خارجی کون سائٹ

تکفیری وخارجی کون؟

خارجی کون سائٹ
💥💥تکفیری وخارجی کون؟؟ 💥💥

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

گزشتہ چند عشروں سے امت مسلمہ بدترین دہشت گردی کی زد  میں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک ترقی کی سفر کے بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہیں ، مگر قابل افسوس تو یہ ہے کہ جہاں یہ خود دہشت گردی کا شکار ہے وہاں دہشت گردی کے لیبل بھی انہی پر ہیں۔

غور و خوض کے بعد دیکھا جائے تو اس ساری صورتحال کا ذمہ دار بڑی حد تک خود مسلمان ہیں، کیونکہ حقیقی دین سے دوری اور کتاب وسنت کی اصل روح سے ناواقفیت نے مسلمانوں کو اس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ امت مسلمہ چونکہ پہلے ہی سے مختلف گروہوں اور مسالک میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اور شدت پسند، مسلح دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے مزید بھی نفرتوں اور عداوتوں کا شکار ہوگئی ہے ۔ مسلمان ، مسلمان پر کفر اور ارتداد کے فتوے لگاکر انہیں قتل کرنے پر تیار ہوجاتا ہے۔

یہ بات بڑی واضح ہے کہ اس ساری صورتحال کی وجہ تکفیری وخارجی سوچ ہے، کیونکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اسی وقت قتل کرنے پر تیار ہوتا ہے، جب وہ اسے کافر سمجھنے لگ جاتا ہے ، تب وہ اسے مرتد کے زمرے میں لاکر انکے جان ومال کو حلال سمجھ کر اس انتہائی شنیع اقدام پر تیار ہوجاتا ہے۔  لہذا منہج تکفیر کو اس صورتحال میں کلیدی کردار حاصل ہے، جو کہ حقیقی دین اسلام سے کوسوں دور ہے، بلکہ نبی کریم ﷺ نے اس تکفیری و خارجی سوچ کے فتنے سے بڑی شدت کے ساتھ ڈرایا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے تو یہ کلمہ ان میں سے کسی ایک پر ضرور لاگو ہوگا۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دوران جنگ قتل کر دیا ، جس نے قتل ہونے سے پہلے کلمہ پڑھا ، جس پر آپ ﷺ نے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : اے اسامہ ! قیامت والے دن جب اللہ کے ہاں یہ اپنا کلمہ پیش کرے گا تو تم اس کا کیسے سامنا کرو گے ؟

ان جیسی بے شمار صحیح احادیث مبارکہ آپ ﷺ سے مروی ہیں ، جس میں مسلمان کے حرمت و ناموس کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے اور اس حرمت کو پامال کرنے والی تکفیری سوچ و فکر کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جتنی بھی شدت پسند دہشتگرد مسلح تنظیمیں نمودار ہوتی ہیں، انکی سوچ وفکر و نظریات میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔  اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز نئے نئے نام سننے کے باوجود شدت پسند تحریکیں  تحریک طالبان، القاعدہ ، جبھہ نصرہ، اور بالآخر داعش تک کا سفر کرنے والی تمام دہشت گرد ، شدت پسند تکفیری گروہوں  میں ایک ہی سوچ اور ایک ہی منہج کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔  

یہ سب تکفیری وخارجی نظریے اور منہج کے حامل گروہ ہیں ، جسکا سادہ الفاظ میں مطلب یہ کہ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہ سمجھے، دین اسلام کے وسیع مفہوم کو محدود، مخصوص مسائل کا نام دے کر تشدد کی راہ اپنا لیتے ہیں ۔ 

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، آپ ﷺ نے اپنی امت کو جیسے ہر آنے والے شر سے خبردار فرمایا : اسی طرح آپ ﷺ نے فتنہ خوارج سے بھی متنبہ کیا اس کی علامات بتلائی، اور انکے خطرناک عزائم سے خبردار فرمایا۔ ان کے  بارے نبی کریم ﷺ سے بے شمار احادیث روایت کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکا شر اور نقصان اسلام کیلئے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور ان خوارج کے مابین گھمسان کی جنگیں لڑی گئی جس میں ان خوارج کی کثیر تعداد ہلاک ہوئی ۔ 

اس سوچ کی نشر واشاعت میں اکابرین وزعماء تحریک سید قطب  کو کلیدی کردار حاصل ہے، متشدد، بیانات و تصنیفات کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں کے اذہان کو خراب کیا اور تشدد کی راہ دکھائی  اور یوں مصر میں تکفیر کی تحریک کا آغاز اخوانی تحریک کے رہنما سید قطب کی تحریروں اور بیانات سے ہوا۔ سید قطب جو کوئی عالم دین نہ تھا بلکہ ایک ادیب اور شاعر تھا ، جس نے اسلامی عقائد کو توڑ مروڑ کر اسلامی  معاشروں اور سوسائٹیز پر کفر کے فتوے لگا کر فتنہ تکفیر کی بنیاد ڈالی ،

سید قطب کے بارے میں ایک اخوانی عالم دین یوسف القرضاوی کہتے ہیں :
”اس مرحلے میں سید قطب کی وہ کتابیں سامنے آئیں، جو سید قطب کے فکر کے آخری مرحلے کی نمائندگی کر رہی تھیں اور ان کتابوں میں اسلامی معاشروں کی تکفیر، نظام اسلامی کے قیام کی دعوت کو مؤخر کرنا اور فقہ اسلامی کی تجدید، تشکیل اور اجتہاد کے احیاء کی دعوت کو مقدم کرنا مترشح ہوتا ہے۔ اسی طرح سید قطب کی یہ کتابیں اسلامی معاشروں سے شعوری علیحدگی اور اپنے کے علاوہ سے قطع تعلقی کی دعوت دیتی ہیں…” اور یہ تمام افکار ان کی تفسیر ‘فی ظلال القرآن’ کے دوسرے ایڈیشن میں وضاحت سے موجود ہیں۔

(أولیات الحرکة الاسلامیة : ص ١١٠)

شیخ ابو حسام الدین طرفاوی نے بھی اپنی کتاب ‘الغلو فی التکفیر’ میں سید قطب کو تکفیری فکر اور تحریک کا حقیقی بانی قرار دیا ہے۔ 

علامہ البانی رحمہ اللہ نے سید قطب کے بارے کہا:
“اسکو نہ تو دین اسلام کے اصولوں کا علم تھا اور نہ ہی فروعات کا اور وہ دین اسلام سے منحرف تھا “۔ 

انکے علاوہ بیسیوں علماء کرام نے اس فکر کی ترویج میں سید قطب کا ہی نام سر فہرست ذکر کیا ہے۔ نظریہ تکفیر کے علاوہ یہ شخص کئی ایسے غلط نظریات کا حامل بھی تھا، جن میں سے اختصاراً درج ذیل ہے؛ 

جلیل القدر صحابہ کرام پرطعن، انبیاء کے لیے غیر مناسب کلمات کے استعمالات، وحدت الوجود کا قائل ہونا ، حلول کے عقیدے کے مطابق قرآنی آیات کی تفسیر ، صفات باری تعالی میں تحریف، مسلمان معاشروں کی تکفیر، مسئلہ جبر میں جبریہ کی تقلید، کلمہ توحید کی غلط تفسیر، عقیدے میں خبر واحد بلکہ خبر متواتر کابھی انکار، قرآن کو اللہ کی مخلوق قرار دینا، میزان کا انکار، اشتراکیت کا قائل ہونے، روح کو ازلی قرار دینے، بتوں اور قبر پرستی کے شرک کو شرک اکبر نہ سمجھنا، رؤیت باری تعالی، صفت ید، صفت وجہ [ید سے مراد ہاتھ اور وجہ سے مراد چہرہ  ہے جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہیں اور ان کو ہمارے اعضاء کے ساتھ تشبیہ دینا حرام ہے  اللہ تعالی کےہاتھ اور چہرہ ویسا ہی جیسا اس کی شان کے لائق ہے ] اور استواء علی العرش کی باطل تاویلات پیش کرنا، صفت کلام سے مراد اللہ کا ارادہ لینا، نبوی معجزات کی توہین اور عقیدہ الولاء و البراء میں غلو کرنا و دیگر غلط نظریات و افکار شامل ہے۔ سید قطب کے ایسے عقائد کی ایک کتاب “سید قطب اور عقیدہ و منہج ” 

مصر میں تکفیر کا دوسرا مرحلہ ‘جماعت المسلمین’ سے شروع ہوا جنہیں’جماعة التکفیر والھجرة‘ کا نام دیا گیا۔ اس جماعت کی ابتداء حسن البناء کی قائم کردہ جماعت ‘الاخوان المسلمون‘ کے ان اراکین سے ہوئی جنہیں حکومت مصر کی طرف سے پابند سلاسل کیا گیا، بعد میں انجینئر علی اسماعیل، شکری مصطفی، سے لیکر ماہر عبد اللہ زناتی نے اس فکر کی احیاء میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس جماعت کے بنیادی عقائد میں تکفیر اور ہجرت شامل ہے۔ تکفیر کے اصول کے تحت یہ ان حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔ یہ حکمرانوں کے علاوہ ان مسلمان معاشروں کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو اپنے حکمرانوں کے فیصلوں پر راضی ہوں یا انہیں ووٹ دیں یا کسی طرح سے بھی ان کے ساتھ تعاون کریں۔ یہ ان علماء کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے مسلمان حکمرانوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ یہ جماعت تمام مسلمانوں کے لیے اپنے امام سے بیعت کو واجب قرار دیتی ہے جس مسلمان تک ان کے امام کی دعوت پہنچ جائے اور وہ اس کی بیعت نہ کرے تو اس مسلمان کی بھی وہ تکفیر کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ان کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد نکل جائے تو وہ بھی ان کے نزدیک مرتد اور واجب القتل ہے۔ اپنے ہجرت کے اصول کے تحت انہوں نے تمام اسلامی معاشروں کو دور جاہلیت کے معاشرے قرار دیا اور ان سے قطع تعلقی کا حکم جاری کیا ۔ اس جماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ موجودہ اسلامی معاشروں میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں ہے کیونکہ یہ جاہلی معاشرے ہیں اور جاہلی معاشرے کو اللہ کے رسول نے ایمان کی دعوت دی لہذا ان مسلمان معاشروں کو بھی مکہ کے جاہلی معاشرے پر قیاس کرتے ہوئے صرف ایمان کی دعوت دینی چاہیے۔ اس جماعت کے بعض اکابرین کو پھانسی چڑھا دیا گیا، بعض نے اپنے افکار سے رجوع کر لیا اور بعض مختلف علاقوں اور بلاد اسلامیہ میں منتشر ہو کر اپنی  یہ سوچ و فکر پھیلانے لگ گئے۔

(الموسوعة المیسرة ‘ جماعات غالیة ‘ جماعة التکفیر والھجرة سے مختلف اقتباسات)

اسکے بعد اس فکر کے لوگ باہمی انتشار اور افتراق کا شکار ہوتے چلے گئے اور روس کے خلاف جہاد 1986 میں ایمن الظواہری اور انکی جماعت “مصری اسلامک جہاد” کے اراکین نے افغانستان کا رخ کیا اور وہاں اپنی اس زہریلی فکر و نظریات کے فروغ کے کھلے مواقع تھے۔
اور افغانستان میں دنیا بھر سے اخوانی فکر کے حاملین کو اکھٹا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، چونکہ اسامہ بن لادن مالی لحاظ سے ایک مضبوط بیک گراونڈ رکھتا تھا، لہذا اسکے ہاتھوں القاعدہ کی بنیاد ڈالی، اور پھر یہاں بیٹھ کر انہوں نے دنیا بھر میں اپنی مسلح کاروائیوں کو جاری رکھا ، اس دوران اپنی تکفیری و اخوانی فکر کی ترویج و اشاعت کا کام بھی کرتا رہا، یہاں تک کہ طالبان کی حکومت بنی اور پھر 9/11 کو امریکہ پر حملے کروا کر طالبان کی حکومت ختم کرنے کے باعث بنے ۔

اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی شخص چند مخصوص فقہی مسائل کی بنیاد پر سلفی نہیں کہلایا جاتا ، یا صرف رفع الیدین، امین بالجہر ماننے سے اہلحدیث نہیں ہوتا ، بلکہ سلفی منہج اور مسلک اہلحدیث ایک مکمل منہج و عقیدہ کا نام ہے، جس کو فالو کرنے والے کو سلفی کہا جاتا ہے۔

اسی لئے داعش اور القاعدہ و دیگر مسلح تنظیموں جیسی اخوانی تکفیری تحریکوں کے سربراہان سب کے سب رفع الیدین کیا کرتے ہیں مگر سلفی علماء انہیں ہرگز سلفی قرار دینے پر تیار نہیں، بلکہ یہ خود سلفی منہج کو اپنی تکفیری منہج کے سامنے بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سلفی حکومت سعودی عرب کی سب سے زیادہ مخالفت کرتے ہیں ، اور انکے حکمرانوں کو مرتد قرار دیتے ہیں۔

تو اس ساری صورتحال کی وجہ فتنہ تکفیر ہے ، جو ان تمام دہشت گرد اخوانی تنظیموں میں پایا جاتا ہے، جوکہ تحریک اخوان المسلمین کا بویا ہوا بیج ہے، جو کہ آج ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

قارئین کرام حیران ہونگے کہ اخوانی تحریک کے سربراہ سید قطب کی کتاب ” فی ضلال القران ” کو منہج تکفیر میں ایک اعلی مقام اور مرجعیت حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ عبداللہ عزام، اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری، ابوبکر بغدادی ، گلبدین حکمت یار ، مسعود اظہر ، ابو محمد العدناني ، أبو عمر الشيشاني جیسے جہادی سوچ رکھنے والے اپنی سوچ کی مرجع سید قطب کی کتاب کو قرار دیتے ہیں ، اور اس کتاب کی خاص تعریف کرتے ہیں، بلکہ کئی ایسی تصاویر منظر عام پر آئی ہے کہ جن میں یہ مذکورہ شخصیات خرافات و غلط نظریات سے بھرپور اس کتاب کا مطالعہ کرتے نظر آتے ہیں ۔
جبکہ دوسری طرف دنیا بھر میں اپنے آپ کو سیاسی اخوانی کہنے والے پاکستان میں جماعت اسلامی ، مصر میں جماعت الاخوان، افغانستان میں حزب اسلامی و دیگر تنظیمیں سید قطب کو اپنا ایک عظیم لیڈر ورہبر سمجھتی ہیں، اور انکے مخصوص نظریات وافکار سے نہ صرف متاثر ہیں بلکہ انہیں عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

ان تمام ثبوتوں اور قرائن سے علم الیقین ہوجاتا ہے کہ حاکمیت کا غلط مفہوم جسے سید قطب نے بیان کیا ، شدت پسند تحریکوں کے وجود کے بنیادی پتھروں میں سے ایک ہے، یہی وہ خارجی فکر ہے جس نے ان جماعتوں کو مسلم معاشرے کی تکفیر اور پھر انکے خلاف ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کیا، اور اس انتہائی سٹیج پر لاکر کھڑا کردیا کہ جس پر یہ لوگ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہیں سمجھتے۔

▪️ یہ بات ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ فتنہ تکفیر کی جڑ اخوانی فکر ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شدت پسند تحریکوں کے سربراہان اس فکر کے متبع نظر آتے ہیں ، اگرچہ اس فکر کو عملی جامہ پہنانے میں یہ سب مختلف ہیں ، کچھ زیادہ ہی متشدد جبکہ کچھ کم متشدد بن جاتے ہیں ، مگر سب کی سوچ اور فکر ایک ہوتی ہیں۔
داعش جیسی سفاک دہشت گرد تنظیم جس نے اپنے مخالف کو اذیت ناک موت دینے میں کوئی بھی طریقہ نہیں چھوڑا، آگ میں زندہ جلانے سے لیکر پانی میں ڈبونے، ٹینک کے نیچے لانے، گردنوں پر 20 ہزار وولٹ بجلی کے کیبل باندھ کر کرنٹ سے مارنے، اور ذبح کرنے تک انہوں نے اپنا متشدد نظریہ دنیا کے سامنے رکھا، اور پھر یہی داعش عراق اور شام میں دیواروں پر سید قطب کے متشدد نعرے درج کرکے دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے پیروکار ہیں۔
مگر اس کے باوجود اغیار کی کوشش ہوتی ہے کہ سلفیوں کو بدنام کیا جائے ، دنیا بھر میں پرامن ،اعتدال پسند، کتاب وسنت پر مبنی دعوت کا راستہ روکا جائے، اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے کہ یہ شدت پسند تحریکیں سلفی ہیں۔
مگر جب تک ہم مسلمان  زندہ ہیں منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کا دفاع کرتے رہینگے، اور نہ صرف مخالفین کے غلط پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینگے بلکہ تمام ثبوتوں کے ساتھ انکی حقیقت دنیا پر عیاں کرینگے۔ ان شاء اللہ ۔

و ما علینا الا البلاغ




5555555

کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام

5555555

کفار کی مدد کی چند صورتیں اور ان کے احکام

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اپنی کتاب نواقض الاسلام میں آٹھویں ناقض اسلام یہ بیان کرتےہیں کہ:

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مدد کرنا اور ہر مصیبت میں ان کے کندھے سے کندھے ملا کر  کھڑے ہونا ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

يَآاَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّه مِنْـهُـمْ   اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ

(سورۃ المائدۃ 51)

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا۔

اور شیخ صالح بن فوزان رحمہ اللہ اس کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے یہاں کفارکے ساتھ  دوستی کی ایک قسم  ”مظاہرہ“ پر بات کی ہے۔ وگرنہ دوستی کی تو کئی ایک قسمیں ہیں۔مثلاً دلی محبت، غیر مسلموں کو مسلمانوں پر ترجیح دینا ، ان کی مدح و تعریف کرنا  اور اس جیسی اور بھی کئی قسمیں ہیں ،حالانکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کفار سے نفرت و دشمنی رکھنا ،اور ان سے براءت کا اعلان کرنا مسلمانوں پر واجب کیا ہے  ۔اور اسی کو اسلام میں  ”الولاء والبراء“ اور”الموالاۃ “کا نام دیا جاتا ہے ۔

مسلمانوں کے خلاف کفار و مشرکین کی مددکرنےکی کچھ صورتیں ہیں اور سب کے علیحدہ علیحدہ احکام ہیں:

پہلی قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد ان کے کفر و شرک اور گمراہی کی  محبت کی وجہ سے کرنا تواس قسم کے شخص کے دائرہ اسلام سے خارج ہونے میں  کوئی شک نہیں ۔چنانچہ جو یہ کام کرے گا وہ کافر ہو جائے گا اورانہی کے متعلق اللہ رب العزت کا فرمان ہے: (فَاِنَّه مِنْـهُـمْ)۔

دوسری قسم :

مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد اپنی خوشی سے  نہیں کرتا بلکہ اسے اس کام پر مجبور کیا گیا ہے  اور وہ کفار سے  نفرت کرتا ہے۔اور اس کے دل میں ڈر بھی ہے کہ کہیں میں دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے عمل  کا ارتکاب نہ کر بیٹھوں ،اور وہ وہاں سے ہجرت کی استطاعت بھی نہیں رکھتا تو ایسا شخص اس وعید میں شامل نہیں ہے اور اس کی مثال بدر میں کفار کے ساتھ حاضر ہونے والے ان مسلمانوں کی ہے کہ مشرکین مکہ نے انہیں مسلمانوں کے خلاف نکلنے پر مجبور کیا تھا اور انہیں نکلنا پڑا ۔حالانکہ ان کے دل  تو صرف مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے تھے اور کائنات میں ان کے نزدیک مبغوض ترین مخلوق مشرک تھے۔ پھر بھی اللہ تعالی نے ان مسلمانوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں ہجرت  کرنے سے کون سی چیز آڑے رہی کہ انہوں نے ہجرت نہ کی اور مشرکین مکہ کے ساتھ رہنا پسند کیا۔

لیکن جو شخص ہجرت نہیں  کرتا   حالانکہ وہ ہجرت کی استطاعت بھی رکھتا ہے  اور وہ مشرکین کے ساتھ  رہتا ہے  اور وہ (مشرکین) اس کو زبردستی اس کو مسلمانوں کے خلاف قتال   پر لے جاتے ہیں  ، تو یہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے ۔

لیکن اگر وہ ہجرت کی استطاعت نہیں رکھتے تھے تو ان پر ملامت نہیں اور وہ اس وعید میں شامل نہیں ہیں۔کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ:

 (لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا)

(سورۃ البقرہ 286)

اللہ کسی کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتا ۔

تیسری قسم :

جو شخص مسلمانوں کے خلاف مشرکین و کفار کی مدد کر تا ہے  ، اور وہ اپنی مرضی سے کر رہا ہے اس پر اس کو کسی نے مجبور بھی نہیں کیا  حالانکہ وہ ان کفار کے دین سے نفرت بھی کرتا ہے ، تو یہ شخص کبیرہ گناہوں میں سے ایک کبیرہ گنا ہ کا مرتکب ہے  ،اور یہ کفر میں واقع ہو رہا ہے ۔

④چوتھی قسم :

کوئی شخص کفار کی مدد معاہد یا ذمی کفار کے خلاف کرے   تو یہ جائز نہیں ہے حرام ہے ، اوریہ اس لئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے معاہدے کو نقصان پہنچے گا ، اور جن کفار سے معاہدہ ہوتو کسی مسلمان کے لئے ان سے قتال کرنا جائز نہیں ۔

کیونکہ نبی مکرم ﷺ کا فرمان ہے :

مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا

(صحیح بخاری: 3166)

جس نے کو حلیف  کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو تواس (جنت )سے   چالیس سال کی مسافت سے محسوس کی سکتی ہے۔

حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تو حلیف (معاہد ) کفار  کے خلاف مسلمانوں کی مدد سے بھی روک دیا  ، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معاہد کفار کے خلاف غیر معاہد کفار کی مدد کی جائے۔چنانچہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِى الـدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَـهُـمْ مِّيْثَاقٌ ۗ وَاللّـٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْـرٌ

(سورۃ الانفال:72)

اور اگر وہ دین کے معاملہ میں مدد چاہیں تو تمہیں ان کی مدد کرنی لازم ہے مگر سوائے ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ ان میں اور تم میں عہد ہو، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔

 جب مسلمان ہم سے کفار کے خلاف مدد مانگیں تو ہمیں ہر صورت ان کی مدد کرنی چاہیے  مگر ایک صورت میں  ہمیں ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے  ، کہ مسلمان ہم سے ان کفار کے خلاف مدد طلب کر رہے ہوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان عہد ہو  ، تو اس صورت ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم مسلمانوں کی مدد کریں ، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمیں عہد کو وفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

⑤پانچویں قسم :

کفارکی مدد نہ کرنا لیکن ان سے محبت  و الفت رکھنا ، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے منع کیا ہے ، جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں :

( لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَلَوْ كَانُـوٓا اٰبَآءَهُـمْ اَوْ اَبْنَآءَهُـمْ اَوْ اِخْوَانَـهُـمْ اَوْ عَشِيْـرَتَـهُـمْ ۚ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الْاِيْمَانَ وَاَيَّدَهُـمْ بِـرُوْحٍ مِّنْهُ۔

(سورۃ المجادلۃ: 22)

آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگو ں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں گو کہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے کے لوگ ہی کیوں نہ ہوں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول :

( وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْـرَاهِيْـمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَآ اِيَّاهُۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَـهٓ اَنَّه عَدُوٌّ لِّلّـٰهِ تَبَـرَّاَ مِنْهُ ۚ اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْـمٌ)

(التوبۃ: 114)

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا کرنا ایک وعدہ کے سبب سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے، بے شک ابراہیم بڑے نرم دل تحمل والے تھے۔

مزید اللہ تعالیٰ کا یہ قول:

(يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّىْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْـهِـمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ ۙ اَنْ تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ رَبِّكُمْ…………………………رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ)

(سورۃ الممتحنہ:4)

اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان کے پاس دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ تمہارے پاس جو سچا دین آیا ہے اس کے یہ منکر ہو چکے ہیں، رسول کو اور تمہیں اس بات پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ اپنے رب پر ایمان لائے ہو، اگر تم جہاد کے لیے میری راہ میں اور میری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو تو ان کو دوست نہ بناؤ، تم ان کے پاس پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم مخفی اور ظاہر کرتے ہو، اور جس نے تم میں سے یہ کام کیا تو وہ سیدھے راستہ سے بہک گیا۔اگر وہ تم پر قابو پائیں تو تمہارے دشمن ہو جائیں اور تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی سے دراز کریں اور چاہتے ہیں کہ کہیں تم کافر ہو جاؤ۔نہ تمہیں تمہارے رشتے ناطے اور نہ تمہاری اولاد قیامت کے دن نفع دیں گے، وہ (اللہ) تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور جو تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے۔بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بیر ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ مگر ابراھیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں تمہارے لیے معافی مانگوں گا اور میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی بات کا مالک بھی نہیں ہوں، اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

آپ غور کیجئے کہ پوری سورۃ الممتحنہ  کفار کے ساتھ لگاؤاور محبت  کے حرام ہونے پر ہےاور ساری سورۃ ممتحنہ کا موضوع کفار کے ساتھ نفرت و عداوت  اور کسی قسم کی محبت نہ رکھنے پر ہے ،اگرچہ وہ مسلمانوں کے سب سے زیادہ قریب ہی کیوں نہ ہوں ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس بات  پر مہر لگا دی کہ یہ فعل  کسی صورت جائز نہیں ہے ،چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

(  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ قَدْ يَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحَابِ الْقُبُوْرِ)

(سورۃ الممتحنہ :13)

اے ایمان والو! اس قوم سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ کا غضب ہوا وہ تو آخرت سے ایسے نا امید ہو گئے کہ جیسے کافر اہلِ قبور سے نا امید ہو گئے۔

 اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آیت کی وعید کے زمرے میں شامل ہونے سے بچائے۔آمین




کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں

کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں

000000

کفار سے دوستی کی جائز اور ممنوع صورتیں!

محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی کتاب نواقض اسلام کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد بن علی المشیقح نے اپنی کتاب “اطایب الزھر ” میں کفار سے دوستی اور محبت کے موضوع پر درج ذیل بحث رقم کی ہے :

اہل علم کے نزدیک ”ولاء“ اور ”تولی“ کے درمیان فرق کرنے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس میں دوقسم کے اقوال منقول ہیں:

1۔کچھ علماء نے دونوں کو ہم معنی قرار دیا ہے۔

2۔جبکہ کچھ علماء نے ولاء اور تولی کے درمیان فرق کیا ہے۔

چنانچہ ﴿يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ﴾ میں لفظ”ولاء”اور﴿وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّه  مِنْـهُـمْ﴾ میں لفظ”تولی”کے درمیان فرق یہ بیان کرتے ہیں کہ ولاء تولی سے عام ہے “ولاء” یعنی دوستی کرنا ممنوع ہے لیکن”مخرج عن الملۃ “عمل  نہیں جبکہ اس کے مد مقابل “تولی” یعنی دلی دوستی رکھنا اور ان کے دین پر راضی ہونا “مخرج عن الملۃ “عمل ہے۔کیونکہ اس ضمن میں آنے والی آیات، الولاء اور تولی پر دی گئی وعید  میں فرق کرتیں ہیں ۔

مزید یوں سمجھ لیجیے کہ پہلے قول میں مطلق طور پر کفار سے دوستی کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل آیات سے واضح ہے ؛

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِـرِيْنَ اَوْلِيَـآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّـٰهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِيْنًا 

(النساء 144)

اے ایمان والو! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ، کیا تم اپنے اوپر اللہ کا صریح الزام لینا چاہتے ہو۔

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَـهُوْدَ وَالنَّصَارٰٓى اَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُـمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّـهُـمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٝ مِنْـهُـمْ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِيْنَ

(سورۃ المائدۃ 51)

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے تو وہ انہیں سے ہے، اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 

اور دوسرا قول کہ اس وعید میں کچھ اضافہ پایا جاتا ہے کہ ایسی دوستی کرنے والا (مسلمان) انہیں (کفار) میں سے ہو جائے گا ۔جیساکہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے ؛

﴿ وَمَن یَتَوَلَّھُم مِّنکُمْ فَاِنَّہُ مِنْھُم ﴾

سو آئیے اب ہم “الولاء” پر بات کرتے ہیں ؛

ولاء یعنی کفار کے ساتھ دوستی کرنے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے کچھ کفر ہیں  اور کچھ فسق ہیں  جو کہ ذیل میں بیان کی جائیں گی:

کفار  کے ساتھ دوستی  کی صورتیں:

① کفار سے محبت :

کفار سے محبت کرنا قطعی طور پر حرام ہے اور اگر اس محبت کا باعث اور وجہ ان کفار کے دین سے محبت ہو جو کہ کفر و فسق اور اللہ کے ساتھ شرک پر مبنی ہے تو یہ محبت دین اسلام سے خارج کر دینے والی قرار پائے گی ۔

اور اگر معاملہ ایسا نہیں ہے یعنی کفار سے صرف بظاہر محبت ہے  تب بھی یہ حرام ہے، بالکل بھی جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں پر کافروں کے ساتھ بغض رکھنا واجب ہے۔

جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ اِبْـرَاهِـيْمَ وَالَّـذِيْنَ مَعَه  ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِـمْ اِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّهِۖ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّـٰى تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَحْدَه۔

(  الممتحنۃ :4 )

بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اوربغض ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ۔

علاوہ ازیں اس قسم سے طبعی محبت کو استثناء حاصل  ہے  کیونکہ اس پر انسان کو ملامت نہیں کیا جا سکتا ،مثلاً ایک مسلمان کسی کافر سے، بیٹا، بیوی یا کوئی اور رشتہ ہونے کی وجہ سے محبت کرتا ہے، اس سے اچھا برتاؤ رکھتا ہے، اس سے صلہ رحمی کرتا ہے۔  تو اس پر ملامت نہیں۔

②  مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو دلی دوست بنانا:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ

(آل عمران: 118)

اے ایمان والو! اپنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہ بناؤ ۔

یعنی (مسلمانوں)کے علاوہ کفار میں سے کسی کو اپنا دلی دوست نہیں بنانا کہ وہ آپ کے ہر راز سے واقفیت حاصل کر سکے لہذا یہ دوستی بھی حرام ہے ۔

جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ مقام بدر کی جانب روانہ ہوئے، راستے میں حرہ مقام پر پہنچے تو ایک شخص نے ملاقات کی جو کہ شجاعت اور بہادری میں بڑا مشہور تھا صحابہ کرام اسے دیکھتے ہی خوش ہو گئے وہ شخص رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگا: میں آپ کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لئے حاضر ہوا ہوں تاکہ کچھ حاصل کر سکوں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے؟ اس نے کہا ؛ نہیں! سو آپ ﷺ نے فرمایا : واپس لوٹ جاؤ کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لیتا۔

(صحیح مسلم: 1817)

معلوم ہوا کہ اپنی راز داری والی خفیہ باتوں یا خفیہ معاملات میں کسی کافر کو شامل کرنا ہر گز جائز نہیں ہے۔

③ کفار سے مشابہت اختیار کرنا:

کفار کے ساتھ ایسی چیزوں میں مشابہت اختیار کرنا جو خاص ان کی علامات کو ظاہر کریں، چاہے وہ ان کی عادات و اطوار سے متعلق ہوں یا ان کے رہن سہن سے متعلق ہوں، قطعی طور پر حرام ہیں ۔

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

(مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ)

مسند احمد: (5114) سنن ابوداؤد ، کتاب اللباس ، باب فی لبس الشھرۃ (4031) امام البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے ۔

جس نے کسی (غیرمسلم) قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے ۔

یعنی جن چیزوں سے کفار کی پہچان یا ان کی خاصیت ظاہر ہوتی ہو ان سے بچنا ضروری ہے البتہ جوچیز ہر معاشرے میں عام ہواور کسی کی خاص نشانی یا علامت نہ ہو تو ایسی چیز کو اپنانے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا ۔ یہی شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف ہے ۔

اقتضاء الصراط المستقیم : (1/553)

④ کفار کو “السلام علیکم “کہنے میں پہل کرنا:

نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی ہے  :

 “لاَ تَبْدَؤوا اليَهُودَ وَلاَ النَّصَارَى بالسَّلامِ، وَإذَا لَقِيْتُم أحَدَهُم فى الطَّريق، فَاضْطَرُّوهُ إلى أَضْيَقِهِ”

(رواہ مسلم 2167)

تم یہودو نصاری کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو ، اور جب کسی راستے پر تمہاری ان سے ملاقات ہو جائے تو انہیں تنگ راستے کی طرف دھکیل دو (یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو کہ وہ کنارے سے ہو کر چلیں )

غیر مسلموں کو سلام کرنے میں پہل کرنا بالکل جائز نہیں کیونکہ سلام دوسرے مسلمان کے لئے حفاظت و سلامتی کی  ایک دعا ہے ، جبکہ کفار اس کے حقدار نہیں ہیں ۔

اسی لئے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

اگر کفار کا یوں حال دریافت کر لیا جائے کہ تمہاری صبح کیسی رہی  یا تمہاری شام کیسی رہی ؟ خوش آمدید ، اھلاًو سھلا ًو مرحبا جیسے کلمات کہہ دیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں انہیں کوئی دعا نہیں دی جا رہی ۔

⑤غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں پر انہیں مبارک باد دینا:

اس قسم کی بھی دین اسلام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ، قطعی طور پر حرام ہے جیسا کہ عیسائیوں کی کرسمس یا اس جیسی دیگر تقریبات میں شرکت کرنا بلکہ ان کی محافل میں شرکت کرنے والے شخص کا ایمان خطرے میں ہے کیونکہ یہ ان کے دین سے خوش ہونے کی ایک علامت ہے ۔

علاوہ ازیں انہیں دنیوی غرض و غایت سے کوئی مبارکباد پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ مثلاً تجارت میں زیادہ نفع حاصل ہونے پر، کسی گم شدہ کے واپس لوٹ آنے پر ، کسی اہم انعام کے ملنے پر وغیرہ وغیرہ ۔ یہ دو صورتوں میں جائز ہے:

پہلی صورت: مکافات عمل

بدلہ چکانے کی صورت میں، یعنی کہ انہوں نے مسلمانوں کو مبارکباد دی تو مسلمانوں نے بھی مکافات عمل میں ایسا کر دیا ۔ تو ایسا کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، نبی اکرم ﷺ بھی مشرکین کے تحفے قبول کر لیا کرتے تھے، جیسا کہ آپ ﷺ نے ایک یہودی عورت کی طرف سے بھنی ہوئی بکری  کا تحفہ بھی قبول کیا تھا ۔

(بخاری :2617)

دوسری صورت: شرعی مصلحت کے تحت

جب کوئی شرعی مصلحت پیش نظر ہو کہ ان کی تالیف قلب کی جا رہی ہو یا انہیں دین اسلام کی دعوت دی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں یہ مشروع عمل ہے ۔ جیسا کہ ایک یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک روز وہ بیمار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ۔

 صحیح بخاری : کتاب المرضی ، باب عیادۃ المشرک، (5657)

اس  طرح عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک مشرک بھائی کو دھاری دار جبہ تحفہ دیا تھا ۔

(مسلم کتاب اللباس: 2068)

⑥کفار کو مسلمانوں پر حکمران بنانا اور ایک کافر کی شخصی خدمت کرنا :

یوں سمجھ لیجیے کہ اس کا دھوبی ، اس کا باورچی یا گھر میں نوکر یا نوکرانی کسی مسلمان کو مقرر کر دیا جائے تو یہ بالکل جائز نہیں اسی طرح کسی کافر کو مسلمانوں کے معاملات  پر نگران بنانا  بھی جائز نہیں ۔

جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے : (وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّـٰهُ لِلْكَافِـرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا)

(النساء:  141)

اور اللہ تعالی کافروں کو مسلمانوں کے مقابلہ میں ہرگز غالب نہیں کرے گا۔

جبکہ یہ بات واضح ہے کہ اسلام ہمیشہ غالب ہی ہوتا ہے، مغلوب نہیں ۔

⑦ ان کو  چھوڑ دینا کہ وہ اپنے دین کے شعائر کا اظہار کرتے پھریں ، جیسے شراب پینا ، خنزیر کا گوشت کھانا ، یا ناقوس بجانا اور اس جیسے باقی شعائر ۔

کفار کے ساتھ دوستی کی کچھ اور صورتیں:

  • کفار کو دینوی معاملات میں مبارکباد دینا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
  • ان کی تیمارداری کرنا ، ان کو تحفے دینا ،یعنی  جب وہ بیمار ہو جائیں  تو ان کی زیارت کے لیے جانا، اور تحفے تحائف کو تبادلہ کرنا، یا دیگر معاملات میں ان سے حسن سلوک روا رکھنا۔ جس میں دو صورتیں گزشتہ سطور میں بیا ن کی جا چکی ہیں ۔

البتہ سلام میں پہل کرنا  کسی صورت جائز نہیں ہے ، لیکن اگر کوئی غیر مسلم سلام کہنے میں پہل کر لے تو انہیں سلام کا جواب دینے کے تین طریقے بیان کیے جاتے ہیں :

پہلی قسم :

اگر وہ سلام کو بطور بد دعا استعمال کریں تو جواب میں صرف”وعلیکم” کہا جائے گا ، جیسا کہ یہودی نبی کریم ﷺ کو (نعوذ باللہ) یوں سلام کیا کرتے تھے ؛ “السام علیکم” یعنی تمہاری موت ہو ۔

 تو آپ ﷺ ان کو جواب میں صرف “وعلیکم ” فرماتے تھے ۔

صحیح بخاری ، کتاب الادب ، باب الرفق فی الامر کلہ رقم (6024)، صحیح مسلم ، کتاب السلام ، باب البھی عن ابتداء اھل الکتاب بالسلام وکیف یرد علیھم رقم(2165)

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : جب یہودی تمہارے پاس آئیں اور تمہیں  اپنے مطابق سلام کہیں”السام علیکم ” (یعنی تمہاری موت ہو )

تو تم جواب میں کہو “علیک” (یعنی تمہاری موت ہو )۔

(صحیح مسلم:2164)

امام ابن دقیق العبد رحمہ اللہ  نے یہاں ایک نکتہ بیان کیا ہے کہ انہیں صرف “وعلیکم” یا “علیک” اس لئے کہا جاتا ہے کہ جو بھی اس کی  نیت میں ہو گا وہ اسے مل جائے گا۔ اگر اس نے کوئی غلط نیت رکھی تو وہ اسی پر ہو گی اور اگر اس نے واقعی اچھی نیت سے سلام کہی ہے تو اس کا بھی اسے اسی طرح کا جواب مل جاتا ہے ۔ لہذا دونوں صورتوں میں کسی کی حق تلفی نہیں ہے ۔

(شرح الالمام 2/296)

دوسری قسم :

اگر وہ بغیر غلطی کیے صراحتاً سلام پیش کرتے ہیں تو پھر مکافات عمل کے تحت انہیں سلام کا جواب دیا جائے ۔ یعنی جب وہ کہیں “السلام علیکم”  تو آپ اس کے جواب میں  وعلیکم السلام  کہہ سکتے ہیں۔

اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول شاہد ہے :( وَاِذَا حُيِّيْتُـمْ بِتَحِيَّـةٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْـهَآ اَوْ رُدُّوْهَا )

(سورۃ النساء: 86 )

اور جب تمہیں کوئی دعا دے تو تم اس سے بہتر دعا دو یا اس جیسی ہی کہو۔

امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں جمہور علماء کا اختلاف ہے کہ ان کو جواب دینا چاہیے یا نہیں ، الغرض اکثر محدثین نے اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ جواب دینا بہتر ہے ۔

(زادالمعاد 2/389 )

تیسری قسم:

یہ استقبال کے باقی کلمات کے متعلق ہے جیسے کسی کو خوش آمدید کہنا ، اھلا و سھلا ومرحبا کہنا وغیرہ اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا کہنا یہی ہے کہ یہود و نصاری کو ایسے کلمات کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

غیرمسلموں کے واجبات:

خرید و فروخت اور دیگر تمام معاملات میں ان کے ساتھ عدل کو ملحوظ خاطر رکھا جائے،دھوکا دہی ، اور ان کے حقوق غصب کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے ۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

“اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى وَيَنْـهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ”

(النحل 90)

بے شک اللہ انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم کرتا ہے اور بے حیائی اور بری بات اور ظلم سے منع کرتا ہے، تمہیں سمجھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ

(صحیح جامع الصغیر للالبانی)

مظلوم کی بددعا سے بچو ، کیونکہ اس (بددعا ) کے اور اللہ تعالیٰ  کے درمیان کوئی حجاب نہیں  ۔

اسی طرح انصاف کرنے کے حوالے سے مسلمانوں کو حکم باری تعالی بھی ہے:

لَّا يَنْهَاكُمُ اللّـٰهُ عَنِ الَّـذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِى الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَـرُّوْهُـمْ وَتُقْسِطُوٓا اِلَيْـهِـمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ

(الممتحنۃ: 8)

اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اس بات سے کہ تم ان سے بھلائی کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اسی طرح  ان کے مالی حقوق کا خیال رکھا جائے گا ۔

اسی طرح یہ بھی ان کا حق ہے کہ ان کو اسلام کی دعوت دی جائے  گی ،اور گاہے بگاہے انہیں ترغیب  دلائی جاتی رہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی سے واضح ہے:

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْـهُـمْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ ۚ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِـهٖ ۖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ

(النحل : 125  )

اپنے رب کے راستے کی طرف دانشمندی اور عمدہ نصیحت سے بلا، اور ان سے پسندیدہ طریقہ سے بحث کر، بے شک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے، اور ہدایت یافتہ کو بھی خوب جانتا ہے۔

اسی طرح ان کے ساتھ کیے ہوئے وعدے پورے کئے جائیں گے ، ذمی کے ساتھ ذیادتی  کرنا ، ان کی عزت  یا مال کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا  حرام ہے جائز نہیں ہے ، جب تک وہ عہد نہ توڑیں یا دھوکہ دہی  یا خیانت کا ارتکاب نہ کریں  ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

( فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَـهُـمْ ۚ)

(سورۃ التوبۃ:7)

اگر وہ قائم رہیں تو تم بھی قائم رہو۔

اگر تم ان کی طرف سے خیانت سے ڈرو  ، تو ان سے عہد توڑ دو  ، اور ان  کو بتلا دو کہ اب تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی عہد نہیں ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

 وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ اِلَيْـهِـمْ عَلٰى سَوَآءٍ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْخَآئِنِيْنَ

(سورۃ الانفال: 58)

اور اگر تمہیں کسی قوم سے دغا بازی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو اس طرح کہ تم اور وہ برابر ہو جاؤ، بے شک اللہ دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا۔

تو اس ساری تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا اور انہیں اپنا دلی دوست بنانا حرام ہے سوائے چند صورتوں کے،جن کا ذکر تفصیلاً گزر چکا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین




FGW

دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور دوراں ہے

ففتھ جنریشن وار فئیر


دنیا میں اس وقت ففتھ جنریشن وار فیئر کا دور دوراں ہے.

اس نئے، نہایت ہی خطرناک طرز جنگ کو بھارت بھی وادی کشمیر میں آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کرنے اور کچلنے کے لئے نہایت منظم انداز میں لانچ کر چکا ہے.

چند ماہ پہلے وادی میں جب بھارتی فورسز طاقت سے تحریک آزادی کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئیں تو ان کی جانب سے وادی میں ایک نئے حربے کا آغاز کیا گیا۔ کچھ لوگ دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس بھارتی سازش کا حصہ بنے یا شکار ہوئے۔  

جب قاسم کی جدوجہد کہ جس نے دہلی کو ہلا کر رکھ دیا تھا، برہان کے جذبے وادی میں آزادی کے خواب کو حقیقت کے قریب تر لا کھڑا کیا تو ایسے میں وادی کشمیر کو اپنے تسلط سے نکلتا دیکھتے ہی بھارت نے تحریک کو کمزور کرنے کے لئے کشمیری قوم کے جسموں کی بجائے انکے ذہنوں کو نشانے پر رکھ لیا اور قوم کو منتشر کرنے کے لیے ایک نیا حربہ اپنایا۔

اس نئے حربے سے بھارت نہ صرف آزادی کی تحریک کو چلنے کا منصوبہ رکھتا تھا بلکہ اس تحریک کے اہم پشتی بان اور کشمیری عوام کے دلوں کی دھڑکن، پاکستان کو بھی کشمیری مسلمانوں سے دور کرنے کو ہدف بنایا.

پاکستان کو کشمیری عوام سے جب بھارتی جبر دور نہیں کرسکا تو اس نے اس نئے حربے کا سہارا لیا.

اس مقصد کے لئے وادی میں القاعدہ اور داعش کی نمائش کا سہارا لیا گیا اور اس منصوبے میں انہیں یقینا کچھ بگڑے نوجوان بھی دستیاب ہوئے. اور انہی کے بل بوتے پر “انصار غزوۃ الہند” جیسے غیر معروف چھوٹے سے گروہ کو نہ صرف پنپنے کا موقع دیا گیا بلکہ اس کے مد مقابل تحریک سے وابستہ اور کشمیری قوم کو درست سمت میں لیجانے والے شہید قاسم و برہان کے وارثوں کو خصوصی نشانے پر رکھ لیا تاکہ اس سازش کی راہ کو صاف کیا جا سکے. اور جب تحریک کمزور ہو جائے تو آخر میں اس گمراہ فکر اور بگڑے نوجوانوں کے گینگ کو بھی ٹھکانے لگا کر کشمیریوں کو غلامی کے اندھیروں میں ایک بار پھر دھکیل دیا جائے.
اس مقصد کو پانے اور کشمیر کی خالص عوامی تحریک آزادی کو  دہشت  گردی کے ساتھ جوڑ کر متنازعہ بنانے کے لئے  انصار غزوۃ الہند کی شکل میں القاعدہ کا واویلا مچایا گیا۔

اور بھارت بہت پر امید تھا کہ جس طرح القاعدہ اور داعش نے شام اور افغانستان کے صاف و شفاف محازوں کو آلودہ کر کے عوام و مظلوم مسلمانوں میں جہاد اور فساد کے فرق کو مبہم کر دیا، اسی جیسا کشمیر میں کر پائے گا. لیکن ان کے اس حربے کو کشمیری عوام مجاہدین اور حریت قیادت نے نہ صرف یکسر مسترد کیا بلکہ مکمل اتحاد و یگانگت سے ناکام بھی بنایا۔

اپنی اس سازش کو بری طرح ناکام ہوتا دیکھ اس وقت بھارتی ایجنسیاں دوبارہ اس مردہ گھوڑے، انصارغزوۃ الہند کے جسم میں جان ڈالنے کے لئے چالیں چل رہی ہیں. 

حال ہی میں بھارتی ایجنسیوں نے ذاکر موسی اور ابو دجانہ شہید کی مختلف کالز کی ریکارڈنگ کو جوڑ کر ایک ایسا آڈیو کلپ لانچ کیا کہ جس سے وہ ذاکر موسی اور اسکے گروہ کو پھر عوام اور میڈیا میں زیر بحث لا سکیں.

آڈیوز کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک ایسا کلپ تیار کیا گیا جس میں ذاکر موسی اور دجانہ پاکستان کی دغابازیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ اس میں حقیقت کیا ہے اس سے پہلے یہ بات پھر سے سمجھ لیں کہ یہ ایک  باقاعدہ منصوبہ ہے جس کے تحت  کشمیری عوام اور مجاہدین میں  پاکستان کے متعلق  غلط فہمیوں کو پیدا کیا جا سکے۔

اگر آپ کلپ کو بغور سنیں تو آپکو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ یہ مختلف کالز کو ملا کر ایک آڈیو بنائی گئی ہے۔  جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ  بات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بیان کیا جا رہا ہے۔ اور ایسے جملے کاٹ کر نکالے گئے ہیں جو کشمیری عوام اور مجاہدین کے ذہنوں میں انتشار پیدا کریں ۔  اور اتحاد و اتفاق کی فضا کو ختم کیا جا سکے۔ اب کشمیری مجاہدین کی صفوں کے اتحاد کا ختم ہونا کس کے لیے فائدہ مند ہے یہ بات ہم میں ہر کوئی باخوبی جانتا ہے۔

یاد رکھئیے، جھوٹ اور دجل کبھی زیادہ دیر پوشیدہ نہیں رہ سکتا.

زرا سوچیے!

دجانہ اور ذاکر کی یہ کال ، دجانہ کی شہادت کے فورا بعد کیوں منظر عام پر نہ لائی گئی؟ کیا اس وقت کال نہیں تھی یا وقت موزوں نہیں تھا؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معمول کی کالز کو ریکارڈ کیوں کیا گیا۔؟  ابو دجانہ کی کالز کو ہی ریکاڈ کیوں کیا گیا؟

یہ بات تو طے ہے کہ دجانہ اور ذاکر کی موبائل کالز کو بھارتی ایجنسیوں نے ہی ریکارڈ کیا. کیونکہ اگر یہ ریکارڈنگ ذاکر گینگ نے خود کی ہوتی تو دجانہ کی شہادت کے فوری بعد جاری کرتے، اب اچانک ریلیز کا مقصد؟

اب اگر کال میں ہونے والی گفتگو پر بات کریں تو کیوں ان کا ہر آڈیو پاکستانی مجاہدین اور ان کو سپورٹ کرنے والوں کے خلاف ہی ہوتا ہے؟

الزام لگایا گیا کہ پاکستانی  مجاہدین کی لوکیشن حاصل کرنے کے بعد مخبری کرتے ہیں آڈیو میں موجود گفتگو کے مطابق دجانہ نے پاکستان والوں کو پن پوائنٹ لوکیشن نہیں بتائی تو دجانہ کی مخبری کس نے کی؟

استعمال بھارتی موبائل فون ہو رہے ہیں تو لوکیشن پاکستان کی بجائے بھارت کے پاس تو خود جارہی ہے، تو پاکستان پر الزام کیسا؟

سوال یہ ہے کہ ان کی اس مخبری کا پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان کشمیر کے لئے کیا ہے، کشمیری ہی نہیں ساری دنیا جانتی ہے.

یہ دنیا میں کشمیر کا سب سے بڑا وکیل ہے ۔ جس کی  فوج کی بڑی تعداد کشمیر کے باڈر پر تعینات ہے اور ہردن انڈین فورسز سے حالت جنگ میں ہے شہادتیں پیش کر رہی ہے۔

پاکستان، جس نے کشمیر کی حریت قیادت کو چھت مہیا کی ہے؟

جو تحریک آزادی کشمیر  کی ہر محاز پر اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

خیر بھارت کی یہ نئی چال تحریک آزادی کا ابھی تک کچھ نہیں بگاڑ سکی اور نہ آئندہ بگاڑپائے گی ان شاء اللہ ۔  

بھارت کی یہ ساری کوششیں لشکر اور حزب کی طرف نوجوانوں کا جھکاؤ روکنے، پاکستان کو بدنام کرنے ، مجاہدین کی صفوں میں انتشاز پیدا کرنے کے لیے ہیں ۔ جنہیں کشمیری اچھے سے جان چکے ہیں اور تحریک کے مخالف ہر ایجنڈے کا رد کرتے ہیں۔ کشمیریوں کی پاکستان سے محبت “لا الہ الا اللہ” کے رشتے پر ہے جو کبھی کم نہیں ہو سکتی۔ 

ہم ان نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں، جو اس بھارتی سازش کا دانستہ یا غیر دانستہ شکار ہوچکے ہیں کہ وہ اللہ سے ڈریں، کشمیری عوام کی امنگوں کو اپنائیں اور بھارتی سازشوں کو سمجھیں، تاکہ دنیا و آخرت میں عزت و کامرانی انکے حصے میں آسکے.آمین




مسلم-کون؟

مسلم کون ہے؟

بسم اللہ الرحمان الرحیم

مسلم کون ہے؟

عن أنس، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ”

(أخرجه البخاري391)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص ہماری نماز پڑھے، ہمارے قبلہ (خانہ کعبہ ) کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائےتو یہ شخص ایسا مسلم ہے کہ اس کے لئے اللہ و رسول کا ذمہ (حفاظتِ جان و مال) ہے،پس اللہ کے ذمہ کو مت توڑو۔

فقہ الحدیث:

  1. اللہ اور رسول کے ذمہ کا مطلب ہے کہ وہ شخص اللہ و رسول کی امان ، عہد اور ضمانت ہے اس کی جان و مال کی حفاظت کی جائے گی ، اسے تمام وہی  حقوق میسر ہوں گے جو عام مسلمانوں کو حاصل ہیں ، یہ علیحدہ بات ہے کہ جب وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے گا جس کی سزا موت ہے تو اسے مسلمان حاکم و قاضی قتل کرا سکتا ہے ، اسی طرح اگر وہ نواقض اسلام کا ارتکاب کرے گا تو ثبوت و اقامتِ حجت کے بعد اس کے بنیادی حقوق ختم کر دئیے جائیں گے۔
  2. اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ دین اسلام میں اعمال کا اعتبار ظاہر پر ہے ، یعنی ظاہری طور پر ارکانِ اسلام ادا کرنے والا شخص ہی مسلم ہے لہذا اس پر اسلام کے ظاہری احکام نافذ ہوں گے ، رہا مسئلہ باطنی طور پر بھی مسلم و فرمان بردار ہونا تو یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
  3. ایمان کے ساتھ اعمال بھی ضروری ہیں جب کہ مرجئہ یہ باطل عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ اعمال ضروری نہیں ہیں ، اس حدیث سے ان مرجئہ پر بھی واضح رد ہوتا ہے۔
  4. اس حدیث اور دوسرے دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نماز اسی طرح پڑھنی چاہیے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ  کرام رضی اللہ عنہم نے نماز پڑھی ہے۔
  5. اہلِ قبلہ پر اہلِ اسلام کے احکام جاری ہوں گےاِلّا یہ کہ وہ کفرِ صریح اور نواقضِ اسلام کا ارتکاب کریں، اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب کے پیروکار ، قادیانی مرزائی و لاہوری سب اہل اسلام (اہلِ قبلہ) سے خارج ، کافر اور غیر مسلم ہیں ، اس طرح کتاب و سنت اور اجماع سے جن لوگوں کا کافر و غیر مسلم ہونا ثابت ہے وہ بھی اہلِ قبلہ اور اہلِ اسلام سے خارج ہیں۔حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ



اے اہل کشمیر زرا خبردار

اے اہل کشمیر، ذرا خبردار

اے اہل کشمیر

اے اہل کشمیر، ذرا خبردار

یاد رکھیے ”حق کو کبھی بھی شخصیات، جھنڈوں اور نعروں سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ شخصیات، جھنڈوں اور نعروں کو حق (قرآن و سنت) سے پہچانا جاتا ہے”

فتنہ جب بھی سر اٹھاتا ہے تو وہ اپنا اثر ضرور رکھتا ہے،اور اس سے بچنا ہی ایک مومن کا امتحان ہوتا ہے۔
روز اول سے لیکر دین اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ کا اصلی چہرہ مسخ کرنے میں فتنہ خوارج سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہے ۔ اور یہ فتنہ ہمیشہ سے اہل اسلام اور مجاہدین کو شش وپنج میں ڈال کر مجاہدین کی سبوتاژ کرنے اور کافروں کو اسلام  اور مجاہدین پر طعن و تشنیع کا موقع فراہم کرتا رہتا ہے۔

کفار کو جب کسی علاقے میں مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو یہ خوارج ان کیلئے دفاعی ڈھال بن کر  کھڑے ہوجاتے ہیں اور وطن اور نسل پرستی کی جنگ کو ہوا دیتے ہوئے مجاہدین  کو آپس میں لڑواکر ان  کی عسکری  کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے رہتےہیں۔

لہٰذا جب انڈیا کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں ذلت و رسوائی سے دوچار ہونے لگا تو تب یہ خوارج کشمیریوں کو آپس میں لڑوانے کیلئے میدان عمل میں آ گئے اور کشمیر کی جنگ کو وطن پرستی قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے اذہان کو اپنی سازشوں کے ہتھکنڈوں میں جکڑنے کی کوشش کر رہےہیں ۔

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ پہلے حرم مکی میں جہیمان العتیبی کی شکل میں اور پھر اسکے روحانی بیٹوں القاعدہ ، ٹی ٹی پی اور ان جیسے دیگر گروہوں کی شکل میں اور پھر ان سب کی ناجائز اولاد داعش کی شکل میں اس فتنہ نے سر اٹھایا اور دنیا بھر کے مسلم ممالک کو متاثر کیا . کئی امت کے خوبرو نوجوان اسی فتنے کی نذر ہو کر دنیا و آخرت کی تباہی سے دوچار ہوئے یا ہو رہے ہیں.

داعش کی خلافت جو کہ اہل اسلام کے لئے محض ملامت اور شرمندگی سے زیادہ کچھ نہیں تھی، سمٹ چکی ہے بلکہ بکھر چکی ہے۔  بچے کھچے ” خلافت کےاندھے سپاہی” یا تو فرار ہورہے ہیں یا گرفتاری دیکر جان کی امان پانے کے پلان بنا رہے ہیں۔

اسی طرح کی صورتحال کشمیر کی ہے. سوشل میڈیا پر اس زہر خوارج کا جام پینے والے اور بھارتی سازشوں کو تقویت دینے والے چند گمراہ فکر نوجوان اس خلافت کے سپاہی بننے کے شوقین ہیں کہ جو خلافت شرعی میزان میں باطل،باغی اور فسادی قرار پاتی ہے .

اورجس کی بنیاد رکھ کر ان کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف استعمال کرنے والے اس خارجی تنظیم کے ذمہ دار خود بھی اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ ان کی بنیاد رکھنا ہماری بہت بڑی غلطی تھی کیونکہ یہ لوگ انسانیت کی ہر حد کراس کر چکے ہیں۔

لہٰذا اے اہل اسلام خصوصاً کشمیری عوام! یاد رکھ لیجئے کہ آپ کا دشمن آپ کی تمام تحریکوں اور کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور آپ کی قربانیوں کو رائیگاں قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہا ہے اور انڈیا کے ایجنٹ بن کر آپ کی اس جنگ آزادی کو نسل پرستی اور وطن پرستی کی جنگ قرار دیتے ہوئے آپ کے بت شکن اور مظبوط اعصاب کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیکن فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے، چاہے تو ان کی ان سازشوں کی بھینٹ چڑھتے ہوئے اپنی قربانیوں کا سودا کر کے اور اپنے شہداء سے غداری کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کو انڈیا کا غلام بنا لیں یا عزت و وقار کے سات اپنے شہداء کی قربانیوں کو اپنے ماتھے کا جھومر اور فخر قرار دیتے اسلام کے زیر سایہ  آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے اور شہادت کی عظیم الشان موت کو سینے سے لگاتے ہوئے ان کفار و خوارج کے منہ پر طمانچہ دے ماریں۔

یاد رکھیے! فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے!!!!!

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو کفار کے آلہ کار ان خوارج کے شر سے بچائے ، بالخصوص امت مسلمہ کے نوجوان کو فتنہ خوارج کا شکار ہونے سے محفوظ فرما ئے. اوراصلی مجاہدین فی سبیل اللہ کو خوارج کے ہر قسم کے شر و آفات سے محفوظ فرما ئے. آمین




شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے۔

شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے؟

شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے۔

بسم اللہ الرحمان الرحیم

شریعت اسلامیہ میں مرتد و زندیق کے قتل کا اختیار کس کو ہے؟

زمین پر احکام  اسلام کا اجراء اور  شریعت کا نفاذ اسلامی قوت و شوکت کا متقاضی ہے . اسی قوت و شوکت کےحصول کے لیے اسلام میں حاکم کا تقرر فرض کیا گیا ہے. مسلمان حاکم کی قوت کے بل پر زمین  پر دین قائم ہوتا ہے  اور دین کے معاملے میں کوتاہی اور جرم کرنے والوں کو اسی قوت سے روکا جاتا ہے. جرائم کی خاص تعداد،جو اللہ تعالی کی  طرف سے مقرر ہو چکی ہیں.انہیں شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں حدود کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ زنا کی حد، شراب پینے کی حد، چوری کی حد ، قتل  کی حد ۔ ان مخصوص حدود کے قیام کو فقہائے اسلام  نے  صرف حاکم کے ساتھ خاص کیا ہے۔ چنانچہ امام کاسانی رحمہ اللہ  بدائع الصنائع میں لکھتے ہیں”

“واما شرائط جواز اقامتھا فمنھا ما یعم الحدود کلھا ، ومنھا ما یخص البعض دون البعض ، اما الذی یعم الحدود کلھا فھوالامامۃ وھو ان یکون  المقیم للحد ھو الامام  او من ولاۃ الامام”

(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع)

نفاذ حدود کی شرائط میں سے کچھ شرائط سب حدود پر منطبق ہوتی ہیں اور بعض شرائط کسی حد کے ساتھ خاص ہوتی ہیں، تو جو شرط سب حدوں پر منطبق ہوتی ہے، ان میں سے ایک شرط حاکم وقت کا ہونا ہے، یعنی ان حدود کو قائم کرنے والا یا تو خود حاکم ہو گا یا وہ شخص جسے حاکم نے بطور جلاد مقررکیا ہے.

اسی طرح حدود کے علاوہ  قصاص و دیت اور قتل و ارتداد کے مسئلے میں بھی فقہائے اسلام نے سزا کے اجراء کو حاکم کے ساتھ خاص کیا ہے.

جبکہ مرتد ، اور زندیق کے قتل کے معاملہ میں اس بات کی واضح صراحت موجود ہے  کہ اس کا اجراء حاکم اور اس کے نائب کا کام ہے ، اگر کوئی عام مسلمان ایسا کر دے تو اس پر قصاص اور دیت تو نہیں لیکن “افتیات علی الامام” یعنی قانون ہاتھ میں  لینے کے سبب  اسے حاکم  کچھ تعزیری سزا دے سکتا ہے۔

امام خرشی رحمہ اللہ نے “مختصر خلیل”  کی شرح میں لکھا ہے :

“المرتد اذاقتلہ مسلم بغیر اذن الامام فانہ لا یقتل بہ ولکن یودب”

(شرح الخرشی علی مختصر خلیل ، ج 8،ص4)

جب کسی مرتد کو کوئی عام مسلمان حاکم کی اجازت کے بغیر قتل کر دے تو اسے بدلے میں قتل تو نہیں کیا جائے گا لیکن  اسے قانون ہاتھ میں لینے کی وجہ سے اسے کچھ نہ کچھ سزا دی جائے گی.               

مختصر خلیل” کی شرح “مواہب الجلیل“میں لکھا ہے :

وقال القاضی عبدالوھاب  فی شرح الرسالۃ  وعرض التوبۃ واجب علی الظاہرمن المذہب الا انہ ان قتلہ قاتل قبل استتابتہ فبئس ما صنع ولا یکون فیہ قود ولا دیۃ انتھی.

(مواھب الجلیل لشرح مختصر خلیل ، ج 8 ص373 ،دار عالم الکتب )

قاضی عبدالوھاب رحمہ اللہ رسالہ کی شرح میں فرماتے ہیں:اس سے یہی معلوم ہو رہا ہےکہ مرتد شخص پر توبہ پیش کی جائے گی،لیکن اگر کسی نے اسے توبہ کرنے سے پہلے ہی اس کو قتل کر دیا تواس نے بہت برا فعل سر انجام دیا، لیکن  اس پر کوئی  قصاص اور دیت نہیں ہو گی، ہاں حاکم اسے تعزیراً سزا دے گا۔

علامہ خطیب شربینی رحمہ اللہ  ”منہاج الطالبین “ کی شرح ”مغنی المحتاج “ میں لکھتے ہیں :

ویقتلہ الامام او نائبہ لانہ قتل مستحق للہ تعالی فکان للامام ولمن اذن لہ،

(مغنی المحتاج الی معرفۃ  معانی الفاظ المشھاج ،ج4 ، ص 181)

مرتد کو حاکم وقت یا اس کا نائب (جلاد) قتل کرے گا. کیونکہ مارنا اللہ تعالیٰ کا حق ہےاوراللہ نے اس حق کوحاکم وقت اور جس شخص کو حاکم اجازت دے، اس کے سپرد کیا ہے، 

امام ابن  قدامہ رحمہ اللہ  ”المغنی “ میں لکھتے ہیں :

فان قتلہ غیر الامام ، اساء، ولا ضمان علیہ ، لانہ محل غیرمعصوم وعلی من  فعل ذلک  التعزیر ، لاءساتہ  وافتیاتہ .

(المغنی علی مختصر  الخرقی، ج 8 ص 90)

اگر مرتد کو حاکم کے علاوہ کوئی اور قتل کردے تو اس نے غلطی کی ہے  ، پر اس پر کوئی تاوان وغیرہ نہیں کیونکہ جس کو قتل کیا گیا ہے وہ مجرم تھا، ہاں قاتل کو تعزیری سزا ضرور دی جائے گی ، کیونکہ اس کے اپنے فیصلے اور فعل میں غلطی کی ہے۔

نوٹ:

آپ نے مندرجہ بالا مضمون میں اس بات کو دلائل کی روشنی میں پرکھ لیا ہو گا کہ مرتداور زندیق کو قتل کیا جائے گا اور یہ کام صرف اور صرف حاکم وقت اور ریاست کا حق ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص  اس حد کو خود سے ادا کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرے کا امن خراب ہو گا اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا اور اسلام کسی صورت میں معاشرے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی لئے حاکم اس مرتد کے قاتل کو تعزیری سزا بھی دے گا۔

اوران دلائل سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو خوارج کسی بھی مسلم پر مرتد ہونے کا فتوی لگا کر مسلم عوام کو قتل کرتے رہتے ہیں۔ تو ان کا یہ فعل سراسر جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ مرتد کو قتل کرنا صرف اور صرف ریاست اور حاکم کا کام ہے۔ 
اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارا خاتمہ بالایمان فرمائے اور کل روز قیامت ہمیں ان خوش نصیبوں میں سے فرمائیں جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

آمین یا ارحم الراحمین




25994727_866713536861793_364562664009123730_n

امریکہ،داعش کی نرسریوں کا مالی

25994727_866713536861793_364562664009123730_n

امریکہ،داعش کی نرسریوں کا مالی

“شام ، عراق ، افغانستان اور کشمیر ایک نظر” 

پچھلے کئی ماہ سے میں ایک افغان نیوز ایجنسی “خامہ پریس” کی نیوز دیکھ رہا ہوں جہاں ہر ایک دو دن بعد یہ خبر آتی ہے کہ امریکہ نے فلاں جگہ فضائی حملے میں اتنے داعشی مار دئیے، افغان فوج نے فلاں جگہ کاروائی میں اتنے داعشی ماردئیے یہاں تک کہ ایک دن خبر آئی کہ ایک کاروائی میں 50 داعشی مارے گئے۔

ان تمام نیوز کو مدنظر رکھتے ہوئے جب میں اندازہ لگاتا ہوں تو یہ تقریبا پندرہ یا سولہ سو(1500/1600) داعشی بنتے ہیں۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کیا واقعی امریکہ نے اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ داعشی ماردئے؟؟ یقین نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کوئی صداقت ہے اسکی وجہ یہ ہیکہ دو دن پہلے نیویارک ٹائم نیوز نے ایک خبر لگائی، وہ خبر یہ ہیکہ۔ ” مارچ 2017 میں امریکہ نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں داعش کے 700 جنگجوں موجود ہیں اور اب سال کے آخر میں انہوں نے یہ دعوٰی کیا کہ ہم نے 1600 جنگجوؤں کو ماردیا ہے۔

اس خبر اور امریکہ کے متضاد دعوؤں کو دیکھ کرثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں نہ ہی داعش کے خلاف کوئی کاروائی کی ہے اور نہ ہی کسی ایک داعشی کو مارا ہے۔ بلکہ وہ ان کو وہاں مضبوط کررہا ہے اور ان کو اسلحہ دے رہا ہے۔ اور افغان اور انڈین خفیہ ایجنسیز کے ذریعے ان کو ٹریننگ دلوارا رہا ہے۔

اور جہاں وہ ان کو افغانستان میں افغان طالبان کے خلاف استعمال کررہا ہے وہاں دوسری طرف وہ ان کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے متعدد بار ٹی وی پر بیٹھ کر یہ انکشاف کیا کہ امریکہ نہ صرف داعش کو افغانستان میں مضبوط کررہا ہے بلکہ ان کو اسلحہ بھی فراہم کررہا ہے اور انکی مالی مدد بھی کررہا ہے۔

اسی طرح روس متعدد بار یہ کہہ چکا ہے کہ امریکہ شام میں داعش کے جنگجوؤں ٹریننگ اور اسلحہ و مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو شامی افواج کے چنگل سے بھی چھڑاچکا ہے جسکا انکشاف کچھ عرصہ قبل شامی حکام کی جانب سے بھی کیا گیا۔ اسی طرح نامعلوم ہیلی کاپٹرز کا داعش کے جنگجوؤں کو مختلف جگہوں پر اتارنے کے ساتھ ساتھ ان کو نامعلوم ہیلی کاپٹرز کے ذریعے اسلحہ ملنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ افغانستان میں ایسا کون ہے جو نامعلوم ہیلی کاپٹرز کے ذریعے داعش کی مدد کررہا ہے تو جواب صاف ہے کہ افغان حکومت اور امریکہ کے علاوہ ایسا کوئی بھی نہیں ہوسکتا۔ ان تمام باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اور یہ تمام باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے۔ مگر ہمارے کچھ جوشیلے اور دین سے محبت کرنے والے نوجوان دین کے نام پر امریکہ کے لئے استعمال ہورہے ہیں اور ان کو اس بات کا نہ اندازہ تک نہیں ہے۔ ان للہ و انا الیہ راجعون

لہذا ہمیں خود بھی ان باتوں کو سمجھ کر لوگوں کو داعش کی حقیقت کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ داعش کو استعمال کرکے امریکہ نے بڑی حد تک عراق و شام میں کامیابی حاصل کی اور اب وہ یہ کھیل افغانستان میں کھیل رہا ہے جہاں وہ داعش کو نہ صرف افغان طالبان کے خلاف استعمال کررہا ہے بلکہ ان کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرکے اور ان کو ٹریننگ دے نہ صرف پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال کررہا ہے۔ اور وہاں بھی ان کو اپنے مقاصد میں کامیابی مل رہی ہے۔ اور یہ سب دیکھ کر اب انڈیا یہی کھیل داعش اور القاعدہ کی صورت میں کشمیر میں کھیلنا چاہتی ہے۔ لہذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر پلیٹ فارم پر اس کے خلاف کام کریں لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کریں اور کفار کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین




آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

در حقیقت "تکفیری" کون کہلاتا ہے؟

تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

درحقیقت ” تکفیری ” کون کہلاتا ہے؟ 

سوال :

آج کل عموما بہت سے گروہ ایک دوسرے کو تکفیری قرار دیتے نظر آتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “تکفیری ” کس شخص کو کہا جاتا ہے اور اصل “تکفیری لوگ ” کون ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں تو بظاہر محض فکری اختلافات کی بناء پر الزام تراشیاں جاری ہیں اور تکفیری وخارجی کے اتہامات کی بھر مار ہے ؟

الجواب بعون الوھاب

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

ہر مسلمان جب بھی وہ تلاوت قرآن کا سر انجام دیتا ہے یا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کسی نا کسی کی تکفیر ضرور کرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جن کو کفر کہا گیا ہے۔ مگر کسی عمل کے کفریہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسکا ہر ہر مرتکب کافر و مرتد قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ کہ قرآن و احادیث کے مجموعے اور فہم سلف سے یہ بات عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ نہایت قبیح کبیرہ گناہوں سے مسلمانوں کو ڈرانے اور تنبیہ کرنے کے مقصد سے انہیں بھی کفر قرار دیا ہے۔ حالانکہ انکا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہ قرار دیا جاتا اور نہ ہی ایسا سمجھا جاتا ہے

تو جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کفر کی دو اقسام ، قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین سے ہمیں ملتی ہیں ،وہ درج ذیل ہیں :

1- کفر اصغر (کبیرہ گناہ)

2- کفر اکبر ( ارتداد )

اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی:

ہر ایسے کام کہ جسے قرآن احادیث میں کفر کہا گیا ہو ، کا مرتکب لازمی نہیں دین اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا کیونکہ  ہوسکتا ہے کہ وہ عمل کفر اصغر یعنی کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہو۔ 

◀️ اگر کوئی مسلمان عورت یا مرد کسی ایسے عمل میں مبتلاء ہوتا ہے کہ جو ارتداد کے زمرے میں آتا ہو تو اس مسلمان کی تکفیر کرنے والا شخص تکفیری ہرگز نہیں بن جاتا یعنی محض کسی کو کافر قرار دے دینے سے کوئی تکفیری نہیں بن جاتا ۔ جب ہم کسی کے لیے لفظ “تکفیری” یا “فتنہء تکفیر” استعمال کرتے ہیں تو اس وقت تکفیر مطلق کی بات عموما نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ تکفیر معین کے حوالے سے بولے جاتے ہیں یا پھر کبھی کبھار تکفیر مطلق سے متعلق بھی ہوتے ہیں ۔ عموما ان سے مراد تکفیر معین ہی ہوتی ہے ۔

◀️ پس ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کی معین تکفیر کرے جبکہ اس نے کوئی کفریہ کام بھی نہ کیا ہو یا اگر کفریہ کام کیا ہو تو تکفیر معین کے اصول وقوانین کو ملحوظ رکھے بغیر اور انہیں اپلائی کیے بغیر وہ اس معین شخص کو کافر و مرتد قرار دینا شروع کر دے تو ایسے تکفیر کرنے والے کو تکفیری یا فتنہء تکفیر میں مبتلاء قرار دیا جاتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص نے تکفیر المعین کے اصول ضوابط جو کہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہیں پر پرکھے بغیر کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تو ایسا شخص تکفیری پکارا جائے گا ، کیونکہ اس نے ایک مسلمان کی ناحق تکفیر کی ہے اور شرعی قواعد وضوابط سے انحراف کیا ہے۔ 

◀️ ہاں اگر کوئی شخص کسی صریح کفریہ عمل میں ملوث کسی مسلمان پر تکفیر معین کے اصول وقوانین کا اطلاق کرکے اسکی معین تکفیر کرتا ہے تو ایسا کرنے والا شخص تکفیری نہیں کہلائے گا ۔ مگر یاد رہے یہ متبحر فی العلم علماء امت کا کام ہے بلکہ علماء کے گروہ کا کام ہے۔ اور عوام الناس، دینی مدارس کے طلباء، مساجد کے خطباء و آئمہ کو بھی اس مسئلے میں ایسے علماء کے پیچھا چلنا ہے جو تکفیر کرنے کے اہل ہیں اور تکفیر کے اصول ضوابط کا پورا علم اور ادراک رکھتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب