داعش: ابتداء اور نظریاتی بنیادیں

داعش:ابتداء اور نظریاتی بنیادیں

شام اور عراق میں داعش ایک عسکریت پسند نام نہاد جہادی گروپ ہے جو خلافت کو دوبارہ بحال کرنے کا دعوی کرتا ہے اور فی الحال عراق و شام کی سرزمین پرظالمانہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔داعش کی ابتداکے بارے میں اردنی عسکریت پسند ابومصعب الزرقاوی کی طرز زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے پتہ لگایا جا سکتاہے۔زرقاوی مجرمانہ سوچ کا حامل شخص تھا، شراب بنانے،مخرب الاخلاق حرکات کے ارتکاب ،جنسی حملے کرنے کے حوالے سے جانا جاتاتھا اور وہ انہی جرائم پر گرفتا ر بھی ہوا۔ 1999ء میں جیل سے رہا ہونے کے بعد عسکریت پسند بن گیا اور افغانستان چلا آیا، جہاں اس کی ملاقات القاعدہ کے رہنماؤں سے ہوئی۔

افغانستان پرامریکی حملے کے بعد زرقاوی فرار ہو کر عراق آگیا اور اس نے عراق میں مسلح کارروائیاں شروع کر دیں، بے رحمی کے ساتھ لوگوں کو مارا،وہاں وہ ایک بے رحم شخص کے طور پر پہچانا جانے لگا۔اس کے گروپ نے عراق میں کئی خودکش حملے کئے۔ یہ گروپ غیرملکی فوج کی بجائے امدادی کارکنوں اور عراقی شہریوں کو نشانہ بنا نے کے حوالے سے بدنام تھا ۔زرقاوی گروپ نے اہل تشیع اور ان کی امام بارگاہوں کو بھی نشانہ بنایا ۔ان کے مقاصد میں امریکہ کی سربراہی میں برسر پیکار اتحادی فوج کو عراق سے نکالنا اور پھر عراق میں فرقہ وارانہ جنگ کا آغاز کرنااور افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود ساختہ اسلامک سٹیٹ کا قیام تھا۔

ستمبر 2004ء میں زرقاوی طویل مذاکرت کے بعد اسامہ بن لادن کی بیعت کر کے القاعدہ نیٹ ورک کا حصہ بن گیا۔ اسکے گروپ نے نام تبدیل کر کے’’ القاعدہ اِن عراق‘‘ رکھ لیا۔ تاہم دونوں گروپوں کے درمیان تعلق کشیدہ رہا کیونکہ القاعدہ بھی زرقاوی کو بہت زیادہ متشدد اور انتہاپسند سمجھتی تھی۔القاعدہ عرا ق میں اس گروپ کی طرف سے اہل تشیع کو بڑے پیمانے پربلاامتیا زنشانہ بنانے پر خوش نہ تھی جسے زرقاوی گروپ نے اپنے نام نہاد جہادی منصوبے کے لیے نقصان دہ جانا۔ اس حوالے سے 2005ء میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے زرقاوی کے نام خط لکھا اور خط میں ناراضگی کا اظہار کیا۔

جون 2006ء میں زرقاوی مارا گیا، اس کے بعد مصری بم ساز ابو ایوب المصری ’’القاعدہ اِن عراق‘‘ کا نیاامیر بنا۔

2006ء میں ہی المصری نے گروپ کو عراقی ظاہر کرنے کے لیے اس کا نام تبدیل کر کے ’’ اسلامک سٹیٹ اِن عراق‘‘ رکھ دیا اور عراق کے باسی ابو عمر البغدادی کو اس کا امیر مقرر کیا۔

’’اسلامک سٹیٹ ان عراق ‘‘نے تیزی سے خود کو وسعت دی۔ تاوان اور تیل کی سمگلنگ سے سالانہ لاکھوں ڈالر اکٹھے کئے۔دولت کی ریل پیل اور روزگار فراہم کرنے کے باوجود بھی یہ گروپ عراقی عوام کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ غیر ملکی جنگجؤوں کی شرکت اور پر تشدد نظریات کے باعث عراقی عوام اس گروپ سے دور رہے۔

اس پر تشدد ماحول نے عراقی سنیوں کو بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور صوبہ انبار میں سنیوں کی ’’تحریک سہاوا‘‘نے بھی پر پرزے نکالے۔ چونکہ ’’اسلامک سٹیٹ‘‘ تشدد سے کام لے رہی تھی جس کے باعث ’’تحریک سہاوا‘‘ مغربی اتحادی افواج کے ساتھ مل کر ’’ اسلامک سٹیٹ ان عراق‘‘ کے خلاف لڑی۔اسلامک سٹیٹ ظالمانہ اور پرتشدد حربوں کے باعث تنہاء ہوگئی اور اسے مختلف گروپوں کی طرف سے شدید مزاحمت اور ردّ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران تنظیم کے بہت سارے غیر ملکی جنگجو بھی مارے گئے اوراس کا اثرماند پڑ گیا ،جس کے نتیجے میں2007ء سے 2009ء کے عرصے میں عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کافی حد تک کم ہوگیا۔

2010ء میں دونوں المصری اور البغدادی(ابو عمر البغدادی) مارے گئے۔

2009 ء میں امریکی انخلا کے آغاز سے سہاوا تحریک کمزورہوئی اور اسلامک سٹیٹ کے نام نہاد جہادی ’’موصل‘‘ منتقل ہوگئے،جہاں گروپ کو از سر نو منظم کیا گیا۔

2010ء کے وسط میں ’’اسلامک سٹیٹ ‘‘عراقی حکومت سے زیادہ تنخواہیں دینے کی پوزیشن میں تھی اور اس نے’’تحریک سہاوا‘‘ کے ارکان کوبھی بھرتی کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران گروپ نے اسلامک سٹیٹ منصوبے کو جائز ثابت کرنے کیلئے ایک بھرپور پراپیگنڈا مہم کا بھی آغاز کیا ۔

2010ء میں ابو عمر البغدادی کے مرنے کے بعد ابو بکر البغدادی نے اس کی جگہ لے لی۔ 2011-12ء کے دوران اسلامک سٹیٹ نے خود کو اہل تشیع والے جنوبی عراق اور کرد علاقوں تک وسعت دی ۔انہوں نے مختلف جیلوں میں قید باغیوں کو رہا کیا اور اپنی حاکمیت سنی اکثریت والے عراق میں بھی بڑھا لی ،شام کی خانہ جنگی نے اسلامک سٹیٹ کو شام تک وسعت دینے میں مدد فراہم کی، 2011ء کے وسط میں اسلامک سٹیٹ کی شام میں مقیم لیڈر شپ نے ’’جبہۃ النصریٰ‘‘ کی تشکیل کیلئے مقامی عسکریت پسند گروپوں سے تعاون کرنا شروع کردیا، النصریٰ نے 2012ء میں عوامی پہچان بنائی اور اپنی کارروائیاں2012ء کی پہلی ششماہی تک جاری رکھیں، اگرچہ اس نے اپنی توجہ سرکاری اہداف کو نشانہ بنانے پر مرکوز رکھی تاہم ان حملوں کے دوران بڑے پیمانے پرعام شہری بھی نشانہ بنے، اپریل2013ء میں ابو بکر البغدادی نے ایک دفعہ پھر نام تبدیل کرتے ہوئے اسے’’ اسلامک سٹیٹ ان عراق و شام‘‘(دولت اسلامی عراق و شام) بنادیا۔

البغدادی اپنے منصوبے کے تحت آگے بڑھا، بالآخر جون2014ء میں ایک آڈیو ریکارڈنگ جاری کی گئی جس میں ابو بکر البغدادی کی امارت میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

اس اعلان کے بعد مغرب سے4ہزار کے قریب افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر اسلامک سٹیٹ پہنچے جو مغرب میں بسنے والے47ملین سے زائدمسلمانوں کے مقابلے میں بہت تھوڑی تعداد ہے، ماہر کریم نالوجی ’’Simon Cottee ‘‘کے مطابق اسلامک سٹیٹ کی طرف جانیوالے مغربی لوگوں کی نفسیات سے واضح ہوتا ہے کہ’’امنگوں سے بھرپور سوچ کی طاقت اور خواہش کیسے عقل پر غالب آ سکتی ہے‘‘۔انسداد دہشتگردی کے ماہر ’’Matthew Levitt‘‘ اتفاق کرتے ہیں کہ ’’کئی لوگوں کیلئے جو شناخت اور مقصد کے مضبوط احساس کی کمی سے دوچار ہوتے ہیں، کوعالمی انقلابی پرتشدد بیانیہ، جوابات اور حل مہیا کرتا ہے: یہ ان لوگوں کیلئے بہت طاقتور پیغام ہوسکتا ہے جوجوابات تلاش کررہے ہوں‘‘۔

اکثر افراد جن کی شناخت داعش کیلئے لڑنے والوں کے طور پر ہوئی ان کی ابتدائی زندگی تکالیف اور مسائل سے بھری ہوئی تھی، کئی ایسے تھے جن کے والدین نہیں تھے یا وہ گھر میں بد سلوکی کا شکار تھے، نوجوان ہمیشہ کسی رول ماڈل کی تلاش میں ہوتے ہیں، ابو بکر بغدادی کی شکل میں انہیں ایک طاقتور پیشوا نظر آیا جس کا ذکر دنیا بھر میں ہو رہا تھا اور وہ توجہ کا مرکز بنا رہا، اسی طرح بہت سارے نوجوان ایڈوینچرازم کا شکار ہو کر مختلف جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں اور پر تشدد جرائم کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔

اس گروپ میں سابق آمر صدام حسین کی آرمی کے کئی فوجی اور پولیس بشمول اس کی خفیہ پولیس کے اہلکار بھی سنی اور شیعہ ملیشیا میں شامل ہوگئے تھے، یہ شمولیت امریکہ کی طرف سے 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد ہوئی اور یہ شیعہ، سنی عسکری گروپس بھی اس حملے کے بعد وجود میں آئے، کچھ اندازوں کے مطابق 30 فیصد سینئر داعش ملٹری کمانڈرز عراقی آرمی اور پولیس کے آفیسرز ہیں، ابو عمرالبغدادی بھی عراقی آرمی کا سابق آفیسر تھا ،جس نے سابق باتھسٹس حکومت کے اہلکاروں کو ملیشیا میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ اسلامک سٹیٹ گروپ کا کمانڈ اینڈ کنڑول سسٹم اور تکنیک بالکل وہی نظر آتی ہے جو صدام حکومت کی خفیہ پولیس والوں کی تھی۔

داعش کے نظریہ کو جابرانہ نقطہ نظر کے طور پر بیان کیا جاتاہے، داعش نے تسلیم شدہ سکالرز کی تحقیق سے مستفید ہونے کی بجائے اپنے عالمانہ حکام بنائے، جن کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی، داعش کا نظریہ تین جدید دستاویزات سے معلوم کیا جا سکتاہے:

ان تینوں میں سے زیادہ معروف ابوبکر النجی کی 2000ء کے اوائل میں لکھی گئی کتاب ’’بربریت کا انتظام‘‘ ہے۔

یہ دستاویز اسلامک سٹیٹ کی تشکیل کیلئے سٹریٹجک روڈمیپ کی حیثیت رکھتی ہے جو ماضی کی عسکریت پسند تنظیموں کی کوششوں سے الگ و منفرد ہے، حضورﷺ اور ان کے صحابہؓ کی مثالوں پر انحصار کرنے کی بجائے النجی اپنے تشدد کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے نظریے کو جواز فراہم کرنے کیلئے کثرت سے غیر مسلم تاریخ دانوں اورنظریہ دانوں کا حوالہ دیتانظر آتا ہے۔

داعش کے نظریات اردنی عسکریت پسند ابو مصعب زرقاوی کے نظریات سے اخذ کئے گئے ہیں، خاص طور پراس کی تکفیری سوچ سے داعش بہت متاثرہوئی، داعش کا دعوی ہے کہ جو ان کی خلافت کو مسترد کرینگے وہ خود بخود مرتد ہو جائینگے (اور داعش کے لوگوں کے لیے مرتدین کو مارنے میں کوئی امر مانع نہیں۔

داعش کے نظریے کا ایک اور اہم حصہ تمام مسلمانوں کو جہاد میں شمولیت کیلئے بلانا ہے، یہ نقطہ نظر جہادکے فرض ہونے کی مخصوص اور غلط تشریح سے ابھرتاہے، داعش جنگجوؤں کی غیر مسلموں کو بندوق کے زور پر زبردستی مسلمان بنانے کی بہت سی رپورٹس ہیں، داعش نے قرون وسطیٰ کی غلامی کو دوبارہ متعارف کروانے کی کوشش کی، انہوں نے عراق کے یزیدی اور مسیحی اقلیت کے مردوں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا(جسے اب وہ موصل میں عراقی و اتحادی افواج کی گولہ باری سے بچنے کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہے ہیں) داعش عراق میں باتھسٹ حکومت کے ظلم وجبر اور خوف وہراس پھیلانے کے ماڈل کی وارث ہے۔ داعش ناقص سکالرز اور اسلامی قانون کے جعلی حوالے استعمال کر کے دھوکا دیتی ہے، اسلامی قوانین کی تشریح میں اختلاف کے حوالے سے جو تسلیم شدہ روایات ہیں داعش اس کا ناجائز استعمال کر رہی ہے۔

نوٹ:

یہی نام نہاد اسلامی جہادی تنظیم اب اس درپے ہے کہ کشمیر کواپنے شکنجے میں لیا جائے، ان آزاد مسلمانوں کو بھی غلامی کا شکار بنا دیا جائے ، اس لیے وہاں اپنے نظریات پھیلانے کی بہت سی کوششیں کیں اور کر رہے ہیں تاکہ اس کا بھی وہی حال کیا جاسکے جو حال عراق و شام کا اور اس میں بسنے والے مسلمانوں کا کیا۔

یعنی کچھ کو اپنے ساتھ ملایا اور انکی دنیا و آخرت برباد کر دی ، اور کچھ وہ جو ان کےوحشی نظریات کا شکار نہ بنے انکو اپنی وحشت کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مسلمان ہمیشہ سے ہی سستی کا شکار رہے ہیں کہ تاریخ کی تاریکیوں سے عبرت نہیں پکڑتے وگرنہ وہ ان جسیی وحشی تظیموں کا شکار نہ ہوتے۔

ایک سلیم الفطرت انسان بھی ان کے ظلم کے حربے دیکھ کر پہچان جاتا ہے کہ لوگ انسانیت بھی گرے ہوئے ہیں ۔

اسلام اس کائنات میں سب سے زیادہ پرامن دین ہے انسانوں تو کجا جانوروں پربھی ظلم کی سوچ کو ختم کرتا ہے اور اہل اسلام کو کائنات میں سب سے زیادہ امن پسند ہونا چاہیے،اس تنظیم کو دیکھ کر ان کے انسان ہونے میں بھی شک ہوتا ہے اس سے بڑھ کر کہ ہم اس کو مسلمان جانیں،یہ اور اس جیسی تنظیمیں اسلام کے لبادے میں کائنات کی بدترین مخلوق ہیں۔

پھرلوگوں کا ان کی طرف مائل ہونا یہ بہت بڑی بے وقوفی اور حماقت کی علامت ہے ،اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

مسلمان تو زندہ بھی اسی لیے رہتا ہے کہ وہ اپنے رب کو راضی کر کے اپنی آخرت بہتر بنا سکے تو پھر وہ کیوں ایسے کام کرے جس سے اس کا رب سخت ناراض ہو اور اس کی دنیا و آخرت برباد ہوجائے۔

ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں مسلمان بنائے اوراسلام کے لبادوں میں “شرالخلق والخلیقۃ” تنظیموں کے شرسے آگاہ رہنے اور اس سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین




داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

  • امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا اہل سنت و جماعت کے اصول میں یہ داخل ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے گہری وابستگی ہو اور حکمرانوں کے خلاف خروج نہ ہو۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ، ج28،ص 128)

لیکن داعش اہل سنت و جماعت کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے اور مسلم حکمرانوں سے جنگ کرتی ہے لہذا اگر وہ اپنے آپ کو سنی ظاہر کرے تب بھی اسلام کی نظر میں وہ سنی نہیں۔

  • محدث وفقیہ علامہ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش سے منسوب افراد انجانے ہیں ،جو کنیت اور نسب کے سہارے درپردہ رہتے ہیں ،اور چاقووں سے اہل سنت کا قتل کرتے ہیں جوکہ انسانیت کے قتل کی بدترین شکل ہے لہذا اس فتنے سے متاثر کمسن نوجوانوں کو محفوظ رہنا چاہیے ،اور اہل علم سے اسی طرح استفادہ کرنا چاہیے جس طرح خوارج سے متاثر ہونے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ کی نصیحت سے یذید الفقیر رحمہ اللہ نے اپنا مؤقف تبدیل کردیا تھا۔

(موقع الشیخ عبدالمحسن العباد، فتنۃ الخلافۃ الداعشیۃ العراقیۃ المزعومۃ )

  • رابطہ علمائے شام کے صدر شیخ اسامہ الرفاعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش ایک تکفیری و انتہا پسند تنظیم ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتی اور مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتی ہے جبکہ ان کا یہ خیال انہیں کفر تک پہنچاتا ہے اسی لیے ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب وسنت اور علمائے امت کی طرف رجوع کریں اور لوگ داعش  کے ساتھ ساتھ حزب اللہ (لبنان  کی شیعہ دہشت گرد تنظیم ) سے بھی احتیاط برتیں۔

(موقع الدررالشامیۃ ،دولۃ العراق والشام فی میزان علماء الاسلام)

  • علمائے ازہر مصر نے کہا کہ داعش عراق کی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کا طرز عمل انتہائی وحشیانہ ہے جو بے قصوروں کے خون کی پیاسی ہے جس کے خاتمے کے لیے سب کو متحد ہوجانا چاہیے ۔

(مؤسسۃ دام برس الاعلامیۃ الازھر یعرب عن….)

  • اتحاد عالمی برائے علمائے اسلام دوحہ قطر کے معتمد عمومی نے کہا کہ داعش کی کاروائیاں ناقابل قبول ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کی شبیہ کو بگاڑ کر پیش کررہی ہیں لہذا اسلام کی سچی تصویر پیش کرنے کے لیے علمائے دین کا کردار انتہائی ضروری ہے۔
  • ملک شام کے مناظر اسلام عدنان بن محمد العرعور حفظہ اللہ نے فرمایا کہ داعش ملک شام میں عراق کے راستے داخل ہوئے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور پھر اپنی حکومت کا اعلان کر دیا ، مقامی باشندوں پر خیانت کا الزام لگایا اور انہیں کافر و مرتد قرار دیا (ان کے عقیدے کے مطابق مرتد ہونے کے بعد) توبہ کی مہلت دیے بغیر ان کے قتل کو لازمی قرار دیا اور قتل سے نجات کی ایک ہی راہ بتائی کہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

مزید فرمایا کہ داعش نے حکومت کے سربراہان و افسران کو اغوا کیا ،حکمرانوں کو کافر قرار دیا عورتوں اور بچوں کو بے گھر کیا اور بے قصور باشندوں کو بہیمانہ انداز سے ذبح کیا ،آخر یہ کونسی خلافت ہے؟

  • مصر کے عالم محمد سعید رسلان حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش انسانت کی بلی چڑھا کر اپنے معبود کا تقرب حاصل کرنا چاہتی ہے جس کا سربراہ جلاد ہے ،اور یہ تمام جہنم کے کتے ہیں لہذا ان کا بائیکاٹ کرو۔

(ذکر کردہ اور آئندہ اقوال شبکۃ الامام الآجری پر دستیاب ہیں جو اکثر MP3کی شکل میں ہیں )

  • ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ مدرس مسجد بنوی نے تین دفعہ قسم اٹھائی اور فرمایا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ داعش کو پسند کرے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرے کیونکہ وہ امت کے لیے نقصان دہ ہیں ۔

مزید فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو دین میں صحابہ سے بہتر سمجھتے ہیں فلسطین پر یہود کے مظالم ہیں لیکن انہوں نے عراق اور شام میں رہ کر فلسطینی مسلمانوں کا دفاع نہیں کیا بلکہ سعودی عرب کے حدود کے قریب آگئے ،بعینہ یمن میں اہل السنہ کو حوثی روافض بری طرح موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور القاعدہ نے یمن میں رہ کر اہل السنہ کا دفاع نہیں کیا۔

                مزید  فرمایا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ان  کے ہاتھ  پر بیعت کرے۔

  • ماہر عدلیہ ڈاکٹر سعد الحمید حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش نے دو بڑی سنگین غلطیاں کی ہیں:

(1)ناحق کافر قرار دینا۔             (2) بے قصوروں کا خون بہانا۔

  • شیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ ملک شام میں جاری جنگ جسے لوگ جہاد کا نام دیتے ہیں وہ در حقیقت فتنہ ہے ۔
  • محقق شیخ عبدالعزیز بن مرزوق الطریفی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش خوارج ہیں جو اللہ کے حکم کو قبول نہیں کرتے ہیں لہذا ان سے تعلق رکھنا جائز نہیں ہے ۔
  • داعی شیخ عبداللہ آل سعد المطیری حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش جاہل ہیں جنہوں نے بہت ساری شرعی خلاف ورزیاں کی ہیں مثال کے طورپر انہوں نے شرعی عدالت کا انکار کیا ،ناحق کافر و مرتد قرار دیا ،بے قصوروں کا خون بہایا ،لہذا میں ان کے بڑوں کو اللہ سے توبہ کرنے اور حق کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور ان سے وابستہ افراد کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہوں۔
  • سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خود کش اور فدائی حملہ کرنا برائی ،گناہ ،شروفساد اورظلم وعناد ہے جسے انجام دینے والوں کا اللہ اور آخرت کے دن پر صحیح ایمان نہیں بلکہ وہ خباثت نفس  و شراست طبیعت  اور حسد میں مبتلا ہیں ،لہذا میں تمام کو نصیحت کرتا ہوں  کہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔
  • عاید بن خلیف الشمری حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کا نبوی منہج سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ نبیﷺ جب علی رضی اللہ عنہ کو جہاد کے لیے روانہ کرتے تو تاکید کرتے کہ جاؤ انہیں اسلام کی دعوت دو اسی طرح انبیاء میں نوح ،ابراہیم ،موسی علیھم السلام اور محمدﷺ نے صبر سے کام لیا اور داعش کی طرح ذبح کرنے والی حکومتیں قائم نہیں کیں ،بلکہ نبی ﷺ نے مدینے کے یہود کو اسلام کی دعوت  دی ،اور انہیں امن دیا علاوہ ازیں دین اسلام میں مرتد کو تین دن تک توبہ کی مہلت دی جاتی ہے لیکن داعش کی ترتیب بالکل مختلف ہے۔
  • شیخ محمد بن رمزان الہاجری حفظہ اللہ لکچرار برائےرایل کمیشن الجبیل نے فرمایا کہ داعش اور جبہۃ النصرۃ حق پر نہیں کیونکہ یہ نومولود تنظیم ہے اور بنی ﷺ کے فرمان کے مطابق برحق جماعت ہمیشہ سے تھی اور تاقیامت رہے گی۔

مزید فرمایا کہ جس طرح خوارج کے پاس توحید کے باب میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے پاس بھی (بظاہر ) توحید کے باب میں خلل نہیں ، لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا ،حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت ہے۔

مزید فرمایا کہ غور طلب بات یہ ہے کہ داعش سے وابستہ افراد کی کنیتیں ہیں جیسے ابو مصعب الزرقاوی ،ابو بکر البغدادی ،ابو محمد الجولانی….. اور ان کے نام ان جانے ہیں۔

مزید فرمایا کہ داعش  خودکش اور فدائی حملوں کے ذریعے شہادت کی توقع رکھتی ہے جب کہ نبی ﷺ نے شہادت خودکشی کرنے والے کے لیے نہیں  بلکہ قتل کیے جانے والے کے لیے بتائی ، اور قتل کیے جانے سے پہلے حتی الامکان بچاؤ کا سامان اختیار کرنے پر ابھارا اور خود  زرہ پہنی۔

مزید فرماتے ہیں کہ داعش نے جب دیکھا کہ اہل علم  انہیں خوارج قرار دے رہے ہیں اور خوارج کی علامت سر حلق کرنا ہے ، تو اس علامت سے بچنے کے لیے وہ اپنے بال لمبے رکھنے لگے ہیں، لیکن خواہ بال حلق کیے ہوں یا لمبے رکھے ہوں فکر کے اعتبار سے وہ خوارج ہی ہیں۔

مزید فرمایا کہ اس تنظیم کے ساتھ علماء نہیں بلکہ سب کے سب سفہاء و جہلاء (نادان و بے وقوف ) ہیں۔

مزید فرمایا کہ ان کا خود ساختہ خلیفہ ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔

اور فرمایا کہ داعش نوجوانوں کو جہاد ،شہادت ،جنت ، اور حور…. جیسے الفاظ سے گمراہ کرتی ہے اور انہیں دھوکہ دیتی ہے۔

مزید فرمایا کہ قدیم زمانے کے خوارج حاکم کو طاغوت کہتے تھے اور داعش بھی مسلم حاکم کو طاغوت سے تعبیر کرتی ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح سےاول خوارج نے عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کیا اسی طرح داعش مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے۔

مزید فرمایا کہ اہل سنت کا اصلاح  کرنے کا طریقہ احسن انداز سے ہوتا ہے ، لیکن داعش کا اصلاح کرنے کا طریقہ سلاح یعنی ہتھیار سے ہوتا ہے جو کہ خوارج کا طریقہ ہے۔

مزید فرمایا کہ مکہ میں شرک عام تھا ، کعبے کے اطراف بت تھے لیکن صحابہ نے کبھی داعش کی روش اختیار نہیں کی ، اور دور اندیشی  کی سے کام لیتے ہوئے حالات کے پیش نظر قریش کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا۔

اور فرمایا کہ داعش کی ظاہری  دینی شکل و صورت یا ان کے فدائی کا مرتے وقت مسکرانے سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قاتل عبدالرحمان بن ملجم حافظ قرآن تھا، جس کی کسی وقت عمر رضی اللہ عنہ تعریف کی تھی ، اس باوجود وہ قاتل اور خارجی ثابت ہوا اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ، اور جس نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو شہید کیا وہ نماز کے لیے اول وقت میں آیا تھا۔

اور داعش ایک خونخوار اور وحشی تنظیم ہے ، جو صرف اہل سنت یا مسلمانوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

اور فتنہ پروروں سے آگاہ کرنا اور انہیں رسوا کرنا انتہائی  اعلی درجے کا جہاد ہے۔

شیخ بدربن علی العتیبی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ قدیم خوارج نے نبی ﷺ اور عثمان  رضی اللہ عنہ کے عدل اور ان کی امانت میں شک کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی ہمارے حکمرانوں کے ساتھ کررہے ہیں، قدیم خوارج نے علی رضی اللہ عنہ و معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کو کافر قرار دیا بالکل اسی طرح یہ شرپسند فسادی بھی ہمارے امراء و علماء کو کافر قرار دیتے ہیں اور انہیں طاغوت کا لقب دیتے ہیں ، قدیم خوارج نے جعلی خطوط کا سہارا لیا اور علماء کے اقوال کو خلط ملط کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے کلام سے غلط استدلال کرتے ہیں قدیم خوارج نے حاکم کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ،اس کی اصلاح کیے بغیر انقلاب لانے کی کوشش کی ، حاکموں پر بہتان باندھا ،انہیں یہود و نصاری کے غلام کہا منبروں پر انہیں برا کہا، انہیں کھلے طور پر کافر سمجھا ، ان کی خودساختہ خامیوں کو اچھالا ، کفر کی ساری آیات کا ان ہی کو مصداق جانا، تحکیم کے معاملے میں جہالت کا مظاہرہ کیا بعض آیات سے استدلال کیا اور بعض کو نظر انداز کیا، حکمرانوں کوسرعام رسواکیا، مسلمانوں کی زمین سےہجرت کرنے کو لازم قرار دیا ، جہاد اور توحید کا نعرہ بلند کیا، خود کو شہید و جنتی اور دوسروں کو جہنمی کہا، اسلامی  حکومت میں قیام پذیر ذمیوں کا قتل کیا، اور علماء کی بے حرمتی کی بالکل اسی طرح آج یہ شر پسند فسادی بھی کررہے ہیں۔

(موقع صید الفوائد ،ثلاثون علامۃ تدل…….)

بعض نے کہا کہ داعش گناہوں، اور اختلافی  مسائل کی بنا پر مسلمانوں کا قتل کرتی ہے، کبھی تو کسی مسلمان کو راستے میں کسی غیر مسلم سے بات چیت کرتے دیکھ کر قتل کرتی ہے،اور کبھی تو اس آدمی کا بھی قتل کرتی ہے جو ان کے وضع کردی جہاد کو چھوڑ کر حج کے لیے جاتا ہے۔

بعض نے کہا کہ ابو بکر البغدادی کو ارباب حل و عقد نے منتخب کیا ہے، اور جب اس کا رہنما (الظواہری ) ہی اس کی کرتوتوں سے راضی نہیں تھا تو وہ کیسے دوسروں سے اپنی بیعت کی کا تقاضہ کرسکتا ہے؟

بعض نے کہا کہ بغدادی کی ریاست غیر شرعی ہے، اور اس کے جھنڈے تلے جنگ کرنی جائز نہیں، کیوں کہ اس نے اللہ کی شریعت سے روگردانی کی ہے۔

بعض نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی عالم نے داعش کو درست قرار نہیں دیا، نہ ہی اس کے ساتھ اچھا گمان رکھا، اور نہ ہی ان کی جانب سے دفاع کیا ، بلکہ تمام اہل علم نے بالاتفاق انہیں ظالم قرار دیا۔

بعض نے کہا کہ داعش باغی، غالی، خونی اور گمراہ تنظیم ہے جو مسلمانوں کے مابین بڑی مہارت سے فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے، اور اسلامی ریاست کے بہانے باطل پھیلارہی ہے، اسی لیے ہر ممکن ذریعے سے اس کا مقابلہ کرنا واجب ہے۔

حیدرآباد دکن کے مفتیان میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مفتی خلیل احمد صاحبان نے بھی داعش سے چوکنا کیا ، بلکہ سارے ہندوستان سے تقریباً 1050علمائے کرام نے فتوٰی جاری کیا جس میں داعش کی مذمت  اور مخالفت کی اور کہا کہ داعش انتہائی خطرناک و خوف ناک اور غیر اسلامی بلکہ غیر انسانی ودہشت گرد تنظیم ہے کیونکہ وہ اسلام کے نام پر انسانیت کو شرمندہ کرنے والی گھناؤنی حرکتیں کر رہی  ہے، اور انسانی خون پانی کی طرح بہا رہی ہے لہذا دنیا بھر کے علمائے کرام کو ہر ممکن ذریعے سے اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف شعور بیدار کرنا چاہیے اور اس کی طرف سے جاری کردہ قتل کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنا غیر اسلامی اور شریعت کے مغائر ہے۔

واضح رہے کہ ذکر کردہ فتوٰی پر 1070 مذہبی تنظیموں نے دستخط کیا اور اس کی نقل 50 ممالک کو روانہ کیں۔

تعجب کی بات ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے داعش کی زائد جارحیت و سفاکانہ بربریت کے پیش نظر اسے ایک وحشی اور درندہ صفت تنظیم قرار دیا ہے۔

ایک جائزہ.

اللہ تعالی تمام انسانوں خاص کر مسلمانوں اور اسلام کو ان کے شر سےمحفوظ فرمائے۔آمین




داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

اہل داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

مختلف شرپسند ذرائع ابلاغ یہ باورکروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ داعش ایک سلفی تنظیم ہے جب کہ سعودی سلفی علماء کے سابقہ فتوؤں سے پتہ چلا کہ داعش سلفی نہیں ، بلکہ سفلی اور خوارج ہیں ، کیونکہ سلفی تو کتاب و سنت کے پابند رہتے ہیں اور کتاب و سنت میں حکمرانوں کی اطاعت کی ہدایت ہے اور فتنے و فساد اور دہشت گردی کی ممانعت ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ شرپسند ذرائع ابلاغ نے داعش کو سلفی اور وہابی قرار دیا ، جب کہ امام و مجدد محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دینی خدمات اور اسلامی تعلیمات سے روشناس سعودی حکومت نے نہ صرف داعش کو دہشت گرد قرار دیا بلکہ مختلف ممالک کے تعاون و اتحاد سے اس کے خلاف جنگ بھی جاری رکھی۔

علاوہ ازیں شیخ عبیدالجابر حفظہ اللہ لکچرار برائے رایل کمیشن الجبیل نے کہا کہ داعش القاعدہ سے علیحدہ ہوئی اور القاعدہ کو (مصر کی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم) اخوان المسلمین (جس کے معروف مفکر برطانیہ سے سند یافتہ اور تربیت یافتہ سید قطب ہے ،جس سے اسامہ بن لادن متاثر تھا۔) نے قائم کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ عراق میں داعش کا بانی ابو مصعب الزرقاوی ہے جو ابو محمد المقدسی کا شاگرد ہے اور محمد المقدسی محمد سرورزین العابدین اور حسن ایوب کا شاگرد ہے ،اور یہ دونوں مصر کی دہشت گردتنظیم اخوان المسلمین کے بڑے اور معروف مفکرین ہیں علاوہ ازیں مزید توجہ طلب بات یہ ہے کہ داعش وجبہۃ النصرہ نے صراحت کی ہے کہ ان کا فکری انحصار سید قطب کی کتابوں پر ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح قدیم خوارج کےعقائد توحید میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے عقائد توحید کے باب میں بھی خلل نہیں لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت  ہے۔

النہج الواضح کے لکچرار شیخ احمد السبیعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کے ایک ہاتھ میں ہتھیار اور دوسرے ہاتھ میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن ہوتی ہے۔

ملک عراق کے شہر موصل میں واقع فقہ کونسل کے نائب صدر شعبان عبدالکریم نے کہا کہ داعش اقامت دین و عدل کے سہارے مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جب کہ وہ دین و عدل سے کوسوں دور ہے  اور ہم دینی امور کےذمہ داران ہونے کی حیثیت سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ داعش خوارج ہیں اور ہمارے دین یا ہم اہل سنت کے نمائندے نہیں ہیں۔

بعض اہل علم نے کہا کہ جب ہم داعش کی جھوٹ اور خیانت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں منافق کہناپڑتا ہے۔اور جب ہم ان کو ناحق کافر قرار دینے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں خوارج کہنا پڑتا ہے۔اسی طرح جب ہم ان کے تقیہ کرنے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں روافض کہنا پڑتا ہے اور جب ہم ان کے ظلم و زیادتی  کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں باغی کہنا پڑتا ہے۔

محترم قارئین! ہم نے اس میں کچھ اقوال کو جمع کیا ہے تاکہ لوگوں خاص طور پر سلفی نوجوانوں کے ذہن سے یہ بات نکالی جا سکے کہ داعش سلفی جماعت ہے۔کیونکہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ داعش ایک سلفی نہیں بلکہ سلفیت کے لبادے میں چھپی ایک شعبدہ باز جماعت ہے۔ لہٰذا اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام مسلمانوں کو ان کی شعبدہ بازیوں اور ان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ فرمائے۔ آمیں یا ارحم الراحمین

وما علینا الا البلاغ المبین




باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا اہل سنت کا اصول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کا معمول

بعض سادہ لوح افراد کا یہ ماننا ہے کہ ہم ظاہر کا اعتبار کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں ہر کلمہ گو کے ساتھ اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیوں کہ ہرکسی کے پاس کچھ نہ کچھ خیر رہتا ہے، لہذا ہم کسی کے تعلق سے کسی کو چوکنا نہ کریں۔

شریعت کی رو سے یقیناً ہم ظاہر کے پابند ہیں ،اور اہل علم کسی بھی باطل فرقے اور گمراہ  کن تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں کی بنا پر ہی ان سے چوکنا کرتے ہیں ، کیوں کہ منحرف افکار اور غلط طریقہ کار اختیار کرنے والوں سے چوکنا کرنا اہل سنت کا اصول اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و تابعین کا معمول رہا ہے، جیسا کہ گزشتہ آرٹیکلز میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے متشابہ آیات کے پیچھے لگے رہنے والوں سے امت کو چوکنا کیا

(صحیح البخاری:4547)

اور بالخصوص خوارج کے متعلق فرمایا کہ جہاں کہیں تمہیں یہ ملیں تم ان کا قتل کرو کیوں کہ ان کے قاتل کے لیے روز قیامت اجر عظیم ہے۔

(صحیح البخاری:5057)

اورنبیﷺ کا فرمان ہے کہ اگریہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

( صحیح البخاری:7432)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے سے زیادہ خوارج سے جنگ کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 37886)

امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ خوارج سے جنگ کرنے میں اسلام کے اصل سرمایے کی حفاظت ہے، اور مشرکین سے جنگ کرنے میں نفع حاصل کرنا ہے، اور اصل سرمایے کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے ۔

(فتح الباری لابن حجر:37886)

اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ عدویہ نے حائضہ کی نمازوں کی قضا کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے انہیں خوارج سے چوکنا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم حروریہ (خارجی)ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں ، لیکن (معلومات حاصل کرنے کے لیے )سوال کر رہی ہوں ۔

(صحیح مسلم :ح69)

معاذہ عدویہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ گمراہ افکار  و افراد سے عوام کوبھی واقف رہنا چاہیے جیسا کہ وہ ان سے واقف تھیں اسی لیے کہا کہ میں حروریہ (خارجیہ)نہیں ہوں ، اوراگروہ خوارج سے واقف نہ ہوتیں تو ان کا جواب اس طرح نہیں ہوتا بلکہ سوال یہ ہوتا کہ حروری کون ہیں؟

مزید پتہ چلا کہ عوام کبھی طہارت ونماز کے مسائل سے ناواقف رہ سکتی ہے ، لیکن غلط نظریات کے حاملین سے انہیں واقفیت ضرور رہنی  چاہیے۔

جہاں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گمراہوں سے چوکنا کیا وہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی خوداپنے طور پر شر سے بچنے کی فکر کرتے اور رسول اللہ ﷺ سے شر کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری:ح3606)

وہب بن منبہ رحمہ اللہ اپنے کمسن سادہ لوح شاگردوں سے فرماتے کہ تم خوارج سےہوشیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہ سوچ و افکار میں پھنسا نہ لیں کیوں کہ وہ اس امت کے لیے شر ہیں۔

(سیرآعلام النبلاء، الطبقۃ الثانیہ ،وھب بن منبہ :ج4،ص553)

امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قدیم و جدیدزمانے کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ خوارج نمازی ، روزے دار، اور بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود بہت بری قوم ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں ، ان کی یہ ساری عبادتیں ان کے لیے کار آمد نہیں ،وہ امر بالمعروف و نہیں عن المنکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے مفید نہیں کیوں کہ یہ ایسی قوم ہیں جو اپنی خواہشات کی بنا پر قرآن کی تاویل کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں چوکنا کیا نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا خلفائے راشدین نے ان سے ہوشیارکیا اور دیگر صحابہ و تابعیں نے بھی ان کے خلاف شعور بیدار کیا اس لیے کہ یہ اور ان کے پیروانجاس وار جاس (نجس و ناپاک ) ہیں ،جو حاکموں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔

(الشریعہ ،باب ذم الخوارج،ج1،ص325)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خوارج یہودونصاری سے زیادہ مسلمانوں کےلیےشر ہیں کیونکہ وہ ہراس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے ہیں جو ان کا موافق نہ ہو ،مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی اولاد کوحلال سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی جہالت اور گمراہ کن بدعت کی وجہ سے انہی کاموں کو دین سمجھتے ہیں ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ الفصل السادس ،ج10،ص248)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج اگر طاقتور ہوجائیں تو عراق ہو کہ شام، ساری زمین میں فساد مچادیں ،نہ کسی چھوٹے بچے کو چھوڑیں اور نہ ہی کسی بچی کو ، نہ ہی کسی مرد کو بخشیں نہ ہی کسی عورت کو کیونکہ ان کے نزدیک لوگ اس قدر بگڑچکے ہیں کہ ان تمام کو قتل کرنا ہی ان کے سدھار کا واحد راستہ ہے۔

(البدایۃ والنھایۃ ج10،ص584)

امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خوارج کی ابتدا عراق سے ہوئی۔

(فتح الباری ،المقدمہ)

تعجب کی بات ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ساری دنیا میں خوارج کے شروفساد کے  لیے عراق اور شام کا نام لیا ، بالکل اسی طرح  امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی خوارج کی ابتدا عراق سے ہی بتلائی اور آپ دیکھ لیں کہ موجودہ دور کے خوارج یعنی تنظیم داعش عراق سے ہی  نکلی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ نبیﷺ سے لیکر عصر حاضر کے تمام علماء تک، ہر عالم نے گمراہ فرقوں اور باطل فرقوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ امت مسلمہ کے نوجوان جذباتی ہونے کی وجہ سے ان گمراہ تنظیموں کا بہت جلد شکار بن جاتے ہیں اسی لئے انہوں نے ہر دور میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امت مسلمہ کو ان خارجی تنظیموں سے آگاہ کیا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنظیموں کی سازش کو بھانپتے ہوئے اور اسلاف کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے احباب کو ان خارجی فکر کی تنظیموں کی سازشوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ ہمارے احباب نیکی کے جزبے میں ان تنظیموں کی فکر کا شکار نہ ہوجائیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور دوراں ہے

ففتھ جنریشن وار فئیر


دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور دوراں ہے.

اس نئے، نہایت ہی خطرناک طرز جنگ کو بھارت بھی وادی کشمیر میں آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کرنے اور کچلنے کے لئے نہایت منظم انداز میں لانچ کر چکا ہے.

چند ماہ پہلے وادی میں جب بھارتی فورسز طاقت سے تحریک آزادی کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئیں تو ان کی جانب سے وادی میں ایک نئے حربے کا آغاز کیا گیا۔ کچھ لوگ دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس بھارتی سازش کا حصہ بنے یا شکار ہوئے۔  

جب قاسم کی جدوجہد کہ جس نے دہلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا، برہان کے جذبے وادی میں آزادی کے خواب کو حقیقت کے قریب تر لا کھڑا کیا تو ایسے میں وادی کشمیر کو اپنے تسلط سے نکلتا دیکھتے ہی بھارت نے تحریک کو کمزور کرنے کے لئے کشمیری قوم کے جسموں کی بجائے انکے ذہنوں کو نشانے پر رکھ لیا اور قوم کو منتشر کرنے کے لیے ایک نیا حربہ اپنایا۔

اس نئے حربے سے بھارت نہ صرف آزادی کی تحریک کو چلنے کا منصوبہ رکھتا تھا بلکہ اس تحریک کے اہم پشتی بان اور کشمیری عوام کے دلوں کی دھڑکن، پاکستان کو بھی کشمیری مسلمانوں سے دور کرنے کو ہدف بنایا.

پاکستان کو کشمیری عوام سے جب بھارتی جبر دور نہیں کرسکا تو اس نے اس نئے حربے کا سہارا لیا.

اس مقصد کے لئے وادی میں القاعدہ اور داعش کی نمائش کا سہارا لیا گیا اور اس منصوبے میں انہیں یقینا کچھ بگڑے نوجوان بھی دستیاب ہوئے. اور انہی کے بل بوتے پر “انصار غزوۃ الہند” جیسے غیر معروف چھوٹے سے گروہ کو نہ صرف پنپنے کا موقع دیا گیا بلکہ اس کے مد مقابل تحریک سے وابستہ اور کشمیری قوم کو درست سمت میں لیجانے والے شہید قاسم و برہان کے وارثوں کو خصوصی نشانے پر رکھ لیا تاکہ اس سازش کی راہ کو صاف کیا جا سکے. اور جب تحریک کمزور ہو جائے تو آخر میں اس گمراہ فکر اور بگڑے نوجوانوں کے گینگ کو بھی ٹھکانے لگا کر کشمیریوں کو غلامی کے اندھیروں میں ایک بار پھر دھکیل دیا جائے.
اس مقصد کو پانے اور کشمیر کی خالص عوامی تحریک آزادی کو  دہشت  گردی کے ساتھ جوڑ کر متنازعہ بنانے کے لئے  انصار غزوۃ الہند کی شکل میں القاعدہ کا واویلا مچایا گیا۔

اور بھارت بہت پر امید تھا کہ جس طرح القاعدہ اور داعش نے شام اور افغانستان کے صاف و شفاف محازوں کو آلودہ کر کے عوام و مظلوم مسلمانوں میں جہاد اور فساد کے فرق کو مبہم کر دیا، اسی جیسا کشمیر میں کر پائے گا. لیکن ان کے اس حربے کو کشمیری عوام مجاہدین اور حریت قیادت نے نہ صرف یکسر مسترد کیا بلکہ مکمل اتحاد و یگانگت سے ناکام بھی بنایا۔

اپنی اس سازش کو بری طرح ناکام ہوتا دیکھ اس وقت بھارتی ایجنسیاں دوبارہ اس مردہ گھوڑے، انصارغزوۃ الہند کے جسم میں جان ڈالنے کے لئے چالیں چل رہی ہیں. 

حال ہی میں بھارتی ایجنسیوں نے ذاکر موسی اور ابو دجانہ شہید کی مختلف کالز کی ریکارڈنگ کو جوڑ کر ایک ایسا آڈیو کلپ لانچ کیا کہ جس سے وہ ذاکر موسی اور اسکے گروہ کو پھر عوام اور میڈیا میں زیر بحث لا سکیں.

آڈیوز کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک ایسا کلپ تیار کیا گیا جس میں ذاکر موسی اور دجانہ پاکستان کی دغابازیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اس میں حقیقت کیا ہے اس سے پہلے یہ بات پھر سے سمجھ لیں کہ یہ ایک  باقاعدہ منصوبہ ہے جس کے تحت  کشمیری عوام اور مجاہدین میں  پاکستان کے متعلق  غلط فہمیوں کو پیدا کیا جا سکے۔

اگر آپ کلپ کو بغور سنیں تو آپکو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ یہ مختلف کالز کو ملا کر ایک آڈیو بنائی گئی ہے۔  جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ  بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بیان کیا جا رہا ہے۔ اور ایسے جملے کاٹ کر نکالے گئے ہیں جو کشمیری عوام اور مجاہدین کے ذہنوں میں انتشار پیدا کریں ۔  اور اتحاد و اتفاق کی فضا کو ختم کیا جا سکے۔ اب کشمیری مجاہدین کی صفوں کے اتحاد کا ختم ہونا کس کے لیے فائدہ مند ہے یہ بات ہم میں ہر کوئی باخوبی جانتا ہے۔

یاد رکھئیے، جھوٹ اور دجل کبھی زیادہ دیر پوشیدہ نہیں رہ سکتا.

زرا سوچیے!

دجانہ اور ذاکر کی یہ کال ، دجانہ کی شہادت کے فورا بعد کیوں منظر عام پر نہ لائی گئی؟ کیا اس وقت کال نہیں تھی یا وقت موزوں نہیں تھا؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معمول کی کالز کو ریکارڈ کیوں کیا گیا۔؟  ابو دجانہ کی کالز کو ہی ریکاڈ کیوں کیا گیا؟

یہ بات تو طے ہے کہ دجانہ اور ذاکر کی موبائل کالز کو بھارتی ایجنسیوں نے ہی ریکارڈ کیا. کیونکہ اگر یہ ریکارڈنگ ذاکر گینگ نے خود کی ہوتی تو دجانہ کی شہادت کے فوری بعد جاری کرتے، اب اچانک ریلیز کا مقصد؟

اب اگر کال میں ہونے والی گفتگو پر بات کریں تو کیوں ان کا ہر آڈیو پاکستانی مجاہدین اور ان کو سپورٹ کرنے والوں کے خلاف ہی ہوتا ہے؟

الزام لگایا گیا کہ پاکستانی  مجاہدین کی لوکیشن حاصل کرنے کے بعد مخبری کرتے ہیں آڈیو میں موجود گفتگو کے مطابق دجانہ نے پاکستان والوں کو پن پوائنٹ لوکیشن نہیں بتائی تو دجانہ کی مخبری کس نے کی؟

استعمال بھارتی موبائل فون ہو رہے ہیں تو لوکیشن پاکستان کی بجائے بھارت کے پاس تو خود جارہی ہے، تو پاکستان پر الزام کیسا؟

سوال یہ ہے کہ ان کی اس مخبری کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان کشمیر کے لئے کیا ہے، کشمیری ہی نہیں ساری دنیا جانتی ہے.

یہ دنیا میں کشمیر کا سب سے بڑا وکیل ہے ۔ جس کی  فوج کی بڑی تعداد کشمیر کے باڈر پر تعینات ہے اور ہردن انڈین فورسز سے حالت جنگ میں ہے شہادتیں پیش کر رہی ہے۔

پاکستان، جس نے کشمیر کی حریت قیادت کو چھت مہیا کی ہے؟

جو تحریک آزادی کشمیر  کی ہر محاز پر اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

خیر بھارت کی یہ نئی چال تحریک آزادی کا ابھی تک کچھ نہیں بگاڑ سکی اور نہ آئندہ بگاڑپائے گی ان شاء اللہ ۔  

بھارت کی یہ ساری کوششیں لشکر اور حزب کی طرف نوجوانوں کا جھکاؤ روکنے، پاکستان کو بدنام کرنے ، مجاہدین کی صفوں میں انتشاز پیدا کرنے کے لیے ہیں ۔ جنہیں کشمیری اچھے سے جان چکے ہیں اور تحریک کے مخالف ہر ایجنڈے کا رد کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی پاکستان سے محبت “لا الہ الا اللہ” کے رشتے پر ہے جو کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ 

ہم ان نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں، جو اس بھارتی سازش کا دانستہ یا غیر دانستہ شکار ہوچکے ہیں کہ وہ اللہ سے ڈریں، کشمیری عوام کی امنگوں کو اپنائیں اور بھارتی سازشوں کو سمجھیں، تاکہ دنیا و آخرت میں عزت و کامرانی انکے حصے میں آسکے.آمین




اے اہل کشمیر زرا خبردار

اے اہل کشمیر، ذرا خبردار

اے اہل کشمیر

اے اہل کشمیر، ذرا خبردار

یاد رکھیے ”حق کو کبھی بھی شخصیات، جھنڈوں اور نعروں سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ شخصیات، جھنڈوں اور نعروں کو حق (قرآن و سنت) سے پہچانا جاتا ہے”

فتنہ جب بھی سر اٹھاتا ہے تو وہ اپنا اثر ضرور رکھتا ہے،اور اس سے بچنا ہی ایک مومن کا امتحان ہوتا ہے۔
روز اول سے لیکر دین اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ کا اصلی چہرہ مسخ کرنے میں فتنہ خوارج سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہے ۔ اور یہ فتنہ ہمیشہ سے اہل اسلام اور مجاہدین کو شش وپنج میں ڈال کر مجاہدین کی سبوتاژ کرنے اور کافروں کو اسلام  اور مجاہدین پر طعن و تشنیع کا موقع فراہم کرتا رہتا ہے۔

کفار کو جب کسی علاقے میں مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو یہ خوارج ان کیلئے دفاعی ڈھال بن کر  کھڑے ہوجاتے ہیں اور وطن اور نسل پرستی کی جنگ کو ہوا دیتے ہوئے مجاہدین  کو آپس میں لڑواکر ان  کی عسکری  کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے رہتےہیں۔

لہٰذا جب انڈیا کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں ذلت و رسوائی سے دوچار ہونے لگا تو تب یہ خوارج کشمیریوں کو آپس میں لڑوانے کیلئے میدان عمل میں آ گئے اور کشمیر کی جنگ کو وطن پرستی قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے اذہان کو اپنی سازشوں کے ہتھکنڈوں میں جکڑنے کی کوشش کر رہےہیں ۔

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ پہلے حرم مکی میں جہیمان العتیبی کی شکل میں اور پھر اسکے روحانی بیٹوں القاعدہ ، ٹی ٹی پی اور ان جیسے دیگر گروہوں کی شکل میں اور پھر ان سب کی ناجائز اولاد داعش کی شکل میں اس فتنہ نے سر اٹھایا اور دنیا بھر کے مسلم ممالک کو متاثر کیا . کئی امت کے خوبرو نوجوان اسی فتنے کی نذر ہو کر دنیا و آخرت کی تباہی سے دوچار ہوئے یا ہو رہے ہیں.

داعش کی خلافت جو کہ اہل اسلام کے لئے محض ملامت اور شرمندگی سے زیادہ کچھ نہیں تھی، سمٹ چکی ہے بلکہ بکھر چکی ہے۔  بچے کھچے ” خلافت کےاندھے سپاہی” یا تو فرار ہورہے ہیں یا گرفتاری دیکر جان کی امان پانے کے پلان بنا رہے ہیں۔

اسی طرح کی صورتحال کشمیر کی ہے. سوشل میڈیا پر اس زہر خوارج کا جام پینے والے اور بھارتی سازشوں کو تقویت دینے والے چند گمراہ فکر نوجوان اس خلافت کے سپاہی بننے کے شوقین ہیں کہ جو خلافت شرعی میزان میں باطل،باغی اور فسادی قرار پاتی ہے .

اورجس کی بنیاد رکھ کر ان کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف استعمال کرنے والے اس خارجی تنظیم کے ذمہ دار خود بھی اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ ان کی بنیاد رکھنا ہماری بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ یہ لوگ انسانیت کی ہر حد کراس کر چکے ہیں۔

لہٰذا اے اہل اسلام خصوصاً کشمیری عوام! یاد رکھ لیجئے کہ آپ کا دشمن آپ کی تمام تحریکوں اور کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور آپ کی قربانیوں کو رائیگاں قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور انڈیا کے ایجنٹ بن کر آپ کی اس جنگ آزادی کو نسل پرستی اور وطن پرستی کی جنگ قرار دیتے ہوئے آپ کے بت شکن اور مظبوط اعصاب کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیکن فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے، چاہے تو ان کی ان سازشوں کی بھینٹ چڑھتے ہوئے اپنی قربانیوں کا سودا کر کے اور اپنے شہداء سے غداری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کو انڈیا کا غلام بنا لیں یا عزت و وقار کے سات اپنے شہداء کی قربانیوں کو اپنے ماتھے کا جھومر اور فخر قرار دیتے اسلام کے زیر سایہ  آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے اور شہادت کی عظیم الشان موت کو سینے سے لگاتے ہوئے ان کفار و خوارج کے منہ پر طمانچہ دے ماریں۔

یاد رکھیے! فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے!!!!!

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو کفار کے آلہ کار ان خوارج کے شر سے بچائے ، بالخصوص امت مسلمہ کے نوجوان کو فتنہ خوارج کا شکار ہونے سے محفوظ فرما ئے. اوراصلی مجاہدین فی سبیل اللہ کو خوارج کے ہر قسم کے شر و آفات سے محفوظ فرما ئے. آمین




امریکہ،داعش کی نرسریوں کا مالی

25994727_866713536861793_364562664009123730_n

امریکہ،داعش کی نرسریوں کا مالی

“شام ، عراق ، افغانستان اور کشمیر ایک نظر” 

پچھلے کئی ماہ سے میں ایک افغان نیوز ایجنسی “خامہ پریس” کی نیوز دیکھ رہا ہوں جہاں ہر ایک دو دن بعد یہ خبر آتی ہے کہ امریکہ نے فلاں جگہ فضائی حملے میں اتنے داعشی مار دئیے، افغان فوج نے فلاں جگہ کاروائی میں اتنے داعشی ماردئیے یہاں تک کہ ایک دن خبر آئی کہ ایک کاروائی میں 50 داعشی مارے گئے۔

ان تمام نیوز کو مدنظر رکھتے ہوئے جب میں اندازہ لگاتا ہوں تو یہ تقریبا پندرہ یا سولہ سو(1500/1600) داعشی بنتے ہیں۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کیا واقعی امریکہ نے اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ داعشی ماردئے؟؟ یقین نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کوئی صداقت ہے اسکی وجہ یہ ہیکہ دو دن پہلے نیویارک ٹائم نیوز نے ایک خبر لگائی، وہ خبر یہ ہیکہ۔ ” مارچ 2017 میں امریکہ نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں داعش کے 700 جنگجوں موجود ہیں اور اب سال کے آخر میں انہوں نے یہ دعوٰی کیا کہ ہم نے 1600 جنگجوؤں کو ماردیا ہے۔

اس خبر اور امریکہ کے متضاد دعوؤں کو دیکھ کرثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں نہ ہی داعش کے خلاف کوئی کاروائی کی ہے اور نہ ہی کسی ایک داعشی کو مارا ہے۔ بلکہ وہ ان کو وہاں مضبوط کررہا ہے اور ان کو اسلحہ دے رہا ہے۔ اور افغان اور انڈین خفیہ ایجنسیز کے ذریعے ان کو ٹریننگ دلوارا رہا ہے۔

اور جہاں وہ ان کو افغانستان میں افغان طالبان کے خلاف استعمال کررہا ہے وہاں دوسری طرف وہ ان کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے متعدد بار ٹی وی پر بیٹھ کر یہ انکشاف کیا کہ امریکہ نہ صرف داعش کو افغانستان میں مضبوط کررہا ہے بلکہ ان کو اسلحہ بھی فراہم کررہا ہے اور انکی مالی مدد بھی کررہا ہے۔

اسی طرح روس متعدد بار یہ کہہ چکا ہے کہ امریکہ شام میں داعش کے جنگجوؤں ٹریننگ اور اسلحہ و مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو شامی افواج کے چنگل سے بھی چھڑاچکا ہے جسکا انکشاف کچھ عرصہ قبل شامی حکام کی جانب سے بھی کیا گیا۔ اسی طرح نامعلوم ہیلی کاپٹرز کا داعش کے جنگجوؤں کو مختلف جگہوں پر اتارنے کے ساتھ ساتھ ان کو نامعلوم ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اسلحہ ملنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ افغانستان میں ایسا کون ہے جو نامعلوم ہیلی کاپٹرز کے ذریعے داعش کی مدد کررہا ہے تو جواب صاف ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ کے علاوہ ایسا کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔ ان تمام باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اور یہ تمام باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے۔ مگر ہمارے کچھ جوشیلے اور دین سے محبت کرنے والے نوجوان دین کے نام پر امریکہ کے لئے استعمال ہورہے ہیں اور ان کو اس بات کا نہ اندازہ تک نہیں ہے۔ ان للہ و انا الیہ راجعون

لہذا ہمیں خود بھی ان باتوں کو سمجھ کر لوگوں کو داعش کی حقیقت کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ داعش کو استعمال کرکے امریکہ نے بڑی حد تک عراق و شام میں کامیابی حاصل کی اور اب وہ یہ کھیل افغانستان میں کھیل رہا ہے جہاں وہ داعش کو نہ صرف افغان طالبان کے خلاف استعمال کررہا ہے بلکہ ان کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرکے اور ان کو ٹریننگ دے نہ صرف پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ اور وہاں بھی ان کو اپنے مقاصد میں کامیابی مل رہی ہے۔ اور یہ سب دیکھ کر اب انڈیا یہی کھیل داعش اور القاعدہ کی صورت میں کشمیر میں کھیلنا چاہتی ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر پلیٹ فارم پر اس کے خلاف کام کریں لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کریں اور کفار کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین




رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا

رحمت اور تلوار کو خلط ملط نہیں کیا جا سکتا

whatsapp-image-2016-12-04-at-11-58-09-am

 


الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

نصوص شرعیہ (قرآنی آیات واحادیث مبارکہ) کو آپس میں ٹکرانا جائز نہیں ہے۔ اس طریقہ سے قرآن وحدیث کو خلط ملط کرنا، عوام الناس کے اذہان میں پچیدہ مسائل کو لیکر سوالات کھٹرے کرنا ، عام اور خاص نص کو ملانا اور مطلق اور مقید نص کو ایک دوسرے سے جوڑنا، ناجائز ہے۔

اللہ جل جلالہ نے اپنے آپ پر رحمت کو لازم کیا ہوا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:  ‹كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۝۰ۙ›

تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ [الأنعام: 54]

نیز فرمایا: ‹قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ قُلْ لِّلہِ كَتَبَ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ۝۰ۭ›

آپ ان سے پوچھئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، وہ کس کاہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے۔ اس نے اپنے آپ پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ [الأنعام: 12]

نیز فرمایا: ‹وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ۝۰ۭ›

میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ [الأعراف: 156]

نبی کریمﷺ کا فرمان گرامی ہے: «إِنَّ اللہَ لَمَّا قَضَى الخَلْقَ، كَتَبَ عِنْدَهُ فَوْقَ عَرْشِهِ: إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي».

جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے پاس عرش پر لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر حاوی ہے۔ [صحیح البخاري: 7422، صحیح مسلم: 2751، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ]

لہٰذا اصل یعنی رحمت اور اس سے مستثنیٰ چیزوں یعنی تلوار، غصہ اور شدت والے امور کو برابر قرار دے دینا جائز نہیں۔

بلکہ اس سے بڑھ کر ہم کہتے ہیں کہ عقل ونقل کے اعتبار سے رحمت کو تلوار دے کر بھیجے جانے سے منسلک کرکے بولنا ناجائز ہے کیونکہ اس سے سننے والا یہ سمجھتا ہے کہ شاید رحمت تلوار سے جڑی ہوئی ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔

یہ نقطہ اعتراض ہم نے صرف بحث مباحثہ کےلیے نہیں اٹھایا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں بہت سی خطرناک باتیں پوشیدہ ہیں ، جیسا کہ مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔ مثلاً: اس انداز بیان سے تلوار اور رحمت ِالٰہی ایک ہی سطح پر آجاتی ہے۔ اور یہ بالکل غلط بات ہے اور کبھی تو عقیدہ کی خرابی کا باعث بن جاتا ہے۔

یہیں سے آپ پر داعش کے سرکاری ترجمان ابو محمد عدنانی  کے مراد لیے ہوئے غلط مفہوم کا انکشاف ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے اسی خطاب میں کہتا ہے:  إن نيل الكرامة والتحرر من الظلم وكسر قيود الذل لا يكون إلا بصليل الصوارم, وسكب الدماء, وبذل النفوس والمهج, ولن يكون أبداً بالدعوات السلمية أو. . . . ! ” 

’’تلوار اٹھائے، خون بہائے اور جانیں لٹائے بغیر نہ عزت مل سکتی ہے، نہ ظلم سے آزادی اور نہ ذلت کے گہرے کھڈ سے نجات۔ امن وسلامتی کی دعوت سے ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘

مزید اپنی ایک تقریر میں کہتا ہے جو کہ انٹرنیٹ پر آسانی سے مل جاتی ہے : “فاعلموا إن لنا جيوشا في العراق وجيشاً في الشام من الأسود الجياع، شرابهم الدماء وأنيسهم الاشلاء.. فوالله لنسحبنهم ألفاً ثم ألفاً ثم والله لن نبقي منكم ولا نذر” 
’’یہ بات نوٹ کرلو کہ شام وعراق میں بھوکے حبشیوں کے لشکر ہمارے پاس موجود ہیں جن کی پیاس خون سے بجھتی ہے، جنہیں کٹے ہوئے اعضاء سے پیار ہے اور جنہیں مخالفین کے خون سے زیادہ مزید پیاس بھڑکانے والی کوئی چیز نہیں ملتی۔ اللہ کی قسم! ہم ہزاروں لاکھوں  لوگوں کو گھسیٹیں گے اور پھر تم میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔  

اقتباس :

داعش العراق والشام فی میزان السنۃ والاسلام

الشیخ علی بن حسن الحلبی حفظہ اللہ تعالی




داعش کی عراق میں ہزیمت، محرکات اور نتائج

photo721249554916289085

داعش کی عراق میں ہزیمت، محرکات اور نتائج

[[[ خصوصی تجزیہ ]]]

داعش جس رفتار اور شدت کیساتھ عراق میں سنیوں کے علاقوں میں آئی تھی، آج کل اسکی واپسی کی رفتار اگر اس آمد جیسی نہیں تو کم بھی نہیں۔

? ترکی افواج نے جب سے شام ترکی بارڈر پر جرابلس سے معرکہ درع الفرات کا آغاز کیا تب سے آپ ان کی ہزیمت اور سنی لوگوں کی فتوحات کو دیکھ سکتے ہیں کہ تقریباً روزانہ کوئی نہ کوئی بستی ان داعشی درندوں سے آزاد کروا لی جاتی ہے اور وہاں کے باسیوں کو آزادی سے جینے کا حق دیا جاتا ہے جرابلس سے لیکر اعزاز تک ایک سو کلومیڑ سے زیادہ بارڈر کا علاقہ داعش سے آزاد کروا لیا گیا اور پھر رفتہ رفتہ یہاں سے مارع تک پہنچ گئے ۔ 

? اسی میں داعش کا ایک بہت مضبوط گڑھ دابق کو بھی داعش  سے صاف کروا لیا گیا جس کا داعشی خوارج کا ایک شدید جھٹکا لگا اس پر مستزاد کہ اس معرکہ درع الفرات میں شامل سنی عسکری جماعتوں نے ایک بیان جاری کیا کہ ہم یہاں تک بس نہیں کرنے والے بلکہ ہم الباب سے ہوتے ہوئے حلب تک پہنچیں گے ان شاء اللہ یعنی ایک طرح سے شام میں صفائی تقریبا مکمل ہونے والی ہے ۔۔۔

? اس کے ساتھ ہی لیبا میں دیکھا جائے تو وہاں بھی داعش کے پاس تقریبا صرف 800 میڑ کا علاقہ باقی بچا ہے اپنی مزعومہ خلافت چلانے کے لئے ۔ 

? نائجیریا میں ان کی بیعت کردہ جماعت بوکو حرام کے دو دھڑے بن گئے جو بیچارے خلافت کے حصول کے لئے آپس میں ہی لڑ رہے ہیں ، وجہ صرف یہ ہے کہ یہ ٹھیک طرح اور بھیمانہ انداز سے مسلمانوں کی تکفیر کرنے میں متشدد نہیں لہذا اس کو امیر بننے کا کوئی حق نہیں لہذا اسے ابھی ہم سے مزید کچھ خارجیت کے عقائد سیکھنے ہوں گے ۔۔۔

? افغانستان میں یہ بیچارے ویسے ہی جگہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ سر کہاں چھپائیں ۔۔۔

? ان کے لیڈران کو دیکھا جائے تو  ابو محمد عدنانی ، ابو عمر شیشانی ، احمد خطاب عمر ، ملا عبد الرؤف ، حافظ سعید خان وغیرہ ،   یعنی الغرض ، شامی ، عراقی ، خراسانی ، بنگلہ دیشی سب لیڈر مارے جاچکے ہیں اور ایک طرح سے ان کی کمر تو پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے ۔

? رہتی سہتی کسر اب عراق میں موصل شہر کا فیصلہ کن آپریشن نکال دے گا ۔۔۔ جہاں تقریبا  ایک لاکھ آرمی ان کا گھیراؤ کیے ہوئے ہے جن میں ایک طرف سے عراقی فورسز ، اور دو اطرف سے کرد فورسز حصہ لے رہی ہیں اور اندر بمشکل 7000 داعشی دیکھیں اب کیسے اپنا سر چھپاتے ہیں ۔ 

? عراق ہی وہ علاقہ تھا ، جہاں داعش نے موصل میں اپنی خلافت کا بگل بجایا تھا اور اسی عراق میں چند سو عراقی فوجیوں کے علاوہ ہزاروں نہتے افراد کو مرتد و کافر قرار دے کر اجتماعی قتل عام کیا تھا، اور عراقی افواج کا جدید سے جدید اسلحہ بھی سمیٹا تھا۔

? داعش اپنی کئی ویڈیوز میں عراقی فوج سے چھینے گئے میزائل، بکتر بند گاڑیاں اور میزائل کی نمائش کرتے تھکتی نہیں تھی۔ لیکن آج جب انکے استعمال کا وقت آیا ہے تو راہ فرار اختیار کر گئی اور صوبہ نینوی اور اسکے صدر مقام موصل کے علاوہ باقی تمام علاقوں سے نہ صرف انکا صفایا ہو چکا ہے بلکہ اب نینوی کے قبضے کے دن بھی تھوڑے ہی نظر آرہے ہیں۔

?? سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر ہوا کیا ہے؟؟؟

اس میں درج ذیل نکات قابل غور ہے:

? دو سال قبل عراقی سنی علاقوں میں عراقی شیعہ اکثریتی حکومت کے خلاف حقوق کے غصب اور دیوار کے ساتھ لگائے جانے پر شدید بے چینی اور بغاوت کے جذبات موجود تھے، اور عراقی فورسز کا ان علاقوں پر کنٹرول برائے نام تھا۔ ان علاقوں کو سنی قبائل کے سردار ہی چلا رہے تھے اور یہی عراقی حکومتی رٹ کو ان علاقوں میں قائم کرنے کا سبب تھے۔

لیکن مرکزی حکومت کے مسلسل نظر انداز کئے جانے پر شدید غصہ کا شکار تھے۔ اسی صورتحال کا فائدہ ان علاقوں میں پہلے ہی موجود القاعدہ سے منحرف گروہ دولۃ الاسلامیہ فی العراق نے اٹھایا اور مقامی قبائلیوں کو ساتھ ملا کر عراقی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی۔ اور دیکھتے ہیں دیکھتے عراقی حکومتی فورسز ان علاقوں میں دریا میں تنکے کی مانند نظرآنے لگی۔ جس کے سبب ، ٹیکٹیکل وڈرال کو ہی مناسب عسکری اقدام سمجھا گیا۔

?جبکہ مقامی سنی قبائل کی عراقی حکومت کے خلاف تعاون کو دیکھ کر دولۃ الاسلامیہ فی العراق نامی تنظیم آپے سے باہر ہوگئی اور اپنی مزموم خلافت کی بنیاد رکھ دی۔

? داعش کے وجود میں آنے کے بعد ، عراق سنی قبائل میں سے جنہوں نے حکومت مخالف اس لڑائی میں عراقی حکومت کا ساتھ دیا تھا یا پھر وہ بالکل غیر جانبدار رہے تھے، ان دونوں قسم کے لوگوں کو داعش کی بربریت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزاروں کی تعداد میں سنی نوجوانوں کو انکے علاقوں اور دیہاتوں سے اغواء کر کے اجتماعی قتل عام کیا گیا۔ اور انہیں کافر مرتد اور رافضی یا سرکاری ملازم قرار دیے کر اپنی خواہشات کو پورا کیا گیا۔

? سنی قبائل ، جو عراقی شیعہ اکثریتی حکومت کے جور جبر سے تنگ تھے، جلد ہی انکو احساس ہوا کہ ایک شر سے تو انہوں نے اپنے آپکو کامیابی سے نکال لیا مگر اس سے بڑے شر کا دروازہ خود پر کھول بیٹھے ہیں۔

☹ لیکن اب پچھتاوت کیا ہوت ، جب چڑیاں چگ جائیں کھیت!

? سنی قبائل کی عراقی حکومت سے آزادی کی تحریک کو داعش نے نہ صرف یرغمال بنایا بلکہ تمام سنی قبائل کو بھی یرغمال بنا لیا۔ قبائلی سرداروں کا قتل، بے وقعتی اور رسوائی کا ارتکاب شروع کر دیا۔

? جس طرح عراقی سنی عوام کا لاوا پہلے عراقی حکومت کے خلاف ابلا تھا، اس مرتبہ اس سے بھی بھیانک لاوا داعش کے خلاف جوش کھانے لگا تھا۔ بس یہی وہ مناسب وقت تھا، جس کا عراقی حکومت اور فورسز کو انتظار تھا۔
عراقی حکومت نے سنی عوام کی محرومیوں کو دور کرنے اور عراقی حکومت میں باقاعدہ نمائندگی دینے کے وعدے کر کے ، مقامی قبائل کو ایک مرتبہ پھر اپنا حلیف اور اتحادی بنا لیا۔ اور نتیجہ وہی نکلا، جو آپ آج پڑھ اور دیکھ رہے ہیں۔

داعش نے قبائلی طرز زندگی سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بجائے، اپنے دشمنوں عراقی حکومت اور افواج کو اسکا موقع دیا، جو انہوں ضائع نہیں ہونے دیا۔

?آخر میں ، ایک اہم بات، کہ وہ داعش کے قبضے میں موجود عراقی اسلحے کا کیا بنا، وہ کہاں گیا، چلا کیوں نہیں ؟؟؟

اس کا جواب بھی نہایت سادہ ہے!

? چند فوجی گاڑیاں یا ٹینک یا میزائل قبضے میں لینا اور پھر ان سے ایک ریاست سے لڑنا احمقانہ سوچ ہے۔

دوسرا کہ ان سب کو حاصل  کر لینا الگ بات ہے مگر ان کو  چلانے کی صلاحیت اور اہلیت رکھنا ایک علیحدہ امر ہے۔

? الغرض، اس وقت عراق ، داعش کی نجاست سے جہاں ایک جانب آزادی حاصل کر رہا ہے، وہی عراقی حکومت بھی اس مرتبہ کچھ بالغ نظر آرہی ہے۔

? یہی وجہ تھی کہ گزشتہ دنوں شیعہ انتہاء پسند رہنما، مقتدی الصدر نے عراقی حکومت کے خلاف باغیانہ تحریک چلائی۔

کیونکہ عراقی حکومت نے سعودی سفارتکاری اور امریکی اثررسوخ کی وجہ سے سنیوں کا عراقی حکومت میں کردار نہ صرف تسلیم کر لیا ہے بلکہ عراق اور اسکی فورسز پر موجود انتہاء پسند شیعہ گروہوں اور ایران کے اثرات کی روک تھام کے لئے اقدامات بھی شروع کر دئیے ہیں۔

? اسکی ایک سادہ سی اور بڑی عمدہ مثال، عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کا اپنے پرسنل سیکیورٹی کے لئے عراقی فوج کے ایک کرد جنرل 350 کرد سپیشل فورسز اہلکار کو تعینات کرنا ہے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کاعراق میں سفارتخاے کھولنا، ایرانی اثرات کو توازن بخشے گا اور عراق کی صورتحال کچھ بہتر اور مستحکم ہوگی۔

? کیا خوب اللہ تعالی نے سورہ یوسف میں بیان فرمایا ہے :
قال الله عز وجل :  وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ  (يوسف / 21)
ترجمہ : اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

  [[[[ الفتن مانیٹرنگ سیکشن، ادارہ رد فتن ]]]]




داعش کا جہاد فساد کیوں ہے ۔۔۔ ؟؟؟

مرتدوں سے قتال کفار سے قتال سے زیادہ ضروری ہے۔

ایک اعتراض : 

                مرتدوں سے قتال کفار سے قتال سے زیادہ ضروری ہے۔کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ‹ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَۃً۝۰ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ۝۱۲۳›

                اے ایمان والو ! ان کافروں سے جنگ کرو جن کا علاقہ تمہارے ساتھ ملتا ہے۔ اور ان کے ساتھ تمہیں سختی سے پیش آنا چاہئے اور یہ جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ [التوبۃ: 123]

                اسی لیے اصلی کفار سے پہلے مرتد جہادی تنظیموں اور اسلامی حکومتوں خصوصاً عربی حکومتوں سے قتال زیادہ ضروری ہے۔

جواب 

پہلی بات: 

                کسی بھی مخصوص شخص یا جماعت پر مرتد کا حکم لگانے سے پہلے ضروری ہے کہ تکفیر کی شرائط پوری کی جائیں اور موانع کو ختم کیا جائے۔

                داعش اپنے مخالفین کو غیر کفریہ کاموں کی وجہ سے بھی کافر ومرتد قرار دے دیتی ہے۔ تکفیر میں غلو  اور اس مسئلہ میں اہل سنت کے منہج سے روگردانی کرنا اور اصل جہاد کے چہرے کو مسخ کرتے ہوئے فساد برپا کرنا داعش کا وطیرہ بن چکا ہے اور کوئی بندہ بھی اس سےناواقف نہیں ہے ۔  

                یہ شبہ خوارج کی ذہنی اپج اور غلو کی پیداوار ہے۔ کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کو ان کے مرتد ہونے کا دعویٰ کرکے قتل کرتے ہیں۔ یہ ویسے ہی ہیں جیسے ان کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو کچھ نہیں کہیں گے۔‘‘ اس مسئلہ میں ان کی غلط فہمی نے انہیں غلو میں مبتلا کردیا ہے۔

یہ ان کا پرانا منہج ہے۔ امام ابن تیمیہ﷫ فرماتے ہیں:  فانھم یستحلون دماء اھل القبلۃ لاعتقادھم انھم مرتدون اکثر مما یستحلون من دماء الکفار الذین لیسوا مرتدین  ([1])

’’خوارج مسلمانوں کو مرتد سمجھ کر غیر مرتد کفار سے زیادہ قتل وغارت کا نشانہ بناتے ہیں۔ ‘‘

  • تکفیر کی چار شرائط ہیں:

①          کتاب وسنت کے دلائل کی بناء پر کسی قول وفعل، عقیدہ  کو اختیار کرنے یا ترک کرنے کے کفر ہونے کا ثبوت۔

②          جس کی تکفیر کی جارہی ہے، اس کے وہ کام کرنے کا ثبوت۔

③          اس پر حجت قائم کردی گئی ہو۔

④          اس میں کوئی موانع تکفیر نہ پایا جاتا ہو۔

  • موانع تکفیر درج ذیل ہیں:

       جہالت:   جس قول وفعل یا عقیدہ کی بناء پر اس کی تکفیر کی جارہی ہے، اسے معلوم ہی نہ ہو کہ یہ کفر ہے اور شریعت کے خلاف ہے۔

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ کرنے کی اجازت طلب کی تو نبی کریم ﷺ نے ان کی تکفیر نہ کی بلکہ ان کو سمجھایا کہ سجدہ صرف اور صرف اللہ کے لئے ہے ، غیر اللہ کے لئے سجدہ جائز نہیں ہے ۔ ([2])

       خطاء:       کفریہ قول وفعل کا ارتکاب غلطی سے ہوجائے۔اس قاعدے کی اصل اللہ عزوجل کا فرمان ہے :  ‹ رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا۝›

            ” اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں تو ہم سے مؤاخذہ نہ کر “ [البقرۃ: 286]

اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے «إن اللہ تجاوز عن امتي الخطأ والنسیان» میری امت سے خطا اور نسیان کو اللہ تعالى نے معاف فرمایا ہے۔ یعنی بھول کر، جہالت کے ساتھ کوئی بندہ اگر کفریہ کام کرلیتا ہے تو اس کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا۔

       زبردستی: کوئی اس سے زبردستی کفریہ قول یا فعل کا ارتکاب کروائے اور اس کے پاس اسے کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ یہ قاعدہ قرآن کی اس آیت سے لیا گیا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد گرامی ہے : ‹ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ  ۝›

” سوائے اس کے جسے (کفرپہ) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو  “ [النحل: 106]

       تاویل:    وہ شخص کسی شبہ کی بنیاد پر کفریہ کام کو حق اور درست سمجھ کر سرانجام دے رہا ہو۔جیسا کہ ایک صحابی قدامہ بن مظعون نے قرآن پاک کی آیت کریمہ ‹ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ  فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۝› “ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے ، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، پھر متقی بنے اور انہوں نے نیکی کی اور اللہ نیکی کرنے والوں سےمحبت کرتا ہے ۔ ” کو دلیل بناتے ہوئے شراب کو حلال سمجھ کر پی لیا ۔

لیکن جب ان کا معاملہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچا اور صحابہ کرام سے مشورہ ہوا تو عمر فاروق اور علی مرتضی رضی اللہ عنھما اور دیگر علماء صحابہ نے متفقہ فیصلہ یہ جاری کیا کہ انہیں بتایا جائے کہ ان کا یہ استدلال درست نہیں اور پھر انہیں پوچھا جائے اگر یہ شراب کی حرمت کا اقرار کرتے ہیں تو ان پر حد نافذ کی جائے گی یعنی (80) کوڑے اور اگر یہ شراب کے حلال ہونے پر ہی مصر رہے تب انہیں مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کیا جائے گا ۔

                آپ ملاحظہ کیجیے کہ صحابہ کرام تکفیر تو دور کی بات کبیرہ گناہ کی سزاؤں میں بھی تاویل کو مدنظر رکھتے تھے ۔

                داعش نے جو  تکفیر  کی ،وہ ان اوپر بیان کی گئی شرائط  اور موانع سے خالی ہے۔ زیادہ تر ان کے کفر وارتداد اور کفار کی ایجنٹی کے فتوے شبہ اور غلو پر مبنی ہوتے ہیں۔ یا کسی کے قول وفعل سے لازم آنے والی چیز سے جڑے ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ ساری وجوہات غلط اور باطل ہیں۔

                داعش کی شرعی کمیٹی کا الجبھۃ الإسلامیۃ اور اس کے رہنماؤں کے بارے میں فرمان اسی سوچ کا آئینہ دار ہے۔ کمیٹی کا بیان ہے: ’’الجبھۃ الإسلامیۃ کے امراء نے اپنی جماعت کے قیام سے پہلے بھی اور بعد میں بھی کفریہ کاموں کا ارتکاب کیا ہے۔ ان میں سب سے خطرناک کام مذہب ِ کفار کو صحیح کہنا اور اسے برقرار رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ کفریہ کمیٹی کی سربراہی مرتدوں کو سونپ رکھی ہے اور یہ کمیٹی قومی اتحاد کے زیر کنٹرول ہے۔‘‘

                علم رکھنے والے ہر شخص کے نزدیک یہ گفتگو درج ذیل وجوہات کی بناء پر بالکل باطل ہے:

1۔           جہادی تنظیموں کی تکفیر کی بنیاد قومی اتحاد اور جنرل اسمبلی کی تکفیر پر ہے اور یہ بنیاد ہی ثابت نہیں۔ بلکہ اس میں عام مسلمانوں کا بھی اختلاف ہے۔ اگر کسی نے یہ بات کہی بھی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ اجتہاد کے قابل ظنی چیز ہے۔اور جو چیز خود ایسی ہو، اس پر کسی دوسرے کی تکفیر کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔

                کیونکہ یہ قاعدہ کہ ’’جو کسی کافر کی تکفیر نہ کرے، یا اس کے کفر میں شک کرے یا اس کے مذہب کو صحیح مانے تو وہ خود کافر ہے۔‘‘ قطعی کفر کے بارے میں ہے۔ ایسا شخص یا تو اصلی کافر ہوتا ہے یا شرائط کی موجودگی اور موانع کی عدم موجودگی کی بناءپر اتفاقی طور پر مرتد قرار دیا گیا شخص ہوتا ہے۔

                قاضی عیاض﷫ لکھتے ہیں: ’’جو شخص غیر مسلموں کی تکفیر نہیں کرتا یا اس میں توقف کرتا ہے یا شک کرتا ہے یا ان کے مذہب کو صحیح قرار دیتا ہے تو ایسے شخص کی ہم تکفیر کرتے ہیں اگرچہ وہ اسلام کا اظہار کرے اور دیگر مذاہب کے باطل ہونے کا عقیدہ رکھے کیونکہ جو شخص غیر مسلموں کی تکفیر نہیں کرتا، وہ خود کافر ہے۔‘‘

                پھر انہوں نے اس کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا: ’’کیونکہ ان غیر مسلموں کے کفر پر نص اور اجماع موجود ہے۔ جو اس بارے میں توقف کرتا ہے وہ نص کو جھٹلاتا ہے۔‘‘ ([3])

                لیکن اتفاقی طور پر مرتد قرار دیے جانے والے معین شخص کی تکفیر نہ کرنے والے کی تکفیر  پر یہ قاعدہ فٹ نہیں بیٹھتا۔ کیونکہ کسی معین شخص پرارتداد کا حکم قطعی نہیں ہوتا اور نہ اس پر اجماع ہوتا ہے اور نہ اس میں کتاب وسنت کی تکذیب ہوتی ہے۔ بلکہ یہ صرف اجتہاد ہوتا ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔

                لہٰذا’’جو کسی کافر کی تکفیر نہ کرے، یا اس کے کفر میں شک کرے یا اس کے مذہب کو صحیح مانے تو وہ خود کافر ہے۔‘‘ والے قاعدہ کا تعلق نصوص شرعیہ کو رد کرنے اور ان کی تکذیب کرنے سے ہے، نہ کہ بعض مسلمانوں کے کفر میں مبتلا ہونے سے ہے۔ دونوں مسئلوں میں فرق واضح ہے۔([4])

۲۔              جہادی تنظیموں کی تکفیر کی بنیاد قومی اتحاد اور جنرل اسمبلی کی تکفیر پر ہے ۔ پھر تنظیموں کی تکفیر مرتد اراکین کو عہدے دینے کی وجہ سے بھی ہے۔ بلکہ اس کے بعد انہوں نے یہ بھی کہا ہے: ’’جب جبہہ اسلامیہ کے امراء مثلاً: صدر مجلس شوریٰ ابو عیسیٰ الشیخ، عسکری قائد زہران علوش اور  سیاسی کمیٹی کے صدر حسان عبود کا ارتداد ثابت ہوچکا ہے کیونکہ انہوں نے کفریہ کاموں کا ارتکاب کیا ہے، یعنی کفار ومرتدین کو عہدے دینا اور ان کے مذہب کو صحیح کہنا وغیرہ۔ 

تو یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ جو بھی ان مرتدوں کے ساتھ ان کی حالت کو جاننے کے بعد ملے  گا اور ان کے پرچم تلے قتال کرے گا، تو اس کا بھی وہی حکم ہوگا جو ان کا ہے۔ امتِ توحید میں مرتدوں اور دشمنان ِ دین کے ساتھ ملنے والوں پر اس حکم کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ان کا وہی حکم ہے جو اُن کا ہے۔‘‘

                اس عبارت کا مقصود یہ ہے کہ جو ان کی تکفیر نہیں کرتا، وہ بھی کافر ہے۔

                یہ تکفیر کا تسلسل ہے جو تاریخ میں بدعتیوں کی طرف سے مشہور ہے۔

                ابو الحسن ملطی﷫ فرماتے ہیں: ’’پھر بغدادی معتزلہ نے بصری معتزلہ کے عقیدہ پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ شک کرنے والے کے بارے میں شک کرنے والا اور اس شک کرنے والے کے بارے میں شک کرنے والا اور اس شک کرنے والے کے بارے میں شک کرنے والا، لا محدود  چلتے جائیں، سبھی کافر ہیں  اور ان کا وہی حکم ہے جو اولین شک کرنے والےکا ہے۔‘‘ ([5])

                عبد القاہر بغدادی ﷫ نے کسی معتزلی کا قول نقل کیا ہے کہ: ’’کسی شک کرنے والے کے کفر میں شک کرنے والا خود کافر ہے۔ اسی طرح اس شک کرنے والے کے کفر میں شک کرنے والا بھی کافر ہے  اور یہ سلسلہ اسی طرح لامحدود چلتا جائے گا۔‘‘ ([6])

                پھر کسی قدری مرجئی کا قول نقل کیا ہے کہ: ’’فلاں مسئلہ میں شک کرنے والا کافر ہے اور اس شک کرنے والے میں شک کرنے والا کافر ہے اور اسی طرح ابد تک یہ معاملہ چلتا جائے گا۔‘‘ ([7])

۲۔           اس مسئلہ میں داعش نے جن نصوص سے استدلال کیا ہے، وہ اصلی کافروں کے بارے میں ہیں، نہ کہ کسی کافر کی تکفیر نہ کرنے والے بارے میں۔

                داعش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے: ’’جب قومی اتحاد اور جنرل اسمبلی کا حکم معلوم ہوگیا  تو ہمارے نزدیک وہ پہلا تضاد بھی واضح ہوگیا جسے جبہہ اسلامیہ کے امراء نے خلط ملط کردیا تھا یعنی جبہہ کے امراء کا مرتدوں کو عہدوں سے نوازنا اور ان کے کفریہ کاموں کی موافقت کرنا کیونکہ وہ ان کی جنرل اسمبلی کے رکن تھے ، چاہے وہ براہ ِ راست بذات خود کام کررہے تھے مثلاً: ابو عیسیٰ الشیخ، زہران علوش یا بالواسطہ جیسے حسان عبود، جس کا کردار  ابو زبیر عبد الفتاح عروب ادا کرتا تھا۔ یہ چیز حسان کے علم میں تھی اور اس کی موافقت کے ساتھ ہورہا تھا، لہٰذا اس کا بھی وہی حکم ہے جو براہ ِ راست کام کرنے والوں کا ہے۔

                اور ہر وہ شخص جو رکن بنتا ہے یا ان کی مدد کرتا ہے یا ان کے جھنڈے تلے لڑتا ہے  تو اس کا اور ان کا حکم ایک برابر ہے۔ فرمان الٰہی ہے: ‹وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِــمِيْنَ۝۵۱›

                اگر تم میں سے کسی نے ان کو دوست بنایا تو وہ بھی انہیں سے ہے۔ یقیناً اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [المائدۃ: 51]

                یہ ساری گفتگو بالکل باطل ہے کیونکہ یہ آیت ایسے کفار سے دوستی لگانے کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کا کفر قطعی طور پر ثابت ہو۔ لیکن جس پر ارتداد کی تہمت ہو، اس سے دوستی کفر نہیں ہے!

                چہ جائیکہ ان تنظیموں کی تکفیر درست ہو یا صرف دوستی کی بنیاد پر تکفیر  درست ہو۔([8])

۳۔           قومی اتحاد یا جنرل اسمبلی سے تعلق کو دوستی سمجھنا سخت ترین جہالت  ہے کیونکہ ثابت شدہ مرتد سے تعلق اس کے ارتداد سے موافقت یا رضامندی کی دلیل نہیں ہوتا۔ بلکہ اہل علم نے مرتد سے تعلق، خرید وفروخت اور دیگر معاملات کے بارے میں گفتگو کی ہے۔

                زیادہ سے زیادہ جہادی تنظیموں کا یہی قصور بن سکتا ہے کہ وہ قومی اتحاد اور جنرل اسمبلی سے تعلق رکھے ہوئے ہیں جبکہ وہ کئی واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ ہمیں ان کا خلافِ اسلام کوئی بھی حکم منظور نہیں ہے۔ بلکہ آخر میں تو یہ ہوا کہ  اسمبلی کے اراکین کی طرف سے خروج ہوا اور اتحاد کے اعتراف سے ہاتھ اٹھا لیا گیا! ([9])

دوسری بات:

                یہ خیال کہ مرتدوں سے قتال اصلی کفار سے قتال سے زیادہ ضروری ہے اور اس پر سورت توبہ کی آیت سے استدلال غلط ہے۔ اس آیت میں ان کےلیے کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ اس سے ان کا استدلال غلط فہمی پر مبنی ہے۔

                آیت سے مراد ملک فتح کرنے اور اسلام کی نشر واشاعت کےلیے کفار ومشرکین سے جہاد کا حکم ہے۔ اس میں تو سارے ملک برابر تھے۔ اس لیے حکم دیا کہ پہلے قریب والوں سے نمٹ لو۔ گویا یہ مسلمانوں کو حکم ہے کہ ان میں سے ہر قوم اپنے قریب  والے کفار سے جہاد کرے۔

                امام ابن کثیر﷫ لکھتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو حکم دیا ہے کہ کافروں سے لڑو تو پہلے ان لوگوں سے لڑو جو مرکز اسلام سے قریب تر ہیں۔ اسی لیے نبی کریمﷺ نے مشرکین سے جنگ شروع کی تو جزیرۃ العرب سے ابتداء کی۔ مکہ، مدینہ، طائف، یمن، یمامہ، خیبر، حضر موت غرضیکہ جزیرۃ العرب کے اور دوسرے ممالک کو پہلے فتح کرلیا اور مسلمان بنا لیا اور عرب کے قبائل دین اسلام میں جوق در جوق شامل ہونے لگے۔ تو اب اہل کتاب سے جنگیں شروع ہونے لگیں اور روم سے جنگ کا ارادہ بن گیا۔ یہ لوگ جزیرہ عرب سے قریب رہنے والے تھے اور اس بات کی ضرورت تھی کہ دعوت اسلام کی سب سے پہلے انہی سے ابتداء ہو اور اس لیے بھی کہ وہ اہل کتاب تھے۔‘‘ ([10])

                امام قرطبی﷫ لکھتے ہیں: ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مقصود اہل مکہ تھے، اس لیے ان سے ابتداء کرنا متعین ہوگیا۔ پھر جب مکہ فتح ہوگیا  تو قتال ان سے قریب تر لوگوں سے ہوا جو تکلیف دیتے تھے۔ یہاں تک کہ دعوت عام ہوگئی اور کلمہ حق ہر طرف پھیل گیا اور کوئی کافر باقی نہ بچا۔‘‘ ([11])

                سارے مفسرین اور اہل علم نے یہی بات کی ہے۔ اگر طوالت کا ڈر نہ ہوتا تو ہم سب کی گفتگو یہاں نقل کردیتے۔ صاحب ِ ذوق اس آیت کی تفسیر مختلف تفاسیر میں دیکھ لیں۔

                لہٰذا اس آیت میں:

1۔           مرتدوں سے قتال کی بات نہیں ہورہی، بلکہ یہ کفار سے قتال کی نص ہے۔

2۔           اس میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ دوسروں سے پہلے دشمنوں سے قتال کی ابتداء کی جائے۔

                خلاصہ کلام یہ ہے کہ داعش نے احکام تکفیر میں بہت ٹھوکریں کھائی ہیں۔ اس نے جہالت وغلو کی بناء پر مسلمانوں کی تکفیر کی اور انہیں مرتد ٹھہرایا اور پھر اسی کی بناء پر ان کی جان ومال کو لوٹنا حلال سمجھ لیا۔ حالانکہ اصل غلطی ان کی اپنی تھی کہ انہوں نے اپنے غالی عقائد کی بناء پر اصلی کافر جیسے دشمن سے قتال کی نصوص کو اپنے بنائے ہوئے مرتدوں پر فٹ کردیا۔

ماخوذ از : شبھات تنظیم الدولۃ وانصارہ والرد علیھا 

حاشیہ : 

([1])           الفتاویٰ: 28/497

([2])           سنن ابن ماجہ : 1853

([3])           الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ: 2/610

([4])           یہ بہت اہم مسئلہ ہے جس میں بہت سے غالیوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔ مزید تفصیل کےلیے دیکھیے فتویٰ بعنوان: «ھل مقولۃ (من لم یکفر الکافر فھو کافر) صحیحۃ؟»

([5])           التنبیہ والرد علی أھل الأھواء والبدع: 1/40

([6])           الفرق بین الفِرق: 1/152

([7])           الفرق بین الفِرق: 1/193

([8])           مزید تفصیل کےلیے ملاحظہ کیجیے فتویٰ بعنوان: «ھل موالاۃ الکفار کفر بإطلاق؟» http://islamicsham.org/fatawa/1592

([9])           داعش کا خیال ہے کہ جبھۃ  الاسلامیہ کا جنرل اسمبلی سے خروج کافی نہیں ہے جب تک وہ یہ نہ مانیں کہ اسمبلی مرتد ہوچکی ہے اور ہم اس فعل سے توبہ کرچکے ہیں۔ داعش کا کہنا ہے: ’’اگر جبھۃ  الاسلامیہ کے امراء نے جنرل اسمبلی میں کام کرنا چھوڑ دیا ہے تو صرف کام چھوڑنا دائرہ اسلام میں داخلہ کےلیے کافی نہیں ہے جب تک وہ آئندہ آنے والی شرائط کو پورا نہ کریں۔ اور یہ اعلان کریں کہ  ہم نے جنرل اسمبلی میں کام کرنا صرف اس لیے چھوڑا ہے کیونکہ وہ مرتد ہوچکی ہے، کسی اور وجہ سے نہیں چھوڑا۔‘‘ یہ بات باطل ومردود ہونے میں کسی اور اشارہ کی محتاج نہیں ہے۔

([10])          تفسیر ابن کثیر: 4/237

([11])          تفسیر القرطبي: 2/350