باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا اہل سنت کا اصول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کا معمول

بعض سادہ لوح افراد کا یہ ماننا ہے کہ ہم ظاہر کا اعتبار کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں ہر کلمہ گو کے ساتھ اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیوں کہ ہرکسی کے پاس کچھ نہ کچھ خیر رہتا ہے، لہذا ہم کسی کے تعلق سے کسی کو چوکنا نہ کریں۔

شریعت کی رو سے یقیناً ہم ظاہر کے پابند ہیں ،اور اہل علم کسی بھی باطل فرقے اور گمراہ  کن تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں کی بنا پر ہی ان سے چوکنا کرتے ہیں ، کیوں کہ منحرف افکار اور غلط طریقہ کار اختیار کرنے والوں سے چوکنا کرنا اہل سنت کا اصول اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و تابعین کا معمول رہا ہے، جیسا کہ گزشتہ آرٹیکلز میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے متشابہ آیات کے پیچھے لگے رہنے والوں سے امت کو چوکنا کیا

(صحیح البخاری:4547)

اور بالخصوص خوارج کے متعلق فرمایا کہ جہاں کہیں تمہیں یہ ملیں تم ان کا قتل کرو کیوں کہ ان کے قاتل کے لیے روز قیامت اجر عظیم ہے۔

(صحیح البخاری:5057)

اورنبیﷺ کا فرمان ہے کہ اگریہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

( صحیح البخاری:7432)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے سے زیادہ خوارج سے جنگ کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 37886)

امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ خوارج سے جنگ کرنے میں اسلام کے اصل سرمایے کی حفاظت ہے، اور مشرکین سے جنگ کرنے میں نفع حاصل کرنا ہے، اور اصل سرمایے کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے ۔

(فتح الباری لابن حجر:37886)

اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ عدویہ نے حائضہ کی نمازوں کی قضا کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے انہیں خوارج سے چوکنا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم حروریہ (خارجی)ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں ، لیکن (معلومات حاصل کرنے کے لیے )سوال کر رہی ہوں ۔

(صحیح مسلم :ح69)

معاذہ عدویہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ گمراہ افکار  و افراد سے عوام کوبھی واقف رہنا چاہیے جیسا کہ وہ ان سے واقف تھیں اسی لیے کہا کہ میں حروریہ (خارجیہ)نہیں ہوں ، اوراگروہ خوارج سے واقف نہ ہوتیں تو ان کا جواب اس طرح نہیں ہوتا بلکہ سوال یہ ہوتا کہ حروری کون ہیں؟

مزید پتہ چلا کہ عوام کبھی طہارت ونماز کے مسائل سے ناواقف رہ سکتی ہے ، لیکن غلط نظریات کے حاملین سے انہیں واقفیت ضرور رہنی  چاہیے۔

جہاں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گمراہوں سے چوکنا کیا وہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی خوداپنے طور پر شر سے بچنے کی فکر کرتے اور رسول اللہ ﷺ سے شر کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری:ح3606)

وہب بن منبہ رحمہ اللہ اپنے کمسن سادہ لوح شاگردوں سے فرماتے کہ تم خوارج سےہوشیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہ سوچ و افکار میں پھنسا نہ لیں کیوں کہ وہ اس امت کے لیے شر ہیں۔

(سیرآعلام النبلاء، الطبقۃ الثانیہ ،وھب بن منبہ :ج4،ص553)

امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قدیم و جدیدزمانے کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ خوارج نمازی ، روزے دار، اور بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود بہت بری قوم ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں ، ان کی یہ ساری عبادتیں ان کے لیے کار آمد نہیں ،وہ امر بالمعروف و نہیں عن المنکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے مفید نہیں کیوں کہ یہ ایسی قوم ہیں جو اپنی خواہشات کی بنا پر قرآن کی تاویل کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں چوکنا کیا نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا خلفائے راشدین نے ان سے ہوشیارکیا اور دیگر صحابہ و تابعیں نے بھی ان کے خلاف شعور بیدار کیا اس لیے کہ یہ اور ان کے پیروانجاس وار جاس (نجس و ناپاک ) ہیں ،جو حاکموں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔

(الشریعہ ،باب ذم الخوارج،ج1،ص325)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خوارج یہودونصاری سے زیادہ مسلمانوں کےلیےشر ہیں کیونکہ وہ ہراس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے ہیں جو ان کا موافق نہ ہو ،مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی اولاد کوحلال سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی جہالت اور گمراہ کن بدعت کی وجہ سے انہی کاموں کو دین سمجھتے ہیں ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ الفصل السادس ،ج10،ص248)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج اگر طاقتور ہوجائیں تو عراق ہو کہ شام، ساری زمین میں فساد مچادیں ،نہ کسی چھوٹے بچے کو چھوڑیں اور نہ ہی کسی بچی کو ، نہ ہی کسی مرد کو بخشیں نہ ہی کسی عورت کو کیونکہ ان کے نزدیک لوگ اس قدر بگڑچکے ہیں کہ ان تمام کو قتل کرنا ہی ان کے سدھار کا واحد راستہ ہے۔

(البدایۃ والنھایۃ ج10،ص584)

امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خوارج کی ابتدا عراق سے ہوئی۔

(فتح الباری ،المقدمہ)

تعجب کی بات ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ساری دنیا میں خوارج کے شروفساد کے  لیے عراق اور شام کا نام لیا ، بالکل اسی طرح  امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی خوارج کی ابتدا عراق سے ہی بتلائی اور آپ دیکھ لیں کہ موجودہ دور کے خوارج یعنی تنظیم داعش عراق سے ہی  نکلی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ نبیﷺ سے لیکر عصر حاضر کے تمام علماء تک، ہر عالم نے گمراہ فرقوں اور باطل فرقوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ امت مسلمہ کے نوجوان جذباتی ہونے کی وجہ سے ان گمراہ تنظیموں کا بہت جلد شکار بن جاتے ہیں اسی لئے انہوں نے ہر دور میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امت مسلمہ کو ان خارجی تنظیموں سے آگاہ کیا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنظیموں کی سازش کو بھانپتے ہوئے اور اسلاف کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے احباب کو ان خارجی فکر کی تنظیموں کی سازشوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ ہمارے احباب نیکی کے جزبے میں ان تنظیموں کی فکر کا شکار نہ ہوجائیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان کا نفاذ ، جید علماء امت کی نظر میں

وضعی قوانین

خالصتاً وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان  کا نفاذ،علماء امت کی نظر 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

اہل سنت کا موقف ہے یہ ہے کہ مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا اس کا نفاذ خارج عن الملة نہیں ہے الا یہ کہ اس کے ساتھ استحلال قلبی یا انکار بھی ہو۔جبکہ خوارج اس قانون سے بالکل بے بہرہ اور بے پرواہ نظر آتے ہیں ۔ آئے دور حاضر کے جید علماء کے دلائل سے بات کو سمجھتے ہیں ؛ 

◀️ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”وخلاصة الکلام : لا بد من معرفة أن الکفر کالفسق والظلم ینقسم الی قسمین : کفر وفسق وظلم یخرج من الملة وکل ذلک یعود الی الاستحلال القلبی وآخر لا یخرج من الملة یعود الی الاستحلال العملی.”

        ”ہماری اس طویل بحث کا خلاصہ کلام کچھ یوں ہے کہ یہ جان لینا چاہیے کہ کفر بھی ظلم اور فسق کی مانند دو طرح کا ہے۔ ایک کفر’ ظلم اور فسق و فجور تو وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے نکل جانے کا باعث بنتا ہے اور یہ وہ قسم ہے جس میں کوئی شخص اسے  دل سے حلال سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے اور دوسرا کفر’ ظلم یا فسق وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا اور یہ وہ قسم ہے جس کا مرتکب عملی طور پر اس کفر’ ظلم یا فسق والے عمل کو حلال سمجھ رہا ہو یعنیدلی طور پر وہ اسے حرام اور گناہ ہی سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ٩’ ١٠)

◀️ سعودی عرب کے سابقہ مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد اطلعت علی الجواب المفید الذی تفضل بہ صاحب الفضیلة الشیخ محمد ناصر الدین الألبانی وفقہ اللہ المنشور فی صحیفة المسلمون الذی أجاب بہ فضیلتہ من سألہ عن ” تکفیر من حکم بغیر ما أنزل اللہ من غیر تفصیل” …

وقد أوضح أن الکفر کفران : أکبر وأصغر کما أن الظلم ظلمان وھکذا الفسق فسقان : أکبر وأصغر.

فمن استحل الحکم بغیر ما أنزل اللہ أو الزنی أو الربا أو غیرھما من المحرمات المجمع علی تحریمھا فقد کفر کفرا أکبر وظلم ظلما أکبر وفسق فسقا أکبر : ومن فعلھا بدون استحلال کان کفرہ کفرا أصغر وظلمہ ظلما أصغر.”

”میں تکفیر کے مسئلے میں اس جواب سے مطلع ہوا جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے اور وہ ‘المسلمون’ نامی اخبار میں نشر ہوا ہے ۔ اپنے اس فتوی میں انہوں نے’ بغیر کسی تفصیل کے اس شخص کی تکفیر کہ جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کیا ہو’ کے بارے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے …

شیخ ألبانی نے یہ واضح کیا ہے کہ کفر دو قسم کا ہے : ایک کفر اکبر اور دوسرا کفر اصغر جیسا کہ ظلم اور فسق و فجور بھی دو قسم کا ہے۔ ایک ظلم اکبر اور دوسرا ظلم اصغر ‘ اسی طرح ایک فسق اکبر اوردوسرا فسق اصغر۔

جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلہ کرنے کو جائز اور حلال سمجھا یا زنا یا سود یاان کے علاوہ مجمع علیہ حرام شدہ امور میں سے کسی امر کو حلال سمجھا تو اس کا کفر تو کفر اکبر ہے یا اس کا ظلم تو ظلم اکبر اور اس کا فسق تو فسق اکبر ہے۔ اور جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کو حلال جانے بغیر اس کے خلاف فیصلہ دیا تو اس کا کفر تو کفر اصغر ہے اور اس کا ظلم بھی ظلم اصغر ہے۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٣ ‘ ١٤) 

بعض لوگوں کو شیخ بن باز رحمہ اللہ کے ایک فتوی سے یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ وہ وضعی قوانین کے مطابق فیصلوں کو مطلق طور پر کفر سمجھتے تھے حالانکہ شیخ کا یہ فتوی بھی ان کے مذکورہ بالا فتاوی ہی کا ایک بیان ہے۔

◀️ شیخ بن باز رحمہ اللہ نے ایک جگہ فرمایا ہے:

” وکل دولة لا تحکم بشرع اللہ ولا تنصاع لحکم اللہ ولا ترضاہ فھی دولة جاھلیة کافرة ظالمة فاسقة بنص ھذة الآیات المحکمات”

” ہر ریاست جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم پرراضی نہ ہو تو وہ مذکورہ بالا محکم آیات کی روشنی میں جاہل ‘ کافر ‘ ظالم اور فاسق ریاست ہے ۔”

(المفصل فی شرح آیت الولاء والبراء : ص ٢٨٨) 

اس فتوی میں ‘ترضاہ‘ کے الفاظ اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ شیخ بن باز رحمہ اللہ اس مسلمان ریاست کی تکفیر کرتے ہیں جو غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے کو جائز اور حلال سمجھتی ہو اور یہی بات جمہور سلفی علماء بھی کہتے ہیں۔

شیخ بن باز رحمہ اللہ کے جلیل القدر تلامذہ نے بھی ان کی طرف اسی موقف کی نسبت کی ہے جسے ہم ان کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں ۔

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد ذھب بعض أھل العلم الی أن مجرد تحکیم قانون أو نظام عام مخالف لشرع اللہ تعالی کفر مخرج من الملة ولو لم یصحبہ اعتقاد أن ھذا القانون أفضل من شرع اللہ أو مثلہ أویجوز الحکم بہ …وقد رجح شیخای الشیخ عبد العزیز بن باز والشیخ ابن عثیمین رحمھما اللہ القول الأول؛

وھو أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ لا یکون کفرا مخرجا من الملة مطلقا حتی یصحبہ اعتقاد جواز الحکم بہ أو أنہ أفضل من حکم اللہ أو مثلہ أو أی مکفر آخر.”

” بعض اہل علم کا دوسراقول یہ ہے کہ مجرد کسی خلاف شرع وضعی قانون یا نظام عام سے فیصلہ کرنا ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے اگرچہ اس شخص کا یہ اعتقاد نہ بھی ہو کہ وضعی قانون اللہ کی شریعت سے افضل یا اس کے برابر ہے یا اس سے فیصلہ کرنا جائز ہے … ہمارے دونوں مشائخ کرام ‘ شیخ بن باز اور شیخ بن عثیمین رحمہما اللہ نے اس مسئلے میں پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ 

اور وہ یہ ہے کہ ؛ مطلق طور پر اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنا ایسا کفر نہیں ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہو حتی  کہ وہ فیصلہ کرنے والا شخص غیر اللہ کی شریعت کے  مطابق فیصلہ کرنے  کو جائز سمجھتا ہو یا شریعت سے افضل یا اسے بہتر سمجھتا ہو یا اس قسم کا کوئی کفریہ سبب پایا جاتا ہو۔”

(تسھیل العقیدة السلامیة : ص ٢٤٢۔٢٤٣)

◀️ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”والذی فھم من کلام الشیخین : أن الکفر لمن استحل ذلک وأما من حکم بہ علی أنہ معصیة مخالفة : فھذا لیس بکافر لأنہ لم یستحلہ لکن قد یکون خوفا أو عجزا أو ما أشبہ ذلک.”

”شیخین یعنی شیخ بن باز اور علامہ ألبانی کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے حاکم کا حقیقی کفر اس صورت میں واقع ہوگا جب وہ اپنے اس فعل کو بالکل جائز سمجھتا ہو جبکہ جو حاکم غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے اور اس کو معصیت یا دین کی مخالفت سمجھے تو وہ حقیقی کافر نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے اس فعل کو حلال نہیں سمجھا۔ بعض اوقات کوئی حاکم خوف یا عجز یا اس قسم کی وجوہات کی وجہ سے بھی شریعت کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے، (لہذا اس صورت میں بھی اس پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جائے گا)۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٦)

◀️ اسی طرح ایک اور مقام پر ایک سوال کے جواب میں شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سؤال: اذا ألزم الحاکم الناس بشریعة مخالفة للکتاب والسنة مع اعترافہ بأن الحق ما فی الکتاب والسنة لکنہ یری الزام الناس بھذا الشریعة شھوة أو لاعتبارات أخری ‘ ھل یکون بفعلہ ھذا کافر أم لابد أن ینظر فی اعتقادہ فی ھذہ المسألة ؟

فأجاب: أما فی ما یتعلق بالحکم بغیر ما أنزل اللہ فھو کما فی کتابہ العزیز ینقسم الی ثلاثہ أقسام : کفر وظلم وفسق علی حسب الأسباب التی بنی علیھا ھذا الحکم’

فھذا الرجل یحکم بغیر ما أنزل اللہ تبعا لھواہ مع علمہ بأن الحق فیما قضی اللہ بہ’ فھذا لا یکفر لکنہ بین فاسق وظالم.

وأما ذا کان یشرع حکما عاما تمشی علیہ الأمة یری أن ذلک من المصلحة وقد لبس علیہ فیہ فلا یکفر أیضا’ لأن کثیر من الحکام عندھم جھل بعلم الشریعة ویتصل بمن لا یعرف الحکم الشرعی وھم یرونہ عالما کبیرا فیحصل بذلک مخالفة

واذا کان یعلم الشرع ولکنہ حکم بھذا أو شرع ھذا وجعلہ دستورا یمشی الناس علیہ نعتقد أنہ ظالم فی ذلک وللحق الذی جاء فی الکتاب والسنة أننا لا نستطیع أن نکفر ھذا

وانما نکفر من یری أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ أولی أن یکون الناس علیہ أو مثل حکم اللہ عزوجل فان ھذا کافر لأنہ یکذب بقولہ تعالی ألیس اللہ بأحکم الحاکمین وقولہ تعالی أفحکم الجاھلیة یبغون ومن أحسن من اللہ حکما لقوم یوقنون.”

سوال: اگر کوئی حاکم کتاب و سنت کے مخالف کسی قانون کو نافذ کرتاہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ حق وہی ہے جو قرآن وسنت میں ہے اور اس قرآن وسنت کے مخالف قانون کو اپنی خواہش نفس یا کئی اور وجوہات کی بناء پر نافذ کرتا ہے تو کیا اپنے اس فعل سے وہ کافر ہو جائے گا یا یہ لازم ہے کہ اس مسئلے میں اس پر کفر کا فتوی لگانے کے لیے اس کا عقیدہ دیکھا جانا چاہیے؟

جواب: اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنے کی قرآن میں تین قسمیں یعنی کفر’ ظلم اور فسق و فجور بیان کی گئی ہیں اور ان قسموں کا اطلاق اس حکم کے اسباب کے اعتبار سے بدلتا جاتا ہے۔

پس اگر کسی شخص نے اپنی خواہش نفس کے تحت ما أنزل اللہ کے علاوہ سے فیصلہ کیا جبکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کا فیصلہ حق ہے تو ایسے شخص کی تکفیر نہ ہوگی اور یہ ظالم اور فاسق کے مابین کسی رتبے پر ہو گا۔

اور اگر کوئی حکمران اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مخالف کو تشریع عام یعنی عمومی قانون کے طور پر نافذ کرتا ہے تاکہ امت مسلمہ اس پر عمل کرے اور ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے (حالات کے مطابق) اس میں کوئی مصلحت دکھائی دیتی ہے حالانکہ اصل حقیقت اس سے پوشیدہ ہوتی ہے (یعنی اس میں کچھ جہالت پائی جاتی ہے ) تو ایسے حکمران کی بھی تکفیر نہ ہوگی کیونکہ اکثر حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شرعی احکام سے ناواقف ہوتے ہیں اور انہیں ایسے جاھل مشیروں کا قرب حاصل ہوتا ہے جنہیں وہ بہت بڑا عالم سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ پس اس طرح وہ شریعت کی مخالفت کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی حکمران شریعت کو جاننے اور علم ہونے کے باوجود کسی وضعی قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا یا اسے بطور قانون اور دستور نافذ کر دیا تاکہ لوگ اس پر عمل کریں تو ایسے حکمران کے بارے بھی ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ وہ اس مسئلے میں ظالم ہے اور وہ حق بات ہے جو قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہے کہ کہ ہم اس حکمران کی بھی تکفیر نہیں کر سکتے۔

ہم تو صرف اسی حکمران کی تکفیر کریں گے جو ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق اس عقیدے کے ساتھ فیصلہ کرے کہ لوگوں کاما أنزل اللہ کے علاوہ پر چلنا اللہ کے حکم پر چلنے سے بہتر ہے یا وہ اللہ کے حکم کے برابر ہے ۔ ایسا حکمران بلاشبہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے قول ‘ کیا اللہ تعالی سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ‘ اور ‘ کیا وہ جاہلیت کے فیصلے سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے ‘ ایسی قوم کے لیے جو کہ یقین رکھتے ہیں’ کا انکار کرتا ہے۔”

(تحکیم قوانین کے متعلق اقوال سلف: ص ٣١۔٣٢)

◀️ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پڑپوتے شیخ عبد اللطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ رحمہما اللہ فرماتے ہیں:

” وانما یحرم اذا کان المستند الی الشریعة باطلة تخالف الکتاب والسنة کأحکام الیونان والفرنج والتتر وقوانینھم التی مصدرھا آراؤھم وأھواؤھم وکذلک البادیة وعاداتھم الجاریة. فمن استحل الحکم بھذا فی الدماء أو غیرھا فھو کافر قال تعالی : ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فأولئک ھم الکفرون.

وھذہ الآیة ذکر فیھا بعض المفسرین : أن الکفر المراد ھنا: کفر دون الکفر الأکبر لأنھم فھموا أنھا تتناول من حکم بغیر ما أنزل اللہ وھو غیر مستحل لذک لکنھم لا ینازعون فی عمومھا للمستحل وأن کفرہ مخرج عن الملة.”

” اگر کتاب و سنت کے مخالف باطل احکامات مثلا ً یونانی’ انگریزی اور تاتاری قوانین کہ جن کا منبع و سر چشمہ اہل باطل کی خواہشات اور آراء ہوتی ہیں’ کو شرعی مرجع بنا لیا جائے تو یہ صرف ایک حرام کام ہے۔ اسی طرح کا معاملہ قبائلی جرگوںاور ان کے رسوم و رواج کے مطابق فیصلوںکا بھی ہےیعنی وہ بھی ایک حرام فعل ہے۔ پس جس نے ان باطل قوانین کے مطابق قتل و غارت اور دیگر مسائل میں فیصلہ کرنے کو حلال سمجھا تو ایسا شخص کافر ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: جو شخص اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ کافر ہے ۔

بعض مفسرین نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں کفر سے مراد کفر اکبر سے چھوٹا کفر یعنی “کفر اصغر” ہے کیونکہ ان مفسرین کے فہم کے مطابق اس آیت میں ما أنزل اللہ کے علاوہ کے مطابق فیصلہ کرنے سے مراد اس فیصلہ کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کرنا ہے لیکن اہل علم کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جو حکمران اس فیصلہ کو حلال سمجھتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔”

(منھاج التأسیس والتقدیس فی کشف شبھات داؤد بن جرجیس: ص٧٠’ دار الھدایة)

◀️ مفسر قرآن شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” فالحکم بغیر ما أنزل اللہ من أعمال أھل الکفر وقد یکون کفر ینقل عن الملة وذلک اذا اعتقد حلہ وجوازہ

وقد یکون کبیرة من کبائر الذنوب ومن أعمال الکفر قد استحق من فعلہ العذاب الشدید…فھو ظلم أکبر عند استحلالہ وعظیمة کبیرة عند فعلہ غیر مستحل لہ.”

”ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرناکفریہ فعل ہے اور بعض صورتوں میں یہ دائرہ اسلام سے اخراج کا باعث بھی بنتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص اپنے اس فعل کو حلال اور جائز سمجھتا ہو۔

اور بعض اوقات یہ فعل ایک کبیرہ گناہ اور کفریہ فعل ہوتا ہے جس کا فاعل شدید عذاب کا مستحق ہے…پس اگر اس شخص نے اپنے اس فعل کو حلال سمجھا تو یہ کفر اکبر ہے اور اگر اس فعل کو حلال نہ سمجھا تو اس وقت یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔”

(تفسیر سعدی: المائدة : ٤٥)

◀️ شیخ عبد المحسن العباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سوال: ”ھل استبدال الشریعة الاسلامیة بالقوانین الوضعیة کفر فی ذاتہ؟ أم یحتاج الی الاستحلال القلبی والاعتقاد بجواز ذلک؟ وھل ھناک فرق فی الحکم مرة بغیرما أنزل اللہ وجعل القوانین تشریعا عاما مع اعتقاد عدم جواز ذلک؟

الجواب: یبدو أنہ لا فرق بین الحکم فی مسألة أو عشرة أو مئة أو أقل أو أکثر فما دام الانسان یعتبر نفسہ أنہ مخطیء وأنہ فعل أمرا منکرا وأنہ فعل معصیة وأنہ خائف من الذنب فھذا کفر دونکفر وأما مع الاستحلال ولو کان فی مسألة واحدة وھو یستحل فیھا الحکم بغیر ما أنزل اللہ ویعتبرذلک حلالا فنہ یکون کفرا أکبر.” 

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

سوال: کیا شریعت اسلامیہ کی جگہ وضعی قوانین کا نفاذ بنفسہ کفر ہے؟ یا اس کے کفر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دلی طور پر اس فعل کو حلال سمجھتا اور اس کے جواز کا عقیدہ رکھتا ہو؟ کیا ایک مرتبہ ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے اور وضعی قوانین کو مستقل و عمومی قانون بنا لینے میں کوئی فرق ہے جبکہ قانون ساز اس قانون سازی کے جائز نہ ہونے کا بھی عقیدہ رکھتا ہو؟

جواب : یہ بات ظاہر ہے کہ کسی ایک مقدمہ یا دس یا سو یا اس سے زائد یا کم میں فیصلہ کرنے سےشرعی حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک انسان یہ سمجھتا ہو کہ وہ خطار کار ہے اور اس نے ایک برا اور نافرمانی کا کام کیا ہے اور اسے اپنے گناہ کا خوف بھی لاحق ہوتو یہ کفر اصغر ہے اور اگر وہ اپنے اس فعل کو حلال سمجھتا ہو’ چاہے ایک مقدمہ میں ہی کیوں نہ ہو اور وہ اس مقدمہ میں ماأنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کو حلال سمجھتا ہو تو یہ کفر اکبر ہو گا۔”

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”أن یضع تشریعا أو قانونا مخالفا لما جاء فی کتاب اللہ و سنة رسولہ و یحکم بہ معتقدا جواز الحکم بھذا القانون أو معتقدا أن ھذا القانون خیر من حکم اللہ أومثلہ فھذا شرک مخرج من الملة.”

” یہ کہ حکمران کوئی ایسی قانون سازی کرے جو کتاب اللہ اور سنت رسول کے مخالف ہو اور وہ اس قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو عقیدے کے اعتبار سے جائز سمجھتا ہو یا اس قانون کو اپنے عقیدے میں اللہ کے حکم سے بہتر خیال کرتا ہو یا اس کے برابر سمجھتا ہو تو یہ ایسا شرک ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے۔”

(تسھیل العقیدة الاسلامیة: ص ٢٤٢)

پس معاصر سلفی علماء کے نزدیک غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے حکمرانوں کا کفر دو قسم کا ہے:  کفر حقیقی اور کفر عملی’

اگر تو حکمران غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے اس کو حلال’ شریعت اسلامیہ سے بہتر’ اس کے برابر اور جائز سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں تو یہ کفر اعتقادی ہے ورنہ کفر عملی۔

◀️ اب اگر اس موقف کے قائل محترم مبشر احمد ربانی صاحب گمراہی پر ہیں یا مرجئہ ہیں تو ان کے ہم فہم و ہم مسلک سلف صالحین جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ، وہ بھی گمراہ و مرجئہ ہیں؟

اس تقسیم کے قائلین:

عبد اللہ بن عباس

امام احمد بن حنبل

امام محمد بن نصر مروزی

امام ابن جریر طبری

امام ابن بطہ

امام ابن عبد البر

امام سمعانی

امام ابن جوزی

امام ابن العربی

امام قرطبی

امام ابن تیمیہ

امام ابن قیم

امام ابن کثیر

امام شاطبی

امام ابن أبی العز الحنفی

امام ابن حجر عسقلانی

شیخ عبد للطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ

شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی

علامہ صدیق حسن خان

علامہ محمد أمین شنقیطی رحمہم اللہ أجمعین

شیخ عبد المحسن العباد

پاکستان کے مفسر قران شیخ عبد السلام الرستمی رحمہ اللہ

شیخ حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی حفطہ اللہ جیسے جید علماء کرام بھی شامل ہیں

اب یا تو یہ سب گمراہ ہیں یا پھر اہل السنۃ والجماعۃ پر “تحکیم بغیر ما انزل اللہ” کے مسئلے میں گمراہی اور ارجاء کا الزام لگانے والے خود سے خارجیت کے دھبے کو چھپانے کی معصومانہ کوشش کرتے پھر رہے ہیں؟؟؟




آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی مذمت

مسلمانوں پر ہتیار اٹھانے کا حکم 4

مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کا حکم

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

شریعت اسلامیہ ایک مسلم  کو زندگی کے ہر موڑ پر   رہنمائی میسر کرتی ہے۔اور وہ چیزیں کہ جن کے وجہ سے ایک مسلم رب کی معصیت کا ارتکاب کر بیٹھے، ان چیزوں کو بیان کرتے ہوئے سختی کے ساتھ ان سے روکتی ہے اور ان چیزوں پر عمل پیرا شخص کو سخت وعیدیں سناتی ہے۔اسی لئے محدثین کی اصطلاح میں اس عمل کو “سد الذرائع” کا نام دیا گیا ہے ۔

چنانچہ اسی طرح کے معاملات میں سے ایک کسی مسلم کی طرف مذاقاً  ہتھیار  اٹھانا ہے ۔اسی لئے شریعت اسلامیہ نے اس سے سختی سے روکاہے۔چنانچہ نبی کریمﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

” لا يشير أحدکم إلی أخيه بالسلاح فإنه لا يدري أحدکم لعل الشيطان ينزع في يده فيقع في حفرة من النار”

تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید کہ شیطان اس کے ہاتھ سے اسلحہ چلوا دے اور پھر وہ دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔

 صحیح المسلم، کتاب البرواصلۃ والآداب، باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی مسمل، رقم الحدیث 126 (2617)،(4/20)

یہاں اِستعارے کی زبان میں بات کی گئی ہے یعنی ممکن ہے کہ ہتھیار کا اشارہ کرتے ہی وہ شخص طیش میں آجائے اور غصہ میں بے قابو ہو کر اسے چلا دے۔ چنانچہ اس عمل کی مذمت اور قباحت بیان کرنے کے لئے اسے شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے تاکہ لوگ اِسے شیطانی فعل سمجھیں اور اس سے باز رہیں۔

اسی طرح ایک اور جگہ پر اس عمل کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

“من حمل علينا السلاح فليس منا”

جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایا تو وہ ہم میں سے(یعنی سنت پر عمل پیرا لوگوں میں سے)نہیں۔

(سنن ابن ماجہ،باب من شھرالسلاح)

یہاں ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ اس اسلحہ اٹھانے سے مراد قتال کیلئے اسلحہ اٹھانا ہے  نہ کہ اپنےاور دوسروں کے  دفاع کیلئے اسلحہ اٹھانا جیسا کہ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتا ب”فتح الباری “میں لکھتے ہیں:

“المراد من حمل عليهم السلاح لقتالهم لما فيه من إدخال الرعب عليهم لا من حمله لحراستهم مثلا فأنه يحمله لهم لا عليهم”

“من حمل عليهم السلاح”  سے مراد آدمی پر اس کو قتل کرنے یا اس پر رعب ڈالنے کی غرض سے اسلحہ اٹھانا ہے جبکہ اپنے یا دوسروں کے دفاع میں اسلحہ اٹھا نے والا اس وعید میں شامل نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ ان کیلئے اسلحہ اٹھا رہا ہے نہ کہ ان پر اسلحہ اٹھا رہا ہے(یعنی اسلحہ وہ اپنے لوگوں پر نہیں اٹھارہا بلکہ اپنے آپ اور اپنے لوگوں پرحملہ آور  شخص جو کہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ،کے خلاف اٹھا رہا ہے)

سلاح (ہتھیار) ہر وہ ہتھیار ہے جو جنگ میں مارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے نیزہ، تلوار، بندوق، پستول، کلاشنکوف، خنجر وغیرہ لہٰذا ان سے کسی مسلمان بھائی (اور اسی طرح اسلامی مملکت میں رہنے والے ذمی) کو ڈرانا حرام ہےچاہے وہ بالقصدہو  یا مذاق کے طور پرکیونکہ  ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اشارہ کرنا نہایت خطرناک ہے، ہوسکتا ہےکہ شیطان وہ ہتھیار اس سے غیرارادی طور پر چلوا دے اورسامنے والا شخص قتل ہوجائے اور یہ شخص اس وجہ سے جہنمی بن جائے۔ لیکن بدقسمتی سے اسلام کی اس تعلیم کے برعکس آج کل ہتھیار کی نمائش اور اس کا بےجا استعمال بہت عام ہوگیا ہےچنانچہ خوشی کے موقعے پر ہوائی فائرنگ کا بھی رواج بڑھتا جارہا ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور اس کی نقصانات بھی آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔والعیاذ باللہ العظیم

اسی طرح ایک اور جگہ پر نبیﷺ نے  یہ الفاظ ارشاد فرمائے:

“من سل علينا السيف فلیس منا”

جس نے کسی مسلم پر تلوار اٹھائی تو وہ ہم میں سے نہیں۔ 

 (مسلم،باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا إله إلا الله،ح:162)

اسی طرح ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:

“مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّه”

جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔

(صحیح المسلم، کتاب البرواصلۃ والآداب، باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی مسلم ، رقم الحدیث 125 (2616)، 3/2020)

نبی کریمﷺکے ارشاد گرامی“وان کان اخاہ لابیہ وامہ” (اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو)سے مقصود یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا منع ہے، خواہ اس شخص کے اس کے گھریلو تعلقات ہوں اور اچھا خاصا مذاق ہو۔

علاوہ ازیں ایسے اشارہ کرنے والے پر فرشتوں کی لعنت کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا اشارہ کرنا حرام ہے۔           

(شرح النووی: 16/ 170)

چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ریاض الصالحین میں مذکورہ بالا دونوں حدیثوں پر درج ذیل عنوان قائم کیا ہے:

مسلمان کی طرف ہتھیار وغیرہ سے اشارہ کرنے کی ممانعت، اشارہ خواہ مذاق سے ہو یا سنجیدگی سے، نیز بے نیام تلوار کو ہاتھ میں لینے کی ممانعت۔    

(ریاض الصالحین ص520)

آپ غور کیجئے کہ جب کسی مسلم کی طرف مذاقاً ہتھیار اتھانے کی اتنی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور اس گناہ کے مرتکب شخص کواتنی سخت وعید سنائی گئی ہے تو کسی مسلمان کو اذیت دینا، یا اس کی پٹائی کرنا، یا اس کو زخمی کرنا، یا اس کو قتل کرنا اللہ تعالی کے ہاں کس قدر سنگيں جرم ہوگا-

اسی طرح نبیﷺ نے صرف کسی دوسرے پر اسلحہ اٹھانے سے ہی نہیں بلکہ عمومی حالات میں بھی اسلحہ کی نمائش  کو ممنوع قرار دیا۔چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:

“نَهَی رَسُولُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا”

رسول اکرم ﷺ نے ننگی تلوار لینے دینے (یعنی پکڑانے سے) منع فرمایا۔

(ترمذي، کتاب الفتن، باب ما جاء في النهي عن تعاطي السيف مسلولا، 4 : 464، رقم: 21632)

ننگی تلوار کے لینے دینے میں جہاں زخمی ہونے کا احتمال ہوتا ہے وہاں اسلحہ کی نمائش سے اشتعال انگیزی کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ دین اسلام  کا خیر و عافیت اور مذہب امن و سلامتی ہونے کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نےکھلم کھلااسلحہ کی نمائش پر پابندی لگا دی، تاکہ اسلامی معاشرہ امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے ۔ اسی طرح مذکورہ حدیث میں لفظ “مَسْلُول” اس اَمر کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ریاست کے جن اداروں کے لیے اسلحہ ناگزیر ہو وہ بھی اس کو غلط استعمال سے بچانے کے لیے انتظامات کریں۔

درج بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ جب اسلحہ کی نمائش، دکھاوا اور دوسروں کی طرف اس سے اشارہ کرنا سخت منع ہے جبکہ مسلم معاشروں میں اسلحہ لہراتے ہوئے اسلام کے نفاذ کے نام پر آتشیں گولہ و بارود سے مخلوق خدا کے جان و مال کو تلف کرنا کتنا قبیح عمل اور ظلم ہوگا! اور یاد رہے تاریخ اسلامی میں یہ طریقہ ہمیشہ سے خوارج کا رہا ہےکہ وہ کسی مسلم کو قتل کرنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے۔چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ داعش اور تحریک طالبان پاکستان  کے لوگ کسی بھی مسلمان کو قتل کرنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے اور اسی پر بس نہیں بلکہ وہ ان کوکافر قرار دینے کے بعد قتل کرنا  ضروری اور فرض سمجھتے ہیں ۔




آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج اسلاف

آیات تحکیم کی غلط تاویل کے باعث خوارج کی گمراہی اور منہج  اسلاف

ائمہ عظام و محدثین عظام  کی نظر میں

  
الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

امام ا بو عبیدہ نے فضائل قرآن میں اور سعید بن منصور نے ابراہیم تمیمی سے بیان کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ بات سوچ رہے تھے کہ اس امت میں اختلاف کیسے واقع ہو سکتا ہے۔ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کو بلوایا اور فرمایا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ اس امت کا نبی ایک، قبلہ ایک، کتاب ایک پھر یہ امت اختلاف میں کیسے پڑے گی ….؟ (یعنی بظاہر یہ ممکن نہیں۔ ) 

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا : اے امیر المومنین یہ قرآن ہم میں نازل ہوا ہم نے اسکو نبی سے پڑھا اور ہمیں معلوم ہے(کون سی آیات) کس بارے نازل ہوئی۔ جبکہ ہمارے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہو گا کہ کونسی آیت کس بارے نازل ہوئی اور وہ خود سے اس کے بارے رائے زنی کرینگے ۔ جب اپنی اپنی آراء پہ چلیں گے تو ان میں اختلاف ہو گا۔۔۔

[فضائل قرآن لابی عبیدۃ]

اسی پہ امام شاطبی فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کا یہ فرمانا برحق ہے کہ جب آدمی کو علم ہو کہ یہ آیت کس بارے نازل ہوئی تو وہ اسکے ماخذ، تفسیر، اور شریعت کے مقصد کو معلوم کر لیتا ہے اور زیادتی کا شکار نہیں ہوتا تو جب کوئی آدمی اپنی نظر سے کئی احتمالات بنانا شروع کردیتا ہے تو ایسے لوگوں کے علم میں۔پختگی نہی ہوتی اور یہ لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔

اسکی وضاحت اس واقع سے بھی ہوتی ہے جب سیدنا نافع رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ صحابی رسول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کی حروریہ(خوارج)کے بارے کیا رائے ہے تو انہوں نے فرمایا : وہ انکو اللہ کی سب سے بدترین مخلوق سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خوارج کفار کے بارے نازل شدہ آیات کو مسلمانوں پہ فٹ کرتے ہیں۔

یہ سن نے سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ لوگ متشابہ آیات جو مختلف احتمال رکھتی ہیں انکی پیروی کرتے ہیں جیسے اللہ کا فرمان: 

ومن لم یحکم بما انزل اللہ فأولئک الکافرون
اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ کافر ہے

اور ساتھ یہ آیت ملا لیتے ہیں۔۔۔۔

وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآَخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ (الانعام: 150)  

وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لائے اور وہ اپنے رب کے ساتھ برابری کرنے والے تھے

اور نتیجہ یہ نکالتے ہیں کہ جس نے کفر کیا اس نے اللہ کی برابری کی اور جس نے رب کے ساتھ برابری کی اس نے شرک کیا۔۔۔!!!
پس یہ لوگ مشرک ہیں لہٰذا وہ خروج کرتے ہیں اور قتل و غارت کرتے ہیں۔کیونکہ انہوں نے آیت کی تفسیر ہی ایسے لی تھی

[الاعتصام للشاطبی ج2، ص 692_691]

اہل السنة والجماعة کے علماء کا اجماع ہے کہ آیات تحکیم سے ظاہر مراد نہیں ہے اور ان آیات کے ظاہر سے خوارج اور معتزلہ، کفر اکبر کا استدلال کرتے ہیں ۔۔۔ !!!!

saidagate_47826

مندرجہ ذیل علماء کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:

1⃣۱۔ علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’اس آیت کے ظاہر سے وہ لوگ کفر اکبر کی حجت بیان کرتے ہیں جو گناہوں کی وجہ سے کفر اکبر کا فتوی لگاتے ہیں اور وہ خوارج ہیں۔ اور اس آیت میں انکی کوئی حجت نہیں۔‘‘ 

[المفہم جلد نمبر5صفحہ نمبر117]

2⃣۲۔ حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

‘‘ اوراس باب میں اہل بدعت کی ایک جماعت گمراہ ہوئی ۔اس باب میں خوارج اور معتزلہ میں سے پس انہوں نے ان آثار سے حجت بیان کی کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکب کافر ہیں اور اللہ تعالی کی کتاب میں سے ایسی آیات کو حجت بنایا جن سے ظاہر مراد نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ) (المائدة: 44)‘‘

[التمہید جلد 16، صفحہ 312]

3⃣۳۔ امام آجری رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:

’’اورحروری (خوارج) جن متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں ان میں سے یہ آیت بھی ہے‘‘
(وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ [المائدة: 44]

اور اس آیت کے ساتھ یہ آیت بھی بیان کرتے ہیں

ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الانعام : 1]

’’پس جب وہ کسی حکمران کو دیکھتے ہیں کہ وہ بغیر حق کے فیصلہ کرتا ہے ،کہتے ہیں یہ کافر ہے اور جس نے کفر کیا اس نے اپنے رب کے ساتھ شریک بنا لیا ، پس یہ حکمران مشرک ہیں ،پھریہ لوگ نکلتے ہیں اور وہ کرتے ہیں جو آپ دیکھتے ہیں کیونکہ (وہ )اس آیت کی تاویل کرتے ہیں ۔‘‘

[الشریعہ صفحہ:44]

4⃣ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اور یہ وہ آیت ہے جسے خوارج ایسےحکمرانوں کی تکفیرکے لئے بطور حجت پیش کرتے ہیں جو اللہ تعالی کے نازل کردہ فیصلوں کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں۔‘‘

[منہاج السنہ ج5 ص131]

5⃣علامہ ابو الحسن الملطی رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ ؛

یہ بات فیصلہ شدہ ہے کہ سب سے پہلے خوارج وہ تھے کہ جنہوں نے لا حکم الا للہ ۔۔۔ اللہ عزوجل کی ذات اقدس کے علاوہ کسی کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں کا نعرہ لگایا تھا ۔ اور ان کا دوسرا نعرہ یہ تھا کہ ؛ امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کفر کا ارتکاب کیا ہے والعیاذ باللہ کہ انہوں نے بندوں کے درمیان فیصلے کا اختیار حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ کو سونپ دیا تھا ۔ جبکہ فیصلے کا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔۔۔۔۔!!!!

خارجیوں کے فرقے کو اس وجہ سے بھی خوارج کہا جاتاہے کہ انہوں حکمَین والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا تھا کہ جب انہوں نے جناب علی اور ابو موسیٰ اشعری کے فیصلہ کرنے والے عمل کو ناپسندیدگی اور نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا تھا ؛ لا حکم الا للہ ۔۔۔۔۔

[التنبیہ والرد علی اھل الاھواء والبدع ص 47]

تو قارئین کرام!!!

خوارج کی بنیاد یعنی مسئلہ تحکیم کے اوپر میں مکمل وضاحت ہو چکی ہے ۔ اب ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی عام درد دل رکھنے والا ، امت کا غم رکھنے والا مسلمان بھائی مسئلہ تحکیم کی وجہ سے گمراہی کا شکار نہیں ہوگا اور نہ ہی خوارج العصر ، داعش ، القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسے فتنہ کا شکار ہوگا ۔ ان شاءاللہ ۔۔۔۔۔۔




اپنی ذات پر دین حنیف کے معاملے میں تشدد اور دوسروں کو تنگی میں ڈالنا

index132

تکفیری سوچ کو جنم دینے والے چند اہم محرکات 

اپنی ذات پر دین حنیف کے معاملے میں

تشدد اور دوسروں کو تنگی میں ڈالنا  

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین امابعد !

عصر حاضر میں غلو وتکفیر کے مظاہر میں سے دین حنیف کے معاملے میں اعتدال کی راہ سے نکل جانا بھی ہے .یعنی وہ اعتدال کا منہج وطریق کہ جس پر خود نبیﷺ کار بند تھے اور آپﷺنے اپنی درج ذیل حدیث مبارک میں کہ جوسیدنا ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،تشدد کی راہ اپنانے سے منع کیا ہے :

“ان الدین یسر،ولن یشاد الدین الا غلبہ ،فسددو ،وقاربو ا وابشرو ا واستعینو ا با لغدوۃ والروحۃ وشیء من الدلجۃ”

بے شک دین حنیف ،اسلام نہایت آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آجائیگا (اس کی سختی نہ چل سکے گی )۔ اس لیے اپنے عمل میں  پختگی پیدا کرو اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی اختیار کرو اور خوش ہو جاؤ (کہ ا س طرز  عمل سے تم لوگوں کو  دین ودنیا  کے سب فوائد حاصل ہوں گے۔)صبح،دوپہر ، شام اور رات کے کچھ حصے میں (عبادت سے ) مدد حاصل کرو ۔

(صحیح البخاری ، کتاب الایمان ، باب الدین یسر حدیث:39) 

زیادہ تر دین میں تشدد کا سبب یہ بنتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اسلام ،قرآن وسنت کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی اور یہ دونوں چیزیں یعنی تشدد اور عدم تفقہ فی الدین (یعنی مسائل دینیہ میں فقاہت نہ ہونا) ؛ خوارج کی سب سے بڑی علامتیں ہیں۔آج بھی خوارج کی ڈگر پر چلنے والوں کی یہی دو بڑی علامتیں ہیں۔

? غلو وتکفیر کے مظاہر میں سے دین میں پائی جانے والی آسانی کو ترک کر کے تنگی والی راہ کو اختیار  کرنا  ہے۔ 

چنانچہ اس غلو کا شکار لوگ دوسرے لوگوں سے ایسے اعمال کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جن کی وہ استطاعت ہی  نہیں رکھتے ۔انہیں ایسی ایسی باتوں کا پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جس کا آسان  شریعت نے انہیں قطعاً پابند نہیں کیا اور نہ ہی وہ ان اعمال کی استطاعت رکھتے ہیں اور نہ ہی عام لوگ ان معانی ومفاہیم کو جان رہے ہوتے ہیں کہ جن الفاظ ومتون  کے ساتھ وہ ان کو مخاطب کرتے ہیں ۔

? ان تنگی والے ذرائع واسباب میں سے کچھ یوں ہیں؛

1⃣   احکام ومسائل کے مراتب سے لا علمی 

2⃣   لوگوں کے مراتب سے لا علمی 

? جہاں تک اس تنگی اور تشدد والے طریق کی مجالات اور اس کے اشکال کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں:

?نظر کا ایجاب

?سب لوگوں  پر کسی بات کا استدلال 

?لوگوں سے ایسی باتیں کرنا کہ جن کہ بارے میں وہ بالکل نہ جانتے ہوں 

?دین میں دی گئی رخصتوں کو بالکل ترک کر دینا اور ایسی باتوں کا التزام کرنا جن کا شریعت نے  یکسر پابند نہ کیا ہو

? دین اسلام تو ہر موڑ پر ہمیں آسانی کی تلقین کرتا ہے ، نبوی دور میں صحابہ کرام کی کئی ایک ایسی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ نمازوں کی امامت کرتے ہوئے عوام الناس کو لمبی لمبی نمازیں پڑھانا اور اس طرح انہیں تنگی میں ڈال دینے سے روکا گیا ہے ،  رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ مسجد میں ایک شخص نماز بہت زیادہ لمبی پڑھاتا ہے ، تو آنحضرت ﷺ اس کے پاس آئے اسے کندھے سے پکڑا ور فرمایا :  

ان اللہ رضی لھٰذہ الامۃ الیسر وکرہ لھم العسر قالھا ثلاث مرات وان ھٰذہ الامۃ اخذ بالعسر وترك الیسر

(الصحیحۃ:1635)

” اللہ تعالی نے اس امت کے لئے آسانی کو پسند اور تنگی کو ناپسند کیا ہے ، تین مرتبہ یہی فرمایا ،جبکہ اس امت نے آسانی کو چھوڑ کر تنگی کو پکڑ لیا ہے ۔” 

اسی طرح ایسے شخص  پررسول اللہ ﷺ نے سخت ناراضگئ کا اظہار کیاجیسا کہ ابو مسعود ﷜ سے مروی ہے کہ ایک صحابی نے نبیﷺ سے شکایت کی :

قال رجل يا رسول الله إني لأتأخر عن الصلاة في الفجر مما يطيل بنا فلان فيها فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم ما رأيته غضب في موضع كان أشد غضبا منه يومئذ ثم قال : يا أيها الناس إن منكم منفرين فمن أم الناس فليتجوز فإن خلفه الضعيف والكبير وذا الحاجة

(صحیح البخاری : 672)

“میں نماز فجر میں فلاں امام کے لمبی نماز پڑھانے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہوں تو نبیﷺ نے شدید غصے کا اظہار کیا ، میں نے آپ ﷺ کو اس سے پہلے اتنے غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا جتنا سخت آپ نے یہاں غصے کا اظہار کیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے لوگو! یقینا تم میں (دین سے ) متنفر کرنے والے بھی موجود ہیں ، تم میں سے جو بھی نماز کی امامت کروائے وہ نماز کو مختصر کرے ، کیونکہ لوگوں میں بوڑھے،کمزوراور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔

یعنی وہ ان سب کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے ۔ اپنا ذاتی شوق ایک الگ معاملہ ہے لیکن اسے دوسروں پر مسلط کرنا ، شریعت میں ہمیں اس کی کسی صورت بھی اجازت نہیں ملتی ۔

 معاشرے میں ہمیں اس کی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں ، ایسے رویے کا نقصان بعض اوقات ہمیں اس صورت میں بھی ملتا ہے کہ لوگ دور رہنے لگتے ہیں اور اکتاہت محسوس کرنے لگتے ہیں اسی طرح کئی ملحدین کو بھی پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے جبکہ ہمیں تو ان سب سازشیوں کو موقع دیے بغیر لوگوں کو قریب کرنا ہے اور محبت سے دین پر کاربند رہنے کی تلقین کرنی ہے۔ 

اللہ رب العزت ہمیں دوسروں کو تنگی میں ڈالنے اور مشکلات کھڑے کرنے والے بننے کی بجائے ، سب کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والے، اور ایک دوسرے کی خوشی غمی میں کام آنے والے بنا دے آمین ۔۔۔۔ 




لا علمی میں کفر نہیں" ۔ صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں سے مسئلہ تکفیر کی وضاحت"الشیخ ابو جمیل السوری

“لا علمی میں کفر نہیں” 

صحابہ اور صحابیات کی زندگیوں سے مسئلہ تکفیر کی وضاحت

الشیخ ابو جمیل السوری 

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد!

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ

(الاحزاب : 21)

” البتہ تحقیق تمہارے لئے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے بہترین نمونہ ہے ، اس کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے ۔ ”

اصل بات یہ ہے کہ جس شخص نے کلمہ طیبہ کا اقرار کیا ہے وہ مسلمان ہے اور اس پر تمام مسلمانوں والے احکامات لاگو ہوں گے البتہ کچھ ایسے افعال اعمال ، اعتقادات و نظریات بھی ہیں جن کی وجہ سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے لیکن اس کا فیصلہ اتنا آسان یا معمولی نہیں کہ بس جیسے ہی ہم بظاہر کسی سے کوئی کفریہ بات یا فعل کا ارتکاب ہو تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے اور اس پر اصلی کفار والے تمام احکامات جاری کر دیے جائیں ۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ اس کے کچھ اصول و ضوابط ہیں اور کچھ موانع ہیں جن کو مد نظر رکھنا بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔انہی موانع میں سے ایک مانع جہالت ہے جس کی کچھ مثالیں دے کر سمجھایا جائے گا ۔

رسول اللہ ﷺ ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں بہترین نمونہ ہیں تمام زندگی کے معاملات میں ہم ان سے رہنمائی لینے کی کوشش کرتے ہیں دعوت و تبلیغ کے حوالے ہم نبوی منہج کو دیکھیں تو ہمارے سامنےتربیت و اصلاح والا پہلو ہی نمایاں نظر آتا ہے حتی کہ کسی مسلمان سے کوئی کفریہ بات یا عمل سرزد ہو گیا تب بھی آپ ﷺ نے اس کی اصلاح کی ہے اس پر کفر کا فتویٰ  لگا کر اس کو کفار کی صف میں شامل نہیں کیا  ۔بطور مثال مندرجہ ذیل واقعات پر غور کریں :

ام المؤمنین سیدہ عائشہ﷞ کا نبی کریم ﷺ سے ایک سوال 

سیدہ عائشہ ﷞ سے ایک حدیث یوں مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں :

 جس رات کی میری باری تھی آپ ﷺ نے اپنی چادر اوڑھ لی اور دونوں جوتے اتارے اور انہیں اپنے پاؤں کے پاس رکھ لیا اور اپنے بستر پر اپنے تہہ بند کا پلو بچھا دیا اور لپٹ گئے جب تھوڑی ہی دیر گزری کہ آپ ﷺ نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں آپ نے آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے پھر دروازہ آہستہ سے بند کر دیا ، میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہن لیا پھر آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑی ، یہاں تک کہ آپ بقیع میں آئے ، کھڑے ہو گئے اور لمبا قیام کیا پھر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو اٹھایا پھر آپ واپس لوٹے ، میں بھی واپس لوٹی ، آپ تیز چلے میں بھی تیز چلی ، آپ ﷺ دوڑے میں بھی دوڑی ، آپ ﷺ پہنچے تو میں بھی پہنچ گئی ، میں آپ ﷺ سے سبقت لے گئی ۔

میں گھر میں داخل ہوئی ، میں ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ ﷺ اندر تشریف لے آئے ۔ فرمایا : اے عائش! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تیرا سانس پھول رہا ہے ؟

میں نے کہا : یا رسول اللہ ، کوئی کچھ نہیں ۔ فرمایا: تم مجھے بتا دو ، ورنہ مجھے باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا بتا دے گا ۔

 میں نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ پھر پورے قصے کی میں نے آپ کو خبر دی ، فرمایا : تم وہ سایہ تھی جو میں اپنے آگے آگے دیکھ رہا تھا ۔ میں نے کہا : ہاں ۔

آپ ﷺ نے میری پشت پر کچوکا مارا جس کی مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا : کیا تو سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا ۔ کہنے لگیں :

” مهما يكتم الناس يعلمه الله ؟ “

جب لوگ کچھ چھپا لیتے ہیں تو اللہ اس کو جانتا ہے ؟

  فرمایا: ہاں ، جبرئیل ﷤ میرے پاس آئے تھے جس وقت تو نے دیکھا تو مجھے پکارا اور تجھ سے اسے چھپایا تو میں نے اس کی بات قبول کی اور تجھ سے چھپایا اور وہ تیرے پاس اس لئے نہیں آئے تھے کہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی اور میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے ، سو میں نے تجھے جگانا پسند نہ کیا اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ تم گھبرا جاؤ گی ۔

جبرئیل ﷤ نے کہا : بلا شبہ تیرا رب تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اہل بقیع والوں کے ہاں آئے اور ان کے لئے استغفار کرے ، کہنے لگیں : یا رسول اللہ میں کس طرح کہوں ؟ فرمایا : تم کہو : 

” السلام على اهل الديار من المؤمنين والمسلمين ويرحم الله المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء الله للاحقون ” 

[مسند احمد : 6/221 ، ونسخۃ اخری 43/43-45 (25855) ، صحیح مسلم کتاب الجنائز باب ما یقول عند دخول القبور والدعاء لأھلھا : 103/974 ، سنن النسائی (2037) ، نسائی کبری ( 2164 ، 7685 ، 8912 ) المصنف لعبد الرزاق : 3/570 ]

امام ابن  تیمیہ فرماتے ہیں :

فهذه عائشة أم المؤمنين سألت النبى صلى الله عليه وسلم هل يعلم الله كل ما يكتم الناس ؟ فقال لها النبى صلى الله عليه وسلم : “نعم” وهذا يدل على أنها لم تكن تعلم ذلك ولم تكن قبل معرفتها بأن الله عالم بكل شىء يكتمه الناس كافرة . 

[مجموع الفتاوی لابن تیمیہ : 11/412-413]

” یہ عائشہ ام المؤمنین ﷞ ہیں جنہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا : کیا جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالی اسے جانتا ہے ؟ تو نبی ﷺ نے ان سے کہا : ہاں ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ یہ بات نہیں جانتی تھیں اور اس بات کی معرفت سے قبل کہ اللہ تعالی ہر اس چیز کو جانتا ہے جو لوگ چھپاتے ہیں ، وہ کافرہ نہ تھیں ۔ “

ذات انواط والا قصہ

نبی کریم ﷺ غزوہ حنین سے واپس آرہے تھے راستے میں مشرکین کی ایک بیری (کے درخت ) جسے وہ ’’ ذات انواط‘‘  کہتے تھے (اور اس کو متبر ک سمجھتے تھے ) کے پاس سے گزرے تو بعض نئے نئےمسلمان ہونے والے (یعنی دین کے مسئلے میں لا علم) صحابہ کرام نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی:

 یا رسول اللہ ﷺ اجعل لنا ذات انواط کمالھم ذات انواط

’’ہمارے لئے بھی ایک ذات انواط ( بیری کا درخت) مقرر کر دیجئے جس طرح ان کے پاس ایک ذات انواط ہے۔‘‘

آپ ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا :

تم نے مجھ سے وہی مطالبہ کیا ہے جو قوم موسیٰ نے سیدناموسیٰ علیہ السلام سے  کہا تھا:

اجعل لنا الھا کما لھم الھۃ  

’’ہمارے لیے بھی ایک معبود مقرر کر دیجئے جس طرح ان کے پاس ایک معبود ہے‘‘

توموسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: انکم قوم تجھلون

’’تم ایک جاہل قوم ہو۔‘‘

( جامع الترمذی ,مسند احمد )

غور کیجئے ! اللہ رب العالمین کے مقابلہ میں نئے الٰہ کا مطالبہ بغاوت و شرک ہے یا نہیں ؟ نبیﷺ نےان کی اصلاح فرمائی تربیت کی یا ان پر فتویٰ کفر داغ کر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا؟

ایک صحابی نے زنا کی اجازت مانگی

اسلام میں نہ صرف زنا حرام ہے بلکہ زنا کے قریب جانا بھی حرام ہے لیکن ایک نوجوان صحابی نبی ﷺ کے پاس آیا ۔ اور آکر عرض کیا۔ مجھے زنا کی اجازت دیجئے!

آپ ﷺنے فرمایا  :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری بہن کے ساتھ کو ئی بد کاری کرے ؟

اس نے کہا : نہیں !

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری بیٹی کے ساتھ کوئی منہ کالا کر ے ؟

اس نے کہا :نہیں!

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری ماں کے ساتھ کوئی حرام کاری کرے ؟

اس نے کہا :نہیں !

پھر آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری خالہ کے ساتھ کوئی زنا کرے ؟

اس نے کہا: نہیں!

آپ ﷺ نے فرمایا :

کیا تو پسند کرتا ہے کہ تیری پھوپھی کے ساتھ کوئی بدکاری کرے ؟

اس نے کہا: نہیں!

پھر آپ ﷺ نے اسے اپنےقریب  کیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعاکی:

اللھم اغفر ذنبہ و طھر قلبہ و حصن فرجہ 

’’اے اللہ اس بندے کے گناہ معاف کر دے اور اس کے دل کو پاک و صاف کر دے اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت فرما ۔ ‘‘

صحابہ کرام بیان فرماتے ہیں:

اس کے بعد اس کو گلی کو چوں میں کبھی نظر اونچی کرکے چلتا ہوا نہیں دیکھا گیا ۔اللہ اکبر 

( مسند احمد, طبرانی سلسلہ صحیحہ )

ماشاء اللہ وشئت والا قصہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

( أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشِئْتَ، أَجَعَلْتَنِي وَاللهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ)

(عمل الیوم و اللیلۃ للنسائی، ح:988 و مسند احمد:1/ 214)

“ایک آدمی نے نبی ﷺسے کہا: “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ”(وہی ہوگا جو اللہ تعالی اور آپ چاہیں)تو آپ نے فرمایا: تو نے مجھے اللہ تعالی کا شریک ٹھہرادیا ؟ صرف اتنا کہو “مَا شَاءَ اللَّهُ” “وہی ہو گا جو اللہ تعالی چاہے گا۔” 

ایک اور روایت میں اس طرح سے مروی ہے :

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے مادری بھائی طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

رأيت كأني أتيت على نفر من اليهود، فقلت: إنكم لأنتم القوم، لولا أنكم تقولون: عزير ابن الله. قالوا: وإنكم لأنتم القوم لولا أنكم تقولون: ما شاء الله وشاء محمد.

ثم مررت بنفر من النصارى فقلت: إنكم لأنتم القوم، لولا أنكم تقولون: المسيح ابن الله، قالوا: وإنكم لأنتم القوم، لولا أنكم تقولون: ما شاء الله وشاء محمد.

فلما أصبحت أخبرت بها من أخبرت، ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته. قال: (هل أخبرت بها أحداً؟) قلت: نعم. قال: فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال:

(أما بعد؛ فإن طفيلاً رأى رؤيا، أخبر بها من أخبر منكم، وإنكم قلتم كلمة كان يمنعني كذا وكذا أن أنهاكم عنها. فلا تقولوا: ما شاء الله وشاء محمد، ولكن قولوا: ما شاء الله وحده)

(سنن ابن ماجہ، الکفارات، باب النھی ان یقال ماشاء اللہ وشئت، ح:2118 و مسند احمد:5/ 72)

“میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میرا گزر یہود کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا ۔ میں نے ان سے کہا : تم اچھے لوگ ہو اگر تم عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالی کا بیٹا نہ کہو، تو انہوں نے جوابا کہا: تم بھی اچھے ہو اگر تم “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِاءَ مُحَمَّدٌ” (وہی ہو گا جو اللہ تعالی اور محمد ﷺچاہیں) نہ کہو،

اس کے بعد میرا گزر عیسائیوں کے ایک گروہ کے پاس سے ہوا ۔ میں نے ان سے کہا: تم اچھے لوگ ہو اگر تم مسیح (عیسی علیہ السلام )کو اللہ تعالی کا بیٹا نہ کہو۔ انہوں نے جوابا کہا: تم بھی اگر “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِاءَ مُحَمَّدٌ”نہ کہو تو بہت اچھے ہو۔

صبح ہوئی تو میں نے کچھ لوگوں سے اس خواب کا تذکرہ کیا۔ پھر نبی (ﷺ) کی خدمت میں آکر آپ سے ساری بات بیان کی۔ آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا تم نے اس خواب کا کسی سے ذکر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔

آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: امابعد! طفیل نے خواب دیکھا ہے اور اس نے تم میں سے بعض لوگوں کے سامنے اس کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ تم ایک جملہ بولا کرتے ہو، تمہیں اس سے روکنے میں مجھے ہچکچاہٹ رہی۔ تم “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِاءَ مُحَمَّدٌ”(وہی ہو گا جو اللہ تعالی اور محمد(ﷺ) چاہیں) نہ کہا کرو بلکہ صرف “مَا شَاءَ اللَّهُ” (وہی ہو گا جو اللہ تعالی چاہے)کہا کرو۔”

ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

( أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللهُ، وَشِئْتَ، أَجَعَلْتَنِي وَاللهَ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللهُ وَحْدَهُ)

(عمل الیوم و اللیلۃ للنسائی، ح:988 و مسند احمد:1/ 214)

“ایک آدمی نے نبی ﷺسے کہا: “مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ”(وہی ہوگا جو اللہ تعالی اور آپ چاہیں)تو آپ نے فرمایا: تو نے مجھے اللہ تعالی کا شریک ٹھہرادیا ؟ صرف اتنا کہو “مَا شَاءَ اللَّهُ “وہی ہو گا جو اللہ تعالی چاہے گا۔” 

حضرت معاذ بن جبل ﷜ کا رسول اللہ ﷺ کو سجدہ کرنا

اسی طرح معاذبن جبل ﷜ عنہ نے نبی کریمﷺ کو سجدہ کر دیا، تو آپ ﷺ نےکہا :

ما هذا يا معاذ ؟ 

 ’’اے معاذ!  یہ کیا ہے ؟‘‘ تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ، میں نے شام میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سرداروں اور بڑوں کو سجدہ کرتے اور اس کے لئے (بطور دلیل) اپنے انبیاء کا تذکرہ کرتے، تو آپﷺ نے فرمایا :

يا معاذ، لو أمرت أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها من عظم حقه عليها

’’اے معاذ ! اگر میں کسی کے لئے کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ،اس کے اس پر عظیم حق ہونے کی وجہ سے ۔‘‘

اور آپ ﷺ نے فرمایا : يا معاذ، أرأيت لو مررت بقبري أكنت ساجدًا لقبري، قال: لا. قال: فإنه لا يصلح السجود إلا لله. أو كما قال.

’’اے معاذ! تیرا کیا خیال ہے اگر تو میری قبر سے گزرے ، تو کیا تم میری قبر کو سجدہ کرو گے؟  انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : یقیناً سجدے کسی کے لئے بھی درست نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے ‘‘

حاصل کلام 

صحابہ کرام اور صحابیات رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ان سب واقعات پر غور کریں ! پہلے اور دوسرے واقعہ میں بعض لوگوں سےایک شرکیہ بات کا صدور ہوا لیکن نبی ﷺ نے ان کی اصلاح فرمائی تیسرے میں ایک حرام عمل کی اجازت طلب کرنے پر آپ ﷺ نے فطری انداز سے اصلاح تو فرمائی لیکن تکفیر وتفسیق کا پہلو اختیا رکرنے میں اجلت اور جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کیا جس طرح آج کل ہمارے معاشرے میں رائج ہے ۔

ان احادیث و واقعات سے یہ بات بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حجت قائم کرنے سے قبل کسی کو کافر قرار دینا جائز نہیں ۔ اگر شرعی علوم سے ناواقف اور جاہل سے تو پہلے اس کی جہالت کا ازالہ کیا جائے گا اور اس کے شکوک و شبہات کو رفع کیا جائے گا پھر بھی اگر وہ باطل پر مُصِر اور کفر پر قائم رہتا ہے اور عناد و سرکشی کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کو رد کرتا ہے تو وہ کافر ہو جائے گا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم 




موجودہ حکمران کافر نہیں بنتے ، تکفیریوں کا اپنی کتاب میں اعتراف - الشیخ ذکا اللہ سندھی حفظہ اللہ

photo721249554916288886

موجودہ حکمران کافر نہیں بنتے ، تکفیریوں کا اپنی کتاب میں اعتراف! 

الشیخ ذکا اللہ سندھی حفظہ اللہ

 کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے قتال کرنے سے کوئی بھی شخص کافر نہیں ہوتا وہ حاکم ہو یا فوجی اور یہ عمل ولاء میں تو شامل ہے لیکن تولی میں نہیں۔ اس بات کا اعتراف خود تکفیریوں نے کیا ہے۔ اور اس اصول کی روشنی میں موجودہ دور کے حکام کافر نہیں بنتے۔  ابوعمروعبدالحکیم کی مشہور تصنیف “التبیان” جسکو تکفیری حضرات بہت زوروشور سے پھیلانے پرتلے ہوئےہیں،اوراسی کتاب کو اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حرف آخر کہتے ہیں۔ ہم آپکے سامنے اسی کتاب کے صفحہ 58 سے 61 تک اقتباس سے بیان کریں گے کہ کفار سے دوستی کب انسان کو کافر بناتی ہے اور کب صرف گنہگار بناتی ہے۔

ملاحظہ فرمائیں  التبیان سے اقتباس :

ابوعمروعبدالحکیم لکھتا ہے:

” لفظ المُوالَاۃِ اور التَّوَلِّی میں ایک دقیق فرق

یہاں ایک بڑا لطیف علمی نکتہ بھی سمجھنے کے قابل ہے ۔وہ یہ کہ عربی زبان میں دوستی کے لیے ایک لفظ ’’المُوَالَاۃ‘‘ استعمال ہوتا ہے اور ایک لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘استعمال ہوتا ہے۔لفظ الموالاۃ تو قربت، نزدیکی، پیروی، مدد، تعاون، محبت، دوستی اور غلامی وغیرہ کے معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔لیکن لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ بطورخاص صرف اور صرف سیدھی صاف پیروی اور نصرت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہی وہ معنی ہے جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں وارد ہوا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بارے میں فرمایا :

[ كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ ]

’’اس )شیطان(پر )اللہ کا فیصلہ (لکھ دیا گیا ہے کہ جو کوئی اس کی پیروی کرے گا وہ اسے گمراہ کردے گا اوراسے آگ ک عذاب کی طرف لے جائے گا‘‘ (الحج:4)

مذکورہ آیت کریمہ میں مَنْ تَوَلَّاہُ کامعنی یہ ہے کہ ’’جو اس کی پیروی کرے گا ‘‘  لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ کا دوسرا مخصوص معنی ’’مدد ونصرت‘‘  اللہ تعالیٰ کے لیے ایک دوسرے فرمان میں وارد ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

[إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ]

’’اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی مدد وتعاون سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے لڑائیاں لڑیں اور تمہیں دیس نکالے دیے اور دیس نکالا دینے والوں کی مدد کی جو لوگ اس قسم کے کافروں کی مدد ونصرت کریں گے وہ پکے ٹھکےظالم لوگ ہوں گے‘‘ الممتحنۃ : 9

مذکورہ آیت کریمہ میں بھی أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ کامعنی یہ ہے کہ ’’تم ان کی مدد ونصرت کرواور جو شخص بھی ان کی مدد ونصرت کرے گا تویہی لوگ ظالم ہوں گے ‘‘

اسی طرح قرآن مجید میں ایک مقام پر ’’التَّوَلِّی‘‘مددونصرت کے معنی میں ہی استعمال ہوا ہے ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

لاَ تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اﷲُ عَلَیْہِمْ . . . .

اے مسلمانو!(ایسی قوم کی مددونصرت نہ کرو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے….‘‘

مذکورہ آیت کریمہ میں لاَ تَتَوَلَّوْا کامعنی ہے کہ تم دوستی نہ کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں اپنا ایک خصوصی وصف بیان کیا ہے کہ میں مومنوں کا حامی ومددگار ہوں ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

اللہُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

’’ایمان لانے والوں کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ،وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف خود لے جاتا ہے اور کافروں کے مددگار شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں پڑے رہیں گے ‘‘ البقرۃ: 257

مذکورہ آیت میں بھی ﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ وارد ہوئے ہیں ۔ان الفاظ کا معنی ہے کہ’’اللہ تعالیٰ خود مددگار ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ہیں ۔‘‘  لہٰذا اس آیت میں’’وَلِیُّ‘‘ کامعنی مددگار ہے ۔اس طرح مذکورہ آیت میں وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔ان الفاظ کا معنی ہے ’’وہ لوگ جو کافر ہیں ان کے مددگار طاغوت ہیں ۔‘‘اس آیت میں اولیاء کا معنی “زیادہ تعداد میں مددگار‘‘ہے۔علیٰ ہٰذا القیاس۔ اللہ تعالیٰ کے کلام پاک قرآن مجید میں ایک اور مقام پر بھی یہ لفظ مددگار کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :

فَإِنَّ اللہَ هُوَ مَوْلاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ

’’یقینا اس (رسول اللہﷺ) کا مددگار اور کارساز تو اللہ تعالیٰ ہے ،جبریل ہے اور نیک اہل ایمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں‘‘ (التحریم:4)

مذکورہ آیت میں لفظ ’’مَولَاہُ‘‘ کامعنی ’’اس کامددگار ‘‘ہے۔ نیز قرآن مجید کے ایک اور مقام پربھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں بھی یہ مددگار کے معنی میں ہی ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

ذٰلِکَ بِاَنَّ اﷲَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَہُمْ

اللہ تعالیٰ نے کافروں کو سزائیں دیں (اس لیے کہ ایمان والوں کا مددگار اور کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اورکافروں کا کوئی بھی مددگارنہیں ہے‘‘ سورۃ محمد:4

مذکورہ آیت کریمہ میں بھی لفظ ’’مَولیٰ‘‘دودفعہ استعمال ہوا ہے ۔دونوں جگہ اس کامعنی ومددگار اور کارساز ہے ۔ یہ چند آیات بطور مثال ذکر کی گئی ہیں ان کے علاوہ جہاں جہاں بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے اکثر وبیشتر اِسی معنی میں ہے ۔ مذکورہ بالا ساری گفتگو کالب ولباب یہ ہے کہ لفظ ’’التَّوَلِّی‘‘ لفظ ’’المُوَالَاۃ‘‘سے زیادہ خصوصیت کا حامل ہے۔ ’’التَّوَلِّی‘‘ کامطلب یہ ہے کہ ’’عَلَی الاِطلَاق‘‘ غیر مشروط طور پر پیروی اور فرمانبرداری کرتے جانا اورپوری پوری مدد ونصرت کرنا۔‘‘

مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بھی معلوم ہوا کہ التَّوَلِّی اور المُوَالَاۃ کے درمیان عموم اور خصوص کی نسبت ہے ۔ ’’التَّوَلِّی‘‘ اور’’المُوَالَاۃ‘‘کے مابین بیان کیے گئے اِسی فرق کو ہی ملحوظ رکھتے ہوئے الشیخ عبداللہ بن عبداللطیف رقمطراز ہیں :

’’التَّوَلِّی کُفْرٌ یُخرِجُ مِنَ المِلَّۃِ وَ ھُوَ کَالذَّبِّ عَنْھُمْ وَ اِعَانَتِھِمْ بِالْمَالِ وَالْبَدْنِ وَالرَّأْیِ ۔ وَالمُوَالَاۃُ کَبِیْرَۃٌ مِنَ الْکَبَائِرِ ۔ کَبَلَّ الدَّوَاۃِ وَ بَرِیِ الْقَلَمِ وَالتَّبَشُّشِ أَوْ رَفْعِ السَّوْطِ لَھُم۔‘‘

’’کافروں کے ساتھ التولی والا تعلق واضح کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج کردیتا ہے ۔مثلاً

کافروں کا بھرپور دفاع کرنا ۔

نیز دامے ،درہمے ،سخنے اور قدمے ان کا پورا تعاون کرنا ۔

جبکہ کافروں سے المُوَالَاۃ جیسا دوستانہ تعلق اگرچہ ملتِ اسلامیہ سے نکالنے والا کفر نہیں مگر وہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ مثلاً

کافروں کی خاطر اپنے قلم وقرطاس کو حرکت میں لانا اور

ان کی پالیسیوں کی حمایت میں مضامین (Articles) تحریرکرنا۔

کافروں کو خوش کرنے کے لیے ان کی خاطر بچھ بچھ جانا اور صدقے واری جانا۔

مسلمانوں کے خلاف پولیس وفوج کو حرکت میں لے آنا اور گولی وبندوق کا رخ مسلمانوں کی طرف کردینا ۔

یہ سب اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں ۔‘‘

(التبیان،ترجمہ دوستی دشمنی کا معیار از ابوعمروعبدالحکیم حسان صفحہ 58تا61)

(التبیان سے اقتباس ختم ہوا)

قارئین اس اقتباس میں آپ نے تکفیریوں کی ہی کتب میں بڑی وضاحت کے ساتھ پڑھ لیا ہے کہ کافروں سے التولی والا تعلق واضح کفر ہے،یعنی ان کا بھرپور دفاع کرنا جبکہ کافروں سے المولاۃ جیسا دوستانہ تعلق انہیں اسلام سے خارج نہیں کرتا بلکہ گناہ کبیرہ کامرتکب کردیتا ہے،اور اس کی مثالیں بھی دی ہیں جیسے کافروں کی خاطر اپنی قلم اور قرطاس چلانا،کفار کو خوش کرنےکےلیے بچھ بچھ جانا اور کفار کی خاطر مسلمانوں کے خلاف تلوار،بندوق یا گولی چلانا یہ سب اعمال المولاۃ میں شامل ہیں،اور یہ کام انسان کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے،بلکہ گنہگار کرتے ہیں۔ اور موجودہ حکام اسی زمرہ میں آتے ہیں!




آیت کریمہ ((وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ ۔۔۔۔)) کی تفسیر - الشیخ مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی

((وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ)) کی تفسیر و تشریح 

الشیخ مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

اللہ عزوجل نے فرمایا :

وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ [ المائدۃ : 44]

” اور جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔ “

امام المفسرین محمد بن جریر الطبری اس آیت کریمہ کے شان نزول کے بارے اختلاف ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

وقال آخرون: بل عنی بذلك كفر دون كفر، وظلم دون ظلم، وفسق دون فسق . [1]

” دوسرے مفسرین نے کہا ہے بلکہ اس سے مراد ایک کفر کا ( اپنے درجہ میں ) دوسرے کفر سے کم ہونا ، ایک ظلم کا دوسرے ظلم سے کم ہونا اور ایک فسق کا دوسرے فسق سے کم ہونا مراد لیا گیا ہے ۔ “

پھر اس پر صحابہ کرام ، تابعین عظام وغیرھم کی روایات بیان کیں سب سے پہلے ہم ترجمان القرآن حبر الامۃ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کی تفسیر درج کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں :

لیس بالکفر الذی تذهبون إليه  

” یہ ہر گز وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف تم جا رہے ہو ۔ “

دوسری روایت میں ہے :

إنه لیس بالکفر الذی یذهبون إليه إنه لیس کفر ینقل عن الملة (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )) کفر دون کفر . [2]

” بلا شبہ یہ ہر گز وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف وہ جاتے ہیں ، بلا شہ یہ ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا کفر نہیں ہے (( اور جس نے اللہ کی نازل کردہ دین کے مطابق فیصلہ نہ کیا تو وہی لوگ کافر ہیں )) یہ کفر دون کفر ہے یعنی یہ کفر دوسرے کفر سے درجے میں کم ہے ۔ “

امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا اور امام ذھبی نے ان کی موافقت کی ہے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 

وحقهما أن يقولا : على شرط الشيخين فإن إسناده كذلك ثم رأيت الحافظ ابن كثير نقل في تفسيره ( 6 / 163 ) عن الحاكم أنه قال : ” صحيح على شرط الشيخين ” فالظاهر أن في نسخة ” المستدرك ” المطبوعة سقطا .

امام حاکم اور امام ذھبی دونوں کا حق تھاکہ یوں کہتے : یہ روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے تو بلا شبہ اس کی سند اس طرح ہے پھر میں نے حافظ ابن کثیر کو دیکھ انہوں نے اپنی تفسیر میں امام حاکم سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے تو ظاہر یہ ہے کہ مستدرک کے مطبوعہ نسخے میں سقط ہے ۔ “

اور ابن عبا س رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت کے الفاظ یوں ہیں :

هي به کفر ولیس کفرا بالله وملائکته وکتبه ورسله [3]

” یہ کفر ہے اور یہ اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر نہیں ہے ۔ “

ایک اور روایت میں ہے :

لیس کمن کفر بالله وملائکته ورسله

” یہ اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کی طرح نہیں ہے ۔ “

اور عطاء بن ابی رباح ، طاؤس وغیرھما سے بھی یہی تفسیر مروی ہے جس کی مکمل تفصیل فضیلۃ الشیخ سلیم بن عید الھلالی کی بڑی شاندار کتاب ” قرۃ العیون “ میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔

اور عبد اللہ بن عباس کی اس تفسیر کو امام حاکم ، امام احمد بن حنبل ، امام ذھبی ، امام ابن کثیر ، امام طبری ، امام مروزی ، امام سمعانی ، امام بغوی ، امام ابوبکر ابن العربی ، امام قرطبی ، امام بقاعی ، امام واحدی ، امام ابو عبید قاسم بن سلام ، امام ابو حیان اندلسی ، امام ابن بطہ ، امام ابن عبد البر ، امام خازن ، علامہ جمال الدین قاسمی ، علامہ عبد الرحمن بن ناصر السعدی ، امام ابن تیمیہ ، امام ابن القیم ، نواب صدیق الحسن خان ، علامہ شنقیطی ، علامہ البانی وغیرھم جیسے جہابذہ مفسرین و محدثین اور فقہاء نے صحیح قرار دیا ہے اور قبول  کیا ہے ۔ یہاں پر چند حوالے ذکر کرتا ہوں باقی تفسیر و تفصیل اپنے مقام پر بیان ہوگی ان شاء اللہ ۔

امام محمد بن نصر المروزی (المتوفی 294ھ) فرماتے ہیں :

قلنا إن ترك التصدیق کفر به وإن ترك الفرائض مع تصدیق الله انه اوجبها کفر لیس بکفر بالله انما هو کفر من جهة ترك الحق کما یقول القائل کفرتنی حقی ونعمتی یرید ضیعت حقی وضیعت شکر نعمتی قالوا : ولنا فی هذا قدوة بمن روی عنهم من اصحاب رسول الله صلی الله عليه وسلم والتابعین إذ جعلوا للکفر فروعا دون اصله لا تنقل صاحبه عن ملة الاسلام کما ثبتوا للایمان من جهة العمل فرعا للاصل لا ینقل تركه عن ملة الاسلام من ذلك قول ابن عباس فی قوله: (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ )) [4]

” بلاشبہ تصدیق کو ترک کرنا اس کے ساتھ کفر ہے اور اللہ کی تصدیق کے ساتھ فرائض ترک کرنا جن کو اس نے واجب قرار دیا ہے کفر یہ اللہ کے ساتھ کفر کی طرح نہیں ہے یہ ترکِ حق کی جہت سے کفر ہے جیسا کہ کہنے والا کہتا ہے : ” کفرتنی حقی ونعمتی ” اس سے مراد تو نے میرا حق ضائع کر دیا اور میری نعمت کا شکر برباد کر دیا ، انہوں نے کہا : ہمارے لئے اس بات میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام اور تابعین عظام نمونہ ہیں جبکہ انہوں نے اصل کے علاوہ کفر کی فرعات بنائی ہیں جو کفر کے مرتکب کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتیں جیسا کہ عمل کی جہت سے انہوں نے ایمان کے لئے اصل کے علاوہ فروعات ثابت کی ہیں جو تارک عمل کو ملت اسلام سے خارج نہیں کرتیں اسی میں سے اللہ کے اس فرمان  (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ))  کے بارے میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے ۔

اسی طرح امام ابو عبد اللہ عبید اللہ بن محمد المعروف بابن بطۃ (المتوفی 387ھ) نے اپنی معروف و مشہور کتاب ” الابانۃ عن شریعۃ الفرقۃ الناجیۃ ” 2/162 ط ۔ الفاروق الحدیثیۃ میں ایک باب یوں قائم کیا ہے ” باب ذکر الذنوب التی تصیر بصاحبھا الی کفر غیر خارج عن الملۃ “ ان گناہوں کا بیان جو ان کے مرتکب کو ایسے کفر کی طرف لے جاتے ہیں جو ملت سے خارج کرنے والے نہیں ہیں ۔

پھر اس کے ضمن میں عبد اللہ بن عباس ، طاؤس اور عطاء بن ابی رباح کے اقوال لائے ہیں جو (( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ )) کی تفسیر میں مروی ہیں ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے انہوں نے ایسا کفر مراد لیا ہے جو ملت سے خارج کرنے والا نہیں ہے ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں :

وقال ابن عباس وغير واحد من السلف في قوله تعالى : { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } { فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ } و { الظَّالِمُونَ } كفر دون كفر وفسق دون فسق وظلم دون ظلم وقد ذكر ذلك أحمد والبخاري وغيرهما . [5]

” عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور بہت سارے سلف صالحین نے اللہ کے فرمان  { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } { فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ } و { الظَّالِمُونَ }  کے بارے میں کہا ہے : یہ کفر دون کفر ، فسق دون فسق اور ظلم دون ظلم ہیں اور یہ بات امام احمد بن حنبل اور امام بخاری وغیرھما نے بیان کی ہے ۔

نوٹ : آئمہ دین نے جو ان آیات کو تحکیم بغیر ما انزل اللہ کے تحت ذکر کیا ہے اس سے مراد کفر اصغر لیا ہے یہ ایسے شخص کے حق میں ہے جو اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے یا رشوت لیکر  فیصلہ کرے یا کسی سے عداوت کرتے ہوئے فیصلہ کرے اور اسے پتہ ہو کہ وہ اللہ کی نافرمانی کی رہا ہے لیکن جو اللہ کے دین کے علاوہ کسی قانون کے ساتھ فیصلہ کرنا حلال سمجھتا ہو ، یا اس کا اعتقاد ہو کہ اس کا حکم اللہ کے حکم کے مساوی یا اس سے افضل ہے تو یہ ایسا کفر ہے جو ملت سے خارج کرنے والا ہے ۔

امام ابن الجوزی اپنی تفسیر زاد المسیر میں ، امام ابن تیمیہ منہاج السنۃ میں ، امام ابن القیم نے مدارج السالکین میں ، علامہ محمد شنقیطی نے تفسیر اضواء البیان میں اور سعودی کبار علماء کی فتاوی اللجنۃ الدائمۃ نے اسے بیان کیا ہے ۔

ماخوذ از :

(مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط ) الشیخ مفتی مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ 

[1]–          تفسیر الطبری : 8/464

[2]–          الابانۃ لابن بطۃ (1021) 2/172 السنن الکبری للبیھقی 8/20 ، 10/207 السنۃ للخلال (1419) سنن سعید بن منصور (749) 4/1482 کتاب الصلاۃ لمحمد بن نصر المروزی (569-573) تفسیر ابن ابی حاتم 4/1143 (6434) التمھید 4/237 المستدرک للحاکم 2/313 

[3]–          تفسیر الطبری 8/465 السنۃ للخلال 4/158-159 (1414) کتاب الصلاۃ لمحمد بن نصر المروزی (571-572) الابانۃ لابن بطۃ (1020) 2/172 تفسیر عبد الرزاق (713) 2/19 تفسیر سفیان ثوری ص 101 ، تفسیر ابن ابی حاتم 3/7

[4]–          کتاب الصلاۃ ص 167

[5]–          مجموع الفتاوی لابن تیمیہ : 7/522




تاتاری قانون الیاسق سے موجودہ حکمرانوں کی تکفیر پر خوارج کا رد ۔ الشیخ عبد اللہ الفتوحی حفظہ اللہ

تاتاری قانون الیاسق سے موجودہ حکمرانوں کی تکفیر پر خوارج کا رد

الشیخ عبد اللہ الفتوحی حفظہ اللہ

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

            ہمارے ہاں عمومی طور تکفیر کرنے والے حضرات تا تاری قانون ‘‘ الیاسق’’ نامی مجموعہ قوانین کو بنیاد بناتے ہیں دور  حآضر کے  حکمرانوں اور اس سے متعلقہ اداروں کو کافر مرتد قرار دیتے ہیں اور بطور دلیل امام ابن کثیر اور ابن تیمیہ علیھما الرحمہ کا حوالہ ذکر کرتے ہیں ۔

            اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام ابن کثیراورامام ابن تیمیہ رحمہما اللہ نے ‘الیاسق’ نامی مجموعہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے والے تاتاریوں کو کافر قرار دیا ہے لیکن ان کی تکفیر کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے مجموعہ قوانین کو شرعی قوانین کے برابر حیثیت دیتے تھے اور یہ اعتقادی کفر (ایسا کفر جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے)  ہے اور کسی بھی انسانی قانون کو شرعی قانون کے برابر قرار دیناصریح کفر ہے جیسا کہ راسخ اہل السنہ کے علماء کے حوالے سے  یہ بحث نقل کی جاتی ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اسلام قبول کرنے والے تاتاریوں کے عقائد کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتے ہیں:

ان اسلام کے مدعی تاتاریوں میں سے جو لوگ شام آئے ۔ ان میں سب سے بڑے تارتاری نے مسلمانوں کے پیام بروں سے خطاب کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو مسلمان اور ان کے قریب ثابت کرتے ہوئے کہا: یہ دو عظیم نشانیاں ہیں جو اللہ کی طرف سے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک محمد عربی ہیں اور دوسرا چنگیز خان ہے۔

پس یہ ان کا وہ انتہائی عقیدہ ہے جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کا قرب تلاش کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول جو مخلوق میں سے سب سے بزرگ ‘ اولاد آدم کے سردار اور نبیوں کی مہر ہیں’ انہیں اور ایک کافر اور مشرکین میں سب سے بڑھ کر مشرک’ فسادی’ ظالم اور بخت نصر کی نسل کو برابر قرار دیا ؟ 

ان تاتاریوں کا چنگیز خان کے بارے عقیدہ بہت ہی گمراہ کن تھا۔ ان نام نہاد مسلمان تاتاریوں کا تو یہ عقیدہ تھا کہ چنگیز خان اللہ کا بیٹاہے اور یہ عقیدہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عیسائیوں کا حضرت مسیح کے بارے عقیدہ تھا۔ یہ تاتاری کہتے ہیں کہ چنگیز خان کی ماں سورج سے حاملہ ہوئی تھی ۔ وہ ایک خیمہ میں تھی جب سورج خیمہ کے روشندان سے داخل ہوا اور اس کی ماں میں گھس گیا۔ پس اس طرح اس کی ماں حاملہ ہو گئی۔ ہر صاحب علم یہ بات جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے…

اس کے ساتھ ان تاتاریوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ چنگیز خان کو اللہ کا عظیم ترین رسول قرار دیتے ہیں کیونکہ چنگیز خان نے اپنے گمان سے ان کے لیے جو قوانین جاری کیے ہیں یا مقرر کیے ہیں یہ ان قوانین کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ جو ان کے پاس مال ہے ‘ اس کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ چنگیز خان کا دیا ہوا رزق ہے اور اپنے کھانے اور پینے کے بعد(اللہ کی بجائے) چنگیز خان کا شکر اداکرتے ہیں اور یہ لوگ اس مسلمان کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں جو ان کے ان قوانین کی مخالفت کرتا ہے جو اس کافر ملعون’ اللہ ‘ انبیاء و رسل ‘ محمد عربی اور اللہ کے بندوں کے دشمن نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں۔ پس یہ ان تاتاریوں اور ان کے بڑوں کے عقائدہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اسلام لانے کے بعد محمد عربی کو چنگیز خان ملعون کے برابر قرار دیتے ہیں۔”

مجموعہ الفتاوی میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کی عبادت پر غور کیجئے ۔

  • تاتاریوں کا پہلا کفر کہ وہ چنگیز خان کو رسول اللہ ﷺ کے برابر سمجھتے تھے۔
  • وہ چنگیز خان کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے ۔
  • اور اس کے دیے گئے قوانین کی تعظیم کرنا
  • مجموعہ قوانین ‘‘الیاسق’’ کا انکار کرنے والے
  • مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھنا
  • کھانے پینے کے بعد چنگیز کا شکر اداکرنا

یہ تمام امور ایسے صریح کفر یہ عقائد ہیں جن کے کفر اکبر ہونے میں دو بندوں کا بھی اختلاف ممکن نہیں۔ لہذا ‘‘الیاسق’’ کے مجموعہ قوانین کے بارے تاتاریوں کاجو رویہ اورعقیدہ تھا ، اسکے کفرہونے  پر علماء قائل ہیں۔

پس آج بھی کوئی حکمران وضعی مجموعہ قوانین (انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین) کومنجانب اللہ سمجھے یا اس کو خلاف اسلام کہنے والوں کے خون کو حلال سمجھے یا اس قانون کے بنانے والوں کو اللہ کے رسول ﷺ کے برابر کا درجہ دے تو ان کے کفر میں بھی کوئی شک نہ ہوگا ۔ لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ ہمارے حکمران وضعی قوانین بنانے کے مرتکب ضرور ہیں اور یہ یقینا ایک بہت بڑا گناہ ہے ۔

لیکن وہ اس کو منجانب اللہ یاخلاف شریعت سمجھنے والوں کے خون کوحلال یا قانون سازوں کو نبی کریم ﷺ کے برابر کادرجہ نہیں دیتے لہذا بغیر کسی کفریہ عقیدہ کے مطلق ان وضعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنےوالے کو کفر اکبر (ایسا کفر جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج  ہو جاتا)   قرار دینے کی کوئی شرعی عقلی ، نقلی ، یا تاریخی دلیل موجود نہیں ہے ۔

ہاں البتہ یہ عمل  کفر اصغر (ایسا کفر جس سے انسان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا)  کہلانے کا مستحق ضرور ہے۔اور اس کی بناء پر کسی کی تکفیر نہیں کی جا سکتی ۔  

واللہ اعلم بالصواب