حب الوطنی کے ردمیں غلو:

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!

کچھ لوگ تقوی اختیار کرنے میں غلو کا شکار ہیں اور اخلاص میں غلو کی وجہ سے بالخصوص القاعدہ اور داعش پاکستان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ جہاد کشمیر اس لیے درست نہیں کیونکہ یہ ملک کے لیے جہاد ہے جسے یہ “وطنیت” کہتے ہیں۔

یاد رکھیے!ہر چیز کے لیے اللہ تعالی نے ایک حد مقرر کر رکھی ہے اوراس حد سے آگے گزرنا اور اس میں غلو کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ملک کی طرف نسبت کرنا اور “دفاع پاکستان” کا نام لینا درست نہیں ۔
اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجیے کہ کسی بھی ملک کی محبت اور اس کی طرف نسبت کرنا اسلام کے مزاج کے بالکل خلاف نہیں ہے بلکہ بعض اوقات کسی وطن سے محبت کرنا مومنوں کا شیوہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام فطرت کے عین مطابق ہے۔
اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو وطن کی محبت ایک طبعی اور فطری چیز ہے جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے ،وطن سے محبت اور اس کی طرف نسبت کے حوالے سے قرآن و حدیث میں بہت سے شواہداور دلائل موجود ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْـهِـمْ اَنِ اقْتُلُـوٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَـعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْـهُـمْ

{النساء 66}

اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے۔
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالی نے جلا وطنی کو قتل کے برابر قرار دیا ہے ۔

[مفاتیح الغیب المعروف التفسیر الکبیر:15/515]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آرہے ہوتے اور مدینہ کے قریب پہنچ کر اس کی دیواریں نظر آنے لگتیں تو مدینہ کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے۔

[صحیح البخاری 1886]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وفی الحدیث دلالۃ علی فضل المدینۃ ،وعلی مشروعیۃ حب الوطن ،والحنین الیہ۔

[فتح الباری :3/621]

اس حدیث سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن سے محبت کی جاسکتی ہے۔
یہی بات امام عینی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “عمدۃ القاری” میں اور امام مبارکپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “تحفۃ الاحوذی” میں درج کی ہے۔
اسی طرح مکہ والوں کے مظالم سے تنگ ہوکر اور زخموں سے چور ہو کر اللہ تعالی کے حکم سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرمانے لگے تو مکہ کی طرف منہ کرکے آبدیدہ ہوکر کہنے لگے:
والله انک لخیر ارض الله، واحب ارض الله الی الله، ولولا اني اخرجت منک ما خرجت»

[ترمذي ۳۹۲۱]

اللہ کی قسم تو اللہ کی سب سے بہترین زمین ہے اور اللہ تعالی کی سب سے زیادہ پسندیدہ زمین ہے ،اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
کیا اس وقت مکہ دارالایمان تھا ؟
ہرگز نہیں ۔۔۔!
یہ حب الوطنی ہی تھی کہ 360 بتوں کا مرکز ہونے کے باوجود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسندیدہ قرار دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے تو فرمایا :
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْاَشَدَّ حُبًّا
یا اللہ مکہ کی طرح مدینے کو ہمارا محبوب بنا دے بلکہ مکہ سے زیادہ ) محبوب بنا دے

(بخاری ج1 ص{5654)

صحیح البخاری کو قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب سمجھا جاتا ہے اور اس کتاب کی نسبت بخارا شہر کی طرف ہے وہ بخارا کہ جہاں امام بخاری رحمہ اللہ کو پاوں رکھنے کی بھی اجازت تک نہ تھی ، پھر بھی بخارا کی طرف نسبت تھی ، امام ترمذی ، امام نسائی وغیرھم اکثر ائمہ کی اپنے ملکوں کی طرف نسبت تھی۔
تو کیا ہم پاکستان کی طرف اپنی نسبت نہیں کرسکتے ؟جس کے ہم پر کئی احسان ہیں، جس کا قرض ہمیں چکانا ہے، اس کے برعکس جو شخص اس نسبت کو برداشت نہیں کرتا وہ اپنے تقوی اور دین کے معاملے میں غلو کا شکار ہوچکا ہے ،اسے اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لینا ہوگا ۔
میں تو یہی کہتا ہوں :شرعی دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک و ملت کی طرف نسبت ، اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
امام ذھبی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی پسندیدہ چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
وكان يجبُ عائشة، ويحبُ أباها، ويحبّ أسامة، ويحب سبطيه، ويحب الخلواء والعسل، ويحبّ جُبل أحد، ويحب وطنه، ويحبّ الأنصار، إلى أشياء لا تُحصى مما لا يغني المؤمن عنها قط.

{سیر اعلام النبلاء للذھبی }

نبی صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، ان کے والد محترم ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے،اور اسامہ رضی اللہ عنہ سے اور اپنے دونوں نواسوں سے شدید محبت کرتےتھے، میٹھے اور شہد کو بھی پسند کرتے تھے ،جبل احداور اپنے وطن سے محبت کرتے تھے انصار سے بھی پیار کرتے تھے اور ہر اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ جن سے ایک مومن کبھی بھی بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک کی طرف نسبت اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
ہاں البتہ یہ وطنی محبت اسلام مخالف نہیں ہونی چاہیے بلکہ دین اسلام کی سر بلندی میں ممدو معاون ہونی چاہیے ،اگر دین اسلام اور ملک و ملت مقابل ہوں تواسلام کی خاطر ہر چیز قربان ہے۔
نوٹ:
ہم یہ بات دلائل صحیحہ کی روشنی میں ثابت کرچکے کہ وطن ، ریاست و ملک اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس سے محبت شعائر اسلام کی مخالفت نہیں بلکہ ایک مومن کیلئے دینی فریضہ ہے کہ وہ ہر اس ملک سے محبت کرے جو دین اسلام کے نام پر بنا ہو اور اس کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرے اس کے خلاف ہر پراپیگنڈے سے بچے تاکہ اس کا ایمان کامل رہے ۔
یہ وطن عزیز ملک خدادِ پاکستان اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ پر ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ان گنت قربانیاں دی گئی اور اس کے دستور میں یہ بات شامل کی گئی کہ اس کا قانون اسلام کے عین مطابق ہو گا ، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں لوگ بدلتے رہے ذہنیت میں تبدیلی آنے کی وجہ سے قوانین بھی بدل گئے لیکن آج بھی اس قانون میں یہ بات موجود ہے کہ جو شق اسلام مخالف قرار پائے گی اس کا نفاذ یہاں نہیں ہو گا ۔
کچھ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف بلکہ یہ کہنا غلو نہ ہو گا کہ اسلام کے لبادوں میں اسلام دشمن ممالک کی ایک گہری سازش اور مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ جو اسلام کے نام پرپیدا ہوا لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی اسلام اور اسلامی ممالک کو ہوا وہ ہے القاعدہ اور داعش اور ان کے نظریات پر چلنے والی کچھ اور تنظیمیں جنہوں نے مسلمان ممالک کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کے جواز کے فتوے دیئے اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا پھر مسلم علماء نے ان کا تعاقب کر کے ان کے شریعت مخالف نظریات اور نعروں سے لوگوں کو آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ دین نہیں بلکہ دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے نظریات ہیں۔

اب 2018میں انہوں نے کشمیر کا رخ کیا کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر ہندوستان نے غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے ،اور ہندوستان حکومت کی ہر کوشش رائیگاں چلی گئی کہ وہ کشمیروں کے دلوں سے پاکستان کی محبت کا قلع قمع کر سکیں بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ دن بہ دن ان کی محبت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور انشاءاللہ ہوتا رہے گا،جب ہندوستان حکومت زورِ بازو کشمیریوں کو جھکا نہ سکی تو اس نے اگلا داوٴ لگایا کہ ان کے نظریات کو خراب کردیا جائے تو اس نے اس پلان کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے “داعش” اور “القاعدہ” کا سہارا لیا ،القاعدہ نےکشمیر میں “ذاکرموسی” کو اپنے ساتھ ملایا اور “انصار غزوۃ الھند” کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھ کر ذاکر موسی کو اس کا امیر مقرر کردیا ۔
اور پھر یہ نعرہ بلند کیا کہ وطن کیلئے جہاد کرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے ،اور اس کی وضاحت یوں کی کہ کشمیری پاکستان کا نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان ” لگا کر جہاد کررہے ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے اور واضح کفر ہے ، اس لیے یہ نعرہ ختم کر کے صرف ہندوستان کے خلاف اپنے حقوق کے لیے جہاد کریں ۔
ہم اوپر شریعت اسلامیہ کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں کہ اسلامی ملک سے محبت کرنا ایک مومن کے لیے ضروری ہے،اسلامی ملک سے محبت اور اس کے ساتھ ملنے کے لیے کوشش، کوشش میں اگر جہاد کی بھی ضرورت پڑے تو کیا جاسکتا ہے اور یہ جہاد 100فیصد حقیقی اسلامی سنت نبوی کے عین مطابق جہاد ہو گا جیسا کہ تاریخ نبوی ﷺ سے اس کے کئی ایک شواہدملتے ہیں۔
ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں جب تک زندہ رکھے دین اسلام اور منہج نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنےوالا بنا کر زندہ رکھےاور ہمارا خاتمہ بالایمان ہو ،رب العالمین ہم سے راضی ہو اور ہم اس سے راضی ہوں ۔




دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور دوراں ہے

ففتھ جنریشن وار فئیر


دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور دوراں ہے.

اس نئے، نہایت ہی خطرناک طرز جنگ کو بھارت بھی وادی کشمیر میں آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کرنے اور کچلنے کے لئے نہایت منظم انداز میں لانچ کر چکا ہے.

چند ماہ پہلے وادی میں جب بھارتی فورسز طاقت سے تحریک آزادی کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئیں تو ان کی جانب سے وادی میں ایک نئے حربے کا آغاز کیا گیا۔ کچھ لوگ دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس بھارتی سازش کا حصہ بنے یا شکار ہوئے۔  

جب قاسم کی جدوجہد کہ جس نے دہلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا، برہان کے جذبے وادی میں آزادی کے خواب کو حقیقت کے قریب تر لا کھڑا کیا تو ایسے میں وادی کشمیر کو اپنے تسلط سے نکلتا دیکھتے ہی بھارت نے تحریک کو کمزور کرنے کے لئے کشمیری قوم کے جسموں کی بجائے انکے ذہنوں کو نشانے پر رکھ لیا اور قوم کو منتشر کرنے کے لیے ایک نیا حربہ اپنایا۔

اس نئے حربے سے بھارت نہ صرف آزادی کی تحریک کو چلنے کا منصوبہ رکھتا تھا بلکہ اس تحریک کے اہم پشتی بان اور کشمیری عوام کے دلوں کی دھڑکن، پاکستان کو بھی کشمیری مسلمانوں سے دور کرنے کو ہدف بنایا.

پاکستان کو کشمیری عوام سے جب بھارتی جبر دور نہیں کرسکا تو اس نے اس نئے حربے کا سہارا لیا.

اس مقصد کے لئے وادی میں القاعدہ اور داعش کی نمائش کا سہارا لیا گیا اور اس منصوبے میں انہیں یقینا کچھ بگڑے نوجوان بھی دستیاب ہوئے. اور انہی کے بل بوتے پر “انصار غزوۃ الہند” جیسے غیر معروف چھوٹے سے گروہ کو نہ صرف پنپنے کا موقع دیا گیا بلکہ اس کے مد مقابل تحریک سے وابستہ اور کشمیری قوم کو درست سمت میں لیجانے والے شہید قاسم و برہان کے وارثوں کو خصوصی نشانے پر رکھ لیا تاکہ اس سازش کی راہ کو صاف کیا جا سکے. اور جب تحریک کمزور ہو جائے تو آخر میں اس گمراہ فکر اور بگڑے نوجوانوں کے گینگ کو بھی ٹھکانے لگا کر کشمیریوں کو غلامی کے اندھیروں میں ایک بار پھر دھکیل دیا جائے.
اس مقصد کو پانے اور کشمیر کی خالص عوامی تحریک آزادی کو  دہشت  گردی کے ساتھ جوڑ کر متنازعہ بنانے کے لئے  انصار غزوۃ الہند کی شکل میں القاعدہ کا واویلا مچایا گیا۔

اور بھارت بہت پر امید تھا کہ جس طرح القاعدہ اور داعش نے شام اور افغانستان کے صاف و شفاف محازوں کو آلودہ کر کے عوام و مظلوم مسلمانوں میں جہاد اور فساد کے فرق کو مبہم کر دیا، اسی جیسا کشمیر میں کر پائے گا. لیکن ان کے اس حربے کو کشمیری عوام مجاہدین اور حریت قیادت نے نہ صرف یکسر مسترد کیا بلکہ مکمل اتحاد و یگانگت سے ناکام بھی بنایا۔

اپنی اس سازش کو بری طرح ناکام ہوتا دیکھ اس وقت بھارتی ایجنسیاں دوبارہ اس مردہ گھوڑے، انصارغزوۃ الہند کے جسم میں جان ڈالنے کے لئے چالیں چل رہی ہیں. 

حال ہی میں بھارتی ایجنسیوں نے ذاکر موسی اور ابو دجانہ شہید کی مختلف کالز کی ریکارڈنگ کو جوڑ کر ایک ایسا آڈیو کلپ لانچ کیا کہ جس سے وہ ذاکر موسی اور اسکے گروہ کو پھر عوام اور میڈیا میں زیر بحث لا سکیں.

آڈیوز کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک ایسا کلپ تیار کیا گیا جس میں ذاکر موسی اور دجانہ پاکستان کی دغابازیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اس میں حقیقت کیا ہے اس سے پہلے یہ بات پھر سے سمجھ لیں کہ یہ ایک  باقاعدہ منصوبہ ہے جس کے تحت  کشمیری عوام اور مجاہدین میں  پاکستان کے متعلق  غلط فہمیوں کو پیدا کیا جا سکے۔

اگر آپ کلپ کو بغور سنیں تو آپکو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ یہ مختلف کالز کو ملا کر ایک آڈیو بنائی گئی ہے۔  جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ  بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بیان کیا جا رہا ہے۔ اور ایسے جملے کاٹ کر نکالے گئے ہیں جو کشمیری عوام اور مجاہدین کے ذہنوں میں انتشار پیدا کریں ۔  اور اتحاد و اتفاق کی فضا کو ختم کیا جا سکے۔ اب کشمیری مجاہدین کی صفوں کے اتحاد کا ختم ہونا کس کے لیے فائدہ مند ہے یہ بات ہم میں ہر کوئی باخوبی جانتا ہے۔

یاد رکھئیے، جھوٹ اور دجل کبھی زیادہ دیر پوشیدہ نہیں رہ سکتا.

زرا سوچیے!

دجانہ اور ذاکر کی یہ کال ، دجانہ کی شہادت کے فورا بعد کیوں منظر عام پر نہ لائی گئی؟ کیا اس وقت کال نہیں تھی یا وقت موزوں نہیں تھا؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معمول کی کالز کو ریکارڈ کیوں کیا گیا۔؟  ابو دجانہ کی کالز کو ہی ریکاڈ کیوں کیا گیا؟

یہ بات تو طے ہے کہ دجانہ اور ذاکر کی موبائل کالز کو بھارتی ایجنسیوں نے ہی ریکارڈ کیا. کیونکہ اگر یہ ریکارڈنگ ذاکر گینگ نے خود کی ہوتی تو دجانہ کی شہادت کے فوری بعد جاری کرتے، اب اچانک ریلیز کا مقصد؟

اب اگر کال میں ہونے والی گفتگو پر بات کریں تو کیوں ان کا ہر آڈیو پاکستانی مجاہدین اور ان کو سپورٹ کرنے والوں کے خلاف ہی ہوتا ہے؟

الزام لگایا گیا کہ پاکستانی  مجاہدین کی لوکیشن حاصل کرنے کے بعد مخبری کرتے ہیں آڈیو میں موجود گفتگو کے مطابق دجانہ نے پاکستان والوں کو پن پوائنٹ لوکیشن نہیں بتائی تو دجانہ کی مخبری کس نے کی؟

استعمال بھارتی موبائل فون ہو رہے ہیں تو لوکیشن پاکستان کی بجائے بھارت کے پاس تو خود جارہی ہے، تو پاکستان پر الزام کیسا؟

سوال یہ ہے کہ ان کی اس مخبری کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان کشمیر کے لئے کیا ہے، کشمیری ہی نہیں ساری دنیا جانتی ہے.

یہ دنیا میں کشمیر کا سب سے بڑا وکیل ہے ۔ جس کی  فوج کی بڑی تعداد کشمیر کے باڈر پر تعینات ہے اور ہردن انڈین فورسز سے حالت جنگ میں ہے شہادتیں پیش کر رہی ہے۔

پاکستان، جس نے کشمیر کی حریت قیادت کو چھت مہیا کی ہے؟

جو تحریک آزادی کشمیر  کی ہر محاز پر اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

خیر بھارت کی یہ نئی چال تحریک آزادی کا ابھی تک کچھ نہیں بگاڑ سکی اور نہ آئندہ بگاڑپائے گی ان شاء اللہ ۔  

بھارت کی یہ ساری کوششیں لشکر اور حزب کی طرف نوجوانوں کا جھکاؤ روکنے، پاکستان کو بدنام کرنے ، مجاہدین کی صفوں میں انتشاز پیدا کرنے کے لیے ہیں ۔ جنہیں کشمیری اچھے سے جان چکے ہیں اور تحریک کے مخالف ہر ایجنڈے کا رد کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی پاکستان سے محبت “لا الہ الا اللہ” کے رشتے پر ہے جو کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ 

ہم ان نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں، جو اس بھارتی سازش کا دانستہ یا غیر دانستہ شکار ہوچکے ہیں کہ وہ اللہ سے ڈریں، کشمیری عوام کی امنگوں کو اپنائیں اور بھارتی سازشوں کو سمجھیں، تاکہ دنیا و آخرت میں عزت و کامرانی انکے حصے میں آسکے.آمین




اے اہل کشمیر زرا خبردار

اے اہل کشمیر، ذرا خبردار

اے اہل کشمیر

اے اہل کشمیر، ذرا خبردار

یاد رکھیے ”حق کو کبھی بھی شخصیات، جھنڈوں اور نعروں سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ شخصیات، جھنڈوں اور نعروں کو حق (قرآن و سنت) سے پہچانا جاتا ہے”

فتنہ جب بھی سر اٹھاتا ہے تو وہ اپنا اثر ضرور رکھتا ہے،اور اس سے بچنا ہی ایک مومن کا امتحان ہوتا ہے۔
روز اول سے لیکر دین اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ کا اصلی چہرہ مسخ کرنے میں فتنہ خوارج سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہے ۔ اور یہ فتنہ ہمیشہ سے اہل اسلام اور مجاہدین کو شش وپنج میں ڈال کر مجاہدین کی سبوتاژ کرنے اور کافروں کو اسلام  اور مجاہدین پر طعن و تشنیع کا موقع فراہم کرتا رہتا ہے۔

کفار کو جب کسی علاقے میں مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو یہ خوارج ان کیلئے دفاعی ڈھال بن کر  کھڑے ہوجاتے ہیں اور وطن اور نسل پرستی کی جنگ کو ہوا دیتے ہوئے مجاہدین  کو آپس میں لڑواکر ان  کی عسکری  کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے رہتےہیں۔

لہٰذا جب انڈیا کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں ذلت و رسوائی سے دوچار ہونے لگا تو تب یہ خوارج کشمیریوں کو آپس میں لڑوانے کیلئے میدان عمل میں آ گئے اور کشمیر کی جنگ کو وطن پرستی قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے اذہان کو اپنی سازشوں کے ہتھکنڈوں میں جکڑنے کی کوشش کر رہےہیں ۔

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ پہلے حرم مکی میں جہیمان العتیبی کی شکل میں اور پھر اسکے روحانی بیٹوں القاعدہ ، ٹی ٹی پی اور ان جیسے دیگر گروہوں کی شکل میں اور پھر ان سب کی ناجائز اولاد داعش کی شکل میں اس فتنہ نے سر اٹھایا اور دنیا بھر کے مسلم ممالک کو متاثر کیا . کئی امت کے خوبرو نوجوان اسی فتنے کی نذر ہو کر دنیا و آخرت کی تباہی سے دوچار ہوئے یا ہو رہے ہیں.

داعش کی خلافت جو کہ اہل اسلام کے لئے محض ملامت اور شرمندگی سے زیادہ کچھ نہیں تھی، سمٹ چکی ہے بلکہ بکھر چکی ہے۔  بچے کھچے ” خلافت کےاندھے سپاہی” یا تو فرار ہورہے ہیں یا گرفتاری دیکر جان کی امان پانے کے پلان بنا رہے ہیں۔

اسی طرح کی صورتحال کشمیر کی ہے. سوشل میڈیا پر اس زہر خوارج کا جام پینے والے اور بھارتی سازشوں کو تقویت دینے والے چند گمراہ فکر نوجوان اس خلافت کے سپاہی بننے کے شوقین ہیں کہ جو خلافت شرعی میزان میں باطل،باغی اور فسادی قرار پاتی ہے .

اورجس کی بنیاد رکھ کر ان کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف استعمال کرنے والے اس خارجی تنظیم کے ذمہ دار خود بھی اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ ان کی بنیاد رکھنا ہماری بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ یہ لوگ انسانیت کی ہر حد کراس کر چکے ہیں۔

لہٰذا اے اہل اسلام خصوصاً کشمیری عوام! یاد رکھ لیجئے کہ آپ کا دشمن آپ کی تمام تحریکوں اور کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور آپ کی قربانیوں کو رائیگاں قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور انڈیا کے ایجنٹ بن کر آپ کی اس جنگ آزادی کو نسل پرستی اور وطن پرستی کی جنگ قرار دیتے ہوئے آپ کے بت شکن اور مظبوط اعصاب کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیکن فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے، چاہے تو ان کی ان سازشوں کی بھینٹ چڑھتے ہوئے اپنی قربانیوں کا سودا کر کے اور اپنے شہداء سے غداری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کو انڈیا کا غلام بنا لیں یا عزت و وقار کے سات اپنے شہداء کی قربانیوں کو اپنے ماتھے کا جھومر اور فخر قرار دیتے اسلام کے زیر سایہ  آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے اور شہادت کی عظیم الشان موت کو سینے سے لگاتے ہوئے ان کفار و خوارج کے منہ پر طمانچہ دے ماریں۔

یاد رکھیے! فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے!!!!!

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو کفار کے آلہ کار ان خوارج کے شر سے بچائے ، بالخصوص امت مسلمہ کے نوجوان کو فتنہ خوارج کا شکار ہونے سے محفوظ فرما ئے. اوراصلی مجاہدین فی سبیل اللہ کو خوارج کے ہر قسم کے شر و آفات سے محفوظ فرما ئے. آمین




اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی

اسامہ کا شیخ ابن باز پر طعنہ زنی

اسامہ بن لادن کی رئیس المفتی شیخ بن باز رحمہ اللہ پر طعنہ زنی 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

بدعتی شخص کی بڑی علامات میں سےایک یہ بھی ہے کہ وہ سلف صالحین کے بارے طرح طرح کی باتیں بنائے گا اور ان کے شخصیت کو بگاڑ پر پیش کرنے کی کوشش کرے یعنی اگر کوئی شخص صحیح اور حقیقی منہج  پر قائم ہے تو صرف اپنے آپ کو ہی سمجھتا ہے یا جو اس کے ساتھ چلنے والے ہوتے ہیں ۔ 

اسی بارے میں امام ابو حاتم﷫فرماتے ہیں:

من علامۃ أھل البدع الوقیعۃ فی أھل الأثر

[اللا لکائی: 1/ 179]

“اہل بدعت کی علامت میں سے ہے کہ وہ اہل اثر (اسلاف)پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔” 

اور اسی نشانی پر پورا اترتے ہوئے اسامہ بن لادن کا یہ دعوی ہے کہ امام صاحب کے فتاوی امت کو گمراہی کے ستر گھاٹیاں نیچے لے جائیں گے۔

اسامہ بن لادن کے نصیحہ کمیٹی لندن کی جانب سے ( بتاریخ 27/07/1415 ھ ) لانچ کیے جانے والے خطاب میں الشیخ بن باز ﷫کے بارے میں کچھ اس طرح کہا :

ونحن سنذکرکم فضیلۃ الشی ببعض ھذہ الفتاوی والمواقف التی قد لا تلقون لھا بالاً، مع أنھا قد تھوی بھا الأمۃ سبعین خریفاً فی الضلال

فضیلۃ الشیخ ہم آپ کے سامنے آپ کے بعض ایسے فتاوی اور مواقف بیان کریں گے جن کی شاید آپ کو اتنی پرواہ نہ ہو مگر درحقیقت ان کے سبب امت گمراہی کی ستر گھاٹیوں میں جاگر سکتی ہے۔

اسی طرح یوں بھی کہا کہ امام صاحب کے فتوے ایسے خطر ناک ہیں کہ جو شرائط پر بھی پورے نہیں اترتے۔

پھر اپنے ایک دوسرے خطاب ( بتاریخ 28/08/1415ھ) میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو شیخ ابن باز ﷫کے فتاوی سے خبردار کرتے ہوئے کہا :

ولذا فانناتبہ الأمۃ الی خطورۃ مثل ھذہ الفتاوی الباطلۃ وغیر مستوفیۃ الشروط

اسی وجہ سے ہم امت کو ان باطل فتاویٰ کہ جو شروط پر پورے نہیں اترتے ،کی خطرا انگیزی سے خبردار کرتے ہیں۔

اسی طرح شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے بارے میں یوں کہا : “یہ حکومتی علماء ہیں جو ظالموں کی طرفداری کرتے ہیں۔”

ایک مرتبہ یوں بھی کہا :

ان علۃ المسلمین الیوم لیست فی الضعف العسکری، ولا فی الفقر المادی وانما علتھم خیانات الحاکم وتخاذل، وتخاذل الأ نظمۃ وضعف أھل الحق واقرار علماء السطلان لھذا الوضع ورکونھم الی الذین ظلموا من حکام السؤوسلاطین الفساد

مسلمانوں کی موجودہ بیماری عسکری قوت کی کمی نہیں، اور نہ ہی مادیت پرستی ہے ، بلکہ ان کی اصل بیماری حکمرانوں کی خیانتیں، نظاموں کی تباہی و رسوائی  اور اہل حق کی کمزوری ہے، اور حکومتی علماء کا اس صورتحال کو تسلیم کرنا اور ان برے حکمرانوں اور فسادی بادشاہوں کی طرفداری کرنا ہے۔

اسی طرح ایک جگہ کہا کہ امام صاحب کے مواقف امت اور اسلام پر عمل پیرا ہونے والوں کے لئے عظیم نقصانات کا باعث ہیں۔

ایک جگہ پر  کہتا ہے:

فقد سبق لنا فی ھیئۃ النصیحۃ والا صلاح أن وجھنا لکم رساۃ مفتوحۃ فی بیاننا رقم (۱۱) وذکر ناکم فیھا باللہ، وبواجبکم الشرعی تجاہ الملۃ والأمۃ، ونھینا کم فیھا علی مجموعۃ من الفتاوی والمواقف الصادرۃ منکم والتی ألحقت بالأ مۃ والعاملین للا سلام من العلماء والدعاۃ أضراراً جسیمۃ عظیمۃ

 کمیٹی برائے نصیحت واصلاح کی طرف سے آپ کو ایک کھلا خط ہمارے بیان رقم (۱۱) کی صورت میں موصول ہوچکا ہے جس میں ہم نے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس ملت وامت کی جانب سے جو آپ پر واجب ہوتا ہے ذکر کیا، اور اس میں ہم نے آپ کو ان مجموعہ فتاوی اور مواقف کہ جو آپ سے صادر ہوئے ہیں،ان سے روکا کہ  جو امت اور اسلام پر عمل پیدا ہونے والے علماء اور داعیان کے لئے بہت عظیم نقصان کا باعث ہیں۔

ایک جگہ پر  کہتا ہے کہ امام صاحب ظالم طاغوتوں کے دوست ہیں۔

جیسا کہ یوں کہا :

“فضیلۃ الشیخ لقد تقدمت بکم السن ، وقد کانت لکم أیاد بیضاء فی خدمۃ الاسلام سابقًأ ، فاتقوا اللہ وابتعدو اعن ھؤ لاء الطواغیت والظلمۃ الذین أعلنوا الحرب علی اللہ ورسولہ”

 فضیلۃ الشیخ آپ اتنے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور آپ کی اس سے پہلے اسلام کے لئے روشن خدمات ہیں، پس آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان طاغوتوں اور ظالموں سے دور رہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے۔

اسی طرح  کہتے ہیں کہ آپ کے فتاوی مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے۔

ایک جگہ پر  یوں کہا :

ونحن بین یدی فتوا کم الأ خیرۃ بشأن ما یسمی بھتانًا بالسلام مع الیھود والتی کانت فاجمعۃ للمسلمین حیث استجبتم للرغبۃ السیاسیۃ للنظام لما قرر اظھار ماکان یضمرہ من قبل ، من الدخول ھذہ المھزلۃ الاستسلامیۃ مع الیھود فأصد رتم فتوی تبیح السلام مطلقاً ومقید ًا مع الیھود

ہمارےسامنے آپ کا آخری فتوی موجود ہے جس کا عنوان ہے” یہود کے ساتھ صلح” جو کہ مسلمانوں کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں، کہ آپ نے اس نظام کے لئے سیاسی رغبت کا اظہار فرمایا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے جو پہلے مخفی تھی، یعنی آپ نے یہود کے ساتھ مطلق اور مقید صلح کو مباح قرار دینے کا فتوی جاری فرمایا۔

اسی طرح الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو ( بتاریخ ۰۸/۰۴/۱۴۲۲ھ) میں اور کیسٹ بعنوان “استعدوا للجھاد” (جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ) میں کہا اور کیا ہی برا کہا:

من زعم أن ھناک سلام دائم مع الیھود فھو قد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم

جو یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی صلح یہود کے ساتھ باقی ہے تو یقیناً اس نے اس چیز کا کفر کیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئی۔

اسی طرح بن لادن کا کہنا ہے کہ امام صاحب کے فتاوی لوگوں پر معاملے کو ملتبس اور مشتبہ کرنے کا سبب ہیں جسے ایک عام مسلمان بھی تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوگا۔

ایک جگہ پر  یوں کہا :

ان فتواکم ھذہ کانت تلبیسًا علی الناس لما فیھا من اجمال مخل وتعمیم مضل ، فھی لا تصلح فتوی فی حکم سلام منصف ، فضلاً عن ھذا السلام المذیف مع الیھود الذی ھو خیانۃ عظمی للاسلام والمسلمین، لایقرھا مسلم عادی فضلاً عن عالم مثلکم یفترض فیہ من الغیرۃ علی الملۃ والأمۃ

 آپ کا یہ فتوی لوگوں پر معاملے کو متلبس کرتا ہے کیونکہ اس میں جو خلل زدہ اجمال اور گمرہ کن عمومیت ہے وہ اس فتوی کو ایک منصافانہ صلح تک کے لئے ناقابل عمل بناتی ہے چہ جائیکہ یہود کے ساتھ اس مضحکہ خیز صلح کے لئے قابل عمل ہو، یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہے، ملت اور امت کے لئے غیرت ایک عام مسلمان کوبھی اسے قبول کرنے سے روکتی ہے چہ جائیکہ آپ جیسا عالم ایسی بات کرے۔

اس کے علاوہ مزید کئی دلائل موجود ہیں سو معاملہ آپ کے سامنے واضح ہے کہ بندہ ذاتی وجوہات کی بناء پر نہیں بلکہ ایک سوچ و فکر اور ایک عقیدے کے تحت مخالفت کر رہا ہے وہ ایک ایسے شخص کی جسے دنیا بھر میں شریعت اسلامیہ کا ایک پختہ عالم تسلیم کیا جاتا ہے ۔ نصیحت کو ٹھکرا کر اپنے اعمال کو حتمی سمجھتے ہوئے اس متفقہ شخصیت کے کیڑے نکالنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔ اور یہی خوارج کی سب سے بری عادت ہے ۔ 

دعا ہے کہ اللہ ہمیں دین حنیف کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اس پر صحیح معنوں عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ 




مسلم مجرم نہیں ہوتا

مسلم مجرم نہیں ہوتا 

خوارج اور اصلی مجاہدین میں فرق جاننے کے لئے  یہ ویڈیو ملاحظہ کیجیے ۔۔۔

ویڈیو HD کوالٹی میں اس لنک پر دیکھیں : https://vimeo.com/156523131

 

https://www.youtube.com/watch?v=QTcmc904_OM

 

 




عصر حاضر کے خوارج کی ایک خطرناک تلبیس کا جائزہ و رد

” خوارج تو حضرت علی کے دور میں تھے ، ہم خوارج نہیں ہیں ”

(عصر حاضر کے خوارج کی ایک خطرناک تلبیس کا جائزہ و رد)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ إمام الأنبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین ومن تبعھم إلی یوم الدین امابعد!

خوارج کا یہ پرانا وطیرہ رہا ہے کہ وہ عوام میں، مسلمانوں میں اپنا گھناونا چہرہ چھپانے کی خاطر اپنے لئے طرح طرح کے خوشنما نام رکھتے ہیں ، اپنی مظلومیت کا پرچار کرتے ہیں اور نئی نئی خلاف قرآن و سنت دلیلیں گھڑ کر خود کو خوارج کی چھاپ سے بچانے اور خارجیت کی مہر مٹانے کے لئے سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ کبھی خود کو “مجاہدین اسلام “، کبھی “غربا”، کبھی “مظلومیت کی داستانیں” وغیرہ وغیرہ۔یہ لوگ خود کو جہاد و مجاہدین کے ساتھ ایساخلط ملط کرتے ہیں کہ عام مخلص مسلمان ان میں اور صحیح مجاہدین و جہاد میں تمیز کرنے ناکام ہو جاتا ہے اور اس عظیم فتنہ خوارج کا شکار ہو کر انجام بد سے دوچار ہوجاتا ہے۔

آج کے دور میں جب بھی کوئی اہل علم چاہے وہ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ ہوں ، البانی رحمہ اللہ، الشیخ العثیمین رحمہ اللہ، الشیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ، الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ یا پھر عبد السلام بن محمد و الشیخ مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ اور دوسرے علماء، خوارج پر محکم رد و خبرار کرتا ہیں تو خارجی سوچ و فکر کے حاملیں نہایت ہی چلاکی اور ہوشیاری سے طرح طرح کہ شبہات و اشکالات گھڑنے میں مصروف ہو جاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں میں اپنے کالے چہروں اور گندے دماغوں کے باوجود، صحیح طرح پہچانے نہ جا سکیں بلکہ انکی تصویر مبہم ہی رہے اور وہ دین اور دین داروں کو مسلسل آلائم و مصیتبوں سے دوچار کرتے رہیں۔

ان شبہات میں سے ایک شبہ جو عموما پیدا کیا جاتا ہے وہ یہ کہ

تلبیس خوارج:

خوارج تو وہ ہوتے ہیں جو صرف اسلامی خلیفہ یا اسلامی ریاست کہ جس نے اسلامی قوانین مکمل نافذ کیئے ہوں، انکے خلاف خروج کرتے ہیں، نہ ظالم و غیر اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے والے نام نہاد مسلم حکمران کے خلاف۔
آج کل کے حکمران نہ تو اسلامی خلیفہ ہے ، نہ اسلامی ریاست اور نہ ہی حکمران شریعت کو مکمل نافذ کرتے ہیں۔ لہذا ہم خوارج نہیں ، کیوں کہ خروج تو اسلامی خلیفہ کے خلاف ہوتا ہے اور کیوں کہ عصر حاضر میں اسلامی خلیفہ نہیں تو خوارج کیسے ہوں گے؟؟؟

تلبیس خوارج کی حقیقت:

ان ظالموں کی کم علمی و کج فہمی پر مبنی اعتراض کی تاریخ بھی انہیں کی طرح کافی پرانی ہے اور یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ مسلمانوں کو انکی خوشنما تلبیسات کا سامنا ہے۔ اس پہلے یہ سلسلہ دور صحابہ سے شروع ہوکر سلف صالحین کے دور سے ہوتا ہوا ہی ہم تک پہنچا ہے۔

مگر بحمد اللہ ہر دور میں اہل حق نے ان گمراہ لوگوں کی تلبیسات و شبہات کا بھر پور رد پیش کیا ہے۔

جو تلبیس اوپر مذکور ہے ،اس بارے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام انتہائی اہم ہے۔

آئیے ، اب ہم ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی زبانی خوارج کے اس شبہ اور تلبیس کی حقیقت جانتے ہیں

رد تلبیس خوارج از امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس . . . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم. 

[النبوات لابن تيمية، : 222]

’’وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے۔

امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: 

وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

[مجموع فتاوٰی لابن تيميه، 28/495،496]

اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔

وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

[مجموع فتاوٰی لابن تيميه، 28/476،477]

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔

یہ بات صحیح احادیث سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلامی خلافت وخلیفہ آپ صلی اللہ کے فرامین کے مطابق صرف تیس سال رہے گی اور رہی۔

جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے :

وعن حذیفۃ بن الیمان أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:

“تکون النبوۃ فیکم ماشاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون خلافۃ علی منھاج النبوۃ، فتکون ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون ملکا عاضا فیکون ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون ملکا جبریا فتکون ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون خلافۃ علی منھاج” النبوۃ

[مسند أحمد ،علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔]

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کا ارشاد ہے:

نبوت تمہارے اندر باقی رہےگی جب تک اللہ اسے باقی رکھنا چاہےگا۔ پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہےگا تو اٹھا لےگا۔ پھر نبوت کے طرز پر خلافت قائم ہوگی تو اسے بھی جب تک اللہ باقی رکھنا چاہےگا یہ بھی باقی رہےگی۔ پھر وہ اسے بھی اٹھا لےگا جب اسے اٹھانا چاہےگا۔ پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی تو یہ بھی جب تک اللہ رکھنا چاہے رہےگی پھر اللہ اسے بھی اٹھا لےگا جب وہ اسے اٹھانا چاہےگا۔ پھر جبری بادشاہت ہوگی تو یہ بھی جب تک اللہ اسے رکھنا چاہےگا رہےگی۔ پھر جب اسے اٹھانا چاہےگا اٹھا لےگا۔ پھر نبوت کے طرز پر خلافت ہوگی۔”
(اس روایت کو علامہ عراقی اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:

خلافت تیس سال رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی ۔‘‘

[سلسلہ احادیث الصحیحہ للالبانی :۴۵۹،صحیح ابن حبان:۶۷۸۳]

جب ہم ان احادیث کا مطالعہ کریں تو یہ بات نکھر کے سامنے آجاتی ہے کہ اسلامی خلیفہ و خلافت کا دور تو کب کا ختم ہوچکا، اس بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت بھی اپنی بساط لپیٹتی نظر آرہی ہے اور عصر حاضر میں ہر جمہوری الیکشنز و انتخابات میں جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا مصداق نظام، یعنی جو جتنی رشوت و دھاندلی و دونمبری کا ماہر ہو یا پھر اقتدار پر قبضے کی قوت رکھنے والا ملٹری جرنیل ہو ، وہی حکمران بن جاتا ہے اور جبرا لوگوں پر مسلط ہو جاتا ہے چاہے وہ کوئی آمر ہو یا جمہوری صدر۔۔۔اور پھر یہ اقتدار بادشاہت کے انداز میں اس کے وارثوں میں ہی منتقل ہوتا جاتا ہے۔ اور عصر حاضر میں یہ کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں۔۔تو یہ دور جبری بادشاہت کا دور ہے، ظلم و جور کا دور ہے کہ جس کہ بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت علی منہاج النبوی کی خوشگوار پیش گوئی کی ہے واللہ واعلم

اب اگر خوارج کی اس تلبیس پر غور کیا جائے کہ خروج تب ہوگا یا ہم خوارج تب ہوں گے جب ہم کسی اسلامی خلیفہ و حکمران کے خلاف خروج یا علم بغاوت و قتال بلند کریں گے ورنہ ہم خوارج نہیں، اور نہ ہی ہم خروج کر رہے ہیں۔

جب اس تلبیس پر دلیل و برھان کی تیز روشنی پڑتی ہے تو تلبیس کا یہ جال ،مکڑی کے اس خوشنما جال کی طرح چمکنا شروع ہوجاتا ہے جو کہ اندھیرے میں نظر نہیں آتا ہے اور شکار کو پھنساتا چلے جا رہا ہوتا ہے۔

اسلامی خلافت تو ابتدائی تیس سال کے بعد اختتام پزیر ہو گئی تھی۔

اس کے بعد تو ظلم و جور اور ایسی بادشاہت کا دور رہا کہ جن میں شاید سوائے چند خوش نصیبوں کہ کسی حکمران نے اسلامی قوانین کو مکمل نافذ کیا ہو، کیونکہ تابعین و تبع تابعین کا دور ہو، یا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ، یا ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور یا پھر الشیخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کا ، نہ تو اسلامی خلافت تھی اور نہ اسلامی حکمران اور نہ ہی اللہ کے دین کا نفاذ مگر پھر بھی ان تمام سلف و آئمہ کے دور کا مطالعہ کریں تو آپ کو انکے ادوار میں خوارج کی موجودگی بھی ملے گی اور یہی ہستیاں اپنے اپنے زمانے میں خوارج کے وجود و اثرات اور مذمت میں مصروف بھی نظر آئیں گی۔

جن میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دور میں خلق قرآن کے کفریہ عقیدے کے قائلین حکام ہوں یا پھر ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دور میں یا خالد ابن الولید المدد کے نعرے لگانے والا سلطان یا پھر محمد بن عبدالوھاب کے دور میں خلافت عثمانیہ  میں سود کو جائز و حلال قرار دینے اور غیر اللہ کے فیصلوں پر عمل پیرا حکمران، خروج اور خوارج کا وجود تب بھی رہا اور ان آئمہ نے انکی مذمت بھی اور ان کا تعاقب بھی۔

اگر اصولی اور نظری بات کی جائے توخلافت عثمانیہ اور آج کی مسلمان حکومتوں میں کوئی بھی جوہری فرق نہیں ہے۔ خلافت عثمانیہ میں سوائے مجلہ أحکام عدلیہ کے، جو دیوانی قانون کے طور پر رائج تھا اور اس کی بھی پابندی عدالتوں کے لیے لازم نہ تھی، بقیہ تمام قوانین فرانسیسی، اطالوی اور برطانوی تھے۔ بلکہ سلطنت عثمانیہ کے اساسی قانون میں یہ بات بھی موجود تھی کہ سود شرعاً حرام ہے اور قانوناً جائز ہے۔علاوہ ازیں سلطنت کے قانون فوجداری میں یورپین قوانین کی تقلید میں حدود کو ساقط کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود اس وقت کے علماء میں سے جن محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور انکے شاگرد باکثرت موجود تھے، سمیت کسی مکتب فکر کے کسی بھی عالم دین کو بھی ہم نہیں دیکھتے کہ وہ خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں یا دوسرے الفاظ میں اس وقت کے خلفاء کی تکفیر کر رہے ہوں۔ ان کے خلاف خروج و بغاوت کے فتوے دے رہے ہوں۔

خوارج قیامت تک نکلتے رہیں گے:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّی عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَی عَشْرَةِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّی يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ

[أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 198، رقم : 6871،8، حاکم، المستدرک، 4 : 533، رقم : 8497، ابن حماد، الفتن، 2 : 532،ابن راشد، الجامع، 11 : 377، آجري، الشريعة : 113، رقم : 260].

’’میری امت میں مشرق کی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا وہ (حکام کی جانب سے) ختم کر دیا جائے گا۔ ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا (حکام) ان کا خاتمہ کر دیں گے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ہی دس دفعہ سے بھی زیادہ بار دہرایا اور فرمایا:

” ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جب بھی نکلے گا اسے کاٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ ان ہی کی باقی ماندہ نسل میں دجال نکلے گا۔‘‘

اس حدیث کے بعد اب خوارج کی اس تلبیس کی کیا حققیت باقی رہ جاتی ہے کہ خوارج یا خروج صرف وہ ہوتا ہے جو اسلامی خلیفہ و حکمران کے خلاف نکلے نہ کہ غاصب، ظالم و فاسق حکمران کے خلاف جس نے حدود اللہ نہ نافذ کر رکھی ہوں۔؟

کیونکہ نہ تو آج خلیفہ کا وجود ہے ،کیونکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تیس سال بعد ہی اختتام پذیر ہو گیا تھا، نہ اسلامی قوانین کا نفاذ ۔۔۔۔۔۔مگر صحیح حدیث کے مطابق خوارج دجال کی آمد تک نکلتے رہیں گے اور کٹتے رہیں گے۔

لہذا آج بھی خوارج کا وجود ایک حقیقت ہے جو حکم بغیر ما انزل اللہ اور ناجائز تکفیر مسلم اور مسلم ممالک میں تفجیرات سے اپنی موجودگی جتا رہا ہے اور امت مسلمہ کو دھیمک کی طرح چاٹ رہا ہے

ایک طرف تو ظالم حکمران اور دوسری طرف یہ جہنم کے کتےاور تیسری طرف کفار کی یلغاریں لاالہ الا اللہ۔

[ابن ماجہ:۱۷۳، وھو حدیث حسن]

أمت اس وقت ایک چوراہے پر کھڑی ہے وہ اپنے علماء، مفکرین اور فیصلہ سازوں کے تعاون کی محتاج ہے تاکہ وہ اس کے ماضی کی تصحیح ، حاضر کی اصلاح اور مستقبل کو روشن کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں ۔اس سخت مرحلے میں أمت اور اس کے عقائد سخت دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اگر تائید ربّانی اور قوّت دین نہ ہو تی تو یہ دباؤ شائداسے اسکی جڑوں سے ہی اکھاڑپھینکتا۔

لہذا کسی کو اس تلبیس یا شبے کا شکار نہیں ہونا چاہیئے کہ آج کل خارجی موجود نہیں ، اور خروج نہیں ، یہ تو شریعت کے نفاذ کے لئے جہاد ہو رہا۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ

دین محمدیہ میں شریعت و اسلام کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔
اس پر تاریخ گواہ ہے۔

ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ

“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”،

“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

وما علینا الا البلاغ المبین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 



میں نے القاعدہ کیوں چھوڑی؟۔ سابقہ القاعدہ اور موجودہ داعش کے لیڈر ابوجریرالشمالی کے قلم سے

ابو جریر الشمالی

میں نے القاعدہ کیوں چھوڑی

میں نے القاعدہ کیوں چھوڑی؟

سابقہ القاعدہ اور موجودہ داعش کے لیڈر

ابو جریر الشمالی کے قلم سے

ایڈیٹر نوٹ:

واہ شاناں رب رحمان دیاں۔۔۔ وہ دن یاد آ گیا جب ایک کتاب “گوانتاناموبے کی ٹوٹی زنجیریں” مارکیٹ میں نمودار ہوئی۔۔ جسمیں جھوٹ اور دجل کی حدود کو پھلانگا گیا۔۔ مجایدین حقہ پر جاسوسی کے گھٹیا الزامات لگائے گئے۔۔ کشمیری مجاہدین کو کفار کا ایجینٹ اور مرجئیہ ثابت کر کے القائدہ کے خارجی منہج کی طرف دعوت دی گئی۔۔ لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔۔۔ آج اسی القائدہ کی اپنی جڑیں اسوقت ہل کر رہ گئیں جب داعش نامی تنظیم سامنے آئی۔!! اب یہ القائدہ اپنے ہی بوئے ہوئے بیج کو کاٹ رہی ہے۔۔

لیجئے سنئے اب اندر کے راز۔۔ کل دوسروں کو مرجئہ کا الزام دینی والی القائدہ کیساتھ آج داعش نے مرجئہ کا لقب چپکا دیا۔۔ کل دوسروں کو ایجینٹ کہنے والی القائدہ کا بھانڈہ اپنے ہی ہاتھ سے پھوٹ گیا کہ جس کو داعش نے جاسوسی اور لواطت کے قبیح فعل میں مرتکب قرار دیدیا۔۔۔ کل جب القائدہ کو کوئی کہتا کہ تم خوارج کی ڈگر پر چل رہے تو یہ دوسروں کو ارجائیت کا طعنہ دیتے۔۔ لیکن آج حالات نے پلٹا کھایا اور القائدہ کو داعش نے اسوقت مرجئیہ کہہ مارا جب القائدہ نے داعش کو خارجی کہا۔۔ واہ رے سبحان تیری قدرت۔۔۔!!!!!

سنئے القائدہ کے ظاہری تقوی کے پیچھے کیا چھپا ہے؟۔یہ کہانی کسی “الڑ بلڑ” کی نہیں بلکہ ابو جریر الشمالی کی ہے۔ جی ہاں یہ کوئی عام آدمی نہیں۔۔ پہلے ابو معصب زرقاوی کیساتھ رہا۔۔۔ پھر ایران میں کئی سال جیل کاٹی اور پھر رہائی کے بعد فساد فی سبیل الشیطان کیلئے وزیرستان کے لئے رخت سفر باندھا۔۔ ۔ ابھی حال ہی میں القائدہ کو چھوڑ کر جب حق القائدہ سے داعش کی گود میں منتقل ہوا تو ابو جریر الشمالی نے اپنے تلخ تجربات کو ایک رسالہ میں ڈھالا جو کہ داعش کے آفیشل رسالے “دابق” میں چھپا جو کہ آن لائن اس لنک پر دستیاب ہے۔۔اس رسالہ میں سے چند اہم اقتباسات یہاں پیش خدمت ہیں تاکہ آپ لوگوں تک اندر کی کہانی مختصر وقت میں پہنچ جائے۔۔!!

file12 (1)

نائن الیون سے پہلے القاعدہ مرجئہ کے  منہج پر تھی ۔

صفحہ نمبر ۲ سے اقتباس:

“گیارہ ستمبر سے پہلے ہم تنظیم القاعدہ کواسکے بعض قائدین کےاسی کی دہائی کے آواخر اور نوے کی دہائی کے بیانات کی وجہ سے ایک اِرجائی سوچ کی حامل جہادی جماعت سمجھتے تھے مثلاً مرتد حکمرانوں خصوصا سعودی خاندان اور ان کی افواج کے بارے خیالات کی وجہ سے اور ان حکمرانوں اور افواج کے ارتداد کو ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے۔”

افغان طالبان کی توحید ناقص ہے۔

صفحہ نمبر ۳ سے اقتباس:

“ہم افغان طالبان کو بھی اپنے ساتھیوں کی توحید کے بارےمیں ناقص تربیت کا ذمہ دار گردانتے تھے۔تربیت میں اس کوتاہی کی وجہ سے ان کے بہت سے لوگ قبروں کے طواف اور تعویذ پہننے جیسےشرکیہ اعمال میں مبتلا ہوگئے ۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ابھی تک یہ معاملات موجود ہیں۔”

نائن الیون سے پہلے زرقاوی اور بن لادن کے اختلاف کے بارے میں:

صفحہ نمبر ۳ سے اقتباس:

“نوے کی دہائی کے آخر میں افغانستان کے شہر ہرات، جوکہ شیعہ اکثریت کا علاقہ تھا اور مہاجر مجاہدین گروپوں کے مراکزسے بہت دور تھا، میں ابو مصعب الزرقاوی رحمہ اللہ نے اپنے چند ساتھیوں پر مشتمل مرکز قائم کیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ابھی اپنے گروپ کو باقی گروہوں سے علیحدہ رکھنا اور روز مرہ کی ملاقاتوں جیسے معمولات سے بچنا چاہتے تھے،تاکہ اس بہانے خفیہ اداروں کے اندر گھس آنے سے بچا جاسکے۔انہوں نے اس لئے بھی اپنے آپ کو علیحدہ رکھا کیونکہ باقی گروپوں کے لوگ ان پر شدت پسند ، خارجی اور تکفیری جیسے الزامات لگاتے تھے۔

جہاں تک ہمارے دوسرے ساتھیوں کا گروپ ، جوکہ اردن میں ہی مقیم رہا، کا تعلق ہے تو اس نے افغانستان میں جاری جہاد کی حمایت نہیں کی[ گیارہ ستمبر سے پہلے تک]۔اسکی بجائے انہوں نے اردن میں قیام اور توحید کی دعوت پھیلانا بہتر تصور کیا ، خصوصاً جب ایک ساتھی افغانستان سے واپس آیا اور وہاں کے حالات ، طالبان اور ان کی شریعت کی خلاف ورزیوں کے بارےمیں بات ہوئی۔”

مصعب الزرقاوی اور اسامہ بن لادن اختلاف کا خاتمہ:

صفحہ ۴ سے اقتباس:

“گیارہ ستمبر کے حملوں کےکچھ بعد شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ نے اپنے چند خطابات میں حرمین الشریفین کے حکمرانوں اور ان کی افواج کےمرتد ہونے کو واضح کیا اور ان کے خلاف جہادکے فرض کی یاد دہانی کروائی۔

اب شیخ زرقاوی رحمہ اللہ کے موحّد مجاہدین اور شیخ اسامہ رحمہ اللہ اور اُن کی تنظیم کے درمیان اتحاد میں جو رکاوٹیں تھیں وہ ختم ہوگئیں۔”

وزیرستانی “مجاہدین” خود شریعت سے متصادم قوانین نافذ کرنے کے مرتکب:

صفحہ ۵ سے اقتباس:

“سب سے پہلا اور بڑا صدمہ جو مجھے پہنچا وہ یہ تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ وزیرستان کا علاقہ مکمل طور پر آزاد ہےاور کوئی بھی آدمی وہاں مرتد پاکستانی فوج سے مڈبھیڑ کئے بغیر آسانی سے اسکے طول و عرض میں گھوم پھر سکتا ہے۔میری سوچ تھی کہ وہاں مجاہدین ہی فیصلہ ساز ہیں اور انہوں نے وہاں شرعی قوانین نافذ کررکھے ہوں گے۔لیکن صد افسوس کہ قبائلی قوانین ہی وہاں غالب تھے۔اس زمین پر شرعی قوانین کی برکات کی بجائے یہی قبائلی قوانین ہی لوگوں پر مسلط تھے۔ مرتد پاکستانی فوج نے ہر چوٹی اور ہر پہاڑ پر قبضہ کررکھا تھا اور ہر قریہ و شہر کے لوگ اس کی نظر میں تھے۔”

القاعدہ خود دوسروں کو خارجی ثابت کرنے میں مصروف:

صفحہ پانچ سے اقتباس:

“جہاں تک مجاہدین کے زمینی حقائق کی بات ہے تو بڑے عجیب و غریب حالات تھے۔ سب سے بڑی جماعت، قاعدۃ الجہاد جو کہ بلاشبہ مسلمانوں کی اکثریت کے دلوں کی دھڑکن اور آنکھوں کا تارہ بن چکی تھی اور وہ اس میں شمولیت کے شدت سے خواہش مند تھے،اور توقع کرتے تھے کہ یہ جماعت ان کی آزادی کی جدوجہد، طاغوتی نظاموں کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرنے، زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ ، اُن کے حقوق کی حفاظت اور مظلوموں کی مدد جیسے کاموں میں رہنمائی کرے گی۔لیکن اِس علاقے میں ہم نے ان میں سے کوئی بھی بات نہیں پائی،

بلکہ اِس کی بجائے تنظیم القاعدہ اس علاقے کے مجاہدین کومتشدد تکفیری ، خارجی اور جزوی تکفیری جیسے خانوں میں بانٹنے میں مصروف عمل تھی۔وہ ہر اس شخص کو اپنے قریب کرلیتے جو ارجاء میں ڈوبا ہوتا تاکہ تنظیم سے خارجی سوچ کوکچلا جائے(اپنے مزعومہ نظریے کے مطابق:از مترجم) اورنکال باہر کیا جائے۔

یہی وجہ تھی کہ وہ تنظیمی ڈھانچہ جو القاعدہ کی قیادت سے رابطہ میں تھا اپنے مزعومہ منہج کی بنیاد پر لوگو ں کو پرکھتا تھا۔اسکا نتیجہ یہ تھا کہ ایسا بھائی جو کہ حقیقی طور پر صحیح منہج کا حامل ہوتا جسے یہ اپنا مخالف گردانتے تھے وہ اِس قابل نہیں تھا کہ وہ تنظیم کی شرعی یا عسکری غلطیوں پر تنقید کرسکے یا اصلاح کر سکے۔اس کی بجائے ان بھائیوں کے تنظیم سے مکمل اخراج، تنہا کرنا، رکاوٹیں ڈالنا،علاقہ بدر کرنا اور حتی کہ بے عزتی کرنے جیسے حربے استعمال کیے جاتے تھے۔”

القاعدہ کا ابو جریر کو خارجی کا لقب دیا:

صفحہ ۶ سے اقتباس:

“میرانشاہ پہنچنے کے چند دن بعد تنظیم القاعدہ کی شرعی کمیٹی کے امیر نے مجھے اس بات پر دھمکایا اور برا بھلا کہا کہ میں نے ایران کے بارے میں رافضی کا لفظ استعمال کیا ہےجہاں میں نے آٹھ سال قید میں گزارے۔میں نے یہ لفظ تب استعمال کیا جب ساتھی وہاں پہنچنے پر مجھ سے ملنے آئے اور مجھ سے میرے حالات اور رہائی وغیرہ کے متعلق دریافت کیا۔پھر مجھ پر خارجی اور تکفیری ہونے کا الزام لگایا گیا اور شرعی کمیٹی کے اس وقت کے امیر سلیم الطرابلسی اللیبی رحمہ اللہ نےمجھے کہا کہ”اردن واپس چلے جاؤ اور وہاں جس کی مرضی تکفیر کرو ہم تمہاری حمایت کریں گے”۔ یہ دوسرا صدمہ تھا جو مجھے پہنچا۔”

ابوجریر نے وزیرستانی مجاہدوں میں کیا دیکھا؟

صفحہ ۶ سے

“میں نے اِس علاقے میں جو کوتاہیاں مجھے نظر آئیں اُن کے بارے میں تنظیم کی ہر سطح اور ہر ساتھی کو نشاندہی کرنا شروع کردی۔یہ مندرجہ ذیل تھیں۔

1️⃣۔ یہ علاقہ مسلح مجاہدین سے بھرا پڑا ہے اور اِن میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ علاقے کا کنٹرول سنبھال سکیں، تو پھر کیوں اللہ کے قانون کا نفاذ نہیں کیا جارہا ؟

2️⃣۔ کیوں طاغوتی قبائلی قوانین (جرگہ سسٹم )بغیر کسی حیل و حجت کے لوگوں پر جاری و ساری ہے حتی کہ لوگوں کو اس کے بارے میں نصیحت تک کرنا گوارا نہیں کیا گیا؟

3️⃣۔ مجاہدین امریکہ سے لڑنے کے لئے افغانستان میں داخل ہونے اور واپس آنے کے لئے پاکستانی فوج کی مدد کیوں لیتے ہیں؟

4️⃣۔ کیا وزیرستان کے علاقے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے سٹرکوں کی تعمیر و بحالی اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی کہ وہ اس علاقہ میں کوئی خاص مشن رکھتی ہے؟

5️⃣۔کیوں علاقے کے بچے ،بچیاں گورنمنٹ کے لادینی سکولوں میں کثیر تعداد میں داخلہ لے رہے ہیں اور علاقہ کے عمائدین کو اس بارے میں کوئی نصیحت یا روک ٹوک نہیں کی جاتی، اور مجاہدین کے لئے سکول کیوں نہیں قائم کیے جاتے؟خصوصا ًالقاعدہ کی مرکزی قیادت نے مہاجر اور انصارمجاہدین کے بچوں کے لئے سکول اور تربیت کے نظام میں بہت لاپرواہی کا مظاہرہ کیا، سوائے حالیہ عرصے میں تنظیم کے مخصوص بچوں کے لئےکچھ اقدامات کیے گئے۔

6️⃣۔وزیرستان کے لوگوں کی شرعی اور اخلاقی خامیوں پر نصیحت نہ کرنے پر کیوں اصرار کیا جاتا ہے؟اور یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ اس میں بھی شرعی فوائد ہیں اور اِن کو اپنے آپ سے متنفرکرنے یا اِن سے محاذ آرائی سے گریز کیا جائے

7️⃣۔میں نے تنظیم کی قیادت سے ان کے سکیورٹی سربراہ اور منصوبہ ساز ابو عبیدہ المقدسی [عبداللہ العدم رحمہ اللہ ]کے ذریعے درخواست کی تھی کہ وہ عرب بیداری کی تحریکوں یعنی عرب سپرنگ کی بہت زیادہ ستائش نہ کریں۔

8️⃣۔ہمیں مجاہدین کی مختلف جماعتوں کو جوڑنا ، اکٹھا کرنا اور ان کےاور تنظیم کے درمیان جو کوئی مسائل زیر التواء ہیں ان کوحل کرنا چاہیئے۔

9️⃣۔ ہمیں خواتین کو اس علاقے سے نکال لینا چائیے تاکہ اُن کی موجودگی کسی اچانک فوجی آپریشن جیسا کہ متوقع ہے، کی صورت میں مجاہدساتھیوں کی نقل و حرکت میں حائل نہ ہوجائے اور وہ مشکل میں پڑ جائیں۔ علاقہ میں بلند پہاڑی چوٹیوں کی وجہ سے خواتین کی موجودگی میں نقل و حمل مشکل ہوجاتی ہے۔اور ویسے بھی وہاں ان کے قیام کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں تھی۔

القاعدہ اسامہ بن لادن کے منہج سے ہٹ گئی

صفحہ ۷ سے اقتباس:

“افسوس کہ میں نے تنظیم قاعدۃ الجہاد کو شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد اُسی پرانی ڈگر پر چلتے ہوئے پایا جو کہ شیخ رحمہ اللہ کے اُن بیانات سے پہلے والی تھی جس میں انہوں نے سعودی بادشاہ اور افواج کی واضح الفاظ میں تکفیر کی تھی۔پس جو القاعدہ میری قید سے پہلے تھی ، رہائی کے بعد بھی اسی القاعدہ سے میرا سامنا ہوا۔اور یہ ڈگر اِرجاء کی تھی جو کہ احتیاط اور فوائد کے حیلے بہانوں کے لبادوں میں لپٹی ہوئی تھی۔ سب سے حیران کن بات عصر ِحاضر کے رافضی طبقہ کی تکفیر میں ہچکچاہٹ تھی، جن کی شیطانیت ہر خاص و عام پر روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔جہاں تک میرے زمانہِ قید کے دوران تنظیم کے مؤقف کی بات ہے تو مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت کیا صورت حال تھی۔”

ابو عبیدہ المقدسی مرجیہ کے عقیدہ پر

صفحہ ۷ سے اقتباس:

“ابو عبیدہ المقدسی،القاعدہ کی اِرجائی سوچ کےحامل تھےلیکن انہوں نے کبھی بھی باہمی گفت و شنید یا تبادلہ خیال کو ترک نہیں کیا، بلکہ وہ بات سنتے ،جواب دیتے اور اِس پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔میرا انکے بارے میں گمان تھا کہ ان میں بہت اچھائیاں ہیں ،باوجود کہ عام یا نجی محفلوں میں ہمارے درمیان بحث و مباحثہ میں تیز کلامی بھی ہوجاتی۔حتیٰ کہ میں نے ان سے بہت عجیب و غریب باتیں سنیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ تنظیم القاعدہ ،جامعہ الازہر کے سابقہ مفتی طنطاوی اور یوسف القرضاوی کو بھی مسلمان مفکّر مانتی ہے اور انکی تکفیر نہیں کرتی۔”

ملا عمر مجاہد قوم پرستی میں مبتلا:

صفحہ ۷ سے اقتباس:

“اسی اثناء میں طالبان کے عربی رسالے “الصمود” میں ملّا محمد عمر مجاہد وفقہ اللہ کے حوالے سے ایک بیان چھپا جو کہ انہوں نے سن ۱۴۳۳ہجری کی عید الفطر کے موقع پر مسلم امّہ کے نام دیا تھا اور امریکیوں کے نکلنے کے بعد افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے وضاحت کی تھی۔ انہوں نے کچھ ایسے خیالات کا بھی اظہار کیا جو کہ اسلام کے لئےمضر تھے اور قوم پرستانہ اور وطنیت کی چھاپ لیے ہوئے تھے۔اِس میں انہوں نے بین الاقوامی معاہدوں اور سرحدات کا احترام کرنے کو کہا، عرب انقلابات کے ذریعے خطے میں حکومتوں کو گرانے پر اِن قوموں کو مبارک باد دی اور ان ممالک کو خیر باد کہنے والے ستم رسیدہ مہاجر مجاہدین کو واپس اپنے ملکوں میں جانے کو کہا۔”

ملا عمر کے بیانات کا رد کیا گیا جسکا جواب دینے سے وہ قاصر رہے:

صفحہ ۹ سے اقتباس:

“میں نے ملا عمر وفقہ اللہ کے اس بیان کا رد لکھا اور تنظیم کو بھی اسکے بارے توجہ دلائی۔ابو عبیدہ المقدسی رحمہ اللہ نے مجھے لکھنے پر ابھارا۔میں نے حقانی گروپ سے بھی اس بارے میں پوچھا جو کہ ملا محمد عمر وفقہ اللہ کی وزیرستان میں نمائندگی کرتا تھاتو انہوں نے بھی مجھے ملا محمد عمر وفقہ اللہ کے بیان کے رد میں لکھنے کو کہا۔پس میں نے اسکا رد لکھا اور حقانی گروپ کے ذریعے ملا عمر وفقہ اللہ کو بھیجا۔اُدھر سے جواب ملا کہ اسکا ردِّعمل عید الاضحی پر آپ کو مل جائے گا۔لیکن افسوس کہ ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔میں ملا عمر وفقہ اللہ کے نمائندے محب اللہ سے ملا اور اس رد کی ایک نقل اسے بھی دی۔لیکن افسوس کہ پھر بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔”

“دارالسلام” وزیرستان اسلام سے کوسوں دور:

صفحہ ۹ سے اقتباس:

“میں نے اپنے اردگر د نگاہ ڈالی تو مجھے کہیں پر بھی اسلام اپنی حقیقی شکل و صورت میں قائم ہوتے ہوئے نظر نہ آیا۔زمین مجھ پر تنگ ہوگئی۔”

طالبان کے مختلف دھڑےکس کس ڈگر پر؟

صفحہ ۱۰ سے اقتباس:

“میں نے اس علاقے کی فطرت ، لوگوں اور دوسرے معاملات جن کے بارے میں ،میں غیر واضح تھا، سیکھا۔میں نے مختلف گروہوں اور خصوصی طور پر طالبان کہلانے والے مختلف دھڑوں کے بارے میں جانا۔

1️⃣۔ افغان طالبان جیسا کہ حقانی گروپ ہے۔انکی اصل افغانی تھی۔ اور انکا مقصد افغانستان تھا، جیساکہ وہ کہتے ہیں۔وہ ملا محمدعمر وفقہ اللہ کو اپنا اعلیٰ رہنماء مانتے ہیں۔

2️⃣۔وزیرستانی طالبان جو کہ اپنے آپ کو پاکستانی کہلواتے ہیں۔انکے بہت سے کمانڈر ہیں جن میں سے گل بہادر، غلام خان،گوڈ عبدالرحمان وغیرہ شامل ہیں۔وہ اپنے آپ کو پاکستان کے پختون شمار کرتے ہیں۔یہ علاقے میں دوسرے گروپوں کے نفع ونقصان سے بالاتر ہوکرصرف اپنے مفادات کے لئےکام کرتے ہیں۔انکا پاکستانی جاسوسی اداروں سے بہت مضبوط تعلق ہے۔یہ بھی ملا عمر کو اپنا رہنما مانتے ہیں۔

3️⃣۔قبائلی علاقہ میں خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان کے علاقے کے آزاد طالبان۔یہ لوگ پاکستانی حکومت کے مضبوط اتحادی ہیں۔افیون اور چرس کی پیداوار پر گزر بسر کرتے ہیں۔تحریک ِطالبان پاکستان کے خلاف لڑتے ہیں اور بزور قوت انکو سٹرکوں پر سفر سے روکتے ہیں۔وہ بہت سے ناموں سے جانے جاتے ہیں، مثلاً لشکر اسلام، انصارا لاسلام،جماعت التوحید، منگل باغ وغیرہ ۔(ایڈیٹر نوٹ: خیبر ایجنسی کی انصار الاسلام کا عراق کی انصار الاسلام سے کوئی تعلق نہیں)

4️⃣۔ وادی سوات اور پشاور کے گردونواح میں پاکستانی فوج کے آپریشن کے بعد وہاں سے نقل مکانی کرکے آنے والے تحریک طالبان پاکستان کے لوگ۔یہ لوگ غالباً وزیرستان کے علاقے میں موجود سب گروہوں میں سےبہترین لوگ تھے۔لیکن بد قسمتی سے پاکستانی انٹیلی جنس ان کے اندر نقب لگانے میں کامیاب ہوگئی، اور انکے کچھ قبائلی عمائدین کو بھڑکایا اور قیادت کے مسئلے پر آپس میں لڑائی کرنے پر اکسایا۔وہ مختلف قبائلی حلقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہر حلقے کا اپنا امیر ہوتا ہے۔ میری وزیرستان آمد سے پہلے انہوں نے وادی ِسوات میں شرعی نظام کا نفاذ کیا تو تنظیم القاعدہ نے فوراً اپنا ایک پختون نمائندہ مفتی حسن نامی تحریک کے لوگوں سے ملنے کے لئے بھیجا تاکہ وہ انہیں قائل کرے کہ وہ بڑی اور اَرفع حکمت کی خاطر شریعت کے نفاذ میں جلدی نہ کریں۔جب مفتی حسن ،شیخ مقبول( شاہد اللہ شاہد)، تحریک کے مفتی سے ملے تو شیخ مقبول نے ان کو شریعت کے فوری نفاذ کی اہمیت کا قائل کرلیا۔پس مفتی حسن نئے خیالات کے ساتھ واپس پلٹے اور تنظیم القاعدہ کے سامنے اِن سوالات کو پیش کیا۔لیکن اس کا صلہ انہیں تنظیم سے اخراج کی صورت میں ملا۔اَب وہ تحریک طالبان پاکستان کےایک رکن ہیں۔یہ باتیں مجھے تحریک کے کچھ رہنماؤں نے بتائیں جو کہ ان واقعات کےگواہ ہیں۔”

القاعدہ و طالبان لواطت اور جاسوسی کے قبیح فعل میں مبتلا:

صفحہ ۱۱ سے اقتباس:

“شمالی وزیرستان سے چھ ماہ کی میری غیرحاضری کے دوران کافی واقعات رونما ہوئے۔اِن واقعات نے تنظیم کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا۔سب سے سنگین مسئلہ تنظیم کے کچھ ساتھیوں کی اولاد کا تھا ، شہید [جیسا کہ انکے بارے ہمارا گمان ہے]ساتھیوں کے بیٹوں کا،قائدین کے بیٹوں کا۔یہ لوگ لواطت کے فحش کام میں مبتلا ہوئے اور بالآخر جاسوسی کے مرتکب ہوئے تھے،جیسا کہ اِس سے پہلے سوڈان میں کچھ دوسرے بھائیوں کے ساتھ یہ ہوچکا تھا۔انکی غداری کے نتیجہ میں دسیوں فضائی حملے ہوچکے تھے اور نتیجتاًکافی ساتھی شہید ہوگئے۔ہم نے تنظیم کی خاموشی کے خلاف آواز اٹھائی اور اُن پر دباؤ ڈالا کہ وہ امارتِ اسلامی افغانستان سے ہٹ کر آزادانہ اِن لوگوں پر مقدمہ چلائیں۔لیکن تنظیم نے یہ موقف اپناتے ہوئے کہ وہ امارتِ اسلامیہ سے بیعت ہے اور انکی پابند ہے ، اس بات پر اصرار کیا کہ وہ امارت ِاسلامیہ سے ہی فیصلہ کے لئے قاضی بلوائیں گے۔ہم نے تنظیم القاعدہ سے امارت ِاسلامیہ سے ہٹ کر آزادانہ مقدمہ چلانے کی درخواست اس لیے کی تھی کہ ہمارے اور امارت کے درمیان امارت کے فقہی تعصب کی وجہ سے جاسوسی اور فحاشی کی سزاء میں فقہی اختلافات موجود تھے ۔

(ایڈیٹر نوٹ:امارت اسلامیہ کے قاضی دیوبندی(ماتریدی حنفی) ہیں۔مرتد ہونے والے “مسلم” جاسوس پر حُکم لگانے میں اُن کے اندر ارجاء ہے۔جاسوسی اور لواطت کی سزائیں ان کے ہاں دوسرے مکاتب ِ فکر کے مقابلے میں نرم ہیں-القاعدہ کا امارت اسلامیہ کو حَکم بنانے پر اصرار اسی لیے تھا تاکہ مجرموں کو قتل کی سزا سے بچایا جا سکے- اسی وجہ سے مصنف اور اسکے ساتھیوں نے اصرار کیا کہ مقدمہ تنظیم القاعدہ خود چلائے -)”

امارت نے اس معاملہ میں دخل دینے سے معذرت کرلی اور اسکی بجائے واپس تنظیم کی طرف فیصلہ لوٹا دیا۔

اِن نوجوانوں کی کہانی ہر طرف پھیل گئی اور تنظیم ایک مذاق بن کررہ گئی۔مجاہدین اور عام لوگوں کی طرف سے سوالات اُٹھنا شروع ہوگئے، کہ تنظیم اِن پر حد قائم کرنے میں تاخیر کیوں کررہی ہے اور فیصلہ ہوئے بغیر تنظیم القاعدہ نے کیوں ملزموں کو قید سے رہا کردیاہے۔؟”

داعش کے بارے ظواہری کا پروپیگینڈا:

صفحہ ۱۴ سے اقتباس:

“الظواہری اسکے بعد متواتر ذرائع ابلاغ پر ایک معصوم صلح کار کے طور پر نمودار ہوتے رہےاور ریاست اور بیعت کے معاملے میں فیصلہ کرنے میں قیادت کے “حق” اور اسکی سمع و اطاعت کے “فرض ” ہونے پر زور دیتے رہے۔انہوں نے دولتِ اسلامیہ اور اسکے رہنماء کو بدترین خصلتوں کے حامل کے طور پر پیش کرنا شروع کردیایہاں تک کہ شام میں ہتھیار اٹھانے والے ہر گروہ نے دولت ِاسلامیہ کو اپنا نشانہ بنالیا، اور الظواہری کے پرپیچ خیالات کے جال میں آکر بہت سے گروہ ان بھول بھلیوں میں پھنس گئے۔”

القاعدہ نے مال و عہدہ دیکر کر خریدنے کی کوشش کی:

صفحہ ۱۵ سے اقتباس:

“تنظیم نے مال ودولت اور عہدوں کی شکل میں ہمارے دل جیتنے اور ان میں موجود غصہ کو ختم کرنے کی کوشش کی، لیکن اللہ کے فضل سے وہ اس میں ناکام ہوگئے۔”

القاعدہ  سے ابو جریر کے سوالات:

صفحہ ۱۵ سے اقتباس:

“جو سوالات ہم نے تنظیم القاعدہ کے سامنے پیش کیے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

1️⃣۔ تنظیم اپنا عقیدہ شائع کرے بالخصوص روافض کے بارے میں۔

2️⃣۔طاغوت مرسی کے بارے میں ایمن الظواہری کی دعا کا شرعی ثبوت پیش کریں۔

3️⃣۔الظواہری کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کو خارجی قرار دینے کی وجوہات بیان کریں۔

4️⃣۔ جہادی لائحہ عمل کو قتال سے ہٹاکر پرامن مظاہرو ں اور عوامی حمایت کے حصول کی طرف پھیرنے کی وجوہات بیان کی جائیں۔

ان سوالات کا کوئی جواب نہیں آیا حتیٰ کہ میرانشاہ سے آخری مجاہد بھی نکل گیا چونکہ جون ۲۰۱۴ میں پاکستانی فوج اس علاقے میں داخل ہوگئی تھی اور اسکا محاصرہ کر لیا تھا ۔اس موقع پر ہم نے تنظیم کو الٹی میٹم دیا کہ وہ دوبارہ غور کرے اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے باز آجائے۔ لیکن بدقسمتی سےاس مضمون کی اشاعت تک بھی ایمن الظواہری تنظیم کو ذلت کی پستیوں تک لے جانے میں مصروف عمل ہے۔”

القاعدہ  تنظیم کا آخر کیا بنا؟

صفحہ ۱۵ سے اقتباس:

“تنظیم القاعدہ ایک بپھرے ہوئے سانڈ کی مانند ادھر ادھر چکرانے لگی،اسکے حمایتی ہر جگہ اور ہر خاص وعام ،مجاہد ہو یا غیر مجاہد،جماعت ہو یا فردکے گرد چکر کاٹنے لگےتاکہ تنظیم کی بھنور میں پھنسی کشتی اور اسکے تھکے ہوئے ملاح کو بچایا جا سکے-

انہوں نے ہمارے خلاف جھوٹ کے پُل باندھ دیے اور سخت ترین الفاظ میں ہمارا تذکرہ کیا۔تکفیری ، خارجی، مسلمانوں کے قاتل اور وہابی جیسے القابات دیئے،اور لوگوں کو ڈرایا کہ ہم قاتل ہیں اور ان سب کو ذبح کردیں گے۔”

وزیرستانیوں کا حنفی سلفی اختلاف بڑکھانے کی کوشش:

صفحہ ۱۶ سے اقتباس:

“پھر تنظیم نے مسلکی منافرت کا پتہ کھیلنے کی کوشش کی ،خصوصا ًاس لیے کہ زیادہ تر لوگ حنفی مسلک تھے۔انہوں نے دعوی کیا کہ اس بیعت کی وجہ سے ہم نے انکے مسلک اور انکے امیر کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے، اور اِس علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے سپاہیوں کے طور پر ہماری موجودگی انکی تنظیم اور امیر کے خلاف بغاوت ہے۔”

القاعدہ  نے داعشیوں سے ہاتھ کھینچ لیا:

صفحہ ۱۶ سے اقتباس:

“القاعدہ کے حمایتیوں نے بغیر کسی شرم وحیا کےہمارے خلاف جنگ شروع کردی ، اور جن ساتھیوں نے دولتِ اسلامیہ کی بیعت کا اعلان کیا تھا،تنظیم نے فورا ً انکے کفالے/مشاہرے بند کردیے اور خواتین ، بچوں اور بیماروں تک کا بھی لحاظ نہیں کیا۔پس مخیر حضرات جو صدقات و اموال جہادی عمل کو چلانے اوراللہ کی رضا کی خاطر القاعدہ اور اسکے ارکان کو دیتے تھے، اس کو الظواہری نے مستحق افراد کے ہاتھوں میں جانے سے اس وجہ سے روک دیاکہ وہ حق کی حمایت کرتے تھے اور اپنے دین کا نظام غالب کرنا چاہتے تھے۔اسکی بجائے الظواہری نے ان صدقات و اموال کو حق اور اہل حق کےخلاف جنگ بڑھکانے میں صرف کیا۔سبحان اللہ۔”

ازبکوں کو القاعدہ  نے خارجی قرار دیدیا:

صفحہ ۱۶ سے اقتباس:

” تنظیم القاعدہ نے یہ بہانہ کرتے ہوئے ان (ازبکوں) کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیا کہ یہ ازبک تکفیری ، خارجی اور انتہا پسند ہیں ، جس کے نتیجہ میں بہت سے ازبک شہید ہو گئے ۔یہ گروپ وہاں سے نکل کر شمالی وزیرستان میں میر علی اور میرانشاہ کی طرف جانے پر مجبور ہوگیا۔تنظیمالقاعدہ والے دولت ِاسلامیہ کی بیعت کرنے والے ساتھیوں کے خلاف اکھٹے کھڑے ہونے کے لئے اس گروپ کے آگے گڑگڑائے، لیکن انہیں وہاں سےناکام و نامراد واپس آنا پڑا۔”

القاعدہ  اور خفیہ اداروں سے تعلقات:

صفحہ ۱۷ سے اقتباس:

“تنظیم القاعدہ پھر امارتِ اسلامیہ افغانستان کے نمائندہ گوڈعبدالرحمان ، جو کہ امریکی اور پاکستانی خفیہ اداروں کے لئے جاسوس بھرتی کرنے میں بھی ملوث تھا، کے پاس گئی۔تاکہ اسکے اور تنظیم القاعدہ کے درمیان تعلقات جو کہ اس پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد خراب ہوگئے تھے۔”

القاعدہ  پر دیوبندی صوفیوں کا قبضہ:

صفحہ ۱۷ سے اقتباس:

“اور بلاشبہ میرا دل اُس وقت مسرت سے بھر جاتا ہے جب میں ان مخلص پنجابی ساتھیوں کے گروہ کو یاد کرتا ہوں جنہوں نےتنظیم القاعدہ کو خیر باد کہ دیا۔اور جو کچھ تنظیم القاعدہ میں باقی بچا اس پر الظواہری اورعاصم عمر اور احمد فاروق نامی دواشخاص کی شکل میں دیو بندی صوفیوں کے گروہ کا راج ہوگیا۔تنظیم نے ان کو اپنے دماغ یعنی “السحاب میڈیا” کے اردو شعبہ کا اختیار دے کر سب کچھ بگاڑ کر رکھ دیا۔تنظیم کے انجینئر مختار المغربی جوکہ تنظیم اور ان دو دیو بندیوں کے درمیان رابطہ کار ہیں ، نے تنظیم القاعدہ برصغیرکے نام پر القاعدہ کو ایک دیوبندی تنظیم بنا کر رکھ دیا ۔اور انہوں نے مہاجر مجاہدین کو دور ہٹا دیا کیونکہ وہ اب انکی ضرورت محسوس نہیں کر رہےتھے-“

ایڈیٹر نوٹ:

قارئین یہ تھی “درد بھری” کہانی۔۔۔ کیا سمجھے آپ؟؟؟

📛 جو القائدہ شریعت کے نفاذ کی ٹھیکیدار بنی پھرتی ہے وہ وزیرستان میں خود قبائلی قوانین پر فیصلہ کرتی ہے۔۔۔
🔵 کہاں ہیں “ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ہمہ الکفرون” پڑھنے والے؟؟

❌ شریعت کے نفاذ کے ٹھیکیدار خود لواطت اور جاسوسی کے قبیح فعل میں مبتلا ہیں۔۔!!!

🔴 کہاں ہیں الولاء والبراء کے عقائد کی خود ساختہ تشریحات کرنے والے؟؟ ہے کوئی جو ان القائدہ کے حکم بغیر ما انزل اللہ اور تولی موالات اور کفار کی جاسوسیوں کے جرم میں سزا کی بات کرے؟؟

📺 کہاں گیا السحاب میڈیا؟؟

⏳ داعش کو خارجی کہنے والے القاعدہ کے نادانو۔!! اک نظر اپنے گریبانوں میں بھی مار لو۔۔۔ یہ خارجیت اصل میں تو تمہاری ہی کوک سے نکلی ہی تمہارے بطن سے ہے۔۔۔ جو نشانیاں داعش پر فٹ کرتے ہو وہ پہلے تم پر ہی صادق آتی ہیں۔۔!!!

♻️ اب اپنا بویا ہوا بیج کاٹو۔۔۔۔




کیا شیخ ابن باز کا اسامہ بن لادن کے متعلق فتوی ان کی جانب جھوٹ منسوب ہے؟​ شیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)​۔

اسامہ کو نصیحٹابن باز کا فتوی

ابن-باز-کا-فتوی

اسامہ بن لادن کے متعلق شیخ ابن باز ؒ کے فتوی کی نسبت  

کیا یہ جھوٹ ہے؟

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان (حفظہ اللہ)​


سوال:

احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ، یہ سائل کہتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرا سوال جس طرح لکھا ہے بالکل اسی طرح شیخ کے سامنے پیش کریں ورنہ میں بروز قیامت اللہ تعالیٰ کے دربار میں آپ سے جھگڑوں گا، سوال یہ ہے کہ کیا مسعری، فقیہ اور اسامہ بن لادن مسلمانوں کی جماعت سے نکلنے والے کہلائیں گے؟ آپ کی کیا رائے ہے ان کے بارے میں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ شیخ ابن باز(رحمۃ اللہ علیہ) نے اسامہ بن لادن کے بارے میں کچھ نہیں فرمایا، اور جو فتوی شیخ(رحمۃ اللہ علیہ) کی جانب منسوب ہے وہ جھوٹا ہے، اور وہ اس مذکورہ مقولہ سے بہت حجت پکڑتے ہیں؟

جواب:

یہ افراد جو ہیں مسعری، فقیہ اور اسامہ بن لادن خود اپنے اقوال وافعال ہی سے جانے پہچانے جاتے ہیں اور لوگ جانتے ہیں کہ ان پر کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا۔ اسی طرح شیخ ابن باز(رحمۃ اللہ علیہ) کا فتوی بالکل سچ ہے اور ہم نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے اور یہ شیخ(رحمۃ اللہ علیہ) کی حیات ہی میں مجموع الفتاوی کی صورت میں چھپ کر آپ کے سامنے پیش کیا جاتا رہا اور تمام مشائخ بھی اس سے باخبر ہیں، لیکن کسی نے بھی اس کی شیخ کی جانب نسبت کا انکار نہیں فرمایا، لہٰذا یہ فتوی جھوٹا نہیں۔ جو یہ دعوی کرے کہ یہ فتوی جھوٹا ہے تو وہ خود کذاب (سب سے بڑا جھوٹا ) انسان ہے۔

🔴 اسامہ بن لادن کا اس دور کے امام اہل السنہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ  پر طعنہ زنی کرنا​

امام ابو حاتم(رحمۃ اللہ علیہ ) فرماتے ہیں:

“من علامۃ أھل البدع الوقیعۃ فی أھل الأثر”

[الکلا لکائی(1/179)]

(اہل بدعت کی علامت میں سے ہے کہ وہ اہل اثر پر طعنہ زنی اور تبرا بازی کرتے ہیں)

اسامہ بن لادن یہ دعوی کرتا ہے کہ امام صاحب کے فتاوی امت کو گمراہی کے ستر گھاٹیاں نیچے لے جائیں گے!​


🔴 اسامہ بن لادن امام عبد االعزیز بن باز رحمۃ اللہ علیہ سے کئے گئے اپنے خطاب بتاریخ ۲۷/۰۷/۱۴۱۵ ھ جو نصیحہ کمیٹی لندن کی جانب سے صادر ہوا میں کہا:

” ونحن سنذ کرکم۔ فضیلۃ الشیخ ببعض ھذہ الفتاوی والمواقف التی قد لاتلقون لھا بالاً، مع أنھا قد تھوی بھا الأمۃ سبعین خریفاً فی الضلال”

(فضیلۃ الشیخ ہم آپ کے سامنے آپ کے بعض ایسے فتاوی اور مواقف بیان کریں گے جن کی شاید آپ کو اتنی پرواہ نہ ہو مگر درحقیقت ان کے سبب امت گمراہی کی ستر گھاٹیوں میں جاگر سکتی ہے)

🔵امام صاحب کے فتاوی خطر ناک ہیں اور شرائط پر پورے نہیں اترتے!​

پھر اپنے ایک دوسرے خطاب بتاریخ ۲۸/۰۸/۱۴۱۵ھ میں امت کو شیخ ابن باز (رحمۃ اللہ علیہ) کے فتاوی سے خبردار کرتے ہوئے کہتا ہے:

” ولذا فانناتبہ الأ مۃ الی خطورۃ مثل ھذہ الفتاوی الباطلۃ وغیر مستوفیۃ الشروط”

(اسی وجہ سے ہم امت کو ان باطل فتاوی جو شروط پر پورے نہیں اترتے کی خطرا انگیزی سے خبردار کرتے ہیں)

🔵 امام صاحب حکومتی علماء میں سے ہیں جو ظالموں کی طر فداری کرتے ہیں!

دوسری جگہ کہا:

” ان علۃ المسلمین الیوم لیست فی الضعف العسکری، ولا فی الفقر المادی وانما علتھم خیانات الحاکم وتخاذل، وتخاذل الأ نظمۃ وضعف أھل الحق واقرار علماء السطلان لھذا الوضع ورکونھم الی الذین ظلموا من حکام السؤوسلاطین الفساد”

(مسلمانوں کی موجودہ بیماری عسکری قوت کی کمی نہیں، اور نہ ہی مادی قسم پر سی ہے ، بلکہ ان کی اصل بیماری حکمرانوں کی خیانتیں، نظاموں کا خذلان اور اہل حق کی کمزوری ہے، اور حکومتی علماء کا اس صورتحال کو تسلیم کرنا اور ان برے حکمرانوں اور فسادی بادشاہوں کی طرفداری کرنا ہے)

🔵 امام صاحب کے مواقف امت اور اسلام پر عمل پیرا ہونے والوں کے لئے عظیم نقصانات کا باعث ہیں!

اور کہا:

” فقد سبق لنا فی(ھیئۃ النصیحۃ والا صلاح (أن وجھنا لکم رساۃ مفتوحۃ فی بیاننا رقم(۱۱) وذکر ناکم فیھا باللہ، وبوا جبکم الشرعی تجاہ الملۃ والأمۃ، ونھینا کم فیھا علی مجموعۃ من الفتاوی والمواقف الصادرۃ منکم والتی ألحقت بالأ مۃ والعاملین للا سلام من العلماء والدعاۃ أضراراً جسیمۃ عظیمۃ”

(کمیٹی برائے نصیحت واصلاح کی طرف سے آپ کو ایک کھلا خط ہمارے بیان رقم(۱۱) کی صورت میں موصول ہوچکا ہے جس میں ہم نے آپ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس ملت وامت کی جانب سے جو آپ پر واجب ہوتا ہے ذکر کیا، اور اس میں ہم نے آپ کو ان مجموعئہ فتاوی اور مواقف جو آپ سے صادر ہوئے سے روکا جو امت اور اسلام پر عمل پیدا ہونے والے علماء اور داعیان کے لئے بہت عظیم نقصان کا باعث ہیں)

🔵 امام صاحب ظالم طاغوتوں کے دوست ہیں!

اسی طرح کہا :

” فضیلۃ الشیخ لقد تقدمت بکم السن ، وقد کانت لکم أیاد بیضاء فی خدمۃ الاسلام سابقًأ ، فاتقوا اللہ وابتعدو اعن ھؤ لاء الطواغیت والظلمۃ الذین أعلنوا الحرب علی اللہ ورسولہ”

(فضیؒہ الشیخ آپ اتنے عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور آپ کی اس سے پہلے اسلام کے لئے روشن خدمات ہیں، پس آپ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور ان طاغوتوں اور ظالموں سے دور رہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے)

🔵 ان کے فتاوی مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے!

یہ بات کچھ یوں کہی کہ :

” ونحن بین یدی فتوا کم الأ خیرۃ بشأن مایسمی بھتانًا بالسلام مع الیھود والتی کانت فاجمعۃ للمسلمین حیث استجبتم للرغبۃ السیاسیۃ للنظام لما قرراظھار ماکان یضمرہ من قبل ، من الدخول ھذہ المھزلۃ الاستسلا میۃ مع الیھود فأصد رتم فتوی تبیح السلام مطلقاً ومقید ًا مع الیھود

(ہمارےسامنے آپ کا آخری فتوی موجود ہے جس کا برمبنی بہتان عنوان ہے” یہود کے ساتھ صلح” جو کہ مسلمانوں کے لئے کسی سانحے سے کم نہیں، کہ آپ نے اس نظام کے لئے سیاسی رغبت کا اظہار فرمایا جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے جو پہلے مخفی تھی، یعنی آپ نے یہود کے ساتھ مطلق اور مقید صلح کو مباح قرار دینے کا فتوی جاری فرمایا)

🔴 اسی طرح الجزیرہ کے ساتھ انٹرویو بتاریخ ۰۸/۰۴/۱۴۲۲ ھ میں اور کیسٹ بعنوان“استعدواللجھاد” (جہاد کے لئے تیار ہو جاؤ) میں کہا اور کیا ہی برا کہا :

” من زعم أن ھناک سلام دائم مع الیھود فھوقد کفر بما أنزل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم”

(جو یہ گمان کرتا ہے کہ کوئی صلح یہود کے ساتھ باقی ہے تو یقیناً اس نے اس چیز کا کفر کیا جو محمد(ﷺ) پر نازل ہوئی)

🔵 امام صاحب کے فتاوی لوگوں پر معاملے کو ملتبس اور مشتبہ کرنے کا سبب ہیں جسے ایک عام مسلمان تک تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوگا!

اسامہ بن لادن نے کہا کہ : 

” ان فتوا کم ھذہ کانت تلبیسًا علی الناس لما فیھا من اجمال مخل وتعمیم مضل ، فھی لا تصلح فتوی فی حکم سلام منصف ، فضلاً عن ھذا السلام المذیف مع الیھود الذی ھوخیانۃ عظمی للاسلام والمسلمین، لایقر ھامسلم عادی فضلاً عن عالم مثلکم یفترض فیہ من الغیرۃ علی الملۃ والأمۃ”

(آپ کا یہ فتوی لوگوں پر معاملے کو متلبس کرتا ہے کیونکہ اس میں جو خلل زدہ اجمال اور گمرہ کن عمومیت ہے وہ اس فتوی کو ایک منصافانہ صلح تک کے لئے ناقابل عمل بناتی ہے چہ جائیکہ یہود کے ساتھ اس مضحکہ خیز صلح کے لئے قابل عمل ہو، یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی خیانت ہے، ملت اور امت کے لئے غیرت ایک عام مسلمان تک کو اسے قبول کرنے سے روکتی ہے چہ جائیکہ آپ جیسا عالم ایسی بات کرے)




علامہ امام شیخ عبد العزیز بن باز (رحمہ اللہ) کی اسامہ بن لادن کو نصیحت​

اسامہ-کو-نصیحٹ
رئیس المفتیاسامہ کو نصیحٹشیخ عبد العزیز بن باز (رحمہ اللہ)

کی اسامہ بن لادن کو نصیحت​

آجکل جو گمراہ کن اور فساد سے بھر پور دعوت محمد المسعری ، سعد الفقیہ اور ان جیسے دیگر افراد پھیلا رہے ہیں بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا شر ہے ، اور یہ افراد اس شر عظیم اور بڑے فساد کے داعی ہیں۔ پس ہم پر واجب ہےکہ ان کے لٹریچر سے لوگوں کو خبردار کریں اور ان کا قلع قمع کرکے انہیں تلف کردیا جائے۔ اور ان کی شروفساد پر مبنی باطل وپرفتن دعوت کے سلسلے میں ان سے عدم تعاون(بائیکاٹ) کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بھلائی کے کاموں میں تعاون کا حکم دیا ہے نہ کہ شروفساد جھوٹ اور باطل نظریات کی نشرواشاعت کے کاموں میں کہ جو فرقہ واریت اور امن وامان کی صورتحال میں خلل کا سبب بنتے ہیں۔

یہ نشریات جو باطل پرست اور شروتفرقہ بازداعیان سعد الفقیہ اور محمد المسعری وغیرہ سے صادر ہوئیں ہیں ان کا قلع قمع کرکے انہیں تلف کردینا چاہیے ، اور ان کی جانب بالکل بھی التفات نہیں کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں نصیحت کرنا اور حق کی جانب رہنمائی کرکے ان باطل نظریات سے خبردار بھی کرنا چاہیے۔ کسی کے لئے یہ قطعاً جائز نہیں کہ وہ اس شر کی ترویج میں ان کے ساتھ تعاون کرے، پس انہیں بھی نصیحت قبول کرکے راہ ہدایت کی طرف رجوع کرلینا چاہیے، اور اس باطل (نظریہ کو اپنے ذہن سے) نکال پھینک کر اسے ترک کردینا چاہیے۔

قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ،وَ اَنِيْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ۔

(الزمر:53-54)

(اے نبی(ﷺ) آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیجئے کہ جنہوں نے اپنے نفسوں پر (گناہ کر کرکے) ذیادتی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں بیشک اللہ تعالیٰ تو تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے بیشک وہ ہے ہی بہت مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا۔ اور تم (سب) اپنے رب کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آجائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے)

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ:
وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔

(النور:31)

(اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جانب میں توبہ کروتا کہ تم نجات پاؤ)

اور اس معنی کے بہت سی آیات ہیں۔
ایک دوسرے مقام پر آپ(رحمۃ اللہ علیہ) نے یہ بھی فرمایا کہ:

“أن أسامۃ بن لادن من المفسدین فی الأرض، ویتحری طرق الشر الفاسدۃ وخرج عن طاعۃ ولی الأمر”  

(جریدۃ المسلمون والشرق الأوسط۔۹ جمادی الأولیٰ ۱۴۱۷ھ)

(بیشک اسامہ بن لادن زمین میں فساد مچانے والوں میں سے ہے اور شتر بے مہار کی مانند طریقہ شروفساد پرگامزن ہے اور ولی الامر (حکومت) کی اطاعت سے خارج ہو چکا ہے)۔

شیخ‌بن باز رحمہ اللہ کا کلام سننے کے لئے یہاں کلک کریں۔




خوارج کی امام اہل السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بیگانگی کیوں؟ الشیخ احمد البلتی حفظہ اللہ

بیگانگی کیون

خوارج کی احمد بن حنبل سے بیگانگی

خوارج کی امام اہل السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بیگانگی کیوں؟

الشیخ احمد البلتی حفظہ اللہ

الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد

کیا وجوہات ہیں کہ تکفیری اور خارجی فکر کے حاملین آپ کو کبھی بھی امام اہل السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا نام لیتے یا انکے منہج کی بات کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے؟؟؟

وجہ صاف ہے کیونکہ جو امام اہل السنہ رحمہ اللہ کے منہج سے متفق نہیں تو اسکا اہل السنہ میں سے ہونا ہی مشکوک ہے۔

یہ ایک مختصر مضمون ہے جو عصر حاضر میں تکفیری و خارجی حضرات کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے۔ امام احمد بن حنبل نے ایک ایسے حکمران کی اطاعت کا حکم دیا کہ جو خلق القرآن جیسے کفریہ عقیدے کا حامل بھی تھا اور اسے بزور قوت لوگوں پر نافذ تشریع عام بھی کرتا تھا اور بہت سے اہل السنہ علماء کو اس عقیدہ سے انکار پر قتل بھی کرواتا تھا۔

مگر امام اہل السنہ نے کبھی اس حکمران کی نہ تو تکفیر کی اور نہ ہی خروج کیا اور نہ ہی اس کی دعوت دی بلکہ وہ لوگوں کو اس قبیح فعل سے روکتے رہے۔

حتی کہ خود انکو سرعام دربار میں حکمران کے سامنے کا مارا پیٹا گیا ، کوڑے لگائے گے ، وہ بیہوش ہو گئے ، پابند سلاسل رہے مگر نہ ہی ان حکمروانوں کی تکفیر کی اور نہ خروج۔

وجہ ؟

وجہ صاف ہے کہ اہل السنہ کے ہاں کسی حکمران کی تکفیر اور اس کے خلاف خروج انتہائی ہح حساس معاملہ ہے۔ امام اہل السنہ کے مطابق وہ حکمران جاہل و متاول تھے ، اس لئے انکے عذر کی وجہ سے تکفیر غیر شرعی قرار دی۔

اب کوئی گمراہ کن فکر کا حامل شخص یہ کہے کہ آج کے حکمران کی تاویل قبول نہیں کیونکہ ان کے سامنے حق بات کئی بار بیان کی جا چکی ہے مگر پھر بھی نہیں مانتے تو ان کو اس فضول تلبیس پر سوچنا چاہیئے۔

کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اس مسئلہ پر حکمرانوں کے طرف سے متعین کردہ ”درباری علماء” کو مناظرے میں وا شگاف شکست دے چکے تھے اور خود بنفس نفیس بادشاہ کے دربار میں بھی مسئلہ کو کھول کر بیان کر چکے تھے مگر انہوں نے تو یہ نہیں کہا کہ بس اب “تاویل قابل قبول نہیں”۔

لہذا عصر حاضر کے تکفیری و خارجی حضرات جس مدر پدر آزاد تکفیر و خروج کے ڈھول کو پیٹ رپے ہیں اس پر سلف صالحین کے نام کی ملمع کاری تو خوب نکھار کر کرتے ہیں مگر سلف صالحین کے فہم کے سرے سے ہی منکر ہیں اور آج کل کی”جدید تشریحات” کو سلف صالحین کے فہم و منہج پر ترجیح دے کر یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ جس منہج باطل کا وہ پرچار کر رہے ہیں ، سلف صالحین اس سے بری ہیں۔

اب ہم ایک مختصر مضمون میں امام احمد بن حنبل کا مسلم حکمرانوں اور خوارج بارے کیا منہج تھا اس پر روشنی ڈالتے ہیں تاکہ متلاشیان حق کے سامنے راستہ روز روشن کی طرح واضح ہو جائے اور تکفیری و خارجی افکار کے حاملین یا انسے متاثرین کے نرغے میں آ کر دنیا و آخرت تباہ کرنے سے بچ جائیں۔ آمین 

 امام اہل السنہ احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں:

1️⃣ – “امیر المؤمنین جو خلافت پر والی ومتمکن ہوجائے اور لوگ اس پر مجتمع ہوکر راضی ہوجائیں، یاپھر جو تلوار کے زور پر غالب ہوجائے یہاں تک کہ (اپنے آپ) خلیفہ بن بیٹھے، اور امیر المؤمنین (مسلمانوں کا حاکم) کہلایا جانے لگےتو اس کا حکم سننا اور اطاعت کرنا ہے خواہ نیک ہو یا بد۔”

2️⃣ – “امراء(حکام)خواہ نیک ہوںیابد،کےساتھ مل کر(ان کی سربراہی میں)تاقیام قیامت ،غزوہ (جہاد)باقی رہے گا، اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔”

3️⃣ – “اسی طرح مال فئ کی تقسیم اور اقامتِ حدود ان آئمہ (حکام) کے ساتھ باقی رہے گی۔ کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ ان پر طعن کرے یا ان سے (حکومت کے معاملے میں) تنازع کرے۔ انہیں صدقات (زکوۃ) ادا کرنا جائز ونافذ رہے گا۔ جو اس (زکوۃ)کو ان (حکام)کو ادا کردے تو یہ اس کے لئے کافی ہے۔ (یہ تمام باتیں ان حکام کے حق میں باقی رہیں گی)خواہ نیک ہو یا بد۔”

4️⃣ – “ان (حکام)اور جنہیں یہ امام مقرر کریں ان کے پیچھے نماز جمعہ جائز ہےاورباقی ہے مکمل دو رکعتیں۔ جس نے اپنی نماز کو (ان کے پیچھے پڑھنے کے بعد)لوٹایا تو وہ بدعتی، آثار کو ترک کرنے والا اور سنت کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اگر وہ نیک وبد آئمہ کے پیچھے نماز کو جائز نہیں سمجھتا تو اس کے لئے جمعہ کی فضیلت میں سے کچھ بھی حصہ نہیں۔ سنت یہ ہےکہ ان کے ساتھ دو رکعتیں پڑھو، اور یہ یقین رکھو کہ یہ مکمل ادا ہوگئی ہے، اور تمہارے دل میں اس بارے میں کوئی شک بھی نہ ہو”۔

5️⃣ – “جو آئمہِ مسلمین(مسلمانوں کے حکام) پر خروج کریں جبکہ لوگ اس پر مجتمع ہوچکے ہوں اور اس کی خلافت (حکومت) کا اقرار کرتے ہوں کسی بھی طور پر، چاہے رضامندی سے ہو یا (جبراً) غلبہ حاصل کرلے (تو ایسے حکام پر بھی خروج کرنے والا) مسلمانوں کی حکومت واتحاد کو پارہ پارہ کرنے والا ہے، اور رسول اللہ (ﷺ) سے ثابت شدہ آثار (احادیث) کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اگر وہ اسی خروج کی حالت میں موت پاتا ہے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔

6️⃣ – “سلطان (حاکم) سے قتال کرنا (تختہ الٹنا)جائز نہیں، اور نہ ہی کسی انسان کے لئے ان پر خروج جائز ہے۔ جس نے ایسا کیا تو وہ بدعتی ہے نبی کریم (ﷺ)کی سنت اور ان کےطریقے پر نہیں۔”

7️⃣ – “چوروں (ڈاکوؤں) اور خوارج سے قتال کرنا جائز ہے اگرو ہ کسی شخص کی جان ومال کے درپے ہوں تو اسے چاہیے کہ اپنی جان ومال کی حفاظت کے لئے ان سے لڑے اور ان کا دفاع کرے جس قدر بھی اس کی طاقت ہو۔ مگر اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ اگر وہ اسے چھوڑ کر بھاگ جائیں تو انہیں طلب کرے یا ان کا پیچھا کرے،یہ حق سوائے مسلمانوں کےحکمرانوں کے اور کسی کا نہیں۔ اسے بس چاہیے کہ وہ اپنے جگہ پر اپنا دفاع کرے اور اپنی اس کوشش کے بارے میں یہ نیت رکھے کہ کسی کو قتل نہیں کرنا، لیکن اگر اس کے ہاتھوں اپنا دفاع کرتے ہوئے لڑائی میں کوئی قتل ہوجائےتو اللہ تعالی نے اس مقتول (چور وخوارج وغیرہ) کو رفع دفع کردیا، اور اگر یہ دفاع کرنے والا اس حالت میں کہ وہ اپنی جان ومال کا دفاع کررہا تھا قتل ہوجائے تو اس کی شہادت کی امید کی جاتی ہے۔ اس بارے میں جو احادیث اور تمام آثار آئے ہیں ان میں صرف اس سے (موقع پر) لڑنے کا حکم ہے، اس کے (لازمی) قتل کرنے یا اس کا پیچھا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اور نہ ہی اس پر خود حملہ آور ہونے کا، اگر وہ گر جائے یا زخمی ہوجائے، یاپھر اسے بطور قیدی قید کرلے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ اسے قتل کردے، اور نہ ہی اس پر حد قائم کرے، بلکہ اس کا معاملہ اس حاکم تک لے جائے جسے اللہ تعالی نے اس کا ذمہ دار بنایا ہے، اور وہی اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا”۔

(شیخ کی مایہ ناز تصنیف اصول السنہ سے اقتباس)