حب الوطنی کے ردمیں غلو:

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!

کچھ لوگ تقوی اختیار کرنے میں غلو کا شکار ہیں اور اخلاص میں غلو کی وجہ سے بالخصوص القاعدہ اور داعش پاکستان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ جہاد کشمیر اس لیے درست نہیں کیونکہ یہ ملک کے لیے جہاد ہے جسے یہ “وطنیت” کہتے ہیں۔

یاد رکھیے!ہر چیز کے لیے اللہ تعالی نے ایک حد مقرر کر رکھی ہے اوراس حد سے آگے گزرنا اور اس میں غلو کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ملک کی طرف نسبت کرنا اور “دفاع پاکستان” کا نام لینا درست نہیں ۔
اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجیے کہ کسی بھی ملک کی محبت اور اس کی طرف نسبت کرنا اسلام کے مزاج کے بالکل خلاف نہیں ہے بلکہ بعض اوقات کسی وطن سے محبت کرنا مومنوں کا شیوہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام فطرت کے عین مطابق ہے۔
اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو وطن کی محبت ایک طبعی اور فطری چیز ہے جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے ،وطن سے محبت اور اس کی طرف نسبت کے حوالے سے قرآن و حدیث میں بہت سے شواہداور دلائل موجود ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْـهِـمْ اَنِ اقْتُلُـوٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَـعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْـهُـمْ

{النساء 66}

اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے۔
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالی نے جلا وطنی کو قتل کے برابر قرار دیا ہے ۔

[مفاتیح الغیب المعروف التفسیر الکبیر:15/515]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آرہے ہوتے اور مدینہ کے قریب پہنچ کر اس کی دیواریں نظر آنے لگتیں تو مدینہ کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے۔

[صحیح البخاری 1886]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وفی الحدیث دلالۃ علی فضل المدینۃ ،وعلی مشروعیۃ حب الوطن ،والحنین الیہ۔

[فتح الباری :3/621]

اس حدیث سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن سے محبت کی جاسکتی ہے۔
یہی بات امام عینی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “عمدۃ القاری” میں اور امام مبارکپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “تحفۃ الاحوذی” میں درج کی ہے۔
اسی طرح مکہ والوں کے مظالم سے تنگ ہوکر اور زخموں سے چور ہو کر اللہ تعالی کے حکم سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرمانے لگے تو مکہ کی طرف منہ کرکے آبدیدہ ہوکر کہنے لگے:
والله انک لخیر ارض الله، واحب ارض الله الی الله، ولولا اني اخرجت منک ما خرجت»

[ترمذي ۳۹۲۱]

اللہ کی قسم تو اللہ کی سب سے بہترین زمین ہے اور اللہ تعالی کی سب سے زیادہ پسندیدہ زمین ہے ،اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
کیا اس وقت مکہ دارالایمان تھا ؟
ہرگز نہیں ۔۔۔!
یہ حب الوطنی ہی تھی کہ 360 بتوں کا مرکز ہونے کے باوجود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسندیدہ قرار دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے تو فرمایا :
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْاَشَدَّ حُبًّا
یا اللہ مکہ کی طرح مدینے کو ہمارا محبوب بنا دے بلکہ مکہ سے زیادہ ) محبوب بنا دے

(بخاری ج1 ص{5654)

صحیح البخاری کو قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب سمجھا جاتا ہے اور اس کتاب کی نسبت بخارا شہر کی طرف ہے وہ بخارا کہ جہاں امام بخاری رحمہ اللہ کو پاوں رکھنے کی بھی اجازت تک نہ تھی ، پھر بھی بخارا کی طرف نسبت تھی ، امام ترمذی ، امام نسائی وغیرھم اکثر ائمہ کی اپنے ملکوں کی طرف نسبت تھی۔
تو کیا ہم پاکستان کی طرف اپنی نسبت نہیں کرسکتے ؟جس کے ہم پر کئی احسان ہیں، جس کا قرض ہمیں چکانا ہے، اس کے برعکس جو شخص اس نسبت کو برداشت نہیں کرتا وہ اپنے تقوی اور دین کے معاملے میں غلو کا شکار ہوچکا ہے ،اسے اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لینا ہوگا ۔
میں تو یہی کہتا ہوں :شرعی دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک و ملت کی طرف نسبت ، اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
امام ذھبی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی پسندیدہ چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
وكان يجبُ عائشة، ويحبُ أباها، ويحبّ أسامة، ويحب سبطيه، ويحب الخلواء والعسل، ويحبّ جُبل أحد، ويحب وطنه، ويحبّ الأنصار، إلى أشياء لا تُحصى مما لا يغني المؤمن عنها قط.

{سیر اعلام النبلاء للذھبی }

نبی صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، ان کے والد محترم ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے،اور اسامہ رضی اللہ عنہ سے اور اپنے دونوں نواسوں سے شدید محبت کرتےتھے، میٹھے اور شہد کو بھی پسند کرتے تھے ،جبل احداور اپنے وطن سے محبت کرتے تھے انصار سے بھی پیار کرتے تھے اور ہر اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ جن سے ایک مومن کبھی بھی بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک کی طرف نسبت اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
ہاں البتہ یہ وطنی محبت اسلام مخالف نہیں ہونی چاہیے بلکہ دین اسلام کی سر بلندی میں ممدو معاون ہونی چاہیے ،اگر دین اسلام اور ملک و ملت مقابل ہوں تواسلام کی خاطر ہر چیز قربان ہے۔
نوٹ:
ہم یہ بات دلائل صحیحہ کی روشنی میں ثابت کرچکے کہ وطن ، ریاست و ملک اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس سے محبت شعائر اسلام کی مخالفت نہیں بلکہ ایک مومن کیلئے دینی فریضہ ہے کہ وہ ہر اس ملک سے محبت کرے جو دین اسلام کے نام پر بنا ہو اور اس کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرے اس کے خلاف ہر پراپیگنڈے سے بچے تاکہ اس کا ایمان کامل رہے ۔
یہ وطن عزیز ملک خدادِ پاکستان اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ پر ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ان گنت قربانیاں دی گئی اور اس کے دستور میں یہ بات شامل کی گئی کہ اس کا قانون اسلام کے عین مطابق ہو گا ، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں لوگ بدلتے رہے ذہنیت میں تبدیلی آنے کی وجہ سے قوانین بھی بدل گئے لیکن آج بھی اس قانون میں یہ بات موجود ہے کہ جو شق اسلام مخالف قرار پائے گی اس کا نفاذ یہاں نہیں ہو گا ۔
کچھ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف بلکہ یہ کہنا غلو نہ ہو گا کہ اسلام کے لبادوں میں اسلام دشمن ممالک کی ایک گہری سازش اور مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ جو اسلام کے نام پرپیدا ہوا لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی اسلام اور اسلامی ممالک کو ہوا وہ ہے القاعدہ اور داعش اور ان کے نظریات پر چلنے والی کچھ اور تنظیمیں جنہوں نے مسلمان ممالک کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کے جواز کے فتوے دیئے اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا پھر مسلم علماء نے ان کا تعاقب کر کے ان کے شریعت مخالف نظریات اور نعروں سے لوگوں کو آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ دین نہیں بلکہ دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے نظریات ہیں۔

اب 2018میں انہوں نے کشمیر کا رخ کیا کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر ہندوستان نے غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے ،اور ہندوستان حکومت کی ہر کوشش رائیگاں چلی گئی کہ وہ کشمیروں کے دلوں سے پاکستان کی محبت کا قلع قمع کر سکیں بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ دن بہ دن ان کی محبت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور انشاءاللہ ہوتا رہے گا،جب ہندوستان حکومت زورِ بازو کشمیریوں کو جھکا نہ سکی تو اس نے اگلا داوٴ لگایا کہ ان کے نظریات کو خراب کردیا جائے تو اس نے اس پلان کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے “داعش” اور “القاعدہ” کا سہارا لیا ،القاعدہ نےکشمیر میں “ذاکرموسی” کو اپنے ساتھ ملایا اور “انصار غزوۃ الھند” کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھ کر ذاکر موسی کو اس کا امیر مقرر کردیا ۔
اور پھر یہ نعرہ بلند کیا کہ وطن کیلئے جہاد کرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے ،اور اس کی وضاحت یوں کی کہ کشمیری پاکستان کا نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان ” لگا کر جہاد کررہے ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے اور واضح کفر ہے ، اس لیے یہ نعرہ ختم کر کے صرف ہندوستان کے خلاف اپنے حقوق کے لیے جہاد کریں ۔
ہم اوپر شریعت اسلامیہ کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں کہ اسلامی ملک سے محبت کرنا ایک مومن کے لیے ضروری ہے،اسلامی ملک سے محبت اور اس کے ساتھ ملنے کے لیے کوشش، کوشش میں اگر جہاد کی بھی ضرورت پڑے تو کیا جاسکتا ہے اور یہ جہاد 100فیصد حقیقی اسلامی سنت نبوی کے عین مطابق جہاد ہو گا جیسا کہ تاریخ نبوی ﷺ سے اس کے کئی ایک شواہدملتے ہیں۔
ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں جب تک زندہ رکھے دین اسلام اور منہج نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنےوالا بنا کر زندہ رکھےاور ہمارا خاتمہ بالایمان ہو ،رب العالمین ہم سے راضی ہو اور ہم اس سے راضی ہوں ۔




تحریک طالبان پاکستان کی تاریخ

مولوی فضل اللہ تکتحریک طالبان پاکستان کی تاریخ

ایپی فقیر سے فضل اللہ تک

مولوی فضل اللہ تک

قیام پاکستان سے تحریک طالبان کے بدلتے ہوئے رنگ

ایک تاریخی جائزہ

 الشیخ عبد الرحمن کشمیری حفظہ اللہ

ہمارے ہاں اچھائی کا لبادہ اوڑھنے والے ہمیشہ ہی دوسروں کے اچھے کارناموں کو اپنے نام کروا کے خود کو اچھا ثابت کرتے رہے ہیں.کچھ ایسا ہی کارنامہ موجودہ خارجی گروہ ٹی ٹی پی نے بھی سرانجام دیا ہے یعنی وہ اہل توحید و جہاد جنہوں نے اپنے مال اور جان کی قربانی دے کر کشمیر کے جہاد میں نذرانے پیش کئے تھے وہ بالکل الگ نظریے سوچ کی مالک قبائلی قوم تھی.جن کے جانشین افغان مجاہدین کی شکل میں آج بھی اسی منہج پر عالم کفر سے برسر پیکار ہیں.لیکن جو کل بھی مسلمانوں کی صفوں میں آ

آستین کے سانپ تھے ان کے جانشین آج بھی انہی کے راستے پر گامزن ہیں.

آجکل ہمارے ہاں یہ بات بہت شدت سے دلیل بنا کر پیش کی جاتے جاتی ہے کہ قبائلی علاقہ جات کے لوگ یعنی شمالی وزیرستان کے طالبان کے آباؤ اجداد نے کشمیر کے مسلمانوں کی مدد و نصرت کے لیے 1948 میں جہاد کشمیر میں ہندو بت پرستوں سے معرکہ ارا ہوکر اپنی جانوں کے نزرانے پیش کئے تھے،اور دین و ملت کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیا تھا.جو لوگ کل وفادار تھے وہ آج کیسے مسلمانوں کے مخالف اور کافروں کے ایجنٹ ہوسکتے ہیں؟

یہ مفروضہ ہماری غلط فہمیوں پر ہی مبنی ہے.دراصل ہم یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ مسلمانوں کا خون بہانے کے لیے ملنے والے ٹکڑوں پہ پلنے والے کسی صورت مسلمانوں کے لیے خیر خواہ نہیں ہوسکتے.

aepi Faqeer

“ایپی فقیر “ تحریک پاکستان طالبان کا جدامجد ہے. جس نے اس وقت کانگرس سے پیسے لے کر اہل پاکستان کے سب سے بڑے محسن قائداعظم محمد علی جناح کو کافر قرار دیا جبکہ مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے قائد اعظم کا جنازہ پڑھایا. اور آج اسی ایپی فقیر کے جانشین تحریک طالبان پاکستان کے خارجی بھی قائد اعظم کو کافر کہہ رہے ہیں. جیسا کہ مفتی ابوذر نے برملا کہا ہے کہ قائد اعظم نہیں بلکہ کافر اعظم….

تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے “ایپی فقیر” نے پاکستان میں شمولیت کے خلاف کانگریس کے ایما پہ پٹھانستان تحریک کی بنیاد رکھی تھی ،اور اس کے خلاف لڑنے والے بزرگ سید یوسف شاہ گیلانی اور شہزادہ فضل الدین صاحب نے لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر پاکستان کا علم بلند کیا اور یہی وہ لوگ تھے(سید یوسف شاہ گیلانی اور شہزادہ فضل الدین) جو محاذ کشمیر پہ لڑے. اور کفارکے خلاف لڑنے والے جمیعت مجاہدین ہند کے امیر مجاہد عظیم فضل الہی وزیر آبادی نے اس وقت شمالی وزیرستان کے قبائل کی محاذکشمیر پہ قیادت کی اور وزیرستان میں اس وقت کی ٹی ٹی پی کا قلع قمع کیا.

الحمد للہ ان کے روحانی فرزند آج ملت ذوالخویصرہ کی اولاد تحریک طالبان پاکستان کا قلع قمع کر رہے ہیں.

انڈیا اور افغان حکومت نے ہمیشہ ہی پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی حمایت کی اور تخریب کاری میں برابر کے شریک رہے. ایپی فقیر کو انڈیا کانگریس اور افغان حکمرانوں نے پٹھانستان بنانے کا عندیہ دیا جس طرح اس کا جد امجد سلطان محمد خان طلائی نے سکھوں کی امداد کی اور شاہ اسماعیل کو شہیدکروایا صرف تخت کابل کی وجہ سے اس کو اور تو کچھ نہ ملا صرف لاہور میں قید ملی.

کفار نے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف پیسے کا استعمال کیا اور اللہ نے یہ بات قرآن مجید میں کہی سورہ الانفال 36 میں:

“بلاشک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راه سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وه مال ان کے حق میں باعث حسرت ہو جائیں گے۔ پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا”

کفار ہمیشہ اپنے مال ومتاع ان ناپاک مقاصد میں استعمال کرتے رہیں گے لیکن آخر کار یہ ان کے لیے ندامت ہی ثابت ہوگا. اور اس وقت بھی ہندوستان نے 35 کروڑ عبدالغفارخان کی معرفت اس کے بیٹے عبدالغنی خان کے ذریعے ٹی ٹی پی کے جد امجد ایپی فقیر کو دیے اور اسی بنا پہ وہ قائداعظم کو کافر کہتا تھا اور پاکستان کی مخالفت کی .

اس وقت بھی اہل توحید کے جد امجد مولانا فضل الہی وزیر آبادی ؒ نے ان سازشوں کا قلع قمع کیا اور پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا اور آج بھی اہل توحید پاکستان کے ساتھ ہی ہیں.

proof2

آج کی ٹی ٹی پی کا فضل اللہ افغانستان میں بیٹھا ہے اور آج انڈیا کے قونصل خانے اس کی حفاظت کرتے ہیں . آج بھی سوات میں سکھ افسر ٹریننگ دیتے ہیں .آج بھی انڈیا اپنا سرمایہ،اسلحہ اور افرادی قوت ٹی ٹی پی کو فراہم کررہا ہے.انڈیا کی حمایت کا ثبوت سرتاج عزیز کا حالیہ بیان ہے لیکن ان سب سازشوں کے باوجود الحمد للہ ہم کل بھی کامیاب ہوئے تھے اور ان شاء اللہ آج بھی کامیاب ہوں گے۔ 




مسلم مجرم نہیں ہوتا

مسلم مجرم نہیں ہوتا 

خوارج اور اصلی مجاہدین میں فرق جاننے کے لئے  یہ ویڈیو ملاحظہ کیجیے ۔۔۔

ویڈیو HD کوالٹی میں اس لنک پر دیکھیں : https://vimeo.com/156523131

 

https://www.youtube.com/watch?v=QTcmc904_OM

 

 




پاکستان کا آئین غیراسلامی ہے یا پھر خود خوارج کا اپنا ایجنڈا؟

pakstan ka AUin

پاکستان کا آئین غیراسلامی ہے یا پھر خود خوارج کا اپنا ایجنڈا؟

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کہتی ہے کہ  طالبان مذاکرات کے خواہشمند ہیں لیکن پاکستان کے آئین کے تحت ہم کبھی مذاکرات نہیں کرینگے کیونکہ پاکستانی آئین سیکولر ہے۔

یاد رہے!

طالبان پاکستان دشمن ایجنڈے کی تکمیل میں مگن ہیں حکومت نے صدقِ دل سے انہیں مذاکرات کی پیشکش کی تھی لیکن وہ اب حیل و حجت سے مذاکرات سے فرار کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

سب پر یہ بات واضح ہونی چاہیئے کہ اسلامی مملکت پاکستان کا آئین، عین اسلامی ہے۔

قرارداد مقاصد کی شکل میں موجود آئین کی دفعہ 2 الف کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سُنت کے منافی نہیں بن سکتا ۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل۲کی رُو سے اسلام، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ریاستی مذہب ہے۔

آرٹیکل ۲۲۷ کے مطابق پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جاسکتا جو قرآن و سنت سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہ آرٹیکل یہ بھی کہتا ہے کہ اگر موجودہ قوانین قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتے تو اُنہیں قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا اور مطابقت پیدا کی جائے گی۔

آرٹیکل۴۱ کے مطابق صدر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ہے، پھر قراردادِ مقاصد جسے اب آئین کے قابلِ تنفیذ آرٹیکل (۲؍اے) کا درجہ حاصل ہے،بے حد وضاحت سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا اعلان کرتی ہے۔

یہ سب باتیں معروف ہیں، البتہ آئین میں صدرِ پاکستان کے عہدے کے لیے جو حلف کی عبارت دی گئی ہے، اُس کا تذکرہ کم کم ہوتا ہے۔ اس عبارت میں جہاں حلف لینے والے صدر کو توحید ِباری تعالیٰ اور قرآنِ مجید کو آخری الہامی کتاب اور حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت اور یومِ آخرت پر ایمان کا اقرار کرنا پڑتا ہے، وہاں قرآنِ مجید کے ’تمام تقاضوں اور تعلیمات‘ پر عمل پیرا ہونے کا بھی حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ ’تمام تقاضے اور تعلیمات‘ کے اندر سب کچھ آجاتا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ آئینِ پاکستان کی رُو سے بھی قرآن و سنت کو  بالادستی حاصل ہے۔۔۔

اسکے برعکس اگر ہم  منصفانہ جائزہ لیں تو طالبان کا اپنا آئین و ایجنڈا صریحا قرآن و سُنت سے متصادم ہے۔ فرمان رسول اور احکامات الہیہ کے مطابق عام مسلمان شہریوں کی جان و مال کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کا تحفظ ضروری ہے لیکن شاہد اللہ شاہد (جو کہ بعد میں داعش میں شامل ہو گیا تھا ) نے اپنے ایک  بیان میں کہا ہے کہ پشاور چرچ پر حملہ درست تھا۔ کیا اقلیتوں پر حملوں کی حمایت کرنیوالے کا طالبان کا ایجنڈا قرآن و سُنت سے مطابقت رکھتا ہے؟

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 

عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من قتل معاہدا لم یرح رائحۃ الجنۃ وان ریحہا توجد من مسیرۃ اربعین عاما۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: جوشخص معاہدہ والے کسی غیر مسلم کو قتل کرے تو وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھے گا، حالانکہ اسکی خوشبوچالیس سال کی مسافت سے سونگھی جاتی ہے۔

﴿صحیح بخاری شریف، کتاب الجزیۃ،باب اثم من قتل معاہدا بغیر جرم، حدیث نمبر2930﴾

تحریک طالبان پوری دنیا کے سامنے اسلام کے چہرے کو مسخ کر کے پیش کرنے پر گامزن ہے۔ لہٰذا  ان خوارج صفت لوگوں سے  نرمی  محض وقت اور مال و جان کے ضیاع کے لئے ان کو مزید مہلت دینے کے مترادف ہے۔ اللہ ہمیں ان کے شر سے بچائے امین ۔ 

 




عصر حاضر کے خوارج کی ایک خطرناک تلبیس کا جائزہ و رد

” خوارج تو حضرت علی کے دور میں تھے ، ہم خوارج نہیں ہیں ”

(عصر حاضر کے خوارج کی ایک خطرناک تلبیس کا جائزہ و رد)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ إمام الأنبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین ومن تبعھم إلی یوم الدین امابعد!

خوارج کا یہ پرانا وطیرہ رہا ہے کہ وہ عوام میں، مسلمانوں میں اپنا گھناونا چہرہ چھپانے کی خاطر اپنے لئے طرح طرح کے خوشنما نام رکھتے ہیں ، اپنی مظلومیت کا پرچار کرتے ہیں اور نئی نئی خلاف قرآن و سنت دلیلیں گھڑ کر خود کو خوارج کی چھاپ سے بچانے اور خارجیت کی مہر مٹانے کے لئے سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ کبھی خود کو “مجاہدین اسلام “، کبھی “غربا”، کبھی “مظلومیت کی داستانیں” وغیرہ وغیرہ۔یہ لوگ خود کو جہاد و مجاہدین کے ساتھ ایساخلط ملط کرتے ہیں کہ عام مخلص مسلمان ان میں اور صحیح مجاہدین و جہاد میں تمیز کرنے ناکام ہو جاتا ہے اور اس عظیم فتنہ خوارج کا شکار ہو کر انجام بد سے دوچار ہوجاتا ہے۔

آج کے دور میں جب بھی کوئی اہل علم چاہے وہ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ ہوں ، البانی رحمہ اللہ، الشیخ العثیمین رحمہ اللہ، الشیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ، الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ یا پھر عبد السلام بن محمد و الشیخ مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ اور دوسرے علماء، خوارج پر محکم رد و خبرار کرتا ہیں تو خارجی سوچ و فکر کے حاملیں نہایت ہی چلاکی اور ہوشیاری سے طرح طرح کہ شبہات و اشکالات گھڑنے میں مصروف ہو جاتے ہیں تاکہ وہ لوگوں میں اپنے کالے چہروں اور گندے دماغوں کے باوجود، صحیح طرح پہچانے نہ جا سکیں بلکہ انکی تصویر مبہم ہی رہے اور وہ دین اور دین داروں کو مسلسل آلائم و مصیتبوں سے دوچار کرتے رہیں۔

ان شبہات میں سے ایک شبہ جو عموما پیدا کیا جاتا ہے وہ یہ کہ

تلبیس خوارج:

خوارج تو وہ ہوتے ہیں جو صرف اسلامی خلیفہ یا اسلامی ریاست کہ جس نے اسلامی قوانین مکمل نافذ کیئے ہوں، انکے خلاف خروج کرتے ہیں، نہ ظالم و غیر اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے کرنے والے نام نہاد مسلم حکمران کے خلاف۔
آج کل کے حکمران نہ تو اسلامی خلیفہ ہے ، نہ اسلامی ریاست اور نہ ہی حکمران شریعت کو مکمل نافذ کرتے ہیں۔ لہذا ہم خوارج نہیں ، کیوں کہ خروج تو اسلامی خلیفہ کے خلاف ہوتا ہے اور کیوں کہ عصر حاضر میں اسلامی خلیفہ نہیں تو خوارج کیسے ہوں گے؟؟؟

تلبیس خوارج کی حقیقت:

ان ظالموں کی کم علمی و کج فہمی پر مبنی اعتراض کی تاریخ بھی انہیں کی طرح کافی پرانی ہے اور یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ مسلمانوں کو انکی خوشنما تلبیسات کا سامنا ہے۔ اس پہلے یہ سلسلہ دور صحابہ سے شروع ہوکر سلف صالحین کے دور سے ہوتا ہوا ہی ہم تک پہنچا ہے۔

مگر بحمد اللہ ہر دور میں اہل حق نے ان گمراہ لوگوں کی تلبیسات و شبہات کا بھر پور رد پیش کیا ہے۔

جو تلبیس اوپر مذکور ہے ،اس بارے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کلام انتہائی اہم ہے۔

آئیے ، اب ہم ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی زبانی خوارج کے اس شبہ اور تلبیس کی حقیقت جانتے ہیں

رد تلبیس خوارج از امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ

امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس . . . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم. 

[النبوات لابن تيمية، : 222]

’’وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے۔

امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: 

وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

[مجموع فتاوٰی لابن تيميه، 28/495،496]

اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔

وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

[مجموع فتاوٰی لابن تيميه، 28/476،477]

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔

یہ بات صحیح احادیث سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اسلامی خلافت وخلیفہ آپ صلی اللہ کے فرامین کے مطابق صرف تیس سال رہے گی اور رہی۔

جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے :

وعن حذیفۃ بن الیمان أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:

“تکون النبوۃ فیکم ماشاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون خلافۃ علی منھاج النبوۃ، فتکون ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون ملکا عاضا فیکون ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا اللہ إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون ملکا جبریا فتکون ما شاء اللہ أن تکون، ثم یرفعھا إذا شاء أن یرفعھا، ثم تکون خلافۃ علی منھاج” النبوۃ

[مسند أحمد ،علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔]

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کا ارشاد ہے:

نبوت تمہارے اندر باقی رہےگی جب تک اللہ اسے باقی رکھنا چاہےگا۔ پھر جب اللہ اسے اٹھانا چاہےگا تو اٹھا لےگا۔ پھر نبوت کے طرز پر خلافت قائم ہوگی تو اسے بھی جب تک اللہ باقی رکھنا چاہےگا یہ بھی باقی رہےگی۔ پھر وہ اسے بھی اٹھا لےگا جب اسے اٹھانا چاہےگا۔ پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی تو یہ بھی جب تک اللہ رکھنا چاہے رہےگی پھر اللہ اسے بھی اٹھا لےگا جب وہ اسے اٹھانا چاہےگا۔ پھر جبری بادشاہت ہوگی تو یہ بھی جب تک اللہ اسے رکھنا چاہےگا رہےگی۔ پھر جب اسے اٹھانا چاہےگا اٹھا لےگا۔ پھر نبوت کے طرز پر خلافت ہوگی۔”
(اس روایت کو علامہ عراقی اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:

خلافت تیس سال رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی ۔‘‘

[سلسلہ احادیث الصحیحہ للالبانی :۴۵۹،صحیح ابن حبان:۶۷۸۳]

جب ہم ان احادیث کا مطالعہ کریں تو یہ بات نکھر کے سامنے آجاتی ہے کہ اسلامی خلیفہ و خلافت کا دور تو کب کا ختم ہوچکا، اس بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت بھی اپنی بساط لپیٹتی نظر آرہی ہے اور عصر حاضر میں ہر جمہوری الیکشنز و انتخابات میں جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا مصداق نظام، یعنی جو جتنی رشوت و دھاندلی و دونمبری کا ماہر ہو یا پھر اقتدار پر قبضے کی قوت رکھنے والا ملٹری جرنیل ہو ، وہی حکمران بن جاتا ہے اور جبرا لوگوں پر مسلط ہو جاتا ہے چاہے وہ کوئی آمر ہو یا جمہوری صدر۔۔۔اور پھر یہ اقتدار بادشاہت کے انداز میں اس کے وارثوں میں ہی منتقل ہوتا جاتا ہے۔ اور عصر حاضر میں یہ کسی کی نظروں سے اوجھل نہیں۔۔تو یہ دور جبری بادشاہت کا دور ہے، ظلم و جور کا دور ہے کہ جس کہ بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت علی منہاج النبوی کی خوشگوار پیش گوئی کی ہے واللہ واعلم

اب اگر خوارج کی اس تلبیس پر غور کیا جائے کہ خروج تب ہوگا یا ہم خوارج تب ہوں گے جب ہم کسی اسلامی خلیفہ و حکمران کے خلاف خروج یا علم بغاوت و قتال بلند کریں گے ورنہ ہم خوارج نہیں، اور نہ ہی ہم خروج کر رہے ہیں۔

جب اس تلبیس پر دلیل و برھان کی تیز روشنی پڑتی ہے تو تلبیس کا یہ جال ،مکڑی کے اس خوشنما جال کی طرح چمکنا شروع ہوجاتا ہے جو کہ اندھیرے میں نظر نہیں آتا ہے اور شکار کو پھنساتا چلے جا رہا ہوتا ہے۔

اسلامی خلافت تو ابتدائی تیس سال کے بعد اختتام پزیر ہو گئی تھی۔

اس کے بعد تو ظلم و جور اور ایسی بادشاہت کا دور رہا کہ جن میں شاید سوائے چند خوش نصیبوں کہ کسی حکمران نے اسلامی قوانین کو مکمل نافذ کیا ہو، کیونکہ تابعین و تبع تابعین کا دور ہو، یا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا ، یا ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور یا پھر الشیخ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کا ، نہ تو اسلامی خلافت تھی اور نہ اسلامی حکمران اور نہ ہی اللہ کے دین کا نفاذ مگر پھر بھی ان تمام سلف و آئمہ کے دور کا مطالعہ کریں تو آپ کو انکے ادوار میں خوارج کی موجودگی بھی ملے گی اور یہی ہستیاں اپنے اپنے زمانے میں خوارج کے وجود و اثرات اور مذمت میں مصروف بھی نظر آئیں گی۔

جن میں احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دور میں خلق قرآن کے کفریہ عقیدے کے قائلین حکام ہوں یا پھر ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے دور میں یا خالد ابن الولید المدد کے نعرے لگانے والا سلطان یا پھر محمد بن عبدالوھاب کے دور میں خلافت عثمانیہ  میں سود کو جائز و حلال قرار دینے اور غیر اللہ کے فیصلوں پر عمل پیرا حکمران، خروج اور خوارج کا وجود تب بھی رہا اور ان آئمہ نے انکی مذمت بھی اور ان کا تعاقب بھی۔

اگر اصولی اور نظری بات کی جائے توخلافت عثمانیہ اور آج کی مسلمان حکومتوں میں کوئی بھی جوہری فرق نہیں ہے۔ خلافت عثمانیہ میں سوائے مجلہ أحکام عدلیہ کے، جو دیوانی قانون کے طور پر رائج تھا اور اس کی بھی پابندی عدالتوں کے لیے لازم نہ تھی، بقیہ تمام قوانین فرانسیسی، اطالوی اور برطانوی تھے۔ بلکہ سلطنت عثمانیہ کے اساسی قانون میں یہ بات بھی موجود تھی کہ سود شرعاً حرام ہے اور قانوناً جائز ہے۔علاوہ ازیں سلطنت کے قانون فوجداری میں یورپین قوانین کی تقلید میں حدود کو ساقط کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود اس وقت کے علماء میں سے جن محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ اور انکے شاگرد باکثرت موجود تھے، سمیت کسی مکتب فکر کے کسی بھی عالم دین کو بھی ہم نہیں دیکھتے کہ وہ خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں یا دوسرے الفاظ میں اس وقت کے خلفاء کی تکفیر کر رہے ہوں۔ ان کے خلاف خروج و بغاوت کے فتوے دے رہے ہوں۔

خوارج قیامت تک نکلتے رہیں گے:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّی عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَی عَشْرَةِ مَرَّاتٍ، کُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّی يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ

[أحمد بن حنبل، المسند، 2 : 198، رقم : 6871،8، حاکم، المستدرک، 4 : 533، رقم : 8497، ابن حماد، الفتن، 2 : 532،ابن راشد، الجامع، 11 : 377، آجري، الشريعة : 113، رقم : 260].

’’میری امت میں مشرق کی جانب سے کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا وہ (حکام کی جانب سے) ختم کر دیا جائے گا۔ ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جوں ہی نکلے گا (حکام) ان کا خاتمہ کر دیں گے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں ہی دس دفعہ سے بھی زیادہ بار دہرایا اور فرمایا:

” ان میں سے جو بھی شیطانی گروہ جب بھی نکلے گا اسے کاٹ دیا جائے گا یہاں تک کہ ان ہی کی باقی ماندہ نسل میں دجال نکلے گا۔‘‘

اس حدیث کے بعد اب خوارج کی اس تلبیس کی کیا حققیت باقی رہ جاتی ہے کہ خوارج یا خروج صرف وہ ہوتا ہے جو اسلامی خلیفہ و حکمران کے خلاف نکلے نہ کہ غاصب، ظالم و فاسق حکمران کے خلاف جس نے حدود اللہ نہ نافذ کر رکھی ہوں۔؟

کیونکہ نہ تو آج خلیفہ کا وجود ہے ،کیونکہ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تیس سال بعد ہی اختتام پذیر ہو گیا تھا، نہ اسلامی قوانین کا نفاذ ۔۔۔۔۔۔مگر صحیح حدیث کے مطابق خوارج دجال کی آمد تک نکلتے رہیں گے اور کٹتے رہیں گے۔

لہذا آج بھی خوارج کا وجود ایک حقیقت ہے جو حکم بغیر ما انزل اللہ اور ناجائز تکفیر مسلم اور مسلم ممالک میں تفجیرات سے اپنی موجودگی جتا رہا ہے اور امت مسلمہ کو دھیمک کی طرح چاٹ رہا ہے

ایک طرف تو ظالم حکمران اور دوسری طرف یہ جہنم کے کتےاور تیسری طرف کفار کی یلغاریں لاالہ الا اللہ۔

[ابن ماجہ:۱۷۳، وھو حدیث حسن]

أمت اس وقت ایک چوراہے پر کھڑی ہے وہ اپنے علماء، مفکرین اور فیصلہ سازوں کے تعاون کی محتاج ہے تاکہ وہ اس کے ماضی کی تصحیح ، حاضر کی اصلاح اور مستقبل کو روشن کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں ۔اس سخت مرحلے میں أمت اور اس کے عقائد سخت دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اگر تائید ربّانی اور قوّت دین نہ ہو تی تو یہ دباؤ شائداسے اسکی جڑوں سے ہی اکھاڑپھینکتا۔

لہذا کسی کو اس تلبیس یا شبے کا شکار نہیں ہونا چاہیئے کہ آج کل خارجی موجود نہیں ، اور خروج نہیں ، یہ تو شریعت کے نفاذ کے لئے جہاد ہو رہا۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ

دین محمدیہ میں شریعت و اسلام کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔
اس پر تاریخ گواہ ہے۔

ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ

“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”،

“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

وما علینا الا البلاغ المبین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 



پاکستانی طالبان امریکہ اسرائیل اور انڈیا کے ایجنٹ ہیں ۔ قاضی حسین احمدؒ سابقہ امیر جماعت اسلامی

qazi

پاکستانی طالبان امریکہ اسرائیل اور انڈیا کے ایجنٹ ہیں 

سابقہ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمدؒ

قاضی حسین احمدؒ  نے جیو ٹی وی پر سلیم صافی سے جہاد پر کے  موضوع پر ہونے والے ایک مباحثہ میں کہا تھا:

’یہ پاکستانی طالبان جو کر رہے ہیں کہ جی ایچ کیو پر حملہ مینا بازار پر حملہ اور خیبر بازار پر حملہ یہ جو بھی کر رہا جرم ہے فساد ہے اور یہ کسی طرح سے بھی جہاد نہیں ہے ۔

اور اس کی تمام دینی جماعتیں علماء اس کے پرزور مذمت کرتے ہیں اس طرح سے بازاروں میں بلاسٹ کرنا یہ کہاں کا جہاد ہے ہم کہتے ہیں کہ

یہ بھارت اسرائیل اور ان کے سرپرست امریکہ کے ایجنٹ کر رہے ہیں جو پاکستان میں حملے رہے ہیں ۔‘

پورا بیان سننے کیلئے اس لنک پر کلک کریں!




پشاور حملہ کرنے والے طالبان نہیں ظالمان، باغی اور فسادی ہیں . مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی حفظہ اللہ

رفیع عثمانی

پشاور حملہ کرنے والے طالبان نہیں ظالمان، باغی اور فسادی ہیں۔

 مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی حفظہ اللہ

کراچی……مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ پشاور میں اسکول پر دہشت گردی کرنے والے طالبان نہیں ظالمان اور دہشت گرد ہیں۔ دارالعلوم کراچی سے جاری ایک بیان میں مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی اور جامعہ دارالعلوم کراچی کے اساتذہ اور مفتیان ِکرام نے سانحہ پشاور پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کےشرمناک واقعے سے ہر انسان کا دل لرز اٹھا

بلکہ سچی بات یہ ہے کہ پوری قوم کے اوپر ایک بہت بڑا دھبّا لگ گیا۔ جن لوگوں نے یہ حرکت کی وہ درحقیقت طالبان نہیں ہیں، ظالمان ہیں، یہ دہشت گرد ہیں جو نہ جانے کس کے اشارے پر مسلمانوں کے خلاف تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا کہ کوئی قوم جس میں ذرا بھی انسانیت ہو وہ معصوم بچوں پر اپنی بہادری نہیں جتاتی ۔ اللہ تعالیٰ ان دہشت گردوں کا خاتمہ فرمائے ۔ یہ پوری قوم کے متحد ہونے کا وقت ہے، تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور تمام قومی ادارےاس بات پر متفق ہوجائیں کہ ملک سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جائے گا۔

http://beta.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=169017

پورا ویڈیو بیان سننے کیلئے یہاں کلک کریں




سانحہ پشاور پر مسلمانوں کو نصیحت ۔ امام مسجد نبوی الشیخ عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

پشاور حملہ

 سانحہ پشاور پر مسلمانوں کو نصیحت

امام مسجد نبوی الشیخ عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ

حمد و صلاۃ کے بعد:

تقوی الہی اختیار کرو اور اسی کی اطاعت کرو، ہمیشہ گناہوں و معصیت سے بچ کر رہو،کیونکہ اللہ تعالی کی پکڑ بہت سخت ہے۔

اللہ کے بندو!

لوگوں پر اللہ کی طرف سے حجت قائم ہو چکی ہے، کہ خود اللہ تعالی نے صلح کروانے والوں پر احسان کرتے ہوئے دنیا و آخرت میں ملنے والا ثواب بیان فرما دیا ، اور فسادیوں کو سزا دینے کیلئے دنیاوی رسوائی، اور آخرت میں انکے منتظر عذاب کے بارے میں بتلا دیا۔

جس طرح اللہ تعالی اصلاح اور مصالحت کو پسند فرما کر دنیا و آخرت میں ناقابل بیان حد تک اجر و ثواب سے نوازے گا، اسی طرح اللہ تعالی فساداور فسادیوں کو بھی ناپسند فرماتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ}

زمین میں فساد مت تلاش کرو، بیشک اللہ تعالی فسادیوں کو پسند نہیں فرماتا۔ [القصص : 77]

اسی طرح فرمایا:

{ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ}

اور زمین پر اصلاح کے بعد فساد مت پھیلاؤ، اگر تم مؤمن ہو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ [الأعراف : 85]

اسی طرح فرمایا:

{ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ}

اور اللہ تعالی فساد کو ناپسند کرتا ہے۔ [البقرة : 205]

ایک جگہ فرمایا:

{ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ}

فسادیوں کے راستے پر مت چلو۔[الأعراف : 142]

انسانی جانوں کے قتل کے بعد کونسا فساد شرک کے بعد سنگین ہوسکتا ہے؟!! اللہ تعالی نے معصوم جانوں کا قتل حرام قرار دیا ہے، پاکستان کے شہر پشاور میں رونما ہونے والے سانحہ میں بہت سے معصوم بچوں سمیت 120 جانوں کا قتل ایک ایسا سنگین جرم ہے جو سنگلاخ پہاڑ بھی نہیں کر سکتے، یہ قتل عام مجرم قاتلوں کے ہاتھوں ہوا، یہی فسادی لوگ ہیں، یہی دہشتگرد اور رسوا ہونے والے لوگ ہیں، یہ شریر انسانیت کے بھی دشمن ہیں۔

بہت سے لوگ عام معاشروں میں عموما ، اور مسلم معاشروں میں خصوصا اس قسم کے دہشت گردی ، اور المناک جرائم سے متاثر ہیں ، یہ سانحہ المناک سانحہ ہے، یہ دہشت گردی اور مجرمانہ فعل ہے، اس سانحے میں بہت سے سنگین گناہوں کا ارتکاب کیا گیا ، اس ملک کے تمام ذمہ داران ، علمائے کرام، اور عوام الناس اس سنگین جرم کی انتہائی پر زور مذمت ، کرتے ہیں، اور ساتھ میں اس قسم کے جرائم کو ختم کرنے کیلئے انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مطالبہ کرتے ہیں، تا کہ دوبارہ اس قسم کا اندوہناک سانحہ پیش نہ آئے، یہ کام تو ابلیس خود بھی نہیں کر سکا، اس لئے علمائے کرام پر ضروری ہے کہ درندگی پر مبنی ایسے اعمال سے لوگوں کو خبردار کریں، ایسے ہی کاموں سے اسلام کی روشن صورت کو بگاڑا گیا، اور اسلام سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اسلام رحمت، سلامتی، بھلائی، اور عدل و انصاف کا دین ہے، اسلامی نصوص بھی اسی بات کا پرچار کرتی ہیں، اور تاریخ بھی اسی بات کی گواہی دیتی ہے-

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

{مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا}

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے (تورات میں) لکھ دیا تھا کہ

”جس شخص نے کسی دوسرے شخص کو قتلِ قصاص کے بغیر ، یا زمین میں فساد بپا کرنے کی غرض سے قتل کیا تو اس نے گویا سب لوگوں کو ہی مار ڈالا اور جس نے کسی کو (قتل ناحق سے) بچا لیا تو وہ گویا سب لوگوں کی زندگی کا موجب ہوا”     [المائدة : 32]

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(جن کو اللہ تعالی نے نیکیوں کیلئے دروازہ ، اور برائی کیلئے روکنے کا سبب بنایا انکے کیلئے خوشخبری ہے، اور جن کو اللہ تعالی نے برائیوں کیلئے دروازہ ، اور نیکیوں کیلئے روکنے کا سبب بنایا انکے کیلئے ہلاکت ہے)

یہ حدیث صحیح ہے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

 اقتباس از: خطبة جمعة الحرم النبوي الشريف 27 صفر 1436هـ الشيخ علي الحذيفي​