے علاوہ کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ دوسرا کہنے لگا: ’’جنت تو زمین وآسمان سے بھی بڑی ہے، کیا صرف ہم دونوں کےلیے بنی ہے؟‘‘ پہلا کہنے لگا: ’’ہاں۔‘‘ دوسرے نے کہا: ’’پھر تم ہی اسے سنبھالو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے خارجیت سے توبہ کرلی۔

[شرح أصول اعتقاد أھل السنۃ لللالکائي: 2317]

 شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ہجرت اور اس کے قواعد وضوابط خوب واضح کیے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا:

’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے۔ جب تم سے جہاد میں نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑا کرو۔‘‘ 

[صحیح البخاري: 2783، صحیح مسلم: 4864]

دوسری حدیث میں فرمایا: ’’جب تک دشمنوں سے جہاد باقی رہے گا، ہجرت بھی باقی رہے گی۔‘‘

[مسند أحمد: 22755، السنن الکبریٰ للنسائي: 7926، سنن النسائي: 7748، صحیح ابن حبان: 4866]

دونوں احادیث ہی صحیح اور برحق ہیں۔ وضاحت یہ ہے کہ پہلی حدیث میں وہ ہجرت مراد ہے جو آپﷺ کے زمانہ مبارک میں ہورہی تھی یعنی مکہ اور دیگر عرب علاقوں سے مدینہ کی طرف ہجرت۔ تو یہ ہجرت تب تک درست تھی جب تک مکہ دار الکفر اور دار الحرب تھا اور مدینہ دار الاسلام تھا۔ لہٰذا صاحب ِ استطاعت پر دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنا لازم تھا۔

جب مکہ فتح ہوگیا اور سارا عرب مشرف بہ اسلام ہوگیا تو سارا عرب دار الاسلام بن گیا۔ تب آپﷺ نے فرما دیا: ’’فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔‘‘

کسی بھی خطہ کا دار الکفر، دار الایمان یا دار الفاسقین ہونا ہمیشہ ہمیش کےلیے نہیں ہوتا بلکہ اس کے باشندوں کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔

حاشیہ (یہ بہت ہی باریک فقہی نکتہ ہے جس میں فقہاء غلطی کھاتے رہے ہیں کہ دار الکفر اور دار الاسلام کی تعریف کیا کی جائے؟ بعض معاصرین ابھی تک اسے سمجھ نہیں پا رہے۔ لہٰذا آپ خوب یاد رکھیں۔)

چنانچہ ہر وہ علاقہ جس کے باشندے مؤمن اور متقی ہوں، وہ اس وقت اولیاء اللہ کا علاقہ کہلائے گا۔ اور جس سرزمین کے باشندے کافر ہوں گے، وہ اس وقت دار الکفر کہلائے گا۔ اسی طرح جس سرزمین کے باشندے فاسق ہوں گے، اس  وقت اسے دار الفاسقین کہیں گے۔گویا جس سرزمین میں جس طرح کے لوگ رہتے ہیں، وہ انہی سے منسوب ہوکر دار الکفر، دار الایمان، دار الفاسقین وغیرہ کہلائے گا۔

اسی طرح  اگر مسجد کو شراب خانہ بنا دیا جائے یا وہاں فاسق وظالم رہنے لگیں ، یا اسے شرک کے اڈے گرجا گھر میں بدل دیا جائے  تو اپنے باشندوں کے حساب سے اس کا نام بھی بدل جائے گا۔

 اسی طرح اگر شراب خانہ یا دار الفاسقین وغیرہ کو مسجد بنا دیا جائے جس میں رب تعالیٰ کی عبادت شروع ہوجائے تو اسے پھر عبادت خانہ ہی کہا جائے گا۔

اسی طرح اگر ایک نیک آدمی فاسق وفاجر بن جائے اور کافر مؤمن بن جائے، یا مؤمن کافر ہوجائے وغیرہ تو ہر ایک جس حال میں چلا جائے گا، اس پر وہی حکم لگے گا۔‘‘  انتہی 

[مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ: 18/281]

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے دین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ 




رفیع عثمانی

داعش دہشت گرد تنظیم کی خلافت خود ساختہ اور سراسر غیر اسلامی ہے - مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کا کلمہ حق

بسم اللہ الرحمن الرحیم

التقریر
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبیاء والمرسلین محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین وبعد:
ان جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند ِاحدی الجمعیات الِاسلامیۃ العریقۃ فی الہند تہتم بالشؤون التعلیمیۃ والتربویۃ والدعویۃ والتنظیمیۃ والعمال الخیریۃ وتدعیم قضایا القلیۃ المسلمۃ وہی تقوم بتوعیۃ المسلمین عن قضایا الِاسلام والمسلمین الراہنۃ وتقدیم حلول المشکلات التی تواجہہا بین حین وآخر وہی ِایما نا بمسؤولیتہا تجاہ الِارہاب الذی یعتبر قرحۃ العصر الحاضر فنددتہ وعقدت بعنوانہ الاجتماعات والندوات کما أصدرت الفتاوی ضدہ فی الماضی وقامت بتہیئۃ الرای العام خلافہ من السالیب المملکنۃ و استمرارا لجہودہا الدعویۃ قامت بعقد ملتقی ضد منظمۃ داعش،، والمنظمات الخری مثلہا فی مجمع أہل الحدیث بأوکلا بنیودلہی فی الخامس عشر من شہرفبرایر ۵۱۰۲م بعد الظہر وشارک فیہا عدد کبیر من علماء جماعۃ أہل الحدیث ومسؤولی جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند ومسؤولی الجمعیات فی الولایات الہندیۃ أکثر من ۳۲ ولایۃ ہندیۃ، وعدد من مسؤولی الجمعیات الِاسلامیۃ الخری فی الہند کما شارک فیہا عدد لیس بالقصیر من الصحفیین فبدأ الملتقی بتلاوۃ آی من القرآن الکریم ثم ألقی أمین عام جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند الشیخ أصغرعلی ِامام مہدی السلفی کلمتہ حول الموضوع کما ذکر خدمات الجمعیۃ وِانجازاتہا ضد الِارہاب و أوضح أضرارہ ومسؤولیۃ العلماء تجاہ توعیۃ الناس عنہ و قدم فضیلۃ المین العام للجمعیۃ نص الفتوی ضد منظمۃ داعش والمنظمات الخری مثلہا ورد علی أسئلۃ المشارکین والصحفیین للندوۃ وأید العلماء الحضور ومشارکو الندوۃ ہذا العمل المبارک للجمعیۃ تجاہ ِاصدار الفتوی وأبدوا عن فرحتہم وغبطتہم لمبادرۃ الجمعیۃ ِالی عقد الندوۃ بالعنوان المذکور وِالیکم نص الفتوی للجمعیۃ ضد داعش والمنظمات الأخری مثلہا:
فتوی ضد منظمۃ داعش( الخلافۃ الِاسلامیۃ فی العراق والشام)المزورۃ

ماهو الحکم الشرعی فی الأمور الآتیۃ:
۱ رغم ہذہ الحقیقۃ بأن الِاسلام دین أمن وسلام، وہو لایجیز أی عدوان وعنف وِارہاب وتطرف تلصق تہمۃ الِاجراء ات الِارہابیۃ بالِاسلام والمسلمین فی البلدان المختلفۃ ومنہا الہند کما أن الِاسلام وممثلیہ من علمائہ الکبار بینوا حرمتہا فی مناسبات مختلفۃ بکل جدیۃ، وکذلک جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند أصدرت فتاوی ضد الِارہاب بتوقیع من ستۃ وثلاثین علماء تقریبا قبل عشرۃ أعوام وتأسیا بالجمعیۃ أصدرت عدد من المنظمات الِاسلامیۃ بالہند فتاوی ضد الِارہاب. رغم ہذا کلہ تلصق تہمۃ ہذہ الجریمۃ الشنیعۃ بالمسلمین فہل یجوز رد الِارہاب بالِارہاب کما یفعلہ بعض الناس من حملات انتحاریۃ؟

۲ ِان منظمۃ داعش (الدولۃ الِاسلامیۃ فی العراق والشام)المدعیۃ بالخلافۃ الِاسلامیۃ ومنظمات أخری مثلہا تقوم بالعملیات الِارہابیۃ وتحدث الذعر والرعب والہلع والخوف والدہشۃ بین الشعب الآمنین فی البلاد المختلفۃ وتحمل السلاح ضدہم وضد الحکومات وتہجمہم الہجمات المدمرۃ ضد الرجال البریاء والنساء والشیوخ والطفال فاختل المن والسلام و السکینۃ والطمانینۃ وتعکر ہدوء الصفو بسبب عملیاتہم الِاجرامیۃ وِاجراء اتہم الِارہابیۃ وأعمالہم التکفیریۃ کما تم ِاتلاف آلاف النفس فیہا ویعیش الناس تحت الخوف والدہشۃ کل حین عن النفس والأہل وذوی القربی والممتلکات فہل یجوز لمنظمۃ داعش باسم الخلافۃ الِاسلامیۃ وللمنظمات الخری أن تحاول اللعب بأمن البلاد وقانونہا والقصف علی الشوارع وِابادۃ المنشآت العسکریۃ واختطاف الطائرات واختلاس المؤظفین الجانب والسیاحین والصحفیین والممرضات وقتلہم والہجم علی النساء السافرات والمؤسسات التعلیمیۃ ومکاتب الجرائد والقنوات التلفزیونیۃ والسفارات وکذلک ِاثارۃ الشعب ضد الحکومات والمحاولۃ لِاضرار أمن البلاد؟
نرجو الِاجابۃ فی ضوء الکتاب والسنۃ وتوضیحہا توضیحا کاملا.

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
المستفتیۃ
جمعیۃ أہل الحدیث المرکزیۃ بالہند

.

.

الِاجابۃ
فنقول وباللہ التوفیق للصواب:

ان الِاسلام دین أمن وسلام وہبہ اللہ سبحانہ وتعالی خالق الخلق کلہ للناس وہو رحمۃ للعلمین لامجال فیہ للِارہاب بأی نوع کان واہتم ہذا الدین بالبشریۃ وکرامتہا واعتنی فی أمورہ بالوسطیۃ والاعتدال دائما، ولعب دورا بارزا فی استیلاء المن والمان وندد ِاحداث القلق والاضطراب فی المجتمع بنص: لاضرر ولاضرار . ِان اللہ تعالی ہو الرحمن الرحیم أرسل رسولہ محمدا صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین وتعالیمہ کلہا رحمۃ ومنزہۃ من العنف والعدوان ،ولقن الِاسلام الوسطیۃ والاعتدال والخوۃ والمودۃ وأداء حقوق الِانسان والجیران بدون انحیاز ِالی دین ومذہب، وأمر بأداء حقوق العباد بجانب حقوق اللہ، وِان الظلم والعدوان والقتل والہلاک أکبر ذنوب بعد الشرک باللہ والکفر بہ فی الِاسلام

فقال تعالی: ِانہ من قتل نفسا بغیرنفس أو فساد فی الرض فکأنما قتل الناس جمیعا ومن أحیاہا فکأنما أحیا الناس جمیعا (المائدۃ:۲۳)

ومن تعالیم الِاسلام أنہ لا یقتل طفال العدوونسائہم وشیوخہم ولا یقتل عبادہم فی المعابد ولا یقطع البساتین ولا یحرق الحرث ولا یہلک البہائم. وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: عذبت ِامرأۃ فی ہرۃ سجنتہا حتی ماتت فدخلت فیہا النار لا ہی أطعمتہا ولا سقتہا ِاذ حبستہا ولا ہی ترکتہا تأکل من خشاس الرض، ورجل دخل الجنۃ بسبب أنہ سقی الکلب.

ِان نظام الِاسلام لا یسمح لرجل أن ینتقم شخصا بسبب جرم شخص غیرہ

فقال تعالی: ولاتزر وازرۃ وزر أخری ( النعام:۴۶۱)

وِان توفیر الٔامن لغیر المسلمین فی الحکومۃ الِاسلامیۃ مسؤولیۃ المسلمین وحکامہم لقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم:

من قتل معاہدا فی غیر کنہہ حرم اللہ علیہ الجنۃ(ابوداود) صححہ اللبانی

وقال صلی اللہ علیہ وسلم: من قتل معاہدا لم یرح رائحۃ الجنۃ وِان ریحہا توجد من مسیرۃ أربعین عاما( صحیح البخاری)

وقال الِامام ابن حجر رحمہ اللہ: ثبت النہی عن قتل البہیمۃ بغیر حق والوعید فی ذلک فکیف بقتل الآدمی فکیف بالتقی الصالح .(فتح الباری)

وقال عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ: ِان من ورطات المور التی لامخرج لمن أوقع نفسہ فیہا سفک الدم الحرام بغیر حلہ.

لذا لا یجیز الشرع محاولۃ اللعب بأمن الدولۃ وقانونہا والقصف علی الشوارع والعمران وقذف القذائف وتدمیر المنشآت العسکریۃ واختطاف الطائرات واختلاس السیاحین والصحفیین والمؤظفین الجانب والممرضات وقتلہم والہجم علی النساء السافرات والمؤسسات التعلیمیۃ ومکاتب الجرائد والقنوات التلفزیونیۃ والسفارات وِاثارۃ الشعب ضد الحکومات ومحاولۃ ِافساد المن والمان کما أن الشرع وضع الشروط وقرر الضوابط للقیام بالمر بالمعروف والنہی عن المنکر، فما کلف الشرع کل شخص لتنفیذہما بل عین الحدود لکل شخص فی سائر المور لن بسبب عدم مراعاتہا تحدث الفتنۃ والفساد ویظہر السفک والقتل والدمار.

 وفی الآونۃ الخیرۃ قد ظہرت بعض المنظمات باسم الِاسلام أصبحت عارا لمسلمی العالم ففی السوال المذکور منظمۃ داعش وغیرہا التی تتسبب تشویہ سمعۃ الِاسلام والمسلمین وِاضرارہم لا تلائم جنایاتہم تعالیم الِاسلام السمحۃ ولا تمت لہا بصلۃ بأی حال بل العمال التی ترتکبہا والِاجراءات التی تتخذہا قد حرمہا الِاسلام البتۃ وہی کلہا ِاجراء ات أرہابیۃ کما أن ادعائاتہم المزورۃ بخلافۃ الدولۃ الِاسلامیۃغش وخداع مضادۃ للخلافۃ الِاسلامیۃ الحقیقیۃ لا توجد فیہا الشروط المشروعۃ المعتبرۃ، ولا تحقق مقتضیات ِاقامۃ الخلافۃ الِاسلامیۃ وأہدافہا السامیۃ

لذا یقول رئیس ہیئۃ کبار العلماء ومفتی عام المملکۃ العربیۃ السعودیۃ سماحۃ الشیخ العلامۃ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ : ِان داعش والمنظمات الخری مثلہا لا تمثل الِاسلام. کما قال سماحۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد والشیخ محمد المنجد وغیرہم من العلماء حفظہم اللہ وکذلک العلماء الکرام والمشایخ الکبار فی بلاد العرب یوضحون بأن ہؤلاء خوارج ہذہ الأمۃ قد شتتت شمل المسلمین فی الماضی البعید بقصور علمہم وسوء فہمہم ومعرفتہم للنصوص، وِان ما یسمونہ الجہاد ِانما ہو فتنۃ وِارہاب لن الجہاد لہ شروط وضوابط وہم لا یکترثونہا البتۃ، وکذلک لِاقامۃ الخلافۃ الِاسلامیۃ شروط وضوابط لا یجوز لحد بدون ِاکمالہا أن یسمی نفسہ خلیفۃ للمسلمین ولا یجوز لحد أن یلقب مثل ہذا الظالم الجائر بأمیر المؤمنین.

ان منظمۃ داعش وغیرہا من المنظمات التی ترتکب مثل ہذہ الجریمۃ الشنعاء حینما یسمع عن أخبارہا سامع أو یشاہد مناظرعملیاتہا المرہبۃ مشاہدیغلب علیہ الہلع والروع والدہشۃ وربما یصیح ویصرخ خوفا، ِان العنف والعدوان والظلم والقتل والسلب والنہب والفتنۃ والفساد وقتل وِاحراق السکان الآمنین بعد اختلاسہم، ہذہ کلہا أعمال شنیعۃ لایجیزہا الِاسلام لحیوان فضلا عن ِانسان ومزیدا علی ذلک ِانہ یتم ارتکابہا باسم الِاسلام متقمصۃ قمیص الخلافۃ الِاسلامیۃ، والحق أن ہذہ کلہا مؤامرۃ شنیعۃ من قبل عداء الِاسلام والمسلمین وجریمۃ نکراء ضد الِانسانیۃ جمعائ.

والسف کل السف علی أن بعض الرجال السذج یعتبرونہا رد فعل للظلم علی المسلمین الذی ہو اعوجاج فکری وسببہ قلۃ العلم والفہم فلا یجیزہا العقل السلیم لن الِاسلام لا یجیز الانتقام لأحد بِانسان برئ أو ِاضرار أحد بذنب شخص آخر کما أوضحناہ قبل ذلک بنصوص الکتاب والسنۃ وأقوال السلف الصالح.

وکیف یغیب عنا أسوۃ الصحابی المظلوم خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ حینما کان فی سجن الکفار حتی ِاذا أجمعوا قتلہ استعار موسا من بعض بنات الحارث یستحد بہا فأعارتہ قالت فغفلت عن صبی لہا قد درج ِالیہ حتی أتاہ فوضعہ علی فخذیہ وفی یدہ موسی ففزعت فرعۃ عرف ذلک منہا فقال أتخشین أن أقتلہ؟ ما کنت لقتل ذلک ِان شاء اللہ.

ان منظمۃ داعش لفئۃ رجال سفہاء مجنونین جل ہمہم ِاضعاف القوی الِاسلامیۃ والتفرقۃ بین صفوف المسلمین وتشویہ صورۃ الِاسلام النیرۃ وِاحداث النفور تجاہ الدین السماوی ودین الِانسانیۃ فہی خطر علی عالم الِانسانیۃ وسبب لزوال المۃ الِاسلامیۃ.

فہذہ المنظمات کافۃ منظمات ِارہابیۃ وتستحق الاستنکار والتندید کما أن نصرتہا بأی نوع کانت حرام فیجب علی المسلمین جمیعا أفرادا وجماعات ولا سیما العلماء وذوو البصیرۃ أن ینبہوا العالم عن خطرہا ویتخذوا ِاقدامات سلیمۃ للحفاظ علی الشباب المسلمین من أن یؤیدوہا أو یشجعوہا أو یساعدوہا مساعدۃ مادیۃ أو معنویۃ .

ہذا ما عندنا واللہ أعلم بالصواب وعلمہ أتم وأصح.

أسماء العلماء والمفتین وتوقیعاتہم