آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




خوارج کبار صحابہ کے قاتل

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی شہادت

خوارج کبار صحابہ کے قاتل
خوارج،کبار صحابہ کے قاتل
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت

حافظ عمر خطاب بهٹوی حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کی تاریخ میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ استدلالات  کی بنیاد پر امت کے کبار اور معزز لوگوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار صحابہ کرام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، میں اس کو فرداً فرداً بیان کررہا تھا۔

چنانچہ  امت مسلمہ میں خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد سیدنا زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کا نام آتا ہے ۔اور ان کے بعد خوارج کے ہاتھوں اللہ کی جنتوں کے مہمان بننے والے جلیل القدر صحابی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں ،  ہم   ان کی شہادت کی دلدوز داستان بھی بیان کریں گے۔

یہاں اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کی مختصر حالات زندگی اور فضائل ومناقب پر روشنی ڈالنا چاہوں گا تاکہ قاری پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے کہ خوارج اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور ان کا سب سے بڑا مشن اہل اسلام کو بچانا نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ان قائدین کو  دھوکے سے شہید کرنا ہے کہ جو امت محمدیہ  کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔

حالات زندگی اور خدمات:

علی بن ابی طالب (599ء –661ء) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ یہ نبیﷺکے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں بچپن میں نبیﷺ کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔اور انہی کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً دس یا گیارہ سال تھی۔

 اسلام قبول کرنے کے بعد  ان پر بھی مشکلات آئیں۔ہجرت کے وقت نبیﷺکے بستر پر آرام کیا اور حالت یہ تھی گھر سے باہر قریش کے سارے قبائل کے بہترین حرب و جنگ کے ماہر لوگ نبیﷺ کو قتل کرنے کا خیال دل میں رکھے باہر کھڑے تھے اور موقع کا انتظار کر رہے تھے۔ہجرت کے بعد تمام غزوات میں نبیﷺ کے ہمراہ رہے۔خندق کے موقع پر قریش کے ایک بڑے سورما عمرو بن عبدودجو کہ خندق پار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس کے مقابلے سے لوگ کتراتے تھے،اس کو قتل کیا۔خیبر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر فتح کروایا۔ایک غزوے میں نبیﷺ نے اپنا نائب بنایا ۔یہ کاتب نبیﷺ تھے ،چنانچہ جب سہیل نےصلح حدیبیہ کے موقع پر “رسول اللہ” کا لفظ مٹانے کو کہا تو انہوں نے انکار کردیا ،پھر نبیﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ لفظ مٹایا۔وفات نبویﷺ کے بعد خلفاء ثلاثہ کے مشیر خاص رہے۔چنانچہ تمام خلفاء میں سے کسی نے بھی انہیں کسی غزوے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی۔یہ صحابہ میں بہترین قاضی تھے ،اللہ نے معاملے کہ تہہ تک پہنچنے کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔یہ بہترین فقیہ تھے اور اہل علم اور کبار صحابہ میں سے شمار کئے جاتے تھے، چنانچہ جب صحابہ کسی مسئلے میں تردد کا شکار ہوجاتے تو ان سے رجوع کرتے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد امت نے انہیں بالاتفاق خلیفہ بنادیا۔(اختلافات اس بات پر تھے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان سے فوراً بدلہ لیں لیکن جناب علی کا یہ خیال تھا کہ حالت کو سنبھل لینے دیں پھر ان کا قصاص لیں گے)

شہادت:

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ بعد میں ان میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔ باغی جماعت کے بقیہ ارکان بدستور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد و پیش میں موجود رہے تاہم ان کی طاقت اب کمزور پڑ چکی تھی۔

چنانچہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے جنگ نہروان میں  خارجیوں کی جڑ کا ٹنے کے بعدبھاگنے والے خارجیوں میں سے تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا کہ حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔

انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ خود ساختہ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ اس کی ملاقات ایک حسین عورت قطام سے ہوئی ، جس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ ابن ملجم ا س کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ قطام نے نکاح کی شرط یہ رکھی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دےاور کچھ دنیاوی مال بطور حق مہر مانگا تو وہ کہنے لگا کہ میں صرف جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر سکتا ہوں تو وہ اسی پر راضی ہوگئی کہ وہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردےاور اپنا ایک چچا زاد بھائی “وردان “اس کی مدد پر مامور کردیا۔  جب اس کے اس مقصد کا پتہ ایک اور خارجی شبیب کو چلا تو اس نے  ابن ملجم کو روکا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات کا حوالہ بھی دیا لیکن ابن ملجم نے اسے قائل کر لیا۔

اس نے نہایت ہی سادہ منصوبہ بنایا اور صبح تاریکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف آ رہے تھے  تو اس نے آپ کے سر پرتلوار سے  حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔  اس کے بقیہ دو ساتھی جو حضرت معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہما کو شہید  کرنے روانہ ہوئے تھے، ناکام رہے۔ برک بن عبداللہ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے گیا تھا، انہیں زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اس دن بیمار تھے، اس وجہ سے انہوں نے فجر کی نماز پڑھانے کے لیے خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔  خارجی عمرو بن بکر نےانہیں  عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دھوکے میں شہید کر دیا۔ اس کے بعد وہ گرفتار ہوا اور مارا گیا۔

جناب علی رضی اللہ  عنہ شدید زخمی تھے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ وصیتیں کرنے کا وقت دے دیا، چنانچہ انہوں نے چند وصیتیں کیں ،جو وصیتیں ان کے ذات پر کیچڑ اچھالنے والے کے منہ پر زبردست طمانچہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔چنانچہ ان کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:

آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا:

میں تمہیں اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا رب ہے۔ اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ صرف اسلام ہی کی حالت میں جان دینا۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا، اس سے اللہ تم پر حساب نرم فرما دے گا۔ یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا، ان پر یہ نوبت نہ آنے دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مانگیں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بھی ڈرنا کیونکہ تمہارے نبیﷺ کی نصیحت ہے۔

(طبری:3/2،355)

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔ اپنے نبی کے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔پشت دکھانے، رشتوں کو توڑنے اور تفرقہ سے بچتے رہنا۔ نیکی اور تقوی کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور نافرمانی اور سرکشی میں کسی کی مدد نہ کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اللہ تعالی تمہاری ، تمہارے اہل خاندان کی حفاظت کرے جیسے اس نے تمہارے نبی کریمﷺ کی حفاظت فرمائی تھی۔ میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتا ہوں۔

(طبری:3/2،356)

ان وصیتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ کی رائے کیا تھی؟ آپ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خاص کر اس بات کی تلقین فرمائی کہ صحابہ کرام کو ساتھ ملایا جائے، ان سے تفرقہ نہ پیدا کیا جائے اور انہی کے ساتھ رہا جائے خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت حسن نے یہی کیا اور  قربانی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی، جس پر ملت اسلامیہ قیامت تک فخر کرتی رہے گی۔

اپنے قاتل کے بارے میں  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وصیت فرمائی:

بنو عبدالمطلب! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون نہ بہا دینا،  اور یہ کہتے نہ پھرنا کہ امیر المومنین قتل کیے گئے ہیں (تو ہم ان کا انتقام لے رہے ہیں) سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا۔ حسن! اگر میں اس کے وار سے مر جاؤں تو قاتل کو بھی ایک ہی وار میں ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیے۔ اس کی لاش کو بگاڑنا نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ مثلہ سے بچو ۔

(طبری:3/2،356)

اس کے بعد21 رمضان 40ھ کوفجر کی نماز کے وقت اسلام کا یہ بطل جلیل خوارج کی چالاکیوں کا شکار ہوکر ہمیشہ کیلئے امت محمدیہ کو داغ مفارقت دے گیا ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

اس کے بعد اس خارجی کو بھی قصاصاً قتل کردیا گیا۔          

“خس کم جہاں پاک”




کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ! وبعد:

آج بہت سے مسالک بھی ایک دوسرے کو خوارج کہتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جو خوارج کو دراصل ممتاز اور نمایاں کرتی ہے؟ 

خوارج کی پہچان انکے (نہایت بھیانک اور) گمراہ فکر و عقیدے اور پھر اسی کی بنیاد پر اسلامی ریاستوں، مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں میں بغاوت، قتل و غارت گری اور اموال کو لوٹنے جیسے اعمال سے مشروط ہے.
اس بدترین گروہ کا شمار موجودہ مسالک یا مذاہب اربعہ میں سے کسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ایک الگ گروہ ہے، جو تمام مذاہب و مسالک سے اپنا حصہ حاصل کرسکتا ہے. اور اس فتنہ خوارج نے قرآن و سنت کے مطابق،دین اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر قیامت کی دیواروں تک، کسی نہ کسی تنظیم یا گروہ کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے.

جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم.

(ابن تيمية، النبوات : 222)

”وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے”۔
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496)

“اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔”
پھر آخر میں ابن تیمہ رحمہ اللہ فیصلہ کن طور پر لکھتے ہیں:
وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477)

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔
دین محمدیہ میں شریعت اسلامی کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک کھڑی کرنا اور مسلمانوں میں امن و عامہ کو تباہی سے دوچار کرنا خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔اس پر تاریخ گواہ ہے۔
ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ:
“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”
“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

اللہ تمام مسلمانوں پر رحم فرمائے۔ آمین




داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت (جدید ایڈیشن)۔

داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت

(جدید ایڈیشن)

ایک تحقیقی جائزہ 

مصنف : مناظر اسلام فضیلۃ الشیخ محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ 

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

ٹوٹل صفحات :176 

سائز : 4 ایم بی

ڈاؤنلوڈ لنک :https://archive.org/details/Daesh_aor_shariat_aek_jaeza_201706

خارجی تنظیم داعش نے اپنی خود ساختہ جھوٹی خلافت کے نام پر امت مسلمہ کا بے دریغ خون بہایا، اسلام کے نام پر ایسے ایسے قبیح اور شنیع جرائم کا ارتکاب کیا کہ جس کا کسی بھی صورت میں دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

اس کتاب میں مناظر اسلام محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں داعش کے تمام جرائم کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی جائزہ اور ان کے غلط استدلال کا رد پیش کر کے ان خوارج کے قبیح چہرے کو خوب واضح کیا ہے ۔

78b33a42-a4bd-488a-aa34-359eeb6310eb

مکتبہ رد فتن 




تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش (جدید ایڈیشن)۔

تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش

(جدید ایڈیشن)

داعش کے گمراہ کن نظریات کا تعاقب

مصنف : فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفطہ اللہ تعالی

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

ٹوٹل صفحات : 128

ڈاؤنلوڈ لنک : https://archive.org/details/Talbisat_Daesh 

سائز : 3 ایم بی

داعش امت مسلمہ کے لئے ایک خطرناک فتنہ بن کر ابھرنے والی ، خوارج کے افکار کو پروان چڑھانے والی تنظیم جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف قسم کے اشکالات اور شبہات پھیلا کر مسلمانوں کو دھکا دے رہی ہے ۔

اس کتاب میں فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ نے اس خارجی تنظیم کے مسلمانوں میں پھیلائے گئے اشکالات و شبہات کا تعاقب کرتے ہوئے قرآن و سنت کے روشنی میں مدلل اور تحقیقی جواب پیش کیا ہے ۔ 

866fac73-4980-4f4e-9ea4-9deb230552ea

مکتبۃ رد فتن 




حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران کی  خیر خواہی آخر کیسے ؟ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

حکومت ، سلطہ اور جاہ جلال ایسی چیز ہےکہ جہاں ہر کسی کا اپنی مرضی کرنے کو جی چاہتا ہے تبھی تو وہ کئی گناہوں کو بالکل معمولی سمجھتے ہوئے کر گزرتا ہے ، جہاں اسے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اتنے کروڑوں  عوام میں تحت ہیں ، میں جو بھی کرنا چاہوں وہ ہو گا ۔ تو ایسے میں اللہ کی یاد اس کا ڈر ، خوف اور بھی کم ہو جاتی ہے ، اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کی کوتاہیاں اور برائی اچھالنے کی بجائے انہیں نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئیے اسی کے پیش نظر کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے ؛ 

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((الدين النصيحة، قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم))

(مسند احمد404،403/3 ومستدرک حاکم: 290/3)

“دین خیرخواہی ہے۔ہم نے پوچھا: کس سے؟ آپ نے فرمایا: اللہ سے،اس کی کتاب سے،اس کے رسول سے،مسلمانوں کے اماموں سے اور عام مسلمانوں سے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

((نضَّر الله امرأً سَمِع مقالتي فوَعَاها وحَفِظها وبَلَّغها، فرُبَّ حامل فِقْه إلى مَن هو أفقه منه، ثلاث لا يغلُّ عليهنَّ قلبُ مسلم: إخلاصُ العمل لله، ومناصحة أئمة المسلمين، ولزوم جماعتهم؛ فإنَّ الدَّعْوة تُحيط من ورائهم))

(فتح الباری 72،71/13)

اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیوں کہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھاسکتا،(۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیوں کہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی بات کے سننے اور اس کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانے،یاد کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے والے کے حق میں خوشی،چہرے کی تروتازگی اور اس کے حسن و جمال کی دعا فرمائی ہے جو ایمان کے آثار اور باطن کے اس سے روشن ہونے نیز دل کے مسرت  و شادمانی سے ہمکنار اور لذت یاب ہونے کے سبب چہرے کو عطا ہوتی ہے،چنانچہ جو ان چاروں مراتب کو انجام دے گا وہ نبی ﷺ کی ظاہر و باطن کے حسن  و جمال پر مشتمل دعا سے فیضیاب ہو گا۔

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم 1/276.274،بتحقیق علی بن حسن بن عبدالحمید)

امام ابن قیم  رحمہ اللہ  مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

  • نبی ﷺ کا فرمان: اور مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی…..۔

یہ چیز بھی  خیانت اور دھوکہ دہی کے منافی ہے کیونکہ خیر خواہی اور خیانت دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،چنانچہ جو شخص آئمہ و امراء اور امامت(رعایا) کی خیر خواہی کرے گا وہ خیانت سے بری ہو گا۔ 

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم: 1 /275 تا 278)

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

مسلمانوں کے امام وامراۃ کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں ان کی درستی, نیکی اور عدل و انصاف سے محبت کرنا نیز ان کے ہاتھوں پر امت کے اتفاق سے محبت اور ان پر امت کے اختلاف و افتراق کو ناپسند کرنا،اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کو نیکی سمجھنا ان کے خلاف بغاوت کے جواز کا عقیدہ رکھنے والے سے بغض رکھنا اور اللہ کی اطاعت میں ان کے غلبہ و سربلندی کو پسند کرنا۔

(جامع العلوم والحکم: 1/222)

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں حق پر ان کی مدد کرنا،اطاعت کرنا،انہیں حق کی نصیحت کرنا،نرمی و ملائمت سے انہیں تنبیہ کرنا،ان سے اختلاف کرنے اور لڑنے جھگڑنے سے احتراز کرنا اور ان کے لئے توفیق کی دعا کرنا نیز غیروں کو اس پر ابھارنا۔

(مرجع سابق 1/223 نیز مسلمانوں کے امراء کی اطاعت کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ ابن تیمیہ 28/391،390،ومنہاج السنۃ النبویہ 3/390)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں کے امراء کی اطاعت اور انکی خیر خواہی کا حکم دیا ہے وہ انسان پر بعینہ اسی طرح واجب ہےجس طرح پانچ وقت کی نمازیں ،زکاۃ، روزہ ،حج بیت اللہ اور ان کے علاوہ دیگر وہ  اعمال واجب ہیں جن  کی بجا آوری کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ اس نے اس کا معاہدہ نہ کیا ہو اور اس کے لیے پختہ خلاص نہ اٹھائی ہو، اور اگر وہ اس پر قسم کھالے تو یہ چیز امراء  کی اطاعت اور ان کی خیرخواہی کے سلسلہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مزید تاکید وتثبیت ہوگی،  چنانچہ ان کی باتوں کی قسم کھانے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قسم شدہ امر  کی خلاف ورزی کرے…. کیوں کہ اللہ عزوجل نے حکمرانوں اورامراءکی اطاعت اور خیرخواہی کو واجب قرار دیا ہے، وہ یوں بھی  واجب ہے  خواہ وہ  قسم نہ بھی کھائے ،تو اب جبکہ اس نے  قسم کھالی ہے ان کی اطاعت اس پر بدرجہ اولیٰ واجب ہوگی ،اسی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےجوان کی  نافرمانی اور خیانت سے منع فرمایا ہے وہ اس پر حرام ہیں خوا ہ  اس نے قسم نہ بھی کھائی ہو ۔

(فتاوی ابن تیمیہ 35/10،9)

اور آئمہ و امراء کو نصیحت ان کے اور ناصح کے مابین نرمی و ملائمت ،  حکمت  و دوراندیشی ،  عمدہ نصیحت اور مناسب اسلوب میں خفیہ طور پر ہوگی۔ 

شیخ علامہ عبدالرحمان بن ناصر سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رہا مسلمانوں کے آئمہ کی خیر خواہی کا مسئلہ:تو مسلمانوں کے آئمہ سے مراد سلطان اعظم سے لیکر امیر و قاضی تک ان کے امراء اور ذمہ داران ہیں،چونکہ ان لوگوں کے فرائض اور ذمہ داریاں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر ہیں،اس لئے ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے انہیں نصیحت کرنا واجب ہے،اس بات کے پیشِ نظر ان کی امامت کا اعتقاد رکھا جائے،ان کی ولایت ( حکمرانی) کا اعتراف کیا جائے،معروف میں ان کی اطاعت کی جائے،ان کے خلاف بغاوت نہ کی جائے،رعایا کو ان کی اطاعت اور ان کے حکم کی تعمیل پر ابھارا جائے،بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو،اپنی استطاعت بھر انہیں نصیحت اور اپنی رعایا کی دیکھ بھال  کے سلسلے میں جو چیزیں ان سے مخفی ہوں ان کی وضاحت کی جائے ـہر شخص اپنے اعتبار سےـ ان کی اصلاح و درستی اور تو فیق کیلئے  دعا کی جائے کیونکہ ان کی بہتری میں رعایا کی بہتری ہے ،انہیں برا بھلا کہنے،ان کی عیب جوئی  اور انکی خامیوں اور برائیوں کو  عام کرنے سے باز رہا جائے،کیونکہ اس میں برائی ،نقصان اور بہت بڑا فساد ہے،چنانچہ ان کی خیر خواہی کا تقاضہ  یہ ہے کہ ان چیزوں سے بچا جائے اور دوسروں کو تنبیہ کی جائے،اور جو شخص ان کی جانب سے کوئی نا جائز چیز دیکھے اسے چاہیے کہ انہیں علانیہ  نہیں بلکہ خفیہ طور پر نرمی اور ایسے اسلوب میں تنبیہ کرے  جو برمحل ہو  اور مقصود حاصل ہو جائے،کیونکہ ہر شخص بالخصوص  امراء اور حکام کے حق میں  یہی چیز مطلوب ہے،کیونکہ انہیں اس طرح تنبیہ کرنے میں بڑی خیر ہے، اور یہ سچائی اور اخلاص کی علامت ہے ،اور اس (مذکورہ طریقہ پر) نصیحت کرنے والے!دیکھنا لوگوں کی مدح سرائی آپ کی نصیحت  کو ضائع و برباد  نہ کردے،اس لئے کہ آپ لوگوں کو کہتے پھریں کہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے اور ایسا ایسا کہا ہے،کیونکہ یہ ریا کاری اور ضعف اخلاص کی علامت ہے،اور اس کے دیگر نقصانات بھی ہیں جو معروف ہیں۔

(الریاض الناضرۃ والحدائق النیرۃ الزاہرہ،ص38تا 49)




مسلمانوں پر ہتیار اٹھانے کا حکم 4

مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی مذمت

مسلمانوں پر ہتیار اٹھانے کا حکم 4

مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کا حکم

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

شریعت اسلامیہ ایک مسلم  کو زندگی کے ہر موڑ پر   رہنمائی میسر کرتی ہے۔اور وہ چیزیں کہ جن کے وجہ سے ایک مسلم رب کی معصیت کا ارتکاب کر بیٹھے، ان چیزوں کو بیان کرتے ہوئے سختی کے ساتھ ان سے روکتی ہے اور ان چیزوں پر عمل پیرا شخص کو سخت وعیدیں سناتی ہے۔اسی لئے محدثین کی اصطلاح میں اس عمل کو “سد الذرائع” کا نام دیا گیا ہے ۔

چنانچہ اسی طرح کے معاملات میں سے ایک کسی مسلم کی طرف مذاقاً  ہتھیار  اٹھانا ہے ۔اسی لئے شریعت اسلامیہ نے اس سے سختی سے روکاہے۔چنانچہ نبی کریمﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

” لا يشير أحدکم إلی أخيه بالسلاح فإنه لا يدري أحدکم لعل الشيطان ينزع في يده فيقع في حفرة من النار”

تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید کہ شیطان اس کے ہاتھ سے اسلحہ چلوا دے اور پھر وہ دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔

 صحیح المسلم، کتاب البرواصلۃ والآداب، باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی مسمل، رقم الحدیث 126 (2617)،(4/20)

یہاں اِستعارے کی زبان میں بات کی گئی ہے یعنی ممکن ہے کہ ہتھیار کا اشارہ کرتے ہی وہ شخص طیش میں آجائے اور غصہ میں بے قابو ہو کر اسے چلا دے۔ چنانچہ اس عمل کی مذمت اور قباحت بیان کرنے کے لئے اسے شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے تاکہ لوگ اِسے شیطانی فعل سمجھیں اور اس سے باز رہیں۔

اسی طرح ایک اور جگہ پر اس عمل کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

“من حمل علينا السلاح فليس منا”

جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایا تو وہ ہم میں سے(یعنی سنت پر عمل پیرا لوگوں میں سے)نہیں۔

(سنن ابن ماجہ،باب من شھرالسلاح)

یہاں ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ اس اسلحہ اٹھانے سے مراد قتال کیلئے اسلحہ اٹھانا ہے  نہ کہ اپنےاور دوسروں کے  دفاع کیلئے اسلحہ اٹھانا جیسا کہ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتا ب”فتح الباری “میں لکھتے ہیں:

“المراد من حمل عليهم السلاح لقتالهم لما فيه من إدخال الرعب عليهم لا من حمله لحراستهم مثلا فأنه يحمله لهم لا عليهم”

“من حمل عليهم السلاح”  سے مراد آدمی پر اس کو قتل کرنے یا اس پر رعب ڈالنے کی غرض سے اسلحہ اٹھانا ہے جبکہ اپنے یا دوسروں کے دفاع میں اسلحہ اٹھا نے والا اس وعید میں شامل نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ ان کیلئے اسلحہ اٹھا رہا ہے نہ کہ ان پر اسلحہ اٹھا رہا ہے(یعنی اسلحہ وہ اپنے لوگوں پر نہیں اٹھارہا بلکہ اپنے آپ اور اپنے لوگوں پرحملہ آور  شخص جو کہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ،کے خلاف اٹھا رہا ہے)

سلاح (ہتھیار) ہر وہ ہتھیار ہے جو جنگ میں مارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے نیزہ، تلوار، بندوق، پستول، کلاشنکوف، خنجر وغیرہ لہٰذا ان سے کسی مسلمان بھائی (اور اسی طرح اسلامی مملکت میں رہنے والے ذمی) کو ڈرانا حرام ہےچاہے وہ بالقصدہو  یا مذاق کے طور پرکیونکہ  ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اشارہ کرنا نہایت خطرناک ہے، ہوسکتا ہےکہ شیطان وہ ہتھیار اس سے غیرارادی طور پر چلوا دے اورسامنے والا شخص قتل ہوجائے اور یہ شخص اس وجہ سے جہنمی بن جائے۔ لیکن بدقسمتی سے اسلام کی اس تعلیم کے برعکس آج کل ہتھیار کی نمائش اور اس کا بےجا استعمال بہت عام ہوگیا ہےچنانچہ خوشی کے موقعے پر ہوائی فائرنگ کا بھی رواج بڑھتا جارہا ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور اس کی نقصانات بھی آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔والعیاذ باللہ العظیم

اسی طرح ایک اور جگہ پر نبیﷺ نے  یہ الفاظ ارشاد فرمائے:

“من سل علينا السيف فلیس منا”

جس نے کسی مسلم پر تلوار اٹھائی تو وہ ہم میں سے نہیں۔ 

 (مسلم،باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا إله إلا الله،ح:162)

اسی طرح ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:

“مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّه”

جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔

(صحیح المسلم، کتاب البرواصلۃ والآداب، باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی مسلم ، رقم الحدیث 125 (2616)، 3/2020)

نبی کریمﷺکے ارشاد گرامی“وان کان اخاہ لابیہ وامہ” (اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو)سے مقصود یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا منع ہے، خواہ اس شخص کے اس کے گھریلو تعلقات ہوں اور اچھا خاصا مذاق ہو۔

علاوہ ازیں ایسے اشارہ کرنے والے پر فرشتوں کی لعنت کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا اشارہ کرنا حرام ہے۔           

(شرح النووی: 16/ 170)

چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ریاض الصالحین میں مذکورہ بالا دونوں حدیثوں پر درج ذیل عنوان قائم کیا ہے:

مسلمان کی طرف ہتھیار وغیرہ سے اشارہ کرنے کی ممانعت، اشارہ خواہ مذاق سے ہو یا سنجیدگی سے، نیز بے نیام تلوار کو ہاتھ میں لینے کی ممانعت۔    

(ریاض الصالحین ص520)

آپ غور کیجئے کہ جب کسی مسلم کی طرف مذاقاً ہتھیار اتھانے کی اتنی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور اس گناہ کے مرتکب شخص کواتنی سخت وعید سنائی گئی ہے تو کسی مسلمان کو اذیت دینا، یا اس کی پٹائی کرنا، یا اس کو زخمی کرنا، یا اس کو قتل کرنا اللہ تعالی کے ہاں کس قدر سنگيں جرم ہوگا-

اسی طرح نبیﷺ نے صرف کسی دوسرے پر اسلحہ اٹھانے سے ہی نہیں بلکہ عمومی حالات میں بھی اسلحہ کی نمائش  کو ممنوع قرار دیا۔چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:

“نَهَی رَسُولُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا”

رسول اکرم ﷺ نے ننگی تلوار لینے دینے (یعنی پکڑانے سے) منع فرمایا۔

(ترمذي، کتاب الفتن، باب ما جاء في النهي عن تعاطي السيف مسلولا، 4 : 464، رقم: 21632)

ننگی تلوار کے لینے دینے میں جہاں زخمی ہونے کا احتمال ہوتا ہے وہاں اسلحہ کی نمائش سے اشتعال انگیزی کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ دین اسلام  کا خیر و عافیت اور مذہب امن و سلامتی ہونے کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نےکھلم کھلااسلحہ کی نمائش پر پابندی لگا دی، تاکہ اسلامی معاشرہ امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے ۔ اسی طرح مذکورہ حدیث میں لفظ “مَسْلُول” اس اَمر کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ریاست کے جن اداروں کے لیے اسلحہ ناگزیر ہو وہ بھی اس کو غلط استعمال سے بچانے کے لیے انتظامات کریں۔

درج بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ جب اسلحہ کی نمائش، دکھاوا اور دوسروں کی طرف اس سے اشارہ کرنا سخت منع ہے جبکہ مسلم معاشروں میں اسلحہ لہراتے ہوئے اسلام کے نفاذ کے نام پر آتشیں گولہ و بارود سے مخلوق خدا کے جان و مال کو تلف کرنا کتنا قبیح عمل اور ظلم ہوگا! اور یاد رہے تاریخ اسلامی میں یہ طریقہ ہمیشہ سے خوارج کا رہا ہےکہ وہ کسی مسلم کو قتل کرنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے۔چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ داعش اور تحریک طالبان پاکستان  کے لوگ کسی بھی مسلمان کو قتل کرنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے اور اسی پر بس نہیں بلکہ وہ ان کوکافر قرار دینے کے بعد قتل کرنا  ضروری اور فرض سمجھتے ہیں ۔




خوارج کے فرقے

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

خوارج کے فرقے

 

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خارجیوں کے بہت سے فرقے اور جماعتیں ہیں،لیکن یہ سب خروج و بغاوت  اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر الگ رہنے پر متفق ہیں،ان کا سب سے مشہور نام “خوارج”ہے ، ان کو حروریہ بھی کہا جاتا ہے،کیونکہ ابتدائے امر میں کوفہ کے قریب ”حروراء “ نامی جگہ سے یہ لوگ نکلے تھے۔

⬅️ ان کا ایک نام مارقہ بھی ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے ان کے متعلق فرمایا:

“يمرقون من الدين”

وہ دین سے نکل جائیں گے۔

(بخاری4094) 

⬅️ ایک نام مکفرہ بھی ہے(یعنی تکفیر کرنے والے)کیونکہ یہ اپنے مخالفین،اور گناہ کرنے والوں  کو کافر قرار دیتے ہیں ۔

⬅️ ان کا ایک نام شُراۃ بھی ہے (یعنی خریدنے والے)کیونکہ انکا گمان تھا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لیا ہے،اور اسے جنت کے بدلے بیچ دیا ہے۔

⬅️ پہلے کے خارجیوں میں سب سے سخت قسم کے ازارقہ  تھے،جو نافع بن الازرق الحنفی کے پیروکار تھے،خوارج کے فرقوں میں  سے کوئی فرقہ ازراقہ سے زیادہ طاقتور اور ان سے زیادہ تعداد والا نہیں تھا،یہ لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کے زمانہ خلافت میں نافع کے ساتھ بصرہ سے نکل کر اہواز کی جانب گئے،اور اہواز اور اس کے آس پاس کے علاقوں اور اس کے ماوراء فارس اور کرمان کے شہروں پر قبضہ کر لیا ،اون ان علاقوں میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما   کے گورنروں کو قتل کر دیا۔

یہ ازارقہ خوارج کے تمام فرقوں میں سے  سب سے زیادہ انتہاپسند تھے ،ان کے کچھ منفرد اعتقادات تھے، جن کی وجہ سے وہ خوارج کے دیگر فرقوں سے الگ ہو گئے،ان کے وہ عقائد یہ ہیں:

🔵انہوں نے شادی شدہ زانی پر رجم کے شرعی حکم کو باطل قرار دیا۔

🔴جو شخص شادی شدہ مرد پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف نہیں ہے۔

🔵جو شادی شدہ عورت پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔

🔴انہوں نے چور کا ہاتھ کندھے کے پاس سے کاٹا،اور اس سزا کو انہوں نے ہر قسم کی چوری پر واجب کیا،خواہ چوری کیا ہوا مال کتنا ہی کم ہو۔

🔵انہوں نے حائضہ عورت پر حالت حیض میں نماز اور روزہ واجب قرار دیا۔

🔴انہوں نے ان تمام عورتوں اور بچوں کے خون کو مباح قرار دیا،جو ان کے خیمے(ان کی جماعت)کے نہیں تھے۔

🔵جو لوگ ان کے پاس ہجرت کر کے آتے تھے،ان کے سلسلے میں ان کا یہ معمول اور طریقہ کار تھا کہ ان میں سے ہر ایک کا امتحان لیتے تھے ، امتحان کی صورت یہ ہوتی تھی کہ اپنے مخالفین کے قیدیوں میں سے  ایک قیدی اس کے حوالے کر کے حکم دیتے تھے کہ اسے قتل کرو،اگر وہ قیدی کو قتل کر دیتا تو اس کو جماعت کی رکنیت کا پروانہ دیدیتے،ورنہ اسے قتل کر دیتے۔

🔵ان کا گمان تھا کہ ان کے مخالفین کے بچے مشرک ہیں، اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ ان کے مخالفین کے علاقے دیار کفر ہیں،اور ان کی امانتوں کو واپس کرنا واجب نہیں۔

🔵وہ یہود و نصاری اور مجوسیوں کا قتل حرام قرار دیتے ہیں۔

🔴ان کا کہنا ہے کہ جس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا وہ کافر ہے، اس کے سبب وہ اسلام سے مکمل طور پر خارج ہو گیا،اور دوسری ملتوں کے کفار کے ساتھ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔

🔵تحکیم کے معاملے میں وہ علی رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دیتے ہیں،اور دونوں حکم ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو ،اور اسی کے ساتھ عثمان، طلحہ، زبیر، عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور ان کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کو بھی کافر قرار کہتے ہیں،اور یہ کہ وہ سب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴ان کے موافقین اور متبعین میں سے جو شخص ہجرت کر کے ان کے علاقے میں نہیں آیااسے یہ مشرک گردانتے ہیں،خواہ وہ ان کے مذہب اور ان کے عقیدے میں ان کے موافق ہی کیوں نہ ہو۔

ان سب کے علاوہ بھی ان کی بدعتیں اور ہاکت خیز و تباہ کن گمراہیاں ہیں،دیکھیں

(تاریخ الطبری5/528،566،614،613،568)ومقالات الاسلامیین(1/157-162)

خوارج کے نت نئے طریقوں اور منصوبوں کی بنا پر ان کے نئے نئے نام اور القاب بھی سامنے آتے رہتے ہیں ، یا تو عوام الناس ان کو یہ نام و القاب  دیتے ہیں، یا وہ خود اپنے اوپر ان کا اطلاق کر لیتے ہیں، اس سے انہیں لوگوں سے اپنی حقیقت چھپانا مقصود ہوتا ہے ، ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا، اور اپنے گھناؤنے افعال کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، جیسے ہمارے موجودہ زمانے میں ان خوارج کو القاعدہ، الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام یعنی ”داعش“ اور الجبہۃ النصرۃ ، بوکو حرام ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار وغیرہ ناموں سے جانا جاتا ہے۔

⬅️ خوارج کے فرقوں میں سب سے زیادہ خبیث اور بد ترین فرقہ ”القعدیہ“ ہے ، ان کا کام صرف زبان کے زریعے حکمران کے خلاف خروج و بغاوت کرتے ہوئے آگ بھڑکا کر رکھنا ہوتا ہے ، اور غیر محسوس انداز میں یہ مسلم حکومت وقت کے خلاف مسلح باغیوں کی فوج تیار کر رہے ہوتے ہیں ، ان کی ذہن سازی اور دلائل مہیا کر رہے ہوتے ہیں ، اعلانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ حاکم کے عیوب و نقائص ذکر کر کے اور ان کی اچھی سیرت و کردار کی غلط تصویر کشی کر کے ان کے خلاف عوام کو ورغلاتے ہیں، اور حکومت و ریاست میں ان سے مزاحمت کرتے ہیں۔

فرقہ قعدیہ کے حوالے سے ہماری ویب سائٹ پر الگ سے ایک مضمون شائع کیا جا چکا ہے شائقین یہاں سے قعدیہ بدترین فرقہ خوارج کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔ 




عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

 عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم  باتیں 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم نکات جن کا علم ہونا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے ، وگرنہ وہ جانے انجانے میں خوارج کی صف میں شامل ہوسکتا ہے،ہم ان  اصول کو آسان الفاظ میں بیان کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ملاحظہ کیجیے ؛ 

  • مسلمانوں کے آئمہ  و امراء کے خلاف بغاوت کرنا کتاب و سنت سے حرام ہے۔
  • مسلمانوں کے ذمہ داروں مثلاً حکام اور علماء و امراء کی اطاعت معروف و بھلائی میں رعایا پر واجب ہے،اس میں کوئی شک نہیں۔
  • ہر وہ شخص جو ایسے امام کے خلاف بغاوت کرے جس پر مسلمانوں کی جماعت متفق ہو اور کبیرہ گناہ کی بنیاد پر اس کی تکفیر کرے اسے خارجی کہا جائے گا،اس کے حق میں حکومت وقت کے لئے حکم شرعی نافذ کرنا ضروری ہو جاتا ہے وگرنہ یہ مزید لوگوں کے عقائد میں خرابی پیدا کرے گا۔
  • تکفیر کے کچھ اصول ہیں جنہیں جاننا اور ازبر کرنا ضروری ہے،یہاں تک کہ طالب علم اپنے معاملے سے آگاہ ہو جائے۔
  • علم شرعی کے طلب گار کیلئے تکفیر کےضوابط کی معرفت بہت اہم ہے۔
  • تکفیر کے کچھ موانع ہیں جنہیں جانناضروری ہے۔
  • اہل سنت و جماعت تمام فرقوں میں متوسط و معتدل ہیں خواہ تکفیر کے مسئلہ میں یا دیگر مسائل میں ،اللہ سبحانہ و تعالی نے اس امت کے بارے میں ارشاد فرمایا:
    وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا 
    ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول [ﷺ] تم پر گواه ہوجائیں

(البقرۃ: 143)

  • تکفیر کا مسئلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ  کا حق ہے،لہذا کافر وہی ہے جسے اللہ اور اس کا رسول کافر قرار دیں۔
  • کسی بھی شخص پر کفر کا حکم لگانے سے پہلے چاہیے کہ بغیر علم اللہ کی ذات پر بات کہنے کے اندیشہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس میں بارہا غور و فکر کر لیا جائے ، کیونکہ جس کسی انسان پر کفر کا حکم لگایا جائے ، اس پر شریعت اسلامیہ میں موجود مرتد کے احکام کی تنفیذ ضروری ہو جاتی ہے جو کہ متفقہ طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے اس فریضہ کو اگر ہر کوئی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے گا معاشرے فساد اور تباہ بربادی کا شکار ہو گا اور یہ ہر گز بھی اسلام کے حق میں نہیں ہے ۔
  • تکفیر کے مسئلہ میں اہل سنت و جماعت کا مستند کتاب و سنت پر اجماع ہیں۔
  • اہل سنت و جماعت کے مخالف فرقے احوال و مقاصد کے اعتبار سے مختلف ہیں،چنانچہ ان میں سے کچھ کافر ہیں،کچھ فاسق،ظالم اور گمراہ ہیں،اور کچھ خطاکار ہیں،جن کی مغفرت کا امکان ہے،اس بات کی وضاحت میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ،امام ابن القیم،اور شیخ عبد الرحمان بن ناصر سعدی رحمہم اللہ کے اقوال پچھلے مضامین میں بیان کیے جا چکے ہیں ۔
  • شریعت اسلامیہ اہل قبلہ میں سےکسی پر بھی کفر کا حکم نہیں لگاتی،یہاں تک کہ اسے کھول کھول کر بتا دیا جائے،دلیل کے ساتھ حق کی راہنمائی کر دی جائے،وضاحت کے بعد فاسد عقلوں منتشر ذھنوں میں ابھرنے والے شبہات زائل کر دیئے جائیں، چنانچہ اس کے بعد بھی اگر کوئی اپنے کفر پر بدستور مصر (اڑا) رہے تو پھر حکومت وقت اس کے لئے کامیاب علاج موجود ہے، اور وہ شریعت اسلامیہ میں مرتد کے احکام ہیں، اس سے توبہ کرائی جائے گی،اگر توبہ کرلے تو ٹھیک وگرنہ اسے کفر وارتداد کی سزا میں حکومت وقت قتل کا فیصلہ سنا دے گی ، حکومت کے علاوہ کسی کو بھی کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ حدود کے نفاذ کو اپنے ہاتھ میں لے اس سے معاشرے میں مزید انارکی پھیلنے کا شدید اندیشہ ہو سکتا ہے ۔ 
  • دلیل و برھان کے ساتھ حق کی معرفت اور یہ کہ سابقہ دلائل کی روشنی میں نجات یافتہ جماعت”اہل سنت و جما عت“ ہی ہے اور ان کے علاوہ جو فرقے ہیں وہ حق پر نہیں بلکہ اپنے حالات کے اعتبار سے ہیں،جیساکہ پوائنٹ 11 میں گزرا۔اس بات کا علم کہ  حق و باطل کے مابین ستیزہ کاری  ہمیشہ سے رہی ہے لیکن الحمدللہ غلبہ و سر بلندی اخیر میں حق کی ہی ہوتی ہے،رہا باطل تو وہ مٹ جاتا ہےجب کہ حق ثابت و پائیدار ہوتا ہےکسی طرح نہیں  ڈگمگاتا۔
  • شرعی منہج سے انحراف کی خطر ناکی اور اس پر مرتب ہونے والے احکام کی معرفت۔

یہ تمام ایسی باتیں ہیں جنہیں یاد رکھنا اور ان کا خیال رکھنا ہر مسلمان کے لئے از حد ضروری ہے ۔ تاآنکہ ہم فتنہ و فساد سے محفوظ زندگی گزار سکیں ۔ ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے اعمال کو قبولیت بخشے اور ان کوہمارے لئے نفع بخش اور بابرکت بنائے،وہی اس کا مالک ہے اور اس پر قادر ہے۔آمین




photo_2017-09-21_21-26-18

عقیدہ خوارج کا رد گناہگار مسلمان "کافر" نہیں ہوتا

photo_2017-09-21_21-26-18

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عقیدہ خوارج  کا رد

گناہگار مسلمان  “کافر” نہیں ہوتا!

الحمد للہ والصلوٰۃ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ امابعد !

خوارج کی مختلف علامات میں ایک بڑی واضح اور ان کے تمام فرقوں میں پائی جانے والی علامت یہ ہے کہ یہ کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔  امام نسفی رحمہ اللہ نے درج ذیل آیت کریمہ کی روشنی میں  خوارج پر کئی ردود لکھے :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا﴾ 

(سورة النساء8)

“اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔” 

چنانچہ توبہ نصوحہ (خالص توبہ) کبیرہ گناہ ہی سے ہوتی ہے۔

اسی طرح احادیث رسول اللہ ﷑ سے بھی کئی دلیلیں اخذ کی ہیں ،آپ ﷑ کا ارشاد ہے:

 لاَ يَزْنِى الزَّانِى حِينَ يَزْنِى وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ

[صحيح مسلم ]

“زنا کار زناکاری کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شراب خور شراب خوری کے وقت مومن نہیں رہتا۔” 

 اسکی تفسیر میں  امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“صحیح قول جو محققین نے کہا ہےاس حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ  وہ جب گناہ کرتا ہے تو کامل مومن نہیں ہوتا،یہ ان الفاظ میں سے ہےجن کااطلاق کسی چیز کی نفی کیلئے ہوتا ہے اور اس سے اس کے کمال اور عمدگی کی نفی مراد ہوتی ہے،جیسے کہا جاتا ہے:نفع بخش علم کے علاوہ کوئی علم نہیں،اور اونٹ کے علاوہ کوئی مال نہیں اور زندگی درحقیقت آخرت کی زندگی ہے۔” 

(صحیح مسلم بشرح نووی 1/41)

خوارج کی غلطی یہ ہے کہ  وہ کبیرہ و صغیرہ گناہوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فرق کیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے:

﴿ إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا 

(سورة النساء31)

“اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناه دور کر دیں گے اور عزت وبزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔” 

لہذا خوارج امت کی تکفیر کیلئے خواہ کتنی بھی کوشش کریں کامیاب نہیں ہو سکتے،خواہ تمام گناہوں کو کبائر ہی کیوں نہ بنا دیں لیکن کسی عقلی و سمعی دلیل کی راہ نہیں پا سکتے۔ 

(الخوارج والاصول التاریخیہ لمسئلۃ تکفیر المسلم،ص31) 

کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کے درمیان فرق کرنا ضروری: 

کبائر: کبیرہ کی تعریف میں اختلاف ہے،سب سے عمدہ تعریف یہ ہے کہ کبیرہ گناہ وہ ہیں جن پر کوئی حد (متعین اسلامی سزا) مرتب ہوتی ہو یا اس پر لعنت یا غضب کی وعید سنائی  گئی ہو۔

صغائر: صغیرہ گناہ وہ ہیں جن پر دنیا میں نہ کوئی حد مرتب ہوتی ہو اور نہ آخرت میں کوئی وعید،اور وعید سے مراد جہنم یا لعنت یا غضب کی وعید ہو ۔

 (شرح عقیدہ طحاویہ ص418 )

خوارج اور انکے ہم مشرب لوگ  جو کبیرہ گناہوں کے مرتکبین سے ایمان سلب کرتے ہیں،ان کی تردید اللہ عزوجل کے درج ذیل فرمان سے ہوتی ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ 

(البقرۃ : 178)

” اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے۔” 

چنانچہ اللہ نے  قاتل کو مومنوں  کے زمرہ سے  خارج نہیں کیا بلکہ اسے قصاص کے ولی کا بھائی قرار دیا ہے،اور بلاشبہ اس سے مراد دینی اخوت ہے۔

﴿ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ

(الحجرات : 9)

“اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم [سب] اس گروه سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وه اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔” 

نیز ارشاد ہے:  ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ

(الحجرات: 10)

[یاد رکھو] “سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو۔” 

 کتاب و سنت کے نصوص اور اجماع امت دلالت کناں ہیں کہ زنا کار،چور اور تہمت گر وغیرہ کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان پر حد قائم کی جائے گی ، اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرتد نہیں ہیں۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص361)

رہا خوارج اور ان کے ہم مشرب لوگوں کے اس عقیدہ کی تردید کہ اہل کبائر جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے ،تو امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :اہل کبائر…اگر حالت توحید میں وفات پائیں اور اللہ کو پہنچانتے ہوئے اس سے ملاقات کریں اگرچہ توبہ نہ کئے ہوں،ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہ رہیں گے بلکہ اللہ کی حکمت و مشیت تلے ہوں گے،اگر وہ چاہے تو اپنے فضل سے انہیں بخش دے اور معاف فرما دے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاء

(النساء: 48)

یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دے۔

اور اگر چاہے تو اپنے عدل و انصاف کی بنیاد پر انہیں عذاب جہنم میں مبتلا کرے اور پھر اپنی رحمت اور اپنے اطاعت گزار سفارشیوں کی سفارش سے انہیں اس سے نکال کر جنت مین داخل فرما دے۔

(شرح عقیدہ طحاویہ ص416)

جیسا کہ آپﷺ کا ارشاد ہے:

مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ

(صحيح البخاري1237)

میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔

اہل کبائر کیلئے نبیﷺ کی سفارش:

اس بارے میں احادیث متواتر ہیں،آپ ﷺ کا ارشاد ہے:

شفاعتي لأهلِ الكبائرِ من أمَّتي

(صحيح الترمذي:2436، صحيح أبي داود:4739،صحيح الجامع:3714، صحيح الترغيب:3649)

ترجمہ:میری امت میں جولوگ کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے میری شفاعت ان کے لیے ہو گی۔

نبی کریم  ﷺ سے سفارش چار مرتبہ : 

پہلی مرتبہ: آپﷺ اپنے رب کی اجازت کے بعد جیسا کہ قرآن نے وضاحت کی ہے، اپنی سفارش سے ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گےجن کے دل میں جو کے برابر بھی ایمان ہو گا۔

آپﷺ کا ارشاد ہے: فأخرج منها من كان في قلبه مثقال ذرة أو خردلة من إيمان

(صحیح مسلم1/183)

….چنانچہ میں جہنم سے ان لوگوں کو نکلواؤں گاجن کے دل میں ایک گیہوں یا جو کے برابر ایمان ہو گا۔

دوسری مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا۔

تیسری مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جن کے دل میں رائی کے دانے کےمعمولی ترین حصہ کے  برابر ایمان ہو گا۔

چوتھی مرتبہ: ان لوگوں کو جہنم سے نکلوائیں گے جنہوں نے صرف”لاالہ الا اللہ“  کہا،چنانچہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : وَعِزَّتِي وَجَلالِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي لأُخْرِجَنَّ مِنْهَا مَنْ قَالَ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ”

(صحیح مسلم1/183)

میری عزت،جلال،کبریائی،اور عظمت کی قسم! میں ان لوگوں کو جہنم سے ضرور نکالوں گا جنھوں نے”لاالہ الا اللہ“     کہا۔

تو یہ بات ہمارے سامنے بالکل واضح ہو گئی کہ خوارج کے دلائل بالکل کھوکھلے اور لاعلمی کا انعکاس ہیں ۔۔۔۔ اللہ رب العزت امت مسلمہ کو بالخصوص غیور نوجوانوں کو ان خوارج کے فتنے سے محفوظ فرمائے آمین ۔