مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی مذمت

مسلمانوں پر ہتیار اٹھانے کا حکم 4

مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کا حکم

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

شریعت اسلامیہ ایک مسلم  کو زندگی کے ہر موڑ پر   رہنمائی میسر کرتی ہے۔اور وہ چیزیں کہ جن کے وجہ سے ایک مسلم رب کی معصیت کا ارتکاب کر بیٹھے، ان چیزوں کو بیان کرتے ہوئے سختی کے ساتھ ان سے روکتی ہے اور ان چیزوں پر عمل پیرا شخص کو سخت وعیدیں سناتی ہے۔اسی لئے محدثین کی اصطلاح میں اس عمل کو “سد الذرائع” کا نام دیا گیا ہے ۔

چنانچہ اسی طرح کے معاملات میں سے ایک کسی مسلم کی طرف مذاقاً  ہتھیار  اٹھانا ہے ۔اسی لئے شریعت اسلامیہ نے اس سے سختی سے روکاہے۔چنانچہ نبی کریمﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

” لا يشير أحدکم إلی أخيه بالسلاح فإنه لا يدري أحدکم لعل الشيطان ينزع في يده فيقع في حفرة من النار”

تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید کہ شیطان اس کے ہاتھ سے اسلحہ چلوا دے اور پھر وہ دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔

 صحیح المسلم، کتاب البرواصلۃ والآداب، باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی مسمل، رقم الحدیث 126 (2617)،(4/20)

یہاں اِستعارے کی زبان میں بات کی گئی ہے یعنی ممکن ہے کہ ہتھیار کا اشارہ کرتے ہی وہ شخص طیش میں آجائے اور غصہ میں بے قابو ہو کر اسے چلا دے۔ چنانچہ اس عمل کی مذمت اور قباحت بیان کرنے کے لئے اسے شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے تاکہ لوگ اِسے شیطانی فعل سمجھیں اور اس سے باز رہیں۔

اسی طرح ایک اور جگہ پر اس عمل کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

“من حمل علينا السلاح فليس منا”

جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایا تو وہ ہم میں سے(یعنی سنت پر عمل پیرا لوگوں میں سے)نہیں۔

(سنن ابن ماجہ،باب من شھرالسلاح)

یہاں ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ اس اسلحہ اٹھانے سے مراد قتال کیلئے اسلحہ اٹھانا ہے  نہ کہ اپنےاور دوسروں کے  دفاع کیلئے اسلحہ اٹھانا جیسا کہ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتا ب”فتح الباری “میں لکھتے ہیں:

“المراد من حمل عليهم السلاح لقتالهم لما فيه من إدخال الرعب عليهم لا من حمله لحراستهم مثلا فأنه يحمله لهم لا عليهم”

“من حمل عليهم السلاح”  سے مراد آدمی پر اس کو قتل کرنے یا اس پر رعب ڈالنے کی غرض سے اسلحہ اٹھانا ہے جبکہ اپنے یا دوسروں کے دفاع میں اسلحہ اٹھا نے والا اس وعید میں شامل نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ ان کیلئے اسلحہ اٹھا رہا ہے نہ کہ ان پر اسلحہ اٹھا رہا ہے(یعنی اسلحہ وہ اپنے لوگوں پر نہیں اٹھارہا بلکہ اپنے آپ اور اپنے لوگوں پرحملہ آور  شخص جو کہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ،کے خلاف اٹھا رہا ہے)

سلاح (ہتھیار) ہر وہ ہتھیار ہے جو جنگ میں مارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے نیزہ، تلوار، بندوق، پستول، کلاشنکوف، خنجر وغیرہ لہٰذا ان سے کسی مسلمان بھائی (اور اسی طرح اسلامی مملکت میں رہنے والے ذمی) کو ڈرانا حرام ہےچاہے وہ بالقصدہو  یا مذاق کے طور پرکیونکہ  ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اشارہ کرنا نہایت خطرناک ہے، ہوسکتا ہےکہ شیطان وہ ہتھیار اس سے غیرارادی طور پر چلوا دے اورسامنے والا شخص قتل ہوجائے اور یہ شخص اس وجہ سے جہنمی بن جائے۔ لیکن بدقسمتی سے اسلام کی اس تعلیم کے برعکس آج کل ہتھیار کی نمائش اور اس کا بےجا استعمال بہت عام ہوگیا ہےچنانچہ خوشی کے موقعے پر ہوائی فائرنگ کا بھی رواج بڑھتا جارہا ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور اس کی نقصانات بھی آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔والعیاذ باللہ العظیم

اسی طرح ایک اور جگہ پر نبیﷺ نے  یہ الفاظ ارشاد فرمائے:

“من سل علينا السيف فلیس منا”

جس نے کسی مسلم پر تلوار اٹھائی تو وہ ہم میں سے نہیں۔ 

 (مسلم،باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا إله إلا الله،ح:162)

اسی طرح ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:

“مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّه”

جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔

(صحیح المسلم، کتاب البرواصلۃ والآداب، باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی مسلم ، رقم الحدیث 125 (2616)، 3/2020)

نبی کریمﷺکے ارشاد گرامی“وان کان اخاہ لابیہ وامہ” (اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو)سے مقصود یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا منع ہے، خواہ اس شخص کے اس کے گھریلو تعلقات ہوں اور اچھا خاصا مذاق ہو۔

علاوہ ازیں ایسے اشارہ کرنے والے پر فرشتوں کی لعنت کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا اشارہ کرنا حرام ہے۔           

(شرح النووی: 16/ 170)

چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ریاض الصالحین میں مذکورہ بالا دونوں حدیثوں پر درج ذیل عنوان قائم کیا ہے:

مسلمان کی طرف ہتھیار وغیرہ سے اشارہ کرنے کی ممانعت، اشارہ خواہ مذاق سے ہو یا سنجیدگی سے، نیز بے نیام تلوار کو ہاتھ میں لینے کی ممانعت۔    

(ریاض الصالحین ص520)

آپ غور کیجئے کہ جب کسی مسلم کی طرف مذاقاً ہتھیار اتھانے کی اتنی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور اس گناہ کے مرتکب شخص کواتنی سخت وعید سنائی گئی ہے تو کسی مسلمان کو اذیت دینا، یا اس کی پٹائی کرنا، یا اس کو زخمی کرنا، یا اس کو قتل کرنا اللہ تعالی کے ہاں کس قدر سنگيں جرم ہوگا-

اسی طرح نبیﷺ نے صرف کسی دوسرے پر اسلحہ اٹھانے سے ہی نہیں بلکہ عمومی حالات میں بھی اسلحہ کی نمائش  کو ممنوع قرار دیا۔چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:

“نَهَی رَسُولُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا”

رسول اکرم ﷺ نے ننگی تلوار لینے دینے (یعنی پکڑانے سے) منع فرمایا۔

(ترمذي، کتاب الفتن، باب ما جاء في النهي عن تعاطي السيف مسلولا، 4 : 464، رقم: 21632)

ننگی تلوار کے لینے دینے میں جہاں زخمی ہونے کا احتمال ہوتا ہے وہاں اسلحہ کی نمائش سے اشتعال انگیزی کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ دین اسلام  کا خیر و عافیت اور مذہب امن و سلامتی ہونے کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نےکھلم کھلااسلحہ کی نمائش پر پابندی لگا دی، تاکہ اسلامی معاشرہ امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے ۔ اسی طرح مذکورہ حدیث میں لفظ “مَسْلُول” اس اَمر کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ریاست کے جن اداروں کے لیے اسلحہ ناگزیر ہو وہ بھی اس کو غلط استعمال سے بچانے کے لیے انتظامات کریں۔

درج بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ جب اسلحہ کی نمائش، دکھاوا اور دوسروں کی طرف اس سے اشارہ کرنا سخت منع ہے جبکہ مسلم معاشروں میں اسلحہ لہراتے ہوئے اسلام کے نفاذ کے نام پر آتشیں گولہ و بارود سے مخلوق خدا کے جان و مال کو تلف کرنا کتنا قبیح عمل اور ظلم ہوگا! اور یاد رہے تاریخ اسلامی میں یہ طریقہ ہمیشہ سے خوارج کا رہا ہےکہ وہ کسی مسلم کو قتل کرنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے۔چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ داعش اور تحریک طالبان پاکستان  کے لوگ کسی بھی مسلمان کو قتل کرنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے اور اسی پر بس نہیں بلکہ وہ ان کوکافر قرار دینے کے بعد قتل کرنا  ضروری اور فرض سمجھتے ہیں ۔




لا علمی میں کفر نہیں" ۔ صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں سے مسئلہ تکفیر کی وضاحت"الشیخ ابو جمیل السوری

“لا علمی میں کفر نہیں” 

صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں سے مسئلہ تکفیر کی وضاحت

الشیخ ابو جمیل السوری 

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد!

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ

(الاحزاب : 21)

” البتہ تحقیق تمہارے لئے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے بہترین نمونہ ہے ، اس کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے ۔ ”

اصل بات یہ ہے کہ جس شخص نے کلمہ طیبہ کا اقرار کیا ہے وہ مسلمان ہے اور اس پر تمام مسلمانوں والے احکامات لاگو ہوں گے البتہ کچھ ایسے افعال اعمال ، اعتقادات و نظریات بھی ہیں جن کی وجہ سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے لیکن اس کا فیصلہ اتنا آسان یا معمولی نہیں کہ بس جیسے ہی ہم بظاہر کسی سے کوئی کفریہ بات یا فعل کا ارتکاب ہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے اور اس پر اصلی کفار والے تمام احکامات جاری کر دیے جائیں ۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ اس کے کچھ اصول و ضوابط ہیں اور کچھ موانع ہیں جن کو مد نظر رکھنا بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔انہی موانع میں سے ایک مانع جہالت ہے جس کی کچھ مثالیں دے کر سمجھایا جائے گا ۔

رسول اللہ ﷺ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں بہترین نمونہ ہیں تمام زندگی کے معاملات میں ہم ان سے رہنمائی لینے کی کوشش کرتے ہیں دعوت و تبلیغ کے حوالے ہم نبوی منہج کو دیکھیں تو ہمارے سامنےتربیت و اصلاح والا پہلو ہی نمایاں نظر آتا ہے حتی کہ کسی مسلمان سے کوئی کفریہ بات یا عمل سرزد ہو گیا تب بھی آپ ﷺ نے اس کی اصلاح کی ہے اس پر کفر کا فتویٰ  لگا کر اس کو کفار کی صف میں شامل نہیں کیا  ۔بطور مثال مندرجہ ذیل واقعات پر غور کریں :

ام المؤمنین سیدہ عائشہ﷞ کا نبی کریم ﷺ سے ایک سوال 

سیدہ عائشہ ﷞ سے ایک حدیث یوں مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں :

 جس رات کی میری باری تھی آپ ﷺ نے اپنی چادر اوڑھ لی اور دونوں جوتے اتارے اور انہیں اپنے پاؤں کے پاس رکھ لیا اور اپنے بستر پر اپنے تہہ بند کا پلو بچھا دیا اور لپٹ گئے جب تھوڑی ہی دیر گزری کہ آپ ﷺ نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں آپ نے آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے پھر دروازہ آہستہ سے بند کر دیا ، میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہن لیا پھر آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑی ، یہاں تک کہ آپ بقیع میں آئے ، کھڑے ہو گئے اور لمبا قیام کیا پھر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو اٹھایا پھر آپ واپس لوٹے ، میں بھی واپس لوٹی ، آپ تیز چلے میں بھی تیز چلی ، آپ ﷺ دوڑے میں بھی دوڑی ، آپ ﷺ پہنچے تو میں بھی پہنچ گئی ، میں آپ ﷺ سے سبقت لے گئی ۔

میں گھر میں داخل ہوئی ، میں ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ ﷺ اندر تشریف لے آئے ۔ فرمایا : اے عائش! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تیرا سانس پھول رہا ہے ؟

میں نے کہا : یا رسول اللہ ، کوئی کچھ نہیں ۔ فرمایا: تم مجھے بتا دو ، ورنہ مجھے باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا بتا دے گا ۔

 میں نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ پھر پورے قصے کی میں نے آپ کو خبر دی ، فرمایا : تم وہ سایہ تھی جو میں اپنے آگے آگے دیکھ رہا تھا ۔ میں نے کہا : ہاں ۔

آپ ﷺ نے میری پشت پر کچوکا مارا جس کی مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا : کیا تو سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا ۔ کہنے لگیں :

” مهما يكتم الناس يعلمه الله ؟ “

جب لوگ کچھ چھپا لیتے ہیں تو اللہ اس کو جانتا ہے ؟

  فرمایا: ہاں ، جبرئیل ﷤ میرے پاس آئے تھے جس وقت تو نے دیکھا تو مجھے پکارا اور تجھ سے اسے چھپایا تو میں نے اس کی بات قبول کی اور تجھ سے چھپایا اور وہ تیرے پاس اس لئے نہیں آئے تھے کہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی اور میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے ، سو میں نے تجھے جگانا پسند نہ کیا اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ تم گھبرا جاؤ گی ۔

جبرئیل ﷤ نے کہا : بلا شبہ تیرا رب تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اہل بقیع والوں کے ہاں آئے اور ان کے لئے استغفار کرے ، کہنے لگیں : یا رسول اللہ میں کس طرح کہوں ؟ فرمایا : تم کہو : 

” السلام على اهل الديار من المؤمنين والمسلمين ويرحم الله المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء الله للاحقون ” 

[مسند احمد : 6/221 ، ونسخۃ اخری 43/43-45 (25855) ، صحیح مسلم کتاب الجنائز باب ما یقول عند دخول القبور والدعاء لأھلھا : 103/974 ، سنن النسائی (2037) ، نسائی کبری ( 2164 ، 7685 ، 8912 ) المصنف لعبد الرزاق : 3/570 ]

امام ابن  تیمیہ فرماتے ہیں :

فهذه عائشة أم المؤمنين سألت النبى صلى الله عليه وسلم هل يعلم الله كل ما يكتم الناس ؟ فقال لها النبى صلى الله عليه وسلم : “نعم” وهذا يدل على أنها لم تكن تعلم ذلك ولم تكن قبل معرفتها بأن الله عالم بكل شىء يكتمه الناس كافرة . 

[مجموع الفتاوی لابن تیمیہ : 11/412-413]

” یہ عائشہ ام المؤمنین ﷞ ہیں جنہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا : کیا جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالی اسے جانتا ہے ؟ تو نبی ﷺ نے ان سے کہا : ہاں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ یہ بات نہیں جانتی تھیں اور اس بات کی معرفت سے قبل کہ اللہ تعالی ہر اس چیز کو جانتا ہے جو لوگ چھپاتے ہیں ، وہ کافرہ نہ تھیں ۔ “

ذات انواط والا قصہ

نبی کریم ﷺ غزوہ حنین سے واپس آرہے تھے راستے میں مشرکین کی ایک بیری (کے درخت ) جسے وہ ’’ ذات انواط‘‘  کہتے تھے (اور اس کو متبر ک سمجھتے تھے ) کے پاس سے گزرے تو بعض نئے نئےمسلمان ہونے والے (یعنی دین کے مسئلے میں لا علم) صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی:

 یا رسول اللہ ﷺ اجعل لنا ذات انواط کمالھم ذات انواط

’’ہمارے لئے بھی ایک ذات انواط ( بیری کا درخت) مقرر کر دیجئے جس طرح ان کے پاس ایک ذات انواط ہے۔‘‘

آپ ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا :

تم نے مجھ سے وہی مطالبہ کیا ہے جو قوم موسیٰ نے سیدناموسیٰ علیہ السلام سے  کہا تھا:

اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ  

’’ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کر دیجئے جس طرح ان کے پاس ایک معبود ہے‘‘

توموسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: انکم قوم تجھلون

’’تم ایک جاہل قوم ہو۔‘‘

( جامع الترمذی ,مسند احمد )

غور کیجئے ! اللہ رب العالمین کے مقابلہ میں نئے الٰہ کا مطالبہ بغاوت و شرک ہے یا نہیں ؟ نبیﷺ نےان کی اصلاح فرمائی تربیت کی یا ان پر فتویٰ کفر داغ کر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا؟

ایک صحابی نے زنا کی اجازت مانگی

اسلام میں نہ صرف زنا حرام ہے بلکہ زنا کے قریب جانا بھی حرام ہے لیکن ایک نوجوان صحابی نبی ﷺ کے پاس آیا ۔ اور آکر عرض کیا۔ مجھے زنا کی اجازت دیجئے!

آپ ﷺنے فرمایا  :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری بہن کے ساتھ کو ئی بد کاری کرے ؟

اس نے کہا : نہیں !

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری بیٹی کے ساتھ کوئی منہ کالا کر ے ؟

اس نے کہا :نہیں!

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری ماں کے ساتھ کوئی حرام کاری کرے ؟

اس نے کہا :نہیں !

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری خالہ کے ساتھ کوئی زنا کرے ؟

اس نے کہا: نہیں!

آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری پھوپھی کے ساتھ کوئی بدکاری کرے ؟

اس نے کہا: نہیں!

پھر آپ ﷺ نے اسے اپنےقریب  کیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعاکی:

اللھم اغفر ذنبہ و طھر قلبہ و حصن فرجہ 

’’اے اللہ اس بندے کے گناہ معاف کر دے اور اس کے دل کو پاک و صاف کر دے اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت فرما ۔ ‘‘

صحابہ کرام بیان فرماتے ہیں:

اس کے بعد اس کو گلی کو چوں میں کبھی نظر اونچی کرکے چلتا ہوا نہیں دیکھا گیا ۔اللہ اکبر 

( مسند احمد, طبرانی سلسلہ صحیحہ )

ماشاء اللہ وشئت والا قصہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

( أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشِئْتَ، أَجَعَلْتَنِي وَاللهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ)

(عمل الیوم و اللیلۃ للنسائی، ح:988 و مسند احمد:1/ 214)

“ایک آدمی نے نبی ﷺسے کہا: “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ”(وہی ہوگا جو اللہ تعالی اور آپ چاہیں)تو آپ نے فرمایا: تو نے مجھے اللہ تعالی کا شریک ٹھہرادیا ؟ صرف اتنا کہو “مَا شَاءَ اللَّهُ” “وہی ہو گا جو اللہ تعالی چاہے گا۔” 

ایک اور روایت میں اس طرح سے مروی ہے :

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے مادری بھائی طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

رأيت كأني أتيت على نفر من اليهود، فقلت: إنكم لأنتم القوم، لولا أنكم تقولون: عزير ابن الله. قالوا: وإنكم لأنتم القوم لولا أنكم تقولون: ما شاء الله وشاء محمد.

ثم مررت بنفر من النصارى فقلت: إنكم لأنتم القوم، لولا أنكم تقولون: المسيح ابن الله، قالوا: وإنكم لأنتم القوم، لولا أنكم تقولون: ما شاء الله وشاء محمد.

فلما أصبحت أخبرت بها من أخبرت، ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته. قال: (هل أخبرت بها أحداً؟) قلت: نعم. قال: فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال:

(أما بعد؛ فإن طفيلاً رأى رؤيا، أخبر بها من أخبر منكم، وإنكم قلتم كلمة كان يمنعني كذا وكذا أن أنهاكم عنها. فلا تقولوا: ما شاء الله وشاء محمد، ولكن قولوا: ما شاء الله وحده)

(سنن ابن ماجہ، الکفارات، باب النھی ان یقال ماشاء اللہ وشئت، ح:2118 و مسند احمد:5/ 72)

“میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرا گزر یہود کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا ۔ میں نے ان سے کہا : تم اچھے لوگ ہو اگر تم عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالی کا بیٹا نہ کہو، تو انہوں نے جوابا کہا: تم بھی اچھے ہو اگر تم “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِاءَ مُحَمَّدٌ” (وہی ہو گا جو اللہ تعالی اور محمد ﷺچاہیں) نہ کہو،

اس کے بعد میرا گزر عیسائیوں کے ایک گروہ کے پاس سے ہوا ۔ میں نے ان سے کہا: تم اچھے لوگ ہو اگر تم مسیح (عیسی علیہ السلام )کو اللہ تعالی کا بیٹا نہ کہو۔ انہوں نے جوابا کہا: تم بھی اگر “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِاءَ مُحَمَّدٌ”نہ کہو تو بہت اچھے ہو۔

صبح ہوئی تو میں نے کچھ لوگوں سے اس خواب کا تذکرہ کیا۔ پھر نبی (ﷺ) کی خدمت میں آکر آپ سے ساری بات بیان کی۔ آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا تم نے اس خواب کا کسی سے ذکر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔

آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: امابعد! طفیل نے خواب دیکھا ہے اور اس نے تم میں سے بعض لوگوں کے سامنے اس کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ تم ایک جملہ بولا کرتے ہو، تمہیں اس سے روکنے میں مجھے ہچکچاہٹ رہی۔ تم “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِاءَ مُحَمَّدٌ”(وہی ہو گا جو اللہ تعالی اور محمد(ﷺ) چاہیں) نہ کہا کرو بلکہ صرف “مَا شَاءَ اللَّهُ” (وہی ہو گا جو اللہ تعالی چاہے)کہا کرو۔”

ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

( أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشِئْتَ، أَجَعَلْتَنِي وَاللهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ)

(عمل الیوم و اللیلۃ للنسائی، ح:988 و مسند احمد:1/ 214)

“ایک آدمی نے نبی ﷺسے کہا: “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ”(وہی ہوگا جو اللہ تعالی اور آپ چاہیں)تو آپ نے فرمایا: تو نے مجھے اللہ تعالی کا شریک ٹھہرادیا ؟ صرف اتنا کہو “مَا شَاءَ اللَّهُ “وہی ہو گا جو اللہ تعالی چاہے گا۔” 

حضرت معاذ بن جبل ﷜ کا رسول اللہ ﷺ کو سجدہ کرنا

اسی طرح معاذبن جبل ﷜ عنہ نے نبی کریمﷺ کو سجدہ کر دیا، تو آپ ﷺ نےکہا :

ما هذا يا معاذ ؟ 

 ’’اے معاذ!  یہ کیا ہے ؟‘‘ تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ، میں نے شام میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سرداروں اور بڑوں کو سجدہ کرتے اور اس کے لئے (بطور دلیل) اپنے انبیاء کا تذکرہ کرتے، تو آپﷺ نے فرمایا :

يا معاذ، لو أمرت أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها من عظم حقه عليها

’’اے معاذ ! اگر میں کسی کے لئے کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ،اس کے اس پر عظیم حق ہونے کی وجہ سے ۔‘‘

اور آپ ﷺ نے فرمایا : يا معاذ، أرأيت لو مررت بقبري أكنت ساجدًا لقبري، قال: لا. قال: فإنه لا يصلح السجود إلا لله. أو كما قال.

’’اے معاذ! تیرا کیا خیال ہے اگر تو میری قبر سے گزرے ، تو کیا تم میری قبر کو سجدہ کرو گے؟  انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : یقیناً سجدے کسی کے لئے بھی درست نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے ‘‘

حاصل کلام 

صحابہ کرام اور صحابیات رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ان سب واقعات پر غور کریں ! پہلے اور دوسرے واقعہ میں بعض لوگوں سےایک شرکیہ بات کا صدور ہوا لیکن نبی ﷺ نے ان کی اصلاح فرمائی تیسرے میں ایک حرام عمل کی اجازت طلب کرنے پر آپ ﷺ نے فطری انداز سے اصلاح تو فرمائی لیکن تکفیر وتفسیق کا پہلو اختیا رکرنے میں اجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا جس طرح آج کل ہمارے معاشرے میں رائج ہے ۔

ان احادیث و واقعات سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حجت قائم کرنے سے قبل کسی کو کافر قرار دینا جائز نہیں ۔ اگر شرعی علوم سے ناواقف اور جاہل سے تو پہلے اس کی جہالت کا ازالہ کیا جائے گا اور اس کے شکوک و شبہات کو رفع کیا جائے گا پھر بھی اگر وہ باطل پر مُصِر اور کفر پر قائم رہتا ہے اور عناد و سرکشی کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کو رد کرتا ہے تو وہ کافر ہو جائے گا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم 




خوارج جہنمی کتے کیوں؟

خوارج جہنمی کتے کیوں؟

 

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گندے اور قبیح اعمال و عقائد کو دین سے منسوب کر کے رب کائنات کے پسندیدہ دین کے اسلامی چہرے کو  بگاڑنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔۔۔۔  

تاریخ میں کبھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ ان خوارج نے مسلمانوں کی حق میں کوئی قدام کیا ہو ہمیشہ سے انہوں نے ایسے ہی کام کیے ہیں جن سے کفار کے منصوبے پورے ہوئے ان خوارج نے کفارٍ کے سینے ٹھنڈے کیے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ و روس کو مارپڑنے کے بعد اب یہی خوارج ان کے عزائم کو مزید آگے لے کر چل رہے ہیں ۔

ہمارے پیارے پیغمبر رحمۃ للعالمین نے تو اس دین کو ایسے پیش ہی نہیں کیا ۔۔۔۔ وہ اپنو ں تو کجا غیروں سے بھی نرمی ، پیار ، اچھے اخلاق اور رویے اپنا نے کا درس دیتے رہے ۔۔۔ساری زندگی لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے اور اصلاح کرتے ، ایمان کو پختہ کرتے رہے ۔۔۔۔کئی مصائب و تکالیف کا سامنا کیا  لیکن دنیا کو نمونہ دکھایا کہ کسی کا دل کیسے جیتا جا سکتا ، اسے اپنا کیسے بنایا جا سکتا ہے ، اسے اپنے قریب کیسے کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔

کج فہمی 

امام آجری رحمہ اللہ اپنی کتاب ” الشریعۃ” میں رقمطراز ہیں :

حضرت ابو غالب بیان کرتے ہیں کہ میں شام تھا اور میرے ساتھ صحابی رسول ﷺ صدی بن عجلان ابو امامہ رضی اللہ عنہ میرے دوست بھی تھے ، تو حروریہ (یعنی خوارج ) کے سرداروں کے پاس آئے ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر خوارج کے سرداروں کی طرف متوجہ ہوئے تو یہ تابعی کہتے ہیں : میں ضرور اس (صحابی رسول ﷺ ) کی ضرور پیچھے چلوں گا حتی کہ میں سن لوں جو وہ کہتے ہیں ، کہتے ہیں پھر میں ان کے پیچھے چلا حتی کہ وہ ایک جگہ ٹھہر کر رونے لگے اور فرمایا :

جہنمیوں کے کتے ، جہنمی کتے ، جہنمی کتے تین مرتبہ کہا۔

پھر فرمایا :

یہ بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سائے تلے قتل ہوتے ہیں اور وہ بہترین مقتول ہیں جو ان خوارج کے ہاتھوں شہید ہوتے ہیں۔

پھر یہ آیت تلاوت فرمائی :

{هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله وما يعلم تأويله إلا الله}

[آل عمران: ٧]

“وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری ، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں ، ہی کتا ب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں ، پھر جن لوگوں کے دولوں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں ، فتنے کی تلاش کے لئے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لئے اور ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر  اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے ، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں ۔ “

اور امت کو یہ درس دیا کہ یہ خوارج ٹیڑھی سوچ کے مالک مسلمانوں میں فساد پیدا کرتے ہیں ، کس قدر انہوں نے امت کا نقصان کیا ہے۔  

[الشريعة للآجري: 1/٣٦٨ (٥٩)]

انہی خوارج کے قبیح اور اسلامی چہرے کو مسخ کرنے والے عقائد و اعمال کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے :

” خوارج جہنم کے کتے ہیں ”

پہلے ہم اس حدیث مبارکہ کو بحوالہ ذکر کریں گے پھر اس کے معنی و مفہوم پر بات کریں گے ۔ ان شاء اللہ

عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ )

[ابن ماجة (173) ، ومسند أحمد (19130) والترمذي (3000) من حديث أبي أمامة رضي الله عنه اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے “صحيح ابن ماجة”  میں “صحیح ” اور اسی طرح صحيح الترمذي میں ” حسن صحیح ” کہا ہے ۔]

حضرت ابن  ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” خوارج جہنم کے کتے ہیں “

اس میں کچھ مزید الفاظ بھی ملتے جو کہ درج ذیل ہیں :

عن أبي أمامة رضي الله عنه كلاب أهل النار 

[ وأخرج ابن ماجة أيضًا وغيره ( 176) ترقيم الألباني وحسنه ، أخرج الحاكم وغيره(2654) ( 2/147) وصححه على شرط الشيخين ]

ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :  یہ جہنمیوں  کے کتے ہیں .

امام ابن الجوزی رحمہ اللہ خوارج کی شدید مذمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

عن عبدالله بن أبي أوفى قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “الخوارج كلاب أهل النار

(تلبيس إبليس: ص96 )

عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بیان کرتے  ہوئے سنا : ” خوارج جہنم والوں  کے کتے ہیں ۔ “

معنی و مفہوم :

جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے واضح ہے کہ رب کائنات خوارج کو بطور سزا جہنم کے کتے بنا دے گا،  اب اس کے ظاہری الفاظ کو دیکھتے ہوئے مطلب یہ ہے کہ کتے کی شکل و صورت میں بنا دیے جائیں  اور یہ بھی ممکن ہے کہ کتے کی بعض صفات پر بن جائیں یا انہیں اس جانور سے مشابہ بنا دیا جائے ۔۔۔ اور بلا شبہ یہ خوارج دنیا میں بھی کفار کے عزائم کو پورا کرتے ہوئے ان کی نوکری کرتے  ہیں لہذا روز قیامت بھی ان کو یہی سزا دی جائے گی ۔ والعیاذ باللہ

جیسا کہ ملاعلی قاری فرماتے ہیں :

 قال القاري رحمه الله : أَيْ هُمْ كِلَابُ أَهْلِهَا، أَوْ عَلَى صُورَةِ كِلَابٍ فِيهَا ” انتهى

[مرقاة المفاتيح 6/ 2323]

” یعنی یہ جہنمیوں کے کتے ہوں گے ، یا اس میں کتے کی شکل و صورت پر ہوں گے ۔ “

امام مناوی ؒ  رحمہ اللہ رقمطراز ہیں :

وقال المناوي رحمه الله : أي أنهم يتعاوون فيها عواء الكلاب ، أو أنهم أخس أهلها ، وأحقرهم ، كما أن الكلاب أخس الحيوانات وأحقرها ” انتهى

[فيض القدير 1/ 528]

” وہ کتوں کے بھونکنے کی طرح اس میں بھونکیں گے ، یا وہ اس میں ذلیل اور حقیر ترین ہوں گے ، جیسا کہ کتا جانوروں میں ذلیل اور حقیر ترین جانور ہے ۔ “

خوارج کو اس نوعیت کی سزا دینے میں حکمت:

امام مناوی ؒ  مزید فرماتے ہیں :

والحكمة من عقابهم بهذا العقاب : أنهم كانوا في الدنيا كلابا على المسلمين ، فيكفرونهم ويعتدون عليهم ويقتلونهم ، فعوقبوا من جنس أعمالهم ، فصاروا كلابا في الآخرة

[انظر : فيض القدير 3/ 509]

” خوارج کو اس نوعیت کی سزا اس لئے دی گئی ہے کیونکہ یہ دنیا میں مسلمانوں پر کتے بن کر حملہ آور ہوتے ہیں ، مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ، ان پر زیادتیاں کرتے ہیں اور انہیں قتل کرتے ہیں ۔ سو ان خوارج کو ان کے کام جیسی ہی سزا دی گئی ہے اور وہ آخرت میں کتے بنا دیے گئے ہیں ۔ “

ایک جہنمی کتا :

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے فرزند عبد اللہ رحمہ اللہ اپنی کتاب ” السنۃ ” میں اسی سے متعلقہ ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ: ” كَانَتِ الْخَوَارِجُ تَدْعُونِي حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَدْخُلَ مَعَهُمْ فَرَأَتْ أُخْتُ أَبِي بِلَالٍ فِي النَّوْمِ أَنَّ أَبَا بِلَالٍ كَلْبٌ أَهْلَبُ أَسْوَدُ عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ قَالَ: فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ يَا أَبَا بِلَالٍ مَا شَأْنُكَ أَرَاكَ هَكَذَا؟ قَالَ: جُعِلْنَا بَعْدَكُمْ كِلَابَ النَّارِ، وَكَانَ أَبُو بِلَالٍ مِنْ رُءُوسِ الْخَوَارِجِ

[السنه لعبدالله بن أحمد بن حنبل الشيباني : ١٥٠٩]

حضرت سعید بن جمھان تابعی فرماتے ہیں کہ خوارج مجھے اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیا کرتے تھے حتی کہ قریب تھا کہ میں ان میں شامل ہو جاتا ۔ سو ابو بلال کی بہن نے ایک خواب دیکھا کہ ابو بلال ایک گھنے بالوں والا کالا سیاہ کتا بنا ہوا ہے ،  اس کی آنکھیں بہہ رہی ہیں ۔ بہن نے ابو بلال سے کہا : اے ابو بلال تجھ پہ قربان جاؤں تمہیں کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ ؟ میں نے تمہیں خواب میں  ایسے دیکھا ہے ۔ تو اس نے جواب دیا : مرنے کے بعد ہمیں آگ کے کتے بنا دیا جاتا ہے ۔ 

( نوٹ : ابو بلال کا نام مرداس بن حدیر ہے ، یہ خوارج کے بڑے بڑے لیڈروں میں سے ایک تھا اہل النہروان میں شامل تھا اس کے مزید تعارف کے لئے میں آگے ایک حدیث ذکر کرتا ہوں ۔ )

عن زياد ابن كسيب العدوي قال كنت مع أبي بكرة تحت منبر ابن عامر وهو يخطب وعليه ثياب رقاق فقال أبو بلال انظروا إلى أميرنا يلبس ثياب الفساق فقال أبو بكرة اسكت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من أهان سلطان الله في الأرض أهانه الله قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب.

تحقيق الألباني: صحيح، الصحيحة (٢٢٩٦)

حضرت زیاد ابن کسیب العدوی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابن عامر کے پاس بیٹھے تھے اور ابن عامر منبر پر خطبہ دے رہا تھا تو یہ ابو بلال آیا اور آ کر کہنے لگا :

“دیکھو ہمارے امیر کی طرف فاسقوں والا لباس پہنتا ہے ۔”

اس وقت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خاموش ہو جاؤ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : جس نے اللہ کے سلطان کی توہین کی اس کو اللہ رسوا کرے گا ۔

سو یہ تھا وہ ابو بلال خارجی جس کا انجام اللہ رب العزت نے اسے دنیا میں ہی دکھا دیا اور عبرت کا نشان بنا دیا ۔ لہذا خوارج کو کئی گندے عقائد کے وجوہات کی بناء پر ان کو یہ سزا سنائی گئی ہے  جیسا کہ درج ذیل ہے :

  • وہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں
  • یہ اس امت کے منافق ہیں
  • امت کی وحدت کو پھارٹےاور تفرقہ بازی کو ابھارتے ہیں
  • مسلمانوں سے قتال کو افضل سمجھتے ہوئے بت پرستوں کو چھوڑ دیتے ہیں
  • خوارج اس امت کے متعصب لوگ ہیں

اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کو ان قاتلوں اور فسادیوں سے محفوظ فرمائے  ، اللہ ہمیں دین اسلام کو صحیح جگہ سے لیتے ہوئے اسے بطریق احسن سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔

یا اللہ اس مختصر سی زندگی میں اپنے دین کی خدمت کروا لے اور شہادت کو موت سے سرفراز فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔ آمین ۔

وما علینا الا البلاغ واللہ اعلم بالصواب 




’جو آدمی کسی کافرکو کافرنہ کہے، وہ بھی کافرہے‘ کےقول کا معنی۔ الشیخ علی بن محمد الصلابی حفظہ اللہ

جو کافر کو کافر نہ کہےجو کافر کو کافر نہ کہےجو کافر کو کافر نہ کہے

’جو آدمی کسی کافرکو کافرنہ کہے، وہ بھی کافرہے‘ کےقول کا معنی۔

الشیخ علی بن محمد الصلابی حفظہ اللہ

ان عبارتوں میں سے ، جو ایسے لوگوں کی زبانوں پر عام و مشہور ہوگئی ہیں کہ جو لوگوں کو تکفیر کے کوڑوں سے ہانکتے ہیں ، ان کا یہ کہنا بھی ہے :” جو آدمی کسی کافرکو کافر نہ جانے اوراسے کافرنہ کہے وہ بھی کافر ہے َ” انہوں نے یہ اصول و قاعدہ وجہ جواز کے طور پر اختیار کررکھا ہے تاکہ وہ ہراس آدمی پر کفر کا حکم و فتویٰ لگا سکیں جو ان کی رائے کے بارے میں ان کی مخالفت کرے ـ حقیقت بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس جملے کو اس کے اصلی مقام باسلوب احسن استعمال ہی نہیں کیا ہے ار نہ ہی انہوں نے اس نے اس کا فہم و معنی اچھے طریقے سے سمجھا ہے ، سو بات یہ ہے کہ :

اس کافر سے مراد جو کافرکوکافرنہ سمجھے وہ بھی اسی طرح کاکافرہوتا ہے یہ ہے کہ : اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے کفرکی وجہ سے حتمی کافر ہو کہ جس میں کفر کی تمام شروط مکمل طور پر پائی جاتی ہوں اور تمام کے تمام موانع اس سے ختم ہوں اور یہ کہ وہ شروع سے ہی کافرہو،اسلام میں داخل ہی نہ ہوا ہوـ یہاں وہ حتمی کافرمراد ہے ـجیسے کہ : فرعون،ابوجہل،ابولہب اورمارکس وغیرہم

سو ۔۔۔ جو آدمی ان لوگوں اور ان جسے دوسرے کافروں کو کافرنہ کہے اور کافرنہ جانے وہ بھی کافر ہوگا ،  نہ وہ شخص کہ مثلا جس کا حال اس کے اسلام کے اظہار کے لیے مخفی رہے اور کچھ لوگ اس شخص کی اس مجبور والی حالت سے مطلع بھی ہو اور خاص مجلسوں میں اور اس کے ساتھ ملاقات کے وقت اس کی اسلام والی حقیقت کو جان بھی لیں ـ پھر یہ کہ اسلام کی شروط کا پایا جانا بھی اس میں خوب تحقیق سے جان لیں اور موانع وعید و تکفیر بھی پائی جاتی ہوں ـ اس کے بارے میں تکفیر ووعید کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور جس شخص میں یہ سب کچھ نہ پایا جاتا ہواس کا کافر جاننے کے لیے عقیدہ رکھنا واجب ہے ـ ہم تو ظاہر پر ہی حکم لگا سکتے ہیں دلوں کے رازوں اور مخفی باتوں کو اللہ عزوجل ہی بہترجانتا ہے ـ

نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں منافقین بھی وہی ہی معاملہ (اشہارِ اسلام ، نماز، روزہ، حج، زکٰوتہ اور جہاد فی سبیل اللہ جیسے اعمال) کرتے تھے جیساکہ اہل ایمان ، مسلمان کرتے تھ ـ اس لیے کہ وہ اسلام کا اظہار کرتے مگر اپنے کفر کا اعلان واظہار نہیں کرتے تھے ـبلکہ اپنے کفرکو وہ چھپاتے تھے ـ آئمہ سلف صالحین کے اقوال اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ:کافر سے مراد: اپنے حتمی کفرکے ساتھ اس پرقائم ودائم کافر ہے ، نہ کہ وہ شخص کہ جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہوـ فی تکفیرہ اختلاف سے دوچار آدمی کو کافرقرار نہیں دیا جا سکتا اورنہ ہی اس شخص کو کافر قرار دیا جا سکتا ہے جو ایسے آدمی کو کافرنہ کہے ـ

اس کی دلیل یہ ہے کہ : امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ نماز چھوڑ دینے والے شخص کے بارے میں کفر کی رائے رکھتے ہیں ـجب کہ باقی تینوں آئمہ کرام (شافعی ،مالک ، ابوحنیفہ) ایسے شخص کے بارے میں (کہ جو نمازکوچھوڑے ہوئے ہو ) کفر کی رائے نہیں رکھتے تھے ـ چنانچہ اس ضمن میں ، اس مسئلے پر امام شافعی و امام احمد کے درمیان مناقشہ بھی ہو اـ تو بتلائیے ! کیا امام احمد بن حنبل نے امام شافعی پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا ؟ اس لیے کہ وہ تارک صلاتہ کو کافرنہیں کہتے تھے ؟ آپ کو کسی کتاب میں بھی کہیں پر یہ نہیں ملے گا کہ : امام احمد نے امام شافعی پر کفر کافتویٰ لگایا ہوـ

امام احمد کی طرف اہل بدعات کو کافر قرار نہ دینے والے شخص کے بارے میں حکم کی جو نسبت کی جاتی ہے تو امام ابن تیمیہ نے اس بات کی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے :” امام احمد کی طرف َ” اس شخص کے بارے میں دو روایات آئی ہیں کہ جو اس آدمی کو کافر نہیں کہتا جو کافر کو کافر نہ کہے “ان دونوں روایات میں سے صحیح روایت یہ ہے کہ : امام احمدرحمہ اللہ اس کو کافر قرار نہیں دیتے تھے

(فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جلد12، ص486)

کس قدر دو ٹوک سی بات ہے کہ : یہ تو حکم ہوا اس شخص کے بارے میں جو ایسے آدمی کو کافرقرار نہیں دیتا کہ جس کا کفر مختلف فیہ ہو ، البتہ حتمی کافر کو کافرکہنا او رجاننا لازم ہے۔ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی طرف اس حکم و فتویٰ کی جو نسبت کی جاتی ہے کہ : آپ اس کو بھی کافر قرار دیتے تھے جو اس کفر کا مستحق نہ ہو ۔ ۔ ۔ تو درج ذیل میں ان کے اقوال کو بالا جمال ہم بیان کردیتے ہیں جو دعوت الی اللہ میں ان کے اسلوب و منہج کو خوب واضح کر رہے ہیں اور ان کی طرف جو افتراء و بہتان کی بناء پر اس بات کو منسوب کیا جاتا ہے کہ آپ اس شخص پر بھی کفر کا حکم و فتویٰ لگاتے تھے جو اس کا مستحق نہ ہوتا تھا، اس کی بھی آپ نے خود ہی خوب نفی کی ہے ـ
شریف مکہ کی طرف لکھے گئے اپنے مکتوب میں شیخ موصوف رحمہ اللہ نے فرمایا تھا:”

“اور جہاں تک اس کذب و بہتان کا تعلق ہے کہ ہم سب مسلمانوں (یا اکثر مسلمانوں ) پر کفر کا حکم لگاتے ہیں اور اپنی طرف ان لوگوں کا ہجرت کر آنے کو واجب قرار دیتے ہیں کہ جو اپنے دین کے اظہار کی مقدرت رکھتا ہو اور یہ کہ ہم اس کو بھی کافرقرار دیتے ہیں جو تکفیر کا راستہ اختیارنہ کرے اور نہ ہی قتال فی سبیل اللہ کرے اور اس طرح کی کئی گناہ اور افتراء و کذب والی باتیں ۔۔۔۔ ؟

تو اس طرح کی تمام باتیں جھوٹ اور ہم پر بہتان ہیں ـ لوگ دراصل ایسی جھوٹی باتوں اور افواہوں کے ذریعے دیگرلوگوں کو اللہ عزوجل اور اس کے رسولﷺ کے دین حنیف سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں ـ جب ہم ایسے کسی آدمی پر کفر کا حکم و فتوی نہیں لگاتے کہ جو شیخ عبدالقادرجیلانی اور احمد البدوی کی قبروں پر یا ان جیسے دوسرے اللہ کے صالح بندوں کی قبروں پر لگے پتھروں کی پوجاکرتا ہے اور یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ ایسا آدمی اپنی دین حنیف ، اسلام کی تعلیمات سے ناواقفیت کی بنا پر کرتا ہے اور یہ کہ اسے وہ لوگ میسر نہیں ہیں جو اس کو ایسے شرکیہ کام سے خبردار و منع کرسکیں ۔۔۔ تو پھر ہم اس شخص پر کفر کا حکم کیسے لگا سکتے ہیں کہ جو اللہ عزوجل کے شرک کرتا ہی نہ ہو اور یہ کہ وہ ہماری طرف ہجرت کا ارادہ نہ کرے؟ نہ اس نے کبھی کفر کا ارتکاب کیا ہو اور نہ ہی وہ اللہ کی راہ میں لڑا ہو ؟سبحانک ھذا بہتان عظیم

(شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن آل شیخ کی کتاب “مصباح الظلام ص :43 ــ سے اقتباس)

اسی طرح شیخ موصوف امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے السویدی البغدادی کی طرف لکھے گئے اپنے ایک مکتوب میں اس بہتان و افتراء کا رد کرتے ہوئے تحریر فرمایا تھا کہ :

“تم نے یہ جو بیان کیا میں ان لوگوں کے علاوہ کہ جو میری اطاعت و اتباع کریں،تمام لوگوں پر کفر کا حکم و فتویٰ لگاتا ہوں اور یہ کہ میں گمان رکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے نکاح درست نہیں ۔۔۔۔تو یہ کس قدر حیران کن بات ہے ؟ کسی عقل مند آدمی کی عقل میں یہ باتیں کیسے آسکتی ہیں ؟ کیا اس طرح کی بات کوئی مسلمان، مومن علوم شرعیہ سے بہرور آدی کہے گا یا پھرکوئی کافر اور پاگل انسان ؟ ۔۔۔۔۔

کیا معلوم بھی ہے کہ تکفیر ہوتی کیا ہے ؟(جب مجھے اس کا بحمد اللہ العزیز پورا پورا علم ہے ) تو کیا میں اس آدمی کو کافر کہوں گا جو دین اسلام کے بارے میں (ایمان لانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے بعد) پوری پوری معروفت رکھتا ہو؟ نہیں ۔۔۔ بلکہ :

میں اس شخص کو کافر قرار دیتا ہوں جو دین حنیف ، اسلام کو خوب اچھی طرح جان چکا ہو اور پھر اس کے بعد وہ اسلام کے متعلق پور پورا علم رکھتا ہوں، اسلام کو گالیاں دے ـ لوگوں کو اسلام سے روکے منع کرے اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی رکھے تو ایسے شخص کو میں کافر جانتا اور اس پر کفر کا حکم لگاتا ہوں اور امت اسلامیہ کو اس سے آگاہ بھی کرتاہوں ـ یہ بھی جان لیجئے کہ الحمد للہ اکثر اہل ایمان واسلام ایسے نہیں “

(شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن آل شیخ کی کتاب “مصباح الظلام ص :43 ــ سے اقتباس)

فكرالخوارج والشيعة في ميزان اهل السنة والجماعة
شیخ علی بن محمد الصلابی
ترجمہ : ابو عبداللہ بن ابراہیم الفتح​



ہاں! خوارج کے نزدیک مسلمان عورتوں کا قتل جائز ہے۔ !!!

عورتوں کا قتل کسی عورت کا قتل

جنگ میں تو کسی  کافرہ  عورت کا دانستہ قتل بھی حرام ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا۔

تو پھر کس شرعی قاعدہ کی بنیاد پر ، کس منہج کے تحت ٹی ٹی پی نے اپنی نام نہاد جنگ میں ایک مسلمان بچی کو دانستہ طور پر قتل کرنے جیسا قبیح عمل کیا؟؟؟

آپ بھی سوچ رہیں ہوں گے کہ کس چیز نے ان کو اس مذموم عمل پر ابھارا؟؟؟

جی ہاں!! اسکی دلیل ہے ان کے پاس۔۔ مسلمان عورتوں کو قتل کیا جا سکتا ہے۔۔اور ان کے آباو اجداد بھی اسی شرعی کلئیے کے تحت یہ کام کرتے آئے ہیں۔۔ اور وہ ہے:

اختلاف رائے!!​

حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ کا سفاکانہ قتل

امام طبری، امام ابن الاثیر اور حافظ ابن کثیر روایت کرتے ہیں :

ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 : 219۔۔۔طبری، تاريخ الأمم والملوک، 3 : 119۔۔۔ابن کثير، البداية والنهاية، 7 : 288​

’’پس خوارج نے حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کو چت لٹا کر ذبح کر دیا۔ آپ کا خون پانی میں بہ گیا تو وہ آپ کی زوجہ کی طرف بڑھے۔

انہوں نے خوارج سے کہا :

اُنہوں نے ان کا پیٹ چاک کر ڈالا اور (ہمدردی جتانے پر) قبیلہ طے کی تین خواتین کو بھی قتل کر ڈالا۔‘‘

اس واقعے کے بعد:

(ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 :219)​

لہذا ، یہ کوئی انہونی اور نئی حرکت ہر گز نہیں کہ جس پر حیرت کا اظہار کیا جائے۔




امام بخاری اور فتنہ تکفیر ۔ حافظ عبدالستار الحماد حفظہ اللہ

امام بخاری اور فتنہ تکفیر

امام بخاری اور فتنہ تکفیر

حافظ عبدالستار الحماد حفظہ اللہ

(مسئلہ ایمان و کفر)​

محدثین کے ہاں امام بخاری ؒکا جو مقام ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ،امت نےانہیں امیر المؤمنین فی الحدیث کے طور پر قبول کیا اور ان کی مایہ ناز تالیف “الجامع الصحیح”کو”اصح الکتب بعد کتاب اللہ” قرار دیاہے۔

امام بخاریؒ نے مسئلہ تکفیر میں وہی موقف اختیار کیا ہے جو عام اہل سنت کا موقف ہے کہ:  لوگ اگر دین دار اور شرائع اسلام پر عمل پیراہیں ، تمام انبیاء کو ماننے والے اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں پر یقین رکھنے والے ہیں لیکن عقائد ونظریات میں سنگین قسم کی خرابیوں کے مر تکب ہیں ،عقائد کی خرابی کسی انکار وتکذیب کی وجہ سے نہیں بلکہ معقول تأویل یا جہالت کی وجہ سے ہے ایسے لوگوں کو دین اسلام سے خارج قرار نہ دیا جائے اور نہ ہی کافر کہا جائے بلکہ اس قسم کے لوگوں سے روایات لینے میں بھی نرم گوشہ رکھاجائے ،بشرطیکہ وہ عدالت وامانت سے موصوف ہوں اور صداقت و پر ہیز گاری میں معروف ہوں ،امام بخاری ؒنے اپنی صحیح میں اس موقف کے ثبوت وتائید میں کئی ایک اسلوب اور اندازاختیار کیے ہیں جن کی ہم وضاحت کرتے ہیں ۔

imam bukhari ٭ کوئی انسان ایمان کے منافی کسی بات یاعمل کا مرتکب ہوتا ہے اگر تومعقول تاویل یا جہالت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے تو اسے دین اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا ،البتہ اگر کوئی دیدہ ودانستہ بلاتاویل وجہالت ،کسی کفر پر مبنی بات یا کام کامرتکب ہے تو بلاشبہ وہ کافر اور دین اسلام سے خارج ہے ، امام بخاری ؒنے اس سلسلے میں اپنی صحیح میں ایک باب بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“جو اپنے بھائی کو بلاتاویل کافر کہتاہے وہ اپنے کہنے کے مطابق خودکافر ہو جاتاہے “

(صحیح بخاری، کتاب الادب ،باب:73)

پھر آپ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی حدیث پیش کی ہے آپ ﷺنے فرمایا :

“جب کوئی اپنے بھائی کو “یاکافر”کے الفاظ سے پکارتاہے تو ان دونوں میں سے ایک ضرور کافر ہو جاتا ہے “

(صحیح بخاری ،الادب:6103)

پھر امام بخاری ؒنے اس سلسلہ میں ایک دوسراباب بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“جو شخص کسی دوسرے کو تاویل یا جہا لت کی وجہ سے کافر کہتا ہے تو اس صورت میں خود کافر نہیں ہوگا۔”

(صحیح بخاری ،کتاب الادب ،باب:74)

امام بخاری ؒنے اس عنوان کوثابت کرنے کےلئے حضرت عمرفاروقؓ کا واقعہ پیش کیاہے :

“انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سا منے حضرت حاطب بن أبی بلتعہ ؓکو منافق قرار دیاتھا ،رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطب ؓ کا دفاع تو کیا،لیکن ردّعمل کے طور پر حضرت عمر ؓ کو کافر یامنافق نہیں کہا، کیونکہ حضرت عمر ؓ نےانہیں ایک معقول تاویل کی بناء پر منافق کہا تھا کہ انہوں نے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ایک اہم راز کا افشا تھا ،یہ عمل کفار سے دوستی کے مترادف ہے ،چونکہ حضرت عمر ؓ نے ایک معقول وجہ سے انہیں کافر کہا تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں کافر یا منافق قرار نہیں دیا بلکہ آپ نے صرف حاطب ؓکے دفاع پر اکتفا فرمایا کہ جو لوگ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ہے “

(صحیح بخاری ،المغازی:3983)

امام بخاری ؒ نے اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے حضرت عمر ؓ کا وہ واقعہ بھی بیان کیا ہے جس میں انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ کے سامنے اپنے باپ کی قسم اٹھائی تھی ،چونکہ آپ کا یہ اقدام لاعلمی کی وجہ سے تھا اس لئے رسو ل اللہ ﷺ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :

“اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم اٹھانے سے منع کرتا ہے اگر کسی نے قسم اٹھا نی ہوتو صرف اللہ کی قسم اٹھائے ۔”

(صحیح بخاری ،الادب:6108)

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کی لاعلمی کے پیش نظرانہیں کافر یامشرک قرار نہیں دیا ،حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

“جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم اٹھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ۔”

(مسند امام احمد ،ص:125ج2،ص87ج2)

ان احادیث سے معلوم ہو ا کہ اگر کوئی کسی معقول تاویل یا جہالت کی وجہ سے کافر انہ اقدام یاکفر یہ بات کرتا ہے تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا۔

٭ امام بخاری ؒ کے نزدیک فتنہ پروراور بدعتی کی اقتدامیں نماز جائز ہے چنانچہ آپ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“فتنہ انگیز اور بدعتی کی امامت کابیان “

(صحیح بخاری ،الاذان ،باب:56)

اس کے بعد امام بخاری ؒنے حسن بصری ؒکاایک جواب نقل فرمایاہے،آپ سے سوال ہوا کہ بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟تو آپ نے فرمایا:

“اس کے پیچھے نماز پڑھو اور بدعت کاوبال خود اسی پر ہو گا۔”

پھر آپ نے حضرت عثمان ؓ کے ایک واقعہ سے استدلال کیاہے جبکہ آپ اپنے گھر میں محصور تھے اور مدینہ منورہ پر فساد یوں اور فتنہ پرور لوگوں کا قبضہ ہو چکا تھا اور مسجد نبوی میں بھی انہوں نے اپنا امام تعینات کر دیا تھا ،لوگوں نے حضرت عثمان ؓ سے عرض کی کہ حالات آپ کے سامنے ہیں ،مسجد نبوی میں ایک فتنہ انگیز شخص نماز پڑھاتا ہے اورہم اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں حرج محسوس کرتےہیں ،آپ نے فرمایا :کہ نماز کی ادائیگی لوگوں کے اچھے اعمال سے ہے اگر وہ اچھا کام کرتے ہیں ،تو تم بھی اچھائی میں ان کے شریک ہو جاؤ اور اگر وہ برا کام کریں تو ان کی برائی سے اجتناب کرو ۔

(صحیح بخاری ،الاذان :695)

واضح رہے کہ امام فتنہ سے مراد کنانہ بن بشر ہے جو فتنہ میں خوارج کے سرداروں سے تھا ،حضرت عثمان ؓ کے اس فتویٰ کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی مخالفت نہیں کی ،اگر خوارج کے فتنہ پرور اور بدعتی لوگ دین اسلام سے خارج ہوتے تو حضرت عثمان ؓ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا فتویٰ نہ دیتے ۔

امام بخاری ؒکے اس انداز اور اسلوب سےمعلوم ہوتا ہے کہ آپ تکفیر کے معاملہ میں بہت محتاط ہیں، معمولی جرائم کی وجہ سے کسی کو کافر قرار دینا آپ کا منہج اور طریقہ کار نہیں ہے ۔وھو المقصود ۔

٭امام بخاری ؒکے نزدیک کفر ، ظلم اور امور جاہلیت کی چند ایک اقسام ہیں ،ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کے ارتکاب سے انسان دین اسلام سے خارج نہیں ہوتاچنانچہ آپ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“خاوند کی ناشکری کرنا اور کفر کی چند اقسام ہیں “

(صحیح بخاری ،کتاب الایمان ،باب :21)

پھر آپ نے وہ حدیث بیان کی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے خاوند کی ناشکری پر کفر کا اطلاق کیاہے جیسا کہ آپ نے اکثر عورتوں کو جہنم میں دیکھا تو آپ نے انہیں خبردار کیا کہ تم اپنے خاوند کی ناشکری کرتی ہو،اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ یہ بر تاؤ کیا ہے ۔

(صحیح بخاری ،الایمان ،باب:22)

اس عنوان کو ثابت کرنے کے لئے آپ نے حضرت ابو ذر ؓ کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو اس کی ماں کی وجہ سے عار دلائی ،جب رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا ذکر ہوا تو آپ حضرت ابو ذر سے فرمایا:
“تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک جاہلیت کی خوبو باقی ہے ۔”

(صحیح بخاری،الایمان :30)

امام بخاری ؒکا موقف واضح ہے کہ تکفیر بہت ہی خطرناک چیز ہے ۔معمولی گناہوں کے ارتکاب پر کسی کو کافر قرار دینا دانشمندانہ اقدام نہیں ،رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ کو جاہلیت کی عادت پر خبردار کیا لیکن انہیں کافر قرار نہیں دیا ۔

٭ آخر میں امام بخاری ؒ نے ظلم کی اقسام بیان کرتے ہوئے ایک عنوان قائم کیا ہے کہ ظلم بھی کئی طرح کا ہوتا ہے۔ (کتاب الایمان ،باب:23)پھر آپ نے ظلم کی ایسی قسم بتائی ہے جو شرک کے مترادف اور ناقابل معافی ہے ۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ

“جو لوگ ایمان لائے پھر اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا ،انہی کے لئے امن وسلامتی ہے اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔”

(الانعام:82)

تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو ؟اس ظلم کی وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ

“بے شک شرک بہت بڑاظلم ہے ۔”

(اللقمان :13)

یعنی اس آیت میں مذکورہ ظلم سے مراد شرک ہے ۔(صحیح بخاری ،الایمان :32)امام بخاری ؒنے اپنی صحیح میں لعن مطلق اور لعن معین میں فرق کو واضح کیا ہے یعنی کسی معصیت کے ارتکاب پر مطلق طور پر لعنت کرنا تو صحیح اور جائز ہے ،لیکن مرتکب گناہ کو نامزد کر کے لعنت کرنا صحیح نہیں ہے ،چنانچہ آپ نے اس سلسلے میں بایں الفاظ باب قائم کیا ہے :

“شراب نوشی کرنے والے کو نامزد کر کے لعنت کرنا ایک نا پسندیدہ فعل ہے اور شراب نوشی سے انسان ملت اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔”

(صحیح بخاری ،کتاب الحدود،باب:5)

پھر آپ نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ ایک شرابی کو جب حد لگائی گئی تو کسی نے اس پر لعنت کی ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

“اس پر لعنت نہ کرو ،اللہ کی قسم !یہ شخص اللہ اور اس کے رسو ل سے محبت کرتا ہے۔”

(صحیح بخاری ،الحدود:6780)

حالانکہ متعدد احادیث میں شراب نوشی پر لعنت کرنے کو جائزقرار دیا گیا ہے ۔مزید وضاحت کرتے ہوئے امام بخاری ؒ نےایک دوسرا عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے :

“چور پر لعنت کرنا جائز ہے بشرطیکہ نامزد نہ کیا جائے ۔”

(صحیح بخاری ،الحدود،باب:6)

پھر آپ نے ایک حدیث کا حوالہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

“اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے ،معمولی سا خود(ہیلمٹ) چرانے پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتاہے ۔”

(صحیح بخاری ،الحدود :6783)

ان روایات سے امام بخاری ؒ کا موقف واضح ہوجا تا ہے کہ لعن مطلق سے لعن معین مراد نہیں لی جا سکتی ،ان دو نو ں میں واضح فرق ہے ،مختصر یہ کہ کسی کو کافر قرار دینا بہت نازک مسئلہ ہے ،اس سلسلہ میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے ۔جب تک کسی میں ایسی شرائط نہ پائی جائیں کہ اسے کافر قرار دیاجاسکے اور کوئی مانع بھی نہ ہو ، وہاں قطعی طور پر کسی کو کافر کہنے سے گریز کرنا چاہیے ۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے اور اسے اختیار کرنے کی توفیق دے ۔

“سبحانک اللھم وبحمدک واشھد أن لاالٰہ الاانت واستغفرک واتوب إلیک”

(آمین )




خوارج تو حضرت علیؓ کے دور میں نکلے تھے، موجودہ دور کے خوارج کی اس تلبیس کا رد ۔ الشیخ جمیل الرحمن السوری

خوارج تو حضرت علیؓ کے دور میں نکلے تھے، موجودہ دور کےتلبیس کا رد خوارج کی اس تلبیس کا رد 

الشیخ جمیل الرحمن السوری

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ إمام الأنبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین ‏ومن تبعھم إلی یوم الدین امابعد‎!‎

خوارج کا یہ پرانا وطیرہ رہا ہے کہ وہ عوام میں، مسلمانوں میں اپنا گھناونا چہرہ چھپانے کی خاطر اپنے لئے طرح طرح کے خوشنما نام رکھتے ہیں ، اپنی مظلومیت کا پرچار کرتے ہیں اور نئی نئی خلاف قرآن و سنت دلیلیں گھڑ کر خود کو خوارج کی چھاپ سے بچانے اور خارجیت کی مہر مٹانے کے لئے سعی لاحاصل کرتے ہیں۔

کبھی خود کو “مجاہدین اسلام “، کبھی “غربا”، کبھی “مظلومیت کی داستانیں” وغیرہ وغیرہ۔یہ لوگ خود کو جہاد و مجاہدین کے ساتھ ایساخلط ملط کرتے ہیں کہ عام مخلص مسلمان ان میں اور صحیح مجاہدین و جہاد میں تمیز کرنے ناکام ہو جاتا ہے اور اس عظیم فتنہ خوارج کا شکار ہو کر انجام بد سے دوچار ہوجاتا ہے۔

آج کے دور میں جب بھی کوئی اہل علم چاہے وہ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ ہوں ، البانی رحمہ اللہ، ‏الشیخ العثیمین رحمہ اللہ، الشیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ، الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ یا پھر الشیخ عبد السلام بن محمد و الشیخ مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ اور دوسرے علماء، خوارج پر محکم رد و خبرار کرتا ہیں تو خارجی سوچ و فکر کے حاملیں نہایت ہی چلاکی اور ہوشیاری سے طرح ‏طرح کہ شبہات و اشکالات گھڑنے میں مصروف ہو جاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں میں اپنے کالے چہروں اور گندے دماغوں کے باوجود، صحیح طرح پہچانے نہ جا سکیں بلکہ انکی تصویر مبہم ہی رہے اور وہ دین اور دین داروں کو مسلسل ‏آلائم و مصیتبوں سے دوچار کرتے رہیں۔

ان شبہات میں سے ایک شبہ جو عموما پیدا کیا جاتا ہے وہ یہ کہ

تلبیس خوارج:

خوارج تو وہ ہوتے ہیں جو صرف اسلامی خلیفہ یا اسلامی ریاست کہ جس نے اسلامی قوانین مکمل نافذ کیئے ہوں، انکے ‏خلاف خروج کرتے ہیں، نہ ظالم و غیر اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے والے نام نہاد مسلم حکمران کے خلاف۔

آج کل کے حکمران نہ تو اسلامی خلیفہ ہے ، نہ اسلامی ریاست اور نہ ہی حکمران شریعت کو مکمل نافذ کرتے ہیں۔ لہذا ہم خوارج ‏نہیں ، کیوں کہ خروج تو اسلامی خلیفہ کے خلاف ہوتا ہے اور کیوں کہ عصر حاضر میں اسلامی خلیفہ ‏نہیں تو خوارج کیسے ہوں گے؟؟؟

تلبیس خوارج کی حقیقت:‏

ان ظالموں کی کم علمی و کج فہمی پر مبنی اعتراض کی تاریخ بھی انہیں کی طرح کافی پرانی ہے اور یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ مسلمانوں کو انکی خوشنما تلبیسات کا سامنا ہے۔ اس پہلے یہ سلسلہ دور صحابہ سے شروع ہوکر سلف صالحین کے دور سے ہوتا ہوا ہی ہم تک پہنچا ہے۔

مگر بحمد اللہ ہر دور میں اہل حق نے ان گمراہ لوگوں کی تلبیسات و شبہات کا بھر پور رد پیش کیا ہے۔ جو تلبیس اوپر مذکور ہے ،اس ‏بارے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام انتہائی اہم ہے۔

آئیے ، اب ہم ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی زبانی خوارج کے اس شبہ اور تلبیس کی حقیقت جانتے ہیں

(رد تلبیس خوارج از امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ)

امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا ‏يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم. ‏‏(1‏‎(‎

”‎وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام ‏رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ ‏اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ ‏مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے۔

امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں‎ ‎

وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن ‏الدجّال.(2) وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، ‏إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم ‏يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.(3‏‎)‎

اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے ‏بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‏کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ‏ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ‏ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ ‏حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی ‏حاجت تھی”۔

یہ بات صحیح احادیث سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلامی خلافت وخلیفہ آپ صلی اللہ کے فرامین کے ‏مطابق صرف تیس سال رہے گی اور رہی۔

جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے :

وعن حذیفۃ بن الیمان أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:‏‎ ‎

‎”‎تکون النبوۃ فیکم ماشاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون خلافۃ ‏علی منھاج النبوۃ، فتکون ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون ملکا ‏عاضا فیکون ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون ملکا جبریا فتکون ‏ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون خلافۃ علی منھاج” النبوۃ[ 4]‏

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کا ارشاد ہے‏:

‎ ‎نبوت تمہارے اندر باقی رہےگی جب تک اللہ اسے باقی رکھنا چاہےگا۔ پھر جب اللہ اسے اٹھانا ‏چاہےگا تو اٹھا لےگا۔ پھر نبوت کے طرز پر خلافت قائم ہوگی تو اسے بھی جب تک اللہ باقی رکھنا ‏چاہےگا یہ بھی باقی رہےگی۔ پھر وہ اسے بھی اٹھا لےگا جب اسے اٹھانا چاہےگا۔ پھر کاٹ کھانے والی ‏بادشاہت ہوگی تو یہ بھی جب تک اللہ رکھنا چاہے رہےگی پھر اللہ اسے بھی اٹھا لےگا جب وہ اسے ‏اٹھانا چاہےگا۔ پھر جبری بادشاہت ہوگی تو یہ بھی جب تک اللہ اسے رکھنا چاہےگا رہےگی۔ پھر جب ‏اسے اٹھانا چاہےگا اٹھا لےگا۔ پھر نبوت کے طرز پر خلافت ہوگی۔‎”‎

‎(اس روایت کو علامہ عراقی اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے‎)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: خلافت تیس سال رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی ۔

جب ہم ان احادیث کا مطالعہ کریں تو یہ بات نکھر کے سامنے آجاتی ہے کہ اسلامی خلیفہ و خلافت کا ‏دور تو کب کا ختم ہوچکا، اس بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت بھی اپنی بساط لپیٹتی نظر آرہی ہے اور عصر ‏حاضر میں ہر جمہوری الیکشنز و انتخابات میں جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا مصداق نظام، یعنی جو جتنی ‏رشوت و دھاندلی و دونمبری کا ماہر ہو یا پھر اقتدار پر قبضے کی قوت رکھنے والا ملٹری جرنیل ہو ، وہی حکمران بن ‏جاتا ہے اور جبرا لوگوں پر مسلط ہو جاتا ہے چاہے وہ کوئی آمر ہو یا جمہوری صدر۔۔۔اور پھر یہ اقتدار ‏بادشاہت کے انداز میں اس کے وارثوں میں ہی منتقل ہوتا جاتا ہے۔ اور عصر حاضر میں یہ کسی کی ‏نظروں سے اوجھل نہیں۔۔تو یہ دور جبری بادشاہت کا دور ہے، ظلم و جور کا دور ہے کہ جس کہ بعد ‏اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت علی منہاج النبوی کی خوشگوار پیش گوئی کی ہے واللہ واعلم

اب اگر خوارج کی اس تلبیس پر غور کیا جائے کہ خروج تب ہوگا یا ہم خوارج تب ہوں گے جب ہم ‏کسی اسلامی خلیفہ و حکمران کے خلاف خروج یا علم بغاوت و قتال بلند کریں گے ورنہ ہم خوارج نہیں، اور نہ ہی ہم خروج کر رہے ہیں۔

جب اس تلبیس پر دلیل و برھان کی تیز روشنی پڑتی ہے تو تلبیس کا یہ جال ،مکڑی کے اس خوشنما جال کی طرح چمکنا شروع ہوجاتا ہے جو کہ اندھیرے میں نظر نہیں ‏آتا ہے اور شکار کو پھنساتا چلے جا رہا ہوتا ہے۔ 

اسلامی خلافت تو ابتدائی تیس کے بعد اختتام پزیر ہو گئی تھی۔

اس کے بعد تو ظلم و جور اور ایسی بادشاہت کا ‏دور رہا کہ جن میں شاید سوائے چند خوش نصیبوں کہ کسی حکمران نے اسلامی قوانین کو مکمل نافذ کیا ‏ہو، کیونکہ تابعین و تبع تابعین کا دور ہو، یا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ، یا ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور یا پھر ‏الشیخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کا ، نہ تو اسلامی خلافت تھی اور نہ اسلامی حکمران اور نہ ہی اللہ کے ‏دین کا نفاذ مگر پھر بھی ان تمام سلف و آئمہ کے دور کا مطالعہ کریں تو آپ کو انکے ادوار میں خوارج کی ‏موجودگی بھی ملے گی اور یہی ہستیاں اپنے اپنے زمانے میں خوارج کے وجود و اثرات اور مذمت ‏میں مصروف بھی نظر آئیں گی۔

جن میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دور میں خلق قرآن کے کفریہ عقیدے کے قائلین حکام ہوں یا پھر ‏ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دور میں یا خالد ابن الولید المدد کے نعرے لگانے والا سلطان یا پھر محمد بن ‏عبدالوھاب کے دور میں خلافت عثمانیہ (6) میں سود کو جائز و حلال قرار دینے اور غیر اللہ کے ‏فیصلوں پر عمل پیرا حکمران، خروج اور خوارج کا وجود تب بھی رہا اور ان آئمہ نے انکی مذمت بھی اور ‏ان کا تعاقب بھی۔‎ ‎

‎خوارج قیامت تک نکلتے رہیں گے:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:‏‎ ‎

سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ ‏قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّی عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَی عَشْرَةِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّی ‏يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ[7]‏‎.‎

‎’’‎میری امت میں مشرق کی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ‏ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا وہ (حکام کی ‏جانب سے) ختم کر دیا جائے گا۔ ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا (حکام) ان کا خاتمہ کر ‏دیں گے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ہی دس دفعہ سے بھی زیادہ بار دہرایا اور ‏فرمایا:‏

‎” ‎ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جب بھی نکلے گا اسے کاٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ ان ہی کی باقی ‏ماندہ نسل میں دجال نکلے گا۔‎‘‘‎

اس حدیث کے بعد اب خوارج کی اس تلبیس کی کیا حققیت باقی رہ جاتی ہے کہ خوارج یا خروج صرف ‏وہ ہوتا ہے جو اسلامی خلیفہ و حکمران کے خلاف نکلے نہ کہ غاصب، ظالم و فاسق حکمران کے خلاف جس نے حدود اللہ نہ نافذ کر رکھی ہوں۔؟

کیونکہ نہ تو آج خلیفہ کا وجود ہے ،کیونکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تیس سال بعد ہی اختتام پذیر ہو گیا تھا، نہ اسلامی قوانین کا نفاذ ۔۔۔۔۔۔مگر ‏صحیح حدیث کے مطابق خوارج دجال کی آمد تک نکلتے رہیں گے اور کٹتے رہیں گے۔

لہذا آج بھی خوارج کا وجود ایک حقیقت ہے جو حکم بغیر ما انزل اللہ اور ناجائز تکفیر مسلم اور مسلم ممالک میں تفجیرات سے اپنی موجودگی جتا رہا ہے اور امت ‏مسلمہ کو دھیمک کی طرح چاٹ رہا ہے

ایک طرف تو ظالم حکمران اور دوسری طرف یہ جہنم کے کتے(8) اور تیسری طرف کفار کی ‏یلغاریں لاالہ الا اللہ۔

أمت اس وقت ایک چوراہے پر کھڑی ہے وہ اپنے علماء، مفکرین اور فیصلہ سازوں کے تعاون کی ‏محتاج ہے تاکہ وہ اس کے ماضی کی تصحیح ، حاضر کی اصلاح اور مستقبل کو روشن کرنے کے لئے کھڑے ‏ہو جائیں ۔اس سخت مرحلے میں أمت اور اس کے عقائد سخت دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اگر تائید ربّانی ‏اور قوّت دین نہ ہو تی تو یہ دباؤ شائداسے اسکی جڑوں سے ہی اکھاڑپھینکتا۔

لہذا کسی کو اس تلبیس یا شبے کا شکار نہیں ہونا چاہیئے کہ آج کل خارجی موجود نہیں ، اور خروج نہیں ، یہ تو شریعت کے نفاذ کے لئے جہاد ہو رہا۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ

دین محمدیہ میں شریعت و اسلام کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔

اس پر تاریخ گواہ ہے۔

ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ

“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”،‏

‎ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

وما علینا الا البلاغ المبین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی:‏
1-ابن تيمية، النبوات : 222‏

2-ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496‏

3- ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477‏

4- مسند أحمد ،علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

5- سلسلہ احادیث الصحیحہ للالبانی :۴۵۹،صحیح ابن حبان:۶۷۸۳‏

6- اگر اصولی اور نظری بات کی جائے توخلافت عثمانیہ اور آج کی مسلمان حکومتوں میں کوئی بھی ‏جوہری فرق نہیں ہے۔ خلافت عثمانیہ میں سوائے مجلہ أحکام عدلیہ کے، جو دیوانی قانون کے طور پر ‏رائج تھا اور اس کی بھی پابندی عدالتوں کے لیے لازم نہ تھی، بقیہ تمام قوانین فرانسیسی، اطالوی اور ‏برطانوی تھے۔ بلکہ سلطنت عثمانیہ کے اساسی قانون میں یہ بات بھی موجود تھی کہ سود شرعاً حرام ہے ‏اور قانوناً جائز ہے۔

علاوہ ازیں سلطنت کے قانون فوجداری میں یورپین قوانین کی تقلید میں حدود کو ‏ساقط کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود اس وقت کے علماء میں سے جن محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور ‏انکے شاگرد باکثرت موجود تھے، سمیت کسی مکتب فکر کے کسی بھی عالم دین کو بھی ہم نہیں دیکھتے کہ ‏وہ خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں یا دوسرے الفاظ میں اس وقت کے خلفاء کی تکفیر کر رہے ہوں۔ ان ‏کے خلاف خروج و بغاوت کے فتوے دے رہے ہوں۔

7-أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 198، رقم : 6871،8‏

حاکم، المستدرک، 4 : 533، رقم : 8497‏

ابن حماد، الفتن، 2 : 532،

ابن راشد، الجامع، 11 : 377،

آجري، الشريعة : 113، رقم : 260‏

8-ابن ماجہ:۱۷۳، وھو حدیث حسن




خوارج کی پشت پناہی کرنے والے بھی خوارج ہی میں سے ہیں ۔ الشیخ عبد اللہ بروہی حفظہ اللہ

photo721249554916288579خوارج کی پشت پناہی کرنے والے بھی خوارج ہی میں سے ہیں ۔

الشیخ عبد اللہ بروہی حفظہ اللہ

photo721249554916288579

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بعض لوگ خوارج کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور انہیں برا نہیں جانتے، جب کہ بعض لوگ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خوارج کی پشت پناہی اور support کرتے ہیں اور اپنے طرز عمل سے شرپسندوں اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اُن کے لیے ماسٹر مائنڈ (master mind) کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور ان کی مالی و اخلاقی معاونت (financial & moral support) کرکے انہیں مزید دہشت پھیلانے کی شہ دیتے ہیں، یہ عمل بھی انتہائی مذموم ہے۔

خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کے لیے قَعْدِيَۃ (عملاً بغاوت میں شریک نہ ہونے والے کی) اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

 شارح صحیح البخاری حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ لکھتے ہیں:

’’والقعدية‘‘ قوم من الخوارج، کانوا يقولون بقولهم، ولا يرون الخروج بل يزينونه.

(عسقلاني، مقدمة فتح الباري: 432)

’’اور قَعْدِيَۃ خوارج کا ہی ایک گروہ ہے۔ یہ لوگ خوارج جیسے عقائد تو رکھتے تھے مگر خود مسلح بغاوت نہیں کرتے تھے بلکہ (وہ خوارج کی پشت پناہی کرتے ہوئے) اسے سراہتے تھے۔‘‘

 حافظ ابن حجر عسقلانی مقدمۃ فتح الباری میں ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

والخوارج الذين أنکروا علی علي رضی الله عنه التحکيم وتبرء وا منه ومن عثمان رضی الله عنه وذريته وقاتلوهم فإن أطلقوا تکفيرهم فهم الغلاة منهم والقعدية الذين يزينون الخروج علی الأئمة ولا يباشرون ذلک.

(عسقلاني، مقدمة فتح الباري: 459)

’’اور خوارج وہ ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلۂ تحکیم (arbitration) پر اعتراض کیا اور آپ رضی اللہ عنہ سے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اور ان کی اولاد و اَصحاب سے برات کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ جنگ کی۔ اگر یہ مطلق تکفیر کے قائل ہوں تو یہی ان میں سے حد سے بڑھ جانے والا گروہ ہے جبکہ قَعْدِيَۃ وہ لوگ ہیں جو مسلم حکومتوں کے خلاف مسلح بغاوت اور خروج کو سراہتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، لیکن خود براہ راست اس میں شامل نہیں ہوتے۔‘‘

 

اِسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی ایک اور کتاب ’’تھذیب التھذیب‘‘ میں خوارج کی پشت پناہی کرنے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’والقعد‘‘ الخوارج کانوا لا يرون بالحرب، بل ينکرون علی أمراء الجور حسب الطاقة، ويدعون إلی رأيهم، ويزينون مع ذالک الخروج، ويحسنونه.

(عسقلاني، تهذيب التهذيب، 8: 114)

’’اور قَعْدِيَۃ (خوارج کی پشت پناہی کرنے والے) وہ لوگ ہیں جو بظاہر خود مسلح جنگ نہیں کرتے بلکہ حسبِ طاقت ظالم حکمرانوں کا انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی فکر و رائے کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مسلح بغاوت اور خروج کو (مذہب کا لبادہ اوڑھا کر) سراہتے ہیں اور دہشت گرد باغیوں کو اِس کی مزید ترغیب دیتے ہیں۔‘‘

 

شارح صحیح البخاری حافظ ابن حجر عسقلانی کے درج بالا اقتباسات سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ قَعْدِيَۃ بھی خوارج میں سے ہی ہیں۔ لیکن یہ گروہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتا اور پسِ پردہ رہ کر خوارج کی باغیانہ اور سازشی سرگرمیوں کے لیے منصوبہ بندی (planning) کرتا ہے۔ گویا یہ گروہ ماسٹر مائنڈ کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ اِس گروہ کا کام دلوں میں بغاوت اور خروج کے بیج بونا ہے، خاص طور پر جب یہ گفتگو کسی ایسے فصیح و بلیغ شخص کی طرف سے ہو جو لوگوں کو اپنی چرب زبانی سے دھوکہ دینے اور اسے سنتِ مطہرہ کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔




ائمہ سلف کا خوارج سےعوام کو خبردار کرنا​ ۔ الشیخ ابو محمد

Kwarj sy Kbrdarآئمہ سلف کا خوارج سےعوام کو خبردار کرنا​ ۔  الشیخ ابو محمد حفظہ اللہ

۱۔ بشر الحارث(رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں:
“کان زائدۃ یجلس فی المسجد یحذرالناس من ابن حی وأصحابہ”
(مشہور محدث زائدہ بن قدامہ (رحمۃ اللہ علیہ) مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کو ابن حیی اور اس کے ساتھیوں سے خبردار کیا کرتے تھے)

۲۔ امام ذہبی (رحمۃ اللہ علیہ) ابن حیی کے بارے میں فرماتے ہیں:
“مع جلالتہ واِمامتہ کان فیہ خارجیۃ”   [تذکرۃ الحفاظ(1/216)]
(اپنی جلالت وامامت کے باوجود ان میں خارجیت پائی جاتی تھی)

۳۔ امام سفیان ثوری(رحمۃ اللہ علیہ) جب مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ حسن بن حیی نماز پڑھ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا:
“نعوذباللہ من خشوع النفاق وأحذ نعلیہ وتحول”   [التھذیب (2/249)]
(ہم اس نفاق زدہ خشوع سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں، پھر اپنی جوتیاں اٹھائیں اور چلتے بنے)




فتنۂ تکفیراورسعودی علماء کا موقف ۔ امام کعبہ الشیخ اسامہ الخیاط

سعودی علماءفتنۂ تکفیراورسعودی علماء کا موقف ۔ امام کعبہ الشیخ اسامہ الخیاط حفظہ اللہ

حمد و ثناء کے بعد!

اللہ کے بندو ! اللہ سے اتنا خوف کھاؤ جنتا کہ خوف کھانے کا حق ہے اپنے تمام نیک عمل خالص اسی کی رضاء کیلئے بجا لاؤ اور اس ذات سامنے جوابدہی کیلئے اس دن کھڑنے ھونے کو یاد رکھو جس دن کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور تلپٹ ھو جائيں گی جس دن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے :  (اس دن انسان اپنے اعمال کو یاد کرے گا ) ( النازعات : 35)

اور فرمایا ہے :  جس روز کوئی کسی کا بھلا نہ کر سکے گا اور اس روز حکم صرف اللہ ہی کا ہوگا   (الانفطار:19)

مخالفت احکام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نتیجہ:

مسلمانو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی مخالفت کرنا ، آپ کی شریعت و طریقہ سے اعراض و روگرادنی کرنا اور آپ کی سنت کو پس پشت پھینک دینا ، ذلت و رسوائی کا سبب ، نحوست و بے برکتی کا باعث ، فتنوں میں واقع ھو جانے کی سیڑھی اور دردناک عذاب میں مبتلا ھونے کی راہ ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اس مخالفت کے گرنے سے ڈرایا ہے اور یہ واضح فرما دیا ہے کہ سنت کی پیروی نہ کرنا اور اس سے بے پروا ہو جانا ہی فتنہ میں مبتلا ھو جانا ہے ۔ اور جو سنت کی پیروی نہیں کرتا وہ درناک عذاب میں میں پھنس جاتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد الی ہے :

{جو لوگ ان ( نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انھیں ڈرنا چاہیےکہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آن پڑے یا وہ کسی المناک عذاب میں نہ مبتلا کر دی جائیں ۔ }  ( النور : 63 )

بہتیرین نمونہ و اسوہء حسنہ :

اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش قدم پر چلنے کو واجب قرار دیا ہے اور واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہر شخص کیلئے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حقیقی و بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کے نقش قدم پر چلنے کی بدولت انسان گمراہی سے بچا رہتا ہے اور اسی کے ثمرہ کے طور پر اللہ کی رضاء و خوشنودی اور جنتوں کے اعلی درجات کو پالیتا ہے ۔

چنانچہ اس سلسلہ میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) کی ذات میں تمھارے لئے بہترین نمونۂ (عمل) ہے ، اس شخص کیلئے جسے اللہ (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ اللہ کا کثرت سے ذکر کرے۔

(الاحزاب:21)

ترک اتباع کا نتیجہ : “فتنۂ تکفیر “

اتباع و پیروی کی راہ چھوڑنے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کےنقش قدم پر چلنے کی روش کو ترک کرنے کے نتیجہ میں جو جو فتنے گھیر سکتے ہیں ان کی کئی اقسام اور کئ رنگ ہیں جن کا حصر و احاطہ کرنا مشکل ہے ۔ البتہ ان میں سے سب سے بڑا ، سب سے زیادہ خطرناک اور مضر ترین فتنہ ، فتنۂ تکفیر ہے ( دوسروں کو کافر قرار دینا ) اس فتنے نے اسلامی زندگی میں بہت بڑا فساد برپا کر دیا ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبہ و جانب کو شامل ہے اور اس فتنے کی بدولت مسلم معاشرے میں وہ شر و برائی ، اور وہ مصائب و مشکلات آۓ ہیں کہ شائد ان سے بڑی بلائیں ممکن ہی نہیں ۔

تکفیر پر مترتب احکام :

اللہ والو ! تکفیر یعنی دوسروں کو کافر قرار دینا انتہائی خطرناک امر ہے اور اس کی خطرناکی اور شدید نقصان کا پتہ تب چلتا ہے جب اس تکفیر کے نتیجہ میں مترتب ھونے والے احکام کا علم حاصل ھو ، مثلا جسے کافر قرار دیا گیا ہے اس کے مال و جان کا حلال ھونا اس کے اور اس کی بیوی درمیان تفریق کروانا اوراس کے تمام مسلمانوں سے تعلقات ختم کروانا ،اور اس کے درمیان کوئی ورثہ ترکہ کا لین دین نہیں ، نہ اس سے ولاء و دلی تعلق روا ہے اور اگر وہ مر جاۓ تو اسے غسل نہیں دیا جاۓ گا اور نہ اس کی نماز جنازہ پرھی جاتی ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جا سکتا ہے ۔

تکفیر و تفسیق کی مذمت:

یہی وجہ ہے کہ صحیح احادیث میں ایسے شخص کے لۓ سخت وعید اور ڈانٹ ڈپٹ آئی ہے جس نے اس محفوظ چراگاہ کی حرمت کو پامال کیا اور کسی کو کافر قرار دینے کے بحر ناپید کنار میں اسی حالت میں غوطہ زن ھوا جبکہ اس کے پاس نہ راہ ھدایت ہے نہ علم نہ روشن کتاب اور نہ ہی کوئی واضح مبنی پر تقوی اور صاف ستھری دلیل ہے کہ جسکی بدولت وہ اللہ اور روز آخرت کا خوف کھاۓ ۔ایسے شخص کے بارے میں صحیح بخاری و مسلم مین حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ھوئے سنا : اور اس قدر طویل کو بیان جس میں ہی یہ ارشاد نبوی بھی ہے۔

“کوئی آدمی جب کسی شخص کو فسق کی تہمت لگاتا یا اسے کافر قرار دیتا ہے تو سامنے والا اگر حقیقتا ایسا نہ ہوا تو وہ تہمت الزام لگانے والے پر لوٹ ( صادق آتا ہے۔”( یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں و صحیح مسلم)

نتائج تحقیق علماء :

ان اھل سنت و الجماعت علماء نے اس سلسلہ میں حق بیان کرنے اور تفصیل واضح کرنے کا حق ادا کر دیا ہے جوکہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شکل میں پائی جانے والی دونوں وحیوں کے انوار سے استفادہ کرتے کوئی وضاحت کرتے اور فیصلہ فرماتے ہیں اور صحیح دلیل کے مقابلے میں دوسری کسی چیز کو خاطر میں نہیں لاتے اور اسے وہ اس پر مقدم رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے بدلے میں وہ کسی دوسری چیز کو پسند کرتے ہیں ۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے :

“اس مسئلہ تکفیر میں تحقیقی بات یہ ہے کہ کسی معین کے بارے میں ، جس کا ایمان دار ہونا ثابت ہوچکا ہو ، اس کے کافر ہونے کا فیصلہ اس وقت تک صادر نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ کوئی دلیل و حجت قائم نہ ہو جاۓ جس کی مخالفت کی وجہ سے اسے کافر قرار دیا جائے۔ اگر چہ اس کا وہ قول فی نفسہ کفر ہی کیوں نہ ہو ، مثلا سلف صالحین امت میں سے بعض لوگوں نے قرآن کریم کے بعض حروف کے قرآن ہونے کا انکار کیا کیونکہ انہیں ان حروف کے قرآن ہونے کا علم نہ ہو سکا تھا ۔ لہذا انھیں کافر قرار نہیں دیا گیا ۔”

اور اسی قاعدہ و مفہوم پر اہل علم محققین نے اس حدیث کو محمول کیا ہے جس میں کہ ( نبی اسرائیل کے ) ایک شخص نے اپنے گھر والوں کو وصیت کرتے ھوئے کہا تھا :

[جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا ۔ ] وہ شخص اللہ کی قررتوں کو نہیں جانتا تھا لہذا اس نے ایسا کرنے کی وصیت کر دی ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جن جن امور و احکام شریعت کی خبر دی ہے ان میں سے اگر کوئی شخص بعض امور سے لا علم رہا تو انحصار اس بات پر موقوف ہے کہ اس میں کافر قرار دیۓ جانے کی ساری شرطیں پوری ھوں اور اس کی تکفیر میں کوئی امر مانع بھی موجود نہ ہو ۔

( از افادات شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ )

فتوائے تکفیر کے اہل علماء :

برادران گرامی : یہ بات معلوم و معروف ہے کہ شرائط کے پورنے ہونے اور کسی امر مانع کے بھی نہ ہونے کا علم ہر کسی کیلۓ حاصل ہو جانا ممکن نہیں ہے اور یہ بھی صحیح نہیں کہ اس اھم مسئلہ کو لوگوں کو آراء اور اجتہادات کا نشانہ و شکار بنایا دیا جاۓ بلکہ یہ مسئلہ اھل علم سے تعلق رکھتا ہے جو شرعی کورس کے قاضی اور معبتر مفتی حضرات ہیں ۔ اسی طرح بڑے بڑئےعلمی و تحقیقی اداروں کے ممبرز اور ثقہ و معتمد شرعی و دینی جمعیات متعلق علماء ہیں ۔

تکفیر کے سلسلہ میں سعودی علماء کا موقف :

غرض یہی قوی قول جو کہ شیخ الاسلام ابن تمیہ رحمة الله عليه نے ذکر کیا ہے ۔ اسے ہی آج تک اس مبارک ملک ( سعودی عرب ) کے علماء بیان کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ دو عظیم مجدد و مصلح اماموں امام محمد بن سعود اور امام محمد بن عبد الوھاب رحمتہ اللہ رحمۃ واسعۃ ۔ کے عہد سے شروع ہے اور ہمارے آج کے دور تک جاری و ساری ہے ۔۔ یہی قول و رائےمعلوم و معروف ، مشہور اور ان کے رسائل میں ان کے اقلام سے مکتوب و مرقوم ہے اور ان کی کتابوں میں بڑے ثقہ انداز سے شا‏ئع ہو چکی ہے اور ان کے دروس و فتاوی میں موجود ہے جو کہ اس وقت چار دانگ عالم میں پھیل چکے ہیں اور اسی فتوی و رائےکو بکثرت مسلمان ممالک کے غیر جانبدار مزاج اہل عقل و دانش نے قبول بھی کیا ہے اور اسے ہی ان دلوں نے اپنے اندر جگہ دی ہے جو کہ محبت کرنے والے ، خود غرض کے دعووں کے شائبوں سے پاک صاف ، ظالمانہ تہمتیں لگانے سے بری اور دلائل و براہیں کے محتاج دعووں کے وزن سے سبکدوش و پاک ہیں ۔ کیونکہ اس منہج نبوی اور مسلک سلفی میں ہی یہ خصوصیت ہے پائی جاتی ہےکہ یہ مسلمانوں کو اس دین اسلام کی صفائی و ستھرائی کی طرف لے جانے والا ہے جس پر کہ قرون مفضلہ میں یہ دین تھا اور خصوصا اس دور سے قبل جبکہ اس دین کی صفائی کو بدعات و محدثات ، آڑے ٹیڑے قیل و قال ، آراء و افکار اور فرقوں نے مکدر و گدلا کر کے رکھ دیا تھا ، اور پوری اسلامی زندگی کی تمام جوانب کو تاریک کر دیا ہے اور یہی چیز مسلمانوں کی پستی و زوال کے واضح ترین اسباب میں سے ایک ہے ۔ حتی کہ یہی مسلمان جو کبھی قائد انسانیت تھے ، اب یہ بھی افراد کارواں اور عام اجزاء قافلہ بن کر رہ گئے ۔

آج بھی :

اللہ کے بندو ! یہی مبارک منہاج نبوی اس مبارک مملکت میں رائج اور اسی کا بول بالا اور اسی کا علم بلند ہے اور آج بھی اسی طرح قاصدین کیلئے منارئےنور ، حیران و سرگرداں ان لوگوں کیلئے صفیاء روشنی ہے، اہل توحید کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اور تمام جہانوں کے لوگوں کیلئے دلوں کی شفاء و ہدایت ہے مخالفت کرنے والوں کی مخالفت اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی نہ بگاڑ سکتی ہے اور کسی دشمن کی دشمنی اس کی راہ میں روڑا اٹکا سکتی ہے ۔ یہ ملک اللہ کے فضل سے اسی کی مدد و نصرت اور تائید اور حفاظت پا رہا ہے اور اللہ ہی حفاظت و نگرانی میں روز افزوں ترقی پذیر ہے ۔ ایسے ہی ہم بھی دیکھ رہیں اور ساری دنیا دیکھتی ہے اور ہر صاحب عقل و شعور دیکھ رہا ہے کہ یہ ملک اس ملک کے احکام و آمراء کے تعاون اور تائيد و امداد کو بھی پائے ہوئے ہے اور انکی پشت پر اہل علم و فضل ، اہل خیر و ثروت اور اہل اصلاح ہیں جن میں مرد ،عورتیں ، نوجوان ، بوڑھے اور بچے سب شامل ہیں اور ان سب کا اپنے حکام و آمراء اور اولیاء امور کے ساتھ گہرا گٹھ جوڑ ہے ۔ اور یہ سب ایک ایسے عجیب اتحاد و اتفاق سے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں جو اللہ چاہے تو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو راضی کرنے کا باعث ہے ۔ یہی منظر ہر مومن صادق کے لۓ بھی دل خوش کن ہے ، حقد و بغض کے مارے ہوئے کینہ پرور لوگوں ، انہی کے گروہ میں ملے ہوئے اور انہی کی راہ پر چلنے والے لوگوں ، اہل فساد بگاڑ اور تخریب کاروں کو غیض و غضب کی آتشی اور حسد کی آگ میں جلانے والا ہے ، جس سے ہر وہ شخص اللہ کے نزدیک بری الذمہ ہونے کا دعوی کرتا ہے جو کہ مومن صادق ہے ، اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا مخلص ہے ، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے وہ ساری دنیا کے کسی بھی ملک میں کیوں نہ ھو اور تمام ممالک کے کسی بھی شہر میں کیوں نہ ہو ۔

حیات آفرین کام اور سرتسلیم خم :

مومن صادق کا صرف کام یہی ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم اسے کسی کام کیلئے بلائيں جو کہ حیات آفرین ہے تو وہ ان کی تابع فرمانی کرے ، اور اپنے کانوں کی قوت شنوائی کو قرآن کی نداء اور رحمن کے اس کلام پر لگا دے جو کہ اسے نجات و ساحل مراد کی طرف بلا رہا ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے :

” اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور دوسرے راستوں پر نہ چلنا کہ ( ان پر چل کر ) اللہ کے راستے سے الگ ھو جاؤ گے ، ان باتوں کا اللہ تمھیں حکم دیتا ہے تا کہ تم متقی و پرہیزگار بنو ۔

( الانعام : 153)

صحیح عقیدہ کا اہتمام اور اس کی برکات :

اللہ کے بندو ! صحیح عقیدہ پر توجہ دینا اور اس کا پورا اہتمام کرنا کہ اس کے اصول کی تعلیم حاصل کی جا‌‌‌‌‌‌ئے ، اس کے قواعد کو سیکھا جائے، اس کے دلائل کی معرفت حاصل کی جاۓ ، اس کے تقاضوں پر عمل کیا جاۓ ، ایسی توجہ دینا اور ایسا اہتمام کرنا ہر اس فکر سے محفوظ کرنے کا واضح سبب ہے جو ہمیں برا لگتا اور اس عقیدہ سے جو اللہ تعالی کی کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور سلف صالحین امت کے فہم و مہنج کے دلائل کو رد کر کے اپنایا گیا ہوتا ہے ، اور اسی اہتمام و توجہ کی بدولت ہی ہر فتنہ پرور ، بدعت ساز ، تفرقہ پسند اور مومنوں کی شاہراہ کو چھوڑ کر دوسری پگـڈنڈیوں پر چلنے والے لوگوں کا سدباب کیا جا سکتا ہے ۔ اور اگر ھم نے ایسا کر لیا تو اس کا انجام و نتیجہ بہت ہی اچھا سامنے آۓ گا اور اس کے اثرات کی عکاسی کرنے والی چیزیں ، خیر و بھلائی کے کاموں ، اتحاد و اتفاق ، حق پر ایک دوسرے کا دست و بازو بننے ، بر و تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کا تعاون کرنے اور ایمان و زبان کی وحدت ہونگی ۔

اے اللہ کے بندو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور ہر وہ عمل کہ جس کے ذریعے اللہ کی رضاء و خوشنودی پانے میں کامیابی حاصل کر سکو اور ان میں سے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع و پیروی ، آپ کی لائی ہوئی شریعت و طریقہ سے تمسک و تعلق اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اوامر کی مخالفت کرنے سے بچنا ہے ۔ اگر آپ نے ایسا کر لیا تو فوز و فلاح پانے والوں میں سے ھو جاؤ گے ۔

و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعن
22 / 3 / 1424 ھ 23 / 5 / 2003 ء