25994727_866713536861793_364562664009123730_n

امریکہ،داعش کی نرسریوں کا مالی

25994727_866713536861793_364562664009123730_n

امریکہ،داعش کی نرسریوں کا مالی

“شام ، عراق ، افغانستان اور کشمیر ایک نظر” 

پچھلے کئی ماہ سے میں ایک افغان نیوز ایجنسی “خامہ پریس” کی نیوز دیکھ رہا ہوں جہاں ہر ایک دو دن بعد یہ خبر آتی ہے کہ امریکہ نے فلاں جگہ فضائی حملے میں اتنے داعشی مار دئیے، افغان فوج نے فلاں جگہ کاروائی میں اتنے داعشی ماردئیے یہاں تک کہ ایک دن خبر آئی کہ ایک کاروائی میں 50 داعشی مارے گئے۔

ان تمام نیوز کو مدنظر رکھتے ہوئے جب میں اندازہ لگاتا ہوں تو یہ تقریبا پندرہ یا سولہ سو(1500/1600) داعشی بنتے ہیں۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کیا واقعی امریکہ نے اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ داعشی ماردئے؟؟ یقین نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کوئی صداقت ہے اسکی وجہ یہ ہیکہ دو دن پہلے نیویارک ٹائم نیوز نے ایک خبر لگائی، وہ خبر یہ ہیکہ۔ ” مارچ 2017 میں امریکہ نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں داعش کے 700 جنگجوں موجود ہیں اور اب سال کے آخر میں انہوں نے یہ دعوٰی کیا کہ ہم نے 1600 جنگجوؤں کو ماردیا ہے۔

اس خبر اور امریکہ کے متضاد دعوؤں کو دیکھ کرثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں نہ ہی داعش کے خلاف کوئی کاروائی کی ہے اور نہ ہی کسی ایک داعشی کو مارا ہے۔ بلکہ وہ ان کو وہاں مضبوط کررہا ہے اور ان کو اسلحہ دے رہا ہے۔ اور افغان اور انڈین خفیہ ایجنسیز کے ذریعے ان کو ٹریننگ دلوارا رہا ہے۔

اور جہاں وہ ان کو افغانستان میں افغان طالبان کے خلاف استعمال کررہا ہے وہاں دوسری طرف وہ ان کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے متعدد بار ٹی وی پر بیٹھ کر یہ انکشاف کیا کہ امریکہ نہ صرف داعش کو افغانستان میں مضبوط کررہا ہے بلکہ ان کو اسلحہ بھی فراہم کررہا ہے اور انکی مالی مدد بھی کررہا ہے۔

اسی طرح روس متعدد بار یہ کہہ چکا ہے کہ امریکہ شام میں داعش کے جنگجوؤں ٹریننگ اور اسلحہ و مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو شامی افواج کے چنگل سے بھی چھڑاچکا ہے جسکا انکشاف کچھ عرصہ قبل شامی حکام کی جانب سے بھی کیا گیا۔ اسی طرح نامعلوم ہیلی کاپٹرز کا داعش کے جنگجوؤں کو مختلف جگہوں پر اتارنے کے ساتھ ساتھ ان کو نامعلوم ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اسلحہ ملنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ افغانستان میں ایسا کون ہے جو نامعلوم ہیلی کاپٹرز کے ذریعے داعش کی مدد کررہا ہے تو جواب صاف ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ کے علاوہ ایسا کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔ ان تمام باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اور یہ تمام باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے۔ مگر ہمارے کچھ جوشیلے اور دین سے محبت کرنے والے نوجوان دین کے نام پر امریکہ کے لئے استعمال ہورہے ہیں اور ان کو اس بات کا نہ اندازہ تک نہیں ہے۔ ان للہ و انا الیہ راجعون

لہذا ہمیں خود بھی ان باتوں کو سمجھ کر لوگوں کو داعش کی حقیقت کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ داعش کو استعمال کرکے امریکہ نے بڑی حد تک عراق و شام میں کامیابی حاصل کی اور اب وہ یہ کھیل افغانستان میں کھیل رہا ہے جہاں وہ داعش کو نہ صرف افغان طالبان کے خلاف استعمال کررہا ہے بلکہ ان کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرکے اور ان کو ٹریننگ دے نہ صرف پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ اور وہاں بھی ان کو اپنے مقاصد میں کامیابی مل رہی ہے۔ اور یہ سب دیکھ کر اب انڈیا یہی کھیل داعش اور القاعدہ کی صورت میں کشمیر میں کھیلنا چاہتی ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر پلیٹ فارم پر اس کے خلاف کام کریں لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کریں اور کفار کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین




داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت (جدید ایڈیشن)۔

داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت

(جدید ایڈیشن)

ایک تحقیقی جائزہ 

مصنف : مناظر اسلام فضیلۃ الشیخ محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ 

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

ٹوٹل صفحات :176 

سائز : 4 ایم بی

ڈاؤنلوڈ لنک :https://archive.org/details/Daesh_aor_shariat_aek_jaeza_201706

خارجی تنظیم داعش نے اپنی خود ساختہ جھوٹی خلافت کے نام پر امت مسلمہ کا بے دریغ خون بہایا، اسلام کے نام پر ایسے ایسے قبیح اور شنیع جرائم کا ارتکاب کیا کہ جس کا کسی بھی صورت میں دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

اس کتاب میں مناظر اسلام محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں داعش کے تمام جرائم کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی جائزہ اور ان کے غلط استدلال کا رد پیش کر کے ان خوارج کے قبیح چہرے کو خوب واضح کیا ہے ۔

78b33a42-a4bd-488a-aa34-359eeb6310eb

مکتبہ رد فتن 




تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش (جدید ایڈیشن)۔

تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش

(جدید ایڈیشن)

داعش کے گمراہ کن نظریات کا تعاقب

مصنف : فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفطہ اللہ تعالی

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

ٹوٹل صفحات : 128

ڈاؤنلوڈ لنک : https://archive.org/details/Talbisat_Daesh 

سائز : 3 ایم بی

داعش امت مسلمہ کے لئے ایک خطرناک فتنہ بن کر ابھرنے والی ، خوارج کے افکار کو پروان چڑھانے والی تنظیم جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف قسم کے اشکالات اور شبہات پھیلا کر مسلمانوں کو دھکا دے رہی ہے ۔

اس کتاب میں فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ نے اس خارجی تنظیم کے مسلمانوں میں پھیلائے گئے اشکالات و شبہات کا تعاقب کرتے ہوئے قرآن و سنت کے روشنی میں مدلل اور تحقیقی جواب پیش کیا ہے ۔ 

866fac73-4980-4f4e-9ea4-9deb230552ea

مکتبۃ رد فتن 




تکفیر مسلم اور عقیدہ خوارج کا رد

تکفیر مسلم کے متعلق عقیدہ معتزلہ کا رد

تکفیر مسلم اور عقیدہ خوارج کا رد

تکفیر مسلم کے متعلق عقیدہ معتزلہ  کا رد

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد ! 

گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ معتزلہ ہے جو کہ خوارج کی طرح گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں اور انہیں ابدی جہنمی سمجھتے ہیں۔  ہم نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ان کے عقائد کا تذکرہ کیا تھا،اب ہم ان کے عقائد کا رد پیش کرتے ہیں۔توآئیے! گناہ گار مسلمانوں کو کافر قرار دینے کے بارےمیں  معتزلہ کے عقیدے کا قرآن و سنت کے کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں : 

کیا گناہ گار ہمیشہ جہنم میں رہیں گے؟

محدثین کرام رحمہم اللہ عنہم نے سنت نبویہ میں ثابت احادیث  کو بنیاد بناتے ہوئےمعتزلہ کی گمراہیوں کا رد کیا ہے،جیسا کہ معتزلہ کے اس قول کا جواب کہ گناہگار ہمیشہ کیلئے جہنم میں رہیں گے۔

چنانچہ ابو سعید  خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدْ اسْوَدُّوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوْ الْحَيَاةِ شَكَّ مَالِكٌ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً

[صحيح البخاري، مع فتح الباری 1/72]

جنتی جنت اور جہنمی جہنم میں داخل ہو جائیں گے،پھر اللہ تعالی فرمائیں گے: جن کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہواسے جہنم سے نکال دو ،چنانچہ انہیں نکالا جائے گاحالانکہ وہ جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے،پھر انہیں نہر حیا یا نہر حیات(راوی حدیث مالک کواس لفظ میں شک ہے) میں ڈالا جائے گا،تو وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ لپٹا ہوا زرد رنگ میں نکلتا ہے۔

اور جب حدود کا قائم کرنا گناہگاروں کیلئے کفارہ اورتوبہ کے قائم مقام  تسلیم کر لیا گیا تو جس پر حد قائم نہ کی گئی  ،اور نہ ہی اس نے توبہ کی، اس کے گناہ کی بخشش اللہ کے ارادہ و مشیت کے تحت ہو گی، یعنی جیسا اللہ چاہے گا ویسے اس کے ساتھ سلوک کرے گا۔اوریہی چیز آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو سمجھائی چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:

تَعَالَوْا بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ وَإِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ

[صحيح البخاري،مع فتح الباری 7/219]

آؤ مجھ سے اس بات کاعہد کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤگے ، چوری نہ کروگے ، زنانہ کروگے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کروگے ، اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہ لگاؤ گے اور اچھی باتو ں میں میری نافرمانی نہ کروگے ، پس جو شخص اپنے اس عہد پر قائم رہے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس شخص نے اس میں کمی کی اور اللہ تعا لیٰ نے اسے چھپارہنے دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے ، چاہے تو اس پر سزا دے اور چاہے معاف کردے۔

 راوی حدیث حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے  ہم  نے نبیﷺسے ان امور پر بیعت کی ۔

غیر تائب گناہگار کے ہمیشہ  کیلئے  جہنم کا مستحق ہونے کے بارے میں معتزلہ اورقدریہ کے تشدد کے سبب  ان پر مشہور مثل”السید یعطی والعبد یمنع“ (یعنی آقا دے اور بندہ منع کردے) صادق آتی ہے۔اور اللہ کے لئے مثل اعلیٰ ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہ پر اصرار کرنے والے شخص کی (اگر اللہ چاہے تو) مغفرت کی صراحت فرمائی ہے،اور یہ(معتزلہ) اس صراحت کو ٹھکراتے ہیں اور(بزعم خویش) درستی اور درست ترین کے قاعدہ کی بنیاد پر مغفرت کا انکار کرتے ہیں جو فساد  و خراب ہونے کے زیادہ لائق و مستحق ہے۔

(موقف المعتزلہ من السنۃ النبویۃ و مواطن انحرافھم عنہا،ص148)

معتزلہ کے دو منزلوں والے قول کی تردید

رہا معتزلہ کے یہ قول کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب دو منزلوں کے درمیان ایک منزلہ میں ہو گا،تو اس کا رد کچھ یوں ہے۔

اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ

﴿البقرۃ: 178

اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔

چنانچہ اللہ نے قاتل کو مومنوں کے زمرہ خارج نہیں کیا بلکہ اسے مقتول کے ولی کا بھائی قرار دیا ،اور بلاشبہ اس سے مراد دینی اخوت ہے۔

اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے:

﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴿9﴾ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾

﴿الحجرات: 10﴾

اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم [سب] اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور عدل کرو بیشک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (9) [یاد رکھو] سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (10)

ان آیات سے معتزلہ کی تردید ہوتی ہے کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان گناہگاروں کو بھی مومن قرار دیا ہے۔

کتاب و سنت کے نصوص اوراجماع امت اس بات پر دلالت کرتے ہیں  کہ زنا کار، تہمت گر اور چور وغیرہ کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ ان پر حد قائم کی جائے گی،اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرتد نہیں ہیں۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص361)

اور خوارج کے مذہب کے مناقشہ میں کتاب و سنت کے قطعی دلائل گزر چکے ہیں کہ مسلمانوں میں سے  کبائر کے مرتکبین کو  ان کے گناہ کبیرہ(اگر وہ ان گناہوں کو  حلال نہ سمجھیں تو)اسلام سے خارج نہیں کرتے، لہذا اگر وہ مرنے سے پہلے توبہ کر لیں تو اللہ تعالی ان کی توبہ قبول فرمائے گا،اور اگر وہ بدستور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہوئے مر جائیں تو ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے،اگر وہ چاہے تو انہیں جنت میں داخل کر دے اور اگر چاہے تو انہیں عذاب دے پھر اپنی رحمت اور اپنے اطاعت شعار سفارشیوں کی سفارش سے انہیں جہنم سے نکال دے۔




photo_2017-09-21_21-26-18

عقیدہ خوارج کا رد گناہگار مسلمان "کافر" نہیں ہوتا

photo_2017-09-21_21-26-18

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عقیدہ خوارج  کا رد

گناہگار مسلمان  “کافر” نہیں ہوتا!

الحمد للہ والصلوٰۃ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

خوارج کی مختلف علامات میں ایک بڑی واضح اور ان کے تمام فرقوں میں پائی جانے والی علامت یہ ہے کہ یہ کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔  امام نسفی رحمہ اللہ نے درج ذیل آیت کریمہ کی روشنی میں  خوارج پر کئی ردود لکھے :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ 

(سورة النساء8)

“اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔” 

چنانچہ توبہ نصوحہ (خالص توبہ) کبیرہ گناہ ہی سے ہوتی ہے۔

اسی طرح احادیث رسول اللہ ﷑ سے بھی کئی دلیلیں اخذ کی ہیں ،آپ ﷑ کا ارشاد ہے:

 لاَ يَزْنِى الزَّانِى حِينَ يَزْنِى وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ

[صحيح مسلم ]

“زنا کار زناکاری کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شراب خور شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔” 

 اسکی تفسیر میں  امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“صحیح قول جو محققین نے کہا ہےاس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ  وہ جب گناہ کرتا ہے تو کامل مومن نہیں ہوتا،یہ ان الفاظ میں سے ہےجن کااطلاق کسی چیز کی نفی کیلئے ہوتا ہے اور اس سے اس کے کمال اور عمدگی کی نفی مراد ہوتی ہے،جیسے کہا جاتا ہے:نفع بخش علم کے علاوہ کوئی علم نہیں،اور اونٹ کے علاوہ کوئی مال نہیں اور زندگی درحقیقت آخرت کی زندگی ہے۔” 

(صحیح مسلم بشرح نووی 1/41)

خوارج کی غلطی یہ ہے کہ  وہ کبیرہ و صغیرہ گناہوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے:

﴿ إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا 

(سورة النساء31)

“اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔” 

لہذا خوارج امت کی تکفیر کیلئے خواہ کتنی بھی کوشش کریں کامیاب نہیں ہو سکتے،خواہ تمام گناہوں کو کبائر ہی کیوں نہ بنا دیں لیکن کسی عقلی و سمعی دلیل کی راہ نہیں پا سکتے۔ 

(الخوارج والاصول التاریخیہ لمسئلۃ تکفیر المسلم،ص31) 

کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کے درمیان فرق کرنا ضروری: 

کبائر: کبیرہ کی تعریف میں اختلاف ہے،سب سے عمدہ تعریف یہ ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہیں جن پر کوئی حد (متعین اسلامی سزا) مرتب ہوتی ہو یا اس پر لعنت یا غضب کی وعید سنائی  گئی ہو۔

صغائر: صغیرہ گناہ وہ ہیں جن پر دنیا میں نہ کوئی حد مرتب ہوتی ہو اور نہ آخرت میں کوئی وعید،اور وعید سے مراد جہنم یا لعنت یا غضب کی وعید ہو ۔

 (شرح عقیدہ طحاویہ ص418 )

خوارج اور انکے ہم مشرب لوگ  جو کبیرہ گناہوں کے مرتکبین سے ایمان سلب کرتے ہیں،ان کی تردید اللہ عزوجل کے درج ذیل فرمان سے ہوتی ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ 

(البقرۃ : 178)

” اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔” 

چنانچہ اللہ نے  قاتل کو مومنوں  کے زمرہ سے  خارج نہیں کیا بلکہ اسے قصاص کے ولی کا بھائی قرار دیا ہے،اور بلاشبہ اس سے مراد دینی اخوت ہے۔

﴿ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ

(الحجرات : 9)

“اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم [سب] اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔” 

نیز ارشاد ہے:  ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ

(الحجرات: 10)

[یاد رکھو] “سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو۔” 

 کتاب و سنت کے نصوص اور اجماع امت دلالت کناں ہیں کہ زنا کار،چور اور تہمت گر وغیرہ کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان پر حد قائم کی جائے گی ، اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرتد نہیں ہیں۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص361)

رہا خوارج اور ان کے ہم مشرب لوگوں کے اس عقیدہ کی تردید کہ اہل کبائر جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے ،تو امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اہل کبائر…اگر حالت توحید میں وفات پائیں اور اللہ کو پہنچانتے ہوئے اس سے ملاقات کریں اگرچہ توبہ نہ کئے ہوں،ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہ رہیں گے بلکہ اللہ کی حکمت و مشیت تلے ہوں گے،اگر وہ چاہے تو اپنے فضل سے انہیں بخش دے اور معاف فرما دے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاء

(النساء: 48)

یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے۔

اور اگر چاہے تو اپنے عدل و انصاف کی بنیاد پر انہیں عذاب جہنم میں مبتلا کرے اور پھر اپنی رحمت اور اپنے اطاعت گزار سفارشیوں کی سفارش سے انہیں اس سے نکال کر جنت مین داخل فرما دے۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص416)

جیسا کہ آپﷺ کا ارشاد ہے:

مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ

(صحيح البخاري1237)

میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔

اہل کبائر کیلئے نبیﷺ کی سفارش:

اس بارے میں احادیث متواتر ہیں،آپ ﷺ کا ارشاد ہے:

شفاعتي لأهلِ الكبائرِ من أمَّتي

(صحيح الترمذي:2436، صحيح أبي داود:4739،صحيح الجامع:3714، صحيح الترغيب:3649)

ترجمہ:میری امت میں جولوگ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے میری شفاعت ان کے لیے ہو گی۔

نبی کریم  ﷺ سے سفارش چار مرتبہ : 

پہلی مرتبہ: آپﷺ اپنے رب کی اجازت کے بعد جیسا کہ قرآن نے وضاحت کی ہے، اپنی سفارش سے ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گےجن کے دل میں جو کے برابر بھی ایمان ہو گا۔

آپﷺ کا ارشاد ہے: فأخرج منها من كان في قلبه مثقال ذرة أو خردلة من إيمان

(صحیح مسلم1/183)

….چنانچہ میں جہنم سے ان لوگوں کو نکلواؤں گاجن کے دل میں ایک گیہوں یا جو کے برابر ایمان ہو گا۔

دوسری مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا۔

تیسری مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جن کے دل میں رائی کے دانے کےمعمولی ترین حصہ کے  برابر ایمان ہو گا۔

چوتھی مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جنہوں نے صرف”لاالہ الا اللہ“  کہا،چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : وَعِزَّتِي وَجَلالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ”

(صحیح مسلم1/183)

میری عزت،جلال،کبریائی،اور عظمت کی قسم! میں ان لوگوں کو جہنم سے ضرور نکالوں گا جنھوں نے”لاالہ الا اللہ“     کہا۔

تو یہ بات ہمارے سامنے بالکل واضح ہو گئی کہ خوارج کے دلائل بالکل کھوکھلے اور لاعلمی کا انعکاس ہیں ۔۔۔۔ اللہ رب العزت امت مسلمہ کو بالخصوص غیور نوجوانوں کو ان خوارج کے فتنے سے محفوظ فرمائے آمین ۔ 




photo_2017-09-13_10-00-22

اوصاف خوارج : خود پسندی اور تکبر

 photo_2017-09-13_10-00-22

اوصاف خوارج خود پسندی اور تکبر

خود پسندی اور اپنے عمل کےتئیں خود فریبی

الحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد !

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےخوارج کی کئی ایک نشانیاں بیان کر کے اس فتنے سے امت کو ڈرایا ہے، کیونکہ وہ دکھنے میں معمولی  اور ان کا گناہ اور انجام بڑا ہی بھیانک ہوتاہے،ان میں سے ایک نشانی اور وصف خود پسندی ہے ،اپنے کام بات کو سب سے اعلی و بہترین سمجھنا اور لوگوں کو حقیر جاننا، یہ کام خوارج میں عام پایا جاتا ہے،وہ بڑے بڑے علماء پر طنز کرتے ہیں ان کے فتاوی جات کا مذاق اڑاتے ہوئے رد کرتے ہیں،اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے،اور ہم ہی سب سے بڑھ کر حق پر ہیں،یہ کام اتنا سنگین ہے کہ اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انس رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  میں نے آپ ﷺ  سے خود یہ حدیث نہیں سنی مجھے بیان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ :

« إِنَّ فِيكُمْ قَوْمًا يَعْبُدُونَ وَيَدْأَبُونَ، حَتَّى يُعْجَبَ بِهِمُ النَّاسُ، وَتُعْجِبَهُمْ نُفُوسُهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ »

{مسند احمد : 12886}

تمہارے اندر ایک قوم ہو گی جو عبادت کرے گی،اور سخت جانفشانی اور محنت ومشقت کے ساتھ عبادت کرے گی،یہاں تک کہ لوگوں کو انکی کثرت عبادت پر تعجب ہو گا،اور وہ خود پسندی اور غرور میں مبتلا ہو گی،پھر یہ لوگ دین سے اس طرح  نکل جائیں گے،جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

اور ایک روایت میں ہے:

« سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ ، وَسَيَجِيءُ قَوْمٌ يُعْجِبُونَكُمْ ، وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ»

{مستدرک حاکم : 2/ 147 ، 2648}

عنقریب میری امت میں اختلاف اور فرقہ بندی ہو گی،اور ایک قوم ایسی آئے گی،جو{اپنی کثرت عبادت کی بنا پر}تم کو تعجب میں ڈال دے گی،اور انکا نفس انہیں غرور و تکبر میں  مبتلا کر دے گا۔

اور خود پسندی اور غرور و تکبر باعث ہلاکت ہے۔

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

« ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ شُحٌّ مُطَاعٌ وَهَوًى مُتَّبَعٌ  وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ »

{مسند بزار: 7291}

تین چیزیں ہلاک و برباد کر دینے والی ہیں،بخل و حرص،خواہشات نفس کی اتباع،اور اپنی رائے پر مغرور ہونا۔

اور مسند بزار کی ایک روایت میں الفاظ کچھ یوں ہیں:{ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ  }

[مسند بزار: 6491]

آدمی کی خود پسندی اور اس کا اپنے نفس پر مغرور ہونا۔

اس حدیث سے معلوم ہواکہ انسان جب صرف اپنی رائے پر اعتماد کرتا ہے تو اس کے اندر غرور و تکبر پیدا ہو جاتا ہے،اور وہ یہ گمان کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے، اس کے نتیجے میں وہ اپنی رائے پر نظر ثانی نہیں کرتاہے،اور علماء کی مجالس میں بیٹھنے کی زحمت نہیں کرتاہے تاکہ اس  کی اپنی غلطی اورعیب واضح ہو سکے،بلکہ وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا علامہ اور سب سے بڑا فقیہ سمجھنے لگتا ہے،یہیں سے انحراف شروع ہوتا ہے،اور شیطان خواہش نفس کے زریعہ اسے دھوکہ و فریب میں مبتلا کر دیتا ہے،اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کے دوست و احباب ہوتے ہیں،جو اپنی جہالت کی وجہ سےاس کی بے جا تعریف کرکے اس میں ہوا بھرتے ہیں،اور پھر اس کی ہلاکت کا وقت آجاتا ہے،اور وہ دین سے نکل جاتا ہےپھر بھی وہ سمجھتا ہے کہ وہ مجاہدین میں سے ہے۔

 رسول اللہ ﷺ نے انہی  کے متعلق فرمایا تھا:

{یظھرالاسلام حتی یختلف التجار فی البحر،وحتی تخوض الخیل فی سبیل اللہ،ثم یظھر قوم یقرءون القرآن،یقولون: من اقرا منا؟ من اعلم منا؟من افقہ منا؟ ثم قال لاصحابہ: ھل فی الئک من خیر؟ قالو:اللہ ورسولہ اعلم،قال[اولئک منکم من ھذہ الامۃ،واولئک ھم وقود النار}

{طبرانی الاوسط : 6242}

اسلام غالب ہو گایہاں تک کہ تجار بکثرت سمندری سفر کریں گے،اور گھوڑے اللہ کے راستے میں کود پڑیں گے،پھر ایسے لوگ ظاہر ہوں گے،جو قرآن پڑھیں گے تو کہیں گے کہ ہم سے  بڑا قاری کون ہے؟ہم سے بڑا عالم کون ہے؟ہم سے بڑا فقیہ کون ہے؟ پھر نبی ﷺ نے اپنےصحابہ کرام سے پوچھا کہ کیا ان لوگوں میں کوئی خیر ہے؟انہوں نے فرمایا،اللہ اور اس کے رسول کو بہتر علم ہے،تو آپ نے فرمایا:وہ تم میں سے،اور اسی امت میں سے ہوں گے،اور وہ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

ان ما اتخوف علیکم رجل قرآ القرآن، حتی اذا رئیت بھجتہ علیہ، وکان رداء للاسلام، غیرہ الی ما شاء اللہ، فانسلخ منہ، ونبذہ وراء ظھرہ، وسعی علی جارہ بالسیف، ورماہ بالشرک قال :قلت: یا نبی اللہ، آیھما اولی بالشرک، المرمی ام الرامی؟ قال: بل الرامی  

[صحیح ابن حبان:81 ، مسند بزار7293]

مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس آدمی کے متعلق ہے،جو قرآن پڑھے گا،یہاں تک کہ  جب اس کی رونق و خوبصورتی کے آثار اس پر نظر آئیں گے اور وہ اسلام کا معاون و مدد گار بھی ہو گا،تو وہ اس کو بدل ڈالے گا جس طرح اللہ چاہے گا،پھر وہ قرآن سے نکل جائے گا اور اسے پس پشت ڈال دے گا،اپنے پڑوسی کو تلوار سے مارنے کی کوشش کرے گا،اور اس پر شرک کی تہمت لگائے گا۔حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے نبی[ﷺ]دونوں میں سے شرک کا زیادہ مستحق کون ہوگا؟ جس پر شرک کی تہمت لگائی گئی وہ؟ یا جس نے تہمت لگائی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا شرک کی تہمت لگانے والا۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

{حتی اذا رئی علیہ بھجتہ، وکان رداء اللاسلام، اعتزل الی ما شاء اللہ}  

[مسند بزار: 2793]

یہاں تک کہ  جب  اس کے اوپر قرآن کی رونق و تروتازگی ظاہر ہو گی اور وہ اسلام کا مدد گار بھی ہو گا تو وہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے گا۔

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

{حتی اذا رئیت بھجتہ، وکان رداءالاسلام، اغترہ الشیطان الی ما شاء اللہ}

[ ذم الکلام للھروی : 89]

یہاں تک کہ  جب  اس کے اوپر قرآن کی رونق و تروتازگی ظاہر ہو گی اور وہ اسلام کا مدد گار بھی ہو گاکہ شیطان اس کو دھوکہ و فریب میں مبتلا کر دے گا ۔

قابل غور ہے کہ اس شخص نے بھی بقیہ خوارج کے مثل  اس طرح قرآن پڑھا کہ  وہ حلق سے نیچے نہیں جاتا ہے،اس نے قرآن تو پڑھا ، لیکن بغیر سمجھے،اور اسی وجہ سے اس کو دھوکہ وفریب ہوا،پھروہ لوگوں سےبدظنی اور دین کو غلط سمجھنے کی بنا پر جماعت سے الگ ہو گیا،اور مسلمانوں کی تکفیر شروع کردی،پھر اس کے بعد ان کے خلاف تلوار اٹھائی اور اس کا استعمال پڑوسی سے شروع کیا،حالانکہ پڑوسی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ اس کے ساتھ بھلائی کی جائے،اور اس کو شر سے مامون و محفوظ رکھا جائے،لیکن خوارج کا معاملہ فطرت کے خلاف ہی چلتا ہے،احسان کرنے والوں کے ساتھ دھوکہ دہی،خیانت  اور احسان فراموشی اور ادائیگی حقوق  میں کوتاہی کرنا ہے۔

اسی طرح علامہ ابن کثیر  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قال أبو أيوب: وطعنت رجلا من الخوارج بالرمح فانفذته من ظهره وقلت له: أبشر يا عدو الله بالنار، فقال: ستعلم أينا أولى بها صليا.

قالوا: وجعل علي يمشي بين القتلى منهم ويقول: بؤسا لكم ! لقد ضركم من غركم، فقالوا: يا أمير المؤمنين ومن غرهم ؟ قال: الشيطان وانفس بالسوء أمارة، غرتهم بالاماني وزينت لهم المعاصي، ونبأتهم أنهم ظاهرون

(البدایۃ والنھایۃ : 10/ 588 ) 

ابو ایوب نے بیان کیا کہ میں نے خوارج میں سے ایک شخص کونیزہ مار کر اس کی پیٹھ سے پار کر دیا،اور اس سے کہا کہ اے اللہ کے دشمن!تمہیں جہنم کی آگ کی خوشخبری ہو،تو اس نے کہا،تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون جہنم میں داخلےکا زیادہ مستحق اور سزا وار ہے۔

علی رضی اللہ عنہ  ان کے مقتولین کے درمیان چلتے ہوئے کہنے لگے، تمہاراستیا ناس ہو ،بے شک تمہیں اسی نے نقصان پہنچایا جس نے تمہیں دھوکہ میں  ڈال دیا،لوگوں نے پوچھا کہ اے امیر المؤمنین! کس نے ان کو دھوکہ دیا؟ تو انہوں نے فرمایا:شیطان نے اور نفس نےجو برائی پر ابھارتا ہے،خواہشات کے ذریعے ان کودھوکہ دیا،اور معاصی اور گناہ کے کاموں کومزین و خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کیا،اور انہیں یہ بتایا کہ وہ غالب ہونے والے ہیں۔

خوارج کی خود فریبی کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اعمال کی تعریف کرتے ہیں،اور اس کے ذریعے سادہ لوح و نا تجربہ کار نوجوانوں کوشکوک و شبہات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  اللہ تعالی ہمیں ان جیسے تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے،اور منہج سلف کے مطابق دین اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے  آمین




Untitled-1

فاسق اور فاجر کسے کہا جاتا ہے ؟

photo_2017-09-13_10-00-24

 فاسق اورفاجرکسے کہا جاتا ہے ؟

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

فاسق و فاجر تقریباً ہم معنیٰ الفاظ ہیں، جوکہ عربی زبان سے اردو میں آئے ہیں اور بطور صفت استعمال ہوتے ہیں۔

فاسق :

لغت میں فاسق، نافرمان اور حسن و فلاح کے راستے سے منحرف ہونے والے شخص کو کہتے ہیں۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے:
فسق فلان عن الجماعة إذ خرج عنها

فلاں شخص جماعت کا نافرمان ہو گیا، جب وہ جماعت سے نکل گیا۔

اصطلاح میں فاسق اس شخص کو کہتے ہیں جو حرام کا مرتکب ہو یا واجب کو ترک کرے یا اطاعتِ الٰہی سے نکل جائے۔

غیر عادل شخص کو بھی فاسق کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور حدودِ شرعی کو توڑنے والا بھی فاسق کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی دو طرح کی ہے:

ایک کلی اور دوسری جزوی۔

کلی اور واضح نافرمانی کفر ہے جس میں کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کو درست جانتا ہے۔ 

جبکہ جزوی نافرمانی فسق ہے جس میں ایک شخص دین الٰہی اور شریعتِ محمدی کی تصدیق بھی کرتا ہے مگر خواہشات نفس میں پڑ کر شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی بھی کر دیتا ہے، مگر اس کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ حکم عدولی غلط اور ناجائز ہے۔ ایسا کرنے والے کو فاسق کہتے ہیں۔
الفسق: في اللغة عدم إطاعة أمر الله وفي الشرع ارتكاب المسلم كبيرة قصدا أو صغيرة مع الإصرار عليها بلا تأويل
فسق، لغت میں اللہ کے حکم کی عدم تعمیل کو کہتے ہیں اور شرع میں اس سے مراد کسی مسلم کا بغیر تاویل کے قصداً گناہِ کبیرہ کا ارتکاب یا گناہِ صغیرہ پر اصرار ہے۔

(قواعد الفقه: 1: 412)

قرآنِ مجید نے بسا اوقات کفر کو بھی فسق کہا اور کئی مقامات پر کفر کو فسق سے الگ نافرمانی کے معنیٰ میں بھی بیان فرمایا۔ جیسے سورہ حجرات میں ارشاد فرمایا:
وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ
لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا فرمائی اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ فرما دیا اور کفر اور نافرمانی اور گناہ سے تمہیں متنفر کر دیا۔

(الحجرات، 49: 8) 

کفر پر فسق کا اطلاق کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَأْوَاهُمُ النَّارُ كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ
اور جو لوگ نافرمان ہوئے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ جب بھی اس سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے تو اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اِس آتشِ دوزخ کا عذاب چکھتے رہو جِسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ 

(السجدة، 32 : 20) 

عربی زبان میں اس کی جمع فُسَّاقٌ اور فَوَاسِقُ، جبکہ مونث کے لیے فاسقہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، اور اردو زبان میں اس کی جمع فاسِقِین اور جمع غیرندائی فاسِقوں مستعمل ہے۔
فاجر: 

فاجر کے لغوی معنیٰ گنہگار اور حق سے منہ موڑنے والے کے ہیں۔ گناہوں میں لت پت شخص کو بھی فاجر کہتے ہیں۔ اس کی جمع فاجرون، فُجَّار اور مؤنث فاجرۃ ہے۔

اہم بات :

اس میں ایک بہت بڑا نکتہ اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام اور تبع تابعین کرام تمام اسلاف امت برے حکام کی مذمت تو کی ، ان کی برائی کی نکیر تو کی انہیں فاسق کی بجائے فاجر بھی کہا لیکن اس کے باجود تمام اجتماعی معاملات نماز، روزہ ، عیدین ، حج اور حتی کہ جہاد بھی اسی حاکم کے ساتھ اور اس کی اطاعت میں رہ کر بجا لاتے تھے ، کیونکہ امت کی اجتماعیت اور امن و امان کی اہمیت سب سے بالا ہے خون خراب اور فساد مچانا دین کے نام پر بھی جائز نہیں اور ایسے طریقوں کی شریعت نے خود مذمت کی ہے ۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔




photo_2017-08-25_20-55-16

قعدیہ بدترین فرقہ خوارج

  قعدیہ بدترین فتنہ خوارج  

“قعدیہ” بد ترین فرقہ خوارج 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد ! 

خوارج کے نت نئے طریقوں اور منصوبوں کی بناء پر ان کے نئے نئے نام اور القاب  بھی سامنے آتے رہتے ہیں،یا تو عوام الناس ان کویہ نئے نام و القاب دیتے ہیں،یا وہ خود اپنے اوپر ان کا اطلاق کرتے ہیں، اس سے ان کا مقصدلوگوں سے اپنی حقیقت چھپانا،ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا،اور اپنے گھناؤنے افعال کو خوبصورت بنا کے پیش کرنا ہوتا ہے،جیسے ہمارے موجودہ زمانے میں ان خوارج کو القاعدہ ، الدولۃ الإسلامیہ فی العراق والشام ، داعش ، بوکو حرام ، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار وغیرہ جیسے نام سے جانا جاتا ہے۔

خوارج کے فرقوں میں سب سے زیادہ خبیث فرقہ (القعدیہ) ہے، یہ لوگ زبان کے ذریعہ حاکم کے خلاف خروج وبغاوت کرتے ہیں، اور تلوار کے زریعے بغاوت کو پوشیدہ رکھتے ہیں، علانیہ اس اظہار نہیں کرتے ہیں، بلکہ حاکم کےعیوب ونقائص ذکر کر کے اور انکی اچھی سیرت و کردار کی غلط تصویر کشی کرکے عوام کو ان کے خلاف ورغلاتے ہیں، اور حکومت و ریاست میں ان سے مزاحمت کرتے ہیں۔

حافظ ابنِ حجر﷫ فرماتے ہیں:خوارج کے القعدیہ فرقے کے لوگ(حکام کے خلاف) جنگ کرنے کے قائل نہیں،بلکہ وہ لوگ ظالم حکمرانوں کے ظلم وستم پر حسبِ استطاعت انکی تکفیر کرتے ہیں،اور لوگوں کو اپنے اس قول اور رائے کو اختیار کرنے کی دعوت دیتے ہیں،اس کے باوجود یہ لوگ خروج وبغاوت کو مزین کرکےاور خوشنما بنا کر پیش کرتے ہیں۔

(تھذیب التھذیب: 8/129)

آپ ﷫ مزید فرماتے ہیں:القعدیہ وہ لوگ ہیں،جو حکام کے خلاف بغاوت کو خوشنما بناکرلوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں،وہ خوداس کام کو براہ راست ہیں کرتے ہیں (گویا پردے کے پیچھے سے بغاوت کرتے ہیں)۔

(فتح الباری1/459)

یعنی القعدیہ اپنے ولاۃ وحکام کےعیوب ونقائص ذکر کرکے ان کے خلاف عام لوگوں کے دلوں میں کینہ وعداوت کا بیج بوتے ہیں،حکام پر طعن وتشنیع کیلئے عوام کوابھارتے ہیں ،اور ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے ہیں، اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ ہم یہ سب دین کیلئے غیرت کی بناء پراور حق قائم کرنےاور برائی کا انکار کرنے کی خاطر کرتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ فتنہ وفساد بھڑکانےاور تلوار کےذریعہ خروج وبغاوت پھیلانے کی اصل بنیاد  ہیں،اور اس کیلئے راہ ہموار کرتے ہیں،

اسی بناء پر عبداللہ بن محمد الضعیف﷫ نے فرمایا:القعدیہ خارجی فرقوں میں سب سے خبیث فرقہ ہے۔

(مسائل الإمام أحمد لإبی داؤد ص271)

یہی کام عبداللہ بن سبا نےاس وقت کیا جب اس نے عثمان﷜ کےخلاف لوگوں کو ورغلایا۔

حافظ ابنِ عساکر﷫  فرماتے ہیں:وہ(عبداللہ بن سبا)یہودی تھا،لیکن اس نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکےمسلم ملکوں کا دوراہ کیا ، تاکہ وہاں کے مسلمانوں کو ان کے حکام کی اطاعت سے برگشتہ کردے،اور ان کے درمیان شروفساد ڈال دے….پھراس کے بعد(عبداللہ بن سبا نے)ان سے کہا کہ عثمان﷜ نے بہت سامال جمع کرلیا ہے،جسے انہوں نے ناحق حاصل کیاہے،اور وہ کہا کرتا تھا کہ پہلے تم اپنے امراء وحکام پر طعن وتشنیع شروع کرو،اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر(اچھی بات کا حکم دینے اور برائی سے روکنے)کا اظہار کرو،اس طرح تم لوگوں کو اپنی طرف مائل کر لو گے  ۔

(تاریخ دمشق 29/3-4)

نیزوں اورتلوارں سے خروج و بغاوت اسی وقت ہوتی ہےجب اس سے پہلےزبان کے زریعہ بغاوت ہو چکی ہو۔

اس کے دلائل میں سے ایک دلیل وہ حدیث ہے، جس میں ہے کہ علی ﷜ نے یمن سے رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ سونا بھیجا،جسے نبی ﷺ نے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا،تو ایک شخص(ذوالخویصرہ التمیمی)نے اپنی زبان سے یہ کہتے ہوئے رسول اللہﷺ   کی تقسیم  پر اعتراض کیا:اے اللہ کے رسولﷺ اللہ سے ڈریں۔

آپﷺ نے فرمایا:

(ویلک أولست أحق اھل الأرض أن  یتقی اللہ)

تم پر افسوس، کیا میں اس روئے زمین پراللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟

راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ شخص چلا گیا،اس کے بعد نبیﷺ نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا،آپ ﷺنے فرمایا:

إنہ یخرج من ضئضئ ھذا قوم یتلون کتاب اللہ رطباً لا یجاوز حناجرھم،یمرقون من الدین کما یمرق السھم من الرمیۃ -وأظنہ قال- :لئن أدرکتھم لأقتلنھم قتل ثمود۔

(صحیح البخاری  4094)

اس کی نسل سے ایسے لوگ نکلیں گے،جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کریں گے،لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا،دین سے وہ لوگ اس طرح نکل جائیں گے،جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

راوی کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا، اگر میں ان کے دور میں ہوا اور وہ مجھے مل گئے تو میں ان خوارج کو قومِ ثمود کی طرح قتل کرڈالوں گا۔

یہاں ملاحظہ کریں:  اس شخص نے رسول اللہ ﷺ پر تلوار نہیں اٹھائی،بلکہ آپﷺ کے خلاف اپنی زبان استعمال کی،اور آپﷺ پر اعتراض کیا تھا،تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو خوارج کی اصل اور جڑ قرار دیا۔

اللہ ان شر پسند عناصر سے مسلمان معاشروں کو پاک فرمائے آمین ۔ 




photo_2017-08-23_17-49-31

خوارج کی قرآن سے جہالت پر چند مثالیں

photo_2017-08-23_17-49-31

خوارج کی قرآن سے جہالت پر   “چند مثالیں” 

فضیلۃ الشیخ مفتی ابو حنظلہ عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کے بارے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن کی بہت زیادہ تلاوت کیا کریں گے لیکن یہ ان کی حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا یعنی یہ صرف ان کے مونہوں تک ہی رہےگا ، اور دل دماغ تک بالکل نہیں پہنچے گا۔ جو کچھ کریں گے وہ صرف اسی چیز کا غماز ہو گا کہ یہ قرآن سے جاہل ہیں ، اسی وجہ سے اندازے لگا رہے ہیں ۔ اپنے قارئین کے لئے ذیل میں بالکل ایسی ہی چند مثالیں جمع کی گئی ہیں جس سے بات مزید واضح ہو جائے گی؛ 

بکیر بن عبداللہ بن الأشج سے روایت ہے کہ انہوں نےنافع سے پوچھا “حرویہ فرقہ” کے بارے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی کیا رائے تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کو اللہ تعالیٰ کی بد ترین مخلوق سمجھتے تھے،انہوں نے کفار سے متعلق آیات کومومنوں پر منطبق کر دیا،اور کہا کہ یہ مومنوں کے بارے میں ہیں۔

(حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری(12/286)میں اسے امام طبری رحمہ اللہ  کی تہذیب الآثار کی طرف منسوب کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے،اور بخاری نے اس کو اپنی صحیح میں  ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے تعلیقاً، بصیغہ جزم روایت کیا ہے۔)

یہی وہ چیز ہے جو خوارج  کے انحراف کی اصل وجہ ثابت ہوئی ۔

شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ ان کی بدعت کی اصل کے بارے میں فرماتے ہیں:

ان کی بدعت کی اصل قرآن کے بارے میں ان کی سمجھ ہے،یعنی انہوں نے قرآن کو سمجھنے میں غلطی کی۔

(مجموع الفتاویٰ :17/447)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

خوارج لوگ قرآن مجید کے حقیقی معنیٰ ومرادکو چھوڑ کرقرآن کی من مانی تاویل کرتے ہیں،اور اپنی رائے پر اڑے رہتے ہیں اور اسی کو ترجیح دیتے تھے۔

(فتح الباری: 12/283)

ان کی زبردست جہالت  اور غلط فہمی کی ایک دلیل ان کی زبان درازی ہے،وہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں،اور ان کا خون  بہانے کو مباح اور جائز قرار دیتے ہیں۔

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب خوارج نے ان لوگوں پر کفر کا حکم لگایا جنہوں نے ان کی مخالفت کی تو ان کا خون بہانے کو مباح قرار دیا،اور اہل ذمہ (غیر مسلموں)کوچھوڑ دیا،اور کہا کہ ہم ان سے کئے ہوئے عہدو پیمان پورے کریں گے،اور مشرکین  کے ساتھ جنگ چھوڑ کرمسلمانوں سے جنگ میں مشغول ہوگئے۔یہ تمام چیزیں  ان جاہلوں  کی عبادت کے آثار میں سے ہیں،جن کے سینے نورِ علم کیلئے کشادہ نہیں ہوئے،اور انہوں نےعلم کی مضبوط رسی کو نہیں پکڑا، ان کی جہالت اور ضلالت وگمراہی کیلئے یہ کافی ہے کہ ان کے سردار اور سرغنہ نے رسول اللہ ﷺکے فیصلے اور حکم کو رد کردیا، اور اسے ظلم وجور پر محمول کیا۔والعیاذ باللہ 

(فتح الباری: 12/301)

یہ سب نقصانات علماء سے دور رہنے اور انکی مجالس اور انکے فہم سے رو گردانی اور اعراض کرنے کے آثار و نتائج میں سے ہیں،

اسی لیے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  خوارج کے پاس  ان سے مناظرہ کرنے کیلئے آئے تو فرمایا:

میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کے پاس سے آیا ہوں،جن میں انصار بھی ہیں،اور مہاجرین بھی،اور نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی اور آپ ﷺ کے داماد (علی رضی اللہ عنہ) کے پاس سے آیا ہوں، یہ وہ لوگ ہیں جن کے موجودگی میں  قرآن نازل ہوتا رہا ، یہ لوگ تم سے زیادہ اس کی تاویل وتفسیر جانتے ہیں،اور تم تمام لوگوں میں  ان (صحابہ کرام ) میں سے کوئی ایک بھی نہیں۔

( سنن نسائی الکبریٰ :8522)اور مستدرک حاکم : 2/495/2648 )

علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

خوارج کے اسلاف بدوی اور دیہاتی لوگ تھے،انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ (صحیح) سنتوں میں تفقہ حاصل کرنے سے پہلےقرآن پڑھا، ان کے اندر مشہور فقہاء میں سےکوئی نہ تھا، نہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ  حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ حضرت علی  رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے شاگردوں میں سے ، نہ  حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ حضرت معاذ بن جبل   رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ  حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، نہ   حضرت سلمان رضی اللہ عنہ  کے شاگردوں میں سے ، اورنہ   حضرت زیدبن ثابت،عبداللہ بن عباس،اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم  کے شاگردوں میں سے کوئی تھا۔ اسی لئے آپ ان کو دیکھیں گے کہ جب کبھی ان کو کوئی نیا مسئلہ پیش آتا اور اس میں معمولی فتویٰ  کی بھی ضرورت پڑتی، تو ان کے درمیان سخت اختلاف ہوجاتا اور اس بناء پر وہ ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگتے،  اس قوم کی کمزوری اور دور کی جہالت ظاہر کرنے کے لئے یہی کافی ہے۔

(الفصل فی الملل والاھواء والنحل: 4/121)

اور جس وقت علی رضی اللہ عنہ ان کو نصیحت کرتے کرتے مایوس ہو گئے، اور زمین میں ان کے فتنہ وفساد پھیلانے اور ناحق خون بہانے کے بعد ان سے جنگ کرنے کیلئے تیار ہوئے تو ان خوارج کی یہ صفات بیان کیں:

“ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ سے دشمنی رکھتے ہیں، اور اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، ان لوگوں سے قتال کرو جو خطاکار، گمراہ، ظالم اور مجرم ہیں، یہ نہ قرآن کے قراء ہیں، اور نہ دین کے فقہاء ہیں، نہ علم تفسیر وتاویل کے علماء ہیں، اور نہ اسلام میں اس سے پہلے ان کا کوئی وجود رہا ہے، اللہ کی قسم اگر یہ تمہارے حاکم بن گئے، تو وہ تمہارے اندر وہی کام کریں گے جو کسریٰ وہرقل (ایران و روم کے بادشاہوں) نے کئے۔ 

(تاریخ طبری : 5/78)

 اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو بالخصوص مسلم نوجوانوں کو فتنہ خوارج سے محفوظ فرمائے آمین ۔




photo_2017-08-17_21-25-12

لقد جئتکم بالذبح خوارج کے فتنہ انگیز نعرے کا شرعی جائزہ

photo_2017-08-17_21-06-59

لقد جئتکم بالذبح” خوارج کے فتنہ انگیز نعرے کا شرعی جائزہ 

داعش ہو یا القاعدہ ، تحریک طالبان پاکستان ہو یا جماعت الاحرار ، بوکو حرام ہو یا کوئی اور خارجی گروہ ہو ، سبھی خوارج آپ کو یہ نعرہ لگاتے ہوئے سنائی دیں گے ؛
جئناکم بالذبح
لقد جئتکم بالذبح
یعنی میں تمہیں ذبح کرنے آیا ہوں ۔

اور بس یہی نعرے لگاتے ہوئے اپنے ہر مخالف کو قتل کرنا اپنا اصل فریضہ سمجھتے ہیں ، چاہے وہ ان کی بیعت کا انکاری ہو ، ان کی خلافت کا انکاری ہو ، انہیں غلط فکر و منہج والے سمجھتا ہو ، یا وہ انہیں خوارج کی صف میں کھڑا کرتا ہو، غرضیکہ مرد و عورت ، بچے ، بوڑھے اور جوان میں سے جو بھی ان کی منشا و مرضی کے مخالف چلے گا ، یہ اس کو قتل اور ذبح کریں گے ۔

درحقیقت یہ خوارج کی مشہور صفت ہے کہ یہ نصوص شرعیہ کو اپنی ٹیڑھی سوچ میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ نہروان کے موقع پر خوارج کو فرمایا تھا؛
کلمۃ حق ارید بھا الباطل
بات تو حق ہے لیکن اس سے باطل مراد لیا جا رہا ہے ۔

یقینا رسول اللہ ﷺ نے یہ جملہ فرمایا تھا ؛  لقد جئتکم بالذبح  لیکن کب بولا گیا ؟، مخاطب کون لوگ تھے ؟ کیوں کہا گیا ؟ یہ وہ سب ہے جسے خوارج بالکل نظر انداز کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے ، امت کا خون بہانے کے لئے یہ جملہ اکثر اپنی زبانوں پر رکھتے ہیں ۔

اس مضمون میں ہم اسی بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کے ان الفاظ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے یا کوئی معاملہ کچھ الگ ہے ۔

یہ حدیث مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد، خلق افعال العباد للامام البخاری ، صحیح ابن حبان ، سنن بیھقی اور دلائل النبوۃ لابی نعیم میں صحیح سند سے مروی ہے ۔ مشہور محقق شیخ احمد شاکر نے مسند احمد کی تحقیق کرتے ہوئے حسن اور امام البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح سیرت النبوی میں صحیح درجے کی روایت قرار دیا ہے ۔

یہ بات کسی صورت بھی درست نہیں کہ حدیث کے عموم کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جائے کہ اسلام یا نبی مکرم ﷺ لوگوں کو ذبح کرنے کے لئے آئے تھے ۔ جیسا کہ یہ بیوقوف خوارج لوگوں کا گمان ہے ۔ بلکہ اس کی دوسری جگہوں پر وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ تو سرداران قریش اور ائمۃ الکفر ابو جہل ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط جیسے لوگوں کو خطاب تھا ۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ تو رحمۃ للعالمین بن کر آئے ، ارشاد ربانی ہے ؛  

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ  {الأنبياء:107}.

مسند احمد کی حدیث ملاحظہ کیجیے ؛
مسندِ أحمدَ مُسْنَدُ الْمُكْثِرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ باب (مُسْنَدُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا برقم 6739

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ لَهُ :مَا أَكْثَرَ مَا رَأَيْتَ قُرَيْشًا أَصَابَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فِيمَا كَانَتْ تُظْهِرُ مِنْ عَدَاوَتِهِ قَالَ: حَضَرْتُهُمْ وَقَدْ اجْتَمَعَ أَشْرَافُهُمْ يَوْمًا فِي الْحِجْرِ فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالُوا :مَا رَأَيْنَا مِثْلَ مَا صَبَرْنَا عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ قَطُّ سَفَّهَ أَحْلَامَنَا ، وَشَتَمَ آبَاءَنَا، وَعَابَ دِينَنَا ،وَفَرَّقَ جَمَاعَتَنَا، وَسَبَّ آلِهَتَنَا لَقَدْ صَبَرْنَا مِنْهُ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ أَوْ كَمَا قَالُوا .قَالَ: فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ فَأَقْبَلَ يَمْشِي حَتَّى اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ طَائِفًا بِالْبَيْتِ فَلَمَّا أَنْ مَرَّ بِهِمْ غَمَزُوهُ بِبَعْضِ مَا يَقُولُ قَالَ: فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى فَلَمَّا مَرَّ بِهِمْ الثَّانِيَةَ غَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ مَضَى ثُمَّ مَرَّ بِهِمْ الثَّالِثَةَ فَغَمَزُوهُ بِمِثْلِهَا فَقَالَ:

تَسْمَعُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبْحِ

فَأَخَذَتْ الْقَوْمَ كَلِمَتُهُ حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا كَأَنَّمَا عَلَى رَأْسِهِ طَائِرٌ وَاقِعٌ حَتَّى إِنَّ أَشَدَّهُمْ فِيهِ وَصَاةً قَبْلَ ذَلِكَ لَيَرْفَؤُهُ بِأَحْسَنِ مَا يَجِدُ مِنْ الْقَوْلِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ: انْصَرِفْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ انْصَرِفْ رَاشِدًا فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ جَهُولًا قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ وَأَنَا مَعَهُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: ذَكَرْتُمْ مَا بَلَغَ مِنْكُمْ وَمَا بَلَغَكُمْ عَنْهُ حَتَّى إِذَا بَادَأَكُمْ بِمَا تَكْرَهُونَ تَرَكْتُمُوهُ فَبَيْنَمَا هُمْ فِي ذَلِكَ إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ فَوَثَبُوا إِلَيْهِ وَثْبَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَأَحَاطُوا بِهِ يَقُولُونَ لَهُ: أَنْتَ الَّذِي تَقُولُ كَذَا وَكَذَا لِمَا كَانَ يَبْلُغُهُمْ عَنْهُ مِنْ عَيْبِ آلِهَتِهِمْ وَدِينِهِمْ قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ :نَعَمْ أَنَا الَّذِي أَقُولُ ذَلِكَ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ أَخَذَ بِمَجْمَعِ رِدَائِهِ قَالَ: وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ دُونَهُ يَقُولُ وَهُوَ يَبْكِي:{ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ } ثُمَّ انْصَرَفُوا عَنْهُ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ لَأَشَدُّ مَا رَأَيْتُ قُرَيْشًا بَلَغَتْ مِنْهُ قَطُّ .

عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے کہا کہ مجھے کسی ایسے سخت واقعے کے متعلق بتائیے جو مشرکین نے نبی ﷺ کے ساتھ روا رکھا ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن اشرافِ قریش حطیم میں جمع تھے ، میں بھی وہاں موجود تھا ، وہ لوگ نبی کریم ﷺ کا تذکرہ کر نے لگے اور کہنے لگے کہ ہم نے جیسا صبر اس آدمی پر کیا ہے کسی اور پر کبھی نہیں کیا ، اس نے ہمارے عقلمندوں کو بیوقوف کہا ، ہمارے آباؤ اجداد کو برا بھلا کہا ، ہمارے دین میں عیوب نکالے ، ہماری دعوت کو منتشر کیا ، اور ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ، ہم نے ان کے معاملے میں بہت صبر کر لیا ، اسی اثناء میں نبی ﷺ بھی تشریف لے آئے ، نبی ﷺ چلتے ہوئے آگے بڑھے اور حجر اسود کا استلام کیا ، اور بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ان کے پاس سے گزرے ، اس دوران وہ نبی کریم ﷺ کی بعض باتوں میں عیب نکالتے ہوئے ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگے ، مجھے نبی ﷺ کے چہرہ مبارک پر اس کے اثرات محسوس ہوئے ، تین چکروں میں اسی طرح ہوا ۔

بالآخر نبی ﷺ نے فرمایا: اے گروہ قریش ! تم مجھے سن رہے ہو ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے میں میں تمہیں ذبح کرنے آیا ہوں ۔ 

لوگوں کو نبی ﷺ کے اس جملے پر بڑی شرم آئی اور ان کی کیفیت ایسی تھی کہ جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں ، حتی کہ اس سے پہلے جو آدمی انتہائی سخت تھا ، وہ اب اچھی بات کہنے لگا کہ اے ابو القاسم ! (ﷺ) آپ خیرو عافیت کے ساتھ تشریف لے جائیے ، بخدا آپ ناواقف نہیں ہیں ، چنانچہ نبی ﷺ واپس چلے گئے ۔ اگلے دن وہ لوگ پھر حطیم میں جمع ہوئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ پہلے تو تم نے ان سے پہنچنے والی صبر آزما باتوں کا تذکرہ کیا اور جب وہ تمہارے سامنے ظاہر ہوئے جو تمہیں پسند نہ تھا تو تم نے انہیں چھوڑ دیا ، ابھی وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ نبی ﷺ تشریف لے آئے ، وہ سب اکٹھے نبی ﷺ پر کود پڑے اور آپ ﷺ کو گھیرے میں لے کر کہنے لگے کیا تم ہی اس اس طرح کہتے ہو؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں ! میں ہی اس طرح کہتا ہوں ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نبی ﷺ کی چادر کو گردن میں پکڑ لیا (اور گھوٹنا شروع کر دیا ) یہ دیکھ کر حضرت صدیق اکبر نبی ﷺ کو بچانے کے لئے کھڑے ہوئے ، وہ روتے ہوئے کہتے جا رہے تھے : “کیا تم ایک ایسے آدمی کو صرف اس وجہ سے قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ۔” اس پر وہ لوگ واپس چلے گئے ، یہ سب سے سخت دن تھا جس میں قریش کی طرف سے نبی ﷺ کی اتنی سخت اذیت پہنچی تھی ۔

بعض حضرات اس حدیث سے یہ بھی استدلال کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے ۔لیکن ان کی یہ بات کئی وجوہات کی بنا پر غلط ہے ۔

ذیل میں چند نکات ملاحظہ کیجیے:

معترضین نے اس واقعے کو صحیح طریقے سے سمجھا ہی نہیں کیونکہ اگر وہ اس واقعے کا مکمل سیاق وسباق دیکھیں تو یہ اعتراض پیدا ہی نہ ہوتا کیونکہ مکمل واقعہ اس اعتراض کی قلعی چٹھی کھول کر رکھ دیتا ہے ۔چنانچہ یہ بات نبیﷺ نے مشرکین قریش کو اس وقت کہی تھی کہ جب ان کے ظلم حد سے بڑھ گئے تھے اور انہوں نے حضرت یاسر اور حضرت سمیہ کو شہید کر دیا تھا،تب نبیﷺ نے یہ الفاظ ان کو کہے ۔

دوسری بات یہ کہ الفاظ معین لوگوں کو کہے گئے تھے ۔اور غزوات کے اندر وہ مارے بھی گئے تھے ۔چنانچہ یہ الفاظ صرف قریش کے ان لوگوں کو کہے گئے تھے کہ جو اہل اسلام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہے تھے ۔اور انہوں نے اہل اسلام کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا ۔اور نبیﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

تیسری بات یہ ہے کہ کیا ظالم کو قتل کرنے کی دھمکی دینا غلط ہے؟ اگر صحیح ہے تو پھر اس پر اعتراض کیوں؟

چوتھی بات یہ ہے کہ دعوت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ انذار (ڈرانا) اور وعید (عذاب کی خبر) سنانے والا ہوتا ہے۔ سو آپﷺ یہاں اسی طریقے کو زیر عمل لائے اور اس کے ذریعے ان کو اس ظلم وستم سے روکنے کی کوشش کی ۔

دراصل اسلام کے دشمن صرف ایک لفظ کو لے کر مسلمانوں کو اسلام سے متنفر کرنا چاہتے ہیں ۔حالانکہ فیصلہ تب تک نہیں دیا جانا چاہیے جب تک آپ اس معاملہ سے مکمل آگاہی حاصل نہ کر لیں اور حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اس واقعے سے بزور تلوار اسلام کا پھیلنا ثابت کرتا ہے وہ واضح اور کھلی گمراہی میں ہے ۔

اور اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ نبیﷺ نے تو ان کے ظلم وستم کی وجہ سے ان پر اللہ کی طرف سے عذاب کی وعید سنانے کے باوجود ان کے لئے رحمت کی دعا کی تھی ۔اور فتح مکہ کے موقع پر،جب آپ لاشوں کے پشتے لگا سکتے تھے اور کشت وخون کا بازار گرم کر سکتے تھے ۔لیکن آسمان دنیا نے یہ نایاب ترین واقعہ دیکھا کہ ان کے ظلم وستم کے باوجود آپ ﷺکی زبان مبارک سے“لا تثریب علیکم الیوم “کے تاریخ ساز الفاظ نکلے تھے۔

مزید یہ اعلان بھی کیا تھا کہ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے تو اس کی جان محفوظ ہے۔ اور یہی نبیﷺ تھے کہ مدینہ میں رہائش پذیر ہوتے وقت یہود ونصاری ٰ سے معاہدہ کر لیا۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو صحابہ کرام ان کے حکم سے مشرکین مکہ کے گھروں کو اجاڑ دیتے ۔

اسی پر بس نہیں بلکہ اس منزل قرآن نبیﷺ نے تو اپنے متبع لوگوں کی بھی یہی تربیت کی تھی کہ جہاں امن ورحمت سے معاملہ حل ہو سکتا ہو ،وہاں لڑائی جھگڑے سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔کہ جس کی مثال اسلامی تاریخ کے سنہری اوراق پر لکھی جانی والی صلح حدیبیہ ہے۔اور اسی نبیﷺ نے مشرکین پر بد دعا کرنے سے انکار کر دیا تھا ،کیونکہ ان کی “رحمۃاللعالمین” طبیعت نے اس چیز کو گوارا نہیں کیا ،چنانچہ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں:

” قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ! قَالَ : إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً “ (مسلم : 2599)

نبیﷺ کو مشرکین پر بد دعا کرنے کا کہا گیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میں لعنت کرنے والا نہیں بلکہ “رحمۃ اللعالمین “کے لقب کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔

میں سوال کرتا ہوں کہ جس دین کا تابناک ماضی ایسی مثالوں سے بھرا ہو ،اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ تلوار کے زور پر پھیلا تھا ،تو یہ بات کم عقلی ،سوء فہمی اور نیت کی خرابی کو واضح کرتی ہے ۔کیونکہ اتنے واقعات کو جاننے کے بعد ایک عقل مند،ذکی اور حقیقت پسند شخص کبھی بھی اس بات کو اپنے زبان سے نکالنا پسند نہیں کرے گا ۔