مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان کا نفاذ ، جید علماء امت کی نظر میں

وضعی قوانین

خالصتاً وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان  کا نفاذ،علماء امت کی نظر 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

اہل سنت کا موقف ہے یہ ہے کہ مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا اس کا نفاذ خارج عن الملة نہیں ہے الا یہ کہ اس کے ساتھ استحلال قلبی یا انکار بھی ہو۔جبکہ خوارج اس قانون سے بالکل بے بہرہ اور بے پرواہ نظر آتے ہیں ۔ آئے دور حاضر کے جید علماء کے دلائل سے بات کو سمجھتے ہیں ؛ 

◀️ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”وخلاصة الکلام : لا بد من معرفة أن الکفر کالفسق والظلم ینقسم الی قسمین : کفر وفسق وظلم یخرج من الملة وکل ذلک یعود الی الاستحلال القلبی وآخر لا یخرج من الملة یعود الی الاستحلال العملی.”

        ”ہماری اس طویل بحث کا خلاصہ کلام کچھ یوں ہے کہ یہ جان لینا چاہیے کہ کفر بھی ظلم اور فسق کی مانند دو طرح کا ہے۔ ایک کفر’ ظلم اور فسق و فجور تو وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے نکل جانے کا باعث بنتا ہے اور یہ وہ قسم ہے جس میں کوئی شخص اسے  دل سے حلال سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے اور دوسرا کفر’ ظلم یا فسق وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا اور یہ وہ قسم ہے جس کا مرتکب عملی طور پر اس کفر’ ظلم یا فسق والے عمل کو حلال سمجھ رہا ہو یعنیدلی طور پر وہ اسے حرام اور گناہ ہی سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ٩’ ١٠)

◀️ سعودی عرب کے سابقہ مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد اطلعت علی الجواب المفید الذی تفضل بہ صاحب الفضیلة الشیخ محمد ناصر الدین الألبانی وفقہ اللہ المنشور فی صحیفة المسلمون الذی أجاب بہ فضیلتہ من سألہ عن ” تکفیر من حکم بغیر ما أنزل اللہ من غیر تفصیل” …

وقد أوضح أن الکفر کفران : أکبر وأصغر کما أن الظلم ظلمان وھکذا الفسق فسقان : أکبر وأصغر.

فمن استحل الحکم بغیر ما أنزل اللہ أو الزنی أو الربا أو غیرھما من المحرمات المجمع علی تحریمھا فقد کفر کفرا أکبر وظلم ظلما أکبر وفسق فسقا أکبر : ومن فعلھا بدون استحلال کان کفرہ کفرا أصغر وظلمہ ظلما أصغر.”

”میں تکفیر کے مسئلے میں اس جواب سے مطلع ہوا جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے اور وہ ‘المسلمون’ نامی اخبار میں نشر ہوا ہے ۔ اپنے اس فتوی میں انہوں نے’ بغیر کسی تفصیل کے اس شخص کی تکفیر کہ جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کیا ہو’ کے بارے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے …

شیخ ألبانی نے یہ واضح کیا ہے کہ کفر دو قسم کا ہے : ایک کفر اکبر اور دوسرا کفر اصغر جیسا کہ ظلم اور فسق و فجور بھی دو قسم کا ہے۔ ایک ظلم اکبر اور دوسرا ظلم اصغر ‘ اسی طرح ایک فسق اکبر اوردوسرا فسق اصغر۔

جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلہ کرنے کو جائز اور حلال سمجھا یا زنا یا سود یاان کے علاوہ مجمع علیہ حرام شدہ امور میں سے کسی امر کو حلال سمجھا تو اس کا کفر تو کفر اکبر ہے یا اس کا ظلم تو ظلم اکبر اور اس کا فسق تو فسق اکبر ہے۔ اور جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کو حلال جانے بغیر اس کے خلاف فیصلہ دیا تو اس کا کفر تو کفر اصغر ہے اور اس کا ظلم بھی ظلم اصغر ہے۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٣ ‘ ١٤) 

بعض لوگوں کو شیخ بن باز رحمہ اللہ کے ایک فتوی سے یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ وہ وضعی قوانین کے مطابق فیصلوں کو مطلق طور پر کفر سمجھتے تھے حالانکہ شیخ کا یہ فتوی بھی ان کے مذکورہ بالا فتاوی ہی کا ایک بیان ہے۔

◀️ شیخ بن باز رحمہ اللہ نے ایک جگہ فرمایا ہے:

” وکل دولة لا تحکم بشرع اللہ ولا تنصاع لحکم اللہ ولا ترضاہ فھی دولة جاھلیة کافرة ظالمة فاسقة بنص ھذة الآیات المحکمات”

” ہر ریاست جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم پرراضی نہ ہو تو وہ مذکورہ بالا محکم آیات کی روشنی میں جاہل ‘ کافر ‘ ظالم اور فاسق ریاست ہے ۔”

(المفصل فی شرح آیت الولاء والبراء : ص ٢٨٨) 

اس فتوی میں ‘ترضاہ‘ کے الفاظ اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ شیخ بن باز رحمہ اللہ اس مسلمان ریاست کی تکفیر کرتے ہیں جو غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے کو جائز اور حلال سمجھتی ہو اور یہی بات جمہور سلفی علماء بھی کہتے ہیں۔

شیخ بن باز رحمہ اللہ کے جلیل القدر تلامذہ نے بھی ان کی طرف اسی موقف کی نسبت کی ہے جسے ہم ان کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں ۔

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد ذھب بعض أھل العلم الی أن مجرد تحکیم قانون أو نظام عام مخالف لشرع اللہ تعالی کفر مخرج من الملة ولو لم یصحبہ اعتقاد أن ھذا القانون أفضل من شرع اللہ أو مثلہ أویجوز الحکم بہ …وقد رجح شیخای الشیخ عبد العزیز بن باز والشیخ ابن عثیمین رحمھما اللہ القول الأول؛

وھو أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ لا یکون کفرا مخرجا من الملة مطلقا حتی یصحبہ اعتقاد جواز الحکم بہ أو أنہ أفضل من حکم اللہ أو مثلہ أو أی مکفر آخر.”

” بعض اہل علم کا دوسراقول یہ ہے کہ مجرد کسی خلاف شرع وضعی قانون یا نظام عام سے فیصلہ کرنا ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے اگرچہ اس شخص کا یہ اعتقاد نہ بھی ہو کہ وضعی قانون اللہ کی شریعت سے افضل یا اس کے برابر ہے یا اس سے فیصلہ کرنا جائز ہے … ہمارے دونوں مشائخ کرام ‘ شیخ بن باز اور شیخ بن عثیمین رحمہما اللہ نے اس مسئلے میں پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ 

اور وہ یہ ہے کہ ؛ مطلق طور پر اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنا ایسا کفر نہیں ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہو حتی  کہ وہ فیصلہ کرنے والا شخص غیر اللہ کی شریعت کے  مطابق فیصلہ کرنے  کو جائز سمجھتا ہو یا شریعت سے افضل یا اسے بہتر سمجھتا ہو یا اس قسم کا کوئی کفریہ سبب پایا جاتا ہو۔”

(تسھیل العقیدة السلامیة : ص ٢٤٢۔٢٤٣)

◀️ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”والذی فھم من کلام الشیخین : أن الکفر لمن استحل ذلک وأما من حکم بہ علی أنہ معصیة مخالفة : فھذا لیس بکافر لأنہ لم یستحلہ لکن قد یکون خوفا أو عجزا أو ما أشبہ ذلک.”

”شیخین یعنی شیخ بن باز اور علامہ ألبانی کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے حاکم کا حقیقی کفر اس صورت میں واقع ہوگا جب وہ اپنے اس فعل کو بالکل جائز سمجھتا ہو جبکہ جو حاکم غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے اور اس کو معصیت یا دین کی مخالفت سمجھے تو وہ حقیقی کافر نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے اس فعل کو حلال نہیں سمجھا۔ بعض اوقات کوئی حاکم خوف یا عجز یا اس قسم کی وجوہات کی وجہ سے بھی شریعت کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے، (لہذا اس صورت میں بھی اس پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جائے گا)۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٦)

◀️ اسی طرح ایک اور مقام پر ایک سوال کے جواب میں شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سؤال: اذا ألزم الحاکم الناس بشریعة مخالفة للکتاب والسنة مع اعترافہ بأن الحق ما فی الکتاب والسنة لکنہ یری الزام الناس بھذا الشریعة شھوة أو لاعتبارات أخری ‘ ھل یکون بفعلہ ھذا کافر أم لابد أن ینظر فی اعتقادہ فی ھذہ المسألة ؟

فأجاب: أما فی ما یتعلق بالحکم بغیر ما أنزل اللہ فھو کما فی کتابہ العزیز ینقسم الی ثلاثہ أقسام : کفر وظلم وفسق علی حسب الأسباب التی بنی علیھا ھذا الحکم’

فھذا الرجل یحکم بغیر ما أنزل اللہ تبعا لھواہ مع علمہ بأن الحق فیما قضی اللہ بہ’ فھذا لا یکفر لکنہ بین فاسق وظالم.

وأما ذا کان یشرع حکما عاما تمشی علیہ الأمة یری أن ذلک من المصلحة وقد لبس علیہ فیہ فلا یکفر أیضا’ لأن کثیر من الحکام عندھم جھل بعلم الشریعة ویتصل بمن لا یعرف الحکم الشرعی وھم یرونہ عالما کبیرا فیحصل بذلک مخالفة

واذا کان یعلم الشرع ولکنہ حکم بھذا أو شرع ھذا وجعلہ دستورا یمشی الناس علیہ نعتقد أنہ ظالم فی ذلک وللحق الذی جاء فی الکتاب والسنة أننا لا نستطیع أن نکفر ھذا

وانما نکفر من یری أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ أولی أن یکون الناس علیہ أو مثل حکم اللہ عزوجل فان ھذا کافر لأنہ یکذب بقولہ تعالی ألیس اللہ بأحکم الحاکمین وقولہ تعالی أفحکم الجاھلیة یبغون ومن أحسن من اللہ حکما لقوم یوقنون.”

سوال: اگر کوئی حاکم کتاب و سنت کے مخالف کسی قانون کو نافذ کرتاہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ حق وہی ہے جو قرآن وسنت میں ہے اور اس قرآن وسنت کے مخالف قانون کو اپنی خواہش نفس یا کئی اور وجوہات کی بناء پر نافذ کرتا ہے تو کیا اپنے اس فعل سے وہ کافر ہو جائے گا یا یہ لازم ہے کہ اس مسئلے میں اس پر کفر کا فتوی لگانے کے لیے اس کا عقیدہ دیکھا جانا چاہیے؟

جواب: اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنے کی قرآن میں تین قسمیں یعنی کفر’ ظلم اور فسق و فجور بیان کی گئی ہیں اور ان قسموں کا اطلاق اس حکم کے اسباب کے اعتبار سے بدلتا جاتا ہے۔

پس اگر کسی شخص نے اپنی خواہش نفس کے تحت ما أنزل اللہ کے علاوہ سے فیصلہ کیا جبکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کا فیصلہ حق ہے تو ایسے شخص کی تکفیر نہ ہوگی اور یہ ظالم اور فاسق کے مابین کسی رتبے پر ہو گا۔

اور اگر کوئی حکمران اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مخالف کو تشریع عام یعنی عمومی قانون کے طور پر نافذ کرتا ہے تاکہ امت مسلمہ اس پر عمل کرے اور ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے (حالات کے مطابق) اس میں کوئی مصلحت دکھائی دیتی ہے حالانکہ اصل حقیقت اس سے پوشیدہ ہوتی ہے (یعنی اس میں کچھ جہالت پائی جاتی ہے ) تو ایسے حکمران کی بھی تکفیر نہ ہوگی کیونکہ اکثر حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شرعی احکام سے ناواقف ہوتے ہیں اور انہیں ایسے جاھل مشیروں کا قرب حاصل ہوتا ہے جنہیں وہ بہت بڑا عالم سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ پس اس طرح وہ شریعت کی مخالفت کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی حکمران شریعت کو جاننے اور علم ہونے کے باوجود کسی وضعی قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا یا اسے بطور قانون اور دستور نافذ کر دیا تاکہ لوگ اس پر عمل کریں تو ایسے حکمران کے بارے بھی ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ وہ اس مسئلے میں ظالم ہے اور وہ حق بات ہے جو قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہے کہ کہ ہم اس حکمران کی بھی تکفیر نہیں کر سکتے۔

ہم تو صرف اسی حکمران کی تکفیر کریں گے جو ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق اس عقیدے کے ساتھ فیصلہ کرے کہ لوگوں کاما أنزل اللہ کے علاوہ پر چلنا اللہ کے حکم پر چلنے سے بہتر ہے یا وہ اللہ کے حکم کے برابر ہے ۔ ایسا حکمران بلاشبہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے قول ‘ کیا اللہ تعالی سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ‘ اور ‘ کیا وہ جاہلیت کے فیصلے سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے ‘ ایسی قوم کے لیے جو کہ یقین رکھتے ہیں’ کا انکار کرتا ہے۔”

(تحکیم قوانین کے متعلق اقوال سلف: ص ٣١۔٣٢)

◀️ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پڑپوتے شیخ عبد اللطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ رحمہما اللہ فرماتے ہیں:

” وانما یحرم اذا کان المستند الی الشریعة باطلة تخالف الکتاب والسنة کأحکام الیونان والفرنج والتتر وقوانینھم التی مصدرھا آراؤھم وأھواؤھم وکذلک البادیة وعاداتھم الجاریة. فمن استحل الحکم بھذا فی الدماء أو غیرھا فھو کافر قال تعالی : ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فأولئک ھم الکفرون.

وھذہ الآیة ذکر فیھا بعض المفسرین : أن الکفر المراد ھنا: کفر دون الکفر الأکبر لأنھم فھموا أنھا تتناول من حکم بغیر ما أنزل اللہ وھو غیر مستحل لذک لکنھم لا ینازعون فی عمومھا للمستحل وأن کفرہ مخرج عن الملة.”

” اگر کتاب و سنت کے مخالف باطل احکامات مثلا ً یونانی’ انگریزی اور تاتاری قوانین کہ جن کا منبع و سر چشمہ اہل باطل کی خواہشات اور آراء ہوتی ہیں’ کو شرعی مرجع بنا لیا جائے تو یہ صرف ایک حرام کام ہے۔ اسی طرح کا معاملہ قبائلی جرگوںاور ان کے رسوم و رواج کے مطابق فیصلوںکا بھی ہےیعنی وہ بھی ایک حرام فعل ہے۔ پس جس نے ان باطل قوانین کے مطابق قتل و غارت اور دیگر مسائل میں فیصلہ کرنے کو حلال سمجھا تو ایسا شخص کافر ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: جو شخص اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ کافر ہے ۔

بعض مفسرین نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں کفر سے مراد کفر اکبر سے چھوٹا کفر یعنی “کفر اصغر” ہے کیونکہ ان مفسرین کے فہم کے مطابق اس آیت میں ما أنزل اللہ کے علاوہ کے مطابق فیصلہ کرنے سے مراد اس فیصلہ کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کرنا ہے لیکن اہل علم کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جو حکمران اس فیصلہ کو حلال سمجھتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔”

(منھاج التأسیس والتقدیس فی کشف شبھات داؤد بن جرجیس: ص٧٠’ دار الھدایة)

◀️ مفسر قرآن شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” فالحکم بغیر ما أنزل اللہ من أعمال أھل الکفر وقد یکون کفر ینقل عن الملة وذلک اذا اعتقد حلہ وجوازہ

وقد یکون کبیرة من کبائر الذنوب ومن أعمال الکفر قد استحق من فعلہ العذاب الشدید…فھو ظلم أکبر عند استحلالہ وعظیمة کبیرة عند فعلہ غیر مستحل لہ.”

”ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرناکفریہ فعل ہے اور بعض صورتوں میں یہ دائرہ اسلام سے اخراج کا باعث بھی بنتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص اپنے اس فعل کو حلال اور جائز سمجھتا ہو۔

اور بعض اوقات یہ فعل ایک کبیرہ گناہ اور کفریہ فعل ہوتا ہے جس کا فاعل شدید عذاب کا مستحق ہے…پس اگر اس شخص نے اپنے اس فعل کو حلال سمجھا تو یہ کفر اکبر ہے اور اگر اس فعل کو حلال نہ سمجھا تو اس وقت یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔”

(تفسیر سعدی: المائدة : ٤٥)

◀️ شیخ عبد المحسن العباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سوال: ”ھل استبدال الشریعة الاسلامیة بالقوانین الوضعیة کفر فی ذاتہ؟ أم یحتاج الی الاستحلال القلبی والاعتقاد بجواز ذلک؟ وھل ھناک فرق فی الحکم مرة بغیرما أنزل اللہ وجعل القوانین تشریعا عاما مع اعتقاد عدم جواز ذلک؟

الجواب: یبدو أنہ لا فرق بین الحکم فی مسألة أو عشرة أو مئة أو أقل أو أکثر فما دام الانسان یعتبر نفسہ أنہ مخطیء وأنہ فعل أمرا منکرا وأنہ فعل معصیة وأنہ خائف من الذنب فھذا کفر دونکفر وأما مع الاستحلال ولو کان فی مسألة واحدة وھو یستحل فیھا الحکم بغیر ما أنزل اللہ ویعتبرذلک حلالا فنہ یکون کفرا أکبر.” 

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

سوال: کیا شریعت اسلامیہ کی جگہ وضعی قوانین کا نفاذ بنفسہ کفر ہے؟ یا اس کے کفر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دلی طور پر اس فعل کو حلال سمجھتا اور اس کے جواز کا عقیدہ رکھتا ہو؟ کیا ایک مرتبہ ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے اور وضعی قوانین کو مستقل و عمومی قانون بنا لینے میں کوئی فرق ہے جبکہ قانون ساز اس قانون سازی کے جائز نہ ہونے کا بھی عقیدہ رکھتا ہو؟

جواب : یہ بات ظاہر ہے کہ کسی ایک مقدمہ یا دس یا سو یا اس سے زائد یا کم میں فیصلہ کرنے سےشرعی حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک انسان یہ سمجھتا ہو کہ وہ خطار کار ہے اور اس نے ایک برا اور نافرمانی کا کام کیا ہے اور اسے اپنے گناہ کا خوف بھی لاحق ہوتو یہ کفر اصغر ہے اور اگر وہ اپنے اس فعل کو حلال سمجھتا ہو’ چاہے ایک مقدمہ میں ہی کیوں نہ ہو اور وہ اس مقدمہ میں ماأنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کو حلال سمجھتا ہو تو یہ کفر اکبر ہو گا۔”

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”أن یضع تشریعا أو قانونا مخالفا لما جاء فی کتاب اللہ و سنة رسولہ و یحکم بہ معتقدا جواز الحکم بھذا القانون أو معتقدا أن ھذا القانون خیر من حکم اللہ أومثلہ فھذا شرک مخرج من الملة.”

” یہ کہ حکمران کوئی ایسی قانون سازی کرے جو کتاب اللہ اور سنت رسول کے مخالف ہو اور وہ اس قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو عقیدے کے اعتبار سے جائز سمجھتا ہو یا اس قانون کو اپنے عقیدے میں اللہ کے حکم سے بہتر خیال کرتا ہو یا اس کے برابر سمجھتا ہو تو یہ ایسا شرک ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے۔”

(تسھیل العقیدة الاسلامیة: ص ٢٤٢)

پس معاصر سلفی علماء کے نزدیک غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے حکمرانوں کا کفر دو قسم کا ہے:  کفر حقیقی اور کفر عملی’

اگر تو حکمران غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے اس کو حلال’ شریعت اسلامیہ سے بہتر’ اس کے برابر اور جائز سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں تو یہ کفر اعتقادی ہے ورنہ کفر عملی۔

◀️ اب اگر اس موقف کے قائل محترم مبشر احمد ربانی صاحب گمراہی پر ہیں یا مرجئہ ہیں تو ان کے ہم فہم و ہم مسلک سلف صالحین جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ، وہ بھی گمراہ و مرجئہ ہیں؟

اس تقسیم کے قائلین:

عبد اللہ بن عباس

امام احمد بن حنبل

امام محمد بن نصر مروزی

امام ابن جریر طبری

امام ابن بطہ

امام ابن عبد البر

امام سمعانی

امام ابن جوزی

امام ابن العربی

امام قرطبی

امام ابن تیمیہ

امام ابن قیم

امام ابن کثیر

امام شاطبی

امام ابن أبی العز الحنفی

امام ابن حجر عسقلانی

شیخ عبد للطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ

شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی

علامہ صدیق حسن خان

علامہ محمد أمین شنقیطی رحمہم اللہ أجمعین

شیخ عبد المحسن العباد

پاکستان کے مفسر قران شیخ عبد السلام الرستمی رحمہ اللہ

شیخ حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی حفطہ اللہ جیسے جید علماء کرام بھی شامل ہیں

اب یا تو یہ سب گمراہ ہیں یا پھر اہل السنۃ والجماعۃ پر “تحکیم بغیر ما انزل اللہ” کے مسئلے میں گمراہی اور ارجاء کا الزام لگانے والے خود سے خارجیت کے دھبے کو چھپانے کی معصومانہ کوشش کرتے پھر رہے ہیں؟؟؟




آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج اسلاف

آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج  اسلاف

ائمہ عظام و محدثین عظام  کی نظر میں

  
الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

امام ا بو عبیدہ نے فضائل قرآن میں اور سعید بن منصور نے ابراہیم تمیمی سے بیان کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ بات سوچ رہے تھے کہ اس امت میں اختلاف کیسے واقع ہو سکتا ہے۔ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کو بلوایا اور فرمایا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ اس امت کا نبی ایک، قبلہ ایک، کتاب ایک پھر یہ امت اختلاف میں کیسے پڑے گی ….؟ (یعنی بظاہر یہ ممکن نہیں۔ ) 

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا : اے امیر المومنین یہ قرآن ہم میں نازل ہوا ہم نے اسکو نبی سے پڑھا اور ہمیں معلوم ہے(کون سی آیات) کس بارے نازل ہوئی۔ جبکہ ہمارے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہو گا کہ کونسی آیت کس بارے نازل ہوئی اور وہ خود سے اس کے بارے رائے زنی کرینگے ۔ جب اپنی اپنی آراء پہ چلیں گے تو ان میں اختلاف ہو گا۔۔۔

[فضائل قرآن لابی عبیدۃ]

اسی پہ امام شاطبی فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا یہ فرمانا برحق ہے کہ جب آدمی کو علم ہو کہ یہ آیت کس بارے نازل ہوئی تو وہ اسکے ماخذ، تفسیر، اور شریعت کے مقصد کو معلوم کر لیتا ہے اور زیادتی کا شکار نہیں ہوتا تو جب کوئی آدمی اپنی نظر سے کئی احتمالات بنانا شروع کردیتا ہے تو ایسے لوگوں کے علم میں۔پختگی نہی ہوتی اور یہ لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔

اسکی وضاحت اس واقع سے بھی ہوتی ہے جب سیدنا نافع رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ صحابی رسول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی حروریہ(خوارج)کے بارے کیا رائے ہے تو انہوں نے فرمایا : وہ انکو اللہ کی سب سے بدترین مخلوق سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خوارج کفار کے بارے نازل شدہ آیات کو مسلمانوں پہ فٹ کرتے ہیں۔

یہ سن نے سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ لوگ متشابہ آیات جو مختلف احتمال رکھتی ہیں انکی پیروی کرتے ہیں جیسے اللہ کا فرمان: 

ومن لم یحکم بما انزل اللہ فأولئک الکافرون
اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ کافر ہے

اور ساتھ یہ آیت ملا لیتے ہیں۔۔۔۔

وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآَخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام: 150)  

وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لائے اور وہ اپنے رب کے ساتھ برابری کرنے والے تھے

اور نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ جس نے کفر کیا اس نے اللہ کی برابری کی اور جس نے رب کے ساتھ برابری کی اس نے شرک کیا۔۔۔!!!
پس یہ لوگ مشرک ہیں لہٰذا وہ خروج کرتے ہیں اور قتل و غارت کرتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے آیت کی تفسیر ہی ایسے لی تھی

[الاعتصام للشاطبی ج2، ص 692_691]

اہل السنة والجماعة کے علماء کا اجماع ہے کہ آیات تحکیم سے ظاہر مراد نہیں ہے اور ان آیات کے ظاہر سے خوارج اور معتزلہ، کفر اکبر کا استدلال کرتے ہیں ۔۔۔ !!!!

saidagate_47826

مندرجہ ذیل علماء کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:

1⃣۱۔ علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’اس آیت کے ظاہر سے وہ لوگ کفر اکبر کی حجت بیان کرتے ہیں جو گناہوں کی وجہ سے کفر اکبر کا فتوی لگاتے ہیں اور وہ خوارج ہیں۔ اور اس آیت میں انکی کوئی حجت نہیں۔‘‘ 

[المفہم جلد نمبر5صفحہ نمبر117]

2⃣۲۔ حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

‘‘ اوراس باب میں اہل بدعت کی ایک جماعت گمراہ ہوئی ۔اس باب میں خوارج اور معتزلہ میں سے پس انہوں نے ان آثار سے حجت بیان کی کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب کافر ہیں اور اللہ تعالی کی کتاب میں سے ایسی آیات کو حجت بنایا جن سے ظاہر مراد نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ) (المائدة: 44)‘‘

[التمہید جلد 16، صفحہ 312]

3⃣۳۔ امام آجری رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

’’اورحروری (خوارج) جن متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں ان میں سے یہ آیت بھی ہے‘‘
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ [المائدة: 44]

اور اس آیت کے ساتھ یہ آیت بھی بیان کرتے ہیں

ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الانعام : 1]

’’پس جب وہ کسی حکمران کو دیکھتے ہیں کہ وہ بغیر حق کے فیصلہ کرتا ہے ،کہتے ہیں یہ کافر ہے اور جس نے کفر کیا اس نے اپنے رب کے ساتھ شریک بنا لیا ، پس یہ حکمران مشرک ہیں ،پھریہ لوگ نکلتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو آپ دیکھتے ہیں کیونکہ (وہ )اس آیت کی تاویل کرتے ہیں ۔‘‘

[الشریعہ صفحہ:44]

4⃣ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اور یہ وہ آیت ہے جسے خوارج ایسےحکمرانوں کی تکفیرکے لئے بطور حجت پیش کرتے ہیں جو اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلوں کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘

[منہاج السنہ ج5 ص131]

5⃣علامہ ابو الحسن الملطی رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ ؛

یہ بات فیصلہ شدہ ہے کہ سب سے پہلے خوارج وہ تھے کہ جنہوں نے لا حکم الا للہ ۔۔۔ اللہ عزوجل کی ذات اقدس کے علاوہ کسی کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں کا نعرہ لگایا تھا ۔ اور ان کا دوسرا نعرہ یہ تھا کہ ؛ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کفر کا ارتکاب کیا ہے والعیاذ باللہ کہ انہوں نے بندوں کے درمیان فیصلے کا اختیار حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ کو سونپ دیا تھا ۔ جبکہ فیصلے کا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔۔۔۔۔!!!!

خارجیوں کے فرقے کو اس وجہ سے بھی خوارج کہا جاتاہے کہ انہوں حکمَین والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا تھا کہ جب انہوں نے جناب علی اور ابو موسیٰ اشعری کے فیصلہ کرنے والے عمل کو ناپسندیدگی اور نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ؛ لا حکم الا للہ ۔۔۔۔۔

[التنبیہ والرد علی اھل الاھواء والبدع ص 47]

تو قارئین کرام!!!

خوارج کی بنیاد یعنی مسئلہ تحکیم کے اوپر میں مکمل وضاحت ہو چکی ہے ۔ اب ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی عام درد دل رکھنے والا ، امت کا غم رکھنے والا مسلمان بھائی مسئلہ تحکیم کی وجہ سے گمراہی کا شکار نہیں ہوگا اور نہ ہی خوارج العصر ، داعش ، القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسے فتنہ کا شکار ہوگا ۔ ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔۔




آیت کریمہ ((وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ ۔۔۔۔)) کی تفسیر - الشیخ مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی

((وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ)) کی تفسیر و تشریح 

الشیخ مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

اللہ عزوجل نے فرمایا :

وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ [ المائدۃ : 44]

” اور جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔ “

امام المفسرین محمد بن جریر الطبری اس آیت کریمہ کے شان نزول کے بارے اختلاف ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

وقال آخرون: بل عنی بذلك كفر دون كفر، وظلم دون ظلم، وفسق دون فسق . [1]

” دوسرے مفسرین نے کہا ہے بلکہ اس سے مراد ایک کفر کا ( اپنے درجہ میں ) دوسرے کفر سے کم ہونا ، ایک ظلم کا دوسرے ظلم سے کم ہونا اور ایک فسق کا دوسرے فسق سے کم ہونا مراد لیا گیا ہے ۔ “

پھر اس پر صحابہ کرام ، تابعین عظام وغیرھم کی روایات بیان کیں سب سے پہلے ہم ترجمان القرآن حبر الامۃ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر درج کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں :

لیس بالکفر الذی تذهبون إليه  

” یہ ہر گز وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف تم جا رہے ہو ۔ “

دوسری روایت میں ہے :

إنه لیس بالکفر الذی یذهبون إليه إنه لیس کفر ینقل عن الملة (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )) کفر دون کفر . [2]

” بلا شبہ یہ ہر گز وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف وہ جاتے ہیں ، بلا شہ یہ ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا کفر نہیں ہے (( اور جس نے اللہ کی نازل کردہ دین کے مطابق فیصلہ نہ کیا تو وہی لوگ کافر ہیں )) یہ کفر دون کفر ہے یعنی یہ کفر دوسرے کفر سے درجے میں کم ہے ۔ “

امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا اور امام ذھبی نے ان کی موافقت کی ہے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 

وحقهما أن يقولا : على شرط الشيخين فإن إسناده كذلك ثم رأيت الحافظ ابن كثير نقل في تفسيره ( 6 / 163 ) عن الحاكم أنه قال : ” صحيح على شرط الشيخين ” فالظاهر أن في نسخة ” المستدرك ” المطبوعة سقطا .

امام حاکم اور امام ذھبی دونوں کا حق تھاکہ یوں کہتے : یہ روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے تو بلا شبہ اس کی سند اس طرح ہے پھر میں نے حافظ ابن کثیر کو دیکھ انہوں نے اپنی تفسیر میں امام حاکم سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے تو ظاہر یہ ہے کہ مستدرک کے مطبوعہ نسخے میں سقط ہے ۔ “

اور ابن عبا س رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں :

هي به کفر ولیس کفرا بالله وملائکته وکتبه ورسله [3]

” یہ کفر ہے اور یہ اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر نہیں ہے ۔ “

ایک اور روایت میں ہے :

لیس کمن کفر بالله وملائکته ورسله

” یہ اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کی طرح نہیں ہے ۔ “

اور عطاء بن ابی رباح ، طاؤس وغیرھما سے بھی یہی تفسیر مروی ہے جس کی مکمل تفصیل فضیلۃ الشیخ سلیم بن عید الھلالی کی بڑی شاندار کتاب ” قرۃ العیون “ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔

اور عبد اللہ بن عباس کی اس تفسیر کو امام حاکم ، امام احمد بن حنبل ، امام ذھبی ، امام ابن کثیر ، امام طبری ، امام مروزی ، امام سمعانی ، امام بغوی ، امام ابوبکر ابن العربی ، امام قرطبی ، امام بقاعی ، امام واحدی ، امام ابو عبید قاسم بن سلام ، امام ابو حیان اندلسی ، امام ابن بطہ ، امام ابن عبد البر ، امام خازن ، علامہ جمال الدین قاسمی ، علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی ، امام ابن تیمیہ ، امام ابن القیم ، نواب صدیق الحسن خان ، علامہ شنقیطی ، علامہ البانی وغیرھم جیسے جہابذہ مفسرین و محدثین اور فقہاء نے صحیح قرار دیا ہے اور قبول  کیا ہے ۔ یہاں پر چند حوالے ذکر کرتا ہوں باقی تفسیر و تفصیل اپنے مقام پر بیان ہوگی ان شاء اللہ ۔

امام محمد بن نصر المروزی (المتوفی 294ھ) فرماتے ہیں :

قلنا إن ترك التصدیق کفر به وإن ترك الفرائض مع تصدیق الله انه اوجبها کفر لیس بکفر بالله انما هو کفر من جهة ترك الحق کما یقول القائل کفرتنی حقی ونعمتی یرید ضیعت حقی وضیعت شکر نعمتی قالوا : ولنا فی هذا قدوة بمن روی عنهم من اصحاب رسول الله صلی الله عليه وسلم والتابعین إذ جعلوا للکفر فروعا دون اصله لا تنقل صاحبه عن ملة الاسلام کما ثبتوا للایمان من جهة العمل فرعا للاصل لا ینقل تركه عن ملة الاسلام من ذلك قول ابن عباس فی قوله: (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )) [4]

” بلاشبہ تصدیق کو ترک کرنا اس کے ساتھ کفر ہے اور اللہ کی تصدیق کے ساتھ فرائض ترک کرنا جن کو اس نے واجب قرار دیا ہے کفر یہ اللہ کے ساتھ کفر کی طرح نہیں ہے یہ ترکِ حق کی جہت سے کفر ہے جیسا کہ کہنے والا کہتا ہے : ” کفرتنی حقی ونعمتی ” اس سے مراد تو نے میرا حق ضائع کر دیا اور میری نعمت کا شکر برباد کر دیا ، انہوں نے کہا : ہمارے لئے اس بات میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام اور تابعین عظام نمونہ ہیں جبکہ انہوں نے اصل کے علاوہ کفر کی فرعات بنائی ہیں جو کفر کے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتیں جیسا کہ عمل کی جہت سے انہوں نے ایمان کے لئے اصل کے علاوہ فروعات ثابت کی ہیں جو تارک عمل کو ملت اسلام سے خارج نہیں کرتیں اسی میں سے اللہ کے اس فرمان  (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ))  کے بارے میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے ۔

اسی طرح امام ابو عبد اللہ عبید اللہ بن محمد المعروف بابن بطۃ (المتوفی 387ھ) نے اپنی معروف و مشہور کتاب ” الابانۃ عن شریعۃ الفرقۃ الناجیۃ ” 2/162 ط ۔ الفاروق الحدیثیۃ میں ایک باب یوں قائم کیا ہے ” باب ذکر الذنوب التی تصیر بصاحبھا الی کفر غیر خارج عن الملۃ “ ان گناہوں کا بیان جو ان کے مرتکب کو ایسے کفر کی طرف لے جاتے ہیں جو ملت سے خارج کرنے والے نہیں ہیں ۔

پھر اس کے ضمن میں عبد اللہ بن عباس ، طاؤس اور عطاء بن ابی رباح کے اقوال لائے ہیں جو (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ )) کی تفسیر میں مروی ہیں ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے انہوں نے ایسا کفر مراد لیا ہے جو ملت سے خارج کرنے والا نہیں ہے ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :

وقال ابن عباس وغير واحد من السلف في قوله تعالى : { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } { فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ } و { الظَّالِمُونَ } كفر دون كفر وفسق دون فسق وظلم دون ظلم وقد ذكر ذلك أحمد والبخاري وغيرهما . [5]

” عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سارے سلف صالحین نے اللہ کے فرمان  { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } { فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ } و { الظَّالِمُونَ }  کے بارے میں کہا ہے : یہ کفر دون کفر ، فسق دون فسق اور ظلم دون ظلم ہیں اور یہ بات امام احمد بن حنبل اور امام بخاری وغیرھما نے بیان کی ہے ۔

نوٹ : آئمہ دین نے جو ان آیات کو تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے تحت ذکر کیا ہے اس سے مراد کفر اصغر لیا ہے یہ ایسے شخص کے حق میں ہے جو اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے یا رشوت لیکر  فیصلہ کرے یا کسی سے عداوت کرتے ہوئے فیصلہ کرے اور اسے پتہ ہو کہ وہ اللہ کی نافرمانی کی رہا ہے لیکن جو اللہ کے دین کے علاوہ کسی قانون کے ساتھ فیصلہ کرنا حلال سمجھتا ہو ، یا اس کا اعتقاد ہو کہ اس کا حکم اللہ کے حکم کے مساوی یا اس سے افضل ہے تو یہ ایسا کفر ہے جو ملت سے خارج کرنے والا ہے ۔

امام ابن الجوزی اپنی تفسیر زاد المسیر میں ، امام ابن تیمیہ منہاج السنۃ میں ، امام ابن القیم نے مدارج السالکین میں ، علامہ محمد شنقیطی نے تفسیر اضواء البیان میں اور سعودی کبار علماء کی فتاوی اللجنۃ الدائمۃ نے اسے بیان کیا ہے ۔

ماخوذ از :

(مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط ) الشیخ مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ 

[1]–          تفسیر الطبری : 8/464

[2]–          الابانۃ لابن بطۃ (1021) 2/172 السنن الکبری للبیھقی 8/20 ، 10/207 السنۃ للخلال (1419) سنن سعید بن منصور (749) 4/1482 کتاب الصلاۃ لمحمد بن نصر المروزی (569-573) تفسیر ابن ابی حاتم 4/1143 (6434) التمھید 4/237 المستدرک للحاکم 2/313 

[3]–          تفسیر الطبری 8/465 السنۃ للخلال 4/158-159 (1414) کتاب الصلاۃ لمحمد بن نصر المروزی (571-572) الابانۃ لابن بطۃ (1020) 2/172 تفسیر عبد الرزاق (713) 2/19 تفسیر سفیان ثوری ص 101 ، تفسیر ابن ابی حاتم 3/7

[4]–          کتاب الصلاۃ ص 167

[5]–          مجموع الفتاوی لابن تیمیہ : 7/522




تاتاری قانون الیاسق سے موجودہ حکمرانوں کی تکفیر پر خوارج کا رد ۔ الشیخ عبد اللہ الفتوحی حفظہ اللہ

تاتاری قانون الیاسق سے موجودہ حکمرانوں کی تکفیر پر خوارج کا رد

الشیخ عبد اللہ الفتوحی حفظہ اللہ

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

            ہمارے ہاں عمومی طور تکفیر کرنے والے حضرات تا تاری قانون ‘‘ الیاسق’’ نامی مجموعہ قوانین کو بنیاد بناتے ہیں دور  حآضر کے  حکمرانوں اور اس سے متعلقہ اداروں کو کافر مرتد قرار دیتے ہیں اور بطور دلیل امام ابن کثیر اور ابن تیمیہ علیھما الرحمہ کا حوالہ ذکر کرتے ہیں ۔

            اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام ابن کثیراورامام ابن تیمیہ رحمہما اللہ نے ‘الیاسق’ نامی مجموعہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے والے تاتاریوں کو کافر قرار دیا ہے لیکن ان کی تکفیر کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے مجموعہ قوانین کو شرعی قوانین کے برابر حیثیت دیتے تھے اور یہ اعتقادی کفر (ایسا کفر جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے)  ہے اور کسی بھی انسانی قانون کو شرعی قانون کے برابر قرار دیناصریح کفر ہے جیسا کہ راسخ اہل السنہ کے علماء کے حوالے سے  یہ بحث نقل کی جاتی ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اسلام قبول کرنے والے تاتاریوں کے عقائد کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتے ہیں:

ان اسلام کے مدعی تاتاریوں میں سے جو لوگ شام آئے ۔ ان میں سب سے بڑے تارتاری نے مسلمانوں کے پیام بروں سے خطاب کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو مسلمان اور ان کے قریب ثابت کرتے ہوئے کہا: یہ دو عظیم نشانیاں ہیں جو اللہ کی طرف سے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک محمد عربی ہیں اور دوسرا چنگیز خان ہے۔

پس یہ ان کا وہ انتہائی عقیدہ ہے جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کا قرب تلاش کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول جو مخلوق میں سے سب سے بزرگ ‘ اولاد آدم کے سردار اور نبیوں کی مہر ہیں’ انہیں اور ایک کافر اور مشرکین میں سب سے بڑھ کر مشرک’ فسادی’ ظالم اور بخت نصر کی نسل کو برابر قرار دیا ؟ 

ان تاتاریوں کا چنگیز خان کے بارے عقیدہ بہت ہی گمراہ کن تھا۔ ان نام نہاد مسلمان تاتاریوں کا تو یہ عقیدہ تھا کہ چنگیز خان اللہ کا بیٹاہے اور یہ عقیدہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عیسائیوں کا حضرت مسیح کے بارے عقیدہ تھا۔ یہ تاتاری کہتے ہیں کہ چنگیز خان کی ماں سورج سے حاملہ ہوئی تھی ۔ وہ ایک خیمہ میں تھی جب سورج خیمہ کے روشندان سے داخل ہوا اور اس کی ماں میں گھس گیا۔ پس اس طرح اس کی ماں حاملہ ہو گئی۔ ہر صاحب علم یہ بات جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے…

اس کے ساتھ ان تاتاریوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ چنگیز خان کو اللہ کا عظیم ترین رسول قرار دیتے ہیں کیونکہ چنگیز خان نے اپنے گمان سے ان کے لیے جو قوانین جاری کیے ہیں یا مقرر کیے ہیں یہ ان قوانین کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ جو ان کے پاس مال ہے ‘ اس کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ چنگیز خان کا دیا ہوا رزق ہے اور اپنے کھانے اور پینے کے بعد(اللہ کی بجائے) چنگیز خان کا شکر اداکرتے ہیں اور یہ لوگ اس مسلمان کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں جو ان کے ان قوانین کی مخالفت کرتا ہے جو اس کافر ملعون’ اللہ ‘ انبیاء و رسل ‘ محمد عربی اور اللہ کے بندوں کے دشمن نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں۔ پس یہ ان تاتاریوں اور ان کے بڑوں کے عقائدہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اسلام لانے کے بعد محمد عربی کو چنگیز خان ملعون کے برابر قرار دیتے ہیں۔”

مجموعہ الفتاوی میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کی عبادت پر غور کیجئے ۔

  • تاتاریوں کا پہلا کفر کہ وہ چنگیز خان کو رسول اللہ ﷺ کے برابر سمجھتے تھے۔
  • وہ چنگیز خان کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے ۔
  • اور اس کے دیے گئے قوانین کی تعظیم کرنا
  • مجموعہ قوانین ‘‘الیاسق’’ کا انکار کرنے والے
  • مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھنا
  • کھانے پینے کے بعد چنگیز کا شکر اداکرنا

یہ تمام امور ایسے صریح کفر یہ عقائد ہیں جن کے کفر اکبر ہونے میں دو بندوں کا بھی اختلاف ممکن نہیں۔ لہذا ‘‘الیاسق’’ کے مجموعہ قوانین کے بارے تاتاریوں کاجو رویہ اورعقیدہ تھا ، اسکے کفرہونے  پر علماء قائل ہیں۔

پس آج بھی کوئی حکمران وضعی مجموعہ قوانین (انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین) کومنجانب اللہ سمجھے یا اس کو خلاف اسلام کہنے والوں کے خون کو حلال سمجھے یا اس قانون کے بنانے والوں کو اللہ کے رسول ﷺ کے برابر کا درجہ دے تو ان کے کفر میں بھی کوئی شک نہ ہوگا ۔ لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ ہمارے حکمران وضعی قوانین بنانے کے مرتکب ضرور ہیں اور یہ یقینا ایک بہت بڑا گناہ ہے ۔

لیکن وہ اس کو منجانب اللہ یاخلاف شریعت سمجھنے والوں کے خون کوحلال یا قانون سازوں کو نبی کریم ﷺ کے برابر کادرجہ نہیں دیتے لہذا بغیر کسی کفریہ عقیدہ کے مطلق ان وضعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنےوالے کو کفر اکبر (ایسا کفر جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج  ہو جاتا)   قرار دینے کی کوئی شرعی عقلی ، نقلی ، یا تاریخی دلیل موجود نہیں ہے ۔

ہاں البتہ یہ عمل  کفر اصغر (ایسا کفر جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا)  کہلانے کا مستحق ضرور ہے۔اور اس کی بناء پر کسی کی تکفیر نہیں کی جا سکتی ۔  

واللہ اعلم بالصواب 




عدالتیں اور ان کا شرعی حکم ۔ الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

عدالتیں اور ان کا شرعی حکمعدالتیں اور ان کا شرعی حکم 

الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

عدل وانصاف کسی بھی مہذب معاشرے کےلئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کتاب وسنت کی بناء پر اپنے فیصلے کرنا کوئی ذوقی یا اختیاری مسئلہ نہیں کہ اس میں مسلمانوں کے لئے کوئی دوسری گنجائش  موجود ہو بلکہ یہ اسلام کا اپنے ماننے والوں سے اساسی مطالبہ ہے کہ وہ اپنے فیصلے کتاب وسنت کی بناء پرکریں قرآن مجید کی نصف درجن آیات مسلمانوں کو اس کی تلقین اور ان کی اسلامیت کو اس سے مشروط ٹھہراتی ہے ،خود ساختہ قوانین کی مزان پر فیصلے کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ظالم ،فاسق اور کافر قرار دیا ہے ۔

غیر شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے والے کی شرعی حیثیت ہم آیت تحکیم کے تحت کر آئے ہیں اس جگہ قابل غور بات یہ ہے کہ جبرواستبداد کے اس دور میں جبکہ صحیح اسلامی نظام کا فقدان ہے اور استعماری قوتوں کے غلبہ کی وجہ اسلامی جزئیات کے ساتھ ساتھ بہت سے غیر اسلامی قوانین بھی موجود ہیں تو کیا ایسی صورت میں ایک مسلمان کے لئے ایسی عدالتوں میں جانا اور ان سے اپنے حقوق وغیرہ کا فیصلہ لینا کیا شرعاًجائز ہے ؟

اس کا جواب ہمیں (قرآن مجید سورہ یوسف ) سید نا یوسف علیہ السلام کے قصےمیں مل جاتا ہے ،سیدنا یوسف علیہ السلام جیل سے رہائی پانے کےلئے اپنے مقدمے کا فیصلہ ایک کافروطاغوت بادشاہ سے کرواناچاہ رہے ہیں دیکھیے جب وہ نجات پانے والا شخص یوسف علیہ السلام کے پاس بادشاہ کے خواب کی تعبیر پوچھنے آیا تو یوسف علیہ السلام نے اسے صحیح تعبیر بتلائی تو بادشاہ نے کہا اسے (یوسف علیہ السلام ) کو میرے پاس لے آؤ ،یوسف علیہ السلام نے فرمایا: تو اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا ،

﴿ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِيْ قَطَّعْنَ اَيْدِيَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ بِكَيْدِهِنَّ عَلِيْمٌ ﴾

[یوسف :50]

’’ان سے پوچھ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے ۔‘‘

اس آیت کی تفسیر میں مولنا محمد عبداللہ الفلاح لکھتے ہیں ؛

’’یعنی وہی قصہ یاد دلایا جس سے حضرت یوسف علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ بادشاہ کو میرے مقدمے کی تحقیق کرنی چاہیے تاکہ سب کے سامنے میرا پاک دامن اور بے قصور ہونا پوری طرح واضح ہو جائے۔‘‘

[اشرف الحواشی ص:290تحت آیت ھذا]

اس آیت کے الفاظ و مفہوم پر غور کیجیے کہ مصر میں قانون طاغٖوت کا ہے جیسا کہ اسی سورت میں ہے :

﴿ ۔۔۔۔۔مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ ۔۔۔۔۔۰۰۷۶ ﴾   

(یوسف :76)

’’ممکن نہیں تھا کہ بادشاہ کے قانون میں وہ اپنے بھائی کو رکھ لیتا ‘‘

اور نبی یوسف علیہ السلام کو اپنی براءت مطلوب تھی جس کا وہ فیصلہ ایک طاغوت سے کروا رہے ہیں ،یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ بعض کج فکری اور روش پر گامزن لوگ جو یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں،’’کہ فیصلہ کروانا عبادت کے زمرے میں آتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے جو کسی غیر سے فیصلہ کرواتا ہے وہ اس غیر کو اپنا الٰہ (معبود ) سمجھتا ہے اور اس کی عبادت کر رہا ہے ۔‘‘

ایسے لوگ یوسف علیہ السلام نے بارے میں کیا فیصلہ دیں گے ؟کیا معاذاللہ وہ سیدنا یوسف علیہ السلا م کو بھی مشرک اور طاغوت سے کفر نہ کرنے والا کہیں گے ۔(نعوذباللہ من ذلک )

صحابہ کرام اور دربار حبشہ :

اسی طرح اس مسئلہ کی مثال ہمیں عہد نبوی ﷺ سے بھی ملتی ہے :

نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کو کہا جبکہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی (اصحمہ ) اس وقت طاغوت تھا لوگ اسے سجدہ کیا کرتے تھے وہ لوگوں سے اپنے لئے سجدہ کروایا کرتا تھا ،لیکن نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو (ایک طاغوت کے)نجاشی کے زیر سایہ بھیج رہے ہیں رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ اصحمہ نجاشی شاہ حبشہ عادل بادشاہ ہے وہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اس لئے آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔

[مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ،ص: 185،ج:6وقال اسنادہ حسن ]

پھر مشرکین مکہ کا وفد اور مہاجر صحابہ کا فیصلہ نجاشی (طاغوت ) کے دربار میں پہنچتا ہے ۔

[السیر والمغازی لابن اسحٰق،ص:213،السیر النبویۃلابن ہشام،ص:413،ج:1]

اگر طاغوت کے پاس فیصلہ لے جانا علی الاطلاق شرک ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کبھی بھی نجاشی کی عدالت میں نہ جاتے !

قرآن مجید کی اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا معاشرہ میں جب شرعی عدالتیں اور نظام خلافت  وغیرہ کا فقدان ہو تو اپنا جائز حق لینے کے لئے یا ہر مجبوری یا بوقت ضرورت ان عدالتوں سے فیصلہ کروانا جائز ہے یہ ان کی عبادت وبندگی نہیں ۔موجودہ دور میں بسااوقات ایسان کو اپناجائزحق لینے کےلئے ان عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ہی پڑتا ہے ۔

مثلاً: 1857؁ءکی جنگ آزادی میں انگریزوں نے مسلمانوں پر مقدمات قائم کیے جن کی چارہ جوئی کےلئے علماء اہل حدیث اور دیوبند ان عدالتوں میں فیصلہ کروانے کے لئے گئے ۔اسی طرح اگر کسی کی زمین ،مکان پر کوئی ناجائزقابض ہوجائے ،اگر وہ اپنا حق لینے کے لئے ان عدالتوں سے تعاون لیتا ہے تو وہ اس سے شیطان اور طاغوت کا پجاری نہیں بن جاتا ۔




کیا موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع تحاکم الی الطاغوت ہے ؟ ۔ الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

عدالتیں اور ان کا شرعی حکمتحاکم الی الطاغوتکیا موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع تحاکم الی الطاغوت ہے ؟ 

الشیخ ذکاء اللہ السندھی حفظہ اللہ

بعض لوگ سادہ لوح عوام کو یہ تأثر دیتے ہیں کہ جو شخص ان عدالتوں کی طرف رجوع کرتا ہے وہ طاغوت کا پجاری اور شریعت اسلامیہ سے خارج ہے (کیونکہ فیصلہ کروانا عبادت ہے جب اس نے غیر شرعی عدالت سے فیصلہ کروایا گویا اس نے اس کی عبادت کی )حالانکہ ہم اوپر واضح کر آئے ہیں کہ جب سلطہ والی (خود مختار ،اختیارات والی)شرعی عدالتیں موجود نہ ہوں تو اپنے جائز حقوق کے لئے غیر اسلامی عدالتوں سے فیصلہ کروانا نہ صرف جائز ودرست ہے بلکہ انبیاء و صالحین کا طریقہ بھی ہے (جیسا کہ سیدنا یوسف علیہ السلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دربارنجاشی میں پیش ہونا ) ہاں اگر معاشرہ میں بااختیار اسلامی شرعی عدالتیں موجود ہوں اور ان کے مدمقابل غیر شرعی اور غیر اسلامی عدالتیں قائم ہوں تومحض لوٹ کھسوٹ یا اپنے حق میں ناجائز فیصلہ لینے کے لئے اسلامی بااختیار عدالت کو چھوڑ کر ایسی عدالت میں جانا حرام ہے ۔جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساءمیں کیا ہے :

﴿ أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يَزۡعُمُونَ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبۡلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوٓاْ إِلَى ٱلطَّـٰغُوتِ وَقَدۡ أُمِرُوٓاْ أَن يَكۡفُرُواْ بِهِۦ وَيُرِيدُ ٱلشَّيۡطَـٰنُ أَن يُضِلَّهُمۡ ضَلَـٰلاَۢ بَعِيدً۬ا ﴾ 

(النساء:60)

’’ کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھاجو گمان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو تیری طرف نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے چاہتے یہ ہیں کہ آپس کے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا کہ اس کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے انہیں گمراہ کر دے بہت دور کا گمراہ کرنا۔‘‘

آیت کا پس منظر و شان نزول :

اس آیت میں طاغوت سے مراد کاہن یا کعب بن اشرف یہودی ہے جن سے کافر لوگ اپنے فیصلے  کرواتے تھے جیساکہ مشہور تابعی امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں ایک اسلام کے دعویدار آدمی (مسلمان ) اور یہودی کا آپس میں جھگڑاہو گیا ،یہودی نے کہا کہ میں تیرا فیصلہ تیرے دین والوں سے کرواتا ہوں یا کہا کہ تیرے نبی (محمد ﷺ) سےکرواتا ہوں کیونکہ وہ یہودی جانتا تھا کہ نبی ﷺفیصلہ وغیرہ رشوت نہیں لیتے اور برحق فیصلہ کرتےہیں اور فیصلہ کروانے میں ان دونوں کا تنازع ہوگیا پھر وہ دونوں جھینہ قبیلے کے ایک کاہن سے فیصلہ کروانے پر متفق ہو گئے تو تب یہ آیت نازل ہوئی ۔

[تفسیر طبری ،ص:926،ج:3،رقم:9918]

طاغوت سے مراد کعب بن اشرف یہودی:

مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشادامام مجاہد قرآن مجید کی اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’ایک منافق اور ایک یہودی میں جھگڑا ہوگیا تومنافق آدمی نے کہا توہمارے ساتھ کعب بن اشرف کے پاس چل اور یہودی نے کہا :نہیں ،تو ہمارے ساتھ نبی ﷺ کے پاس چل ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔‘‘

[تفسیر طبری ،ص:927-928،ج:3،رقم:9923]

اس آیت کے ترجمہ و پس منظر سے یہ بات معلوم ہوئی :

  • مدینہ میں دو عدالتیں موجود تھیں ،نبی ﷺ کی اور کعب بن اشرف یہودی اور کافر کاہن کی ۔
  • منافق آدمی نے اپنے مفادات کےلئے عدالت نبوی کا انکار کر کے کافروطاغوت کاہن یا یہودی سردار سے فیصلہ کروانا چاہا اسی بناء پر اللہ تعالیٰ ان کی مذمت فرمائی۔

 اور ہر صاحب شعور دین دارآدمی جانتا ہے کہ جو شخص نبوی عدالت کاانکار کر کے کفار کے فیصلہ پر راضی و خوش ہو اس کے کفر میں کیا شک ہو سکتا ہے ۔

  • اگر معاشرے میں بااختیار اسلامی شرعی عدالت نہ ہو اور بندہ کو اپنا جائز حق لینا مطلوب
  • اور اس کے لئے وہ کسی ایسی عدالت میں جاتا ہے تو وہ قطعا آیت بالاکا مصداق نہیں ۔

اور اسی طرح بعض لوگوں کی یہ سوچ ہے :

﴿ أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَـٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَ﴾ ‌ (المائدۃ:50)

اس کے تحت قانون یاسہ سے موجودہ عدالتوں کی طرف رجوع کرنے والوں کو طاغوت کے پجاری قرار دیدیتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اس آیت کی تفسیر بھی سلف صالحین اور معتبر مفسرین سے بیان کردی جائے تاکہ آیت کا مدعاو منشاء کما حقہ واضح ہوجائے جہاں تک قانون یاسہ یا الیاسق کا تعلق ہے اس پر تفصیلی بحث ہم سابقہ صفحات میں کر آئے ہیں اور جہاں تک اس آیت کے منشاءومفہوم کا تعلق ہے تواس کے بارے میں امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمۃاللہ (المتوفی :310ھ)رقمطراز ہیں :

’’یہ یہود جنہوں نے اپنے مقدمے میں آپ ﷺ کو حاکم بنایا اور آپ ﷺنے انکے درمیان فیصلہ کردیا پھر یہ آپ ﷺ کے فیصلے سے راضی نہیں ہوئے توکیا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یعنی بت پرستوں اور مشرکوں کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ انکے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے اور اس میں وہی فیصلہ مذکور ہے جو آپ ﷺ نے انکے درمیان کیا تھا اور یہی حق ہے اور اس کے خلاف کوئی اور فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے ۔

پھر اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو جنہوں نے اپنے اور اپنے دیگر یہودیوں کے خلاف نبیﷺ کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ان کو ڈانٹتے ہوئے اور جہالت عملی طالب قرار دیتے ہوئے ایسے یہودیوں سے فرمایا جوشخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہو اور اس کی ربوبیت پر یقین رکھتا ہواس کے نزدیک اللہ کے حکم اور فیصلے سے بہتر اور کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے اور (مفسرقرآن )امام مجاہد نے بھی ہماری اس تفسیر کے مطابق ہی فرمایا ہے۔‘

[تفسیر طبری ،ص:577،ج:4،تحت ھذاالآیۃ مطبوعہ دار الحدیث القاھرۃ]

امام مجاہد اور امام ابن جریر طبری رحمہما اللہ کی تفسیر سے واضح ہوگیا ہےکہ یہودنے  نبیﷺ سے فیصلہ کروایا جب وہ فیصلہ انکے مفادات کے خلاف آیا توانہوں نے انکار کر دیا جن پر اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا :

﴿ أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَـٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَ‌ ﴾  (المائدۃ:50)

’’کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ‘‘

معلوم ہوا کہ جو آدمی کسی بااختیار شرعی عدالت سے فیصلہ لینےکے بعد اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس شرعی فیصلہ کی خواہش رکھتا ہے ایسا آدمی یقینا جاہلیت کا دلدادہ ہے اور شریعت اسلامیہ کا باغی ہے ۔

مفادات کےلئے کرتا ہے تو ایسا شخص کافر و مرتد نہیں بلکہ فاسق ہے اور اس کے فسق کے درجات فیصلہ اور  اسباب فیصلہ کے پیش نظر مختلف ہوں گے !!




توحید فی الحکم اور حکمرانوں کی تکفیر کے متعلق خوارج کی غلط فہمی کا اذالہ ۔ مولانا طاہر القاسمی فاضل جامعہ بنوریہ کراچی

 توحید فی الحکم اور حکمرانوں کی تکفیر کے متعلق خوارج کی غلط فہمی کا اذالہ

مولانا طاہر القاسمی فاضل جامعہ بنوریہ کراچی


توحید فی الحکم :

’ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاولئک ھم الکافرون‘‘ (النسآء)

اس آیت کی رو سے وہ سب لوگ کافر ہیں جو کہ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کیخلاف فیصلے کرتے ہیں اسی آیت کے ساتھ ملحقہ آیات میں اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں کہ ” ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاولئک ھم الظالمون “ کہ وہ لوگ ظالم (گناہ گار ) ہیں جو کہ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ان سے پوچھا جائے کہ” گناہ گار“ کون ہے اور” کافر یا مشرک“ کون ہے۔

اسکے علاوہ سورہ النساء آیت نمبر 60 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ

’’الم ترالی الذین یزعمون انھم امنو بما انزل الیک و ما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت و قد امروا ان یکفروا بہ و یرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعید‘‘

”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعوی تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ پر اور جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا اس پر ان کا ایمان ہے لیکن اوہ اپنے فیصلے طاغوت کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں، شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ انہیں بہکا کر دور ڈال دے۔

اسکے بعد اللہ تبارک و تعالی آیت نمبر 63سورة النساءمیں ان لوگوں کے ساتھ سلوک کا ذکر کرتے ہیں کہ

’’لئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم فاعرض عنھم و عظھم و فل لہم فی انفسہم قولا بلیغ‘‘

’’ وہ لوگ ہیں کہ اللہ ان کے دلوںکا بھیدخوب جانتا ہے پس آپ ان سے اعراض کریں اور ان کو نصیحت کرتے رہیں اور انہیں وہ بات کہیں جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو‘‘

ان آیات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ ہمیں سمجھانے کا حکم دے رہا ہے اور ان سے منہ موڑنے کا نہ کہ ان کے قتل کرنے کا۔لہذا یہ لوگ (حکمران وغیرہ) منافقین کی صف میں شامل کئے جائیں گے نہ کہ کافروں کی صف میں اور ان کی اصلاح کی جائے گی

افسوس آج قرآن پاک کی اس آیت پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اور اللہ کے اس حکم کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے یہ گمراہ کن گروہ اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کے تحت خود بھی تکفیر کا شکار ہو رہا ہے۔یعنی کیا یہ اللہ کے ہر حکم پر عمل کرتے ہیں کیا ان سے کبھی اللہ سے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی تو اس طرح یہ بھی اللہ کے حکم کی صریحا خلاف ورزی ہے اور اسی طرح نبی کریم جس بات سے منع کرگئے یہ لوگ اسی بات کو سر انجام دینے کے باوجود اپنے آپ کو حق پر ثابت کریں یہ کیسا انصاف ہے اللہ ہمیں حق بات سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔

اور منافقین کو قتل نہ کرنے کی ایک دلیل مسند احمد کی حدیث ہے جس میں صحابہ کرام نے اللہ کے نبی ﷺسے کہا کہ منافق لوگ کفریہ کام کر رہے ہیں ہمیں اجازت دیں کہ ہم ان کاصفایا کر دیں آپ ﷺنے فرمایا:

” اولئک نھانی اللہ عنھم “ کہ یہ (منافقین) وہ لوگ ہیں جن کو قتل کرنے سے اللہ تبارک وتعالی نے مجھے منع کیا ہے۔

محترم بھائیو اس گمراہ کن فرقہ نے جو سب سے بڑی غلطی کھائی وہ یہ ہے کہ ان میں اصلاحی پہلو منقود ہے قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں ’اے نبی ﷺلوگوں کو اللہ کے رستے کی طرف دانائی اور بہترین حکمت عملی کے ذریعے بلاؤ اور ان کے ساتھ احسن انداز میں گفتگو کرو۔ ‘سورة الاعراف آیت نمبر 138

حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ایک میدان سے گزرے تو قوم نے دیکھا کہ لوگ بت کی عبادت کر رہے ہیں تو انہوں نے آپ سے علیہ السلام سے کہا کہ اے موسی ہمارے لئے بھی کوئی بت معبود مقرر کردیں جس طرح ان لوگوں کا بت ہے تو حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے جو بات کہی قرآن نے اس کو یوں نقل کیا ہے ” انکم قوم تجھلون “بے شک تم جاہل قوم ہوحضرت موسی علیہ السلام نے تکفیر کرنے کی بجائے ان کو جاہل کہا ۔

آج بھی لوگ جہالت کی وجہ سے درباروں ، قبور اور فوت شدہ لوگوں سے ہر قسم کی مدد مانگتے ہیں ہمارا فرض انکی اصلاح ہے نہ ان کی تکفیر کرکے ان کے لئے فتنہ بنیں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ

اللھم لا تجعل فتنة للقوم الظلمین

اسی طرح ایک دفعہ آنحضرت ﷺکے ساتھ نئے ایمان لانے والے صحابہ موجود تھے انہوں نے حضور ﷺسے کہا کہ ” اجعل لنا ذات الانواط “ تو آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے موسی علیہ السلام کی قوم والی بات کہی ہے۔ حضور ﷺ نے اصلاحی انداز اختیار کیا۔ اسی طرح طائف کے لوگ جب فتح مکہ کے بعد حضور ﷺکے پاس ایمان لانے اور بیعت کرنے کیلئے آئے تو انہوں نے جملہ عبادات پر عمل نہ کرنے کا اظہار کیا حضور ﷺنے نماز کے علاوہ مصلحت کے تحت وقتی طور پر تمام فرائض چھوڑنے کی اجازت دے دی کہ وہ لوگ آہستہ آہستہ خود اسلام میں اگے بڑھنے پر ان کو اختیار کر لیں گے اور جب انھوں نے کہا کہ ہم نماز ادا نہیں کریں گے تو آپ ﷺنے ان کی اصلاح اس طرح کی کہ ” لاخیر فی دین لاصلاة فیھا “ اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہیں۔

محترم بھائیو ان واقعات میں غور طلب بات یہ ہے کہ موسی علیہ السلام کی قوم ان سے اللہ کی جگہ ایک اور الہ مقرر کرنے کا کہ رہی ہے یہ واضح شرک ہے اسی طرح نبی ﷺکے نئے ایمان لانے والے صحابہ بھی اسی چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن مسلمان کی تکفیر کی بجائے اصلاح کی جا رہی ہے۔

ان بھائیوں کا ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ آپ لوگ اپنے ملک میں ان درباروں کو کیوں نہیں توڑتے یہ اللہ کی بغاوت کے اڈے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اللہ کی بغاوت کے اڈے ہیں لیکن قرآن مصلحت اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایسے واقعات پاکستان میں ہوئے ہیں کہ درباروں کو ڈھایا گیا لیکن اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اھل شرک و بدعت نے ان مقامات کو پہلے سے زیادہ بھرپور انداز میں آباد کیا۔

اللہ تبارک وتعالی نے ہمارے لئے حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کو قرآن میں نمونہ قرار دیا ہے۔آپ امام الموحدین تھے، انکی زندگی کا ایک اہم واقعہ جب کہ انکی قوم میلے پر گئی ہوئی تھی آپ نے جا کر تمام بت توڑے اور ایک سب سے بڑے بت کو چھوڑ کر اس کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا ۔

اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس بت کو بھی توڑ دیتے لیکن انہوں نے مصلحت اور قوم کو سمجھانے کی خاطر ایسا نہ کیا اور جب قوم واپس آئی تو انھوں نے ابراھیم علیہ السلام سے دریافت کیا اور کہا کہ یہ آپ کا کام ہو سکتا ہے۔تو آپ نے جواب دیا کہ اس بڑے بت سے پوچھو جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے۔ قوم والے کہنے لگے کہ یہ نہ تو بولتے ہیں نہ تو سنتے ہیں اور نہ ہی حرکت کر سکتے ہیں۔ یہی چیز حضرت ابراھیم علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھانا چاہتے تھے کہ بت ہمارے کسی طرح سے بھی ہمارے معبود نہیں ہو سکتے

لہذا بات سمجھ میں آئی کہ کبھی کبھی بت نہ توڑنے میں بھی اللہ کے دین کا فائدہ ہو سکتا ہے۔  اس لیے کسی کی برائی دیکھ کر جلد بازی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے اور تب بھی صرف وہی کچھ کرنا چاہیے جس کے ہم مکلف ہیں ۔۔۔ یعنی دعوت و تبلیغ  نبوی منہج کے مطابق ۔۔۔۔

اللہ سے دعا ہے کہ غلبہ دین اسلام کے اس سفر میں ہم سے کچھ خدمت کروا لے زندہ رکھے تو دین اسلام کی خدمت کرتے رہیں اور موت آئے تو شہادت کی افضل موت سے نوازے آمین ۔

وآخر دعونا ان الحمد لللہ رب العالمین

 




آیت تحکیم کے متعلق خوارج کے غلط استدلال کا رد سلف صالحین کی زبانی

آیت تحکیم کے متعلق خوارج کے غلط استدلال کا رد

سلف صالحین کی زبانی

الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے خلاف خروج کرنے والوں نے آئت تحکیم (توحید حاکمیت) کی بنیاد پر تکفیری مہم کا آغاز کیا اور درج ذیل آیات :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ      44؀

کو خود ساختہ مفہوم پہنا کر مسلمانوں کے جان ، مال ، اور عزتوں کو حلال قرار دیدیا  بعنیہ آج بھی بہت سارے لوگ آیت تحکیم کی بنا ء پر امت مسلمہ کے حکمرانوں اور دیگر ذمہ دارنوں کی تکفیر کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن یہاں یہ بات ملحوظ رہے ہمارے مقصد نہ کسی ظالم فاسق کا دفاعکر کے اس کی حوصلہ افزائی یا اس کو گناہ پر جری کرنا نہیں  اور نہ ہی علمی میدان میں کسی مخالف نظریہ والے افراد کی تکفیر کرنا ہے بلکہ محض شرعی نقطہ نگاہ سے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ آیت تحکیم :

کا صحیح مفہوم کیا اور سلف صالحین صحابہ کرام و تابعین و دیگر ائمہ محدثین و مفسریننے اس کا کیا معنی مراد لیا ہے تاکہ ہم نفس مسئلہ کو سمجھنے میں غلطی دے محفوظ رہیں ۔

اس بات پر جمیع سلف صالحین کا اتفاق ہے کہ اس آیت :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ      44؀

کے مطابق فیصلہ کرنا علمی یا مجازی کفر ہے یعنی یہ ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث نہیں بنتا جب تک کہ فاعل (یہ کام کرنے والا) اس فعل کو جائز اور حلال نہ سمجھتا ہو ۔

آیت ہذا کا مفہوم سلف صالحین :

  • سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : وہ فرماتے ہیں یہ وہ کفر نہیں ہے جس طرح یہ لوگ جا رہے کیونکہ یہ وہ کفر نہیں ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دے

‘‘وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ      44؀’’

( المائدہ 44)

آیت میں کفر دون کفر ہے ( یعنی کبیرہ گناہ ) کرنا ہے ۔

( مستدرک حاکم کتاب التفسیر ، تفسیر سورۃ المائدہ ص427 ، ج:2، رقم 3269 )

2۔      سید التابعین عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ علیہ کا فیصلہ :

            یہ ہیں اس سے مراد کفر دون کفر ہے

( تفسیر طبری ص:554، ج: 4 ، رقم 12061)

3۔       سیدنا عبداللہ بن عباس کے شاگرد سیدنا طاؤس کا فیصلہ :

            وہ اس آیت

 ‘‘وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ      44؀’’

کے بارے میں فرماتے ہیں یہ کفر ( کبیرہ گناہ ) ہے اور اللہ تعالی اس کے فرشتوں اور کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر جیسا نہیں ۔

( تفسیر طبری ، ص: 554 ، ج:4، رقم : 12067)

بقیہ اثر ابن عباس

تفسیر ابن عباس رضی  اللہ عنہ کی تصحیح کرنے والے ائمہ و مفسرین رحمھم اللہ

  • امام حاکم فی المستدرک ، صفحہ : 427 ، ج: 2
  • امام ذھبی فی تلخیص المستدرک ، ص : 427، ج : 2، تحت رقم : 3269
  • محمد بن نصر المووزی ( تعظیم قدر الصلاۃ ، ص: 520،ج: 2
  • امام قرطبی ۔ الجامع لاحکام القرآن ، ص124، ج: 2، افرای ، ص190،ج:6
  • امام ابو امظفر المعانی فی تفسیرہ ، ص :42، ج: 2
  • اما م بغوی فی معالم التنزیل ، ص: 276،ج:2
  • امام ابو بکر ابن العرابی المالکی فی ، احکام القرآن ، ص:624، ج: 2
  • ابو عبیدہ القاسم بن سلام فی ‘‘ الایمان ’’ ، ص45
  • ابن عبدالبر فی التمہید ، ص: 74، ج: 5 ، افرای ، ص: 237، ج: 4
  • ابن تیمیہ ، مجموعہ الفتاوی ، ص: 312، ج: 7
  • ابن القیم فی ، مدرج الساکس ، ص : 33
  • ابن بطۃ فی ، الابانۃ ، ص: 723، ج : 2
  • احمد شاکر و محمود محدث شاکر ، عمدۃ التفایر ، ص: 602-603 ، ج: 1
  • الواحد ی فی لواسط ، ص: 191، ج: 2
  • امام بقا عی فی نظم لددر ، ص:492، ج:3
  • تفسیر خازن ، ص؛ 276، ج:2
  • ابو حیان فی البحر الحبط ، ص: 492، ج: 3
  • نواب صدیق حسن خان فی نیل الرام ، ص: 472، ج :2
  • تفسیر سعدی ، ص: 296، ج: 2
  • محمد امین الشنقطی فی الضواء البیان ، ص: 101،ج: 2
  • الشیخ ناصرلدین لالبانی ، سلسلۃ الصحیحہ ، ص: 109، ج: 62

وغیرہ ذالک

  • امام احمد بن حنبل کا فیصلہ : امام اسماعیل بن سعد فرماتے ہیں نے امام احمد سے سوال کیا کہ اس آیت :

‘‘وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ      44؀’’

سے کون سا کفر مراد ہے امام احمد رحمہ اللہ عنہ فرمایا ایسا کفر جو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتا ۔

( سوالا ت ابن ھانی ، ص: 192،ج:2)

اسی امام ابو داؤد السجستانی ( صاحب سنن ابی داؤد ) نے جب امام احمد رحمہ اللہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا کہ اس سے کون سا کفر مراد ہے تو انہوں نے امام عطاء اور امام طاؤس کے قول کے مطابق جواب دیا یعنی وہ کفر مراد ہے جو دائزہ اسلام سے خارج نہیں کرتا ۔

( سوا لات ابی داؤد  ( عن احمد ) ص :114 )

  • امام محمد بن نصروری نے بھی یہی معنی بیان کیا ہے دیکھئے : تعظیم قدرالصلاۃ ، ص: 520، ج: 2 )
  • امام ابن جریر الطبری المتودی 310ھ
  • ابن بطہ العکبری التوفی 387؁ھ نے اپنی کتاب ابانہ میں ابب قائم کیا ہے ان گناہوں کا بیان جن کا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا او کے تحت مسئلہ الحکم بغیر ماانزل اللہ کو بیان کیا اور  پھر اس کی تائید میں صحابہ کرام و تابعین کے اقوال نقل کر کے ثابت کیا اس سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا گناہ نہیں ۔ ( الابانۃ ، ص: 723 ، ج  : 2)
  • امام ابن عبدالبر شارح مؤطا اما م مالک : المتوفی 463؁ھ وہ بھی فرماتے ہیں اس سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر نہیں ۔ ( التمھید لابن عبداللہ ، ص: 75، ج :5)
  • امام سمعانی المتوفی 510؁ھ کا فیصلہ : انہوں نے بھی معنی بیان کیا ہے دیکھیے ان کی تفسیر ۔ ( ص: 42،ج: 2)
  • امام ابن تیمیہ : دیکھئے ( مجموعہ الفتاوی ، ص: 254، ج: 7)
  • امام محمد بن قیم الجوزی المتوفی 751؁ھ : مدارج السالکین ،ص: 336، ج:1
  • امام ابن کثیر المتوفی 774؁ھ ( تفسیر ابن کثیر )
  • امام ابن ابی العزالحنفی المتوفی 791؁ھ ( شرح عقیدہ الطاویہ ، ص:323)
  • شارح بخاری امام ابن حجر العسقلانی المتوفی 850؁ھ ( فتح الباری  ،ص:120،ج:13)
  • امام فخر الدین الرازی المتوفی           ؁ ( تفسیر کبیر  ، ص 5-6 جزء 12)
  • امام شاطبی المتوفی 790؁ ھ ( الاعتسام لشاطبی ،ص:692،ج:2)
  • سید معین الدیں محمد بن عبدالرحمن المتوفی 894؁ ھ ( جامع البیان فی تفسیر القرآن ، ص: 247-248)
  • جما ل الدین القاسمی المتوفی 1333؁ ھ ( تفسیر قاسمی )
  • قاضی ثناء اللہ پانی پتی الحنفی المتوفی 1393؁ھ ( تفسیر المظھری ، ص:118، ج:3)
  • نواب صدیق الحسن المتوفی 1357؁ ھ ( الدین الخالص ، ص: 28، جلد:3 ، طبع داراکتب العلمیہ بیروت )
  • محمد امین الشنقطی المتوفی 1393؁ھ ( رضواء البیان ، ص: 104، ج:2)
  • پیر بدیع الدین شاہ رشدی السندھی المتوفی 1416؁ھ : ( بدیع التفاسیر ، ص238، ج: 7، طبع جنوری 1998؁ھ)

اس کے علاوہ عرب علماء اور دیگر متقد مین و متاخرین کو جمع کیا جو طویل فہرست تیار ہو سکتی ہے  لیکن ہمارا مقصود تمام علماء سلف کا احاطہ نہیں بلکہ سلف سالحین کے موقف کو بالترتیب واضح کرنا ہے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس اایت تفسیر میں سلف صالحین مطلق طور سے ارتداد مراد  نہیں لیتے بلکہ اس سے ان کی مراد کبیرہ گناہ ہے ۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین