ڈاکومنٹری : داعش کی حقیقت

new_003ڈاکومنٹری : داعش کی حقیقت

داعش کفار کی ایجنٹ کیسے؟

داعش خارجی کیسے؟ اور داعش کے دلائل کا رد قرآن و سنت کی روشنی میں!

داعش کے نزدیک کافر کون کون؟

داعش نے مسلمانوں اور مجاہدین کا کتنا نقصان کیا؟

اور بہت کچھ دیکھئے اس ڈاکومنٹری میں ویڈیو ثبوت کیساتھ۔۔

ویڈیو بغیر مونو گرام کے یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں اور اپنا مونو گرام لگا کر اپلوڈ کریں

https://www.facebook.com/RaddFitan/videos/930556380477508/

 

 




ڈاکومنٹری : داعش کی حقیقت

new_003داعش کی حقیقت ۔۔۔۔ ویڈیو پوسٹرicon15

https://www.facebook.com/RaddFitan/videos/930556380477508/




کیا اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والامطلقا کافر ہے؟

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!

کیا اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والامطلقا کافر ہے؟

 آیت تحکیم میں کفر سے کیا مراد ہے؟آیت تحکیم کی صحیح تفسیر صحابہ کرام اور آئمہ عظام کے فہم سے، نیز خوارج کا مدلل رد

عصرحاضر کے خوارج نے وہی مسئلہ اٹھا کر آج کل مسلمانوں کی تکفیر شروع کر رکھی ہے  جوپہلے خوارج کےگروہ نے اٹھا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم  کی تکفیر کی تھی۔

یعنی اللہ کے قانون کے علاوہ کسی اور قانون سے فیصلہ کرنا یا پھر اللہ کے علاوہ کسی اور کو حَکم بنانا۔

  • سب سے مشہور دلیل جو خوارج اس باب میں پیش کرتے ہیں وہ یہ آیت ہے۔

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔(المائدہ : 44)

اس سے اگلی دو آیتوں میں ایسے لوگوں کو ظالم اور فاسق بھی کہا گیا ہے۔

خوارج کا کہنا ہے کہ اس آیت کے تحت جولوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں لہذا آج کے حکمران بھی ایسا ہی کرتے ہیں تو وہ کافر ہیں اور نظام بھی ایسا ہی ہے لہذا یہ نظام بھی کفریہ ہی ہے۔

آئیے اب دیکھتے ہیں اس آیت کی تفسیر اسلاف امت کیا کرتے ہیں ،سب سے پہلے رسول ﷺ کی زبان مبارک سے علم حاصل کرنے والے صحابہ کی تفسیر سنتے ہیں۔

جب ابن عباس رضی اللہ عنہ خوارج سے مناظرہ کرنے گئے تو انہیں کہا کہ میں تمہارے پاس انصار و مہاجرین، صحابہ کہ پاس سے آیا ہوں کہ تمہیں یہ بتادوں کہ اہل علم لوگ اس مسئلہ میں کیا کہتے ہیں، جن پر قرآن نازل ہوا، اور وہ وحی کو تم سے زیادہ سمجھتے ہیں، اور انہی کے درمیان وحی نازل ہوئی، اور تمہھارے ساتھ ان(یعنی صحابہ) میں سے کوئی ایک بھی نہیں (مسند احمد : 10598)۔

یاد رہے ابن عباس رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جن کونبی ﷺ نے دعا دی تھی کہ اے اللہ اسے کتاب (قرآن) کا علم عطا فرما(بخاری)۔

نیز سیدنا علی رضی اللہ نے خوارج سے مناظرے کے لیے بھی انہیں ہی بھیجا تھا، تو یہ ان معاملات اور ان آیات کی تفسیر سب سے زیادہ بہتر سمجھنے والے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:

ليس بالكفر الذي تذهبون إليه

اس (آیت )سے وہ کفر مراد نہیں ہے جو تم مراد لیتے ہو (یعنی کفراکبرمراد نہیں ہے)۔

ایک اور روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں:

إنه ليس بالكفر الذي يذهبون إليه، وإنه ليس كفراً ينقل عن الملة

ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون( كفر دون كفر)

اس سے مراد کفر اکبر نہیں ہے، اوریہ ایسا کفر نہیں ہے جو اسلام سے خارج کردے، (اللہ کا فرمان کہ):

جس نے اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کیا، پس یہی لوگ کافر ہیں، اس سے مراد کفر دون کفر ہے، (یعنی کفر سے چھوٹا کفر، کفر اصغرمراد ہے)۔

امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور صحیحین کی شرط پر اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، امام ذھبی رحمہ اللہ نے انکی موافقت کی ہے۔

 المستدرك:( 2/313)، السلسلة الصحیحۃ: 6/113، تفسیر ابن کثیر: 6/163)۔

تفسیر طبری میں (6/166) پر حسن سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں:

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ(المائدة:44)

قال: “من جحد ما أنزل الله، فقد كفر، ومن أقرّبه، لم يحكم به فهو ظالم فاسق۔

(اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ) جس نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کا انکار کیا (وہ کافر ہے)، البتہ جس نے اقرار کیا لیکن اس کے مطابق فیصلہ نہیں کیا تو وہ ظالم، فاسق ہے (کافر نہیں)۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اس آیت میں کونسا کفر مراد ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے وہ کفر مراد ہے جو اسلام سے خارج نہیں کرتا۔

سؤالات ابن هاني” (2/192)۔

قال إسماعيل بن سعد في “سؤالات ابن هاني” (2/192): “سألت أحمد: ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾ ، قلت: فما هذا الكفر؟ قال: “كفر لا يخرج من الملة”]۔

امام جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

میرے نزدیک سب زیادہ صحیح بات اس آیت کے بارے میں  یہ ہے کہ یہ آیت کفار، اھل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی تھی، کیونکہ اس سے اگلی پچھلی آیات بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ، اور یہ آیات ان کے بارے میں خبر دے رہی ہیں، لہذا یہ زیادہ لائق ہے کہ یہ آیات ان کفار کے حوالے سے خبر ہو۔

یعنی یہ آیات کفار کے ساتھ ہی خاص ہیں۔

اور اگر کہنے والا کہے کہ: آپ کیسے اس کو کفار کے ساتھ خاص کر سکتے ہیں جب کہ اللہ نے تو اسے عام رکھا ہے ہر اس شخص کے ساتھ جس نے اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کیا؟

تو ہم کہیں گے:

کہ اللہ تعالی نےاس آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کے قانون کا انکار کرنے والے ہیں اگرچہ وہ مسلمان ہوں یا کافر،

 پس اللہ نے خبر دی کہ انہوں نے(یہودیوں اور اہل کتاب)نے انکار کرتے ہوئے اللہ تعالی کے فیصلے کو چھوڑا اس لئے وہ کافر ہیں،

اور یہ آیت عام ہے ہر اس (مسلمان ) کے لئے جو اللہ کے قانون کا انکار کرتے ہوئےاس کے مطابق فیصلہ نہ کرے، جیسا کہ ابن عباس نے فرمایا۔تفسیر طبری: (6/166)۔

 امام نصر المروذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 جس طرح اعمال کی شاخیں ہیں اسی طرح صحابہ کرام اور تابعین نے کفر کی بھی شاخیں بنائی ہیں،  جس طرح اعمال کو چھوڑنے سےانسان کا ایمان کم تو ہوتا ہے پر ایمان سے خارج نہیں ہوتا اسی طرح اللہ تعالی کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا فاسق و فاجرتو ہوتا ہےلیکن اسلام سے خارج نہیں،ہاں اگر فیصلہ اللہ تعالی کے نازل کردہ کے مطابق نہیں کرتا اس کا انکار کرتے ہوئے تو یہ بھی اسی طرح ملت اسلامیہ سے خارج ہوگاجیسے اعمال کا انکار کرتے ہوئے ترک کرنے والا کافر ہوگا۔

 امام ابن عبدالبررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

علماء کا اس بات اجماع ہوچکا ہے کہ ( اللہ کے حکم کے علاوہ فیصلہ کرنا) کبیرہ گناہ ہے، جو اسکو جان بوچھ کر علم رکھنے کے باوجود کرے،اس کے متعلق  شریعت اسلامیہ میں شدید وعید ہے۔

اور اللہ نے فرمایا: جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کریں یہی لوگ، کافرہیں، فاسق ہیں، ظالم ہیں ، یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، ابن عباس اور حذیفہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بھی ہے،مگر یہ وہ کفر نہیں ہےجو اسلام سے خارج کردے اگرامت میں سے کوئی شخص یہ کام کرے تو اس وقت تک کافر نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالی ، اسکے فرشتوں، کتابوں ، رسولوں یا آخرت کے ساتھ کفر نہ کرے، اور اس آیت کی تفسیر کئی علماء سے مروی ہے، جن میں ابن عباس ، اور عطاء (تابعی) بھی ہیں۔”التمهيد” (5/74)

 امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اس بارے میں فیصلہ کن بات یہ ہے کہ جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے اس کا انکار کرتے ہوئے حالانکہ وہ جانتا ہو یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ کافر ہے ، البتہ جو خواہش نفس کی وجہ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہ ظالم ہے فاسق ہے۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی تفسیر منقول ہے۔  زاد المسير (2/366)۔

 امام ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اس میں صورتحال مختلف ہوگی اگروہ اپنے قانون کو یہ سمجھ کر اس سے فیصلہ کر رہا ہو کہ یہ بھی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے تو یہ کفر کو واجب کرنے والی بات ہے البتہ خواہش نفس اور گناہ کے طور پر کر رہا ہو تو اسکی مغفرت ہوسکتی ہے جیسا کہ اھل سنت کا قول ہے کہ گناہ گاروں کی بخشش ہوسکتی ہے۔أحكام القرآن” (2/624)۔

 امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالی کے اس فرمان کے ظاھری الفاظ سے استدلال خوارج کرتے ہیں، حالانکہ ان کے لیے اس آیت میں کوئی دلیل نہیں، کیونکہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لہذا اس آیت کے حکم میں انکے ساتھ وہی شریک ہوگا جو انکے جیسی حرکت کرے گا (یعنی تحریف کرے گا یا انکار کرے گا)۔

اور اسکی توضیح یہ ہے کہ: اگر مسلمان کسی مسئلے میں اللہ کا حکم جانتا ہے اورانکار کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ بلا اختلاف کافر ہے ، لیکن اگر وہ ایسا بے عملی کی وجہ سے کرتا ہے ،اور وہ اس حکم کی تصدیق بھی کرتا ہے نیز یہ بھی  جانتا ہے کہ اسکو نافذ کرنا واجب ہے، لیکن پھر بھی  وہ اس پر عمل نہیں  کرتا تووہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے،اور کناہگار ہے۔

اور یہی حکم دین کے ہر واضح مسئلے کا بھی ہے، مثال کے طور پرنماز وغیرہ،یعنی جیسے نماز کو چھوڑنے والا گناہگارتو ہےلیکن کافر نہیں اور کافر انکار کرنے والا ہوگا  چھوڑنے والا نہیں)اور یہی جمہور کا موقف ہے۔المفهم” (5/117)

اس آیت کی یہی تفسیر امام ابن بطہ، امام شاطبی، امام ابن تیمیہ ، امام ابن القیم، امام ابن کثیر، امام ابن حجر، امام سمعانی رحمھم اللہ ، اوربے شمار آئمہ نے کی ہے۔

 جو طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کی جارہی۔

یہ بھی یاد رہے کہ خوارج اسکے علاوہ بھی ایک آیت سے استدلال کرتے ہیں :

إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ (الأنعام آية:57)

 یعنی حکم صرف اللہ کی ہی ہے۔

یہ آیت خارجیوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مناظرے کے وقت پیش کی تھی۔

اور  ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا تھا کہ اللہ کے علاوہ انسانوں  کو فیصل بنانے کا ذکر قرآن میں بھی ہے ، بلکہ حکم موجود ہے مثلا:

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُـمْ حُرُمٌ ۚ وَمَنْ قَتَلَـهٝ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّـعَمِ يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ

اے ایمان والو! شکار کو نہ قتل کرو جب تم احرام میں ہو، اور تم میں سے جو کوئی اسے جان بوجھ کر مارے تو پھر بدلے میں اس مارے ہوئے کے برابر مویشی لازم ہے جو تم میں سے دو معتبر آدمی تجویز کریں بشرطیکہ قربانی کعبہ تک پہنچنے والی ہو ۔(المائدة آية: 95)

اور

وَاِنْ خِفْتُـمْ شِقَاقَ بَيْنِـهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِـهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّـٰهُ بَيْنَـهُمَا ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْـرًا

اور اگر تمہیں کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف شخص کو مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف شخص کو عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں میں موافقت کر دے گا، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔(النساء آية 35)

 اس سے ثابت ہوا کہ اس آیت سے یہ استدلال کرنا کہ دور حاضر  کے مسلمان حکمران کیونکہ شریعت نافذ نہیں کرتے اس لیے کافر ہیں یہ خوارج کا مذہب ہے، اسی طرح مسلم ممالک کے نظاموں کو  کفریہ کہنا ، یہ بھی خوارج کا منہج ہے، اگرچہ ان ممالک کے آئین میں کچھ باتیں خلاف شریعت منظور کروالی گئی ہیں تو وہ شریعت سمجھ کر جائز نہیں کی گئیں بلکہ قانونا جائز کی گئی ہیں، مثال کے طور پر کوئی اپنے گھر میں ٹی وی رکھنے کی اجازت دیتا ہے یا اپنے بچوں کو گانے سننے کی اجازت دیتا ہے تو شرعی طور پر جائز سمجھ کر نہیں دیتا بلکہ اپنے گھر کے قانون میں اپنی عملی کوتاہی کی وجہ سے اسکی اجازت دیتا ہے، لہذا جب تک کوئی حکمران صراحتا یہ نہ کہے کہ میں اللہ کے حکم سے جمہوریت کو افضل سمجھتا ہوں، یا جمہوریت کو بھی اللہ کے حکم برابر سمجھتا ہوں، یا اللہ کے حکم کے خلاف قانون کے نفاذ کو شرعا جائز سمجھتا ہوں یا اللہ کے حکم کا انکار کرتا ہوں،تو ان صورتوں میں وہ کافراور ملت اسلامیہ سے خارج ہوجائےگا۔

نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ کفر کے فتوے لگانے والے حضرات کبھی قانونی طریقے سے خلاف شریعت باتوں کو آئین کی روشنی میں چیلنج نہیں کرتے بلکہ صرف اپنے حلقے میں یا کتاب لکھ یا منبر سے ایسی چیزوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

علامہ تقی عثمانی صاحب جو کہ بڑے عالم بھی ہیں اور تقریبا 25 سال تک جج بھی رہ چکے ہیں وہ  فرماتے ہیں کہ کبھی کوئی مولوی طبقہ قانون کو باقاعدہ قانونی طریقے سے چیلنج کرنے نہیں آیا۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہی نظام تھا کہ جسے صحیح طریقے سے استعمال کیا گیا تو قادنیوں کو کافر قرار دلوایا گیا ۔

خاص کر کہ جب آئین میں صاف صاف لکھا ہے کہ حاکم اعلی اللہ کی ذات ہے اور کتاب و سنت کے مخالف کوئی فیصلہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

لہذا ان آیات کا مروجہ فہم جو خوارج لے رہے ہیں یہی فہم علی رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرنے والوں نے لیا تھا اوران  خوارج کے بارے میں علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ:

قالوا لا حكم إلا لله ، قال علي : كلمة حق أريد بها باطل۔

یعنی یہ خوارج کہتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں، تو یہ الفاظ تو صحیح ہے لیکن انکا معنی غلط جگہ پر استعمال کیا گیا ہے۔(صحیح مسلم : 1066)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خوارج کے بارے میں فرمایا تھا:

إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى آيَاتٍ نَزَلَتْ فِي الكُفَّارِ، فَجَعَلُوهَا عَلَى المُؤْمِنِينَ

یہ (خوارج) وہ لوگ ہیں جو کفار کے حق میں نازل ہونے والی آیات کا اطلاق اہلِ ایمان مومنین پر کرتے ہیں۔ (فتح الباري ” ( 12 / 286 )

اور جیسا کہ آپ نے دیکھا آئمہ کرام نے انکی پیش کردہ آیت کو یہودیوں اور اہل کتاب کے بارے میں نازل شدہ بتلایا ہے، لہذا یہ مسلمانوں پر فٹ کر رہے ہیں ۔

بعض لوگ یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ جمہوریت میں اکثریت کے فیصلے کو قانون بنایا جاتا ہے بھلے وہ خلاف شرع ہو، تو اس سے بھی انکا کافر ہونا  لازم نہیں آتا کیونکہ وہ قانون اللہ تعالی کے مقابل نہیں بنایا جاتا بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے بنایا جاتا ہے۔

اسکے علاوہ پاکستان (یو این او) کا نمائندہ ہے جو کہ بظاہر امن قائم کرنے کے لیے بنایا گئی ہے، اب پاکستان کی مجبوری ہے کہ اسکا حصہ بنے وگرنہ کئی طرح کی مشکلات دنیا بھر سے پیش آنے کی توقع ہے۔

 لہذا اگر خوف کی وجہ سے پاکستان اس نظام کا حصہ ہے تو یہ بھی کوئی کفر نہیں بلکہ اسلام میں تو اگر خطرات لاحق ہو کلمہ کفر کہنے کی بھی اجازت موجود ہے، نیز حدیث میں آتا ہے کہ جنگ دھوکہ ہے، لہذا بعض معاملات صرف کفار کو دکھا کر دھوکہ دینے کے لیے بھی کیے جاتے ہیں جو کہ یقینا کفر نہیں۔

 بالفرض اگر ایسا نہ بھی ہو، تو بھی انہیں اس وقت تک کافر نہیں کہا جاسکتا جب تک وہ اللہ کے حکم کے خلاف فیصلوں کو اپنے لیے بغیر تاویل کے جائز سمجھ لیں، جیسا کہ اوپر گذرا۔

صحیح مسلم ، کتاب الامارہ میں ایسی احادیث موجود ہیں جن سے ثابت ہے کہ بدترین قسم کے ظالم حکمران آئیں گے پھر بھی انکی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، حیرت ہے دور حاضر کے خوارج انکی اطاعت تو دور کی بات ہیں انکو مسلمان ہی نہیں سمجھتے، حالانکہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر کافر حکمران آنے والے ہوتے تو شریعت میں اسکا اشارہ موجود ہوتا بلکہ ابن ماجہ کی حسن حدیث میں ان حکمرانوں کا بھی ذکر ہے جو کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتے ہونگے لیکن پھر بھی انہیں کافر نہیں کہا گیا، چنانچہ حدیث میں آتا ہے

وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَيَتَخَيَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ۔

جب  حکمران اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈال دے گا۔ (ابن ماجہ: 4019)۔

یہ حدیث انکے دلائل پر بالکل واضح رد ہے۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ غیر اللہ کی حاکمیت اور اللہ کے علاوہ کسی اور کے قانون سے فیصلے کرنے کا مسئلہ تقریبا گذشتہ پچاس سالوں سے خوارج کے ساتھ معرکۃ الآراء بنا ہوا ہے ، جس پر الحمد للہ سلفی علماء نے خوارج کو بار بار دھول چٹائی ہیں، لیکن ابھی بہت سے نام نہاد سلفیوں میں اس کے جراثیم موجود ہے، اور ان جراثیموں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنے آپ کو سلفی کہنے والے حضرات اپنے نظریات جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی، اخوان المسلمین، حزب التحریر وغیرہ جیسی جماعتوں اور انکے فارغ مفکرین سےہی کیوں لیتے ہیں؟

اللہ تعالی ہم سب کو حق بات قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین




اسد درانی کی کتاب کی حقیقت

اسد درانی کی کتاب ۔۔۔۔

سابق آئی ایس آئی چیف جنرل درانی 1993ء میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے۔ 
موصوف نے اعتراف کیا تھا کہ بے نظیر کو ہروانے کے لیے ائی ایس آئی نے سیاسی جماعتوں میں اتحاد کروایا تھا۔ اس اعتراف کے عوض ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اسد درانی کو بے نظیر بھٹو نے جرمنی میں سفیر لگا دیا تھا۔

( بے نظیر کے خلاف بنائے گئے اس سیاسی اتحاد کا اعترف مرحوم جنرل حمید گل بھی کرتے رہے اور ان کا دعوی تھا کہ وہ اتحاد بلکل درست تھا اور آئی ایس آئی کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق بے نظیر اس وقت اقتدار میں رہ کر قومی سلامتی خاص کر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں )

اسد درانی نے سابق انڈین اینٹلی جنس چیف اے ایس دلت کے ساتھ ملکر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کو انڈیا نے زور و شور سے پبلش کیا ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے کچھ حیران کن دعوے کیے ہیں اور بہت سے معاملات میں انڈین موقف کی تائید کی ہے۔ مثلاً

“کارگل پاکستان اور مشرف کی غلطی تھی اور پاکستان شکست کھا رہا تھا”
( جبکہ دوسری جانب کئی سابق انڈین آرمی افسران انڈین شکست کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں )

” افغانستان میں انڈین کونسل خانوں کی تعداد پاکستان بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے اور وہ کونسل خانے پاکستان کے خلاف جاسوسی یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہے”
( موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ پھر وہ کونسل خانے کیا کام کرتے ہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے دو عشروں بعد اس نے کب افغانستان جاکر وہ کونسل خانے گنے ہیں؟ )

سب سے حیران کن انکشاف اسامہ کے بارے میں کیا ہے کہ اس کے لیے جنرل کیانی کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اسامہ کی اطلاع بھی شکیل آفریدی نے نہیں بلکہ ایک ریٹائرڈ آئی ایس آئی اہلکار نے امریکہ کو دی تھی اور اسامہ کو زندہ امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ موصوف نے آگے لکھا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اسامہ کے سر پر موجود پانچ ملین ڈالر انعام میں سے اس اہلکار کو کتنے ملے ہونگے۔ 
( خیال رہے کہ اسامہ کا واقعہ جنرل موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بیس سال بعد پیش آیا۔ اس حوالے سے انتہائی باخبر رہنے والے بڑے بڑے صحافتی ادارے اور شخصیات کے علاوہ کئی ممالک کی اینٹلی جنس ایجنسیاں بھی بے خبر ہیں لیکن جنرل اسد درانی صاحب کو ایک ایک بات کا پتہ ہے )

جو لوگ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں ذرا سا بھی جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے مختلف بازو ایک دوسرے سے بھی حساس معلومات شیر نہیں کرتے جب تک ضروری نہ ہو۔ 
لیکن یہاں پچیس سال قبل رئٹائرڈ ہونے والے سابق افسر کے انکشافات سے یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے آئی ایس آئی اپنی ہر ایکٹوٹی کم از کم جنرل اسد درانی صاحب کو ضرور بتاتی رہی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرور کام آئے۔ یا دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ اسد درانی صاحب آئی ایس آئی کے متوازی اپنا کوئی ذاتی اینٹلی جنس نیٹ ورک چلا رہے ہوں جس کا کام آئی ایس ائی کی نگرانی کرنا ہو؟

جنرل اسد درانی اپنی کتاب کی پبلسٹی کے لیے کافی پرجوش ہیں اور وہ انڈیا جانے کے لیے بھی بے تاب نظر آرہے ہیں۔

میری رائے کے مطابق ریٹائرڈ جنرل اسد درانی کی یہ کتاب تنہائی سے اکتائے ایک سٹھیائے ہوئے بڈھے کی منظر عام پر آنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں جس سے شائد وہ چند پیسے بھی کمانا چاہتا ہے۔ کتاب من گھڑت اور جھوٹے واقعات سے لبریز ہے۔

میرے خیال میں پاک فوج کو اسد درانی کا کورٹ مارشل کرنا چاہئے اور ان سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ کتاب میں بیان کیے گئے دعوؤں کو ثابت کریں اور ان دعوؤں کا سورس بتائیں۔

گندے انڈے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ کچھ انڈے وقت گزرنے کے ساتھ گندے ہوجاتے ہیں۔ جنرل اسد درانی اور جنرل شاہد عزیز بھی اسی ٹائپ کے گندے انڈے ہیں۔ میرے خیال میں اب ان گندے انڈوں کو توڑ کر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔

نواز شریف اس کتاب پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کو علم ہونا چاہئے کہ اسی جنرل نے دعوی کیا تھا کہ نواز شریف نے آئی ایس آئی سے رشوت لی تھی اس پر بھی کمیشن بننا چاہئے یا نہیں؟

باقی آپ یہ دیکھیں کہ اس کتاب کی ٹائمنگ کیسی ہے… جب پاکستان میں ہندوستان کے لیے نرم ترین گوشہ رکھنے والے نواز شریف پر سخت وقت ہے… اس پر وطن سے غداری جیسے الزامات لگ رہے ہیں…. اور بقول ہندوستانیوں کے کہ انہوں نے نواز شریف پر انویسٹ کیا ہے…. وہ اپنی انویسٹ منٹ کو ضائع نہیں ہو نے دے سکتے… یہ کتاب یقینا راتوں رات مکمل نہیں ہوئی لیکن اس کو شائع کرنے کا مقصد پاک آرمی اور آئی ایس آئی کے خفیہ کاموں کو منظر عام پر لا کر ان کی امیج خراب کرنے کی ایک کوشش ہے… یہ ہائبرڈ وار فیئر ہے… اس وار فیئر میں ہر چیز جھونکی جاتی ہے.. پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا بھی اس جنگ کا سب سے اہم ہتھیار ہے…. تبھی تو نوا شریف کہنے لگ گیا ہے کہ کیا صرف میں ہی غدار ہوں… اس کتاب نے اس پر آئے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے……….




حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں غلطی کرتی ہیں

4-اقتدار چھیننا

جن دینی تحریکوں پر اقتدار کا نشہ سوار ہے وہ پہلے سے برسرِاقتدار حکومتوں کو ہر طریقے سے ختم کرنے کے آرزو مند رہتی ہیں۔اور موقع کی تلاش میں رہتی ہیں کہ ان سے اقتدار چھینا جائے۔ اس کے لیے وہ برسر اقتدار پارٹیوں کے کمزور پہلو تلاش کرکے ان کے خلاف عوام کو  بھڑکاتی ہیں۔ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں کہ برسرِاقتدار پارٹیوں میں کمزوریاں نہیں ہوتیں، یہاں تو یہ بتانا ہے کہ آیا شریعت میں اس بات کا جواز ہے کہ برسر ِاقتدار مسلمان حکمرانوں سے ان کا اقتدار بزور اور زبردستی چھینا جائے۔ جو لوگ دین نہیں جانتے ان کی بات تو علیحدہ ہے۔ دین داری کے دعوے داروں اور ملک میں اسلام کو رائج کرنے کا ادّعا رکھنے والوں کو اس کی کوئی دلیل تو مہیا کرنی چاہئے۔وہ ایسی کوئی آیت یا حدیث تو لائیں جس میں مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھیننے کی تعلیم ہو۔ ان کے سامنے یہ بات نہیں کہ فرعون کے ہاتھوں ظلم میں پسنے والے بنی اسرائیل کو فرعون سے اقتدار چھیننے کے بجائے اس کا علاقہ چھوڑنے کا حکم ہوا۔

انہی تحریکوں کے پروردہ ایک شخص سے راقم کی بات ہوئی تو اس نے واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ اللہ نے نہیں فرمایا کہ ظالموں سے اقتدار چھینو۔ میں نے کہا یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ تو وہ صاحب ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ اگر کوئی یہ دلیل پیش کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔”

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو”۔

(النسآء : 4)

  لہٰذا ہمیں نااہل لوگوں سے چھین کر حکومت اس کے اہل کے سپرد کرنی چاہیے۔ تو یہاں دو باتیں عرض ہیں کہ حکومت چھیننے کا یہاں ذکرنہیں ، دوسرے یہ کہ جو خود اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے شریعت کی نگاہ میں وہ خود ہی نااہل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے ہی ایک شخص کو نااہل قراردیا تھا۔ حوالہ آرہا ہے۔

5- حصول ِ اقتدار کا قرآن مجید میں کوئی حکم ہے؟

قرآن مجید اپنے ماننے والوں کو جن جن احکامات پر چلنے یا جن باتوں سے رکنے کا حکم دیتا ہے اور بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے  اسے صراحت  سے یا اشاروں سے سمجھا دیتا ہے مگر ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ بات لکھتا ہوں کہ حصولِ اقتدار کا حکم نہ صراحتًامجھے ملا ہے اور نہ اشارتاً۔ اگر حصول ِاقتدار اتناہی اہم فریضہ ہوتا ، جیسا کہ بعض جماعتوں نے  سمجھ رکھا ہے ، تو قرآن مجید میں اسکا حکم ہونا چاہیے تھا کہ اقتدار حاصل کرو۔

قرآم مجید میں ایسی وضاحتیں تو موجود ہیں کہ “جنہیں ہم زمین میں اقتدار دیتے ہیں تو  وہ تماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ کا نظام قائم کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

( الحج : 41)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جسے اللہ اپنی خوشنودی سے اقتدار نصیب فرمائے، ان کی یہ خصوسیات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ خوشنودی کا لفظ یہاں اس لیے استعمال کیا کہ فرعون ، ہامان ، نمرود کوبھی اقتدار   اللہ نے دیا تھا ور آج کے کافرون کو بھی دیتا ہےمگر اس میں اسکی رضا شامل نہیں ہوتی۔

زیادہ سے زیادہ ایسی تحریکوں کے پاس ایک یہ آیت اپنے موضوع پر موجود ہے کہ:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ۔

“تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے”۔

(آل عمران : 104)

یہاں “امۃ ” کا لفظ آیا ہے جس کے معنی لوگوں کے بھی ہیں۔  اگر جماعت مراد ہو بھی تو نبی کریم ﷺ کو ایک علیحدہ جماعت بنا کر اس کا ایک علیحدہ امیر مقرر کردینا چاہئے تھا جیسا کہ آج یہ لوگ سمجھتے ہیں۔  تیسرےیہ کہ جماعت اور حکومت دو علیحدہ علیحدہ اصطلاحیں ہیں۔ جماعت کا ہونا اور بات ہے اور حکومت کا اختیار اور بات ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے حکومت ضروری نہیں۔ ہر کوئی اپنی سطح پر یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ اگر یہ فریضہ حکومت ملنے کے بعد ہی ادا ہونا ہوتا تو قرآن مجید میں پہلے حکومت کےحصول کا ذکر ہوتا۔ اسی طرح جو جماعتیں اس آیت سے استدلال کرتی ہیں ان کے پاس حکومت نہیں ہے اور وہ اپنے طور پر یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ اس فریضے کو بڑے اچھے انداز سے نبھا رہے ہیں۔

اسی طرح ایسے لوگوں کی زبانوں پر علامہ اقبال کا ایک شعر بھی گردش کرتا ہے:

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو—-جدا ہودیں سیاست سے رہ جائی ہے چنگیزی

اور اس شعر کو وہ ایک شرعی حکم سمجھ کر اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی بھر پور کوکشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ شعر تو نظام حکومت اور سیاست سےدین کو الگ رکھنے کی روش کی مذمت میں ہے  کہ دین کو الگ رکھنے سے ہر نظام ظلم و ستم اور فساد سے عبارت ہوتا ہے۔ جبکہ قران و سنت اور ہماری سنہری تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست کا آغاز اقتدار ملنے کے بعد ہوتا ہے۔ حصول اقتدار کے لیے نہیں۔ اور ہماری بات اقتدار کےحصول کے متعلق چل رہی ہے۔ جسے اللہ اقتدار دے دے اسے کیا کرنا چاہیے یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اگر قرآن مجید میں یا حدیث نبوی میں حکومت اور اقتدار حاصل کرنے کا مسلمانوں کو کوئی حکم دیا گیا ہے تو ازراہ کرم ہمیں  بھی اس سے آگاہ کیا جائے تاکہ اپنے محترم قارئین تک ان نصوص کو پہنچایا جائے اور ان پر عمل درآمد ہو۔ حدیث میں تو عامل یا گورنر مقرر کرنے کی حد تک بھی کسی کی ذاتی چاہت یا شوق کو پسند نہیں کیا گیا چہ جائیکہ کسی کی چاہت کے مطابق اسے کسی ملک کا اقتدار سونپ دیا جائے۔ واضح حدیث ہے:

“لن نستعمل علی عملنا من ارادہ”۔

 “ہم اپنے امور پر اسے ہرگز عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ رکھتا ہے”۔

( صحیح  مسلم : 1733)

 دوسری حدیث  میں ہے:

  “انا واللہ لانولی علٰی عملنا ھٰذا أحداً سألہ أو حرص علیہ” ۔

“اللہ کی قسم ! بے شک ہم اس کارِ حکومت پر کسی کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کو بھی نہیں اس کی حرص رکھتا ہے”۔

(صحیح مسلم : 1733)

ایک اور حدیث میں فرمایا:

 “فا نک ان اعطیتھا عن مسالہ وکلت الیھا ون اعطیتھا عن غیر مسالہ اعنت علیھا”۔

 ” بے شک اگر تمہیں یہ امارت تمہارے مطالبے پر دی گئی تو تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر یہ امارت تمہارے مطالبے کے بغیر تمہیں دی گئی تو اس پر ( اللہ کی طرف سے) تمہاری مدد بھی کی جائے گی”۔

(صحیح مسلم : 1823)

6- حصول اقتدار کے ہنگامی طریقے

اس طبقے اور پہلے طبقے میں فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دیتاہے جبکہ پہلا  طبقہ انہیں ظالم ، فاسق اور نااہل تو قرار دیتا ہےمگر کافر نہیں۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ اس نظام کو ناجائز سمجھتا ہے جس سے  حکومت حاصل کی جائے ، اس لیے وہ کسی اور طریقے سے حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ پہلا طبقہ نظام جمہوریت کو درست سمجھتے ہوئے اسی کے تحت حکومت  کا متمنی ہے۔ مگر پہلے طبقے کی طرح اس دوسرے طبقے کا منہج اور طریقہ حصول اقتدار شرعی طور  پر محلِّ نظر ہے۔ اور گزشتہ صفحات میں کی گئی وضاحتیں اس کے لیے کافی ہیں مگر ایک مزید خامی جو اس طبقے کے اندر ہے وہ ہے اپنے اقتدار کے لئے بہت  سے مسلمانوں اور بلادِ اسلامیہ کو فتنہ وفساد سے دوچار کرنا ، وہاں کے باسیوں کے قتلِ عام کو روا سمجھنا ، ان پر حملے کرنا، حکومتوں کو نشانہ بنانا۔ یہ شریعتِ اسلامیہ میں بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔

اپنی سرگرمیں اور کارروائیوں کےلیے اس طبقے کا دامن بھی شرعی دلائل سے یکسر خالی ہے۔ پہلے طبقے کی طرح انہیں بھی حصولِ اقتدار کی منزل درکا ہے، اس سفر میں خواہ ہزاروں انسانوں کا خون ان کے سر آئے اور بلادِ اسلامیۃ شروفساد کی آماجگاہ بنے رہیں۔ پھر وہ فساد اور فسادیوں کے متعلق قرآن مجید کے تبصرے سے یکسر نابلد نظر آتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے؟

7-کیا پھر مسلمانوں کو اجتماعی یا انفرادی سطح پر ایسی کوئی کوشش کرنی چاہئے؟

اگر پہلے طبقے کے اقتدار کی چاہت اور اس کےحصول کا  طریقہ بھی درست نہیں اور دوسرے طبقے کا بھی درست نہیں کیا موجودہ مسلمانوں کو اس کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے؟ تیسرے طبقے کی طرح بس اپنے اپنے دائرہ میں مصروف رہنا چاہئے۔ نہیں ، نہیں۔

 مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ دین پر عمل ، دین کو غالب کرنے کی کوشش کریں، اور ہر مرحلے اور میدان میں اور نظریے اور سوچ اور فکر میں اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول کو اپنا شعار بنائیں اور اپنی اپنی سطح تک اس کی تنفیذ کی کوشش کریں۔۔۔۔ اس طرح ایک صالح معاشرہ قائم ہوگا اور پھر اللہ جسے چاہے گا اقتدار کی ذمہ داری سونپ دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی مکہ مکرمہ میں حکومت کی پیش کش کو ٹھکردایا تھا اور ساری توجہ لوگوں کے ذہن بدلنے پر دی تھی بالآخر بڑے ہی غیر محسوس انداز سے اللہ نے اہل ایمان کو مدینہ منورہ کے  اقتدار سے نوازا اور رفتہ رفتہ یہ پھیلتا ہی چلا گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اقتدار دینے کو اپنے ذمے لیا ہے۔

موجودہ اکثر  مسلمانوں سے یہ کام ہوتے نہیں ۔ یہ مستقل نوعیت کے کام ہیں۔ اس راہ میں مسلکوں اور جماعتوں کے بت پاش پاش ہوتے ہیں، کریڈٹ جماعتوں کے بجائے اسلام کو جاتا ہے۔اس لیے ہم ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ

الا ماشاء اللہ سب مسلمان ہی اپنی اپنی جماعت کو ترقی دینے میں مگن  ہیں اور جس نے جس تحریک  میں آنکھ کھولی ہے اور پرورش پائی ہے وہ اس کے نظریات سے سر مو انحراف کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اور اسلام ایک طرف کھڑا نظر آرہا ہے۔

یہاں ایک اور سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا اسلام نے حکومت سازی کے اتنے اہم مسئلے پر روشنی نہیں ڈالی ؟

 اسکا جواب آئندہ  مضمون میں دیا جائے گا ۔(ان شا ء اللہ)




حصول-اقتدار-کا-قرآنی-تصور-حصہ-اول

حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں  غلطی کرتی ہیں

حصول-اقتدار-کا-قرآنی-تصور-حصہ-اول

حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں  غلطی کرتی ہیں

حصول اقتدار کے حوالے سے موجودہ دور میں عالمی سطح پر مسلم دینی جماعتوں اور تحریکوں کے چار رجحانات نظر آتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو اپنی تمام دینی اور جماعتی سرگرمیوں کا محور حصولِ اقتدار کو سمجھتی ہیں۔ ان کی ہر کاوش اور کوشش یہاں تک کہ دروسِ قرآن اور تعلیمِ قرآن کا مطلب بھی یہ نظر آتا ہے کہ اقتدار اللہ کے نیک بندوں کے پاس آنا چاہیے۔ اور پھر وہ اپنے آپ کو اعلیٰ پائے کے نیک ، متقی اور باصلاحیت لوگ سمجھ کر زندگی اور اسکا ایک ایک لمحہ حصولِ اقتدار کی خاطر گزار دیتے ہیں۔

 انکی کوشش یہ ہے کہ مغرب کا جو نظامِ جمہوریت چلا آرہا ہے ،اسی کے تحت حکومت اور اقتدار حاصل کیا جائے۔

دوسرا دینی طبقہ وہ ہے  جو حصولِ اقتدار کی کوشش کرتا ہے مگر وہ موجودہ نظامِ جمہوریت کو درست نہیں سمجھتا اور وہ جمہوریت کے علاوہ کسی اور طریقے سے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس طریقے کو خلافت، ملوکیت یا جمہوریت کسی نظامِ حکومت سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔

تیسرا دینی طبقہ وہ ہے جو اقتدار کے حصول کی کوشش کرتا ہےاور نہ ان کے اہداف و مقاصد میں ایسی کوئی بات ہے اور نہ ہی ان  کے منشور میں یہ بات شامل ہے۔وہ بس اپنے آپ میں مگن ہیں۔اپنے اپنے نظریات خواہ   وہ درست ہو یا غلط، ان کے پرچار کےلئے وہ کوشاں ہیں، اسی کے لئے وہ جیتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض کی طرف سے کبھی کبھی اقتدار کے حصول کی کوشش محسوس ہوتی ہے یا انفرادی طور پر ایسے کئی رجحانات سامنے آتے ہیں۔جیسے ہمارے ہاں کی تبلیغی جماعت ہے اور یہ  عالمی سطح کی ایک جماعت ہے، یا دعوتِ اسلامی ہے۔اسی طرح بعض دیگر دینی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں۔

اس کے علاوہ کئی دینی جماعتیں خلافت کے لئے زمین ہموار اور ماحول سازگار بنانے کے لئے کوشاں ہیں ۔

تعصب سے بالا اور قرآن فہمی کا ذوق رکھنے والے قارئین ! ذیل میں ہم حصول ِاقتدار کا قرآنی منشور پیش کرتے ہیں ۔ اور آپ کو دعوتِ فکر دیتے ہیں۔ پہلے کی طرح اب بھی ہیں اپنا موقف زبردستی منوانے کا شوق نہیں۔ اختلاف رکھنے کا حق ہر ایک کے پا محفوظ ہے۔ تو لیجیے قرآن میں حصولِ اقتدارکی راہ نمائیاں ۔

قرآن مجید نے لوگوں کی ذہن سازی کی ہے کہ اقتدار کا مالک اللہ ہے۔

1-اقتدار کا مالک اللہ ہے ، وہ جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے

اس ضمن میں قرآن مجید نے بادشاہت کو بھی اللہ کی عنایت قرار دیا ہے، خلافت کو بھی اور وزارت کو بھی۔

(الف) بادشاہت اللہ کی طرف سے ہے:

 اس کے کئی ایک دلائل قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں:

1قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ ۔

“کہہ دیجیے اے بادشاہت کےمالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہت چھین لیتا ہے”۔

(آل عمران : 26)

2-إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا.

“بے شک اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے”۔

(البقرۃ : 247)

3- وَاٰتٰهُ اللّٰهُ المُلكَ.

“اور اللہ تعالیٰ نے انہیں (داود علیہ السلام کو ) بادشاہت دی”۔

( البقرۃ:  251)

4-یوسف علیہ السلام کی دعا:

رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ.

“میرے رب ! تحقیق تو نے مجھے بادشاہت میں سےکچھ نوازا۔”

(یوسف:  101)

5-بنی اسرائیل کے باشاہوں کو بھی اللہ نے بادشاہت دی جیسا  کہ موسیٰ علیہ السلام  نے اپنی قوم سے کہا :

اذْکُرُوْا نِعْمَۃ اللّٰہ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآء ۔

“اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم میں انبیاء بھی بنائے اور تمہیں بادشاہ بھی بنایا”۔

(المائدہ:  20)

6-ذولقرنین کے متعلق فرمایا:

إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ
“بے شک ہم نے  اسے زمین میں اقتدار دیا”۔

 (الکھف:  84)

7- بادشاہت اللہ کی طرف سے ہے حتیٰ کہ کسی کافر اور فاسق کوبھی بادشاہت ملتی ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ہے۔ نمرود  کے بارے میں اللہ نے فرمایا:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ.
“کیا آپ نے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا جس نے ابراہیم علیہ السلام  سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے بادشاہت دی”۔

 (البقرۃ:  258)

یہ علیحدہ بات ہے کہ ایسے لوگوں  کو اقتدار دینے میں اللہ کیی رضا شامل نہیں ہوتی محض ارادہ ہوتا ہے۔

(ب) خلافت بھی اللہ کی طرف سے ہے:

 فرمان باری تعالیٰ ہے :

وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ

“اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان والوں اور عمل صالح اختیار کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں خلافت دے گا جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلافت دی تھی “۔

(النور:  55)

(ج) وزارت بھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے:

سیدنا یوسف علیہ السلام کو مصر کی وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا گیا۔ تیرھویں پارے کے  آغاز میں اس کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 وكَذٰلِكَ مَكَّـنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِ .
” اور اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کوزمین (مصر ) میں اقتدار دیا”۔

( یوسف:  56)

مذکورہ آیا ت اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں کہ زمین کی بادشاہت ،خلافت یا اقتدرا و ر وزارت اللہ  کے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ کسی کا اقتدار  یا حکومت اس کی رضا سے ہوتا ہے اور کسی کا اقتدار محض اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور اس میں اسکی رضا شامل نہیں ہوتی۔

اگلا سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے تو کیا بندوں کو کوشش  نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اقتدار لیں۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ:

 نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَـهُـمْ مَّعِيْشَتَـهُـمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا.

” ہم نے دنیا کی زندگی  میں ان کے مابین روزی تقسیم کی ہے”۔

( الزخرف:  32)

تو کیا بندوں کو حق حاصل نہیں کہ وہ روزی حاصل کرنے کے لئے جستجو کریں؟ اسی طرح اقتدار اللہ تعالیٰ دیتا ہے تو بندوں کو اقتدار لینے بلکہ چھیننے کا حق حاصل نہیں؟ تو آئیے یہ سمجھنے کو کوشش کرتے ہیں۔

2- اللہ سے اقتدار لینے کے لئے بندوں کی کوشش

سابقہ مثال کا جواب یہ ہے کہ روزی اللہ تعالیٰ نے تقسیم کی ہے اور ساتھ لوگوں کوحکم بھی دیا ہے کہ وہ روزی تلاش بھی کریں۔ اور اللہ کے برگزیدہ بندے بھی محنت کرکے روزی تلاش کرتے رہے۔ مگر  اقتدار لینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا اور پورے قرآن  مجید میں اللہ تعالیٰ نے جن جن ہستیوں کو اقتدار دینے کا تذکرہ کیا ہے ان میں کسی کی طر ف سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کا تذکرہ نہیں فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے جن انبیائے کرام علیھم السلام کو بادشاہت سے نوازا یا وزارت نصیب فرمائی، اسی طرح اس امت میں جن کو خلافت سے نوازا گیا انہوں اپنے طور پر ان عہدوں کی کوئی کمپین چلائی؟ اوڑھنا بچھونا حصول اقتدار کو بنایا؟ اپنے آپ کو اس کا واحد اہل ثابت کرنے کی کوشش کی۔۔؟ نہیں، ان میں سے کسی نے بھی ایسا کچھ نہیں کیا۔

اگر کوئی شخص کہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے خود کہا تھا کہ :

اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ.

“مجھے سرزمین (مصر) کے خزانوں پر مامور کردیں”۔

(یوسف:  55)

 تو ہم کہیں گے کہ کیا یوسف علیہ السلام نے وزارتِ مصر ملنے سے پہلے کی تمام قربانیاں مصر کے اقتدار کے لئے دی تھیں۔کیا ان کے حاشیہِ خیال میں بھی ایسی بات تھی۔ انھوں نے اللہ کا خوف دل میں رکھا اور اس کے احکام کی بجا آور ی کی اور ایک دن ایسا آیا کہ بادشاہ نے خود یہ اظہار کیا:

ائْتُـوْنِىْ بِه اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِىْ.

“انہیں (یوسف علیہ السلام) کو میرے پاس لاؤ، میں انہیں خاص الخاص اپنے لئے  رکھنا چاہتا ہوں”۔

( یوسف:  54)

جب بادشاہ نے یہ اظہار کیا تواس وقت یوسف علیہ السلام  نے خواہش کا اظہار کیا کہ (اگر اصلاح مطلوب ہے تو) مجھے سرزمین مصر کے خزانوں پر مامور کردیں۔

سیدنا یوسف علیہ السلام  کے علاوہ پہلے عنوان کے تحت جن جن کا ذکر ہوا ہے ان میں سے کسی کی حصول اقتدار  کے لیے کوئی کوشش سامنے نہیں آئی ۔ طالوت ہوں کہ داؤد علیہ السلام ، بنی اسرائی کے بادشاہ ہوں یا رحمت عالم ﷺ  کے خلفاء ، آپ کو ان کی طرف سے حصول اقتدارکی خاطر دعوتیں کرنے ، سرگرمیاں دکھانے، افطار ڈنر دینے، لوگوں سے اس سلسلے میں میل جول رکھنے کا شوق تھا نہ ان کا یہ مطمح نظر تھا۔

دراصل  وہ اللہ کے احکام سے یہی سمجھے تھے کہ خلافت و حکومت اللہ کے اختیا رمیں ہے ۔ وہ جسے چاہے گا یہ سونپ دے گا ہمیں بس اس کے احکام ماننے ہیں۔ اگر حصول اقتدار کے پیش نظر کوئی سرگرمیاں  اختیار کی ہوتیں، اس کی خاطر قوم سےمکالمے کیے ہوتے تو ان کا کچھ نہ کچھ حصہ تو ضرور اللہ تعالیٰ قراآں مجید میں بیان فرمادیتا مگر اقتدار سے نوازے جانے والے انبیاء  کرام علیھم السلام اور بعض دیگر شخصیات کے واقعات اور ان ک مختلف پہلوؤں میں حصول اقتدار کی سرگرمیوں کا کوئی اشارہ تک محسوس نہیں ہوتا۔

ہاں! سیدنا سلیمان علیہ السلام کی دعا ضرور تھی کہ :

 وَهَبْ لِـىْ مُلْكًا لَّا يَنْبَغِىْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِىْ.

” اور مجھ ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کے لائق نہ ہو”۔  

:  35)

 یاد رہے ! یہ دعا بھی حالت اقتدار میں مانگی کئی تھی نہ کہ اقتدار سے پہلے ۔ یہ دعا تو یہ درس دیتی ہے کہ اقتدار اللہ کے پاس ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اقتدار ظالموں کے پاس ہے  جبکہ یہ ہمارے پاس ہونا چاہئے تو وہ یہ دعا کرے  کہ اللہ! ہمیں یہاں کا اقتدار نصیب فرمادے۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو خلافت عطا ہوئی ۔ کوئی بھی صاحب علم وتحقیق کیا یہ ثابت کرسکتا ہے کہ انہوں نے خلافت کے حصول کے لئے کوئی مہم  جوئی کی تھی یا رفاقتِ رسول ﷺ کی سعادت وہ حصول   اقتدار کے لئے کرتے رہے؟ میں اپنے مطالعے کی حد تک کہتا ہوں کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے جمع ہونے اورسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو خلافت ملنے سے قبل خود سیدنا  ابوبکر رضی اللہ کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ انہیں خلیفہ بننا ہے۔ وہ اس کے لئے مہم جوئی کیا کرتے!!  جس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلافت  ملی  وہ مکمل واقعہ بول کر یہ بتارہا ہے کہ انصارو مہاجرین کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ چند ہی لمحوں بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسند خلاف پر جلوہ افروز ہوں گے۔یہ صورت حال دیکھ کر واقعی اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں خلافت سے نواز کر اپنا وعدہ پورا کردیا۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ جماعتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے کتنے ہی امیر حکومت کے لئے جستجو کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ایک امیر نے جہاںسرگرمیاں چھوڑی تھیں، دوسرے نے وہی سے آکر آغاز کیا۔ اپنے آپ کو نامزد کیا، اہل ثابت کرنے کی کوشش کی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی خلافت ملنے کا اندازہ نہ تھا ور اسی طرح بعد والے خلفاء  رضی للہ عنھم کو ۔ یہاں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ کی خلافت کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔  بڑی مشکل سے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خلافت کی ذمہ داری اٹھانے پر مجبور کیاگیا۔ اس کے باوجود جب وہ خطبہ خلافت دینے کے لئے منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو کہنے لگے:  لوگوں!! حکومت کے معاملے میں میری رائے کے بغیر ہی مجھے اس آزمائش سے دوچار کیا گیا ہے،  نہ میرا یسا کوئی مطالبہ تھا ، اور نہ  مسلمانوں کا مشور ہ تھا۔ اور میں نے جو آپ سے بیعت لی ہے اسے ختم کرتا ہوں، لہذا تم اپنے لیے کسی اور کو پسند کرلو۔ یہ سن کر موجود تمام لوگ یکبارگی پکارنے لگے: امیر المومنین! ہم نے آپ کو اختیا رکیا ہے، ہم آپ پر راضی ہیں۔ خیروبرکت سے آپ ہمارے معاملے کے والی بنیں۔ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہاللہ نے محسوس کیا کہ اس کے بغیر چارہ نہیں  ہے ، تب انھوں بات آگے بڑھائی۔۔۔۔

(تاریخ دمشق )357:45

ایک طرف یہ کردار ہے اور دوسری طرف یہ دینی تحریکوں کے لوگ ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ نظام حکومت کو خلفائے راشدین کےمطابق چلانے کے دعویدار بھی ہیں۔ اور اپنی تقریر و تحریر کو انھی کے کارناموں سے مزیّن کرتے ہیں۔

مگر جن لوگوں نے حالیہ دینی تحریکوں کے آنگن میں آنکھ کھولی ہے وہ کبھی بھی ان حقائق کو ماننے کے لئے تیا رنہیں ہیں۔ وہ تو بس ایک ہی بات کہتے ہیں اور کرتے ہیں کہ اسلام کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ اقتدار ، اقتدار اور بس اقتدار۔۔۔ اور اس کے اہل ہیں بھی بس وہ خود، وہی اور وہی۔

جب راقم نے بعض تحریکوں اور ان کے منشور کو اسی ایک نقطے پر مرکوز پایا، حصول اقتدار کی ریلیوں میں گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا اور اس کی خاطر کفن پہنتے دیکھا تو اس پہلو سے قرآن و سنت کا مطالعہ کیا اور اسی کا ایک  مختصر خلاصہ پیش کیا جارہا ہے۔

3- حصول اقتدار کے لئے ہر ناجائز طریقہ بھی جائز ٹھہرا

جن جماعتوں یا تحریکوں نے حصول اقتدار ہی کو اپنی منزل سمجھا ہے وہ اس امر کو بھی لازم نہیں سجھتیں کہ حصول اقتدار کا طریقہ بھی جائز ہونا چاہئے۔انہیں لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کےلئے جو کچھ کرنا پڑے وہ اس کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ وہ اتحاد کے دلفریب نعروں کی آڑ میں حق کے اظہار سے باز رہتے ہیں۔ وہ لوگوں سے یہ تو پوچھتے ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ  بریلوی تھے، دیوبندی تھے، شیعہ تھے، یا اہلحدیث اور یہ پوچھ کر یہ  بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ ان میں سے کچھ بھی نہیں تھے لیکن خود اپنی جماعت کو مسلک کی سطح پر لے جاتے ہیں۔۔۔۔ اور لوگوں سے یہ نہیں پوچھتے کہ مکی دور میں رسول اکرم ﷺ نے اقتدار چھیننے کی کتنی تحریکیں بنائی تھیں؟ آپ ﷺ نے سیاسی استحکام کے لئے مسلمانوں کو کتنے گروہوں میں تقسیم کیا تھا کہ ہر کوئی علیحدہ علیحدہ امیر بنا کر ساری زندگی اپنی جماعت کے گرد ہی گھومتا رہے۔ اسی طرح ایسی جماعتیں غیر اسلامی طریقوں سے اسلام کا غلبہ چاہتی ہیں۔  دراصل ایسی جماعتیں اسلام کا نام لے کر عوام کو دھوکا دینا چاہتی ہیں۔

جاری ہے…..




داعش سے دعوتِ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا اعلان براءت

 داعش سے  منہج نبویﷺ کا اعلان براءت

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

دور حاضر میں خارجی تنظیم داعش کے ظہور کے بعددشمنوں نے یہ سازش شروع کر دی کہ داعش ، محمد بن عبد الوھاب ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی پیرو کار ہے ، انہیں کے مسلک کو اپنی دلیل بناتے ہیں لہذا یہ وہی لوگ ہیں ، ان کا عقیدہ و منہج وہی امام اہل السنہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کے سلفی عقیدہ و منہج جیسا ہے ۔ 

لیکن میں کہتا ہوں کہ ان دونوں کے منہج کو ایک قرار دینا  مچھلی اور سانڈے کو ایک قرار دینے کے مترادف  ہے۔

لیکن چونکہ کئی خارجی فرقوں  نے اس چیز  کا دعویٰ کیا ہے کہ ہماری  دعوت اور محمد بن عبد الوہاب  رحمہ اللہ  کی دعوت ایک ہے۔

تو میں نے مناسب سمجھا کہ میں ان کے اس دعوے کا پول کھولوں،چنانچہ  میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نے یہی دعویٰ کیا ہے، اور اس نے  امام محمد بن عبدالوھاب کی کتاب “الدررالسنیۃ “(الدررالسنیۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب کے اور ان کے شاگردوں  کے ان رسائل کا مجموعہ ہے کہ جس میں توحید کا بیان اور غلو فی التکفیر کی ممانعت  ہے) سے کچھ مقامات کو اپنی بات کے دفاع میں ذکر کیا ہے  تو  میں نے اس کا بغور مطالعہ کیا تو مجھے اس کے تمام دعوے جھوٹ پر مبنی دکھائی دیے ۔لیکن چونکہ ان کا یہ دعویٰ ہے  تو میں ان سے کچھ سوالات کرنا چاہوں گا،چنانچہ اگر وہ ان کے صحیح جواب دیں تو ہم ان کے اس دعوے کو صحیح مان لیں گے۔ان شاء اللہ 

میں ان سے  ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ “داعش” (دولت الاسلامیہ فی العراق والشام) انہوں نے امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے اس قول سے  لیا ہے کہ:

معین چیز کی تکفیر نہیں کی جائے گی مگر جب اس پر حجت قائم ہو جائے اور حجت یہ ہے کہ  اس کے پاس اللہ کاکلام پہنچ جائے اور اس کا کوئی عذر بھی نہ ہو تو وہ کافر ہے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہم اسی  شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو اللہ کی ہیئت کے بارے میں شرک کرے حالانکہ اس کیلئے بطلان شرک پر حجت واضح ہو چکی ہو۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہم ہر اس شخص کی تکفیر کرتے ہیں  کہ جو اسلام سے پھر جائے اور لوگوں کو اس سے روکے اور اسی طرح جو بندہ بتوں کی عبادت کرے حالانکہ اس کو اس بات کا علم ہو کہ  یہ مشرکوں کا کام اور دین ہے،اور اس کو لوگوں کیلئے مزین کر کے پیش کرے تو یہ وہ شخص ہے کہ جس کی ہم تکفیر کرتے ہیں ، اور ہر عالم بھی ان کو کافر قرار دیتا ہے،مگر جس کے دل میں کینہ و عداوت ہو یا وہ جاہل ہو۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے: جب کوئی شخص جہالت کی وجہ سےکافروں اور مشرکوں والا عمل کرے  یا کسی نے اس کو تنبیہ نہ کی ہو تو ہم اس شخص کو کافر قرار نہیں دیتے یہاں تک کہ  کوئی اس پر حجت قائم کرے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے: جب وہ انسان جو اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتا ہو لیکن اس کے کچھ اعمال کفریہ ہوں یا اس کا عقیدہ کفریہ ہو  اور اس کی وجہ یہ ہو کہ  وہ دینی تعلیمات سےجاہل ہو تو  وہ ہمارے نزدیک کافر نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر کفر کا فتویٰ لگانے والا  اس پر اتمام حجت  نہ کردے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہر وہ شخص جس کے پاس قرآن پہنچ جائے(یعنی وہ اس کے اسرار و رموز اور احکام سے واقف ہو جائے) تو اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے،لیکن جاہل کا معاملہ اس کے بر عکس ہے کہ وہ اہل علم کا محتاج ہوتا ہے۔

نوٹ: یہاں ایک بات ملاحظہ فرمائیں  کہ سابقہ تمام اقوال  میں کچھ امام صاحب سے  ،منقول ہیں اور  بعض ان کے شاگردوں کے ہیں۔

یا داعشی  شاید اس قول سے استدلال کرتے ہیں:فتنوں اور غلبہ  جہالت کے زمانے میں کسی کی معین تکفیر کرنا جائز نہیں ہے  مگر جب اس پر حجت قائم کر دی جائے اور اس کیلئے سارے معاملے کو کھول کر بیان کر دیا جائے۔

یا  شاید یہ قول ہو:ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے سوائے اس کے کہ  جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرے  اور اس پر حجت قائم کر دی گئی ہو۔

یا یہ نص ہو : ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے مگر جس پر تمام علماء کرام جمع ہو جائیں۔

اور اسی طرح:ہم اسی تعریف کے بعد کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں ،جب وہ جان لے اور اس کا انکار کرے۔

یا یہ قول ہو سکتا ہے: ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے  مگر جو توحید کو جان لے پھر اس کی خلاف ورزی کرے  اور اس کو گالی دے اور خوارج کے مذہب پر چلے اور وہ شرک کو پہنچانتا ہو اور اس کو محبوب رکھتا ہو  اور لوگوں کو اس کی طرف بلاتا  اور رغبت دلاتا ہو  جب اس پر حجت قائم ہو جائے  تو وہ کافر ہے۔

ہو سکتا ہے یہ قول ہو : یہ مشرکین اور ان جیسے جو اولیاء اللہ کی عبادت کرتے ہیں ہم انکو کافر قرار دیتے ہیں بشرطیکہ ان پر حجت قائم کردی گئی ہو۔

تو یہ چند اقوال تھے لیکن اس کے علاوہ بھی  اس طرح کے کئی اقوال ہیں لیکن ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو اس خارجی نے الدررالسنیۃ اور آئمۃ السلف پر بہتان لگایا ہے اس کو کھول کر واضح کر سکیں۔

تو یہ کچھ ائمہ  جن میں امام محمد بن عبدالوھاب  انکے بیٹے اور انکے ساتھی، انکے شاگرد اور ان کے شاگردوں کے شاگرد حضرات شامل ہیں ،کے تکفیر کے متعلق  چند اقوال تھے۔

تو میرا سوال یہ ہے کہ  ان اقوال میں کہاں سے داعش کا منہج نکلتا ہے؟

یقیناً کوئی بھی محقق اور ذی شعور  آدمی ان کے اس دعوے کی تردید کرے گا۔

اورہاں  اگر کسی کے پاس اس حوالے سے کچھ ہو تو ہمیں بھی دکھائیں  تاکہ ہم بھی اس سے مستفید ہو سکیں لیکن حقیقت بات یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں بس امام صاحب کا نام لے کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانا ہے کونسا کسی نے تحقیق کرنی ہے بس نام استعمال کرو۔

لہٰذا اس سے  یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ داعش اور نبوی دعوت میں زمین و آسمان کے مثل فرق ہے ۔اس لئے داعش اور نبوی منہج کے درمیان فرق سمجھیں اور کفار اور خوارج کے اس جال سے بچنے کی کوشش کریں۔

اللہ آپ کا حامی وناصر ہو،آمین




حب الوطنی کے ردمیں غلو:

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!

کچھ لوگ تقوی اختیار کرنے میں غلو کا شکار ہیں اور اخلاص میں غلو کی وجہ سے بالخصوص القاعدہ اور داعش پاکستان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ جہاد کشمیر اس لیے درست نہیں کیونکہ یہ ملک کے لیے جہاد ہے جسے یہ “وطنیت” کہتے ہیں۔

یاد رکھیے!ہر چیز کے لیے اللہ تعالی نے ایک حد مقرر کر رکھی ہے اوراس حد سے آگے گزرنا اور اس میں غلو کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ملک کی طرف نسبت کرنا اور “دفاع پاکستان” کا نام لینا درست نہیں ۔
اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجیے کہ کسی بھی ملک کی محبت اور اس کی طرف نسبت کرنا اسلام کے مزاج کے بالکل خلاف نہیں ہے بلکہ بعض اوقات کسی وطن سے محبت کرنا مومنوں کا شیوہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام فطرت کے عین مطابق ہے۔
اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو وطن کی محبت ایک طبعی اور فطری چیز ہے جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے ،وطن سے محبت اور اس کی طرف نسبت کے حوالے سے قرآن و حدیث میں بہت سے شواہداور دلائل موجود ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْـهِـمْ اَنِ اقْتُلُـوٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَـعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْـهُـمْ

{النساء 66}

اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے۔
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالی نے جلا وطنی کو قتل کے برابر قرار دیا ہے ۔

[مفاتیح الغیب المعروف التفسیر الکبیر:15/515]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آرہے ہوتے اور مدینہ کے قریب پہنچ کر اس کی دیواریں نظر آنے لگتیں تو مدینہ کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے۔

[صحیح البخاری 1886]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وفی الحدیث دلالۃ علی فضل المدینۃ ،وعلی مشروعیۃ حب الوطن ،والحنین الیہ۔

[فتح الباری :3/621]

اس حدیث سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن سے محبت کی جاسکتی ہے۔
یہی بات امام عینی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “عمدۃ القاری” میں اور امام مبارکپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “تحفۃ الاحوذی” میں درج کی ہے۔
اسی طرح مکہ والوں کے مظالم سے تنگ ہوکر اور زخموں سے چور ہو کر اللہ تعالی کے حکم سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرمانے لگے تو مکہ کی طرف منہ کرکے آبدیدہ ہوکر کہنے لگے:
والله انک لخیر ارض الله، واحب ارض الله الی الله، ولولا اني اخرجت منک ما خرجت»

[ترمذي ۳۹۲۱]

اللہ کی قسم تو اللہ کی سب سے بہترین زمین ہے اور اللہ تعالی کی سب سے زیادہ پسندیدہ زمین ہے ،اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
کیا اس وقت مکہ دارالایمان تھا ؟
ہرگز نہیں ۔۔۔!
یہ حب الوطنی ہی تھی کہ 360 بتوں کا مرکز ہونے کے باوجود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسندیدہ قرار دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے تو فرمایا :
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْاَشَدَّ حُبًّا
یا اللہ مکہ کی طرح مدینے کو ہمارا محبوب بنا دے بلکہ مکہ سے زیادہ ) محبوب بنا دے

(بخاری ج1 ص{5654)

صحیح البخاری کو قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب سمجھا جاتا ہے اور اس کتاب کی نسبت بخارا شہر کی طرف ہے وہ بخارا کہ جہاں امام بخاری رحمہ اللہ کو پاوں رکھنے کی بھی اجازت تک نہ تھی ، پھر بھی بخارا کی طرف نسبت تھی ، امام ترمذی ، امام نسائی وغیرھم اکثر ائمہ کی اپنے ملکوں کی طرف نسبت تھی۔
تو کیا ہم پاکستان کی طرف اپنی نسبت نہیں کرسکتے ؟جس کے ہم پر کئی احسان ہیں، جس کا قرض ہمیں چکانا ہے، اس کے برعکس جو شخص اس نسبت کو برداشت نہیں کرتا وہ اپنے تقوی اور دین کے معاملے میں غلو کا شکار ہوچکا ہے ،اسے اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لینا ہوگا ۔
میں تو یہی کہتا ہوں :شرعی دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک و ملت کی طرف نسبت ، اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
امام ذھبی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی پسندیدہ چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
وكان يجبُ عائشة، ويحبُ أباها، ويحبّ أسامة، ويحب سبطيه، ويحب الخلواء والعسل، ويحبّ جُبل أحد، ويحب وطنه، ويحبّ الأنصار، إلى أشياء لا تُحصى مما لا يغني المؤمن عنها قط.

{سیر اعلام النبلاء للذھبی }

نبی صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، ان کے والد محترم ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے،اور اسامہ رضی اللہ عنہ سے اور اپنے دونوں نواسوں سے شدید محبت کرتےتھے، میٹھے اور شہد کو بھی پسند کرتے تھے ،جبل احداور اپنے وطن سے محبت کرتے تھے انصار سے بھی پیار کرتے تھے اور ہر اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ جن سے ایک مومن کبھی بھی بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک کی طرف نسبت اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
ہاں البتہ یہ وطنی محبت اسلام مخالف نہیں ہونی چاہیے بلکہ دین اسلام کی سر بلندی میں ممدو معاون ہونی چاہیے ،اگر دین اسلام اور ملک و ملت مقابل ہوں تواسلام کی خاطر ہر چیز قربان ہے۔
نوٹ:
ہم یہ بات دلائل صحیحہ کی روشنی میں ثابت کرچکے کہ وطن ، ریاست و ملک اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس سے محبت شعائر اسلام کی مخالفت نہیں بلکہ ایک مومن کیلئے دینی فریضہ ہے کہ وہ ہر اس ملک سے محبت کرے جو دین اسلام کے نام پر بنا ہو اور اس کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرے اس کے خلاف ہر پراپیگنڈے سے بچے تاکہ اس کا ایمان کامل رہے ۔
یہ وطن عزیز ملک خدادِ پاکستان اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ پر ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ان گنت قربانیاں دی گئی اور اس کے دستور میں یہ بات شامل کی گئی کہ اس کا قانون اسلام کے عین مطابق ہو گا ، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں لوگ بدلتے رہے ذہنیت میں تبدیلی آنے کی وجہ سے قوانین بھی بدل گئے لیکن آج بھی اس قانون میں یہ بات موجود ہے کہ جو شق اسلام مخالف قرار پائے گی اس کا نفاذ یہاں نہیں ہو گا ۔
کچھ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف بلکہ یہ کہنا غلو نہ ہو گا کہ اسلام کے لبادوں میں اسلام دشمن ممالک کی ایک گہری سازش اور مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ جو اسلام کے نام پرپیدا ہوا لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی اسلام اور اسلامی ممالک کو ہوا وہ ہے القاعدہ اور داعش اور ان کے نظریات پر چلنے والی کچھ اور تنظیمیں جنہوں نے مسلمان ممالک کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کے جواز کے فتوے دیئے اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا پھر مسلم علماء نے ان کا تعاقب کر کے ان کے شریعت مخالف نظریات اور نعروں سے لوگوں کو آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ دین نہیں بلکہ دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے نظریات ہیں۔

اب 2018میں انہوں نے کشمیر کا رخ کیا کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر ہندوستان نے غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے ،اور ہندوستان حکومت کی ہر کوشش رائیگاں چلی گئی کہ وہ کشمیروں کے دلوں سے پاکستان کی محبت کا قلع قمع کر سکیں بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ دن بہ دن ان کی محبت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور انشاءاللہ ہوتا رہے گا،جب ہندوستان حکومت زورِ بازو کشمیریوں کو جھکا نہ سکی تو اس نے اگلا داوٴ لگایا کہ ان کے نظریات کو خراب کردیا جائے تو اس نے اس پلان کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے “داعش” اور “القاعدہ” کا سہارا لیا ،القاعدہ نےکشمیر میں “ذاکرموسی” کو اپنے ساتھ ملایا اور “انصار غزوۃ الھند” کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھ کر ذاکر موسی کو اس کا امیر مقرر کردیا ۔
اور پھر یہ نعرہ بلند کیا کہ وطن کیلئے جہاد کرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے ،اور اس کی وضاحت یوں کی کہ کشمیری پاکستان کا نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان ” لگا کر جہاد کررہے ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے اور واضح کفر ہے ، اس لیے یہ نعرہ ختم کر کے صرف ہندوستان کے خلاف اپنے حقوق کے لیے جہاد کریں ۔
ہم اوپر شریعت اسلامیہ کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں کہ اسلامی ملک سے محبت کرنا ایک مومن کے لیے ضروری ہے،اسلامی ملک سے محبت اور اس کے ساتھ ملنے کے لیے کوشش، کوشش میں اگر جہاد کی بھی ضرورت پڑے تو کیا جاسکتا ہے اور یہ جہاد 100فیصد حقیقی اسلامی سنت نبوی کے عین مطابق جہاد ہو گا جیسا کہ تاریخ نبوی ﷺ سے اس کے کئی ایک شواہدملتے ہیں۔
ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں جب تک زندہ رکھے دین اسلام اور منہج نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنےوالا بنا کر زندہ رکھےاور ہمارا خاتمہ بالایمان ہو ،رب العالمین ہم سے راضی ہو اور ہم اس سے راضی ہوں ۔




غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا

غیر شرعی قرار داد پاس کرنے کے سبب حکمرن پر تنقید کرنا.

غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

اکثر ہمارے معاشرے میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی ایسی قرارداد پاس کر دی جاتی ہے جو بسا اوقات شریعت اسلامی کے مخالف بھی ہو سکتی ہے ۔

سوال: کیا غیر شرعی ، گناہ والی یا شریعت مخالف قرارداد یا بل وغیرہ پاس کرنے پر حکمران پر اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ اس بارے میں سلف صالحین کا کیا عمل ہوا کرتا تھا؟ 

جواب: حکمران کی اطاعت واجب ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ

اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالی کی، اور اطاعت کرو رسول اللہ کی ، اور ان کی بھی جو تمہارےحکمران ہیں۔

(النساء: 59)

پس جو بات واجب اور اصل ہے وہ حکمران کی اطاعت ہے لیکن اگر وہ کسی معصیت وگناہ کا حکم دے تو اس کی اس معصیت میں اطاعت نہیں کی جائےگی۔ کیونکہ آپ ﷺ  کا فرمان ہے:

’’لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ‘‘ 

(خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔

[رواہ احمد برقم (20653)، والطبرانی فی الکبیر (18/381) واللفظ لہ عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ]

اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:

’’إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ‘‘

(اطاعت تو صرف معروف کاموں میں کی جاتی ہے)

[رواہ البخاری برقم (7145، 4340)، ومسلم برقم (1840) من حدیث علی رضی اللہ عنہ]

لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپ حکمران کے خلاف خروج کریں یا اس کا تختہ الٹنا چاہیں، بس یہ ہے کہ آپ وہ معصیت نہ کریں جس کا وہ حکم دے رہا ہے اور اس کے علاوہ جن باتوں کا وہ حکم دے اسے بجالائیں۔ آپ اسی کی حکومت کے ماتحت رہیں، نہ اس کے خلاف خود نکلیں اور نہ دوسروں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر ابھاریں، نہ ہی مجلسوں میں اور لوگوں کے سامنے اس کے خلاف باتیں کریں، کیونکہ اس سے شروفتنہ پھیلتا ہے۔ اور لوگوں کو ایسے وقت میں حکام کے خلاف بغض سے بھرنا جبکہ کفار ہماری تاک لگائے بیٹھے گردش ایام کے منتظر ہیں، اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر انہیں اس بات کی خبر ہوجائے تو وہ ان جذبانی مسلمانوں میں اپنا زہر سرائیت کرکے انہیں ان کے حکمرانوں کے خلاف بھڑکائیں گے، جس کے نتیجے میں فتنہ وفساد ہوگا،اور نتیجہ کافروں کا مسلمانوں پر تسلط کی صورت میں سامنے آئے گا۔

لہذا حکمران خواہ کیسے بھی ہوں ان میں خیر کثیر اور عظیم مصالح ہوتےہیں۔ وہ بھی ایک بشر ہیں معصوم نہیں بعض باتوں میں غلطی کرجاتےہیں۔ لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خفیہ طور پر نصیحت کی جائے، یا ان تک پہنچائی جائے۔ اور ان کے سامنے صحیح بات پیش کی جائے۔لیکن مجالس میں بیٹھ کر ان پر کلام کرنا اور اس سے بھی شدید تر خطبوں اور تقاریر میں ان پر کلام کرنا اہل شقاق واہل نفاق واہل شر کا طریقہ ومنہج ہے کہ جو مسلمانوں کی حکومت میں انتشار مچانا چاہتے ہیں۔

ماخوذ از

(الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ، سوال: 14)

 اللہ تعالی ہمیں اسلامی قوانین اورمنہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین




داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

  • امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا اہل سنت و جماعت کے اصول میں یہ داخل ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے گہری وابستگی ہو اور حکمرانوں کے خلاف خروج نہ ہو۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ، ج28،ص 128)

لیکن داعش اہل سنت و جماعت کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے اور مسلم حکمرانوں سے جنگ کرتی ہے لہذا اگر وہ اپنے آپ کو سنی ظاہر کرے تب بھی اسلام کی نظر میں وہ سنی نہیں۔

  • محدث وفقیہ علامہ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش سے منسوب افراد انجانے ہیں ،جو کنیت اور نسب کے سہارے درپردہ رہتے ہیں ،اور چاقووں سے اہل سنت کا قتل کرتے ہیں جوکہ انسانیت کے قتل کی بدترین شکل ہے لہذا اس فتنے سے متاثر کمسن نوجوانوں کو محفوظ رہنا چاہیے ،اور اہل علم سے اسی طرح استفادہ کرنا چاہیے جس طرح خوارج سے متاثر ہونے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ کی نصیحت سے یذید الفقیر رحمہ اللہ نے اپنا مؤقف تبدیل کردیا تھا۔

(موقع الشیخ عبدالمحسن العباد، فتنۃ الخلافۃ الداعشیۃ العراقیۃ المزعومۃ )

  • رابطہ علمائے شام کے صدر شیخ اسامہ الرفاعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش ایک تکفیری و انتہا پسند تنظیم ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتی اور مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتی ہے جبکہ ان کا یہ خیال انہیں کفر تک پہنچاتا ہے اسی لیے ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب وسنت اور علمائے امت کی طرف رجوع کریں اور لوگ داعش  کے ساتھ ساتھ حزب اللہ (لبنان  کی شیعہ دہشت گرد تنظیم ) سے بھی احتیاط برتیں۔

(موقع الدررالشامیۃ ،دولۃ العراق والشام فی میزان علماء الاسلام)

  • علمائے ازہر مصر نے کہا کہ داعش عراق کی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کا طرز عمل انتہائی وحشیانہ ہے جو بے قصوروں کے خون کی پیاسی ہے جس کے خاتمے کے لیے سب کو متحد ہوجانا چاہیے ۔

(مؤسسۃ دام برس الاعلامیۃ الازھر یعرب عن….)

  • اتحاد عالمی برائے علمائے اسلام دوحہ قطر کے معتمد عمومی نے کہا کہ داعش کی کاروائیاں ناقابل قبول ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کی شبیہ کو بگاڑ کر پیش کررہی ہیں لہذا اسلام کی سچی تصویر پیش کرنے کے لیے علمائے دین کا کردار انتہائی ضروری ہے۔
  • ملک شام کے مناظر اسلام عدنان بن محمد العرعور حفظہ اللہ نے فرمایا کہ داعش ملک شام میں عراق کے راستے داخل ہوئے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور پھر اپنی حکومت کا اعلان کر دیا ، مقامی باشندوں پر خیانت کا الزام لگایا اور انہیں کافر و مرتد قرار دیا (ان کے عقیدے کے مطابق مرتد ہونے کے بعد) توبہ کی مہلت دیے بغیر ان کے قتل کو لازمی قرار دیا اور قتل سے نجات کی ایک ہی راہ بتائی کہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

مزید فرمایا کہ داعش نے حکومت کے سربراہان و افسران کو اغوا کیا ،حکمرانوں کو کافر قرار دیا عورتوں اور بچوں کو بے گھر کیا اور بے قصور باشندوں کو بہیمانہ انداز سے ذبح کیا ،آخر یہ کونسی خلافت ہے؟

  • مصر کے عالم محمد سعید رسلان حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش انسانت کی بلی چڑھا کر اپنے معبود کا تقرب حاصل کرنا چاہتی ہے جس کا سربراہ جلاد ہے ،اور یہ تمام جہنم کے کتے ہیں لہذا ان کا بائیکاٹ کرو۔

(ذکر کردہ اور آئندہ اقوال شبکۃ الامام الآجری پر دستیاب ہیں جو اکثر MP3کی شکل میں ہیں )

  • ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ مدرس مسجد بنوی نے تین دفعہ قسم اٹھائی اور فرمایا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ داعش کو پسند کرے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرے کیونکہ وہ امت کے لیے نقصان دہ ہیں ۔

مزید فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو دین میں صحابہ سے بہتر سمجھتے ہیں فلسطین پر یہود کے مظالم ہیں لیکن انہوں نے عراق اور شام میں رہ کر فلسطینی مسلمانوں کا دفاع نہیں کیا بلکہ سعودی عرب کے حدود کے قریب آگئے ،بعینہ یمن میں اہل السنہ کو حوثی روافض بری طرح موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور القاعدہ نے یمن میں رہ کر اہل السنہ کا دفاع نہیں کیا۔

                مزید  فرمایا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ان  کے ہاتھ  پر بیعت کرے۔

  • ماہر عدلیہ ڈاکٹر سعد الحمید حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش نے دو بڑی سنگین غلطیاں کی ہیں:

(1)ناحق کافر قرار دینا۔             (2) بے قصوروں کا خون بہانا۔

  • شیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ ملک شام میں جاری جنگ جسے لوگ جہاد کا نام دیتے ہیں وہ در حقیقت فتنہ ہے ۔
  • محقق شیخ عبدالعزیز بن مرزوق الطریفی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش خوارج ہیں جو اللہ کے حکم کو قبول نہیں کرتے ہیں لہذا ان سے تعلق رکھنا جائز نہیں ہے ۔
  • داعی شیخ عبداللہ آل سعد المطیری حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش جاہل ہیں جنہوں نے بہت ساری شرعی خلاف ورزیاں کی ہیں مثال کے طورپر انہوں نے شرعی عدالت کا انکار کیا ،ناحق کافر و مرتد قرار دیا ،بے قصوروں کا خون بہایا ،لہذا میں ان کے بڑوں کو اللہ سے توبہ کرنے اور حق کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور ان سے وابستہ افراد کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہوں۔
  • سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خود کش اور فدائی حملہ کرنا برائی ،گناہ ،شروفساد اورظلم وعناد ہے جسے انجام دینے والوں کا اللہ اور آخرت کے دن پر صحیح ایمان نہیں بلکہ وہ خباثت نفس  و شراست طبیعت  اور حسد میں مبتلا ہیں ،لہذا میں تمام کو نصیحت کرتا ہوں  کہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔
  • عاید بن خلیف الشمری حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کا نبوی منہج سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ نبیﷺ جب علی رضی اللہ عنہ کو جہاد کے لیے روانہ کرتے تو تاکید کرتے کہ جاؤ انہیں اسلام کی دعوت دو اسی طرح انبیاء میں نوح ،ابراہیم ،موسی علیھم السلام اور محمدﷺ نے صبر سے کام لیا اور داعش کی طرح ذبح کرنے والی حکومتیں قائم نہیں کیں ،بلکہ نبی ﷺ نے مدینے کے یہود کو اسلام کی دعوت  دی ،اور انہیں امن دیا علاوہ ازیں دین اسلام میں مرتد کو تین دن تک توبہ کی مہلت دی جاتی ہے لیکن داعش کی ترتیب بالکل مختلف ہے۔
  • شیخ محمد بن رمزان الہاجری حفظہ اللہ لکچرار برائےرایل کمیشن الجبیل نے فرمایا کہ داعش اور جبہۃ النصرۃ حق پر نہیں کیونکہ یہ نومولود تنظیم ہے اور بنی ﷺ کے فرمان کے مطابق برحق جماعت ہمیشہ سے تھی اور تاقیامت رہے گی۔

مزید فرمایا کہ جس طرح خوارج کے پاس توحید کے باب میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے پاس بھی (بظاہر ) توحید کے باب میں خلل نہیں ، لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا ،حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت ہے۔

مزید فرمایا کہ غور طلب بات یہ ہے کہ داعش سے وابستہ افراد کی کنیتیں ہیں جیسے ابو مصعب الزرقاوی ،ابو بکر البغدادی ،ابو محمد الجولانی….. اور ان کے نام ان جانے ہیں۔

مزید فرمایا کہ داعش  خودکش اور فدائی حملوں کے ذریعے شہادت کی توقع رکھتی ہے جب کہ نبی ﷺ نے شہادت خودکشی کرنے والے کے لیے نہیں  بلکہ قتل کیے جانے والے کے لیے بتائی ، اور قتل کیے جانے سے پہلے حتی الامکان بچاؤ کا سامان اختیار کرنے پر ابھارا اور خود  زرہ پہنی۔

مزید فرماتے ہیں کہ داعش نے جب دیکھا کہ اہل علم  انہیں خوارج قرار دے رہے ہیں اور خوارج کی علامت سر حلق کرنا ہے ، تو اس علامت سے بچنے کے لیے وہ اپنے بال لمبے رکھنے لگے ہیں، لیکن خواہ بال حلق کیے ہوں یا لمبے رکھے ہوں فکر کے اعتبار سے وہ خوارج ہی ہیں۔

مزید فرمایا کہ اس تنظیم کے ساتھ علماء نہیں بلکہ سب کے سب سفہاء و جہلاء (نادان و بے وقوف ) ہیں۔

مزید فرمایا کہ ان کا خود ساختہ خلیفہ ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔

اور فرمایا کہ داعش نوجوانوں کو جہاد ،شہادت ،جنت ، اور حور…. جیسے الفاظ سے گمراہ کرتی ہے اور انہیں دھوکہ دیتی ہے۔

مزید فرمایا کہ قدیم زمانے کے خوارج حاکم کو طاغوت کہتے تھے اور داعش بھی مسلم حاکم کو طاغوت سے تعبیر کرتی ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح سےاول خوارج نے عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کیا اسی طرح داعش مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے۔

مزید فرمایا کہ اہل سنت کا اصلاح  کرنے کا طریقہ احسن انداز سے ہوتا ہے ، لیکن داعش کا اصلاح کرنے کا طریقہ سلاح یعنی ہتھیار سے ہوتا ہے جو کہ خوارج کا طریقہ ہے۔

مزید فرمایا کہ مکہ میں شرک عام تھا ، کعبے کے اطراف بت تھے لیکن صحابہ نے کبھی داعش کی روش اختیار نہیں کی ، اور دور اندیشی  کی سے کام لیتے ہوئے حالات کے پیش نظر قریش کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا۔

اور فرمایا کہ داعش کی ظاہری  دینی شکل و صورت یا ان کے فدائی کا مرتے وقت مسکرانے سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قاتل عبدالرحمان بن ملجم حافظ قرآن تھا، جس کی کسی وقت عمر رضی اللہ عنہ تعریف کی تھی ، اس باوجود وہ قاتل اور خارجی ثابت ہوا اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ، اور جس نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو شہید کیا وہ نماز کے لیے اول وقت میں آیا تھا۔

اور داعش ایک خونخوار اور وحشی تنظیم ہے ، جو صرف اہل سنت یا مسلمانوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

اور فتنہ پروروں سے آگاہ کرنا اور انہیں رسوا کرنا انتہائی  اعلی درجے کا جہاد ہے۔

شیخ بدربن علی العتیبی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ قدیم خوارج نے نبی ﷺ اور عثمان  رضی اللہ عنہ کے عدل اور ان کی امانت میں شک کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی ہمارے حکمرانوں کے ساتھ کررہے ہیں، قدیم خوارج نے علی رضی اللہ عنہ و معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کو کافر قرار دیا بالکل اسی طرح یہ شرپسند فسادی بھی ہمارے امراء و علماء کو کافر قرار دیتے ہیں اور انہیں طاغوت کا لقب دیتے ہیں ، قدیم خوارج نے جعلی خطوط کا سہارا لیا اور علماء کے اقوال کو خلط ملط کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے کلام سے غلط استدلال کرتے ہیں قدیم خوارج نے حاکم کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ،اس کی اصلاح کیے بغیر انقلاب لانے کی کوشش کی ، حاکموں پر بہتان باندھا ،انہیں یہود و نصاری کے غلام کہا منبروں پر انہیں برا کہا، انہیں کھلے طور پر کافر سمجھا ، ان کی خودساختہ خامیوں کو اچھالا ، کفر کی ساری آیات کا ان ہی کو مصداق جانا، تحکیم کے معاملے میں جہالت کا مظاہرہ کیا بعض آیات سے استدلال کیا اور بعض کو نظر انداز کیا، حکمرانوں کوسرعام رسواکیا، مسلمانوں کی زمین سےہجرت کرنے کو لازم قرار دیا ، جہاد اور توحید کا نعرہ بلند کیا، خود کو شہید و جنتی اور دوسروں کو جہنمی کہا، اسلامی  حکومت میں قیام پذیر ذمیوں کا قتل کیا، اور علماء کی بے حرمتی کی بالکل اسی طرح آج یہ شر پسند فسادی بھی کررہے ہیں۔

(موقع صید الفوائد ،ثلاثون علامۃ تدل…….)

بعض نے کہا کہ داعش گناہوں، اور اختلافی  مسائل کی بنا پر مسلمانوں کا قتل کرتی ہے، کبھی تو کسی مسلمان کو راستے میں کسی غیر مسلم سے بات چیت کرتے دیکھ کر قتل کرتی ہے،اور کبھی تو اس آدمی کا بھی قتل کرتی ہے جو ان کے وضع کردی جہاد کو چھوڑ کر حج کے لیے جاتا ہے۔

بعض نے کہا کہ ابو بکر البغدادی کو ارباب حل و عقد نے منتخب کیا ہے، اور جب اس کا رہنما (الظواہری ) ہی اس کی کرتوتوں سے راضی نہیں تھا تو وہ کیسے دوسروں سے اپنی بیعت کی کا تقاضہ کرسکتا ہے؟

بعض نے کہا کہ بغدادی کی ریاست غیر شرعی ہے، اور اس کے جھنڈے تلے جنگ کرنی جائز نہیں، کیوں کہ اس نے اللہ کی شریعت سے روگردانی کی ہے۔

بعض نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی عالم نے داعش کو درست قرار نہیں دیا، نہ ہی اس کے ساتھ اچھا گمان رکھا، اور نہ ہی ان کی جانب سے دفاع کیا ، بلکہ تمام اہل علم نے بالاتفاق انہیں ظالم قرار دیا۔

بعض نے کہا کہ داعش باغی، غالی، خونی اور گمراہ تنظیم ہے جو مسلمانوں کے مابین بڑی مہارت سے فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے، اور اسلامی ریاست کے بہانے باطل پھیلارہی ہے، اسی لیے ہر ممکن ذریعے سے اس کا مقابلہ کرنا واجب ہے۔

حیدرآباد دکن کے مفتیان میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مفتی خلیل احمد صاحبان نے بھی داعش سے چوکنا کیا ، بلکہ سارے ہندوستان سے تقریباً 1050علمائے کرام نے فتوٰی جاری کیا جس میں داعش کی مذمت  اور مخالفت کی اور کہا کہ داعش انتہائی خطرناک و خوف ناک اور غیر اسلامی بلکہ غیر انسانی ودہشت گرد تنظیم ہے کیونکہ وہ اسلام کے نام پر انسانیت کو شرمندہ کرنے والی گھناؤنی حرکتیں کر رہی  ہے، اور انسانی خون پانی کی طرح بہا رہی ہے لہذا دنیا بھر کے علمائے کرام کو ہر ممکن ذریعے سے اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف شعور بیدار کرنا چاہیے اور اس کی طرف سے جاری کردہ قتل کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنا غیر اسلامی اور شریعت کے مغائر ہے۔

واضح رہے کہ ذکر کردہ فتوٰی پر 1070 مذہبی تنظیموں نے دستخط کیا اور اس کی نقل 50 ممالک کو روانہ کیں۔

تعجب کی بات ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے داعش کی زائد جارحیت و سفاکانہ بربریت کے پیش نظر اسے ایک وحشی اور درندہ صفت تنظیم قرار دیا ہے۔

ایک جائزہ.

اللہ تعالی تمام انسانوں خاص کر مسلمانوں اور اسلام کو ان کے شر سےمحفوظ فرمائے۔آمین