موجودہ حکمران کافر نہیں بنتے ، تکفیریوں کا اپنی کتاب میں اعتراف - الشیخ ذکا اللہ سندھی حفظہ اللہ

photo721249554916288886

موجودہ حکمران کافر نہیں بنتے ، تکفیریوں کا اپنی کتاب میں اعتراف! 

الشیخ ذکا اللہ سندھی حفظہ اللہ

 کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے قتال کرنے سے کوئی بھی شخص کافر نہیں ہوتا وہ حاکم ہو یا فوجی اور یہ عمل ولاء میں تو شامل ہے لیکن تولی میں نہیں۔ اس بات کا اعتراف خود تکفیریوں نے کیا ہے۔ اور اس اصول کی روشنی میں موجودہ دور کے حکام کافر نہیں بنتے۔  ابوعمروعبدالحکیم کی مشہور تصنیف “التبیان” جسکو تکفیری حضرات بہت زوروشور سے پھیلانے پرتلے ہوئےہیں،اوراسی کتاب کو اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حرف آخر کہتے ہیں۔ ہم آپکے سامنے اسی کتاب کے صفحہ 58 سے 61 تک اقتباس سے بیان کریں گے کہ کفار سے دوستی کب انسان کو کافر بناتی ہے اور کب صرف گنہگار بناتی ہے۔

ملاحظہ فرمائیں  التبیان سے اقتباس :

ابوعمروعبدالحکیم لکھتا ہے:

” لفظ المُوالَاۃِ اور التَّوَلِّی میں ایک دقیق فرق

یہاں ایک بڑا لطیف علمی نکتہ بھی سمجھنے کے قابل ہے ۔وہ یہ کہ عربی زبان میں دوستی کے لیے ایک لفظ ’’المُوَالَاۃ‘‘ استعمال ہوتا ہے اور ایک لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘استعمال ہوتا ہے۔لفظ الموالاۃ تو قربت، نزدیکی، پیروی، مدد، تعاون، محبت، دوستی اور غلامی وغیرہ کے معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔لیکن لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ بطورخاص صرف اور صرف سیدھی صاف پیروی اور نصرت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہی وہ معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں وارد ہوا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں فرمایا :

[ كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ ]

’’اس )شیطان(پر )اللہ کا فیصلہ (لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اس کی پیروی کرے گا وہ اسے گمراہ کردے گا اوراسے آگ ک عذاب کی طرف لے جائے گا‘‘ (الحج:4)

مذکورہ آیت کریمہ میں مَنْ تَوَلَّاہُ کامعنی یہ ہے کہ ’’جو اس کی پیروی کرے گا ‘‘  لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ کا دوسرا مخصوص معنی ’’مدد ونصرت‘‘  اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے فرمان میں وارد ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

[إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ]

’’اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی مدد وتعاون سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے لڑائیاں لڑیں اور تمہیں دیس نکالے دیے اور دیس نکالا دینے والوں کی مدد کی جو لوگ اس قسم کے کافروں کی مدد ونصرت کریں گے وہ پکے ٹھکےظالم لوگ ہوں گے‘‘ الممتحنۃ : 9

مذکورہ آیت کریمہ میں بھی أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ کامعنی یہ ہے کہ ’’تم ان کی مدد ونصرت کرواور جو شخص بھی ان کی مدد ونصرت کرے گا تویہی لوگ ظالم ہوں گے ‘‘

اسی طرح قرآن مجید میں ایک مقام پر ’’التَّوَلِّی‘‘مددونصرت کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اﷲُ عَلَیْہِمْ . . . .

اے مسلمانو!(ایسی قوم کی مددونصرت نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے….‘‘

مذکورہ آیت کریمہ میں لاَ تَتَوَلَّوْا کامعنی ہے کہ تم دوستی نہ کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں اپنا ایک خصوصی وصف بیان کیا ہے کہ میں مومنوں کا حامی ومددگار ہوں ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

اللہُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

’’ایمان لانے والوں کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ،وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف خود لے جاتا ہے اور کافروں کے مددگار شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ‘‘ البقرۃ: 257

مذکورہ آیت میں بھی ﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔ان الفاظ کا معنی ہے کہ’’اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ہیں ۔‘‘  لہٰذا اس آیت میں’’وَلِیُّ‘‘ کامعنی مددگار ہے ۔اس طرح مذکورہ آیت میں وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔ان الفاظ کا معنی ہے ’’وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے مددگار طاغوت ہیں ۔‘‘اس آیت میں اولیاء کا معنی “زیادہ تعداد میں مددگار‘‘ہے۔علیٰ ہٰذا القیاس۔ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک قرآن مجید میں ایک اور مقام پر بھی یہ لفظ مددگار کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

فَإِنَّ اللہَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ

’’یقینا اس (رسول اللہﷺ) کا مددگار اور کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے ،جبریل ہے اور نیک اہل ایمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں‘‘ (التحریم:4)

مذکورہ آیت میں لفظ ’’مَولَاہُ‘‘ کامعنی ’’اس کامددگار ‘‘ہے۔ نیز قرآن مجید کے ایک اور مقام پربھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں بھی یہ مددگار کے معنی میں ہی ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ذٰلِکَ بِاَنَّ اﷲَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَہُمْ

اللہ تعالیٰ نے کافروں کو سزائیں دیں (اس لیے کہ ایمان والوں کا مددگار اور کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اورکافروں کا کوئی بھی مددگارنہیں ہے‘‘ سورۃ محمد:4

مذکورہ آیت کریمہ میں بھی لفظ ’’مَولیٰ‘‘دودفعہ استعمال ہوا ہے ۔دونوں جگہ اس کامعنی ومددگار اور کارساز ہے ۔ یہ چند آیات بطور مثال ذکر کی گئی ہیں ان کے علاوہ جہاں جہاں بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے اکثر وبیشتر اِسی معنی میں ہے ۔ مذکورہ بالا ساری گفتگو کالب ولباب یہ ہے کہ لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ لفظ ’’المُوَالَاۃ‘‘سے زیادہ خصوصیت کا حامل ہے۔ ’’التَّوَلِّی‘‘ کامطلب یہ ہے کہ ’’عَلَی الاِطلَاق‘‘ غیر مشروط طور پر پیروی اور فرمانبرداری کرتے جانا اورپوری پوری مدد ونصرت کرنا۔‘‘

مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ التَّوَلِّی اور المُوَالَاۃ کے درمیان عموم اور خصوص کی نسبت ہے ۔ ’’التَّوَلِّی‘‘ اور’’المُوَالَاۃ‘‘کے مابین بیان کیے گئے اِسی فرق کو ہی ملحوظ رکھتے ہوئے الشیخ عبداللہ بن عبداللطیف رقمطراز ہیں :

’’التَّوَلِّی کُفْرٌ یُخرِجُ مِنَ المِلَّۃِ وَ ھُوَ کَالذَّبِّ عَنْھُمْ وَ اِعَانَتِھِمْ بِالْمَالِ وَالْبَدْنِ وَالرَّأْیِ ۔ وَالمُوَالَاۃُ کَبِیْرَۃٌ مِنَ الْکَبَائِرِ ۔ کَبَلَّ الدَّوَاۃِ وَ بَرِیِ الْقَلَمِ وَالتَّبَشُّشِ أَوْ رَفْعِ السَّوْطِ لَھُم۔‘‘

’’کافروں کے ساتھ التولی والا تعلق واضح کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے ۔مثلاً

کافروں کا بھرپور دفاع کرنا ۔

نیز دامے ،درہمے ،سخنے اور قدمے ان کا پورا تعاون کرنا ۔

جبکہ کافروں سے المُوَالَاۃ جیسا دوستانہ تعلق اگرچہ ملتِ اسلامیہ سے نکالنے والا کفر نہیں مگر وہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ مثلاً

کافروں کی خاطر اپنے قلم وقرطاس کو حرکت میں لانا اور

ان کی پالیسیوں کی حمایت میں مضامین (Articles) تحریرکرنا۔

کافروں کو خوش کرنے کے لیے ان کی خاطر بچھ بچھ جانا اور صدقے واری جانا۔

مسلمانوں کے خلاف پولیس وفوج کو حرکت میں لے آنا اور گولی وبندوق کا رخ مسلمانوں کی طرف کردینا ۔

یہ سب اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں ۔‘‘

(التبیان،ترجمہ دوستی دشمنی کا معیار از ابوعمروعبدالحکیم حسان صفحہ 58تا61)

(التبیان سے اقتباس ختم ہوا)

قارئین اس اقتباس میں آپ نے تکفیریوں کی ہی کتب میں بڑی وضاحت کے ساتھ پڑھ لیا ہے کہ کافروں سے التولی والا تعلق واضح کفر ہے،یعنی ان کا بھرپور دفاع کرنا جبکہ کافروں سے المولاۃ جیسا دوستانہ تعلق انہیں اسلام سے خارج نہیں کرتا بلکہ گناہ کبیرہ کامرتکب کردیتا ہے،اور اس کی مثالیں بھی دی ہیں جیسے کافروں کی خاطر اپنی قلم اور قرطاس چلانا،کفار کو خوش کرنےکےلیے بچھ بچھ جانا اور کفار کی خاطر مسلمانوں کے خلاف تلوار،بندوق یا گولی چلانا یہ سب اعمال المولاۃ میں شامل ہیں،اور یہ کام انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے،بلکہ گنہگار کرتے ہیں۔ اور موجودہ حکام اسی زمرہ میں آتے ہیں!




سوچ کر ہی روح کانپتی ہے، او خارجیو!

خوارج کے خودساختہ دین کی قلعی کھول کر رکھ دینے والا ایک سوال​
 
 

اکثر اوقات جب حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالی عنہ کا واقع بیان کر کے اس بات کی دلیل دی جاتی ہے کہ جناب دیکھیں کہ ۔

“مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کفار سے کسی بھی قسم کا تعاون ہرحال میں کفر اکبر اور باعث ارتداد نہیں ہوتا ، بلکہ کبھی یہ کبیرہ گناہ ہوتا اور کبھی یہ ارتداد کی حد کو چھو جاتا ہے، جس کا فیصلہ فاعل کی حالت اور کیفیت کو جانچ کر ہی لگایا جا سکتا ہے، محض خبروں اور ویڈیوز کو دیکھ کر نہیں”۔

تو خوارج کہتے ہیں کہ بالفرض اگر یہ مان بھی لیا جائے تو پھر بھی اس دلیل سے موجودہ حکمرانوں کے کفر و ارتداد کا انکار ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے محض مشرکین مکہ کو رسول اللہ صلی اللہ کی جاسوسی کی تھی، اور جب کہ عصر حاضر کے حکمرانوں کا جرم صرف جاسوسی نہیں بلکہ انہوں نے مسلمان “مجاہدین” کو کفار کے حوالے کیا ہے۔ جو کہ ان “مجاہدین ” کی جان کے دشمن تھے ۔
لہذا کسی مسلمان مومن مجاہد کا کفار کے حوالہ کرنا ہر حال میں کفر و ارتداد ہے ، تو ثابت ہوا ہمارےحکمران اور انکے مددگار و حامی سب مرتد ہیں۔

تو اس کے جواب میں میں صرف ایک سادہ سا سوال کرنا چاہتا ہوں:

چلیں اگر ہم آپ کے اصولوں کو سامنے رکھ کر ایک لمحہ کے لئے یہ مان لیتے ہیں کہ کسی بھی مسلمان کو حربی کفار کے حوالے کرنا جو کہ اسے جان سے مارنے کے لئے دھونڈتا پھر رہا (جیسا امریکہ و صلیبی القاعدہ کے لوگوں کو) ہو تو یہ کفر اکبر اور ارتداد ہے..

تو بتاؤ “ظالمو” ، “جہنم کے کتو” ، “بدترین مخلوق” کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو جو مشرکین مکہ سے جان بچا کر مدینہ میں پناہ لینے کے لئے بھاگے اور مشرکین اس کے پیچھے تلوار کے ساتھ تعاقب میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مومن ابو بصیر رضی اللہ عنہ کو مشرکین کے سپرد کر دیا اور وہ انہیں گرفتار کر کے لے گئے تھے۔

تو میرا سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا حکم لگےگا؟؟؟
(اگر تمہارے خود ساختہ قوانین کو یہاں اپلائے کیا جائے تو کیا نتیجہ نکلے گا۔۔۔۔؟؟؟ (نعوذ باللہ من ذلک )

سوچ کر ہی روح کانپتی ہے، مگر تمہارے بند دماغ کے تالے نہیں کُھلتے ۔۔۔۔۔او خارجیو




کفر سے تعاون کی تین اقسام اور خوارج کی اس متعلق کج فہمی ۔مفتی اسرار احمد سہارنپوری

کفر سے تعاون کی تین اقسام اور خوارج کی اس متعلق کج فہمی

مفتی اسرار احمد سہارنپوری 

کافر سے تعلق ولایت تین قسم پر ہے:

پہلی قسم تو یہ ہے کہ کوئی مسلمان اس کے کفر پر راضی ہو اور اس کے کفر کی تصویب (درست سمجھنا) کرتا ہو اور اسی وجہ سے اس سے قلبی تعلق رکھتا ہو تو ایسا شخص بھی کافر ہے کیونکہ یہ کفر پر راضی بھی ہے اور کفر کی تصدیق بھی کرتا ہے۔

دوسری قسم اس تعلق کی یہ ہے کہ جس میں کسی کافر سے ظاہری طور پر اچھے طریقے سے معاشرت اختیار کرنا مقصود ہواور ایسا تعلق ممنوع نہیں ہے۔

تیسری قسم اس تعلق کی ہے کہ جس میں کافروں پر اعتماد ‘ ان کی اعانت اور نصرت ہواور اس کا سبب یا تو قرابت داری ہو یا پھران کی محبت ہو لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ عقیدہ بھی ہو کہ ان کا دین باطل ہے تو ایسا تعلق اگرچہ ممنوع ہے لیکن موجب کفر نہیں ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ امر بالکل واضح ہے یہود و نصاری سے دوستی لگانے والے مسلمانوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کو یا تو ان کی ٹیکنالوجی کا ڈر ہے یا وہ عیش پرست ہیں یا پھر کاہلی و سستی ہے اور موت کا خوف مال اور عہدے کی محبت وغیرہ ۔

یہ تمام چیزیں ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے ایسے مسلمان فاسق فاجر اور عملی منافق تو قرار پائیں گے لیکن ایسے کافر نہیں کہ جس کی وجہ سے وہ ملت اسلامیہ سے خارج ہوں اللہ سبحانہ و تعالٰی نے مسلمانوں کو کفار سے اپنے بچاؤ کی تدبیر کے طور پر ان سے ظاہری دوستی کی اجازت دی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 28 ؀

‘‘ پس اہل ایمان، اہل ایمان کو چھوڑتے ہوئے کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے سوائے اس کے کہ تم ( یعنی اہل ایمان) ان کافر وں ( کی اذیت ) سے بچنا چا ہو کچھ بچنا ’’ ْ۔

( آل عمران : 28)

اس آیت مبارکہ کا یہ استثنا ء بہر حال یہودونصاری سے دوستی کی بنیاد پر ایسے مسلمانوں کی تکفیر میں صریح مانع ہے ۔ اس آیت مبارکہ میں تقاۃ سے مراد سلف صالحین نے تقیہ اور خوف دونوں کیلئے ہیں :

امام شنقیطی المالکی فرماتے ہیں کہ اگر دشمن کے خوف کے سبب سے کوئی مسلمان ان سے تعلق ولایت کا اظہار کرے تو یہ جائز ہے۔

وہ ‘یأیھا الذین آمنوا لا تتخذوا الیھود والنصاری أولیاء ‘ کے تحت لکھتے ہیں:

” وبین فی مو ضع آخر : أن محل ذلک،فیماا ذا لم تکن الموالاة بسبب خوف وتقیة ون کانت بسبب ذلک فصاحبھا معذور وھو قولہ تعالی : لاَ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْئٍ اِلاَّ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقَاة.”

(أضواء البیان : المائدة)

” ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ یہود و نصاری سے یہ تعلق ولایت کسی خوف یا بچاؤ کے سبب سے نہ ہو’ اور اگر یہود و نصاری سے تعلق ولایت اس سبب( یعنی خوف یا ان کی اذیت سے بچاؤ) کے تحت ہو تو ایسا شخص معذور ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی کا قول ہے:”پس اہل ایمان’ اہل ایمان کو چھوڑتے ہوئے کافروں کودوست نہ بنائیں اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے سوائے اس کے کہ تم (یعنی اہل ایمان) ان کافروں (کی اذیت )سے بچنا چاہو کچھ بچنا”۔

امام نسفی الحنفی نے بھی یہی معنی بیان فرمایا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

(اِلاَّ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقَاة) الا أن تخافوا من جھتھم أمرا یجب اتقاؤہ أی إلا أن یکون للکافر علیک سلطان فتخافہ علی نفسک ومالک فحینئذ یجوز لک ا ظھار الموالاة وابطان المعاداة.”

(تفسیر نسفی : آل عمران : ٢٨(

‘الا أن تتقوا منھم تقاة’ کا معنی یہ ہے کہ تمہیں ان کی طرف سے کسی ایسے امر کا اندیشہ ہو کہ جس سے بچنا لازم ہویعنی یہ کہ کسی کافر کو تم پر غلبہ حاصل ہو اور تمہیں اس کافر سے اپنے جان اور مال کا خوف لاحق ہو تو اس وقت تمہارے لیے یہ جائز ہے کہ تم کافر سے دوستی کا اظہار کرو اور اس سے دشمنی کو چھپا لو۔”

امام بیضاویؒ اور شافعیؒ نے بھی یہی معنی بیان کیا ہے کہ خوف کے وقت دشمن کافر سے تعلق ولایت کا اظہار جائز ہے۔وہ لکھتے ہیں:

” منع عن موالاتھم ظاھرا وباطنا فی الأوقات کلھا إلا وقت المخافة فإن اظھار الموالاة حینئذ جائز.”

(تفسیر بیضاوی : آل عمران : ٢٨(

‘اللہ تعالیٰ نے جمیع حالات میں کفار سے ظاہری یا باطنی تعلق ولایت قائم کرنے سے منع فرمایا ہے سوائے خوف کی حالت کے ‘ کیونکہ اس حالت میں کافر سے تعلق ولایت کا اظہار جائز ہے۔”

یہی وجہ ہے کہ اگر کسی موقع پر کسی صحابی سے یہ کام سرزد ہو گیا کہ اس نے مسلمانوں کے خلاف کفر کا تعاون یاحمایت کردی تو آپ ﷺ نے اس کو کافر و مرتد قرار نہیں دیا ۔ مثلا

سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ  کے بارے میں صحیح بخاری میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا علی زبیر اور مقداد کوبھیجا کہ جاؤ روضہ خاخ نامی مقام پر ایک عورت سانڈھ پر سوار تمھیں ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے وہ لے کر آؤ جب یہ صحابہ کرام وہاں پہنچے تو اس عورت سے کہا تیرے پاس جو خط ہے وہ ہمیں دیدے پہلے پہل اس نے انکار کر دیا اورکہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں تب سیدنا علی نے فرمایا : یا تو ہمیں خط دیدے تو بہتر ہے وگرنہ ہمیں ننگاہ کر کے بھی خط برامد کرنا پڑا تو ہم یہ بھی کر گزریں گے ۔ تو اس عورت نے بالوں کی چوٹی سے خط نکال کر دیدیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جب یہ خط لے کر بارگاہ نبوی میں پہنچے ، خط کھولا گیا تو وہ خط سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے رؤس قریش کے نام لکھا گیا تھا جس میں نبی ﷺ کے بعض معاملات کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی ۔

آپ ﷺ نے فرمایا حاطب یہ کیا ہے؟ اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ آپ کو معلوم ہے میں قریش کے ساتھ رہتا تھا حالانکہ میں قریشی نہیں ہوں بلکہ ان کا حلیف ہوں آپ کے پاس جتنے مہاجرین ہیں ان کے وہاں رشتہ دار موجود ہیں جو ان کے گھر بار اور اموال کی حفاظت کرتے ہیں تومیں نے سوچا قریشیوں کے ساتھ میری رشتہ داری تو نہیں ہے چلو ان پر کوئی احسان کردو جس کی بناء پر وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کر یں ۔ اور سیدنا حاطب نے کہا ، لم افعلہ ارتدادا عن دینی ولا رضا بالکفر بعد الاسلام ۔ اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے یہ کام مسلمان ہونے کے بعد نہ ہی کفر کو پسند کرتے ہوئے کیا اور نہ ہی دین سے ارتداد اختیار کرتے ہوئے کیا ہے تورسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے سیدنا عمر نے فرمایا مجھے چھوڑ دیجئے میں اس منافق کو قتل کر دوں آپ ﷺ نے فرمایا یقینایہ بدری ہے ۔ امید ہے کہ اللہ تعالی نے بدریوں کو معاف کر دیا ہے اور فرمایا: جومرضی عمل کرو میں نے تمھیں معاف کر دیا ہے تب اللہ نے سورۃ ممتحنہ میں یہ آیات نازل کر دیں ۔

( صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ الفتح و مابعث حاطب بن ابی بلتعہ الی اہل مکتہ یخبرھم بخیر و النبی ﷺ ، ص: 612 ، ج: 2 درسی نسخۃ )