حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں غلطی کرتی ہیں

4-اقتدار چھیننا

جن دینی تحریکوں پر اقتدار کا نشہ سوار ہے وہ پہلے سے برسرِاقتدار حکومتوں کو ہر طریقے سے ختم کرنے کے آرزو مند رہتی ہیں۔اور موقع کی تلاش میں رہتی ہیں کہ ان سے اقتدار چھینا جائے۔ اس کے لیے وہ برسر اقتدار پارٹیوں کے کمزور پہلو تلاش کرکے ان کے خلاف عوام کو  بھڑکاتی ہیں۔ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں کہ برسرِاقتدار پارٹیوں میں کمزوریاں نہیں ہوتیں، یہاں تو یہ بتانا ہے کہ آیا شریعت میں اس بات کا جواز ہے کہ برسر ِاقتدار مسلمان حکمرانوں سے ان کا اقتدار بزور اور زبردستی چھینا جائے۔ جو لوگ دین نہیں جانتے ان کی بات تو علیحدہ ہے۔ دین داری کے دعوے داروں اور ملک میں اسلام کو رائج کرنے کا ادّعا رکھنے والوں کو اس کی کوئی دلیل تو مہیا کرنی چاہئے۔وہ ایسی کوئی آیت یا حدیث تو لائیں جس میں مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھیننے کی تعلیم ہو۔ ان کے سامنے یہ بات نہیں کہ فرعون کے ہاتھوں ظلم میں پسنے والے بنی اسرائیل کو فرعون سے اقتدار چھیننے کے بجائے اس کا علاقہ چھوڑنے کا حکم ہوا۔

انہی تحریکوں کے پروردہ ایک شخص سے راقم کی بات ہوئی تو اس نے واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ اللہ نے نہیں فرمایا کہ ظالموں سے اقتدار چھینو۔ میں نے کہا یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ تو وہ صاحب ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ اگر کوئی یہ دلیل پیش کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔”

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو”۔

(النسآء : 4)

  لہٰذا ہمیں نااہل لوگوں سے چھین کر حکومت اس کے اہل کے سپرد کرنی چاہیے۔ تو یہاں دو باتیں عرض ہیں کہ حکومت چھیننے کا یہاں ذکرنہیں ، دوسرے یہ کہ جو خود اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے شریعت کی نگاہ میں وہ خود ہی نااہل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے ہی ایک شخص کو نااہل قراردیا تھا۔ حوالہ آرہا ہے۔

5- حصول ِ اقتدار کا قرآن مجید میں کوئی حکم ہے؟

قرآن مجید اپنے ماننے والوں کو جن جن احکامات پر چلنے یا جن باتوں سے رکنے کا حکم دیتا ہے اور بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے  اسے صراحت  سے یا اشاروں سے سمجھا دیتا ہے مگر ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ بات لکھتا ہوں کہ حصولِ اقتدار کا حکم نہ صراحتًامجھے ملا ہے اور نہ اشارتاً۔ اگر حصول ِاقتدار اتناہی اہم فریضہ ہوتا ، جیسا کہ بعض جماعتوں نے  سمجھ رکھا ہے ، تو قرآن مجید میں اسکا حکم ہونا چاہیے تھا کہ اقتدار حاصل کرو۔

قرآم مجید میں ایسی وضاحتیں تو موجود ہیں کہ “جنہیں ہم زمین میں اقتدار دیتے ہیں تو  وہ تماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ کا نظام قائم کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

( الحج : 41)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جسے اللہ اپنی خوشنودی سے اقتدار نصیب فرمائے، ان کی یہ خصوسیات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ خوشنودی کا لفظ یہاں اس لیے استعمال کیا کہ فرعون ، ہامان ، نمرود کوبھی اقتدار   اللہ نے دیا تھا ور آج کے کافرون کو بھی دیتا ہےمگر اس میں اسکی رضا شامل نہیں ہوتی۔

زیادہ سے زیادہ ایسی تحریکوں کے پاس ایک یہ آیت اپنے موضوع پر موجود ہے کہ:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ۔

“تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے”۔

(آل عمران : 104)

یہاں “امۃ ” کا لفظ آیا ہے جس کے معنی لوگوں کے بھی ہیں۔  اگر جماعت مراد ہو بھی تو نبی کریم ﷺ کو ایک علیحدہ جماعت بنا کر اس کا ایک علیحدہ امیر مقرر کردینا چاہئے تھا جیسا کہ آج یہ لوگ سمجھتے ہیں۔  تیسرےیہ کہ جماعت اور حکومت دو علیحدہ علیحدہ اصطلاحیں ہیں۔ جماعت کا ہونا اور بات ہے اور حکومت کا اختیار اور بات ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے حکومت ضروری نہیں۔ ہر کوئی اپنی سطح پر یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ اگر یہ فریضہ حکومت ملنے کے بعد ہی ادا ہونا ہوتا تو قرآن مجید میں پہلے حکومت کےحصول کا ذکر ہوتا۔ اسی طرح جو جماعتیں اس آیت سے استدلال کرتی ہیں ان کے پاس حکومت نہیں ہے اور وہ اپنے طور پر یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ اس فریضے کو بڑے اچھے انداز سے نبھا رہے ہیں۔

اسی طرح ایسے لوگوں کی زبانوں پر علامہ اقبال کا ایک شعر بھی گردش کرتا ہے:

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو—-جدا ہودیں سیاست سے رہ جائی ہے چنگیزی

اور اس شعر کو وہ ایک شرعی حکم سمجھ کر اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی بھر پور کوکشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ شعر تو نظام حکومت اور سیاست سےدین کو الگ رکھنے کی روش کی مذمت میں ہے  کہ دین کو الگ رکھنے سے ہر نظام ظلم و ستم اور فساد سے عبارت ہوتا ہے۔ جبکہ قران و سنت اور ہماری سنہری تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست کا آغاز اقتدار ملنے کے بعد ہوتا ہے۔ حصول اقتدار کے لیے نہیں۔ اور ہماری بات اقتدار کےحصول کے متعلق چل رہی ہے۔ جسے اللہ اقتدار دے دے اسے کیا کرنا چاہیے یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اگر قرآن مجید میں یا حدیث نبوی میں حکومت اور اقتدار حاصل کرنے کا مسلمانوں کو کوئی حکم دیا گیا ہے تو ازراہ کرم ہمیں  بھی اس سے آگاہ کیا جائے تاکہ اپنے محترم قارئین تک ان نصوص کو پہنچایا جائے اور ان پر عمل درآمد ہو۔ حدیث میں تو عامل یا گورنر مقرر کرنے کی حد تک بھی کسی کی ذاتی چاہت یا شوق کو پسند نہیں کیا گیا چہ جائیکہ کسی کی چاہت کے مطابق اسے کسی ملک کا اقتدار سونپ دیا جائے۔ واضح حدیث ہے:

“لن نستعمل علی عملنا من ارادہ”۔

 “ہم اپنے امور پر اسے ہرگز عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ رکھتا ہے”۔

( صحیح  مسلم : 1733)

 دوسری حدیث  میں ہے:

  “انا واللہ لانولی علٰی عملنا ھٰذا أحداً سألہ أو حرص علیہ” ۔

“اللہ کی قسم ! بے شک ہم اس کارِ حکومت پر کسی کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کو بھی نہیں اس کی حرص رکھتا ہے”۔

(صحیح مسلم : 1733)

ایک اور حدیث میں فرمایا:

 “فا نک ان اعطیتھا عن مسالہ وکلت الیھا ون اعطیتھا عن غیر مسالہ اعنت علیھا”۔

 ” بے شک اگر تمہیں یہ امارت تمہارے مطالبے پر دی گئی تو تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر یہ امارت تمہارے مطالبے کے بغیر تمہیں دی گئی تو اس پر ( اللہ کی طرف سے) تمہاری مدد بھی کی جائے گی”۔

(صحیح مسلم : 1823)

6- حصول اقتدار کے ہنگامی طریقے

اس طبقے اور پہلے طبقے میں فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دیتاہے جبکہ پہلا  طبقہ انہیں ظالم ، فاسق اور نااہل تو قرار دیتا ہےمگر کافر نہیں۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ اس نظام کو ناجائز سمجھتا ہے جس سے  حکومت حاصل کی جائے ، اس لیے وہ کسی اور طریقے سے حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ پہلا طبقہ نظام جمہوریت کو درست سمجھتے ہوئے اسی کے تحت حکومت  کا متمنی ہے۔ مگر پہلے طبقے کی طرح اس دوسرے طبقے کا منہج اور طریقہ حصول اقتدار شرعی طور  پر محلِّ نظر ہے۔ اور گزشتہ صفحات میں کی گئی وضاحتیں اس کے لیے کافی ہیں مگر ایک مزید خامی جو اس طبقے کے اندر ہے وہ ہے اپنے اقتدار کے لئے بہت  سے مسلمانوں اور بلادِ اسلامیہ کو فتنہ وفساد سے دوچار کرنا ، وہاں کے باسیوں کے قتلِ عام کو روا سمجھنا ، ان پر حملے کرنا، حکومتوں کو نشانہ بنانا۔ یہ شریعتِ اسلامیہ میں بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔

اپنی سرگرمیں اور کارروائیوں کےلیے اس طبقے کا دامن بھی شرعی دلائل سے یکسر خالی ہے۔ پہلے طبقے کی طرح انہیں بھی حصولِ اقتدار کی منزل درکا ہے، اس سفر میں خواہ ہزاروں انسانوں کا خون ان کے سر آئے اور بلادِ اسلامیۃ شروفساد کی آماجگاہ بنے رہیں۔ پھر وہ فساد اور فسادیوں کے متعلق قرآن مجید کے تبصرے سے یکسر نابلد نظر آتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے؟

7-کیا پھر مسلمانوں کو اجتماعی یا انفرادی سطح پر ایسی کوئی کوشش کرنی چاہئے؟

اگر پہلے طبقے کے اقتدار کی چاہت اور اس کےحصول کا  طریقہ بھی درست نہیں اور دوسرے طبقے کا بھی درست نہیں کیا موجودہ مسلمانوں کو اس کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے؟ تیسرے طبقے کی طرح بس اپنے اپنے دائرہ میں مصروف رہنا چاہئے۔ نہیں ، نہیں۔

 مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ دین پر عمل ، دین کو غالب کرنے کی کوشش کریں، اور ہر مرحلے اور میدان میں اور نظریے اور سوچ اور فکر میں اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول کو اپنا شعار بنائیں اور اپنی اپنی سطح تک اس کی تنفیذ کی کوشش کریں۔۔۔۔ اس طرح ایک صالح معاشرہ قائم ہوگا اور پھر اللہ جسے چاہے گا اقتدار کی ذمہ داری سونپ دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی مکہ مکرمہ میں حکومت کی پیش کش کو ٹھکردایا تھا اور ساری توجہ لوگوں کے ذہن بدلنے پر دی تھی بالآخر بڑے ہی غیر محسوس انداز سے اللہ نے اہل ایمان کو مدینہ منورہ کے  اقتدار سے نوازا اور رفتہ رفتہ یہ پھیلتا ہی چلا گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اقتدار دینے کو اپنے ذمے لیا ہے۔

موجودہ اکثر  مسلمانوں سے یہ کام ہوتے نہیں ۔ یہ مستقل نوعیت کے کام ہیں۔ اس راہ میں مسلکوں اور جماعتوں کے بت پاش پاش ہوتے ہیں، کریڈٹ جماعتوں کے بجائے اسلام کو جاتا ہے۔اس لیے ہم ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ

الا ماشاء اللہ سب مسلمان ہی اپنی اپنی جماعت کو ترقی دینے میں مگن  ہیں اور جس نے جس تحریک  میں آنکھ کھولی ہے اور پرورش پائی ہے وہ اس کے نظریات سے سر مو انحراف کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اور اسلام ایک طرف کھڑا نظر آرہا ہے۔

یہاں ایک اور سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا اسلام نے حکومت سازی کے اتنے اہم مسئلے پر روشنی نہیں ڈالی ؟

 اسکا جواب آئندہ  مضمون میں دیا جائے گا ۔(ان شا ء اللہ)




حصول-اقتدار-کا-قرآنی-تصور-حصہ-اول

حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں  غلطی کرتی ہیں

حصول-اقتدار-کا-قرآنی-تصور-حصہ-اول

حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں  غلطی کرتی ہیں

حصول اقتدار کے حوالے سے موجودہ دور میں عالمی سطح پر مسلم دینی جماعتوں اور تحریکوں کے چار رجحانات نظر آتے ہیں۔ایک تو وہ ہیں جو اپنی تمام دینی اور جماعتی سرگرمیوں کا محور حصولِ اقتدار کو سمجھتی ہیں۔ ان کی ہر کاوش اور کوشش یہاں تک کہ دروسِ قرآن اور تعلیمِ قرآن کا مطلب بھی یہ نظر آتا ہے کہ اقتدار اللہ کے نیک بندوں کے پاس آنا چاہیے۔ اور پھر وہ اپنے آپ کو اعلیٰ پائے کے نیک ، متقی اور باصلاحیت لوگ سمجھ کر زندگی اور اسکا ایک ایک لمحہ حصولِ اقتدار کی خاطر گزار دیتے ہیں۔

 انکی کوشش یہ ہے کہ مغرب کا جو نظامِ جمہوریت چلا آرہا ہے ،اسی کے تحت حکومت اور اقتدار حاصل کیا جائے۔

دوسرا دینی طبقہ وہ ہے  جو حصولِ اقتدار کی کوشش کرتا ہے مگر وہ موجودہ نظامِ جمہوریت کو درست نہیں سمجھتا اور وہ جمہوریت کے علاوہ کسی اور طریقے سے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس طریقے کو خلافت، ملوکیت یا جمہوریت کسی نظامِ حکومت سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔

تیسرا دینی طبقہ وہ ہے جو اقتدار کے حصول کی کوشش کرتا ہےاور نہ ان کے اہداف و مقاصد میں ایسی کوئی بات ہے اور نہ ہی ان  کے منشور میں یہ بات شامل ہے۔وہ بس اپنے آپ میں مگن ہیں۔اپنے اپنے نظریات خواہ   وہ درست ہو یا غلط، ان کے پرچار کےلئے وہ کوشاں ہیں، اسی کے لئے وہ جیتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض کی طرف سے کبھی کبھی اقتدار کے حصول کی کوشش محسوس ہوتی ہے یا انفرادی طور پر ایسے کئی رجحانات سامنے آتے ہیں۔جیسے ہمارے ہاں کی تبلیغی جماعت ہے اور یہ  عالمی سطح کی ایک جماعت ہے، یا دعوتِ اسلامی ہے۔اسی طرح بعض دیگر دینی تنظیمیں اور جماعتیں ہیں۔

اس کے علاوہ کئی دینی جماعتیں خلافت کے لئے زمین ہموار اور ماحول سازگار بنانے کے لئے کوشاں ہیں ۔

تعصب سے بالا اور قرآن فہمی کا ذوق رکھنے والے قارئین ! ذیل میں ہم حصول ِاقتدار کا قرآنی منشور پیش کرتے ہیں ۔ اور آپ کو دعوتِ فکر دیتے ہیں۔ پہلے کی طرح اب بھی ہیں اپنا موقف زبردستی منوانے کا شوق نہیں۔ اختلاف رکھنے کا حق ہر ایک کے پا محفوظ ہے۔ تو لیجیے قرآن میں حصولِ اقتدارکی راہ نمائیاں ۔

قرآن مجید نے لوگوں کی ذہن سازی کی ہے کہ اقتدار کا مالک اللہ ہے۔

1-اقتدار کا مالک اللہ ہے ، وہ جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے

اس ضمن میں قرآن مجید نے بادشاہت کو بھی اللہ کی عنایت قرار دیا ہے، خلافت کو بھی اور وزارت کو بھی۔

(الف) بادشاہت اللہ کی طرف سے ہے:

 اس کے کئی ایک دلائل قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں:

1قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ ۔

“کہہ دیجیے اے بادشاہت کےمالک! تو جسے چاہتا ہے بادشاہت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہت چھین لیتا ہے”۔

(آل عمران : 26)

2-إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا.

“بے شک اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے”۔

(البقرۃ : 247)

3- وَاٰتٰهُ اللّٰهُ المُلكَ.

“اور اللہ تعالیٰ نے انہیں (داود علیہ السلام کو ) بادشاہت دی”۔

( البقرۃ:  251)

4-یوسف علیہ السلام کی دعا:

رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ.

“میرے رب ! تحقیق تو نے مجھے بادشاہت میں سےکچھ نوازا۔”

(یوسف:  101)

5-بنی اسرائیل کے باشاہوں کو بھی اللہ نے بادشاہت دی جیسا  کہ موسیٰ علیہ السلام  نے اپنی قوم سے کہا :

اذْکُرُوْا نِعْمَۃ اللّٰہ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآء ۔

“اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم میں انبیاء بھی بنائے اور تمہیں بادشاہ بھی بنایا”۔

(المائدہ:  20)

6-ذولقرنین کے متعلق فرمایا:

إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ
“بے شک ہم نے  اسے زمین میں اقتدار دیا”۔

 (الکھف:  84)

7- بادشاہت اللہ کی طرف سے ہے حتیٰ کہ کسی کافر اور فاسق کوبھی بادشاہت ملتی ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ہے۔ نمرود  کے بارے میں اللہ نے فرمایا:

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ.
“کیا آپ نے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا جس نے ابراہیم علیہ السلام  سے ان کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے بادشاہت دی”۔

 (البقرۃ:  258)

یہ علیحدہ بات ہے کہ ایسے لوگوں  کو اقتدار دینے میں اللہ کیی رضا شامل نہیں ہوتی محض ارادہ ہوتا ہے۔

(ب) خلافت بھی اللہ کی طرف سے ہے:

 فرمان باری تعالیٰ ہے :

وَعَدَ اللّـٰهُ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّـهُـمْ فِى الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِـمْ

“اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایمان والوں اور عمل صالح اختیار کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں خلافت دے گا جیسے اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلافت دی تھی “۔

(النور:  55)

(ج) وزارت بھی اللہ تعالیٰ دیتا ہے:

سیدنا یوسف علیہ السلام کو مصر کی وزارت خزانہ کا قلم دان سونپا گیا۔ تیرھویں پارے کے  آغاز میں اس کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

 وكَذٰلِكَ مَكَّـنَّا لِيُوْسُفَ فِى الْاَرْضِ .
” اور اسی طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کوزمین (مصر ) میں اقتدار دیا”۔

( یوسف:  56)

مذکورہ آیا ت اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں کہ زمین کی بادشاہت ،خلافت یا اقتدرا و ر وزارت اللہ  کے پاس ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ کسی کا اقتدار  یا حکومت اس کی رضا سے ہوتا ہے اور کسی کا اقتدار محض اس کے ارادے سے ہوتا ہے اور اس میں اسکی رضا شامل نہیں ہوتی۔

اگلا سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے تو کیا بندوں کو کوشش  نہیں کرنی چاہئے کہ وہ اقتدار لیں۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ:

 نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَـهُـمْ مَّعِيْشَتَـهُـمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا.

” ہم نے دنیا کی زندگی  میں ان کے مابین روزی تقسیم کی ہے”۔

( الزخرف:  32)

تو کیا بندوں کو حق حاصل نہیں کہ وہ روزی حاصل کرنے کے لئے جستجو کریں؟ اسی طرح اقتدار اللہ تعالیٰ دیتا ہے تو بندوں کو اقتدار لینے بلکہ چھیننے کا حق حاصل نہیں؟ تو آئیے یہ سمجھنے کو کوشش کرتے ہیں۔

2- اللہ سے اقتدار لینے کے لئے بندوں کی کوشش

سابقہ مثال کا جواب یہ ہے کہ روزی اللہ تعالیٰ نے تقسیم کی ہے اور ساتھ لوگوں کوحکم بھی دیا ہے کہ وہ روزی تلاش بھی کریں۔ اور اللہ کے برگزیدہ بندے بھی محنت کرکے روزی تلاش کرتے رہے۔ مگر  اقتدار لینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا اور پورے قرآن  مجید میں اللہ تعالیٰ نے جن جن ہستیوں کو اقتدار دینے کا تذکرہ کیا ہے ان میں کسی کی طر ف سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کا تذکرہ نہیں فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے جن انبیائے کرام علیھم السلام کو بادشاہت سے نوازا یا وزارت نصیب فرمائی، اسی طرح اس امت میں جن کو خلافت سے نوازا گیا انہوں اپنے طور پر ان عہدوں کی کوئی کمپین چلائی؟ اوڑھنا بچھونا حصول اقتدار کو بنایا؟ اپنے آپ کو اس کا واحد اہل ثابت کرنے کی کوشش کی۔۔؟ نہیں، ان میں سے کسی نے بھی ایسا کچھ نہیں کیا۔

اگر کوئی شخص کہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام نے خود کہا تھا کہ :

اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ.

“مجھے سرزمین (مصر) کے خزانوں پر مامور کردیں”۔

(یوسف:  55)

 تو ہم کہیں گے کہ کیا یوسف علیہ السلام نے وزارتِ مصر ملنے سے پہلے کی تمام قربانیاں مصر کے اقتدار کے لئے دی تھیں۔کیا ان کے حاشیہِ خیال میں بھی ایسی بات تھی۔ انھوں نے اللہ کا خوف دل میں رکھا اور اس کے احکام کی بجا آور ی کی اور ایک دن ایسا آیا کہ بادشاہ نے خود یہ اظہار کیا:

ائْتُـوْنِىْ بِه اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِىْ.

“انہیں (یوسف علیہ السلام) کو میرے پاس لاؤ، میں انہیں خاص الخاص اپنے لئے  رکھنا چاہتا ہوں”۔

( یوسف:  54)

جب بادشاہ نے یہ اظہار کیا تواس وقت یوسف علیہ السلام  نے خواہش کا اظہار کیا کہ (اگر اصلاح مطلوب ہے تو) مجھے سرزمین مصر کے خزانوں پر مامور کردیں۔

سیدنا یوسف علیہ السلام  کے علاوہ پہلے عنوان کے تحت جن جن کا ذکر ہوا ہے ان میں سے کسی کی حصول اقتدار  کے لیے کوئی کوشش سامنے نہیں آئی ۔ طالوت ہوں کہ داؤد علیہ السلام ، بنی اسرائی کے بادشاہ ہوں یا رحمت عالم ﷺ  کے خلفاء ، آپ کو ان کی طرف سے حصول اقتدارکی خاطر دعوتیں کرنے ، سرگرمیاں دکھانے، افطار ڈنر دینے، لوگوں سے اس سلسلے میں میل جول رکھنے کا شوق تھا نہ ان کا یہ مطمح نظر تھا۔

دراصل  وہ اللہ کے احکام سے یہی سمجھے تھے کہ خلافت و حکومت اللہ کے اختیا رمیں ہے ۔ وہ جسے چاہے گا یہ سونپ دے گا ہمیں بس اس کے احکام ماننے ہیں۔ اگر حصول اقتدار کے پیش نظر کوئی سرگرمیاں  اختیار کی ہوتیں، اس کی خاطر قوم سےمکالمے کیے ہوتے تو ان کا کچھ نہ کچھ حصہ تو ضرور اللہ تعالیٰ قراآں مجید میں بیان فرمادیتا مگر اقتدار سے نوازے جانے والے انبیاء  کرام علیھم السلام اور بعض دیگر شخصیات کے واقعات اور ان ک مختلف پہلوؤں میں حصول اقتدار کی سرگرمیوں کا کوئی اشارہ تک محسوس نہیں ہوتا۔

ہاں! سیدنا سلیمان علیہ السلام کی دعا ضرور تھی کہ :

 وَهَبْ لِـىْ مُلْكًا لَّا يَنْبَغِىْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِىْ.

” اور مجھ ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کے لائق نہ ہو”۔  

:  35)

 یاد رہے ! یہ دعا بھی حالت اقتدار میں مانگی کئی تھی نہ کہ اقتدار سے پہلے ۔ یہ دعا تو یہ درس دیتی ہے کہ اقتدار اللہ کے پاس ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اقتدار ظالموں کے پاس ہے  جبکہ یہ ہمارے پاس ہونا چاہئے تو وہ یہ دعا کرے  کہ اللہ! ہمیں یہاں کا اقتدار نصیب فرمادے۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو خلافت عطا ہوئی ۔ کوئی بھی صاحب علم وتحقیق کیا یہ ثابت کرسکتا ہے کہ انہوں نے خلافت کے حصول کے لئے کوئی مہم  جوئی کی تھی یا رفاقتِ رسول ﷺ کی سعادت وہ حصول   اقتدار کے لئے کرتے رہے؟ میں اپنے مطالعے کی حد تک کہتا ہوں کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے جمع ہونے اورسیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو خلافت ملنے سے قبل خود سیدنا  ابوبکر رضی اللہ کو بھی یہ علم نہیں تھا کہ انہیں خلیفہ بننا ہے۔ وہ اس کے لئے مہم جوئی کیا کرتے!!  جس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلافت  ملی  وہ مکمل واقعہ بول کر یہ بتارہا ہے کہ انصارو مہاجرین کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ چند ہی لمحوں بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسند خلاف پر جلوہ افروز ہوں گے۔یہ صورت حال دیکھ کر واقعی اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں خلافت سے نواز کر اپنا وعدہ پورا کردیا۔ مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ جماعتوں کی حالت یہ ہے کہ ان کے کتنے ہی امیر حکومت کے لئے جستجو کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ایک امیر نے جہاںسرگرمیاں چھوڑی تھیں، دوسرے نے وہی سے آکر آغاز کیا۔ اپنے آپ کو نامزد کیا، اہل ثابت کرنے کی کوشش کی مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی خلافت ملنے کا اندازہ نہ تھا ور اسی طرح بعد والے خلفاء  رضی للہ عنھم کو ۔ یہاں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ کی خلافت کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔  بڑی مشکل سے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو خلافت کی ذمہ داری اٹھانے پر مجبور کیاگیا۔ اس کے باوجود جب وہ خطبہ خلافت دینے کے لئے منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو کہنے لگے:  لوگوں!! حکومت کے معاملے میں میری رائے کے بغیر ہی مجھے اس آزمائش سے دوچار کیا گیا ہے،  نہ میرا یسا کوئی مطالبہ تھا ، اور نہ  مسلمانوں کا مشور ہ تھا۔ اور میں نے جو آپ سے بیعت لی ہے اسے ختم کرتا ہوں، لہذا تم اپنے لیے کسی اور کو پسند کرلو۔ یہ سن کر موجود تمام لوگ یکبارگی پکارنے لگے: امیر المومنین! ہم نے آپ کو اختیا رکیا ہے، ہم آپ پر راضی ہیں۔ خیروبرکت سے آپ ہمارے معاملے کے والی بنیں۔ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہاللہ نے محسوس کیا کہ اس کے بغیر چارہ نہیں  ہے ، تب انھوں بات آگے بڑھائی۔۔۔۔

(تاریخ دمشق )357:45

ایک طرف یہ کردار ہے اور دوسری طرف یہ دینی تحریکوں کے لوگ ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ نظام حکومت کو خلفائے راشدین کےمطابق چلانے کے دعویدار بھی ہیں۔ اور اپنی تقریر و تحریر کو انھی کے کارناموں سے مزیّن کرتے ہیں۔

مگر جن لوگوں نے حالیہ دینی تحریکوں کے آنگن میں آنکھ کھولی ہے وہ کبھی بھی ان حقائق کو ماننے کے لئے تیا رنہیں ہیں۔ وہ تو بس ایک ہی بات کہتے ہیں اور کرتے ہیں کہ اسلام کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ اقتدار ، اقتدار اور بس اقتدار۔۔۔ اور اس کے اہل ہیں بھی بس وہ خود، وہی اور وہی۔

جب راقم نے بعض تحریکوں اور ان کے منشور کو اسی ایک نقطے پر مرکوز پایا، حصول اقتدار کی ریلیوں میں گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھا اور اس کی خاطر کفن پہنتے دیکھا تو اس پہلو سے قرآن و سنت کا مطالعہ کیا اور اسی کا ایک  مختصر خلاصہ پیش کیا جارہا ہے۔

3- حصول اقتدار کے لئے ہر ناجائز طریقہ بھی جائز ٹھہرا

جن جماعتوں یا تحریکوں نے حصول اقتدار ہی کو اپنی منزل سمجھا ہے وہ اس امر کو بھی لازم نہیں سجھتیں کہ حصول اقتدار کا طریقہ بھی جائز ہونا چاہئے۔انہیں لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کےلئے جو کچھ کرنا پڑے وہ اس کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ وہ اتحاد کے دلفریب نعروں کی آڑ میں حق کے اظہار سے باز رہتے ہیں۔ وہ لوگوں سے یہ تو پوچھتے ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ  بریلوی تھے، دیوبندی تھے، شیعہ تھے، یا اہلحدیث اور یہ پوچھ کر یہ  بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ ان میں سے کچھ بھی نہیں تھے لیکن خود اپنی جماعت کو مسلک کی سطح پر لے جاتے ہیں۔۔۔۔ اور لوگوں سے یہ نہیں پوچھتے کہ مکی دور میں رسول اکرم ﷺ نے اقتدار چھیننے کی کتنی تحریکیں بنائی تھیں؟ آپ ﷺ نے سیاسی استحکام کے لئے مسلمانوں کو کتنے گروہوں میں تقسیم کیا تھا کہ ہر کوئی علیحدہ علیحدہ امیر بنا کر ساری زندگی اپنی جماعت کے گرد ہی گھومتا رہے۔ اسی طرح ایسی جماعتیں غیر اسلامی طریقوں سے اسلام کا غلبہ چاہتی ہیں۔  دراصل ایسی جماعتیں اسلام کا نام لے کر عوام کو دھوکا دینا چاہتی ہیں۔

جاری ہے…..




حب الوطنی کے ردمیں غلو:

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!

کچھ لوگ تقوی اختیار کرنے میں غلو کا شکار ہیں اور اخلاص میں غلو کی وجہ سے بالخصوص القاعدہ اور داعش پاکستان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ جہاد کشمیر اس لیے درست نہیں کیونکہ یہ ملک کے لیے جہاد ہے جسے یہ “وطنیت” کہتے ہیں۔

یاد رکھیے!ہر چیز کے لیے اللہ تعالی نے ایک حد مقرر کر رکھی ہے اوراس حد سے آگے گزرنا اور اس میں غلو کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ملک کی طرف نسبت کرنا اور “دفاع پاکستان” کا نام لینا درست نہیں ۔
اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجیے کہ کسی بھی ملک کی محبت اور اس کی طرف نسبت کرنا اسلام کے مزاج کے بالکل خلاف نہیں ہے بلکہ بعض اوقات کسی وطن سے محبت کرنا مومنوں کا شیوہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام فطرت کے عین مطابق ہے۔
اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو وطن کی محبت ایک طبعی اور فطری چیز ہے جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے ،وطن سے محبت اور اس کی طرف نسبت کے حوالے سے قرآن و حدیث میں بہت سے شواہداور دلائل موجود ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْـهِـمْ اَنِ اقْتُلُـوٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَـعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْـهُـمْ

{النساء 66}

اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے۔
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالی نے جلا وطنی کو قتل کے برابر قرار دیا ہے ۔

[مفاتیح الغیب المعروف التفسیر الکبیر:15/515]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آرہے ہوتے اور مدینہ کے قریب پہنچ کر اس کی دیواریں نظر آنے لگتیں تو مدینہ کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے۔

[صحیح البخاری 1886]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وفی الحدیث دلالۃ علی فضل المدینۃ ،وعلی مشروعیۃ حب الوطن ،والحنین الیہ۔

[فتح الباری :3/621]

اس حدیث سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن سے محبت کی جاسکتی ہے۔
یہی بات امام عینی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “عمدۃ القاری” میں اور امام مبارکپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “تحفۃ الاحوذی” میں درج کی ہے۔
اسی طرح مکہ والوں کے مظالم سے تنگ ہوکر اور زخموں سے چور ہو کر اللہ تعالی کے حکم سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرمانے لگے تو مکہ کی طرف منہ کرکے آبدیدہ ہوکر کہنے لگے:
والله انک لخیر ارض الله، واحب ارض الله الی الله، ولولا اني اخرجت منک ما خرجت»

[ترمذي ۳۹۲۱]

اللہ کی قسم تو اللہ کی سب سے بہترین زمین ہے اور اللہ تعالی کی سب سے زیادہ پسندیدہ زمین ہے ،اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
کیا اس وقت مکہ دارالایمان تھا ؟
ہرگز نہیں ۔۔۔!
یہ حب الوطنی ہی تھی کہ 360 بتوں کا مرکز ہونے کے باوجود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسندیدہ قرار دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے تو فرمایا :
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْاَشَدَّ حُبًّا
یا اللہ مکہ کی طرح مدینے کو ہمارا محبوب بنا دے بلکہ مکہ سے زیادہ ) محبوب بنا دے

(بخاری ج1 ص{5654)

صحیح البخاری کو قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب سمجھا جاتا ہے اور اس کتاب کی نسبت بخارا شہر کی طرف ہے وہ بخارا کہ جہاں امام بخاری رحمہ اللہ کو پاوں رکھنے کی بھی اجازت تک نہ تھی ، پھر بھی بخارا کی طرف نسبت تھی ، امام ترمذی ، امام نسائی وغیرھم اکثر ائمہ کی اپنے ملکوں کی طرف نسبت تھی۔
تو کیا ہم پاکستان کی طرف اپنی نسبت نہیں کرسکتے ؟جس کے ہم پر کئی احسان ہیں، جس کا قرض ہمیں چکانا ہے، اس کے برعکس جو شخص اس نسبت کو برداشت نہیں کرتا وہ اپنے تقوی اور دین کے معاملے میں غلو کا شکار ہوچکا ہے ،اسے اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لینا ہوگا ۔
میں تو یہی کہتا ہوں :شرعی دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک و ملت کی طرف نسبت ، اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
امام ذھبی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی پسندیدہ چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
وكان يجبُ عائشة، ويحبُ أباها، ويحبّ أسامة، ويحب سبطيه، ويحب الخلواء والعسل، ويحبّ جُبل أحد، ويحب وطنه، ويحبّ الأنصار، إلى أشياء لا تُحصى مما لا يغني المؤمن عنها قط.

{سیر اعلام النبلاء للذھبی }

نبی صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، ان کے والد محترم ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے،اور اسامہ رضی اللہ عنہ سے اور اپنے دونوں نواسوں سے شدید محبت کرتےتھے، میٹھے اور شہد کو بھی پسند کرتے تھے ،جبل احداور اپنے وطن سے محبت کرتے تھے انصار سے بھی پیار کرتے تھے اور ہر اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ جن سے ایک مومن کبھی بھی بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک کی طرف نسبت اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
ہاں البتہ یہ وطنی محبت اسلام مخالف نہیں ہونی چاہیے بلکہ دین اسلام کی سر بلندی میں ممدو معاون ہونی چاہیے ،اگر دین اسلام اور ملک و ملت مقابل ہوں تواسلام کی خاطر ہر چیز قربان ہے۔
نوٹ:
ہم یہ بات دلائل صحیحہ کی روشنی میں ثابت کرچکے کہ وطن ، ریاست و ملک اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس سے محبت شعائر اسلام کی مخالفت نہیں بلکہ ایک مومن کیلئے دینی فریضہ ہے کہ وہ ہر اس ملک سے محبت کرے جو دین اسلام کے نام پر بنا ہو اور اس کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرے اس کے خلاف ہر پراپیگنڈے سے بچے تاکہ اس کا ایمان کامل رہے ۔
یہ وطن عزیز ملک خدادِ پاکستان اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ پر ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ان گنت قربانیاں دی گئی اور اس کے دستور میں یہ بات شامل کی گئی کہ اس کا قانون اسلام کے عین مطابق ہو گا ، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں لوگ بدلتے رہے ذہنیت میں تبدیلی آنے کی وجہ سے قوانین بھی بدل گئے لیکن آج بھی اس قانون میں یہ بات موجود ہے کہ جو شق اسلام مخالف قرار پائے گی اس کا نفاذ یہاں نہیں ہو گا ۔
کچھ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف بلکہ یہ کہنا غلو نہ ہو گا کہ اسلام کے لبادوں میں اسلام دشمن ممالک کی ایک گہری سازش اور مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ جو اسلام کے نام پرپیدا ہوا لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی اسلام اور اسلامی ممالک کو ہوا وہ ہے القاعدہ اور داعش اور ان کے نظریات پر چلنے والی کچھ اور تنظیمیں جنہوں نے مسلمان ممالک کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کے جواز کے فتوے دیئے اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا پھر مسلم علماء نے ان کا تعاقب کر کے ان کے شریعت مخالف نظریات اور نعروں سے لوگوں کو آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ دین نہیں بلکہ دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے نظریات ہیں۔

اب 2018میں انہوں نے کشمیر کا رخ کیا کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر ہندوستان نے غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے ،اور ہندوستان حکومت کی ہر کوشش رائیگاں چلی گئی کہ وہ کشمیروں کے دلوں سے پاکستان کی محبت کا قلع قمع کر سکیں بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ دن بہ دن ان کی محبت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور انشاءاللہ ہوتا رہے گا،جب ہندوستان حکومت زورِ بازو کشمیریوں کو جھکا نہ سکی تو اس نے اگلا داوٴ لگایا کہ ان کے نظریات کو خراب کردیا جائے تو اس نے اس پلان کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے “داعش” اور “القاعدہ” کا سہارا لیا ،القاعدہ نےکشمیر میں “ذاکرموسی” کو اپنے ساتھ ملایا اور “انصار غزوۃ الھند” کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھ کر ذاکر موسی کو اس کا امیر مقرر کردیا ۔
اور پھر یہ نعرہ بلند کیا کہ وطن کیلئے جہاد کرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے ،اور اس کی وضاحت یوں کی کہ کشمیری پاکستان کا نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان ” لگا کر جہاد کررہے ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے اور واضح کفر ہے ، اس لیے یہ نعرہ ختم کر کے صرف ہندوستان کے خلاف اپنے حقوق کے لیے جہاد کریں ۔
ہم اوپر شریعت اسلامیہ کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں کہ اسلامی ملک سے محبت کرنا ایک مومن کے لیے ضروری ہے،اسلامی ملک سے محبت اور اس کے ساتھ ملنے کے لیے کوشش، کوشش میں اگر جہاد کی بھی ضرورت پڑے تو کیا جاسکتا ہے اور یہ جہاد 100فیصد حقیقی اسلامی سنت نبوی کے عین مطابق جہاد ہو گا جیسا کہ تاریخ نبوی ﷺ سے اس کے کئی ایک شواہدملتے ہیں۔
ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں جب تک زندہ رکھے دین اسلام اور منہج نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنےوالا بنا کر زندہ رکھےاور ہمارا خاتمہ بالایمان ہو ،رب العالمین ہم سے راضی ہو اور ہم اس سے راضی ہوں ۔




غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا

غیر شرعی قرار داد پاس کرنے کے سبب حکمرن پر تنقید کرنا.

غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

اکثر ہمارے معاشرے میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی ایسی قرارداد پاس کر دی جاتی ہے جو بسا اوقات شریعت اسلامی کے مخالف بھی ہو سکتی ہے ۔

سوال: کیا غیر شرعی ، گناہ والی یا شریعت مخالف قرارداد یا بل وغیرہ پاس کرنے پر حکمران پر اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ اس بارے میں سلف صالحین کا کیا عمل ہوا کرتا تھا؟ 

جواب: حکمران کی اطاعت واجب ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ

اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالی کی، اور اطاعت کرو رسول اللہ کی ، اور ان کی بھی جو تمہارےحکمران ہیں۔

(النساء: 59)

پس جو بات واجب اور اصل ہے وہ حکمران کی اطاعت ہے لیکن اگر وہ کسی معصیت وگناہ کا حکم دے تو اس کی اس معصیت میں اطاعت نہیں کی جائےگی۔ کیونکہ آپ ﷺ  کا فرمان ہے:

’’لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ‘‘ 

(خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔

[رواہ احمد برقم (20653)، والطبرانی فی الکبیر (18/381) واللفظ لہ عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ]

اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:

’’إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ‘‘

(اطاعت تو صرف معروف کاموں میں کی جاتی ہے)

[رواہ البخاری برقم (7145، 4340)، ومسلم برقم (1840) من حدیث علی رضی اللہ عنہ]

لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپ حکمران کے خلاف خروج کریں یا اس کا تختہ الٹنا چاہیں، بس یہ ہے کہ آپ وہ معصیت نہ کریں جس کا وہ حکم دے رہا ہے اور اس کے علاوہ جن باتوں کا وہ حکم دے اسے بجالائیں۔ آپ اسی کی حکومت کے ماتحت رہیں، نہ اس کے خلاف خود نکلیں اور نہ دوسروں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر ابھاریں، نہ ہی مجلسوں میں اور لوگوں کے سامنے اس کے خلاف باتیں کریں، کیونکہ اس سے شروفتنہ پھیلتا ہے۔ اور لوگوں کو ایسے وقت میں حکام کے خلاف بغض سے بھرنا جبکہ کفار ہماری تاک لگائے بیٹھے گردش ایام کے منتظر ہیں، اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر انہیں اس بات کی خبر ہوجائے تو وہ ان جذبانی مسلمانوں میں اپنا زہر سرائیت کرکے انہیں ان کے حکمرانوں کے خلاف بھڑکائیں گے، جس کے نتیجے میں فتنہ وفساد ہوگا،اور نتیجہ کافروں کا مسلمانوں پر تسلط کی صورت میں سامنے آئے گا۔

لہذا حکمران خواہ کیسے بھی ہوں ان میں خیر کثیر اور عظیم مصالح ہوتےہیں۔ وہ بھی ایک بشر ہیں معصوم نہیں بعض باتوں میں غلطی کرجاتےہیں۔ لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خفیہ طور پر نصیحت کی جائے، یا ان تک پہنچائی جائے۔ اور ان کے سامنے صحیح بات پیش کی جائے۔لیکن مجالس میں بیٹھ کر ان پر کلام کرنا اور اس سے بھی شدید تر خطبوں اور تقاریر میں ان پر کلام کرنا اہل شقاق واہل نفاق واہل شر کا طریقہ ومنہج ہے کہ جو مسلمانوں کی حکومت میں انتشار مچانا چاہتے ہیں۔

ماخوذ از

(الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ، سوال: 14)

 اللہ تعالی ہمیں اسلامی قوانین اورمنہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین




موجودہ پر فتن دور میں کرنے کے کام احادیث کی روشنی میں

موجودہ پر فتن دور میں کرنے کے کام احادیث کی روشنی میں 

آئیے پُر فتن دور میں کرنے کے چند کاموں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جن کی پابندی ایک عام مسلمان کے لئے ازحد ضروری ہے تا کہ وہ قُرب قیامت فتنوں سے محفوظ رہ سکے:

دانائی سے کام لیں:

جب فتنے ظاہر ہونے لگیں یا حالات بدلنے لگیں تو ایسے نازک حالات میں نرمی و بردباری اور دانائی سے کام لیں اور جلد بازی نہ کریں۔ نرمی اس بنیاد پر کہ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس کو عمدہ بناڈالتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جاتی ہے اس کو عیب دار بنادیتی ہے۔ سارے کاموں میں نرمی کا خیال رکھیں، رحم دلی سے پیش آئیں، غصہ ور نہ بنیں ۔ دانائی اس لیے کہ آپ ﷺنے قبیلہ عبدالقیس کے اشجع نامی آدمی سے کہا تھا’’تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں بردباری اور دانشمندی‘‘ دانشمندی و دانائی عمدہ خصلت ہے ۔فتنے کے لمحات اور بدلتے حالات کے وقت بردباری قابل ستائش ہے کیونکہ بردباری کے ذریعے ہر چیز کی اصلیت و حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے۔

غوروفکر کے بعد ہی حکم لگائیں:

فتنہ کے ظہور اور حالات کے بدلتے وقت بغیر سوچے سمجھے آپ کسی چیز کے بارے میں حکم نہ لگائیں اس قاعدہ پر عمل کرتے ہوئے کہ ’’کسی چیز پر حکم لگانا اس پر غوروفکر کرنے کے بعد ہوا کرتا ہے‘‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

‹ولاتقف مالیس لک بہ علم›  

(سورہ اسراء: 63)

 ’’جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ‘‘ یعنی ایسا معاملہ جس کو آپ نہیں جان رہے ہوں، اس کا پاس وخیال نہ ہو اور نہ ہی آپ کے پاس اس بارے میں کوئی ثبوت ہو تو اس سلسلے میں بات کرنے سے بچیں، چاہے آپ اس میں لیڈر بنیں ۔

عدل وانصاف کوملحوظ رکھیں:

تمام کاموں میں عدل وانصاف کو لازم پکڑیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو،گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو۔“(سورہ انعام) اور فرمان الہی ہے:”کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کردے،عدل کیا کروجو پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔“ (سورہ المائدہ﴾ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ جس جماعت سے محبت کرتے ہیں اور جس جماعت سے محبت نہیں کرتے دونوں کو ایک میزان وکسوٹی پر رکھ کر پرکھیں اور اس کے بعد حکم لگائیں۔

جماعت کولازم پکڑیں:

اللہ تعالی کا فرمان ہے: ‹وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا›

اوراللہ تعالی کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو ۔“

(آل عمران : 103)

اورنبی ﷺ نے فرمایا:”جماعت کو لازم پکڑو اوراختلاف سے بچو۔“

(ابوداؤد)

حضرت عثمان رضى الله عنه منیٰ میں اتمام کرتے تھے جبکہ سنت یہ ہے کہ نمازی منیٰ میں ہر چار رکعت والی نماز کو دو دو رکعت پڑھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شرعی تاویل کی بناءپر چار رکعت ہی پڑھتے رہے ،اس کے باوجود حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہکہا کرتے تھے نبی ﷺ کی سنت یہی ہے کہ ہرچار رکعت والی نماز دورکعت ہی پڑھی جائے، ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کہتے ہیں اور حضرت عثمانرضی اللہ عنہکے ساتھ چار رکعت پڑھتے ہیں آخرکیوں؟ تو انہوں نے فرمایا:”اختلاف بری بات ہے  

(سنن ابوداود)

 اور ایسا ان کے شرعی قاعدہ کو سمجھنے کی وجہ سے ہوا کیونکہ جو اس کے برخلاف کرے گا اسکے اور دوسروں کے فتنہ میں پڑنے سے مامون نہیں رہا جاسکتا۔

شرعی میزان پر پرکھیں:

جھنڈے جو فتنہ میں اٹھائے جاتے ہیں خواہ وہ دعاةکے ہوں یاملکوں کے‘ ضروری ہے کہ مسلمان ان کو صحیح کسوٹی پر وزن کریں ۔آپ دیکھیں کہ اس میں خالص اللہ تعالی کی عبادت وبندگی ہے یا نہیں ؟۔ رسالت محمدی کی گواہی پوری کی جاتی ہے یانہیں؟اوراس گواہی کا تقاضا ہے کہ شریعت مصطفوی کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔ کسوٹی پر پرکھنے کے بعد آپ پر لازم ہے کہ آپ کی محبت اس میزان کے لیے ہو جو صحیح طور پر اسلام کو بلندو بالا کرتا ہے ، پھرآپ ایسے لوگوں کو مخلصانہ نصیحت کریں۔ جب یہ میزان مشتبہ ہوجائے تو اس سلسلے میں مرجع علماء ہوں گے کیونکہ وہی لوگ صحیح شرعی حکم جانتے ہیں۔

فضیل بن عیاض رحمه الله اپنے وقت میں سلطان کے لیے کافی دعا کرتے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ ان کے لیے اپنے سے زیادہ دعا کرتے ہیں؟ فرمایا :ہاں کیونکہ اگر میں درست رہا تو میری درستگی اپنے لیے اور اپنے اردگرد رہنے والوں کے لیے ہوگی ، رہا سلطان کی درستگی تو وہ عام لوگوں کے لیے ہوگی۔

قول وعمل میں چوکس رہیں:

فتنے کے وقت گفتاروکردارکے کچھ الگ ہی ضابطے ہوتے ہیں چنانچہ ہروہ بات جو آپ کو اچھی لگے اسے کہہ ڈالنا یا ہر وہ کام جو اچھا لگے اسے کر گزرنا مناسب نہیں، کیونکہ فتنے کی گھڑیوں میں ایسا کرنے سے متعدد مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔

تعجب کی بات نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے کہا:

’’میں نے رسول اللہ ﷺ  سے دو بھرے برتن کے مانند حدیثیں یاد کیں (یعنی دوقسم کا علم سیکھا) جن میں سے ایک کو میں نے عام کردیا اور اگر دوسرے کوعام کرتا تو میری گردن کاٹ دی جاتی۔‘‘

(صحیح بخاری)

علماءکا کہنا ہے کہ اس سے مراد ایسی حدیثیں ہیں جو فتنے اور بنو امیہ وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں،شرعی احکام سے متعلق نہ تھیں اورحضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے یہ بات حضرت معاویہ رضى الله عنه کے زمانے میں کہی جبکہ لوگ گھمسان کی لڑائی اورجنگ وجدال کے بعد ان کے سایہ تلے اکٹھا ہوچکے تھے، انہوں نے انہیں اس لیے چھپا لیا تاکہ لوگ جدائی کے بعد حضرت معاویہ رضى الله عنه پر جو یکجا ہوچکے تھے پھر لڑنے بھڑنے نہ لگیں۔ اسی لیے حضرت ابن مسعود رضى الله عنه فرماتے ہیں: ’’آپ لوگوں سے کوئی ایسی بات نہ کریں جو ان کی سمجھ سے باہر ہو اور ان کے لیے فتنہ کا سبب بن جائے‘‘  (صحیح مسلم)

فتنے کے وقت لوگ بات کواچھی طرح سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں،لہذا ہر وہ بات جو معلوم ہے‘ نہیں کہنی چاہیے ، زبان پر لگام لگانا ضروری ہے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کی بات پر کیسے اثرات مرتب ہونگے؟آپ کی رائے کیا رنگ لائے گی؟ سلف رحمہم اللہ اپنے دین کی سلامتی کے پیش نظر فتنوں کے وقت بہت سارے مسائل میں خاموش رہے تاکہ اللہ سے امن وسلامتی کے ساتھ ملیں۔

صحیح بخاری کی روایت ہے،نبی صلى الله عليه وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ’’اگر تمہاری قوم کے لوگ کفر سے قریب نہ ہوتے(نئے مسلمان نہ ہوتے)تو کعبہ کو ڈھاکراس کو قواعد ِابراہیمی پربناڈالتا اور اس میں دو دروازے لگا دیتا۔‘‘ نبی پاک صلى الله عليه وسلم کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کفارِقریش جو نئے نئے اسلام لائے ہیں کعبہ کو توڑکر اسکو قواعدِابراہیمی پر بنانے اور اس میں دو دروازے لگانے (ایک سے داخل ہواجائے اور دوسرے سے نکلا جائے)سے ایسا نہ ہو کہ لوگ غلط سمجھ لیں یا یہ سمجھ لیں کہ آپ فخر کرنا چاہتے ہیں یا آپ دینِ ابراہیمی کی بے حرمتی کرنا چاہتے ہیں یا کچھ اور خیال کربیٹھیں اس لیے آپ نے اسکو چھوڑدیا۔

نیک اعمال کا التزام و اہتما م :

جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے ۔

’’بادروا بالاعمال فتنا کقطع الیل المظلم‘‘

’’لوگو! سخت سیا ہ رات کی طرح گھنے فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو  ( کیونکہ وہ فتنے اتنے خطر ناک ہوں گے کہ ) صبح کے وقت بندہ مؤمن ہو گا تو شام تک کافر ہو جائے گا اگر شام کو مؤمن ہو گا تو صبح تک کافر ہو جائے گاآدمی دنیا کے معمولی مفاد کے عوض اپنا دین بیچ دے گا ۔ ‘‘

اور کثرت سے اللہ کی عبادت کا اہتمام : کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا :

’’العبادۃ فی الھرج کا لھجرۃ الی‘‘ 

’’قتل و غار ت کے دور میں عبادت کرنا میں محمد ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کے مترادف ہے ۔ ‘‘

( صحیح مسلم رقم 2948) ( الشریعہ لآجری ص49 رقم 82)

فتنوں کے ایام میں مسلمان کے خلاف زبان اور ہاتھ کو روک لینا :

جیسا کہ سیدنا علی اور امیر معاویہرضی اللہ عنہکے درمیان ہونے والی جنگوں کے موقع پر سیدناعلیرضی اللہ عنہ ایک صحابی کے پاس آئے اور کہا کہ میرے ساتھ میدان جنگ میں چلو۔ تو اس صحابی نے کہا: میں نے نبیﷺ سے سنا ہے فتنوں کے دور میں تو لکڑی کی تلوار بنا لینا ( اور اب  جبکہ دو مسلمان گروہ باہم برسرپیکار رہیں ) اور میرے پاس لکڑی کی تلوار ہی ہے، اگراسی طرح پسند  کرتے ہیں تو چل پڑتا ہو ں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کو چھوڑ کر چلے گئے ۔

کسی کلمہ گو شخص یا جماعت یا ادارہ کی تکفیر سے اجتناب کرنا :

اگر آپ کو کسی شخص کے بارے میں کسی بات یا عمل کا علم ہوتا ہے تو آپ اس شخص یا ادارہ یا جماعت پر کفر کا حکم لگانے کی بجائے اس کے کفر یہ قول یا فعل پر حکم رکھیں ۔کہ اس کا فلاں کام یا بات کفر یہ یاشرکیہ ہے یعنی حکم عمل پر رکھیں افراد پر نہیں یہ سب سے محتاط انداز ہے اور اس معیّن شخص وغیرہ کی تکفیر سے اجتناب کریں ۔کیونکہ یہ آپکے ذمے نہیں !

فتنہ پرور لوگوں کی محافل سے کلی اجتناب

کم علم تکفیری اورگمراہ کن نظریا ت کے حامل لوگوں کی مجالس اور ان کے ساتھ بحث سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور دوست اگر برے ہوں تو بندہ بھی برا ہی سمجھا جاتا ہے۔

آخر میں ہم دعا گوہیں  کہ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اس فتنہ عظیم(فتنہ تکفیر) سے محفوظ فرمائے اور سیدھی راہ پر گامزن رکھے۔

آمین یا رب العالمین




باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا اہل سنت کا اصول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کا معمول

بعض سادہ لوح افراد کا یہ ماننا ہے کہ ہم ظاہر کا اعتبار کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں ہر کلمہ گو کے ساتھ اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیوں کہ ہرکسی کے پاس کچھ نہ کچھ خیر رہتا ہے، لہذا ہم کسی کے تعلق سے کسی کو چوکنا نہ کریں۔

شریعت کی رو سے یقیناً ہم ظاہر کے پابند ہیں ،اور اہل علم کسی بھی باطل فرقے اور گمراہ  کن تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں کی بنا پر ہی ان سے چوکنا کرتے ہیں ، کیوں کہ منحرف افکار اور غلط طریقہ کار اختیار کرنے والوں سے چوکنا کرنا اہل سنت کا اصول اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و تابعین کا معمول رہا ہے، جیسا کہ گزشتہ آرٹیکلز میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے متشابہ آیات کے پیچھے لگے رہنے والوں سے امت کو چوکنا کیا

(صحیح البخاری:4547)

اور بالخصوص خوارج کے متعلق فرمایا کہ جہاں کہیں تمہیں یہ ملیں تم ان کا قتل کرو کیوں کہ ان کے قاتل کے لیے روز قیامت اجر عظیم ہے۔

(صحیح البخاری:5057)

اورنبیﷺ کا فرمان ہے کہ اگریہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

( صحیح البخاری:7432)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے سے زیادہ خوارج سے جنگ کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 37886)

امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ خوارج سے جنگ کرنے میں اسلام کے اصل سرمایے کی حفاظت ہے، اور مشرکین سے جنگ کرنے میں نفع حاصل کرنا ہے، اور اصل سرمایے کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے ۔

(فتح الباری لابن حجر:37886)

اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ عدویہ نے حائضہ کی نمازوں کی قضا کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے انہیں خوارج سے چوکنا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم حروریہ (خارجی)ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں ، لیکن (معلومات حاصل کرنے کے لیے )سوال کر رہی ہوں ۔

(صحیح مسلم :ح69)

معاذہ عدویہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ گمراہ افکار  و افراد سے عوام کوبھی واقف رہنا چاہیے جیسا کہ وہ ان سے واقف تھیں اسی لیے کہا کہ میں حروریہ (خارجیہ)نہیں ہوں ، اوراگروہ خوارج سے واقف نہ ہوتیں تو ان کا جواب اس طرح نہیں ہوتا بلکہ سوال یہ ہوتا کہ حروری کون ہیں؟

مزید پتہ چلا کہ عوام کبھی طہارت ونماز کے مسائل سے ناواقف رہ سکتی ہے ، لیکن غلط نظریات کے حاملین سے انہیں واقفیت ضرور رہنی  چاہیے۔

جہاں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گمراہوں سے چوکنا کیا وہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی خوداپنے طور پر شر سے بچنے کی فکر کرتے اور رسول اللہ ﷺ سے شر کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری:ح3606)

وہب بن منبہ رحمہ اللہ اپنے کمسن سادہ لوح شاگردوں سے فرماتے کہ تم خوارج سےہوشیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہ سوچ و افکار میں پھنسا نہ لیں کیوں کہ وہ اس امت کے لیے شر ہیں۔

(سیرآعلام النبلاء، الطبقۃ الثانیہ ،وھب بن منبہ :ج4،ص553)

امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قدیم و جدیدزمانے کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ خوارج نمازی ، روزے دار، اور بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود بہت بری قوم ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں ، ان کی یہ ساری عبادتیں ان کے لیے کار آمد نہیں ،وہ امر بالمعروف و نہیں عن المنکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے مفید نہیں کیوں کہ یہ ایسی قوم ہیں جو اپنی خواہشات کی بنا پر قرآن کی تاویل کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں چوکنا کیا نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا خلفائے راشدین نے ان سے ہوشیارکیا اور دیگر صحابہ و تابعیں نے بھی ان کے خلاف شعور بیدار کیا اس لیے کہ یہ اور ان کے پیروانجاس وار جاس (نجس و ناپاک ) ہیں ،جو حاکموں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔

(الشریعہ ،باب ذم الخوارج،ج1،ص325)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خوارج یہودونصاری سے زیادہ مسلمانوں کےلیےشر ہیں کیونکہ وہ ہراس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے ہیں جو ان کا موافق نہ ہو ،مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی اولاد کوحلال سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی جہالت اور گمراہ کن بدعت کی وجہ سے انہی کاموں کو دین سمجھتے ہیں ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ الفصل السادس ،ج10،ص248)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج اگر طاقتور ہوجائیں تو عراق ہو کہ شام، ساری زمین میں فساد مچادیں ،نہ کسی چھوٹے بچے کو چھوڑیں اور نہ ہی کسی بچی کو ، نہ ہی کسی مرد کو بخشیں نہ ہی کسی عورت کو کیونکہ ان کے نزدیک لوگ اس قدر بگڑچکے ہیں کہ ان تمام کو قتل کرنا ہی ان کے سدھار کا واحد راستہ ہے۔

(البدایۃ والنھایۃ ج10،ص584)

امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خوارج کی ابتدا عراق سے ہوئی۔

(فتح الباری ،المقدمہ)

تعجب کی بات ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ساری دنیا میں خوارج کے شروفساد کے  لیے عراق اور شام کا نام لیا ، بالکل اسی طرح  امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی خوارج کی ابتدا عراق سے ہی بتلائی اور آپ دیکھ لیں کہ موجودہ دور کے خوارج یعنی تنظیم داعش عراق سے ہی  نکلی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ نبیﷺ سے لیکر عصر حاضر کے تمام علماء تک، ہر عالم نے گمراہ فرقوں اور باطل فرقوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ امت مسلمہ کے نوجوان جذباتی ہونے کی وجہ سے ان گمراہ تنظیموں کا بہت جلد شکار بن جاتے ہیں اسی لئے انہوں نے ہر دور میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امت مسلمہ کو ان خارجی تنظیموں سے آگاہ کیا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنظیموں کی سازش کو بھانپتے ہوئے اور اسلاف کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے احباب کو ان خارجی فکر کی تنظیموں کی سازشوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ ہمارے احباب نیکی کے جزبے میں ان تنظیموں کی فکر کا شکار نہ ہوجائیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




تکفیری وخارجی کون؟

خارجی کون سائٹ
💥💥تکفیری وخارجی کون؟؟ 💥💥

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

گزشتہ چند عشروں سے امت مسلمہ بدترین دہشت گردی کی زد  میں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک ترقی کی سفر کے بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہیں ، مگر قابل افسوس تو یہ ہے کہ جہاں یہ خود دہشت گردی کا شکار ہے وہاں دہشت گردی کے لیبل بھی انہی پر ہیں۔

غور و خوض کے بعد دیکھا جائے تو اس ساری صورتحال کا ذمہ دار بڑی حد تک خود مسلمان ہیں، کیونکہ حقیقی دین سے دوری اور کتاب وسنت کی اصل روح سے ناواقفیت نے مسلمانوں کو اس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ امت مسلمہ چونکہ پہلے ہی سے مختلف گروہوں اور مسالک میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اور شدت پسند، مسلح دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے مزید بھی نفرتوں اور عداوتوں کا شکار ہوگئی ہے ۔ مسلمان ، مسلمان پر کفر اور ارتداد کے فتوے لگاکر انہیں قتل کرنے پر تیار ہوجاتا ہے۔

یہ بات بڑی واضح ہے کہ اس ساری صورتحال کی وجہ تکفیری وخارجی سوچ ہے، کیونکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اسی وقت قتل کرنے پر تیار ہوتا ہے، جب وہ اسے کافر سمجھنے لگ جاتا ہے ، تب وہ اسے مرتد کے زمرے میں لاکر انکے جان ومال کو حلال سمجھ کر اس انتہائی شنیع اقدام پر تیار ہوجاتا ہے۔  لہذا منہج تکفیر کو اس صورتحال میں کلیدی کردار حاصل ہے، جو کہ حقیقی دین اسلام سے کوسوں دور ہے، بلکہ نبی کریم ﷺ نے اس تکفیری و خارجی سوچ کے فتنے سے بڑی شدت کے ساتھ ڈرایا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے تو یہ کلمہ ان میں سے کسی ایک پر ضرور لاگو ہوگا۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دوران جنگ قتل کر دیا ، جس نے قتل ہونے سے پہلے کلمہ پڑھا ، جس پر آپ ﷺ نے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : اے اسامہ ! قیامت والے دن جب اللہ کے ہاں یہ اپنا کلمہ پیش کرے گا تو تم اس کا کیسے سامنا کرو گے ؟

ان جیسی بے شمار صحیح احادیث مبارکہ آپ ﷺ سے مروی ہیں ، جس میں مسلمان کے حرمت و ناموس کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے اور اس حرمت کو پامال کرنے والی تکفیری سوچ و فکر کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جتنی بھی شدت پسند دہشتگرد مسلح تنظیمیں نمودار ہوتی ہیں، انکی سوچ وفکر و نظریات میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔  اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز نئے نئے نام سننے کے باوجود شدت پسند تحریکیں  تحریک طالبان، القاعدہ ، جبھہ نصرہ، اور بالآخر داعش تک کا سفر کرنے والی تمام دہشت گرد ، شدت پسند تکفیری گروہوں  میں ایک ہی سوچ اور ایک ہی منہج کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔  

یہ سب تکفیری وخارجی نظریے اور منہج کے حامل گروہ ہیں ، جسکا سادہ الفاظ میں مطلب یہ کہ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہ سمجھے، دین اسلام کے وسیع مفہوم کو محدود، مخصوص مسائل کا نام دے کر تشدد کی راہ اپنا لیتے ہیں ۔ 

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، آپ ﷺ نے اپنی امت کو جیسے ہر آنے والے شر سے خبردار فرمایا : اسی طرح آپ ﷺ نے فتنہ خوارج سے بھی متنبہ کیا اس کی علامات بتلائی، اور انکے خطرناک عزائم سے خبردار فرمایا۔ ان کے  بارے نبی کریم ﷺ سے بے شمار احادیث روایت کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکا شر اور نقصان اسلام کیلئے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور ان خوارج کے مابین گھمسان کی جنگیں لڑی گئی جس میں ان خوارج کی کثیر تعداد ہلاک ہوئی ۔ 

اس سوچ کی نشر واشاعت میں اکابرین وزعماء تحریک سید قطب  کو کلیدی کردار حاصل ہے، متشدد، بیانات و تصنیفات کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں کے اذہان کو خراب کیا اور تشدد کی راہ دکھائی  اور یوں مصر میں تکفیر کی تحریک کا آغاز اخوانی تحریک کے رہنما سید قطب کی تحریروں اور بیانات سے ہوا۔ سید قطب جو کوئی عالم دین نہ تھا بلکہ ایک ادیب اور شاعر تھا ، جس نے اسلامی عقائد کو توڑ مروڑ کر اسلامی  معاشروں اور سوسائٹیز پر کفر کے فتوے لگا کر فتنہ تکفیر کی بنیاد ڈالی ،

سید قطب کے بارے میں ایک اخوانی عالم دین یوسف القرضاوی کہتے ہیں :
”اس مرحلے میں سید قطب کی وہ کتابیں سامنے آئیں، جو سید قطب کے فکر کے آخری مرحلے کی نمائندگی کر رہی تھیں اور ان کتابوں میں اسلامی معاشروں کی تکفیر، نظام اسلامی کے قیام کی دعوت کو مؤخر کرنا اور فقہ اسلامی کی تجدید، تشکیل اور اجتہاد کے احیاء کی دعوت کو مقدم کرنا مترشح ہوتا ہے۔ اسی طرح سید قطب کی یہ کتابیں اسلامی معاشروں سے شعوری علیحدگی اور اپنے کے علاوہ سے قطع تعلقی کی دعوت دیتی ہیں…” اور یہ تمام افکار ان کی تفسیر ‘فی ظلال القرآن’ کے دوسرے ایڈیشن میں وضاحت سے موجود ہیں۔

(أولیات الحرکة الاسلامیة : ص ١١٠)

شیخ ابو حسام الدین طرفاوی نے بھی اپنی کتاب ‘الغلو فی التکفیر’ میں سید قطب کو تکفیری فکر اور تحریک کا حقیقی بانی قرار دیا ہے۔ 

علامہ البانی رحمہ اللہ نے سید قطب کے بارے کہا:
“اسکو نہ تو دین اسلام کے اصولوں کا علم تھا اور نہ ہی فروعات کا اور وہ دین اسلام سے منحرف تھا “۔ 

انکے علاوہ بیسیوں علماء کرام نے اس فکر کی ترویج میں سید قطب کا ہی نام سر فہرست ذکر کیا ہے۔ نظریہ تکفیر کے علاوہ یہ شخص کئی ایسے غلط نظریات کا حامل بھی تھا، جن میں سے اختصاراً درج ذیل ہے؛ 

جلیل القدر صحابہ کرام پرطعن، انبیاء کے لیے غیر مناسب کلمات کے استعمالات، وحدت الوجود کا قائل ہونا ، حلول کے عقیدے کے مطابق قرآنی آیات کی تفسیر ، صفات باری تعالی میں تحریف، مسلمان معاشروں کی تکفیر، مسئلہ جبر میں جبریہ کی تقلید، کلمہ توحید کی غلط تفسیر، عقیدے میں خبر واحد بلکہ خبر متواتر کابھی انکار، قرآن کو اللہ کی مخلوق قرار دینا، میزان کا انکار، اشتراکیت کا قائل ہونے، روح کو ازلی قرار دینے، بتوں اور قبر پرستی کے شرک کو شرک اکبر نہ سمجھنا، رؤیت باری تعالی، صفت ید، صفت وجہ [ید سے مراد ہاتھ اور وجہ سے مراد چہرہ  ہے جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہیں اور ان کو ہمارے اعضاء کے ساتھ تشبیہ دینا حرام ہے  اللہ تعالی کےہاتھ اور چہرہ ویسا ہی جیسا اس کی شان کے لائق ہے ] اور استواء علی العرش کی باطل تاویلات پیش کرنا، صفت کلام سے مراد اللہ کا ارادہ لینا، نبوی معجزات کی توہین اور عقیدہ الولاء و البراء میں غلو کرنا و دیگر غلط نظریات و افکار شامل ہے۔ سید قطب کے ایسے عقائد کی ایک کتاب “سید قطب اور عقیدہ و منہج ” 

مصر میں تکفیر کا دوسرا مرحلہ ‘جماعت المسلمین’ سے شروع ہوا جنہیں’جماعة التکفیر والھجرة‘ کا نام دیا گیا۔ اس جماعت کی ابتداء حسن البناء کی قائم کردہ جماعت ‘الاخوان المسلمون‘ کے ان اراکین سے ہوئی جنہیں حکومت مصر کی طرف سے پابند سلاسل کیا گیا، بعد میں انجینئر علی اسماعیل، شکری مصطفی، سے لیکر ماہر عبد اللہ زناتی نے اس فکر کی احیاء میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس جماعت کے بنیادی عقائد میں تکفیر اور ہجرت شامل ہے۔ تکفیر کے اصول کے تحت یہ ان حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔ یہ حکمرانوں کے علاوہ ان مسلمان معاشروں کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو اپنے حکمرانوں کے فیصلوں پر راضی ہوں یا انہیں ووٹ دیں یا کسی طرح سے بھی ان کے ساتھ تعاون کریں۔ یہ ان علماء کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے مسلمان حکمرانوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ یہ جماعت تمام مسلمانوں کے لیے اپنے امام سے بیعت کو واجب قرار دیتی ہے جس مسلمان تک ان کے امام کی دعوت پہنچ جائے اور وہ اس کی بیعت نہ کرے تو اس مسلمان کی بھی وہ تکفیر کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ان کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد نکل جائے تو وہ بھی ان کے نزدیک مرتد اور واجب القتل ہے۔ اپنے ہجرت کے اصول کے تحت انہوں نے تمام اسلامی معاشروں کو دور جاہلیت کے معاشرے قرار دیا اور ان سے قطع تعلقی کا حکم جاری کیا ۔ اس جماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ موجودہ اسلامی معاشروں میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں ہے کیونکہ یہ جاہلی معاشرے ہیں اور جاہلی معاشرے کو اللہ کے رسول نے ایمان کی دعوت دی لہذا ان مسلمان معاشروں کو بھی مکہ کے جاہلی معاشرے پر قیاس کرتے ہوئے صرف ایمان کی دعوت دینی چاہیے۔ اس جماعت کے بعض اکابرین کو پھانسی چڑھا دیا گیا، بعض نے اپنے افکار سے رجوع کر لیا اور بعض مختلف علاقوں اور بلاد اسلامیہ میں منتشر ہو کر اپنی  یہ سوچ و فکر پھیلانے لگ گئے۔

(الموسوعة المیسرة ‘ جماعات غالیة ‘ جماعة التکفیر والھجرة سے مختلف اقتباسات)

اسکے بعد اس فکر کے لوگ باہمی انتشار اور افتراق کا شکار ہوتے چلے گئے اور روس کے خلاف جہاد 1986 میں ایمن الظواہری اور انکی جماعت “مصری اسلامک جہاد” کے اراکین نے افغانستان کا رخ کیا اور وہاں اپنی اس زہریلی فکر و نظریات کے فروغ کے کھلے مواقع تھے۔
اور افغانستان میں دنیا بھر سے اخوانی فکر کے حاملین کو اکھٹا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، چونکہ اسامہ بن لادن مالی لحاظ سے ایک مضبوط بیک گراونڈ رکھتا تھا، لہذا اسکے ہاتھوں القاعدہ کی بنیاد ڈالی، اور پھر یہاں بیٹھ کر انہوں نے دنیا بھر میں اپنی مسلح کاروائیوں کو جاری رکھا ، اس دوران اپنی تکفیری و اخوانی فکر کی ترویج و اشاعت کا کام بھی کرتا رہا، یہاں تک کہ طالبان کی حکومت بنی اور پھر 9/11 کو امریکہ پر حملے کروا کر طالبان کی حکومت ختم کرنے کے باعث بنے ۔

اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی شخص چند مخصوص فقہی مسائل کی بنیاد پر سلفی نہیں کہلایا جاتا ، یا صرف رفع الیدین، امین بالجہر ماننے سے اہلحدیث نہیں ہوتا ، بلکہ سلفی منہج اور مسلک اہلحدیث ایک مکمل منہج و عقیدہ کا نام ہے، جس کو فالو کرنے والے کو سلفی کہا جاتا ہے۔

اسی لئے داعش اور القاعدہ و دیگر مسلح تنظیموں جیسی اخوانی تکفیری تحریکوں کے سربراہان سب کے سب رفع الیدین کیا کرتے ہیں مگر سلفی علماء انہیں ہرگز سلفی قرار دینے پر تیار نہیں، بلکہ یہ خود سلفی منہج کو اپنی تکفیری منہج کے سامنے بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سلفی حکومت سعودی عرب کی سب سے زیادہ مخالفت کرتے ہیں ، اور انکے حکمرانوں کو مرتد قرار دیتے ہیں۔

تو اس ساری صورتحال کی وجہ فتنہ تکفیر ہے ، جو ان تمام دہشت گرد اخوانی تنظیموں میں پایا جاتا ہے، جوکہ تحریک اخوان المسلمین کا بویا ہوا بیج ہے، جو کہ آج ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

قارئین کرام حیران ہونگے کہ اخوانی تحریک کے سربراہ سید قطب کی کتاب ” فی ضلال القران ” کو منہج تکفیر میں ایک اعلی مقام اور مرجعیت حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ عبداللہ عزام، اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری، ابوبکر بغدادی ، گلبدین حکمت یار ، مسعود اظہر ، ابو محمد العدناني ، أبو عمر الشيشاني جیسے جہادی سوچ رکھنے والے اپنی سوچ کی مرجع سید قطب کی کتاب کو قرار دیتے ہیں ، اور اس کتاب کی خاص تعریف کرتے ہیں، بلکہ کئی ایسی تصاویر منظر عام پر آئی ہے کہ جن میں یہ مذکورہ شخصیات خرافات و غلط نظریات سے بھرپور اس کتاب کا مطالعہ کرتے نظر آتے ہیں ۔
جبکہ دوسری طرف دنیا بھر میں اپنے آپ کو سیاسی اخوانی کہنے والے پاکستان میں جماعت اسلامی ، مصر میں جماعت الاخوان، افغانستان میں حزب اسلامی و دیگر تنظیمیں سید قطب کو اپنا ایک عظیم لیڈر ورہبر سمجھتی ہیں، اور انکے مخصوص نظریات وافکار سے نہ صرف متاثر ہیں بلکہ انہیں عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

ان تمام ثبوتوں اور قرائن سے علم الیقین ہوجاتا ہے کہ حاکمیت کا غلط مفہوم جسے سید قطب نے بیان کیا ، شدت پسند تحریکوں کے وجود کے بنیادی پتھروں میں سے ایک ہے، یہی وہ خارجی فکر ہے جس نے ان جماعتوں کو مسلم معاشرے کی تکفیر اور پھر انکے خلاف ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کیا، اور اس انتہائی سٹیج پر لاکر کھڑا کردیا کہ جس پر یہ لوگ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہیں سمجھتے۔

▪️ یہ بات ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ فتنہ تکفیر کی جڑ اخوانی فکر ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شدت پسند تحریکوں کے سربراہان اس فکر کے متبع نظر آتے ہیں ، اگرچہ اس فکر کو عملی جامہ پہنانے میں یہ سب مختلف ہیں ، کچھ زیادہ ہی متشدد جبکہ کچھ کم متشدد بن جاتے ہیں ، مگر سب کی سوچ اور فکر ایک ہوتی ہیں۔
داعش جیسی سفاک دہشت گرد تنظیم جس نے اپنے مخالف کو اذیت ناک موت دینے میں کوئی بھی طریقہ نہیں چھوڑا، آگ میں زندہ جلانے سے لیکر پانی میں ڈبونے، ٹینک کے نیچے لانے، گردنوں پر 20 ہزار وولٹ بجلی کے کیبل باندھ کر کرنٹ سے مارنے، اور ذبح کرنے تک انہوں نے اپنا متشدد نظریہ دنیا کے سامنے رکھا، اور پھر یہی داعش عراق اور شام میں دیواروں پر سید قطب کے متشدد نعرے درج کرکے دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے پیروکار ہیں۔
مگر اس کے باوجود اغیار کی کوشش ہوتی ہے کہ سلفیوں کو بدنام کیا جائے ، دنیا بھر میں پرامن ،اعتدال پسند، کتاب وسنت پر مبنی دعوت کا راستہ روکا جائے، اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے کہ یہ شدت پسند تحریکیں سلفی ہیں۔
مگر جب تک ہم مسلمان  زندہ ہیں منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کا دفاع کرتے رہینگے، اور نہ صرف مخالفین کے غلط پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینگے بلکہ تمام ثبوتوں کے ساتھ انکی حقیقت دنیا پر عیاں کرینگے۔ ان شاء اللہ ۔

و ما علینا الا البلاغ




کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام

5555555

کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنی کتاب نواقض الاسلام میں آٹھویں ناقض اسلام یہ بیان کرتےہیں کہ:

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مدد کرنا اور ہر مصیبت میں ان کے کندھے سے کندھے ملا کر  کھڑے ہونا ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَآاَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّه مِنْـهُـمْ   اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ

(سورۃ المائدۃ 51)

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔

اور شیخ صالح بن فوزان رحمہ اللہ اس کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے یہاں کفارکے ساتھ  دوستی کی ایک قسم  ”مظاہرہ“ پر بات کی ہے۔ وگرنہ دوستی کی تو کئی ایک قسمیں ہیں۔مثلاً دلی محبت، غیر مسلموں کو مسلمانوں پر ترجیح دینا ، ان کی مدح و تعریف کرنا  اور اس جیسی اور بھی کئی قسمیں ہیں ،حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کفار سے نفرت و دشمنی رکھنا ،اور ان سے براءت کا اعلان کرنا مسلمانوں پر واجب کیا ہے  ۔اور اسی کو اسلام میں  ”الولاء والبراء“ اور”الموالاۃ “کا نام دیا جاتا ہے ۔

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مددکرنےکی کچھ صورتیں ہیں اور سب کے علیحدہ علیحدہ احکام ہیں:

پہلی قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد ان کے کفر و شرک اور گمراہی کی  محبت کی وجہ سے کرنا تواس قسم کے شخص کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے میں  کوئی شک نہیں ۔چنانچہ جو یہ کام کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اورانہی کے متعلق اللہ رب العزت کا فرمان ہے: (فَاِنَّه مِنْـهُـمْ)۔

دوسری قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد اپنی خوشی سے  نہیں کرتا بلکہ اسے اس کام پر مجبور کیا گیا ہے  اور وہ کفار سے  نفرت کرتا ہے۔اور اس کے دل میں ڈر بھی ہے کہ کہیں میں دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے عمل  کا ارتکاب نہ کر بیٹھوں ،اور وہ وہاں سے ہجرت کی استطاعت بھی نہیں رکھتا تو ایسا شخص اس وعید میں شامل نہیں ہے اور اس کی مثال بدر میں کفار کے ساتھ حاضر ہونے والے ان مسلمانوں کی ہے کہ مشرکین مکہ نے انہیں مسلمانوں کے خلاف نکلنے پر مجبور کیا تھا اور انہیں نکلنا پڑا ۔حالانکہ ان کے دل  تو صرف مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے تھے اور کائنات میں ان کے نزدیک مبغوض ترین مخلوق مشرک تھے۔ پھر بھی اللہ تعالی نے ان مسلمانوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ہجرت  کرنے سے کون سی چیز آڑے رہی کہ انہوں نے ہجرت نہ کی اور مشرکین مکہ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔

لیکن جو شخص ہجرت نہیں  کرتا   حالانکہ وہ ہجرت کی استطاعت بھی رکھتا ہے  اور وہ مشرکین کے ساتھ  رہتا ہے  اور وہ (مشرکین) اس کو زبردستی اس کو مسلمانوں کے خلاف قتال   پر لے جاتے ہیں  ، تو یہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے ۔

لیکن اگر وہ ہجرت کی استطاعت نہیں رکھتے تھے تو ان پر ملامت نہیں اور وہ اس وعید میں شامل نہیں ہیں۔کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ:

 (لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا)

(سورۃ البقرہ 286)

اللہ کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا ۔

تیسری قسم :

جو شخص مسلمانوں کے خلاف مشرکین و کفار کی مدد کر تا ہے  ، اور وہ اپنی مرضی سے کر رہا ہے اس پر اس کو کسی نے مجبور بھی نہیں کیا  حالانکہ وہ ان کفار کے دین سے نفرت بھی کرتا ہے ، تو یہ شخص کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گنا ہ کا مرتکب ہے  ،اور یہ کفر میں واقع ہو رہا ہے ۔

④چوتھی قسم :

کوئی شخص کفار کی مدد معاہد یا ذمی کفار کے خلاف کرے   تو یہ جائز نہیں ہے حرام ہے ، اوریہ اس لئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے معاہدے کو نقصان پہنچے گا ، اور جن کفار سے معاہدہ ہوتو کسی مسلمان کے لئے ان سے قتال کرنا جائز نہیں ۔

کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے :

مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا

(صحیح بخاری: 3166)

جس نے کو حلیف  کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو تواس (جنت )سے   چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی سکتی ہے۔

حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تو حلیف (معاہد ) کفار  کے خلاف مسلمانوں کی مدد سے بھی روک دیا  ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معاہد کفار کے خلاف غیر معاہد کفار کی مدد کی جائے۔چنانچہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِى الـدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَـهُـمْ مِّيْثَاقٌ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرٌ

(سورۃ الانفال:72)

اور اگر وہ دین کے معاملہ میں مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنی لازم ہے مگر سوائے ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ ان میں اور تم میں عہد ہو، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

 جب مسلمان ہم سے کفار کے خلاف مدد مانگیں تو ہمیں ہر صورت ان کی مدد کرنی چاہیے  مگر ایک صورت میں  ہمیں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے  ، کہ مسلمان ہم سے ان کفار کے خلاف مدد طلب کر رہے ہوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان عہد ہو  ، تو اس صورت ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم مسلمانوں کی مدد کریں ، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمیں عہد کو وفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

⑤پانچویں قسم :

کفارکی مدد نہ کرنا لیکن ان سے محبت  و الفت رکھنا ، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے ، جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں :

( لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَلَوْ كَانُـوٓا اٰبَآءَهُـمْ اَوْ اَبْنَآءَهُـمْ اَوْ اِخْوَانَـهُـمْ اَوْ عَشِيْـرَتَـهُـمْ ۚ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُـمْ بِـرُوْحٍ مِّنْهُ۔

(سورۃ المجادلۃ: 22)

آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگو ں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو کہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول :

( وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْـرَاهِيْـمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَآ اِيَّاهُۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَـهٓ اَنَّه عَدُوٌّ لِّلّـٰهِ تَبَـرَّاَ مِنْهُ ۚ اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْـمٌ)

(التوبۃ: 114)

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے، بے شک ابراہیم بڑے نرم دل تحمل والے تھے۔

مزید اللہ تعالیٰ کا یہ قول:

(يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّىْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْـهِـمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ ۙ اَنْ تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ رَبِّكُمْ…………………………رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ)

(سورۃ الممتحنہ:4)

اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان کے پاس دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ تمہارے پاس جو سچا دین آیا ہے اس کے یہ منکر ہو چکے ہیں، رسول کو اور تمہیں اس بات پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ اپنے رب پر ایمان لائے ہو، اگر تم جہاد کے لیے میری راہ میں اور میری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو تو ان کو دوست نہ بناؤ، تم ان کے پاس پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم مخفی اور ظاہر کرتے ہو، اور جس نے تم میں سے یہ کام کیا تو وہ سیدھے راستہ سے بہک گیا۔اگر وہ تم پر قابو پائیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی سے دراز کریں اور چاہتے ہیں کہ کہیں تم کافر ہو جاؤ۔نہ تمہیں تمہارے رشتے ناطے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن نفع دیں گے، وہ (اللہ) تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بیر ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ مگر ابراھیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں تمہارے لیے معافی مانگوں گا اور میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی بات کا مالک بھی نہیں ہوں، اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

آپ غور کیجئے کہ پوری سورۃ الممتحنہ  کفار کے ساتھ لگاؤاور محبت  کے حرام ہونے پر ہےاور ساری سورۃ ممتحنہ کا موضوع کفار کے ساتھ نفرت و عداوت  اور کسی قسم کی محبت نہ رکھنے پر ہے ،اگرچہ وہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ قریب ہی کیوں نہ ہوں ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس بات  پر مہر لگا دی کہ یہ فعل  کسی صورت جائز نہیں ہے ،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ قَدْ يَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ)

(سورۃ الممتحنہ :13)

اے ایمان والو! اس قوم سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ تو آخرت سے ایسے نا امید ہو گئے کہ جیسے کافر اہلِ قبور سے نا امید ہو گئے۔

 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آیت کی وعید کے زمرے میں شامل ہونے سے بچائے۔آمین




کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں

کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں

000000

کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں!

محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی کتاب نواقض اسلام کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد بن علی المشیقح نے اپنی کتاب “اطایب الزھر ” میں کفار سے دوستی اور محبت کے موضوع پر درج ذیل بحث رقم کی ہے :

اہل علم کے نزدیک ”ولاء“ اور ”تولی“ کے درمیان فرق کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس میں دوقسم کے اقوال منقول ہیں:

1۔کچھ علماء نے دونوں کو ہم معنی قرار دیا ہے۔

2۔جبکہ کچھ علماء نے ولاء اور تولی کے درمیان فرق کیا ہے۔

چنانچہ ﴿يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ﴾ میں لفظ”ولاء”اور﴿وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّه  مِنْـهُـمْ﴾ میں لفظ”تولی”کے درمیان فرق یہ بیان کرتے ہیں کہ ولاء تولی سے عام ہے “ولاء” یعنی دوستی کرنا ممنوع ہے لیکن”مخرج عن الملۃ “عمل  نہیں جبکہ اس کے مد مقابل “تولی” یعنی دلی دوستی رکھنا اور ان کے دین پر راضی ہونا “مخرج عن الملۃ “عمل ہے۔کیونکہ اس ضمن میں آنے والی آیات، الولاء اور تولی پر دی گئی وعید  میں فرق کرتیں ہیں ۔

مزید یوں سمجھ لیجیے کہ پہلے قول میں مطلق طور پر کفار سے دوستی کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل آیات سے واضح ہے ؛

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِـرِيْنَ اَوْلِيَـآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّـٰهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِيْنًا 

(النساء 144)

اے ایمان والو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ، کیا تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لینا چاہتے ہو۔

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٝ مِنْـهُـمْ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ

(سورۃ المائدۃ 51)

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 

اور دوسرا قول کہ اس وعید میں کچھ اضافہ پایا جاتا ہے کہ ایسی دوستی کرنے والا (مسلمان) انہیں (کفار) میں سے ہو جائے گا ۔جیساکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ؛

﴿ وَمَن یَتَوَلَّھُم مِّنکُمْ فَاِنَّہُ مِنْھُم ﴾

سو آئیے اب ہم “الولاء” پر بات کرتے ہیں ؛

ولاء یعنی کفار کے ساتھ دوستی کرنے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے کچھ کفر ہیں  اور کچھ فسق ہیں  جو کہ ذیل میں بیان کی جائیں گی:

کفار  کے ساتھ دوستی  کی صورتیں:

① کفار سے محبت :

کفار سے محبت کرنا قطعی طور پر حرام ہے اور اگر اس محبت کا باعث اور وجہ ان کفار کے دین سے محبت ہو جو کہ کفر و فسق اور اللہ کے ساتھ شرک پر مبنی ہے تو یہ محبت دین اسلام سے خارج کر دینے والی قرار پائے گی ۔

اور اگر معاملہ ایسا نہیں ہے یعنی کفار سے صرف بظاہر محبت ہے  تب بھی یہ حرام ہے، بالکل بھی جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں پر کافروں کے ساتھ بغض رکھنا واجب ہے۔

جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ اِبْـرَاهِـيْمَ وَالَّـذِيْنَ مَعَه  ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِـمْ اِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّهِۖ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّـٰى تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَحْدَه۔

(  الممتحنۃ :4 )

بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اوربغض ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ۔

علاوہ ازیں اس قسم سے طبعی محبت کو استثناء حاصل  ہے  کیونکہ اس پر انسان کو ملامت نہیں کیا جا سکتا ،مثلاً ایک مسلمان کسی کافر سے، بیٹا، بیوی یا کوئی اور رشتہ ہونے کی وجہ سے محبت کرتا ہے، اس سے اچھا برتاؤ رکھتا ہے، اس سے صلہ رحمی کرتا ہے۔  تو اس پر ملامت نہیں۔

②  مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو دلی دوست بنانا:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ

(آل عمران: 118)

اے ایمان والو! اپنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ ۔

یعنی (مسلمانوں)کے علاوہ کفار میں سے کسی کو اپنا دلی دوست نہیں بنانا کہ وہ آپ کے ہر راز سے واقفیت حاصل کر سکے لہذا یہ دوستی بھی حرام ہے ۔

جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ مقام بدر کی جانب روانہ ہوئے، راستے میں حرہ مقام پر پہنچے تو ایک شخص نے ملاقات کی جو کہ شجاعت اور بہادری میں بڑا مشہور تھا صحابہ کرام اسے دیکھتے ہی خوش ہو گئے وہ شخص رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگا: میں آپ کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لئے حاضر ہوا ہوں تاکہ کچھ حاصل کر سکوں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے؟ اس نے کہا ؛ نہیں! سو آپ ﷺ نے فرمایا : واپس لوٹ جاؤ کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا۔

(صحیح مسلم: 1817)

معلوم ہوا کہ اپنی راز داری والی خفیہ باتوں یا خفیہ معاملات میں کسی کافر کو شامل کرنا ہر گز جائز نہیں ہے۔

③ کفار سے مشابہت اختیار کرنا:

کفار کے ساتھ ایسی چیزوں میں مشابہت اختیار کرنا جو خاص ان کی علامات کو ظاہر کریں، چاہے وہ ان کی عادات و اطوار سے متعلق ہوں یا ان کے رہن سہن سے متعلق ہوں، قطعی طور پر حرام ہیں ۔

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

(مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ)

مسند احمد: (5114) سنن ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی لبس الشھرۃ (4031) امام البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے ۔

جس نے کسی (غیرمسلم) قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے ۔

یعنی جن چیزوں سے کفار کی پہچان یا ان کی خاصیت ظاہر ہوتی ہو ان سے بچنا ضروری ہے البتہ جوچیز ہر معاشرے میں عام ہواور کسی کی خاص نشانی یا علامت نہ ہو تو ایسی چیز کو اپنانے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا ۔ یہی شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف ہے ۔

اقتضاء الصراط المستقیم : (1/553)

④ کفار کو “السلام علیکم “کہنے میں پہل کرنا:

نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے  :

 “لاَ تَبْدَؤوا اليَهُودَ وَلاَ النَّصَارَى بالسَّلامِ، وَإذَا لَقِيْتُم أحَدَهُم فى الطَّريق، فَاضْطَرُّوهُ إلى أَضْيَقِهِ”

(رواہ مسلم 2167)

تم یہودو نصاری کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو ، اور جب کسی راستے پر تمہاری ان سے ملاقات ہو جائے تو انہیں تنگ راستے کی طرف دھکیل دو (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو کہ وہ کنارے سے ہو کر چلیں )

غیر مسلموں کو سلام کرنے میں پہل کرنا بالکل جائز نہیں کیونکہ سلام دوسرے مسلمان کے لئے حفاظت و سلامتی کی  ایک دعا ہے ، جبکہ کفار اس کے حقدار نہیں ہیں ۔

اسی لئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

اگر کفار کا یوں حال دریافت کر لیا جائے کہ تمہاری صبح کیسی رہی  یا تمہاری شام کیسی رہی ؟ خوش آمدید ، اھلاًو سھلا ًو مرحبا جیسے کلمات کہہ دیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں انہیں کوئی دعا نہیں دی جا رہی ۔

⑤غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں پر انہیں مبارک باد دینا:

اس قسم کی بھی دین اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ، قطعی طور پر حرام ہے جیسا کہ عیسائیوں کی کرسمس یا اس جیسی دیگر تقریبات میں شرکت کرنا بلکہ ان کی محافل میں شرکت کرنے والے شخص کا ایمان خطرے میں ہے کیونکہ یہ ان کے دین سے خوش ہونے کی ایک علامت ہے ۔

علاوہ ازیں انہیں دنیوی غرض و غایت سے کوئی مبارکباد پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ مثلاً تجارت میں زیادہ نفع حاصل ہونے پر، کسی گم شدہ کے واپس لوٹ آنے پر ، کسی اہم انعام کے ملنے پر وغیرہ وغیرہ ۔ یہ دو صورتوں میں جائز ہے:

پہلی صورت: مکافات عمل

بدلہ چکانے کی صورت میں، یعنی کہ انہوں نے مسلمانوں کو مبارکباد دی تو مسلمانوں نے بھی مکافات عمل میں ایسا کر دیا ۔ تو ایسا کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، نبی اکرم ﷺ بھی مشرکین کے تحفے قبول کر لیا کرتے تھے، جیسا کہ آپ ﷺ نے ایک یہودی عورت کی طرف سے بھنی ہوئی بکری  کا تحفہ بھی قبول کیا تھا ۔

(بخاری :2617)

دوسری صورت: شرعی مصلحت کے تحت

جب کوئی شرعی مصلحت پیش نظر ہو کہ ان کی تالیف قلب کی جا رہی ہو یا انہیں دین اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں یہ مشروع عمل ہے ۔ جیسا کہ ایک یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک روز وہ بیمار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ۔

 صحیح بخاری : کتاب المرضی ، باب عیادۃ المشرک، (5657)

اس  طرح عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مشرک بھائی کو دھاری دار جبہ تحفہ دیا تھا ۔

(مسلم کتاب اللباس: 2068)

⑥کفار کو مسلمانوں پر حکمران بنانا اور ایک کافر کی شخصی خدمت کرنا :

یوں سمجھ لیجیے کہ اس کا دھوبی ، اس کا باورچی یا گھر میں نوکر یا نوکرانی کسی مسلمان کو مقرر کر دیا جائے تو یہ بالکل جائز نہیں اسی طرح کسی کافر کو مسلمانوں کے معاملات  پر نگران بنانا  بھی جائز نہیں ۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے : (وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّـٰهُ لِلْكَافِـرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا)

(النساء:  141)

اور اللہ تعالی کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہرگز غالب نہیں کرے گا۔

جبکہ یہ بات واضح ہے کہ اسلام ہمیشہ غالب ہی ہوتا ہے، مغلوب نہیں ۔

⑦ ان کو  چھوڑ دینا کہ وہ اپنے دین کے شعائر کا اظہار کرتے پھریں ، جیسے شراب پینا ، خنزیر کا گوشت کھانا ، یا ناقوس بجانا اور اس جیسے باقی شعائر ۔

کفار کے ساتھ دوستی کی کچھ اور صورتیں:

  • کفار کو دینوی معاملات میں مبارکباد دینا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
  • ان کی تیمارداری کرنا ، ان کو تحفے دینا ،یعنی  جب وہ بیمار ہو جائیں  تو ان کی زیارت کے لیے جانا، اور تحفے تحائف کو تبادلہ کرنا، یا دیگر معاملات میں ان سے حسن سلوک روا رکھنا۔ جس میں دو صورتیں گزشتہ سطور میں بیا ن کی جا چکی ہیں ۔

البتہ سلام میں پہل کرنا  کسی صورت جائز نہیں ہے ، لیکن اگر کوئی غیر مسلم سلام کہنے میں پہل کر لے تو انہیں سلام کا جواب دینے کے تین طریقے بیان کیے جاتے ہیں :

پہلی قسم :

اگر وہ سلام کو بطور بد دعا استعمال کریں تو جواب میں صرف”وعلیکم” کہا جائے گا ، جیسا کہ یہودی نبی کریم ﷺ کو (نعوذ باللہ) یوں سلام کیا کرتے تھے ؛ “السام علیکم” یعنی تمہاری موت ہو ۔

 تو آپ ﷺ ان کو جواب میں صرف “وعلیکم ” فرماتے تھے ۔

صحیح بخاری ، کتاب الادب ، باب الرفق فی الامر کلہ رقم (6024)، صحیح مسلم ، کتاب السلام ، باب البھی عن ابتداء اھل الکتاب بالسلام وکیف یرد علیھم رقم(2165)

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب یہودی تمہارے پاس آئیں اور تمہیں  اپنے مطابق سلام کہیں”السام علیکم ” (یعنی تمہاری موت ہو )

تو تم جواب میں کہو “علیک” (یعنی تمہاری موت ہو )۔

(صحیح مسلم:2164)

امام ابن دقیق العبد رحمہ اللہ  نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ انہیں صرف “وعلیکم” یا “علیک” اس لئے کہا جاتا ہے کہ جو بھی اس کی  نیت میں ہو گا وہ اسے مل جائے گا۔ اگر اس نے کوئی غلط نیت رکھی تو وہ اسی پر ہو گی اور اگر اس نے واقعی اچھی نیت سے سلام کہی ہے تو اس کا بھی اسے اسی طرح کا جواب مل جاتا ہے ۔ لہذا دونوں صورتوں میں کسی کی حق تلفی نہیں ہے ۔

(شرح الالمام 2/296)

دوسری قسم :

اگر وہ بغیر غلطی کیے صراحتاً سلام پیش کرتے ہیں تو پھر مکافات عمل کے تحت انہیں سلام کا جواب دیا جائے ۔ یعنی جب وہ کہیں “السلام علیکم”  تو آپ اس کے جواب میں  وعلیکم السلام  کہہ سکتے ہیں۔

اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول شاہد ہے :( وَاِذَا حُيِّيْتُـمْ بِتَحِيَّـةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْـهَآ اَوْ رُدُّوْهَا )

(سورۃ النساء: 86 )

اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا اس جیسی ہی کہو۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں جمہور علماء کا اختلاف ہے کہ ان کو جواب دینا چاہیے یا نہیں ، الغرض اکثر محدثین نے اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ جواب دینا بہتر ہے ۔

(زادالمعاد 2/389 )

تیسری قسم:

یہ استقبال کے باقی کلمات کے متعلق ہے جیسے کسی کو خوش آمدید کہنا ، اھلا و سھلا ومرحبا کہنا وغیرہ اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا یہی ہے کہ یہود و نصاری کو ایسے کلمات کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

غیرمسلموں کے واجبات:

خرید و فروخت اور دیگر تمام معاملات میں ان کے ساتھ عدل کو ملحوظ خاطر رکھا جائے،دھوکا دہی ، اور ان کے حقوق غصب کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے ۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

“اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى وَيَنْـهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ”

(النحل 90)

بے شک اللہ انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اور بے حیائی اور بری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے، تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ

(صحیح جامع الصغیر للالبانی)

مظلوم کی بددعا سے بچو ، کیونکہ اس (بددعا ) کے اور اللہ تعالیٰ  کے درمیان کوئی حجاب نہیں  ۔

اسی طرح انصاف کرنے کے حوالے سے مسلمانوں کو حکم باری تعالی بھی ہے:

لَّا يَنْهَاكُمُ اللّـٰهُ عَنِ الَّـذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَـرُّوْهُـمْ وَتُقْسِطُوٓا اِلَيْـهِـمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ

(الممتحنۃ: 8)

اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اسی طرح  ان کے مالی حقوق کا خیال رکھا جائے گا ۔

اسی طرح یہ بھی ان کا حق ہے کہ ان کو اسلام کی دعوت دی جائے  گی ،اور گاہے بگاہے انہیں ترغیب  دلائی جاتی رہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی سے واضح ہے:

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْـهُـمْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ ۚ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِـهٖ ۖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ

(النحل : 125  )

اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا، اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر، بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے، اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے۔

اسی طرح ان کے ساتھ کیے ہوئے وعدے پورے کئے جائیں گے ، ذمی کے ساتھ ذیادتی  کرنا ، ان کی عزت  یا مال کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا  حرام ہے جائز نہیں ہے ، جب تک وہ عہد نہ توڑیں یا دھوکہ دہی  یا خیانت کا ارتکاب نہ کریں  ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

( فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَـهُـمْ ۚ)

(سورۃ التوبۃ:7)

اگر وہ قائم رہیں تو تم بھی قائم رہو۔

اگر تم ان کی طرف سے خیانت سے ڈرو  ، تو ان سے عہد توڑ دو  ، اور ان  کو بتلا دو کہ اب تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی عہد نہیں ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

 وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْـهِـمْ عَلٰى سَوَآءٍ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَآئِنِيْنَ

(سورۃ الانفال: 58)

اور اگر تمہیں کسی قوم سے دغا بازی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو اس طرح کہ تم اور وہ برابر ہو جاؤ، بے شک اللہ دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا۔

تو اس ساری تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا اور انہیں اپنا دلی دوست بنانا حرام ہے سوائے چند صورتوں کے،جن کا ذکر تفصیلاً گزر چکا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین




مسلم-کون؟

مسلم کون ہے؟

بسم اللہ الرحمان الرحیم

مسلم کون ہے؟

عن أنس، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ”

(أخرجه البخاري391)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص ہماری نماز پڑھے، ہمارے قبلہ (خانہ کعبہ ) کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائےتو یہ شخص ایسا مسلم ہے کہ اس کے لئے اللہ و رسول کا ذمہ (حفاظتِ جان و مال) ہے،پس اللہ کے ذمہ کو مت توڑو۔

فقہ الحدیث:

  1. اللہ اور رسول کے ذمہ کا مطلب ہے کہ وہ شخص اللہ و رسول کی امان ، عہد اور ضمانت ہے اس کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی ، اسے تمام وہی  حقوق میسر ہوں گے جو عام مسلمانوں کو حاصل ہیں ، یہ علیحدہ بات ہے کہ جب وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے گا جس کی سزا موت ہے تو اسے مسلمان حاکم و قاضی قتل کرا سکتا ہے ، اسی طرح اگر وہ نواقض اسلام کا ارتکاب کرے گا تو ثبوت و اقامتِ حجت کے بعد اس کے بنیادی حقوق ختم کر دئیے جائیں گے۔
  2. اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ دین اسلام میں اعمال کا اعتبار ظاہر پر ہے ، یعنی ظاہری طور پر ارکانِ اسلام ادا کرنے والا شخص ہی مسلم ہے لہذا اس پر اسلام کے ظاہری احکام نافذ ہوں گے ، رہا مسئلہ باطنی طور پر بھی مسلم و فرمان بردار ہونا تو یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
  3. ایمان کے ساتھ اعمال بھی ضروری ہیں جب کہ مرجئہ یہ باطل عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ اعمال ضروری نہیں ہیں ، اس حدیث سے ان مرجئہ پر بھی واضح رد ہوتا ہے۔
  4. اس حدیث اور دوسرے دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز اسی طرح پڑھنی چاہیے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم نے نماز پڑھی ہے۔
  5. اہلِ قبلہ پر اہلِ اسلام کے احکام جاری ہوں گےاِلّا یہ کہ وہ کفرِ صریح اور نواقضِ اسلام کا ارتکاب کریں، اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کے پیروکار ، قادیانی مرزائی و لاہوری سب اہل اسلام (اہلِ قبلہ) سے خارج ، کافر اور غیر مسلم ہیں ، اس طرح کتاب و سنت اور اجماع سے جن لوگوں کا کافر و غیر مسلم ہونا ثابت ہے وہ بھی اہلِ قبلہ اور اہلِ اسلام سے خارج ہیں۔حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ