اسد درانی کی کتاب کی حقیقت

اسد درانی کی کتاب ۔۔۔۔

سابق آئی ایس آئی چیف جنرل درانی 1993ء میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے۔ 
موصوف نے اعتراف کیا تھا کہ بے نظیر کو ہروانے کے لیے ائی ایس آئی نے سیاسی جماعتوں میں اتحاد کروایا تھا۔ اس اعتراف کے عوض ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اسد درانی کو بے نظیر بھٹو نے جرمنی میں سفیر لگا دیا تھا۔

( بے نظیر کے خلاف بنائے گئے اس سیاسی اتحاد کا اعترف مرحوم جنرل حمید گل بھی کرتے رہے اور ان کا دعوی تھا کہ وہ اتحاد بلکل درست تھا اور آئی ایس آئی کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق بے نظیر اس وقت اقتدار میں رہ کر قومی سلامتی خاص کر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں )

اسد درانی نے سابق انڈین اینٹلی جنس چیف اے ایس دلت کے ساتھ ملکر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کو انڈیا نے زور و شور سے پبلش کیا ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے کچھ حیران کن دعوے کیے ہیں اور بہت سے معاملات میں انڈین موقف کی تائید کی ہے۔ مثلاً

“کارگل پاکستان اور مشرف کی غلطی تھی اور پاکستان شکست کھا رہا تھا”
( جبکہ دوسری جانب کئی سابق انڈین آرمی افسران انڈین شکست کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں )

” افغانستان میں انڈین کونسل خانوں کی تعداد پاکستان بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے اور وہ کونسل خانے پاکستان کے خلاف جاسوسی یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہے”
( موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ پھر وہ کونسل خانے کیا کام کرتے ہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے دو عشروں بعد اس نے کب افغانستان جاکر وہ کونسل خانے گنے ہیں؟ )

سب سے حیران کن انکشاف اسامہ کے بارے میں کیا ہے کہ اس کے لیے جنرل کیانی کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اسامہ کی اطلاع بھی شکیل آفریدی نے نہیں بلکہ ایک ریٹائرڈ آئی ایس آئی اہلکار نے امریکہ کو دی تھی اور اسامہ کو زندہ امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ موصوف نے آگے لکھا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اسامہ کے سر پر موجود پانچ ملین ڈالر انعام میں سے اس اہلکار کو کتنے ملے ہونگے۔ 
( خیال رہے کہ اسامہ کا واقعہ جنرل موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بیس سال بعد پیش آیا۔ اس حوالے سے انتہائی باخبر رہنے والے بڑے بڑے صحافتی ادارے اور شخصیات کے علاوہ کئی ممالک کی اینٹلی جنس ایجنسیاں بھی بے خبر ہیں لیکن جنرل اسد درانی صاحب کو ایک ایک بات کا پتہ ہے )

جو لوگ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں ذرا سا بھی جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے مختلف بازو ایک دوسرے سے بھی حساس معلومات شیر نہیں کرتے جب تک ضروری نہ ہو۔ 
لیکن یہاں پچیس سال قبل رئٹائرڈ ہونے والے سابق افسر کے انکشافات سے یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے آئی ایس آئی اپنی ہر ایکٹوٹی کم از کم جنرل اسد درانی صاحب کو ضرور بتاتی رہی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرور کام آئے۔ یا دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ اسد درانی صاحب آئی ایس آئی کے متوازی اپنا کوئی ذاتی اینٹلی جنس نیٹ ورک چلا رہے ہوں جس کا کام آئی ایس ائی کی نگرانی کرنا ہو؟

جنرل اسد درانی اپنی کتاب کی پبلسٹی کے لیے کافی پرجوش ہیں اور وہ انڈیا جانے کے لیے بھی بے تاب نظر آرہے ہیں۔

میری رائے کے مطابق ریٹائرڈ جنرل اسد درانی کی یہ کتاب تنہائی سے اکتائے ایک سٹھیائے ہوئے بڈھے کی منظر عام پر آنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں جس سے شائد وہ چند پیسے بھی کمانا چاہتا ہے۔ کتاب من گھڑت اور جھوٹے واقعات سے لبریز ہے۔

میرے خیال میں پاک فوج کو اسد درانی کا کورٹ مارشل کرنا چاہئے اور ان سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ کتاب میں بیان کیے گئے دعوؤں کو ثابت کریں اور ان دعوؤں کا سورس بتائیں۔

گندے انڈے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ کچھ انڈے وقت گزرنے کے ساتھ گندے ہوجاتے ہیں۔ جنرل اسد درانی اور جنرل شاہد عزیز بھی اسی ٹائپ کے گندے انڈے ہیں۔ میرے خیال میں اب ان گندے انڈوں کو توڑ کر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔

نواز شریف اس کتاب پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کو علم ہونا چاہئے کہ اسی جنرل نے دعوی کیا تھا کہ نواز شریف نے آئی ایس آئی سے رشوت لی تھی اس پر بھی کمیشن بننا چاہئے یا نہیں؟

باقی آپ یہ دیکھیں کہ اس کتاب کی ٹائمنگ کیسی ہے… جب پاکستان میں ہندوستان کے لیے نرم ترین گوشہ رکھنے والے نواز شریف پر سخت وقت ہے… اس پر وطن سے غداری جیسے الزامات لگ رہے ہیں…. اور بقول ہندوستانیوں کے کہ انہوں نے نواز شریف پر انویسٹ کیا ہے…. وہ اپنی انویسٹ منٹ کو ضائع نہیں ہو نے دے سکتے… یہ کتاب یقینا راتوں رات مکمل نہیں ہوئی لیکن اس کو شائع کرنے کا مقصد پاک آرمی اور آئی ایس آئی کے خفیہ کاموں کو منظر عام پر لا کر ان کی امیج خراب کرنے کی ایک کوشش ہے… یہ ہائبرڈ وار فیئر ہے… اس وار فیئر میں ہر چیز جھونکی جاتی ہے.. پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا بھی اس جنگ کا سب سے اہم ہتھیار ہے…. تبھی تو نوا شریف کہنے لگ گیا ہے کہ کیا صرف میں ہی غدار ہوں… اس کتاب نے اس پر آئے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے……….




حب الوطنی کے ردمیں غلو:

بسم اللہ الرحمان الرحیم

الحمدللہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد!

کچھ لوگ تقوی اختیار کرنے میں غلو کا شکار ہیں اور اخلاص میں غلو کی وجہ سے بالخصوص القاعدہ اور داعش پاکستان کا نام لینا بھی گوارہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ جہاد کشمیر اس لیے درست نہیں کیونکہ یہ ملک کے لیے جہاد ہے جسے یہ “وطنیت” کہتے ہیں۔

یاد رکھیے!ہر چیز کے لیے اللہ تعالی نے ایک حد مقرر کر رکھی ہے اوراس حد سے آگے گزرنا اور اس میں غلو کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔
ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ ملک کی طرف نسبت کرنا اور “دفاع پاکستان” کا نام لینا درست نہیں ۔
اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجیے کہ کسی بھی ملک کی محبت اور اس کی طرف نسبت کرنا اسلام کے مزاج کے بالکل خلاف نہیں ہے بلکہ بعض اوقات کسی وطن سے محبت کرنا مومنوں کا شیوہ ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے اور اسلام فطرت کے عین مطابق ہے۔
اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو وطن کی محبت ایک طبعی اور فطری چیز ہے جو ہر انسان میں پائی جاتی ہے ،وطن سے محبت اور اس کی طرف نسبت کے حوالے سے قرآن و حدیث میں بہت سے شواہداور دلائل موجود ہیں۔
فرمان باری تعالی ہے:
وَلَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْـهِـمْ اَنِ اقْتُلُـوٓا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَـعَلُوْهُ اِلَّا قَلِيْلٌ مِّنْـهُـمْ

{النساء 66}

اور اگر ہم ان پر حکم کرتے کہ اپنی جانوں کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے بہت ہی کم آدمی اس پر عمل کرتے۔
امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالی نے جلا وطنی کو قتل کے برابر قرار دیا ہے ۔

[مفاتیح الغیب المعروف التفسیر الکبیر:15/515]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس آرہے ہوتے اور مدینہ کے قریب پہنچ کر اس کی دیواریں نظر آنے لگتیں تو مدینہ کی محبت کی وجہ سے اپنی سواری کو تیز کر دیتے۔

[صحیح البخاری 1886]

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وفی الحدیث دلالۃ علی فضل المدینۃ ،وعلی مشروعیۃ حب الوطن ،والحنین الیہ۔

[فتح الباری :3/621]

اس حدیث سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن سے محبت کی جاسکتی ہے۔
یہی بات امام عینی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “عمدۃ القاری” میں اور امام مبارکپوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “تحفۃ الاحوذی” میں درج کی ہے۔
اسی طرح مکہ والوں کے مظالم سے تنگ ہوکر اور زخموں سے چور ہو کر اللہ تعالی کے حکم سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرمانے لگے تو مکہ کی طرف منہ کرکے آبدیدہ ہوکر کہنے لگے:
والله انک لخیر ارض الله، واحب ارض الله الی الله، ولولا اني اخرجت منک ما خرجت»

[ترمذي ۳۹۲۱]

اللہ کی قسم تو اللہ کی سب سے بہترین زمین ہے اور اللہ تعالی کی سب سے زیادہ پسندیدہ زمین ہے ،اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ گیا ہوتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔
کیا اس وقت مکہ دارالایمان تھا ؟
ہرگز نہیں ۔۔۔!
یہ حب الوطنی ہی تھی کہ 360 بتوں کا مرکز ہونے کے باوجود پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسندیدہ قرار دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ پہنچے تو فرمایا :
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَحُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْاَشَدَّ حُبًّا
یا اللہ مکہ کی طرح مدینے کو ہمارا محبوب بنا دے بلکہ مکہ سے زیادہ ) محبوب بنا دے

(بخاری ج1 ص{5654)

صحیح البخاری کو قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب سمجھا جاتا ہے اور اس کتاب کی نسبت بخارا شہر کی طرف ہے وہ بخارا کہ جہاں امام بخاری رحمہ اللہ کو پاوں رکھنے کی بھی اجازت تک نہ تھی ، پھر بھی بخارا کی طرف نسبت تھی ، امام ترمذی ، امام نسائی وغیرھم اکثر ائمہ کی اپنے ملکوں کی طرف نسبت تھی۔
تو کیا ہم پاکستان کی طرف اپنی نسبت نہیں کرسکتے ؟جس کے ہم پر کئی احسان ہیں، جس کا قرض ہمیں چکانا ہے، اس کے برعکس جو شخص اس نسبت کو برداشت نہیں کرتا وہ اپنے تقوی اور دین کے معاملے میں غلو کا شکار ہوچکا ہے ،اسے اپنے اعمال و عقائد کا جائزہ لینا ہوگا ۔
میں تو یہی کہتا ہوں :شرعی دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک و ملت کی طرف نسبت ، اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
امام ذھبی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی پسندیدہ چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
وكان يجبُ عائشة، ويحبُ أباها، ويحبّ أسامة، ويحب سبطيه، ويحب الخلواء والعسل، ويحبّ جُبل أحد، ويحب وطنه، ويحبّ الأنصار، إلى أشياء لا تُحصى مما لا يغني المؤمن عنها قط.

{سیر اعلام النبلاء للذھبی }

نبی صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا سے ، ان کے والد محترم ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے،اور اسامہ رضی اللہ عنہ سے اور اپنے دونوں نواسوں سے شدید محبت کرتےتھے، میٹھے اور شہد کو بھی پسند کرتے تھے ،جبل احداور اپنے وطن سے محبت کرتے تھے انصار سے بھی پیار کرتے تھے اور ہر اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ جن سے ایک مومن کبھی بھی بے پرواہ نہیں ہوسکتا۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں ہمارے سامنے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اپنے ملک کی طرف نسبت اس سے محبت ، اس کے دفاع میں جہاد کرنا اہل ایمان کا شیوہ اور نشانی ہے۔
ہاں البتہ یہ وطنی محبت اسلام مخالف نہیں ہونی چاہیے بلکہ دین اسلام کی سر بلندی میں ممدو معاون ہونی چاہیے ،اگر دین اسلام اور ملک و ملت مقابل ہوں تواسلام کی خاطر ہر چیز قربان ہے۔
نوٹ:
ہم یہ بات دلائل صحیحہ کی روشنی میں ثابت کرچکے کہ وطن ، ریاست و ملک اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس سے محبت شعائر اسلام کی مخالفت نہیں بلکہ ایک مومن کیلئے دینی فریضہ ہے کہ وہ ہر اس ملک سے محبت کرے جو دین اسلام کے نام پر بنا ہو اور اس کی حفاظت کی ہر ممکن کوشش کرے اس کے خلاف ہر پراپیگنڈے سے بچے تاکہ اس کا ایمان کامل رہے ۔
یہ وطن عزیز ملک خدادِ پاکستان اس کی بنیاد لاالہ الا اللہ پر ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے ان گنت قربانیاں دی گئی اور اس کے دستور میں یہ بات شامل کی گئی کہ اس کا قانون اسلام کے عین مطابق ہو گا ، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں لوگ بدلتے رہے ذہنیت میں تبدیلی آنے کی وجہ سے قوانین بھی بدل گئے لیکن آج بھی اس قانون میں یہ بات موجود ہے کہ جو شق اسلام مخالف قرار پائے گی اس کا نفاذ یہاں نہیں ہو گا ۔
کچھ لوگ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے ناواقف بلکہ یہ کہنا غلو نہ ہو گا کہ اسلام کے لبادوں میں اسلام دشمن ممالک کی ایک گہری سازش اور مسلمانوں کے لیے دورِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ جو اسلام کے نام پرپیدا ہوا لیکن اس کا سب سے زیادہ نقصان بھی اسلام اور اسلامی ممالک کو ہوا وہ ہے القاعدہ اور داعش اور ان کے نظریات پر چلنے والی کچھ اور تنظیمیں جنہوں نے مسلمان ممالک کو مرتد قرار دے کر ان کے قتل کے جواز کے فتوے دیئے اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا پھر مسلم علماء نے ان کا تعاقب کر کے ان کے شریعت مخالف نظریات اور نعروں سے لوگوں کو آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ دین نہیں بلکہ دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے نظریات ہیں۔

اب 2018میں انہوں نے کشمیر کا رخ کیا کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر ہندوستان نے غاصبانہ قبضہ جمایا ہوا ہے ،اور ہندوستان حکومت کی ہر کوشش رائیگاں چلی گئی کہ وہ کشمیروں کے دلوں سے پاکستان کی محبت کا قلع قمع کر سکیں بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ دن بہ دن ان کی محبت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور انشاءاللہ ہوتا رہے گا،جب ہندوستان حکومت زورِ بازو کشمیریوں کو جھکا نہ سکی تو اس نے اگلا داوٴ لگایا کہ ان کے نظریات کو خراب کردیا جائے تو اس نے اس پلان کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے “داعش” اور “القاعدہ” کا سہارا لیا ،القاعدہ نےکشمیر میں “ذاکرموسی” کو اپنے ساتھ ملایا اور “انصار غزوۃ الھند” کے نام سے تنظیم کی بنیاد رکھ کر ذاکر موسی کو اس کا امیر مقرر کردیا ۔
اور پھر یہ نعرہ بلند کیا کہ وطن کیلئے جہاد کرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے اور یہ کبیرہ گناہ ہے ،اور اس کی وضاحت یوں کی کہ کشمیری پاکستان کا نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان ” لگا کر جہاد کررہے ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے اور واضح کفر ہے ، اس لیے یہ نعرہ ختم کر کے صرف ہندوستان کے خلاف اپنے حقوق کے لیے جہاد کریں ۔
ہم اوپر شریعت اسلامیہ کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں کہ اسلامی ملک سے محبت کرنا ایک مومن کے لیے ضروری ہے،اسلامی ملک سے محبت اور اس کے ساتھ ملنے کے لیے کوشش، کوشش میں اگر جہاد کی بھی ضرورت پڑے تو کیا جاسکتا ہے اور یہ جہاد 100فیصد حقیقی اسلامی سنت نبوی کے عین مطابق جہاد ہو گا جیسا کہ تاریخ نبوی ﷺ سے اس کے کئی ایک شواہدملتے ہیں۔
ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں جب تک زندہ رکھے دین اسلام اور منہج نبوی ﷺ کے مطابق زندگی گزارنےوالا بنا کر زندہ رکھےاور ہمارا خاتمہ بالایمان ہو ،رب العالمین ہم سے راضی ہو اور ہم اس سے راضی ہوں ۔




غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا

غیر شرعی قرار داد پاس کرنے کے سبب حکمرن پر تنقید کرنا.

غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

اکثر ہمارے معاشرے میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی ایسی قرارداد پاس کر دی جاتی ہے جو بسا اوقات شریعت اسلامی کے مخالف بھی ہو سکتی ہے ۔

سوال: کیا غیر شرعی ، گناہ والی یا شریعت مخالف قرارداد یا بل وغیرہ پاس کرنے پر حکمران پر اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ اس بارے میں سلف صالحین کا کیا عمل ہوا کرتا تھا؟ 

جواب: حکمران کی اطاعت واجب ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ

اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالی کی، اور اطاعت کرو رسول اللہ کی ، اور ان کی بھی جو تمہارےحکمران ہیں۔

(النساء: 59)

پس جو بات واجب اور اصل ہے وہ حکمران کی اطاعت ہے لیکن اگر وہ کسی معصیت وگناہ کا حکم دے تو اس کی اس معصیت میں اطاعت نہیں کی جائےگی۔ کیونکہ آپ ﷺ  کا فرمان ہے:

’’لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ‘‘ 

(خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔

[رواہ احمد برقم (20653)، والطبرانی فی الکبیر (18/381) واللفظ لہ عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ]

اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:

’’إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ‘‘

(اطاعت تو صرف معروف کاموں میں کی جاتی ہے)

[رواہ البخاری برقم (7145، 4340)، ومسلم برقم (1840) من حدیث علی رضی اللہ عنہ]

لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپ حکمران کے خلاف خروج کریں یا اس کا تختہ الٹنا چاہیں، بس یہ ہے کہ آپ وہ معصیت نہ کریں جس کا وہ حکم دے رہا ہے اور اس کے علاوہ جن باتوں کا وہ حکم دے اسے بجالائیں۔ آپ اسی کی حکومت کے ماتحت رہیں، نہ اس کے خلاف خود نکلیں اور نہ دوسروں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر ابھاریں، نہ ہی مجلسوں میں اور لوگوں کے سامنے اس کے خلاف باتیں کریں، کیونکہ اس سے شروفتنہ پھیلتا ہے۔ اور لوگوں کو ایسے وقت میں حکام کے خلاف بغض سے بھرنا جبکہ کفار ہماری تاک لگائے بیٹھے گردش ایام کے منتظر ہیں، اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر انہیں اس بات کی خبر ہوجائے تو وہ ان جذبانی مسلمانوں میں اپنا زہر سرائیت کرکے انہیں ان کے حکمرانوں کے خلاف بھڑکائیں گے، جس کے نتیجے میں فتنہ وفساد ہوگا،اور نتیجہ کافروں کا مسلمانوں پر تسلط کی صورت میں سامنے آئے گا۔

لہذا حکمران خواہ کیسے بھی ہوں ان میں خیر کثیر اور عظیم مصالح ہوتےہیں۔ وہ بھی ایک بشر ہیں معصوم نہیں بعض باتوں میں غلطی کرجاتےہیں۔ لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خفیہ طور پر نصیحت کی جائے، یا ان تک پہنچائی جائے۔ اور ان کے سامنے صحیح بات پیش کی جائے۔لیکن مجالس میں بیٹھ کر ان پر کلام کرنا اور اس سے بھی شدید تر خطبوں اور تقاریر میں ان پر کلام کرنا اہل شقاق واہل نفاق واہل شر کا طریقہ ومنہج ہے کہ جو مسلمانوں کی حکومت میں انتشار مچانا چاہتے ہیں۔

ماخوذ از

(الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ، سوال: 14)

 اللہ تعالی ہمیں اسلامی قوانین اورمنہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین




داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

  • امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا اہل سنت و جماعت کے اصول میں یہ داخل ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے گہری وابستگی ہو اور حکمرانوں کے خلاف خروج نہ ہو۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ، ج28،ص 128)

لیکن داعش اہل سنت و جماعت کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے اور مسلم حکمرانوں سے جنگ کرتی ہے لہذا اگر وہ اپنے آپ کو سنی ظاہر کرے تب بھی اسلام کی نظر میں وہ سنی نہیں۔

  • محدث وفقیہ علامہ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش سے منسوب افراد انجانے ہیں ،جو کنیت اور نسب کے سہارے درپردہ رہتے ہیں ،اور چاقووں سے اہل سنت کا قتل کرتے ہیں جوکہ انسانیت کے قتل کی بدترین شکل ہے لہذا اس فتنے سے متاثر کمسن نوجوانوں کو محفوظ رہنا چاہیے ،اور اہل علم سے اسی طرح استفادہ کرنا چاہیے جس طرح خوارج سے متاثر ہونے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ کی نصیحت سے یذید الفقیر رحمہ اللہ نے اپنا مؤقف تبدیل کردیا تھا۔

(موقع الشیخ عبدالمحسن العباد، فتنۃ الخلافۃ الداعشیۃ العراقیۃ المزعومۃ )

  • رابطہ علمائے شام کے صدر شیخ اسامہ الرفاعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش ایک تکفیری و انتہا پسند تنظیم ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتی اور مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتی ہے جبکہ ان کا یہ خیال انہیں کفر تک پہنچاتا ہے اسی لیے ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب وسنت اور علمائے امت کی طرف رجوع کریں اور لوگ داعش  کے ساتھ ساتھ حزب اللہ (لبنان  کی شیعہ دہشت گرد تنظیم ) سے بھی احتیاط برتیں۔

(موقع الدررالشامیۃ ،دولۃ العراق والشام فی میزان علماء الاسلام)

  • علمائے ازہر مصر نے کہا کہ داعش عراق کی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کا طرز عمل انتہائی وحشیانہ ہے جو بے قصوروں کے خون کی پیاسی ہے جس کے خاتمے کے لیے سب کو متحد ہوجانا چاہیے ۔

(مؤسسۃ دام برس الاعلامیۃ الازھر یعرب عن….)

  • اتحاد عالمی برائے علمائے اسلام دوحہ قطر کے معتمد عمومی نے کہا کہ داعش کی کاروائیاں ناقابل قبول ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کی شبیہ کو بگاڑ کر پیش کررہی ہیں لہذا اسلام کی سچی تصویر پیش کرنے کے لیے علمائے دین کا کردار انتہائی ضروری ہے۔
  • ملک شام کے مناظر اسلام عدنان بن محمد العرعور حفظہ اللہ نے فرمایا کہ داعش ملک شام میں عراق کے راستے داخل ہوئے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور پھر اپنی حکومت کا اعلان کر دیا ، مقامی باشندوں پر خیانت کا الزام لگایا اور انہیں کافر و مرتد قرار دیا (ان کے عقیدے کے مطابق مرتد ہونے کے بعد) توبہ کی مہلت دیے بغیر ان کے قتل کو لازمی قرار دیا اور قتل سے نجات کی ایک ہی راہ بتائی کہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

مزید فرمایا کہ داعش نے حکومت کے سربراہان و افسران کو اغوا کیا ،حکمرانوں کو کافر قرار دیا عورتوں اور بچوں کو بے گھر کیا اور بے قصور باشندوں کو بہیمانہ انداز سے ذبح کیا ،آخر یہ کونسی خلافت ہے؟

  • مصر کے عالم محمد سعید رسلان حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش انسانت کی بلی چڑھا کر اپنے معبود کا تقرب حاصل کرنا چاہتی ہے جس کا سربراہ جلاد ہے ،اور یہ تمام جہنم کے کتے ہیں لہذا ان کا بائیکاٹ کرو۔

(ذکر کردہ اور آئندہ اقوال شبکۃ الامام الآجری پر دستیاب ہیں جو اکثر MP3کی شکل میں ہیں )

  • ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ مدرس مسجد بنوی نے تین دفعہ قسم اٹھائی اور فرمایا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ داعش کو پسند کرے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرے کیونکہ وہ امت کے لیے نقصان دہ ہیں ۔

مزید فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو دین میں صحابہ سے بہتر سمجھتے ہیں فلسطین پر یہود کے مظالم ہیں لیکن انہوں نے عراق اور شام میں رہ کر فلسطینی مسلمانوں کا دفاع نہیں کیا بلکہ سعودی عرب کے حدود کے قریب آگئے ،بعینہ یمن میں اہل السنہ کو حوثی روافض بری طرح موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور القاعدہ نے یمن میں رہ کر اہل السنہ کا دفاع نہیں کیا۔

                مزید  فرمایا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ان  کے ہاتھ  پر بیعت کرے۔

  • ماہر عدلیہ ڈاکٹر سعد الحمید حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش نے دو بڑی سنگین غلطیاں کی ہیں:

(1)ناحق کافر قرار دینا۔             (2) بے قصوروں کا خون بہانا۔

  • شیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ ملک شام میں جاری جنگ جسے لوگ جہاد کا نام دیتے ہیں وہ در حقیقت فتنہ ہے ۔
  • محقق شیخ عبدالعزیز بن مرزوق الطریفی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش خوارج ہیں جو اللہ کے حکم کو قبول نہیں کرتے ہیں لہذا ان سے تعلق رکھنا جائز نہیں ہے ۔
  • داعی شیخ عبداللہ آل سعد المطیری حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش جاہل ہیں جنہوں نے بہت ساری شرعی خلاف ورزیاں کی ہیں مثال کے طورپر انہوں نے شرعی عدالت کا انکار کیا ،ناحق کافر و مرتد قرار دیا ،بے قصوروں کا خون بہایا ،لہذا میں ان کے بڑوں کو اللہ سے توبہ کرنے اور حق کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور ان سے وابستہ افراد کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہوں۔
  • سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خود کش اور فدائی حملہ کرنا برائی ،گناہ ،شروفساد اورظلم وعناد ہے جسے انجام دینے والوں کا اللہ اور آخرت کے دن پر صحیح ایمان نہیں بلکہ وہ خباثت نفس  و شراست طبیعت  اور حسد میں مبتلا ہیں ،لہذا میں تمام کو نصیحت کرتا ہوں  کہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔
  • عاید بن خلیف الشمری حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کا نبوی منہج سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ نبیﷺ جب علی رضی اللہ عنہ کو جہاد کے لیے روانہ کرتے تو تاکید کرتے کہ جاؤ انہیں اسلام کی دعوت دو اسی طرح انبیاء میں نوح ،ابراہیم ،موسی علیھم السلام اور محمدﷺ نے صبر سے کام لیا اور داعش کی طرح ذبح کرنے والی حکومتیں قائم نہیں کیں ،بلکہ نبی ﷺ نے مدینے کے یہود کو اسلام کی دعوت  دی ،اور انہیں امن دیا علاوہ ازیں دین اسلام میں مرتد کو تین دن تک توبہ کی مہلت دی جاتی ہے لیکن داعش کی ترتیب بالکل مختلف ہے۔
  • شیخ محمد بن رمزان الہاجری حفظہ اللہ لکچرار برائےرایل کمیشن الجبیل نے فرمایا کہ داعش اور جبہۃ النصرۃ حق پر نہیں کیونکہ یہ نومولود تنظیم ہے اور بنی ﷺ کے فرمان کے مطابق برحق جماعت ہمیشہ سے تھی اور تاقیامت رہے گی۔

مزید فرمایا کہ جس طرح خوارج کے پاس توحید کے باب میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے پاس بھی (بظاہر ) توحید کے باب میں خلل نہیں ، لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا ،حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت ہے۔

مزید فرمایا کہ غور طلب بات یہ ہے کہ داعش سے وابستہ افراد کی کنیتیں ہیں جیسے ابو مصعب الزرقاوی ،ابو بکر البغدادی ،ابو محمد الجولانی….. اور ان کے نام ان جانے ہیں۔

مزید فرمایا کہ داعش  خودکش اور فدائی حملوں کے ذریعے شہادت کی توقع رکھتی ہے جب کہ نبی ﷺ نے شہادت خودکشی کرنے والے کے لیے نہیں  بلکہ قتل کیے جانے والے کے لیے بتائی ، اور قتل کیے جانے سے پہلے حتی الامکان بچاؤ کا سامان اختیار کرنے پر ابھارا اور خود  زرہ پہنی۔

مزید فرماتے ہیں کہ داعش نے جب دیکھا کہ اہل علم  انہیں خوارج قرار دے رہے ہیں اور خوارج کی علامت سر حلق کرنا ہے ، تو اس علامت سے بچنے کے لیے وہ اپنے بال لمبے رکھنے لگے ہیں، لیکن خواہ بال حلق کیے ہوں یا لمبے رکھے ہوں فکر کے اعتبار سے وہ خوارج ہی ہیں۔

مزید فرمایا کہ اس تنظیم کے ساتھ علماء نہیں بلکہ سب کے سب سفہاء و جہلاء (نادان و بے وقوف ) ہیں۔

مزید فرمایا کہ ان کا خود ساختہ خلیفہ ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔

اور فرمایا کہ داعش نوجوانوں کو جہاد ،شہادت ،جنت ، اور حور…. جیسے الفاظ سے گمراہ کرتی ہے اور انہیں دھوکہ دیتی ہے۔

مزید فرمایا کہ قدیم زمانے کے خوارج حاکم کو طاغوت کہتے تھے اور داعش بھی مسلم حاکم کو طاغوت سے تعبیر کرتی ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح سےاول خوارج نے عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کیا اسی طرح داعش مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے۔

مزید فرمایا کہ اہل سنت کا اصلاح  کرنے کا طریقہ احسن انداز سے ہوتا ہے ، لیکن داعش کا اصلاح کرنے کا طریقہ سلاح یعنی ہتھیار سے ہوتا ہے جو کہ خوارج کا طریقہ ہے۔

مزید فرمایا کہ مکہ میں شرک عام تھا ، کعبے کے اطراف بت تھے لیکن صحابہ نے کبھی داعش کی روش اختیار نہیں کی ، اور دور اندیشی  کی سے کام لیتے ہوئے حالات کے پیش نظر قریش کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا۔

اور فرمایا کہ داعش کی ظاہری  دینی شکل و صورت یا ان کے فدائی کا مرتے وقت مسکرانے سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قاتل عبدالرحمان بن ملجم حافظ قرآن تھا، جس کی کسی وقت عمر رضی اللہ عنہ تعریف کی تھی ، اس باوجود وہ قاتل اور خارجی ثابت ہوا اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ، اور جس نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو شہید کیا وہ نماز کے لیے اول وقت میں آیا تھا۔

اور داعش ایک خونخوار اور وحشی تنظیم ہے ، جو صرف اہل سنت یا مسلمانوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

اور فتنہ پروروں سے آگاہ کرنا اور انہیں رسوا کرنا انتہائی  اعلی درجے کا جہاد ہے۔

شیخ بدربن علی العتیبی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ قدیم خوارج نے نبی ﷺ اور عثمان  رضی اللہ عنہ کے عدل اور ان کی امانت میں شک کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی ہمارے حکمرانوں کے ساتھ کررہے ہیں، قدیم خوارج نے علی رضی اللہ عنہ و معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کو کافر قرار دیا بالکل اسی طرح یہ شرپسند فسادی بھی ہمارے امراء و علماء کو کافر قرار دیتے ہیں اور انہیں طاغوت کا لقب دیتے ہیں ، قدیم خوارج نے جعلی خطوط کا سہارا لیا اور علماء کے اقوال کو خلط ملط کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے کلام سے غلط استدلال کرتے ہیں قدیم خوارج نے حاکم کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ،اس کی اصلاح کیے بغیر انقلاب لانے کی کوشش کی ، حاکموں پر بہتان باندھا ،انہیں یہود و نصاری کے غلام کہا منبروں پر انہیں برا کہا، انہیں کھلے طور پر کافر سمجھا ، ان کی خودساختہ خامیوں کو اچھالا ، کفر کی ساری آیات کا ان ہی کو مصداق جانا، تحکیم کے معاملے میں جہالت کا مظاہرہ کیا بعض آیات سے استدلال کیا اور بعض کو نظر انداز کیا، حکمرانوں کوسرعام رسواکیا، مسلمانوں کی زمین سےہجرت کرنے کو لازم قرار دیا ، جہاد اور توحید کا نعرہ بلند کیا، خود کو شہید و جنتی اور دوسروں کو جہنمی کہا، اسلامی  حکومت میں قیام پذیر ذمیوں کا قتل کیا، اور علماء کی بے حرمتی کی بالکل اسی طرح آج یہ شر پسند فسادی بھی کررہے ہیں۔

(موقع صید الفوائد ،ثلاثون علامۃ تدل…….)

بعض نے کہا کہ داعش گناہوں، اور اختلافی  مسائل کی بنا پر مسلمانوں کا قتل کرتی ہے، کبھی تو کسی مسلمان کو راستے میں کسی غیر مسلم سے بات چیت کرتے دیکھ کر قتل کرتی ہے،اور کبھی تو اس آدمی کا بھی قتل کرتی ہے جو ان کے وضع کردی جہاد کو چھوڑ کر حج کے لیے جاتا ہے۔

بعض نے کہا کہ ابو بکر البغدادی کو ارباب حل و عقد نے منتخب کیا ہے، اور جب اس کا رہنما (الظواہری ) ہی اس کی کرتوتوں سے راضی نہیں تھا تو وہ کیسے دوسروں سے اپنی بیعت کی کا تقاضہ کرسکتا ہے؟

بعض نے کہا کہ بغدادی کی ریاست غیر شرعی ہے، اور اس کے جھنڈے تلے جنگ کرنی جائز نہیں، کیوں کہ اس نے اللہ کی شریعت سے روگردانی کی ہے۔

بعض نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی عالم نے داعش کو درست قرار نہیں دیا، نہ ہی اس کے ساتھ اچھا گمان رکھا، اور نہ ہی ان کی جانب سے دفاع کیا ، بلکہ تمام اہل علم نے بالاتفاق انہیں ظالم قرار دیا۔

بعض نے کہا کہ داعش باغی، غالی، خونی اور گمراہ تنظیم ہے جو مسلمانوں کے مابین بڑی مہارت سے فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے، اور اسلامی ریاست کے بہانے باطل پھیلارہی ہے، اسی لیے ہر ممکن ذریعے سے اس کا مقابلہ کرنا واجب ہے۔

حیدرآباد دکن کے مفتیان میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مفتی خلیل احمد صاحبان نے بھی داعش سے چوکنا کیا ، بلکہ سارے ہندوستان سے تقریباً 1050علمائے کرام نے فتوٰی جاری کیا جس میں داعش کی مذمت  اور مخالفت کی اور کہا کہ داعش انتہائی خطرناک و خوف ناک اور غیر اسلامی بلکہ غیر انسانی ودہشت گرد تنظیم ہے کیونکہ وہ اسلام کے نام پر انسانیت کو شرمندہ کرنے والی گھناؤنی حرکتیں کر رہی  ہے، اور انسانی خون پانی کی طرح بہا رہی ہے لہذا دنیا بھر کے علمائے کرام کو ہر ممکن ذریعے سے اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف شعور بیدار کرنا چاہیے اور اس کی طرف سے جاری کردہ قتل کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنا غیر اسلامی اور شریعت کے مغائر ہے۔

واضح رہے کہ ذکر کردہ فتوٰی پر 1070 مذہبی تنظیموں نے دستخط کیا اور اس کی نقل 50 ممالک کو روانہ کیں۔

تعجب کی بات ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے داعش کی زائد جارحیت و سفاکانہ بربریت کے پیش نظر اسے ایک وحشی اور درندہ صفت تنظیم قرار دیا ہے۔

ایک جائزہ.

اللہ تعالی تمام انسانوں خاص کر مسلمانوں اور اسلام کو ان کے شر سےمحفوظ فرمائے۔آمین




داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

اہل داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

مختلف شرپسند ذرائع ابلاغ یہ باورکروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ داعش ایک سلفی تنظیم ہے جب کہ سعودی سلفی علماء کے سابقہ فتوؤں سے پتہ چلا کہ داعش سلفی نہیں ، بلکہ سفلی اور خوارج ہیں ، کیونکہ سلفی تو کتاب و سنت کے پابند رہتے ہیں اور کتاب و سنت میں حکمرانوں کی اطاعت کی ہدایت ہے اور فتنے و فساد اور دہشت گردی کی ممانعت ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ شرپسند ذرائع ابلاغ نے داعش کو سلفی اور وہابی قرار دیا ، جب کہ امام و مجدد محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دینی خدمات اور اسلامی تعلیمات سے روشناس سعودی حکومت نے نہ صرف داعش کو دہشت گرد قرار دیا بلکہ مختلف ممالک کے تعاون و اتحاد سے اس کے خلاف جنگ بھی جاری رکھی۔

علاوہ ازیں شیخ عبیدالجابر حفظہ اللہ لکچرار برائے رایل کمیشن الجبیل نے کہا کہ داعش القاعدہ سے علیحدہ ہوئی اور القاعدہ کو (مصر کی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم) اخوان المسلمین (جس کے معروف مفکر برطانیہ سے سند یافتہ اور تربیت یافتہ سید قطب ہے ،جس سے اسامہ بن لادن متاثر تھا۔) نے قائم کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ عراق میں داعش کا بانی ابو مصعب الزرقاوی ہے جو ابو محمد المقدسی کا شاگرد ہے اور محمد المقدسی محمد سرورزین العابدین اور حسن ایوب کا شاگرد ہے ،اور یہ دونوں مصر کی دہشت گردتنظیم اخوان المسلمین کے بڑے اور معروف مفکرین ہیں علاوہ ازیں مزید توجہ طلب بات یہ ہے کہ داعش وجبہۃ النصرہ نے صراحت کی ہے کہ ان کا فکری انحصار سید قطب کی کتابوں پر ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح قدیم خوارج کےعقائد توحید میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے عقائد توحید کے باب میں بھی خلل نہیں لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت  ہے۔

النہج الواضح کے لکچرار شیخ احمد السبیعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کے ایک ہاتھ میں ہتھیار اور دوسرے ہاتھ میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن ہوتی ہے۔

ملک عراق کے شہر موصل میں واقع فقہ کونسل کے نائب صدر شعبان عبدالکریم نے کہا کہ داعش اقامت دین و عدل کے سہارے مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جب کہ وہ دین و عدل سے کوسوں دور ہے  اور ہم دینی امور کےذمہ داران ہونے کی حیثیت سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ داعش خوارج ہیں اور ہمارے دین یا ہم اہل سنت کے نمائندے نہیں ہیں۔

بعض اہل علم نے کہا کہ جب ہم داعش کی جھوٹ اور خیانت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں منافق کہناپڑتا ہے۔اور جب ہم ان کو ناحق کافر قرار دینے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں خوارج کہنا پڑتا ہے۔اسی طرح جب ہم ان کے تقیہ کرنے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں روافض کہنا پڑتا ہے اور جب ہم ان کے ظلم و زیادتی  کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں باغی کہنا پڑتا ہے۔

محترم قارئین! ہم نے اس میں کچھ اقوال کو جمع کیا ہے تاکہ لوگوں خاص طور پر سلفی نوجوانوں کے ذہن سے یہ بات نکالی جا سکے کہ داعش سلفی جماعت ہے۔کیونکہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ داعش ایک سلفی نہیں بلکہ سلفیت کے لبادے میں چھپی ایک شعبدہ باز جماعت ہے۔ لہٰذا اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام مسلمانوں کو ان کی شعبدہ بازیوں اور ان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ فرمائے۔ آمیں یا ارحم الراحمین

وما علینا الا البلاغ المبین




باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا اہل سنت کا اصول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کا معمول

بعض سادہ لوح افراد کا یہ ماننا ہے کہ ہم ظاہر کا اعتبار کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں ہر کلمہ گو کے ساتھ اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیوں کہ ہرکسی کے پاس کچھ نہ کچھ خیر رہتا ہے، لہذا ہم کسی کے تعلق سے کسی کو چوکنا نہ کریں۔

شریعت کی رو سے یقیناً ہم ظاہر کے پابند ہیں ،اور اہل علم کسی بھی باطل فرقے اور گمراہ  کن تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں کی بنا پر ہی ان سے چوکنا کرتے ہیں ، کیوں کہ منحرف افکار اور غلط طریقہ کار اختیار کرنے والوں سے چوکنا کرنا اہل سنت کا اصول اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و تابعین کا معمول رہا ہے، جیسا کہ گزشتہ آرٹیکلز میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے متشابہ آیات کے پیچھے لگے رہنے والوں سے امت کو چوکنا کیا

(صحیح البخاری:4547)

اور بالخصوص خوارج کے متعلق فرمایا کہ جہاں کہیں تمہیں یہ ملیں تم ان کا قتل کرو کیوں کہ ان کے قاتل کے لیے روز قیامت اجر عظیم ہے۔

(صحیح البخاری:5057)

اورنبیﷺ کا فرمان ہے کہ اگریہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

( صحیح البخاری:7432)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے سے زیادہ خوارج سے جنگ کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 37886)

امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ خوارج سے جنگ کرنے میں اسلام کے اصل سرمایے کی حفاظت ہے، اور مشرکین سے جنگ کرنے میں نفع حاصل کرنا ہے، اور اصل سرمایے کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے ۔

(فتح الباری لابن حجر:37886)

اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ عدویہ نے حائضہ کی نمازوں کی قضا کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے انہیں خوارج سے چوکنا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم حروریہ (خارجی)ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں ، لیکن (معلومات حاصل کرنے کے لیے )سوال کر رہی ہوں ۔

(صحیح مسلم :ح69)

معاذہ عدویہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ گمراہ افکار  و افراد سے عوام کوبھی واقف رہنا چاہیے جیسا کہ وہ ان سے واقف تھیں اسی لیے کہا کہ میں حروریہ (خارجیہ)نہیں ہوں ، اوراگروہ خوارج سے واقف نہ ہوتیں تو ان کا جواب اس طرح نہیں ہوتا بلکہ سوال یہ ہوتا کہ حروری کون ہیں؟

مزید پتہ چلا کہ عوام کبھی طہارت ونماز کے مسائل سے ناواقف رہ سکتی ہے ، لیکن غلط نظریات کے حاملین سے انہیں واقفیت ضرور رہنی  چاہیے۔

جہاں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گمراہوں سے چوکنا کیا وہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی خوداپنے طور پر شر سے بچنے کی فکر کرتے اور رسول اللہ ﷺ سے شر کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری:ح3606)

وہب بن منبہ رحمہ اللہ اپنے کمسن سادہ لوح شاگردوں سے فرماتے کہ تم خوارج سےہوشیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہ سوچ و افکار میں پھنسا نہ لیں کیوں کہ وہ اس امت کے لیے شر ہیں۔

(سیرآعلام النبلاء، الطبقۃ الثانیہ ،وھب بن منبہ :ج4،ص553)

امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قدیم و جدیدزمانے کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ خوارج نمازی ، روزے دار، اور بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود بہت بری قوم ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں ، ان کی یہ ساری عبادتیں ان کے لیے کار آمد نہیں ،وہ امر بالمعروف و نہیں عن المنکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے مفید نہیں کیوں کہ یہ ایسی قوم ہیں جو اپنی خواہشات کی بنا پر قرآن کی تاویل کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں چوکنا کیا نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا خلفائے راشدین نے ان سے ہوشیارکیا اور دیگر صحابہ و تابعیں نے بھی ان کے خلاف شعور بیدار کیا اس لیے کہ یہ اور ان کے پیروانجاس وار جاس (نجس و ناپاک ) ہیں ،جو حاکموں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔

(الشریعہ ،باب ذم الخوارج،ج1،ص325)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خوارج یہودونصاری سے زیادہ مسلمانوں کےلیےشر ہیں کیونکہ وہ ہراس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے ہیں جو ان کا موافق نہ ہو ،مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی اولاد کوحلال سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی جہالت اور گمراہ کن بدعت کی وجہ سے انہی کاموں کو دین سمجھتے ہیں ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ الفصل السادس ،ج10،ص248)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج اگر طاقتور ہوجائیں تو عراق ہو کہ شام، ساری زمین میں فساد مچادیں ،نہ کسی چھوٹے بچے کو چھوڑیں اور نہ ہی کسی بچی کو ، نہ ہی کسی مرد کو بخشیں نہ ہی کسی عورت کو کیونکہ ان کے نزدیک لوگ اس قدر بگڑچکے ہیں کہ ان تمام کو قتل کرنا ہی ان کے سدھار کا واحد راستہ ہے۔

(البدایۃ والنھایۃ ج10،ص584)

امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خوارج کی ابتدا عراق سے ہوئی۔

(فتح الباری ،المقدمہ)

تعجب کی بات ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ساری دنیا میں خوارج کے شروفساد کے  لیے عراق اور شام کا نام لیا ، بالکل اسی طرح  امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی خوارج کی ابتدا عراق سے ہی بتلائی اور آپ دیکھ لیں کہ موجودہ دور کے خوارج یعنی تنظیم داعش عراق سے ہی  نکلی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ نبیﷺ سے لیکر عصر حاضر کے تمام علماء تک، ہر عالم نے گمراہ فرقوں اور باطل فرقوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ امت مسلمہ کے نوجوان جذباتی ہونے کی وجہ سے ان گمراہ تنظیموں کا بہت جلد شکار بن جاتے ہیں اسی لئے انہوں نے ہر دور میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امت مسلمہ کو ان خارجی تنظیموں سے آگاہ کیا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنظیموں کی سازش کو بھانپتے ہوئے اور اسلاف کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے احباب کو ان خارجی فکر کی تنظیموں کی سازشوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ ہمارے احباب نیکی کے جزبے میں ان تنظیموں کی فکر کا شکار نہ ہوجائیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




تکفیری وخارجی کون؟

خارجی کون سائٹ
💥💥تکفیری وخارجی کون؟؟ 💥💥

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

گزشتہ چند عشروں سے امت مسلمہ بدترین دہشت گردی کی زد  میں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک ترقی کی سفر کے بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہیں ، مگر قابل افسوس تو یہ ہے کہ جہاں یہ خود دہشت گردی کا شکار ہے وہاں دہشت گردی کے لیبل بھی انہی پر ہیں۔

غور و خوض کے بعد دیکھا جائے تو اس ساری صورتحال کا ذمہ دار بڑی حد تک خود مسلمان ہیں، کیونکہ حقیقی دین سے دوری اور کتاب وسنت کی اصل روح سے ناواقفیت نے مسلمانوں کو اس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ امت مسلمہ چونکہ پہلے ہی سے مختلف گروہوں اور مسالک میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اور شدت پسند، مسلح دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے مزید بھی نفرتوں اور عداوتوں کا شکار ہوگئی ہے ۔ مسلمان ، مسلمان پر کفر اور ارتداد کے فتوے لگاکر انہیں قتل کرنے پر تیار ہوجاتا ہے۔

یہ بات بڑی واضح ہے کہ اس ساری صورتحال کی وجہ تکفیری وخارجی سوچ ہے، کیونکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اسی وقت قتل کرنے پر تیار ہوتا ہے، جب وہ اسے کافر سمجھنے لگ جاتا ہے ، تب وہ اسے مرتد کے زمرے میں لاکر انکے جان ومال کو حلال سمجھ کر اس انتہائی شنیع اقدام پر تیار ہوجاتا ہے۔  لہذا منہج تکفیر کو اس صورتحال میں کلیدی کردار حاصل ہے، جو کہ حقیقی دین اسلام سے کوسوں دور ہے، بلکہ نبی کریم ﷺ نے اس تکفیری و خارجی سوچ کے فتنے سے بڑی شدت کے ساتھ ڈرایا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے تو یہ کلمہ ان میں سے کسی ایک پر ضرور لاگو ہوگا۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دوران جنگ قتل کر دیا ، جس نے قتل ہونے سے پہلے کلمہ پڑھا ، جس پر آپ ﷺ نے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : اے اسامہ ! قیامت والے دن جب اللہ کے ہاں یہ اپنا کلمہ پیش کرے گا تو تم اس کا کیسے سامنا کرو گے ؟

ان جیسی بے شمار صحیح احادیث مبارکہ آپ ﷺ سے مروی ہیں ، جس میں مسلمان کے حرمت و ناموس کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے اور اس حرمت کو پامال کرنے والی تکفیری سوچ و فکر کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جتنی بھی شدت پسند دہشتگرد مسلح تنظیمیں نمودار ہوتی ہیں، انکی سوچ وفکر و نظریات میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔  اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز نئے نئے نام سننے کے باوجود شدت پسند تحریکیں  تحریک طالبان، القاعدہ ، جبھہ نصرہ، اور بالآخر داعش تک کا سفر کرنے والی تمام دہشت گرد ، شدت پسند تکفیری گروہوں  میں ایک ہی سوچ اور ایک ہی منہج کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔  

یہ سب تکفیری وخارجی نظریے اور منہج کے حامل گروہ ہیں ، جسکا سادہ الفاظ میں مطلب یہ کہ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہ سمجھے، دین اسلام کے وسیع مفہوم کو محدود، مخصوص مسائل کا نام دے کر تشدد کی راہ اپنا لیتے ہیں ۔ 

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، آپ ﷺ نے اپنی امت کو جیسے ہر آنے والے شر سے خبردار فرمایا : اسی طرح آپ ﷺ نے فتنہ خوارج سے بھی متنبہ کیا اس کی علامات بتلائی، اور انکے خطرناک عزائم سے خبردار فرمایا۔ ان کے  بارے نبی کریم ﷺ سے بے شمار احادیث روایت کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکا شر اور نقصان اسلام کیلئے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور ان خوارج کے مابین گھمسان کی جنگیں لڑی گئی جس میں ان خوارج کی کثیر تعداد ہلاک ہوئی ۔ 

اس سوچ کی نشر واشاعت میں اکابرین وزعماء تحریک سید قطب  کو کلیدی کردار حاصل ہے، متشدد، بیانات و تصنیفات کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں کے اذہان کو خراب کیا اور تشدد کی راہ دکھائی  اور یوں مصر میں تکفیر کی تحریک کا آغاز اخوانی تحریک کے رہنما سید قطب کی تحریروں اور بیانات سے ہوا۔ سید قطب جو کوئی عالم دین نہ تھا بلکہ ایک ادیب اور شاعر تھا ، جس نے اسلامی عقائد کو توڑ مروڑ کر اسلامی  معاشروں اور سوسائٹیز پر کفر کے فتوے لگا کر فتنہ تکفیر کی بنیاد ڈالی ،

سید قطب کے بارے میں ایک اخوانی عالم دین یوسف القرضاوی کہتے ہیں :
”اس مرحلے میں سید قطب کی وہ کتابیں سامنے آئیں، جو سید قطب کے فکر کے آخری مرحلے کی نمائندگی کر رہی تھیں اور ان کتابوں میں اسلامی معاشروں کی تکفیر، نظام اسلامی کے قیام کی دعوت کو مؤخر کرنا اور فقہ اسلامی کی تجدید، تشکیل اور اجتہاد کے احیاء کی دعوت کو مقدم کرنا مترشح ہوتا ہے۔ اسی طرح سید قطب کی یہ کتابیں اسلامی معاشروں سے شعوری علیحدگی اور اپنے کے علاوہ سے قطع تعلقی کی دعوت دیتی ہیں…” اور یہ تمام افکار ان کی تفسیر ‘فی ظلال القرآن’ کے دوسرے ایڈیشن میں وضاحت سے موجود ہیں۔

(أولیات الحرکة الاسلامیة : ص ١١٠)

شیخ ابو حسام الدین طرفاوی نے بھی اپنی کتاب ‘الغلو فی التکفیر’ میں سید قطب کو تکفیری فکر اور تحریک کا حقیقی بانی قرار دیا ہے۔ 

علامہ البانی رحمہ اللہ نے سید قطب کے بارے کہا:
“اسکو نہ تو دین اسلام کے اصولوں کا علم تھا اور نہ ہی فروعات کا اور وہ دین اسلام سے منحرف تھا “۔ 

انکے علاوہ بیسیوں علماء کرام نے اس فکر کی ترویج میں سید قطب کا ہی نام سر فہرست ذکر کیا ہے۔ نظریہ تکفیر کے علاوہ یہ شخص کئی ایسے غلط نظریات کا حامل بھی تھا، جن میں سے اختصاراً درج ذیل ہے؛ 

جلیل القدر صحابہ کرام پرطعن، انبیاء کے لیے غیر مناسب کلمات کے استعمالات، وحدت الوجود کا قائل ہونا ، حلول کے عقیدے کے مطابق قرآنی آیات کی تفسیر ، صفات باری تعالی میں تحریف، مسلمان معاشروں کی تکفیر، مسئلہ جبر میں جبریہ کی تقلید، کلمہ توحید کی غلط تفسیر، عقیدے میں خبر واحد بلکہ خبر متواتر کابھی انکار، قرآن کو اللہ کی مخلوق قرار دینا، میزان کا انکار، اشتراکیت کا قائل ہونے، روح کو ازلی قرار دینے، بتوں اور قبر پرستی کے شرک کو شرک اکبر نہ سمجھنا، رؤیت باری تعالی، صفت ید، صفت وجہ [ید سے مراد ہاتھ اور وجہ سے مراد چہرہ  ہے جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہیں اور ان کو ہمارے اعضاء کے ساتھ تشبیہ دینا حرام ہے  اللہ تعالی کےہاتھ اور چہرہ ویسا ہی جیسا اس کی شان کے لائق ہے ] اور استواء علی العرش کی باطل تاویلات پیش کرنا، صفت کلام سے مراد اللہ کا ارادہ لینا، نبوی معجزات کی توہین اور عقیدہ الولاء و البراء میں غلو کرنا و دیگر غلط نظریات و افکار شامل ہے۔ سید قطب کے ایسے عقائد کی ایک کتاب “سید قطب اور عقیدہ و منہج ” 

مصر میں تکفیر کا دوسرا مرحلہ ‘جماعت المسلمین’ سے شروع ہوا جنہیں’جماعة التکفیر والھجرة‘ کا نام دیا گیا۔ اس جماعت کی ابتداء حسن البناء کی قائم کردہ جماعت ‘الاخوان المسلمون‘ کے ان اراکین سے ہوئی جنہیں حکومت مصر کی طرف سے پابند سلاسل کیا گیا، بعد میں انجینئر علی اسماعیل، شکری مصطفی، سے لیکر ماہر عبد اللہ زناتی نے اس فکر کی احیاء میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس جماعت کے بنیادی عقائد میں تکفیر اور ہجرت شامل ہے۔ تکفیر کے اصول کے تحت یہ ان حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔ یہ حکمرانوں کے علاوہ ان مسلمان معاشروں کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو اپنے حکمرانوں کے فیصلوں پر راضی ہوں یا انہیں ووٹ دیں یا کسی طرح سے بھی ان کے ساتھ تعاون کریں۔ یہ ان علماء کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے مسلمان حکمرانوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ یہ جماعت تمام مسلمانوں کے لیے اپنے امام سے بیعت کو واجب قرار دیتی ہے جس مسلمان تک ان کے امام کی دعوت پہنچ جائے اور وہ اس کی بیعت نہ کرے تو اس مسلمان کی بھی وہ تکفیر کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ان کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد نکل جائے تو وہ بھی ان کے نزدیک مرتد اور واجب القتل ہے۔ اپنے ہجرت کے اصول کے تحت انہوں نے تمام اسلامی معاشروں کو دور جاہلیت کے معاشرے قرار دیا اور ان سے قطع تعلقی کا حکم جاری کیا ۔ اس جماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ موجودہ اسلامی معاشروں میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں ہے کیونکہ یہ جاہلی معاشرے ہیں اور جاہلی معاشرے کو اللہ کے رسول نے ایمان کی دعوت دی لہذا ان مسلمان معاشروں کو بھی مکہ کے جاہلی معاشرے پر قیاس کرتے ہوئے صرف ایمان کی دعوت دینی چاہیے۔ اس جماعت کے بعض اکابرین کو پھانسی چڑھا دیا گیا، بعض نے اپنے افکار سے رجوع کر لیا اور بعض مختلف علاقوں اور بلاد اسلامیہ میں منتشر ہو کر اپنی  یہ سوچ و فکر پھیلانے لگ گئے۔

(الموسوعة المیسرة ‘ جماعات غالیة ‘ جماعة التکفیر والھجرة سے مختلف اقتباسات)

اسکے بعد اس فکر کے لوگ باہمی انتشار اور افتراق کا شکار ہوتے چلے گئے اور روس کے خلاف جہاد 1986 میں ایمن الظواہری اور انکی جماعت “مصری اسلامک جہاد” کے اراکین نے افغانستان کا رخ کیا اور وہاں اپنی اس زہریلی فکر و نظریات کے فروغ کے کھلے مواقع تھے۔
اور افغانستان میں دنیا بھر سے اخوانی فکر کے حاملین کو اکھٹا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، چونکہ اسامہ بن لادن مالی لحاظ سے ایک مضبوط بیک گراونڈ رکھتا تھا، لہذا اسکے ہاتھوں القاعدہ کی بنیاد ڈالی، اور پھر یہاں بیٹھ کر انہوں نے دنیا بھر میں اپنی مسلح کاروائیوں کو جاری رکھا ، اس دوران اپنی تکفیری و اخوانی فکر کی ترویج و اشاعت کا کام بھی کرتا رہا، یہاں تک کہ طالبان کی حکومت بنی اور پھر 9/11 کو امریکہ پر حملے کروا کر طالبان کی حکومت ختم کرنے کے باعث بنے ۔

اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی شخص چند مخصوص فقہی مسائل کی بنیاد پر سلفی نہیں کہلایا جاتا ، یا صرف رفع الیدین، امین بالجہر ماننے سے اہلحدیث نہیں ہوتا ، بلکہ سلفی منہج اور مسلک اہلحدیث ایک مکمل منہج و عقیدہ کا نام ہے، جس کو فالو کرنے والے کو سلفی کہا جاتا ہے۔

اسی لئے داعش اور القاعدہ و دیگر مسلح تنظیموں جیسی اخوانی تکفیری تحریکوں کے سربراہان سب کے سب رفع الیدین کیا کرتے ہیں مگر سلفی علماء انہیں ہرگز سلفی قرار دینے پر تیار نہیں، بلکہ یہ خود سلفی منہج کو اپنی تکفیری منہج کے سامنے بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سلفی حکومت سعودی عرب کی سب سے زیادہ مخالفت کرتے ہیں ، اور انکے حکمرانوں کو مرتد قرار دیتے ہیں۔

تو اس ساری صورتحال کی وجہ فتنہ تکفیر ہے ، جو ان تمام دہشت گرد اخوانی تنظیموں میں پایا جاتا ہے، جوکہ تحریک اخوان المسلمین کا بویا ہوا بیج ہے، جو کہ آج ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

قارئین کرام حیران ہونگے کہ اخوانی تحریک کے سربراہ سید قطب کی کتاب ” فی ضلال القران ” کو منہج تکفیر میں ایک اعلی مقام اور مرجعیت حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ عبداللہ عزام، اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری، ابوبکر بغدادی ، گلبدین حکمت یار ، مسعود اظہر ، ابو محمد العدناني ، أبو عمر الشيشاني جیسے جہادی سوچ رکھنے والے اپنی سوچ کی مرجع سید قطب کی کتاب کو قرار دیتے ہیں ، اور اس کتاب کی خاص تعریف کرتے ہیں، بلکہ کئی ایسی تصاویر منظر عام پر آئی ہے کہ جن میں یہ مذکورہ شخصیات خرافات و غلط نظریات سے بھرپور اس کتاب کا مطالعہ کرتے نظر آتے ہیں ۔
جبکہ دوسری طرف دنیا بھر میں اپنے آپ کو سیاسی اخوانی کہنے والے پاکستان میں جماعت اسلامی ، مصر میں جماعت الاخوان، افغانستان میں حزب اسلامی و دیگر تنظیمیں سید قطب کو اپنا ایک عظیم لیڈر ورہبر سمجھتی ہیں، اور انکے مخصوص نظریات وافکار سے نہ صرف متاثر ہیں بلکہ انہیں عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

ان تمام ثبوتوں اور قرائن سے علم الیقین ہوجاتا ہے کہ حاکمیت کا غلط مفہوم جسے سید قطب نے بیان کیا ، شدت پسند تحریکوں کے وجود کے بنیادی پتھروں میں سے ایک ہے، یہی وہ خارجی فکر ہے جس نے ان جماعتوں کو مسلم معاشرے کی تکفیر اور پھر انکے خلاف ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کیا، اور اس انتہائی سٹیج پر لاکر کھڑا کردیا کہ جس پر یہ لوگ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہیں سمجھتے۔

▪️ یہ بات ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ فتنہ تکفیر کی جڑ اخوانی فکر ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شدت پسند تحریکوں کے سربراہان اس فکر کے متبع نظر آتے ہیں ، اگرچہ اس فکر کو عملی جامہ پہنانے میں یہ سب مختلف ہیں ، کچھ زیادہ ہی متشدد جبکہ کچھ کم متشدد بن جاتے ہیں ، مگر سب کی سوچ اور فکر ایک ہوتی ہیں۔
داعش جیسی سفاک دہشت گرد تنظیم جس نے اپنے مخالف کو اذیت ناک موت دینے میں کوئی بھی طریقہ نہیں چھوڑا، آگ میں زندہ جلانے سے لیکر پانی میں ڈبونے، ٹینک کے نیچے لانے، گردنوں پر 20 ہزار وولٹ بجلی کے کیبل باندھ کر کرنٹ سے مارنے، اور ذبح کرنے تک انہوں نے اپنا متشدد نظریہ دنیا کے سامنے رکھا، اور پھر یہی داعش عراق اور شام میں دیواروں پر سید قطب کے متشدد نعرے درج کرکے دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے پیروکار ہیں۔
مگر اس کے باوجود اغیار کی کوشش ہوتی ہے کہ سلفیوں کو بدنام کیا جائے ، دنیا بھر میں پرامن ،اعتدال پسند، کتاب وسنت پر مبنی دعوت کا راستہ روکا جائے، اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے کہ یہ شدت پسند تحریکیں سلفی ہیں۔
مگر جب تک ہم مسلمان  زندہ ہیں منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کا دفاع کرتے رہینگے، اور نہ صرف مخالفین کے غلط پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینگے بلکہ تمام ثبوتوں کے ساتھ انکی حقیقت دنیا پر عیاں کرینگے۔ ان شاء اللہ ۔

و ما علینا الا البلاغ




خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدنا طلحہ،زبیر،عمار بن یاسررضی اللہ عنہم

سیدنا زبیر طلحہخوارج،کبار صحابہ کے قاتل

سیدنا زبیربن عوام و طلحہ بن عبید اللہ  اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم

خوارج کی فطرت میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ ہمیشہ اسلامی دنیا میں اختلاف اور فتنہ برپا کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جو شخص مسلمانوں کی باہمی لڑائی سے ہاتھ کھینچنا چاہے تو یہ اس کو شہید کر دیتے ہیں ۔اور اس معاملے میں وہ کسی کا لحاظ نہیں رکھتے بلکہ بے دھڑک اسے قتل کر دیتے ہیں  ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار اصحاب رسولﷺان دس اشخاص میں شامل ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے کہ جنہیں  اہل اسلام عشرہ مبشرہ کے نام سے جانتے ہیں۔چنانچہ ہم ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، اس کو فرداً فرداً بیان کر رہے تھے  ۔

چنانچہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ  امت مسلمہ میں سے خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد نبیﷺ کے ان دو جلیل القدر صحابہ کا نام آتا ہےکہ جن کے ناموں کی ترتیب بھی عشرہ مبشرہ میں اکٹھی ہے اور جو شہید بھی ایک ہی وجہ سے ہوئے یعنی سیدنا زبیر بن عوام اور طلحہ بن عبید اللہ  رضی اللہ عنہم۔اور ان کے بعد جناب عمار رضی اللہ عنہ کو خوارج نے قتل کیا۔

اس سے قبل کہ میں ان کی شہادت کا واقعہ بیان کروں اس سے پہلےمیں ان اصحاب کی اسلام کیلئے ناقابل فراموش خدمات کوبیان کرنا  مناسب سمجھتا ہوں تا کہ قارئین اس بات کو بخوبی جان لیں کہ  خوارج نے کیسے کیسے جلیل القدر اور عظیم المرتبت لوگوں کو صرف اہل اسلام کو لڑانے کی اپنی ناپاک خواہش پوری کرنے کیلئے قتل کر دیا۔

فضائل ومناقب:

نام زبیر،کنیت ابوعبداللہ، لقب حواری رسول اللہ۔ نبی کریم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر کے داماد۔ ہجرت سے 28 سال پہلے پیدا ہوئے۔ سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔اسلام اور نبیﷺ کے دفاع میں سب سے پہلے تلوار اٹھانے کا اعزاز رکھنے والے،ان کی والدہ ان کو بچپن میں بہت مارا کرتی تھیں تو کسی کے استفسار پر فرمانے لگیں کہ اگر ابھی سے یہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہنا سیکھ جائے گا تو آگے چل کر یہ قوموں کا سپہ سالار بن جائے گا۔ پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں بڑی جانبازی سے لڑے اور دیگر غزوات میں بھی بڑی شجاعت دکھائی ۔ جنگ خندق کے دن بنو قریظہ کی غداری کی تصدیق  کیلئے نبیﷺ کے تین دفعہ استفسار کرنےپر ہر دفعہ کھڑے ہوکر جانے کی اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر ان کی غداری کی تصدیق کی تو نبیﷺ نے یہ یادگارالفاظ ارشاد فرمائے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر  ہے۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ کے ذاتی دستے کے علمبردار تھے۔ جنگ فسطاط میں حضرت عمر نے چار افسروں کی معیت میں چار ہزار مجاہدین کی کمک مصر روانہ کی ۔ ان میں ایک افسر حضرت زبیر بھی تھے۔ اور اس جنگ کی فتح کا سہرا آپ کے سر ہے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد  ان کا قصاص لینے کا تقاضا کرنے لگے اور جناب معاویہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔

جنگ جمل کے موقع پر ان کا سامنا جناب علی  رضی اللہ عنہ سے ہوا تو دونوں حضرات کا آپس میں مکالمہ ہوا تو جناب زبیر نے لڑائی کا ارادہ ترک کردیا تو ان کے بیٹے اپنے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ آپ نے جب دونوں فریق میدان میں جمع کر دئیے‘ اور ایک دوسرے کی عداوت پر ابھار دیا تو اب چھوڑ کر جانے کا قصد فرماتے ہیں‘ مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کو دیکھ کر ڈر گئے‘ اور آپ کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی‘ یہ سن کر سیدنا زبیر اسی وقت اٹھے اور تن تنہا ہتھیار لگا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف گئے‘ اور ان کی فوج کے اندر داخل ہو کر اور ہر طرف پھر کر واپس آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آتے ہوئے دیکھ کر پہلے ہی اپنے آدمیوں کو حکم دے دیا تھا کہ خبر دار کوئی شخص ان سے متعرض نہ ہو اور ان کا مقابلہ نہ کرے‘ چنانچہ کسی نے ان کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی۔

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے واپس جا کر اپنے بیٹے سے کہا کہ میں اگر ڈرتا تو تنہا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اس طرح نہ جاتا‘ بات صرف یہ ہے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے سامنے قسم کھالی ہے کہ تمہارا مقابلہ نہ کروں گا اور تم سے نہ لڑوں گا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ قسم کا کفارہ دے دیں‘اور اپنے غلام کو آزاد کر دیں‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے‘ اور نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔

(صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ ، حدیث:۴۴۷)

شہادت:

جب لڑائی شروع ہو گئی‘ تو سیدنا زبیر ابن العوام رضی اللہ عنہ جو پہلے ہی سے ارادہ فرما چکے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہ لڑیں گے‘ میدان جنگ سے جدا ہو گئے‘ اتفاقاً سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ لیا اور بڑھ کر ان کو لڑائی کے لیے ٹوکا‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نہ لڑوں گا لیکن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ان کو لڑائی کا بانی سمجھنے کی وجہ سے ان سے سخت ناراض تھے‘انہوں نے حملہ کیا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کے ہر ایک وار کو روکتے اور اپنے آپ کو بچاتے رہے‘ اور خود ان پر کوئی حملہ نہیں کیا‘ یہاں تک کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھک کر رہ گئے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر چل دئیے‘ اہل بصرہ سے احنف بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کی ایک بڑی جمعیت لیے ہوئے دونوں لشکروں سے الگ بالکل غیر جانب دار حالت میں ایک طرف خیمہ زن تھے‘ انہوں نے پہلے ہی سے دونوں طرف کے سرداروں کو مطلع کر دیا تھا کہ ہم دونوں میں سے کسی کی حمایت یا مخالفت نہ کریں گے۔

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میدان جنگ سے نکل کر چلے تو احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی لشکر گاہ کے قریب سے ہو کر گذرے‘ احنف بن قیس کے لشکر سے ایک خارجی شخص عمرو بن الجرموز سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہو لیا‘ اور قریب پہنچ کر ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور کوئی مسئلہ ان سے دریافت کرنے لگا‘ جس سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کی نسبت کوئی شک و شبہ پیدا نہ ہوا‘ لیکن اس کی طبیعت میں کھوٹ تھا اور وہ ارادہ فاسد سے ان کے ہمراہ ہوا تھا‘ وادی السباع میں پہنچ کر نماز کا وقت آیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے‘ بحالت نماز جب کہ سجدہ میں تھے‘ عمروبن الجرموز نے ان پر وار کیا‘اور سیدنا زبیر اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون

 وہاں سے وہ سیدھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ علی رضی اللہ عنہ کی حفاظت پر مامور ایک شخص نے آ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا قاتل آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے‘ آپ نے فرمایا اس کو اجازت دے دو‘ مگر ساتھ ہی اس کو جہنم کی بھی بشارت سنا دو‘ جب وہ سامنے آیا اور آپ نے اس کے ساتھ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار دیکھی تو آپ کے آنسو نکل پڑے‘ اور کہا کہ اے ظالم یہ وہ تلوار ہے جس نے عرصہ دراز تک رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی ہے۔

عمرو بن الجرموز پر ان الفاظ کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں ان کے سامنے ہی چند گستاخانہ الفاظ کہہ کر تلوار خود اپنے پیٹ میں ہی جھونک کر مر گیا‘ اور اس طرح واصل جہنم ہو گیا۔

اب ہم جنا ب طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے ہیں:

مکمل نام طلحہ بن عبید اللہ ابومحمد کنیت،فیاض اورخیرلقب،والد کا نام عبیداللہ تھا، اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک اور حضرت محمد ﷺ کے صحابی تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔جنا ب ابو بکر کی دعوت پر اسلام لائے ۔بدر کے موقع پر نبیﷺ نے ان کو کہیں بھیجا ہوا تھا اس لئے شریک نہ ہوسکے لیکن مال غنیمت سے حصہ پایا اور اس معاملے میں بمثل عثمان قرار پائے۔

غزوۂ احد میں جان نثاری اورشجاعت کے جو بے مثل جوہردکھائے یقناً تمام اقوامِ عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے،تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا،حضرت ابوبکر صدیق نے ان کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔اور ان کا ایک ہاتھ سارے تیر جھیلنے کی وجہ سے شل ہو گیا تھا ۔درباررسالتﷺ سے اسی جان بازی کے صلہ میں “شہید” کا لقب ملا، صحابہ کرام کو واقعہ احد میں ان کی اس غیر معمولی شجاعت اورجانبازی کا دل سے اعتراف تھا، حضرت ابوبکر صدیق غزوۂ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ یہ طلحہ کا مخصوص دن تھا، حضرت عمر ان کو صاحبِِ احد فرمایا کرتےتھے۔ خود حضرت طلحہ کو بھی اس کارنامے پر بڑا ناز تھا اورہمیشہ لطف وانبساط کے ساتھ اس کی داستان سنایا کرتے تھے۔یہ ان دو اصحاب میں سے ایک ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے “فداک ابی وامی”میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں، سننے کا اعزا ملا۔اور دوسرے سعد بن ابی وقاص تھے ۔

جناب عثمان کی شہادت کے بعد  ان کا قصاص لینے کا تقاضا کرنے لگے اور جناب معاویہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔لیکن جنگ جمل کے موقع پر  جناب  زبیر کی پیروی کرتے ہوئے جنگ سے علیحدگی اختیا ر کرنا چاہی لیکن مروان بن الحکم جو کہ  اس لڑائی میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا‘ جب لڑائی شروع ہو گئی تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ میں بھی علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ہرگز نہ کروں گا‘ اسی خیال سے وہ لشکر سے الگ ہو کر ایک طرف کھڑے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی باتوں پر غور کر رہے تھے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ والی پیشگوئی کو یاد کر کے اس لڑائی سے بالکل جدا اور غیر جانب دار ہونا چاہتے تھے‘ اس حالت میں مروان بن الحکم نے ان کو دیکھا اور وہ سمجھ گیا کہ یہ لڑائی میں کوئی حصہ لینا نہیں چاہتے‘ اور صاف بچ کر نکل جانا چاہتے ہیں‘ چنانچہ اس نے اپنے غلام کو اشارہ کیا اس نے مروان کے چہرے پر چادر ڈال دی‘ مروان نے چادر سے اپنا منہ چھپا کر کہ کوئی شناخت نہ کرے ایک زہر آلود تیر کمان میں جوڑ کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنایا‘ یہ تیر سیدنا طلحہ کے پاؤں کو زخمی کر کے گھوڑے کے پیٹ میں لگا اور گھوڑا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے گرا‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے غلام کو بلایا ، جو اتفاقاً اس طرف ان کے سامنے آ گیا تھا ، انہوں نے اس غلام یا سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر جو وہاں آ گئے تھے ، نیابتاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی،چنانچہ سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ نے انہیں علاج کی غرض سے بصرہ بھیج دیا لیکن زہر اپنا کام مکمل کر چکا تھا اور یوں  36ھ میں نبیﷺ کا یہ عظیم جلیل القدر سپاہی خوارج کے دیے ہوئے زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے رب کے پاس جا پہنچا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

جناب عمار رضی اللہ عنہ :

اب ہم جناب عمار رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے ہیں:

نام عمارکنیت ابو یقظان،یاسر رضی اللہ عنہ اور سمیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے اور جلیل القدر صحابی تھے۔عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نےدوراسلام کے شروع میں اسلام قبول کیا۔ ان کے والد یاسر اور والدہ اسلام کے پہلے شہیدوں میں سے تھے۔ نبیﷺ نے ان کے اہل خانہ کے مصائب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا :

“صبراً آل یاسر،فان موعدکم الجنۃ”

اے آل یاسر صبر کرتے رہو،میں تم سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں۔

 یہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے سربراہ تھے۔ جنگ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔

جناب عثمان کی شہادت کے بعد یہ جناب علی کے ساتھیوں میں سے تھے اور انہی کو دیکھ کر جناب طلحہ و زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جنگ جمل سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔

انکی شہادت کی تفصیلات تو واضح نہیں ہیں لیکن یہ چونکہ جنگ صفین کے موقع پر شہید ہوئے اور ان کے بارے میں نبیﷺ کی یہ پیشین گوئی تھی کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل  کرے گا۔

(صحیح مسلم، حدیث 6966 ، 6970)

اسی لئے علماء یہ استدلال کرتے ہیں کہ  ان کو خوارج نے ہی موقع پاکر شہید کر دیا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

(تلخیص:تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی)




خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

ssss

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔

شہادت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ

 

خوارج کی تاریخ میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ تقوے کی بنیاد پر امت کے کبار اور معزز لوگوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار صحابہ کرام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، اس کو فرداً فرداً بیان کریں گے۔ان شاء اللہ

امت مسلمہ میں سے خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں ۔اس سے قبل کہ میں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والے دلسوز واقعہ کی تفصیلات بیان کروں ،اس سے پہلےمیں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کی اسلام کیلئے ناقابل فراموش خدمات کوبیان کرنا  مناسب سمجھتا ہوں تا کہ قارئین اس بات کو بخوبی جان لیں کہ خوارج نے کس قدر جلیل القدر آدمی کو صرف ان کی خود ساختہ معمولی بشری لغزشوں کو بنیاد بناتے ہوئے ان کی ساری ناقابل فراموش خدمات کو یکسر بھلاتے ہوئے ان کو دردناک طریقے سے شہید کردیا۔

حالات زندگی وخدمات:

عثمان بن عفان اموی قریشی اہل اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد، داماد رسول، اور جامع قرآن تھے۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ سابقین اسلام میں شامل اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے،چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ،جن میں سے ایک یہ تھی کہ ؛

ان کا چچا آپ کو چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیا کرتا تھاکہ جس کی وجہ سے ان کا سانس لینا مشکل ہوجاتا تھا اور وہ کہتا تھا کہ اسلام کو چھوڑ دو لیکن یہ اسلام پر ثابت قدم رہے۔

ان کی کنیت ذو النورین تھی کیونکہ انھوں نےجناب محمد ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا تھا، پہلے رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنھا سے کیا، پھر ان کی وفات کے بعد ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔

عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان اصحاب میں شامل ہیں کہ جنھوں نے سرزمین حبشہ کی ہجرت کی ۔ بعد ازاں دوسری ہجرت مدینہ منورہ کی جانب کی۔

رسول اکرم ﷺ کوعثمان غنی رضی اللہ عنہ پر مکمل اعتمادتھااورنبیﷺ ان کی فطری حیاء و شرافت اور جو انھوں نے اپنے مال کے ذریعہ اہل ایمان کی نصرت کی تھی، اس کی انتہائی قدر کرتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے دیگر صحابہ کے ساتھ ان کو بھی جنت اور شہادت کی موت کی خوش خبری دی۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر جب نبیﷺ نے ان کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا تو اہل مکہ نے ان کی شہادت کی افواہ اڑادی تو نبیﷺ نے چودہ سو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے جناب عثمان کے قصاص لینے پر مر مٹنے کی بیعت لی اور اس وقت نبیﷺ نے یادگار الفاظ ارشاد فرمائےکہ جو بلا شک و شبہ ان کی قدر منزلت کو بیان کرنے کیلئے کافی ہیں ،چنانچہ آپ ﷺ نے  جب سب صحابہ کرام سے بیعت لے لی تو آخر میں نبیﷺ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں  ہاتھ پر مارا اور فرمانے لگے کہ “یہ عثمان کا ہاتھ ہے”

سنہ 23ھ (644ء) میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مشورہ سے آپ کو خلافت کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انھوں نے 644ء سے 656ء تک انجام دی۔

ان کے عہد خلافت میں جمع قرآن مکمل ہوا، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع ہوئی، اور قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقیہ اور قبرص فتح ہو کر سلطنت اسلامی میں شامل ہوئے۔ نیز انھوں نے اسلامی ممالک کے ساحلوں کو بازنطینیوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اولین مسلم بحری فوج بھی بنائی۔

لیکن خوارج نے جناب عثمان رضی اللہ عنہ کی ان ساری خدمات کو پس  پشت ڈالتے ہوئے ان کو چالیس دن محبوس وقید رکھنے کے بعد شہید کر دیا ۔اس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

عبداللہ بن سبا المعروف ابن السوداء صنعا شہر کا رہنے والا ایک یہودی تھا، وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کو دولت خوب حاصل ہوتی ہے اور اب یہی دنیا میں سب سے بڑی فاتح قوم بن گئی ہے، مدینہ میں آ گیا اور بظاہر مسلمانوں میں شامل ہو گیا‘ مدینہ میں اس کا آنا اور رہنا بہت ہی غیر معروف اور ناقابل التفات تھا لیکن اس نے مدینہ میں رہ کر مسلمانوں کی اندرونی اور داخلی کمزوریوں کو خوب جانچا اور اسلام مخالف تدابیر کو خوب سوچا‘ انہیں ایام میں بصرہ کے اندر ایک شخص حکیم بن جبلہ(خارجی) رہتا تھا‘ اس نے یہ وطیرہ اختیار کیا کہ اسلامی لشکر کے ساتھ کسی فوج میں شریک ہو جاتا تو موقعہ پا کر ذمیوں کو لوٹ لیتا‘ کبھی کبھی اور لوگوں کو بھی اپنا شریک بناتا اور ڈاکہ زنی کرتا۔

اس کی ڈاکہ زنی کی خبریں مدینہ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تک پہنچیں۔ انہوں نے گورنر بصرہ کو لکھا کہ حکیم بن جبلہ کو بصرہ شہر کے اندر نظر بند رکھو اور حدود شہر سے باہر ہرگز نہ نکلنے دو‘ اس حکم کی تعمیل میں وہ بصرہ کے اندر محصور و نظر بند رہنے لگا‘ عبداللہ بن سبا حکیم بن جبلہ کے حالات سن کر مدینہ سے روانہ ہوا اور بصرہ میں پہنچ کر حکیم بن جبلہ کے مکان پر مقیم ہوا‘ یہاں اس نے حکیم بن جبلہ اور اس کے ذریعہ اس کے دوستوں اور دوسرے لوگوں سے مراسم پیدا کئے‘ اپنے آپ کو مسلمان اور حامی و خیر خواہ آل رسول ظاہر کر کے لوگوں کے دلوں میں اپنے منصوبے کے موافق فساد انگیز خیالات و عقائد پیدا کرنے لگا‘ کبھی کہتا کہ مجھ کو تعجب ہوتا ہے کہ مسلمان اس بات کے تو قائل ہیں کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے لیکن اس بات کو نہیں مانتے کہ سیدنا محمد ﷺ بھی دنیا میں ضرور آئیں گے۔

 چنانچہ اس نے لوگوں کو :ﯘاِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَاد

(القصص : ۲۸/۸۵)

کی غلط تفسیر سنا سنا کر اس عقیدہ پر قائم کرنا شروع کیا کہ سیدنا محمد کی مراجعت دوبارہ دنیا میں ضرور ہو گی‘ بہت سے لوگ اس کے اس فریب میں آ گئے‘ پھر اس نے ان کو اس عقیدے پر قائم کرنا شروع کیا کہ ہر پیغمبر کا ایک خلیفہ اور وصی ہوا کرتا ہے اور سیدنا محمدﷺ کے وصی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ جس طرح رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاتم الاوصیاء ہیں‘ پھر اس نے علانیہ کہنا شروع کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سوا دوسروں کو خلیفہ بنا کر بڑی حق تلفی کی ہے‘ اب سب کو چاہیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدد کریں اور موجودہ خلیفہ کو قتل یا معزول کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیں۔

عبداللہ بن سبا یہ تمام منصوبے اور اپنی تحریک کی ان تمام تجویزوں کو مدینہ منورہ سے سوچ سمجھ کر بصرہ میں آیا تھا اور اس نے نہایت احتیاط اور قابلیت کے ساتھ رفتہ رفتہ اپنی بدعقیدگیوں کو شائع کرنا اور لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا۔

رفتہ رفتہ اس فتنے کا حال بصرے کے گورنر عبداللہ بن عامر کو معلوم ہوا تو انہوں نے عبداللہ بن سبا کو بلا کر پوچھا کہ تم کون ہو‘ کہاں سے آئے ہو اور یہاں کیوں آئے ہو؟ عبداللہ بن سبا نے کہا مجھ کو دین اسلام میں دلچسپی ہے، میں اپنے یہودی مذہب کی کمزوریوں سے واقف ہو کر اسلام کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور یہاں آپ کی رعایا بن کر زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں‘ عبداللہ بن عامر نے کہا کہ میں نے تمہارے حالات اور تمہاری باتوں کی تحقیق کی ہےتو مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم کوئی فتنہ برپا کرنا اور مسلمانوں کو گمراہ کر کے یہودی ہونے کی حیثیت سے جمعیت اسلامی میں افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہو۔

 چونکہ عبداللہ بن عامر کی زبان سے پتے کی باتیں نکل گئی تھیں‘ لہذا اس کے بعد عبداللہ بن سبا نے بصرے میں اپنا قیام مناسب نہ سمجھا اور اپنے خاص الخاص راز دار اور شریک کار لوگوں کو وہاں چھوڑ کر اپنی بنائی ہوئی جماعت کے لیے مناسب تجاویز و ہدایات سمجھا کر بصرہ سے چل دیا اور دوسرے اسلامی فوجی مرکز یعنی کوفہ میں آیا‘ یہاں پہلے سے ہی ایک جماعت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے عامل کی دشمن موجود تھی‘ عبداللہ بن سبا کو کوفہ میں آ کر بصرہ سے اپنی شرارتوں کو کامیاب بنانے کا زیادہ بہتر موقع ملا۔

قصہ مختصر اس نے اپنے ساتھ کافی لوگوں کویہ کہہ کر کہ جناب عثمان رضی اللہ عنہ بہت ظالم حاکم ہیں ، شریک کرلیا اور اس نے جناب عثمان کے خلاف بصرہ ،کوفہ اور شام سے اپنے ساتھیوں کو بلا لیا اور ان بلوائیوں نے مدینہ کا محاصرہ کرلیا اور جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان سے خلافت سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کرنے لگے لیکن جناب عثمان فرمانے لگے کہ جو چادر مجھے اللہ نے پہنائی ہے میں اس کو نہیں اتا روں گا ۔

چنانچہ جناب علی رضی اللہ عنہ نے انہیں واپس جانے کا حکم دیا لیکن اس نے دھوکے کے ساتھ ایک خط کہ جس میں  ان لوگوں کے قتل کا حکم درج تھا  وہ لوگوں کو دیااوراس کا الزام سیدنا عثمان پر لگا دیا کہ یہ خط ان کا ہے چنانچہ لوگ واپس  آگئے اور پھر جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔

صحابہ کرام کی اپنے خلیفہ سے محبت :

ان حالات کے پیش نظر کچھ صحابہ مدافعت کرنے لگے  لیکن جناب عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی نرم مزاجی کے باعث صحابہ کو ٹھہرنے کا حکم دے دیا لیکن بعض صحابہ پھر بھی ان کے گھر کا پہرہ دیتے رہے،چنانچہ جناب مغیرہ بن الاخنس رضی اللہ عنہ اور ان کے حواری ان بلوائیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے،اور حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ ،حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ ان سے لڑتے ہوئے زخمی ہوئے۔(یہاں ایک بات یاد رکھئے کہ جناب حسن بن علی کو جناب علی رضی اللہ عنہ نےمسلح پہرہ دینے کا حکم دیا تھا اور وہ خود شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت مدینہ سے باہر تھے تو اس سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوتی ہے کہ جو جناب عثمان کی شہادت کا الزام نعوذ باللہ جناب علی رضی اللہ عنہ پر لگاتے ہیں )اسی طرح جناب ابو ہریرہ اور جناب عبداللہ بن سلام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابہ بھی بلوائیوں سے لڑنے لگے لیکن جناب عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں قسم دے کر واپس لوٹادیا۔

اسی طرح چالیس دن بیت گئے اور جناب عثمان رضی اللہ عنہ چالیس دن سے محصور تھے ۔بلوائیوں نے جناب عثمان کا پانی اور سامان رسد بھی بند کردیا ،جس کے نتیجے میں جناب عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں فاقہ اپنے عروج کو پہنچ گیا، بالآخر18 ذو الحجہ کا سورج طلوع ہوا تو آسمان دنیا نے ایک کریہہ ترین منظر دیکھا کہ حضرت عثمان پراس حالت میں تلوار سے حملہ کیا گیا کہ جب وہ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ چنانچہ آپ کی بیوی سیدہ نائلہ نے فوراً تلوار کےوار کو روکا جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں اور ان کی چیخ نکل گئی۔ مگر یہ آواز محافظ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک پہنچ نہ سکی۔ دوسرے وار سے خون عثمان رضی اللہ عنہ کےقطرے آیت قرآنی ‘‘فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم” پر گرے اور آپ روزہ کی حالت میں شہید ہوئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صحابہ کرام کو حضرت نائلہ کی آوازیں اس وقت سنائی دیں جب بلوائی اپنا کام کرچکے تھے۔

(البدایہ والنہایہ صفحہ 7؍188)

اپنا کام مکمل کرنے کے بعدقاتل فرار ہوگئے،جبکہ بعض حضرت عثمانؓ کے غلاموں کے ہاتھوں مارے گئے اور دو غلاموں نےبھی اس کوشش میں جام شہادت نوش فرمایا۔ اب پہرہ دینے اور حفاظتی دستہ متعین کرنےکی ضرورت باقی نہ رہی۔ عمرو بن حمق(خارجی) نے حضرت عثمانؓ کے جسم اطہر پر نیزے کے 9 زخم لگائے جبکہ ایک ظالم عمیرنے پاؤں سے ٹھوکریں ماریں جس سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔داماد رسولﷺ سیدناعثمان ذوالنورین کی نعش تین دن تک بےگوروکفن پڑی رہی۔ تیسرے دن حضرت جبیر بن مطعم، حضرت حکیم بن حزام، حضرت ابوجہم بن حذیفہ اور حضرت خیار بن مکرم اسلمی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بعد نماز عشاء جنازہ اٹھایا۔ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نےنماز جنازہ پڑھائی، جبکہ باقی تین ساتھی اور حضرت عثمان کی دونوں بیویاں مقتدی تھیں۔

حضرت حکیم بن حزامؓ اور آپؓ کی دونوں بیویاں نگرانی کرتے رہے۔باقی تین آدمیوں نےجنت البقیع کےجنوب مشرقی کونے میں آپ کو لحد میں اُتارا اور قبربرابر کردی تاکہ لوگ پہچان نہ سکیں اور یوں امت اسلامیہ کا ایک دمکتا چمکتا ستارہ جہنمی کتے خوارج کے ہاتھوں ہمیشہ کیلئے امت محمدیہ کو داغ مفارقت دیتے ہوئے غروب ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

(تلخیص:تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی)




کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام

5555555

کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنی کتاب نواقض الاسلام میں آٹھویں ناقض اسلام یہ بیان کرتےہیں کہ:

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مدد کرنا اور ہر مصیبت میں ان کے کندھے سے کندھے ملا کر  کھڑے ہونا ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَآاَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّه مِنْـهُـمْ   اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ

(سورۃ المائدۃ 51)

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔

اور شیخ صالح بن فوزان رحمہ اللہ اس کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے یہاں کفارکے ساتھ  دوستی کی ایک قسم  ”مظاہرہ“ پر بات کی ہے۔ وگرنہ دوستی کی تو کئی ایک قسمیں ہیں۔مثلاً دلی محبت، غیر مسلموں کو مسلمانوں پر ترجیح دینا ، ان کی مدح و تعریف کرنا  اور اس جیسی اور بھی کئی قسمیں ہیں ،حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کفار سے نفرت و دشمنی رکھنا ،اور ان سے براءت کا اعلان کرنا مسلمانوں پر واجب کیا ہے  ۔اور اسی کو اسلام میں  ”الولاء والبراء“ اور”الموالاۃ “کا نام دیا جاتا ہے ۔

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مددکرنےکی کچھ صورتیں ہیں اور سب کے علیحدہ علیحدہ احکام ہیں:

پہلی قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد ان کے کفر و شرک اور گمراہی کی  محبت کی وجہ سے کرنا تواس قسم کے شخص کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے میں  کوئی شک نہیں ۔چنانچہ جو یہ کام کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اورانہی کے متعلق اللہ رب العزت کا فرمان ہے: (فَاِنَّه مِنْـهُـمْ)۔

دوسری قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد اپنی خوشی سے  نہیں کرتا بلکہ اسے اس کام پر مجبور کیا گیا ہے  اور وہ کفار سے  نفرت کرتا ہے۔اور اس کے دل میں ڈر بھی ہے کہ کہیں میں دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے عمل  کا ارتکاب نہ کر بیٹھوں ،اور وہ وہاں سے ہجرت کی استطاعت بھی نہیں رکھتا تو ایسا شخص اس وعید میں شامل نہیں ہے اور اس کی مثال بدر میں کفار کے ساتھ حاضر ہونے والے ان مسلمانوں کی ہے کہ مشرکین مکہ نے انہیں مسلمانوں کے خلاف نکلنے پر مجبور کیا تھا اور انہیں نکلنا پڑا ۔حالانکہ ان کے دل  تو صرف مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے تھے اور کائنات میں ان کے نزدیک مبغوض ترین مخلوق مشرک تھے۔ پھر بھی اللہ تعالی نے ان مسلمانوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ہجرت  کرنے سے کون سی چیز آڑے رہی کہ انہوں نے ہجرت نہ کی اور مشرکین مکہ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔

لیکن جو شخص ہجرت نہیں  کرتا   حالانکہ وہ ہجرت کی استطاعت بھی رکھتا ہے  اور وہ مشرکین کے ساتھ  رہتا ہے  اور وہ (مشرکین) اس کو زبردستی اس کو مسلمانوں کے خلاف قتال   پر لے جاتے ہیں  ، تو یہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے ۔

لیکن اگر وہ ہجرت کی استطاعت نہیں رکھتے تھے تو ان پر ملامت نہیں اور وہ اس وعید میں شامل نہیں ہیں۔کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ:

 (لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا)

(سورۃ البقرہ 286)

اللہ کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا ۔

تیسری قسم :

جو شخص مسلمانوں کے خلاف مشرکین و کفار کی مدد کر تا ہے  ، اور وہ اپنی مرضی سے کر رہا ہے اس پر اس کو کسی نے مجبور بھی نہیں کیا  حالانکہ وہ ان کفار کے دین سے نفرت بھی کرتا ہے ، تو یہ شخص کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گنا ہ کا مرتکب ہے  ،اور یہ کفر میں واقع ہو رہا ہے ۔

④چوتھی قسم :

کوئی شخص کفار کی مدد معاہد یا ذمی کفار کے خلاف کرے   تو یہ جائز نہیں ہے حرام ہے ، اوریہ اس لئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے معاہدے کو نقصان پہنچے گا ، اور جن کفار سے معاہدہ ہوتو کسی مسلمان کے لئے ان سے قتال کرنا جائز نہیں ۔

کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے :

مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا

(صحیح بخاری: 3166)

جس نے کو حلیف  کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو تواس (جنت )سے   چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی سکتی ہے۔

حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تو حلیف (معاہد ) کفار  کے خلاف مسلمانوں کی مدد سے بھی روک دیا  ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معاہد کفار کے خلاف غیر معاہد کفار کی مدد کی جائے۔چنانچہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِى الـدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَـهُـمْ مِّيْثَاقٌ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرٌ

(سورۃ الانفال:72)

اور اگر وہ دین کے معاملہ میں مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنی لازم ہے مگر سوائے ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ ان میں اور تم میں عہد ہو، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

 جب مسلمان ہم سے کفار کے خلاف مدد مانگیں تو ہمیں ہر صورت ان کی مدد کرنی چاہیے  مگر ایک صورت میں  ہمیں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے  ، کہ مسلمان ہم سے ان کفار کے خلاف مدد طلب کر رہے ہوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان عہد ہو  ، تو اس صورت ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم مسلمانوں کی مدد کریں ، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمیں عہد کو وفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

⑤پانچویں قسم :

کفارکی مدد نہ کرنا لیکن ان سے محبت  و الفت رکھنا ، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے ، جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں :

( لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَلَوْ كَانُـوٓا اٰبَآءَهُـمْ اَوْ اَبْنَآءَهُـمْ اَوْ اِخْوَانَـهُـمْ اَوْ عَشِيْـرَتَـهُـمْ ۚ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُـمْ بِـرُوْحٍ مِّنْهُ۔

(سورۃ المجادلۃ: 22)

آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگو ں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو کہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول :

( وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْـرَاهِيْـمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَآ اِيَّاهُۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَـهٓ اَنَّه عَدُوٌّ لِّلّـٰهِ تَبَـرَّاَ مِنْهُ ۚ اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْـمٌ)

(التوبۃ: 114)

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے، بے شک ابراہیم بڑے نرم دل تحمل والے تھے۔

مزید اللہ تعالیٰ کا یہ قول:

(يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّىْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْـهِـمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ ۙ اَنْ تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ رَبِّكُمْ…………………………رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ)

(سورۃ الممتحنہ:4)

اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان کے پاس دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ تمہارے پاس جو سچا دین آیا ہے اس کے یہ منکر ہو چکے ہیں، رسول کو اور تمہیں اس بات پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ اپنے رب پر ایمان لائے ہو، اگر تم جہاد کے لیے میری راہ میں اور میری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو تو ان کو دوست نہ بناؤ، تم ان کے پاس پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم مخفی اور ظاہر کرتے ہو، اور جس نے تم میں سے یہ کام کیا تو وہ سیدھے راستہ سے بہک گیا۔اگر وہ تم پر قابو پائیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی سے دراز کریں اور چاہتے ہیں کہ کہیں تم کافر ہو جاؤ۔نہ تمہیں تمہارے رشتے ناطے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن نفع دیں گے، وہ (اللہ) تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بیر ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ مگر ابراھیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں تمہارے لیے معافی مانگوں گا اور میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی بات کا مالک بھی نہیں ہوں، اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

آپ غور کیجئے کہ پوری سورۃ الممتحنہ  کفار کے ساتھ لگاؤاور محبت  کے حرام ہونے پر ہےاور ساری سورۃ ممتحنہ کا موضوع کفار کے ساتھ نفرت و عداوت  اور کسی قسم کی محبت نہ رکھنے پر ہے ،اگرچہ وہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ قریب ہی کیوں نہ ہوں ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس بات  پر مہر لگا دی کہ یہ فعل  کسی صورت جائز نہیں ہے ،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ قَدْ يَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ)

(سورۃ الممتحنہ :13)

اے ایمان والو! اس قوم سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ تو آخرت سے ایسے نا امید ہو گئے کہ جیسے کافر اہلِ قبور سے نا امید ہو گئے۔

 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آیت کی وعید کے زمرے میں شامل ہونے سے بچائے۔آمین