وضعی قوانین

مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان کا نفاذ ، جید علماء امت کی نظر میں

وضعی قوانین

خالصتاً وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا ان  کا نفاذ،علماء امت کی نظر 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

اہل سنت کا موقف ہے یہ ہے کہ مجرد وضعی قانون کے مطابق فیصلہ یا اس کا نفاذ خارج عن الملة نہیں ہے الا یہ کہ اس کے ساتھ استحلال قلبی یا انکار بھی ہو۔جبکہ خوارج اس قانون سے بالکل بے بہرہ اور بے پرواہ نظر آتے ہیں ۔ آئے دور حاضر کے جید علماء کے دلائل سے بات کو سمجھتے ہیں ؛ 

◀️ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”وخلاصة الکلام : لا بد من معرفة أن الکفر کالفسق والظلم ینقسم الی قسمین : کفر وفسق وظلم یخرج من الملة وکل ذلک یعود الی الاستحلال القلبی وآخر لا یخرج من الملة یعود الی الاستحلال العملی.”

        ”ہماری اس طویل بحث کا خلاصہ کلام کچھ یوں ہے کہ یہ جان لینا چاہیے کہ کفر بھی ظلم اور فسق کی مانند دو طرح کا ہے۔ ایک کفر’ ظلم اور فسق و فجور تو وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے نکل جانے کا باعث بنتا ہے اور یہ وہ قسم ہے جس میں کوئی شخص اسے  دل سے حلال سمجھتے ہوئے اس کا ارتکاب کرے اور دوسرا کفر’ ظلم یا فسق وہ ہے جو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا اور یہ وہ قسم ہے جس کا مرتکب عملی طور پر اس کفر’ ظلم یا فسق والے عمل کو حلال سمجھ رہا ہو یعنیدلی طور پر وہ اسے حرام اور گناہ ہی سمجھ رہا ہوتا ہے۔ ”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ٩’ ١٠)

◀️ سعودی عرب کے سابقہ مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد اطلعت علی الجواب المفید الذی تفضل بہ صاحب الفضیلة الشیخ محمد ناصر الدین الألبانی وفقہ اللہ المنشور فی صحیفة المسلمون الذی أجاب بہ فضیلتہ من سألہ عن ” تکفیر من حکم بغیر ما أنزل اللہ من غیر تفصیل” …

وقد أوضح أن الکفر کفران : أکبر وأصغر کما أن الظلم ظلمان وھکذا الفسق فسقان : أکبر وأصغر.

فمن استحل الحکم بغیر ما أنزل اللہ أو الزنی أو الربا أو غیرھما من المحرمات المجمع علی تحریمھا فقد کفر کفرا أکبر وظلم ظلما أکبر وفسق فسقا أکبر : ومن فعلھا بدون استحلال کان کفرہ کفرا أصغر وظلمہ ظلما أصغر.”

”میں تکفیر کے مسئلے میں اس جواب سے مطلع ہوا جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے اور وہ ‘المسلمون’ نامی اخبار میں نشر ہوا ہے ۔ اپنے اس فتوی میں انہوں نے’ بغیر کسی تفصیل کے اس شخص کی تکفیر کہ جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کیا ہو’ کے بارے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے …

شیخ ألبانی نے یہ واضح کیا ہے کہ کفر دو قسم کا ہے : ایک کفر اکبر اور دوسرا کفر اصغر جیسا کہ ظلم اور فسق و فجور بھی دو قسم کا ہے۔ ایک ظلم اکبر اور دوسرا ظلم اصغر ‘ اسی طرح ایک فسق اکبر اوردوسرا فسق اصغر۔

جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے بغیر فیصلہ کرنے کو جائز اور حلال سمجھا یا زنا یا سود یاان کے علاوہ مجمع علیہ حرام شدہ امور میں سے کسی امر کو حلال سمجھا تو اس کا کفر تو کفر اکبر ہے یا اس کا ظلم تو ظلم اکبر اور اس کا فسق تو فسق اکبر ہے۔ اور جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کو حلال جانے بغیر اس کے خلاف فیصلہ دیا تو اس کا کفر تو کفر اصغر ہے اور اس کا ظلم بھی ظلم اصغر ہے۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٣ ‘ ١٤) 

بعض لوگوں کو شیخ بن باز رحمہ اللہ کے ایک فتوی سے یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ وہ وضعی قوانین کے مطابق فیصلوں کو مطلق طور پر کفر سمجھتے تھے حالانکہ شیخ کا یہ فتوی بھی ان کے مذکورہ بالا فتاوی ہی کا ایک بیان ہے۔

◀️ شیخ بن باز رحمہ اللہ نے ایک جگہ فرمایا ہے:

” وکل دولة لا تحکم بشرع اللہ ولا تنصاع لحکم اللہ ولا ترضاہ فھی دولة جاھلیة کافرة ظالمة فاسقة بنص ھذة الآیات المحکمات”

” ہر ریاست جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرتی ہو اور اللہ کے حکم پرراضی نہ ہو تو وہ مذکورہ بالا محکم آیات کی روشنی میں جاہل ‘ کافر ‘ ظالم اور فاسق ریاست ہے ۔”

(المفصل فی شرح آیت الولاء والبراء : ص ٢٨٨) 

اس فتوی میں ‘ترضاہ‘ کے الفاظ اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ شیخ بن باز رحمہ اللہ اس مسلمان ریاست کی تکفیر کرتے ہیں جو غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے کو جائز اور حلال سمجھتی ہو اور یہی بات جمہور سلفی علماء بھی کہتے ہیں۔

شیخ بن باز رحمہ اللہ کے جلیل القدر تلامذہ نے بھی ان کی طرف اسی موقف کی نسبت کی ہے جسے ہم ان کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں ۔

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”فقد ذھب بعض أھل العلم الی أن مجرد تحکیم قانون أو نظام عام مخالف لشرع اللہ تعالی کفر مخرج من الملة ولو لم یصحبہ اعتقاد أن ھذا القانون أفضل من شرع اللہ أو مثلہ أویجوز الحکم بہ …وقد رجح شیخای الشیخ عبد العزیز بن باز والشیخ ابن عثیمین رحمھما اللہ القول الأول؛

وھو أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ لا یکون کفرا مخرجا من الملة مطلقا حتی یصحبہ اعتقاد جواز الحکم بہ أو أنہ أفضل من حکم اللہ أو مثلہ أو أی مکفر آخر.”

” بعض اہل علم کا دوسراقول یہ ہے کہ مجرد کسی خلاف شرع وضعی قانون یا نظام عام سے فیصلہ کرنا ایسا کفر ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے اگرچہ اس شخص کا یہ اعتقاد نہ بھی ہو کہ وضعی قانون اللہ کی شریعت سے افضل یا اس کے برابر ہے یا اس سے فیصلہ کرنا جائز ہے … ہمارے دونوں مشائخ کرام ‘ شیخ بن باز اور شیخ بن عثیمین رحمہما اللہ نے اس مسئلے میں پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ 

اور وہ یہ ہے کہ ؛ مطلق طور پر اللہ کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنا ایسا کفر نہیں ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہو حتی  کہ وہ فیصلہ کرنے والا شخص غیر اللہ کی شریعت کے  مطابق فیصلہ کرنے  کو جائز سمجھتا ہو یا شریعت سے افضل یا اسے بہتر سمجھتا ہو یا اس قسم کا کوئی کفریہ سبب پایا جاتا ہو۔”

(تسھیل العقیدة السلامیة : ص ٢٤٢۔٢٤٣)

◀️ شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”والذی فھم من کلام الشیخین : أن الکفر لمن استحل ذلک وأما من حکم بہ علی أنہ معصیة مخالفة : فھذا لیس بکافر لأنہ لم یستحلہ لکن قد یکون خوفا أو عجزا أو ما أشبہ ذلک.”

”شیخین یعنی شیخ بن باز اور علامہ ألبانی کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے حاکم کا حقیقی کفر اس صورت میں واقع ہوگا جب وہ اپنے اس فعل کو بالکل جائز سمجھتا ہو جبکہ جو حاکم غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے اور اس کو معصیت یا دین کی مخالفت سمجھے تو وہ حقیقی کافر نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے اس فعل کو حلال نہیں سمجھا۔ بعض اوقات کوئی حاکم خوف یا عجز یا اس قسم کی وجوہات کی وجہ سے بھی شریعت کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے، (لہذا اس صورت میں بھی اس پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جائے گا)۔”

(التحذیر من فتنة التکفیر : ص ١٦)

◀️ اسی طرح ایک اور مقام پر ایک سوال کے جواب میں شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سؤال: اذا ألزم الحاکم الناس بشریعة مخالفة للکتاب والسنة مع اعترافہ بأن الحق ما فی الکتاب والسنة لکنہ یری الزام الناس بھذا الشریعة شھوة أو لاعتبارات أخری ‘ ھل یکون بفعلہ ھذا کافر أم لابد أن ینظر فی اعتقادہ فی ھذہ المسألة ؟

فأجاب: أما فی ما یتعلق بالحکم بغیر ما أنزل اللہ فھو کما فی کتابہ العزیز ینقسم الی ثلاثہ أقسام : کفر وظلم وفسق علی حسب الأسباب التی بنی علیھا ھذا الحکم’

فھذا الرجل یحکم بغیر ما أنزل اللہ تبعا لھواہ مع علمہ بأن الحق فیما قضی اللہ بہ’ فھذا لا یکفر لکنہ بین فاسق وظالم.

وأما ذا کان یشرع حکما عاما تمشی علیہ الأمة یری أن ذلک من المصلحة وقد لبس علیہ فیہ فلا یکفر أیضا’ لأن کثیر من الحکام عندھم جھل بعلم الشریعة ویتصل بمن لا یعرف الحکم الشرعی وھم یرونہ عالما کبیرا فیحصل بذلک مخالفة

واذا کان یعلم الشرع ولکنہ حکم بھذا أو شرع ھذا وجعلہ دستورا یمشی الناس علیہ نعتقد أنہ ظالم فی ذلک وللحق الذی جاء فی الکتاب والسنة أننا لا نستطیع أن نکفر ھذا

وانما نکفر من یری أن الحکم بغیر ما أنزل اللہ أولی أن یکون الناس علیہ أو مثل حکم اللہ عزوجل فان ھذا کافر لأنہ یکذب بقولہ تعالی ألیس اللہ بأحکم الحاکمین وقولہ تعالی أفحکم الجاھلیة یبغون ومن أحسن من اللہ حکما لقوم یوقنون.”

سوال: اگر کوئی حاکم کتاب و سنت کے مخالف کسی قانون کو نافذ کرتاہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی اعتراف کرتا ہے کہ حق وہی ہے جو قرآن وسنت میں ہے اور اس قرآن وسنت کے مخالف قانون کو اپنی خواہش نفس یا کئی اور وجوہات کی بناء پر نافذ کرتا ہے تو کیا اپنے اس فعل سے وہ کافر ہو جائے گا یا یہ لازم ہے کہ اس مسئلے میں اس پر کفر کا فتوی لگانے کے لیے اس کا عقیدہ دیکھا جانا چاہیے؟

جواب: اللہ تعالی کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ سے فیصلہ کرنے کی قرآن میں تین قسمیں یعنی کفر’ ظلم اور فسق و فجور بیان کی گئی ہیں اور ان قسموں کا اطلاق اس حکم کے اسباب کے اعتبار سے بدلتا جاتا ہے۔

پس اگر کسی شخص نے اپنی خواہش نفس کے تحت ما أنزل اللہ کے علاوہ سے فیصلہ کیا جبکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کا فیصلہ حق ہے تو ایسے شخص کی تکفیر نہ ہوگی اور یہ ظالم اور فاسق کے مابین کسی رتبے پر ہو گا۔

اور اگر کوئی حکمران اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مخالف کو تشریع عام یعنی عمومی قانون کے طور پر نافذ کرتا ہے تاکہ امت مسلمہ اس پر عمل کرے اور ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے (حالات کے مطابق) اس میں کوئی مصلحت دکھائی دیتی ہے حالانکہ اصل حقیقت اس سے پوشیدہ ہوتی ہے (یعنی اس میں کچھ جہالت پائی جاتی ہے ) تو ایسے حکمران کی بھی تکفیر نہ ہوگی کیونکہ اکثر حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شرعی احکام سے ناواقف ہوتے ہیں اور انہیں ایسے جاھل مشیروں کا قرب حاصل ہوتا ہے جنہیں وہ بہت بڑا عالم سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ پس اس طرح وہ شریعت کی مخالفت کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی حکمران شریعت کو جاننے اور علم ہونے کے باوجود کسی وضعی قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا یا اسے بطور قانون اور دستور نافذ کر دیا تاکہ لوگ اس پر عمل کریں تو ایسے حکمران کے بارے بھی ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ وہ اس مسئلے میں ظالم ہے اور وہ حق بات ہے جو قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہے کہ کہ ہم اس حکمران کی بھی تکفیر نہیں کر سکتے۔

ہم تو صرف اسی حکمران کی تکفیر کریں گے جو ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق اس عقیدے کے ساتھ فیصلہ کرے کہ لوگوں کاما أنزل اللہ کے علاوہ پر چلنا اللہ کے حکم پر چلنے سے بہتر ہے یا وہ اللہ کے حکم کے برابر ہے ۔ ایسا حکمران بلاشبہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے قول ‘ کیا اللہ تعالی سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ‘ اور ‘ کیا وہ جاہلیت کے فیصلے سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے ‘ ایسی قوم کے لیے جو کہ یقین رکھتے ہیں’ کا انکار کرتا ہے۔”

(تحکیم قوانین کے متعلق اقوال سلف: ص ٣١۔٣٢)

◀️ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پڑپوتے شیخ عبد اللطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ رحمہما اللہ فرماتے ہیں:

” وانما یحرم اذا کان المستند الی الشریعة باطلة تخالف الکتاب والسنة کأحکام الیونان والفرنج والتتر وقوانینھم التی مصدرھا آراؤھم وأھواؤھم وکذلک البادیة وعاداتھم الجاریة. فمن استحل الحکم بھذا فی الدماء أو غیرھا فھو کافر قال تعالی : ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فأولئک ھم الکفرون.

وھذہ الآیة ذکر فیھا بعض المفسرین : أن الکفر المراد ھنا: کفر دون الکفر الأکبر لأنھم فھموا أنھا تتناول من حکم بغیر ما أنزل اللہ وھو غیر مستحل لذک لکنھم لا ینازعون فی عمومھا للمستحل وأن کفرہ مخرج عن الملة.”

” اگر کتاب و سنت کے مخالف باطل احکامات مثلا ً یونانی’ انگریزی اور تاتاری قوانین کہ جن کا منبع و سر چشمہ اہل باطل کی خواہشات اور آراء ہوتی ہیں’ کو شرعی مرجع بنا لیا جائے تو یہ صرف ایک حرام کام ہے۔ اسی طرح کا معاملہ قبائلی جرگوںاور ان کے رسوم و رواج کے مطابق فیصلوںکا بھی ہےیعنی وہ بھی ایک حرام فعل ہے۔ پس جس نے ان باطل قوانین کے مطابق قتل و غارت اور دیگر مسائل میں فیصلہ کرنے کو حلال سمجھا تو ایسا شخص کافر ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: جو شخص اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ کافر ہے ۔

بعض مفسرین نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں کفر سے مراد کفر اکبر سے چھوٹا کفر یعنی “کفر اصغر” ہے کیونکہ ان مفسرین کے فہم کے مطابق اس آیت میں ما أنزل اللہ کے علاوہ کے مطابق فیصلہ کرنے سے مراد اس فیصلہ کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کرنا ہے لیکن اہل علم کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جو حکمران اس فیصلہ کو حلال سمجھتا ہے تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔”

(منھاج التأسیس والتقدیس فی کشف شبھات داؤد بن جرجیس: ص٧٠’ دار الھدایة)

◀️ مفسر قرآن شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” فالحکم بغیر ما أنزل اللہ من أعمال أھل الکفر وقد یکون کفر ینقل عن الملة وذلک اذا اعتقد حلہ وجوازہ

وقد یکون کبیرة من کبائر الذنوب ومن أعمال الکفر قد استحق من فعلہ العذاب الشدید…فھو ظلم أکبر عند استحلالہ وعظیمة کبیرة عند فعلہ غیر مستحل لہ.”

”ما أنزل اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرناکفریہ فعل ہے اور بعض صورتوں میں یہ دائرہ اسلام سے اخراج کا باعث بھی بنتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص اپنے اس فعل کو حلال اور جائز سمجھتا ہو۔

اور بعض اوقات یہ فعل ایک کبیرہ گناہ اور کفریہ فعل ہوتا ہے جس کا فاعل شدید عذاب کا مستحق ہے…پس اگر اس شخص نے اپنے اس فعل کو حلال سمجھا تو یہ کفر اکبر ہے اور اگر اس فعل کو حلال نہ سمجھا تو اس وقت یہ ایک کبیرہ گناہ ہے۔”

(تفسیر سعدی: المائدة : ٤٥)

◀️ شیخ عبد المحسن العباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

سوال: ”ھل استبدال الشریعة الاسلامیة بالقوانین الوضعیة کفر فی ذاتہ؟ أم یحتاج الی الاستحلال القلبی والاعتقاد بجواز ذلک؟ وھل ھناک فرق فی الحکم مرة بغیرما أنزل اللہ وجعل القوانین تشریعا عاما مع اعتقاد عدم جواز ذلک؟

الجواب: یبدو أنہ لا فرق بین الحکم فی مسألة أو عشرة أو مئة أو أقل أو أکثر فما دام الانسان یعتبر نفسہ أنہ مخطیء وأنہ فعل أمرا منکرا وأنہ فعل معصیة وأنہ خائف من الذنب فھذا کفر دونکفر وأما مع الاستحلال ولو کان فی مسألة واحدة وھو یستحل فیھا الحکم بغیر ما أنزل اللہ ویعتبرذلک حلالا فنہ یکون کفرا أکبر.” 

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

سوال: کیا شریعت اسلامیہ کی جگہ وضعی قوانین کا نفاذ بنفسہ کفر ہے؟ یا اس کے کفر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان دلی طور پر اس فعل کو حلال سمجھتا اور اس کے جواز کا عقیدہ رکھتا ہو؟ کیا ایک مرتبہ ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے اور وضعی قوانین کو مستقل و عمومی قانون بنا لینے میں کوئی فرق ہے جبکہ قانون ساز اس قانون سازی کے جائز نہ ہونے کا بھی عقیدہ رکھتا ہو؟

جواب : یہ بات ظاہر ہے کہ کسی ایک مقدمہ یا دس یا سو یا اس سے زائد یا کم میں فیصلہ کرنے سےشرعی حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جب تک انسان یہ سمجھتا ہو کہ وہ خطار کار ہے اور اس نے ایک برا اور نافرمانی کا کام کیا ہے اور اسے اپنے گناہ کا خوف بھی لاحق ہوتو یہ کفر اصغر ہے اور اگر وہ اپنے اس فعل کو حلال سمجھتا ہو’ چاہے ایک مقدمہ میں ہی کیوں نہ ہو اور وہ اس مقدمہ میں ماأنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کو حلال سمجھتا ہو تو یہ کفر اکبر ہو گا۔”

(شرح سنن أبی داؤد للشیخ عبد المحسن العباد :جلد10،ص 332′ المکتبة الشاملة’ الاصدار الثالث)

◀️ شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز جبرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”أن یضع تشریعا أو قانونا مخالفا لما جاء فی کتاب اللہ و سنة رسولہ و یحکم بہ معتقدا جواز الحکم بھذا القانون أو معتقدا أن ھذا القانون خیر من حکم اللہ أومثلہ فھذا شرک مخرج من الملة.”

” یہ کہ حکمران کوئی ایسی قانون سازی کرے جو کتاب اللہ اور سنت رسول کے مخالف ہو اور وہ اس قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کو عقیدے کے اعتبار سے جائز سمجھتا ہو یا اس قانون کو اپنے عقیدے میں اللہ کے حکم سے بہتر خیال کرتا ہو یا اس کے برابر سمجھتا ہو تو یہ ایسا شرک ہے جو ملت اسلامیہ سے اخراج کا باعث ہے۔”

(تسھیل العقیدة الاسلامیة: ص ٢٤٢)

پس معاصر سلفی علماء کے نزدیک غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے حکمرانوں کا کفر دو قسم کا ہے:  کفر حقیقی اور کفر عملی’

اگر تو حکمران غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے اس کو حلال’ شریعت اسلامیہ سے بہتر’ اس کے برابر اور جائز سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں تو یہ کفر اعتقادی ہے ورنہ کفر عملی۔

◀️ اب اگر اس موقف کے قائل محترم مبشر احمد ربانی صاحب گمراہی پر ہیں یا مرجئہ ہیں تو ان کے ہم فہم و ہم مسلک سلف صالحین جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ، وہ بھی گمراہ و مرجئہ ہیں؟

اس تقسیم کے قائلین:

عبد اللہ بن عباس

امام احمد بن حنبل

امام محمد بن نصر مروزی

امام ابن جریر طبری

امام ابن بطہ

امام ابن عبد البر

امام سمعانی

امام ابن جوزی

امام ابن العربی

امام قرطبی

امام ابن تیمیہ

امام ابن قیم

امام ابن کثیر

امام شاطبی

امام ابن أبی العز الحنفی

امام ابن حجر عسقلانی

شیخ عبد للطیف بن عبد الرحمن آل الشیخ

شیخ عبد الرحمن بن ناصر السعدی

علامہ صدیق حسن خان

علامہ محمد أمین شنقیطی رحمہم اللہ أجمعین

شیخ عبد المحسن العباد

پاکستان کے مفسر قران شیخ عبد السلام الرستمی رحمہ اللہ

شیخ حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی حفطہ اللہ جیسے جید علماء کرام بھی شامل ہیں

اب یا تو یہ سب گمراہ ہیں یا پھر اہل السنۃ والجماعۃ پر “تحکیم بغیر ما انزل اللہ” کے مسئلے میں گمراہی اور ارجاء کا الزام لگانے والے خود سے خارجیت کے دھبے کو چھپانے کی معصومانہ کوشش کرتے پھر رہے ہیں؟؟؟




آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

در حقیقت "تکفیری" کون کہلاتا ہے؟

تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

درحقیقت ” تکفیری ” کون کہلاتا ہے؟ 

سوال :

آج کل عموما بہت سے گروہ ایک دوسرے کو تکفیری قرار دیتے نظر آتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “تکفیری ” کس شخص کو کہا جاتا ہے اور اصل “تکفیری لوگ ” کون ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں تو بظاہر محض فکری اختلافات کی بناء پر الزام تراشیاں جاری ہیں اور تکفیری وخارجی کے اتہامات کی بھر مار ہے ؟

الجواب بعون الوھاب

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

ہر مسلمان جب بھی وہ تلاوت قرآن کا سر انجام دیتا ہے یا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کسی نا کسی کی تکفیر ضرور کرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جن کو کفر کہا گیا ہے۔ مگر کسی عمل کے کفریہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسکا ہر ہر مرتکب کافر و مرتد قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ کہ قرآن و احادیث کے مجموعے اور فہم سلف سے یہ بات عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ نہایت قبیح کبیرہ گناہوں سے مسلمانوں کو ڈرانے اور تنبیہ کرنے کے مقصد سے انہیں بھی کفر قرار دیا ہے۔ حالانکہ انکا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہ قرار دیا جاتا اور نہ ہی ایسا سمجھا جاتا ہے

تو جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کفر کی دو اقسام ، قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین سے ہمیں ملتی ہیں ،وہ درج ذیل ہیں :

1- کفر اصغر (کبیرہ گناہ)

2- کفر اکبر ( ارتداد )

اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی:

ہر ایسے کام کہ جسے قرآن احادیث میں کفر کہا گیا ہو ، کا مرتکب لازمی نہیں دین اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا کیونکہ  ہوسکتا ہے کہ وہ عمل کفر اصغر یعنی کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہو۔ 

◀️ اگر کوئی مسلمان عورت یا مرد کسی ایسے عمل میں مبتلاء ہوتا ہے کہ جو ارتداد کے زمرے میں آتا ہو تو اس مسلمان کی تکفیر کرنے والا شخص تکفیری ہرگز نہیں بن جاتا یعنی محض کسی کو کافر قرار دے دینے سے کوئی تکفیری نہیں بن جاتا ۔ جب ہم کسی کے لیے لفظ “تکفیری” یا “فتنہء تکفیر” استعمال کرتے ہیں تو اس وقت تکفیر مطلق کی بات عموما نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ تکفیر معین کے حوالے سے بولے جاتے ہیں یا پھر کبھی کبھار تکفیر مطلق سے متعلق بھی ہوتے ہیں ۔ عموما ان سے مراد تکفیر معین ہی ہوتی ہے ۔

◀️ پس ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کی معین تکفیر کرے جبکہ اس نے کوئی کفریہ کام بھی نہ کیا ہو یا اگر کفریہ کام کیا ہو تو تکفیر معین کے اصول وقوانین کو ملحوظ رکھے بغیر اور انہیں اپلائی کیے بغیر وہ اس معین شخص کو کافر و مرتد قرار دینا شروع کر دے تو ایسے تکفیر کرنے والے کو تکفیری یا فتنہء تکفیر میں مبتلاء قرار دیا جاتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص نے تکفیر المعین کے اصول ضوابط جو کہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہیں پر پرکھے بغیر کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تو ایسا شخص تکفیری پکارا جائے گا ، کیونکہ اس نے ایک مسلمان کی ناحق تکفیر کی ہے اور شرعی قواعد وضوابط سے انحراف کیا ہے۔ 

◀️ ہاں اگر کوئی شخص کسی صریح کفریہ عمل میں ملوث کسی مسلمان پر تکفیر معین کے اصول وقوانین کا اطلاق کرکے اسکی معین تکفیر کرتا ہے تو ایسا کرنے والا شخص تکفیری نہیں کہلائے گا ۔ مگر یاد رہے یہ متبحر فی العلم علماء امت کا کام ہے بلکہ علماء کے گروہ کا کام ہے۔ اور عوام الناس، دینی مدارس کے طلباء، مساجد کے خطباء و آئمہ کو بھی اس مسئلے میں ایسے علماء کے پیچھا چلنا ہے جو تکفیر کرنے کے اہل ہیں اور تکفیر کے اصول ضوابط کا پورا علم اور ادراک رکھتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب 




خوارج کبار صحابہ کے قاتل

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی شہادت

خوارج کبار صحابہ کے قاتل
خوارج،کبار صحابہ کے قاتل
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت

حافظ عمر خطاب بهٹوی حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کی تاریخ میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ استدلالات  کی بنیاد پر امت کے کبار اور معزز لوگوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار صحابہ کرام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، میں اس کو فرداً فرداً بیان کررہا تھا۔

چنانچہ  امت مسلمہ میں خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد سیدنا زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کا نام آتا ہے ۔اور ان کے بعد خوارج کے ہاتھوں اللہ کی جنتوں کے مہمان بننے والے جلیل القدر صحابی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں ،  ہم   ان کی شہادت کی دلدوز داستان بھی بیان کریں گے۔

یہاں اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کی مختصر حالات زندگی اور فضائل ومناقب پر روشنی ڈالنا چاہوں گا تاکہ قاری پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے کہ خوارج اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور ان کا سب سے بڑا مشن اہل اسلام کو بچانا نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ان قائدین کو  دھوکے سے شہید کرنا ہے کہ جو امت محمدیہ  کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔

حالات زندگی اور خدمات:

علی بن ابی طالب (599ء –661ء) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ یہ نبیﷺکے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں بچپن میں نبیﷺ کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔اور انہی کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً دس یا گیارہ سال تھی۔

 اسلام قبول کرنے کے بعد  ان پر بھی مشکلات آئیں۔ہجرت کے وقت نبیﷺکے بستر پر آرام کیا اور حالت یہ تھی گھر سے باہر قریش کے سارے قبائل کے بہترین حرب و جنگ کے ماہر لوگ نبیﷺ کو قتل کرنے کا خیال دل میں رکھے باہر کھڑے تھے اور موقع کا انتظار کر رہے تھے۔ہجرت کے بعد تمام غزوات میں نبیﷺ کے ہمراہ رہے۔خندق کے موقع پر قریش کے ایک بڑے سورما عمرو بن عبدودجو کہ خندق پار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس کے مقابلے سے لوگ کتراتے تھے،اس کو قتل کیا۔خیبر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر فتح کروایا۔ایک غزوے میں نبیﷺ نے اپنا نائب بنایا ۔یہ کاتب نبیﷺ تھے ،چنانچہ جب سہیل نےصلح حدیبیہ کے موقع پر “رسول اللہ” کا لفظ مٹانے کو کہا تو انہوں نے انکار کردیا ،پھر نبیﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ لفظ مٹایا۔وفات نبویﷺ کے بعد خلفاء ثلاثہ کے مشیر خاص رہے۔چنانچہ تمام خلفاء میں سے کسی نے بھی انہیں کسی غزوے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی۔یہ صحابہ میں بہترین قاضی تھے ،اللہ نے معاملے کہ تہہ تک پہنچنے کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔یہ بہترین فقیہ تھے اور اہل علم اور کبار صحابہ میں سے شمار کئے جاتے تھے، چنانچہ جب صحابہ کسی مسئلے میں تردد کا شکار ہوجاتے تو ان سے رجوع کرتے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد امت نے انہیں بالاتفاق خلیفہ بنادیا۔(اختلافات اس بات پر تھے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان سے فوراً بدلہ لیں لیکن جناب علی کا یہ خیال تھا کہ حالت کو سنبھل لینے دیں پھر ان کا قصاص لیں گے)

شہادت:

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ بعد میں ان میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔ باغی جماعت کے بقیہ ارکان بدستور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد و پیش میں موجود رہے تاہم ان کی طاقت اب کمزور پڑ چکی تھی۔

چنانچہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے جنگ نہروان میں  خارجیوں کی جڑ کا ٹنے کے بعدبھاگنے والے خارجیوں میں سے تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا کہ حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔

انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ خود ساختہ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ اس کی ملاقات ایک حسین عورت قطام سے ہوئی ، جس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ ابن ملجم ا س کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ قطام نے نکاح کی شرط یہ رکھی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دےاور کچھ دنیاوی مال بطور حق مہر مانگا تو وہ کہنے لگا کہ میں صرف جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر سکتا ہوں تو وہ اسی پر راضی ہوگئی کہ وہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردےاور اپنا ایک چچا زاد بھائی “وردان “اس کی مدد پر مامور کردیا۔  جب اس کے اس مقصد کا پتہ ایک اور خارجی شبیب کو چلا تو اس نے  ابن ملجم کو روکا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات کا حوالہ بھی دیا لیکن ابن ملجم نے اسے قائل کر لیا۔

اس نے نہایت ہی سادہ منصوبہ بنایا اور صبح تاریکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف آ رہے تھے  تو اس نے آپ کے سر پرتلوار سے  حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔  اس کے بقیہ دو ساتھی جو حضرت معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہما کو شہید  کرنے روانہ ہوئے تھے، ناکام رہے۔ برک بن عبداللہ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے گیا تھا، انہیں زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اس دن بیمار تھے، اس وجہ سے انہوں نے فجر کی نماز پڑھانے کے لیے خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔  خارجی عمرو بن بکر نےانہیں  عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دھوکے میں شہید کر دیا۔ اس کے بعد وہ گرفتار ہوا اور مارا گیا۔

جناب علی رضی اللہ  عنہ شدید زخمی تھے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ وصیتیں کرنے کا وقت دے دیا، چنانچہ انہوں نے چند وصیتیں کیں ،جو وصیتیں ان کے ذات پر کیچڑ اچھالنے والے کے منہ پر زبردست طمانچہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔چنانچہ ان کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:

آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا:

میں تمہیں اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا رب ہے۔ اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ صرف اسلام ہی کی حالت میں جان دینا۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا، اس سے اللہ تم پر حساب نرم فرما دے گا۔ یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا، ان پر یہ نوبت نہ آنے دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مانگیں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بھی ڈرنا کیونکہ تمہارے نبیﷺ کی نصیحت ہے۔

(طبری:3/2،355)

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔ اپنے نبی کے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔پشت دکھانے، رشتوں کو توڑنے اور تفرقہ سے بچتے رہنا۔ نیکی اور تقوی کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور نافرمانی اور سرکشی میں کسی کی مدد نہ کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اللہ تعالی تمہاری ، تمہارے اہل خاندان کی حفاظت کرے جیسے اس نے تمہارے نبی کریمﷺ کی حفاظت فرمائی تھی۔ میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتا ہوں۔

(طبری:3/2،356)

ان وصیتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ کی رائے کیا تھی؟ آپ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خاص کر اس بات کی تلقین فرمائی کہ صحابہ کرام کو ساتھ ملایا جائے، ان سے تفرقہ نہ پیدا کیا جائے اور انہی کے ساتھ رہا جائے خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت حسن نے یہی کیا اور  قربانی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی، جس پر ملت اسلامیہ قیامت تک فخر کرتی رہے گی۔

اپنے قاتل کے بارے میں  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وصیت فرمائی:

بنو عبدالمطلب! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون نہ بہا دینا،  اور یہ کہتے نہ پھرنا کہ امیر المومنین قتل کیے گئے ہیں (تو ہم ان کا انتقام لے رہے ہیں) سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا۔ حسن! اگر میں اس کے وار سے مر جاؤں تو قاتل کو بھی ایک ہی وار میں ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیے۔ اس کی لاش کو بگاڑنا نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ مثلہ سے بچو ۔

(طبری:3/2،356)

اس کے بعد21 رمضان 40ھ کوفجر کی نماز کے وقت اسلام کا یہ بطل جلیل خوارج کی چالاکیوں کا شکار ہوکر ہمیشہ کیلئے امت محمدیہ کو داغ مفارقت دے گیا ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

اس کے بعد اس خارجی کو بھی قصاصاً قتل کردیا گیا۔          

“خس کم جہاں پاک”




کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ! وبعد:

آج بہت سے مسالک بھی ایک دوسرے کو خوارج کہتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جو خوارج کو دراصل ممتاز اور نمایاں کرتی ہے؟ 

خوارج کی پہچان انکے (نہایت بھیانک اور) گمراہ فکر و عقیدے اور پھر اسی کی بنیاد پر اسلامی ریاستوں، مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں میں بغاوت، قتل و غارت گری اور اموال کو لوٹنے جیسے اعمال سے مشروط ہے.
اس بدترین گروہ کا شمار موجودہ مسالک یا مذاہب اربعہ میں سے کسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ایک الگ گروہ ہے، جو تمام مذاہب و مسالک سے اپنا حصہ حاصل کرسکتا ہے. اور اس فتنہ خوارج نے قرآن و سنت کے مطابق،دین اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر قیامت کی دیواروں تک، کسی نہ کسی تنظیم یا گروہ کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے.

جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم.

(ابن تيمية، النبوات : 222)

”وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے”۔
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496)

“اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔”
پھر آخر میں ابن تیمہ رحمہ اللہ فیصلہ کن طور پر لکھتے ہیں:
وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477)

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔
دین محمدیہ میں شریعت اسلامی کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک کھڑی کرنا اور مسلمانوں میں امن و عامہ کو تباہی سے دوچار کرنا خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔اس پر تاریخ گواہ ہے۔
ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ:
“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”
“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

اللہ تمام مسلمانوں پر رحم فرمائے۔ آمین




داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت (جدید ایڈیشن)۔

داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت

(جدید ایڈیشن)

ایک تحقیقی جائزہ 

مصنف : مناظر اسلام فضیلۃ الشیخ محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ 

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

ٹوٹل صفحات :176 

سائز : 4 ایم بی

ڈاؤنلوڈ لنک :https://archive.org/details/Daesh_aor_shariat_aek_jaeza_201706

خارجی تنظیم داعش نے اپنی خود ساختہ جھوٹی خلافت کے نام پر امت مسلمہ کا بے دریغ خون بہایا، اسلام کے نام پر ایسے ایسے قبیح اور شنیع جرائم کا ارتکاب کیا کہ جس کا کسی بھی صورت میں دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

اس کتاب میں مناظر اسلام محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں داعش کے تمام جرائم کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی جائزہ اور ان کے غلط استدلال کا رد پیش کر کے ان خوارج کے قبیح چہرے کو خوب واضح کیا ہے ۔

78b33a42-a4bd-488a-aa34-359eeb6310eb

مکتبہ رد فتن 




تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش (جدید ایڈیشن)۔

تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش

(جدید ایڈیشن)

داعش کے گمراہ کن نظریات کا تعاقب

مصنف : فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفطہ اللہ تعالی

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

ٹوٹل صفحات : 128

ڈاؤنلوڈ لنک : https://archive.org/details/Talbisat_Daesh 

سائز : 3 ایم بی

داعش امت مسلمہ کے لئے ایک خطرناک فتنہ بن کر ابھرنے والی ، خوارج کے افکار کو پروان چڑھانے والی تنظیم جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف قسم کے اشکالات اور شبہات پھیلا کر مسلمانوں کو دھکا دے رہی ہے ۔

اس کتاب میں فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ نے اس خارجی تنظیم کے مسلمانوں میں پھیلائے گئے اشکالات و شبہات کا تعاقب کرتے ہوئے قرآن و سنت کے روشنی میں مدلل اور تحقیقی جواب پیش کیا ہے ۔ 

866fac73-4980-4f4e-9ea4-9deb230552ea

مکتبۃ رد فتن 




حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

موجودہ زمانے کے مسلم ممالک میں مسلم حکمرانوں پر غلط طریقہ کار سے  تنقید اور ان کی برائیوں کو اچھالا جاتا ہے جس کی ایک حد تک شریعت سے ہمیں بالکل اجازت نہیں ملتی ۔ حکمران چاہے جیسے بھی ہوں کتنے ہی گناہ گار کیوں نہ ہوں جب تک وہ مسلمان ہیں ، اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، مسلمان انہیں اپنا حکمران سمجھتے ہیں تب تک ان کے ساتھ ایسے رویہ اختیار کرنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ 

اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اگر آپ فلاں (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ صحیح مسلم ح: 2989 میں ہے) کے پاس جا کر گفتگو کرتے !! تو آپ نے فرمایا : تمہارا خیال ہے کہ میں ان سے گفتگو کروں تو تمہیں سنا کر اعلانیہ کروں !! میں خفیہ طور پر ان سے گفتگو کروں گا ۔

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : اللہ کی قسم میں نے اپنے اور ان کے درمیان (خفیہ طور پر) ان سے گفتگو کی ہے ،  بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو جاؤں۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 7098،3267،اور مسلم 2989)

چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے  امیر باعظمت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکمت کا اسلوب اپنایا کیونکہ امیر و حاکم کی نصیحت میں اس کے مقام و مرتبہ کی رعایت ضروری ہے ،اس لئے کہ لوگوں کے ساتھ  ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق  معاملہ کرنا حکمت  کی اساس ہے ،اسی  لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے : حدیث (مذکور) میں  امراء کی تعظیم ملحوظ رکھنے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش آنے نیز لوگ ان کے سلسلہ میں جو کچھ کہتے ہیں اس کو ان تک پہنچانے کا بیان ہے (اس سے غیب و چغلی اور لگائی بجھائی کے طور پر لوگوں کی باتیں پہنچانا مقصود نہیں) تا کہ وہ باز رہیں اور نرمی اور حسن ادائیگی کے ساتھ ان سے ہوشیار رہیں،اس بات کے پیش نظر کہ کسی کی ایذا رسانی کے بغیر مقصود حاصل ہو جائے۔

(فتح الباری 13/53، نیز دیکھئے: شرح نووی 328)

 انکار منکر کی شرط یہ ہے کہ اس سے بڑا منکر لازم نہ آئے، کیونکہ انکار منکر کے جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے درج ذیل چار درجے ہیں:

🔵پہلا درجہ: منکر زائل ہو جائے اور اس کی جگہ اس کی ضد (معروف) آجائے۔

🔴دوسرا درجہ : منکر بالکلیہ زائل نہ ہو بلکہ کم ہو جائے۔

🔵تیسرا درجہ: منکر کی جگہ ویسا ہی دوسرا منکر آجائے۔

🔴چوتھا درجہ: منکر کی جگہ پہلے سے بڑا منکر آجائے۔

مذکورہ درجات میں سے ابتدائی دو درجے تو مشروع ہیں اور تیسرا محل اجتہاد ہے اور چوتھا درجہ حرام ہے۔(اعلام الموقعین عن رب العالمین 3/16)

امام نووی رحمہ اللہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے قول”بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو ں “ کے سلسے میں فرماتے ہیں:ان کا مقصد امراء کو ان کی رعایا کے درمیان علانیہ تنبیہ کرنا ہے جیسا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین  عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا،اس میں امراء کے ساتھ ادب، نرمی ، انہیں خفیہ نصیحت اور لوگ جو کچھ ان کے بارے میں کہتے ہیں اسے ان تک پہنچانے کا بیان ہے تا کہ وہ اس سے باز رہیں…۔

(شرح نوووی 18/329)

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ  رعایا کے سامنے اور ان کی موجودگی میں مسلمانوں کے ولی امر کو علانیہ طور پر تنبیہ کرنا عام طور پر بہت بڑے شر و فساد  کا سبب ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کا نتیجہ اختلاف و افتراق یا امام المسلمین کے خلاف بغاوت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، اور ولی امر کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بھلائی کا حکم دے اور انہیں برائی سے روکے،پھر اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اس سے خامی کا صدور ہو کیونکہ وہ بشر ہے، لیکن اس کی اصلاح خفیہ  طور پر  حکمت اور محمود رواداری کے ساتھ کی جائے، اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے اور انتہائی متانت اور سنجیدگی سے اسے نصیحت کی جائے،یہی طریقہ قبولیت کے لائق ہے۔

( فتح الباری 13/52 ، عمدۃ القاری 15/166)

سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: مسلمانوں کے آئمہ و امراء کے عیوب  و نقائص کی تشہیر اور انہیں منبروں پر بیان کرناسلف کا طریقہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ تباہی و بربادی اور سمع و اطاعت نہ کرنے نیز اس بغاوت کا سبب ہے، جو سراپہ نقصان دہ ہے البتہ سلف صالحین کے یہاں معمول بہ طریقہ یہ تھا  کہ نصیحت ان کے اور ولی امر کے مابین ہوتی تھی اور خط و کبابت ہوا کرتی تھی یا ان علماء سے ملاقات ہوا کرتی تھی جو امراء و حکام سے تعلق رکھتے ہوں ،تاکہ انہیں بھلائی کی نصیحت کی جائے ، اور انکار منکر (برائی پر تنبیہ)کا طریقہ کار یہ ہے کہ منکر کے مرتکب کا ذکر کئے بغیر  انکار کیا جائے ،چنانچہ زنا کاری ،شراب نوشی ، اور سود خوری وغیرہ پر مرتکب کا ذکر  کیے بغیر تنبیہ کی جائے،اسی طرح گناہوں پرنکیر اور اس سے اجتناب کی تلقین بھی فاعل کا ذکر کیے بغیر کافی ہے،فاعل کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں خواہ حاکم ہو یا محکوم…۔

(حقوق الراعی والرعیہ، کے اخیر میں طبع شدہ  سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ   کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں،ص 27،28)




فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اسماء کو مانتے ہیں لیکن صفات کے منکر ہیں، بس وہ مجرد یعنی صفت سے عاری اسم مانتے ہیں۔ اسماء الہی صرف الفاظ ہيں کہ جن کا نہ کوئی معنی ہے اور نہ صفت ۔

انہیں معتزلہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے امام واصل بن عطاء مشہور جلیل القدر تابعی امام حسن بصری رحمہ اللہ کے شاگرد ہوا کرتے تھے۔ جب اس نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے کبیرہ گناہ کے مرتکب کے حکم کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ نے اہل سنت والجماعت کا جو قول ہے وہی فرمایا:

انہ مؤمن ناقص الایمان، مؤمن بایمانہ فاسق بکبیرتہ

وہ ناقص الایمان مومن ہے، اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے۔ 

مگر واصل بن عطاء اپنے شیخ کے اس جواب سے راضی نہ ہوا تو اس نے کنارہ کشی اختیار کرلی اور کہا: نہیں، میں ایسے کبیرہ گناہ کے مرتکب کو نہ مومن سمجھتا ہوں اور نہ کافر بلکہ وہ تو منزل بین المنزلتین  (دو منزلوں کے درمیان ایک منزل) پر ہے۔

پس اس نے اپنے استاد حسن بصری رحمہ اللہ کا حلقہ چھوڑ کر مسجد کے ایک کونے میں جگہ اختیار کرلی اور آہستہ آہستہ اوباش قسم کے لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے اور اس کے قول کے قائل ہوگئے۔

یہی حال ہوتا ہے گمراہی کے داعیان کا ہر دور میں کہ لازمی طور پر بہت سے لوگ ان کی طرف لپکے جاتے ہیں، اس میں بھی اللہ تعالی کی عظیم حکمتیں پنہاں ہیں۔انہوں نے حسن بصری جو کہ اہل سنت کے بہت بڑے امام تھے ، ان کی خیر وعلم والی مجلس کو چھوڑ کر ، اس گمراہ اور گمراہ گر معتزلی واصل بن عطاء کی مجلس اختیار کی۔

اس کے مشابہ بہت سے لوگ ہمارے اس زمانے میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو علماء اہل سنت والجماعت کی مجلس چھوڑ کر منحرف فکر کے مفکرین کی مجالس کو اختیار کرلیتے ہیں۔ پس آپ انہیں پائیں گے کہ انہی کی کیسٹوں اور کتابوں کی شدید حرص کرتے ہیں اور انہی پر قناعت کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔

اگر آپ ان سے کہیں کہ اس میں ایسی باتیں ہیں جو عقیدۂ اہل سنت والجماعت اور سلف صالحین کے خلاف ہے جیسے خلق قرآن ، یا تاویل صفات باری تعالی، یا پھر حکمرانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنا وغیرہ۔

تو وہ کہتے ہیں کہ: یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کتاب کی قرأت اور اس کی تقاریر سننے میں کوئی مانع نہیں، حالانکہ ہمارے سلف وخلف علماء کی کتب میں وہ کچھ ہے جو ان کی کتابیں پڑھنے سے ہمیں مستغنی کردیتا ہے۔ تو جو کوئی ان کی بات سنتاہے اسے وہ اس طرح سے گمراہ کرتے ہیں۔۔۔

﴿لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ

(النحل: 25)

تاکہ یہ لوگ اپنے کامل بوجھ بھی بروزقیامت اٹھائیں اور ان کے بھی جنہیں بغیر علم کے انہوں نے گمراہ کیا، کتنا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اپنے سر لے رہے ہیں۔ 

کیا یہ لوگ جانتے نہیں کہ ہمارے سلف صالحین تو اس سے بھی بائیکاٹ کرجایا کرتے تھے جو صرف ایک بدعت میں مبتلا ہوتا یا پھر صرف ایک صفت الہی کی تاویل کرتا؟

دیکھیں یہ امام عبدالوہاب بن عبدالحکم الوراق رحمہ اللہ جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے ہیں ان سے ابو ثور کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:  ”میں اس کے بارے میں وہی مؤقف رکھتا ہوں جو امام احمد رحمہ اللہ کا ہے کہ ابو ثور اور جو اس کے قول کا قائل ہو ان سب سے بائیکاٹ کیا جائے “۔

یہ صرف اس لیے کہ اس نے صورت الہی سے متعلق جو حدیث ہے اس کی ایسی تاویل کی جو سلف کے قول کے خلاف تھی۔ جب اس کا یہ حال ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا کہ جس کی غلطیوں کو بیان کرنے کے لیے کتابیں در کتابیں بھر دی جاتی ہیں؟؟!

اس کے باوجود آپ ان میں سے بعض کو یہ کہتا ہوا پائیں گے کہ:

یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کی کتب پڑھنے میں مانع نہیں!!۔ فلاحول ولاقوۃ الا باللہ۔

پس یہ لوگ تب  سے معتزلہ کے نام سے پہچانے جانے لگے کیونکہ انہوں نے اہل سنت والجماعت سے اعتزال (دوری) اختیار کی۔ انہوں نے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کیا اور اسماء کو صفات سے عاری محض بے صفت کا نام ثابت کیا۔ اور مرتکب کبیرہ گناہ کے بارے میں آخرت کے تعلق سے وہی خوارج کے قول کے قائل ہوگئے کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں رہے گا لیکن دنیا کے معاملے میں خوارج سے تھوڑا اختلاف کیا اور کہا کہ وہ دو منزلوں کے مابین ایک منزل میں ہے یعنی نہ مومن ہے نہ کافر۔ جبکہ خوارج اسے سیدھا کافر کہتے ہیں۔اور یہ مسلمان ہی نہیں مانتے ۔ فرق بہت معمولی ہے ۔ 

سبحان اللہ! کیا کوئی یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ انسان نہ مومن ہو اور نہ ہی کافر؟!۔

اللہ تعالی تو فرماتا ہے:   ﴿هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ

(التغابن: 2)

اسی اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا پس تم میں سے کوئی کافر ہے تو کوئی مومن

یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی المنزلۃ بین المنزلتین (دو منزلوں کے مابین کسی منزل) پر ہے، لیکن کیا یہ لوگ کچھ فقہ وفہم رکھتے بھی ہیں؟؟۔

پھر اس معتزلہ مذہب سے اشاعرہ مذہب پیدا ہوا۔ 

ماخوذ از

لمحة عن الفرق الضالة 




حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران کی  خیر خواہی آخر کیسے ؟ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

حکومت ، سلطہ اور جاہ جلال ایسی چیز ہےکہ جہاں ہر کسی کا اپنی مرضی کرنے کو جی چاہتا ہے تبھی تو وہ کئی گناہوں کو بالکل معمولی سمجھتے ہوئے کر گزرتا ہے ، جہاں اسے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اتنے کروڑوں  عوام میں تحت ہیں ، میں جو بھی کرنا چاہوں وہ ہو گا ۔ تو ایسے میں اللہ کی یاد اس کا ڈر ، خوف اور بھی کم ہو جاتی ہے ، اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کی کوتاہیاں اور برائی اچھالنے کی بجائے انہیں نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئیے اسی کے پیش نظر کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے ؛ 

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((الدين النصيحة، قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم))

(مسند احمد404،403/3 ومستدرک حاکم: 290/3)

“دین خیرخواہی ہے۔ہم نے پوچھا: کس سے؟ آپ نے فرمایا: اللہ سے،اس کی کتاب سے،اس کے رسول سے،مسلمانوں کے اماموں سے اور عام مسلمانوں سے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

((نضَّر الله امرأً سَمِع مقالتي فوَعَاها وحَفِظها وبَلَّغها، فرُبَّ حامل فِقْه إلى مَن هو أفقه منه، ثلاث لا يغلُّ عليهنَّ قلبُ مسلم: إخلاصُ العمل لله، ومناصحة أئمة المسلمين، ولزوم جماعتهم؛ فإنَّ الدَّعْوة تُحيط من ورائهم))

(فتح الباری 72،71/13)

اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیوں کہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھاسکتا،(۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیوں کہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی بات کے سننے اور اس کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانے،یاد کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے والے کے حق میں خوشی،چہرے کی تروتازگی اور اس کے حسن و جمال کی دعا فرمائی ہے جو ایمان کے آثار اور باطن کے اس سے روشن ہونے نیز دل کے مسرت  و شادمانی سے ہمکنار اور لذت یاب ہونے کے سبب چہرے کو عطا ہوتی ہے،چنانچہ جو ان چاروں مراتب کو انجام دے گا وہ نبی ﷺ کی ظاہر و باطن کے حسن  و جمال پر مشتمل دعا سے فیضیاب ہو گا۔

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم 1/276.274،بتحقیق علی بن حسن بن عبدالحمید)

امام ابن قیم  رحمہ اللہ  مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

  • نبی ﷺ کا فرمان: اور مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی…..۔

یہ چیز بھی  خیانت اور دھوکہ دہی کے منافی ہے کیونکہ خیر خواہی اور خیانت دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،چنانچہ جو شخص آئمہ و امراء اور امامت(رعایا) کی خیر خواہی کرے گا وہ خیانت سے بری ہو گا۔ 

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم: 1 /275 تا 278)

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

مسلمانوں کے امام وامراۃ کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں ان کی درستی, نیکی اور عدل و انصاف سے محبت کرنا نیز ان کے ہاتھوں پر امت کے اتفاق سے محبت اور ان پر امت کے اختلاف و افتراق کو ناپسند کرنا،اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کو نیکی سمجھنا ان کے خلاف بغاوت کے جواز کا عقیدہ رکھنے والے سے بغض رکھنا اور اللہ کی اطاعت میں ان کے غلبہ و سربلندی کو پسند کرنا۔

(جامع العلوم والحکم: 1/222)

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں حق پر ان کی مدد کرنا،اطاعت کرنا،انہیں حق کی نصیحت کرنا،نرمی و ملائمت سے انہیں تنبیہ کرنا،ان سے اختلاف کرنے اور لڑنے جھگڑنے سے احتراز کرنا اور ان کے لئے توفیق کی دعا کرنا نیز غیروں کو اس پر ابھارنا۔

(مرجع سابق 1/223 نیز مسلمانوں کے امراء کی اطاعت کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ ابن تیمیہ 28/391،390،ومنہاج السنۃ النبویہ 3/390)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں کے امراء کی اطاعت اور انکی خیر خواہی کا حکم دیا ہے وہ انسان پر بعینہ اسی طرح واجب ہےجس طرح پانچ وقت کی نمازیں ،زکاۃ، روزہ ،حج بیت اللہ اور ان کے علاوہ دیگر وہ  اعمال واجب ہیں جن  کی بجا آوری کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ اس نے اس کا معاہدہ نہ کیا ہو اور اس کے لیے پختہ خلاص نہ اٹھائی ہو، اور اگر وہ اس پر قسم کھالے تو یہ چیز امراء  کی اطاعت اور ان کی خیرخواہی کے سلسلہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مزید تاکید وتثبیت ہوگی،  چنانچہ ان کی باتوں کی قسم کھانے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قسم شدہ امر  کی خلاف ورزی کرے…. کیوں کہ اللہ عزوجل نے حکمرانوں اورامراءکی اطاعت اور خیرخواہی کو واجب قرار دیا ہے، وہ یوں بھی  واجب ہے  خواہ وہ  قسم نہ بھی کھائے ،تو اب جبکہ اس نے  قسم کھالی ہے ان کی اطاعت اس پر بدرجہ اولیٰ واجب ہوگی ،اسی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےجوان کی  نافرمانی اور خیانت سے منع فرمایا ہے وہ اس پر حرام ہیں خوا ہ  اس نے قسم نہ بھی کھائی ہو ۔

(فتاوی ابن تیمیہ 35/10،9)

اور آئمہ و امراء کو نصیحت ان کے اور ناصح کے مابین نرمی و ملائمت ،  حکمت  و دوراندیشی ،  عمدہ نصیحت اور مناسب اسلوب میں خفیہ طور پر ہوگی۔ 

شیخ علامہ عبدالرحمان بن ناصر سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رہا مسلمانوں کے آئمہ کی خیر خواہی کا مسئلہ:تو مسلمانوں کے آئمہ سے مراد سلطان اعظم سے لیکر امیر و قاضی تک ان کے امراء اور ذمہ داران ہیں،چونکہ ان لوگوں کے فرائض اور ذمہ داریاں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر ہیں،اس لئے ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے انہیں نصیحت کرنا واجب ہے،اس بات کے پیشِ نظر ان کی امامت کا اعتقاد رکھا جائے،ان کی ولایت ( حکمرانی) کا اعتراف کیا جائے،معروف میں ان کی اطاعت کی جائے،ان کے خلاف بغاوت نہ کی جائے،رعایا کو ان کی اطاعت اور ان کے حکم کی تعمیل پر ابھارا جائے،بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو،اپنی استطاعت بھر انہیں نصیحت اور اپنی رعایا کی دیکھ بھال  کے سلسلے میں جو چیزیں ان سے مخفی ہوں ان کی وضاحت کی جائے ـہر شخص اپنے اعتبار سےـ ان کی اصلاح و درستی اور تو فیق کیلئے  دعا کی جائے کیونکہ ان کی بہتری میں رعایا کی بہتری ہے ،انہیں برا بھلا کہنے،ان کی عیب جوئی  اور انکی خامیوں اور برائیوں کو  عام کرنے سے باز رہا جائے،کیونکہ اس میں برائی ،نقصان اور بہت بڑا فساد ہے،چنانچہ ان کی خیر خواہی کا تقاضہ  یہ ہے کہ ان چیزوں سے بچا جائے اور دوسروں کو تنبیہ کی جائے،اور جو شخص ان کی جانب سے کوئی نا جائز چیز دیکھے اسے چاہیے کہ انہیں علانیہ  نہیں بلکہ خفیہ طور پر نرمی اور ایسے اسلوب میں تنبیہ کرے  جو برمحل ہو  اور مقصود حاصل ہو جائے،کیونکہ ہر شخص بالخصوص  امراء اور حکام کے حق میں  یہی چیز مطلوب ہے،کیونکہ انہیں اس طرح تنبیہ کرنے میں بڑی خیر ہے، اور یہ سچائی اور اخلاص کی علامت ہے ،اور اس (مذکورہ طریقہ پر) نصیحت کرنے والے!دیکھنا لوگوں کی مدح سرائی آپ کی نصیحت  کو ضائع و برباد  نہ کردے،اس لئے کہ آپ لوگوں کو کہتے پھریں کہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے اور ایسا ایسا کہا ہے،کیونکہ یہ ریا کاری اور ضعف اخلاص کی علامت ہے،اور اس کے دیگر نقصانات بھی ہیں جو معروف ہیں۔

(الریاض الناضرۃ والحدائق النیرۃ الزاہرہ،ص38تا 49)