آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

در حقیقت "تکفیری" کون کہلاتا ہے؟

تکفیری کون کہلاتا ہے؟؟؟؟؟

درحقیقت ” تکفیری ” کون کہلاتا ہے؟ 

سوال :

آج کل عموما بہت سے گروہ ایک دوسرے کو تکفیری قرار دیتے نظر آتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “تکفیری ” کس شخص کو کہا جاتا ہے اور اصل “تکفیری لوگ ” کون ہوتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں تو بظاہر محض فکری اختلافات کی بناء پر الزام تراشیاں جاری ہیں اور تکفیری وخارجی کے اتہامات کی بھر مار ہے ؟

الجواب بعون الوھاب

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

ہر مسلمان جب بھی وہ تلاوت قرآن کا سر انجام دیتا ہے یا احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ کسی نا کسی کی تکفیر ضرور کرتا ہے ۔ کیونکہ قرآن و حدیث میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جن کو کفر کہا گیا ہے۔ مگر کسی عمل کے کفریہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اسکا ہر ہر مرتکب کافر و مرتد قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ کہ قرآن و احادیث کے مجموعے اور فہم سلف سے یہ بات عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے کچھ نہایت قبیح کبیرہ گناہوں سے مسلمانوں کو ڈرانے اور تنبیہ کرنے کے مقصد سے انہیں بھی کفر قرار دیا ہے۔ حالانکہ انکا مرتکب دائرہ اسلام سے خارج نہ قرار دیا جاتا اور نہ ہی ایسا سمجھا جاتا ہے

تو جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کفر کی دو اقسام ، قرآن و سنت اور فہم سلف صالحین سے ہمیں ملتی ہیں ،وہ درج ذیل ہیں :

1- کفر اصغر (کبیرہ گناہ)

2- کفر اکبر ( ارتداد )

اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی:

ہر ایسے کام کہ جسے قرآن احادیث میں کفر کہا گیا ہو ، کا مرتکب لازمی نہیں دین اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا کیونکہ  ہوسکتا ہے کہ وہ عمل کفر اصغر یعنی کبیرہ گناہ کے زمرے میں آتا ہو۔ 

◀️ اگر کوئی مسلمان عورت یا مرد کسی ایسے عمل میں مبتلاء ہوتا ہے کہ جو ارتداد کے زمرے میں آتا ہو تو اس مسلمان کی تکفیر کرنے والا شخص تکفیری ہرگز نہیں بن جاتا یعنی محض کسی کو کافر قرار دے دینے سے کوئی تکفیری نہیں بن جاتا ۔ جب ہم کسی کے لیے لفظ “تکفیری” یا “فتنہء تکفیر” استعمال کرتے ہیں تو اس وقت تکفیر مطلق کی بات عموما نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ تکفیر معین کے حوالے سے بولے جاتے ہیں یا پھر کبھی کبھار تکفیر مطلق سے متعلق بھی ہوتے ہیں ۔ عموما ان سے مراد تکفیر معین ہی ہوتی ہے ۔

◀️ پس ہر وہ شخص جو کسی دوسرے شخص کی معین تکفیر کرے جبکہ اس نے کوئی کفریہ کام بھی نہ کیا ہو یا اگر کفریہ کام کیا ہو تو تکفیر معین کے اصول وقوانین کو ملحوظ رکھے بغیر اور انہیں اپلائی کیے بغیر وہ اس معین شخص کو کافر و مرتد قرار دینا شروع کر دے تو ایسے تکفیر کرنے والے کو تکفیری یا فتنہء تکفیر میں مبتلاء قرار دیا جاتا ہے ۔ یعنی اگر کسی شخص نے تکفیر المعین کے اصول ضوابط جو کہ قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہیں پر پرکھے بغیر کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا تو ایسا شخص تکفیری پکارا جائے گا ، کیونکہ اس نے ایک مسلمان کی ناحق تکفیر کی ہے اور شرعی قواعد وضوابط سے انحراف کیا ہے۔ 

◀️ ہاں اگر کوئی شخص کسی صریح کفریہ عمل میں ملوث کسی مسلمان پر تکفیر معین کے اصول وقوانین کا اطلاق کرکے اسکی معین تکفیر کرتا ہے تو ایسا کرنے والا شخص تکفیری نہیں کہلائے گا ۔ مگر یاد رہے یہ متبحر فی العلم علماء امت کا کام ہے بلکہ علماء کے گروہ کا کام ہے۔ اور عوام الناس، دینی مدارس کے طلباء، مساجد کے خطباء و آئمہ کو بھی اس مسئلے میں ایسے علماء کے پیچھا چلنا ہے جو تکفیر کرنے کے اہل ہیں اور تکفیر کے اصول ضوابط کا پورا علم اور ادراک رکھتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب 




کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ! وبعد:

آج بہت سے مسالک بھی ایک دوسرے کو خوارج کہتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جو خوارج کو دراصل ممتاز اور نمایاں کرتی ہے؟ 

خوارج کی پہچان انکے (نہایت بھیانک اور) گمراہ فکر و عقیدے اور پھر اسی کی بنیاد پر اسلامی ریاستوں، مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں میں بغاوت، قتل و غارت گری اور اموال کو لوٹنے جیسے اعمال سے مشروط ہے.
اس بدترین گروہ کا شمار موجودہ مسالک یا مذاہب اربعہ میں سے کسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ایک الگ گروہ ہے، جو تمام مذاہب و مسالک سے اپنا حصہ حاصل کرسکتا ہے. اور اس فتنہ خوارج نے قرآن و سنت کے مطابق،دین اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر قیامت کی دیواروں تک، کسی نہ کسی تنظیم یا گروہ کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے.

جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم.

(ابن تيمية، النبوات : 222)

”وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے”۔
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496)

“اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔”
پھر آخر میں ابن تیمہ رحمہ اللہ فیصلہ کن طور پر لکھتے ہیں:
وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477)

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔
دین محمدیہ میں شریعت اسلامی کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک کھڑی کرنا اور مسلمانوں میں امن و عامہ کو تباہی سے دوچار کرنا خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔اس پر تاریخ گواہ ہے۔
ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ:
“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”
“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

اللہ تمام مسلمانوں پر رحم فرمائے۔ آمین




داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت (جدید ایڈیشن)۔

داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت

(جدید ایڈیشن)

ایک تحقیقی جائزہ 

مصنف : مناظر اسلام فضیلۃ الشیخ محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ 

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

ٹوٹل صفحات :176 

سائز : 4 ایم بی

ڈاؤنلوڈ لنک :https://archive.org/details/Daesh_aor_shariat_aek_jaeza_201706

خارجی تنظیم داعش نے اپنی خود ساختہ جھوٹی خلافت کے نام پر امت مسلمہ کا بے دریغ خون بہایا، اسلام کے نام پر ایسے ایسے قبیح اور شنیع جرائم کا ارتکاب کیا کہ جس کا کسی بھی صورت میں دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

اس کتاب میں مناظر اسلام محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں داعش کے تمام جرائم کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی جائزہ اور ان کے غلط استدلال کا رد پیش کر کے ان خوارج کے قبیح چہرے کو خوب واضح کیا ہے ۔

78b33a42-a4bd-488a-aa34-359eeb6310eb

مکتبہ رد فتن 




تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش (جدید ایڈیشن)۔

تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش

(جدید ایڈیشن)

داعش کے گمراہ کن نظریات کا تعاقب

مصنف : فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفطہ اللہ تعالی

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

ٹوٹل صفحات : 128

ڈاؤنلوڈ لنک : https://archive.org/details/Talbisat_Daesh 

سائز : 3 ایم بی

داعش امت مسلمہ کے لئے ایک خطرناک فتنہ بن کر ابھرنے والی ، خوارج کے افکار کو پروان چڑھانے والی تنظیم جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف قسم کے اشکالات اور شبہات پھیلا کر مسلمانوں کو دھکا دے رہی ہے ۔

اس کتاب میں فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ نے اس خارجی تنظیم کے مسلمانوں میں پھیلائے گئے اشکالات و شبہات کا تعاقب کرتے ہوئے قرآن و سنت کے روشنی میں مدلل اور تحقیقی جواب پیش کیا ہے ۔ 

866fac73-4980-4f4e-9ea4-9deb230552ea

مکتبۃ رد فتن 




حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

موجودہ زمانے کے مسلم ممالک میں مسلم حکمرانوں پر غلط طریقہ کار سے  تنقید اور ان کی برائیوں کو اچھالا جاتا ہے جس کی ایک حد تک شریعت سے ہمیں بالکل اجازت نہیں ملتی ۔ حکمران چاہے جیسے بھی ہوں کتنے ہی گناہ گار کیوں نہ ہوں جب تک وہ مسلمان ہیں ، اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، مسلمان انہیں اپنا حکمران سمجھتے ہیں تب تک ان کے ساتھ ایسے رویہ اختیار کرنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ 

اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اگر آپ فلاں (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ صحیح مسلم ح: 2989 میں ہے) کے پاس جا کر گفتگو کرتے !! تو آپ نے فرمایا : تمہارا خیال ہے کہ میں ان سے گفتگو کروں تو تمہیں سنا کر اعلانیہ کروں !! میں خفیہ طور پر ان سے گفتگو کروں گا ۔

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : اللہ کی قسم میں نے اپنے اور ان کے درمیان (خفیہ طور پر) ان سے گفتگو کی ہے ،  بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو جاؤں۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 7098،3267،اور مسلم 2989)

چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے  امیر باعظمت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکمت کا اسلوب اپنایا کیونکہ امیر و حاکم کی نصیحت میں اس کے مقام و مرتبہ کی رعایت ضروری ہے ،اس لئے کہ لوگوں کے ساتھ  ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق  معاملہ کرنا حکمت  کی اساس ہے ،اسی  لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے : حدیث (مذکور) میں  امراء کی تعظیم ملحوظ رکھنے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش آنے نیز لوگ ان کے سلسلہ میں جو کچھ کہتے ہیں اس کو ان تک پہنچانے کا بیان ہے (اس سے غیب و چغلی اور لگائی بجھائی کے طور پر لوگوں کی باتیں پہنچانا مقصود نہیں) تا کہ وہ باز رہیں اور نرمی اور حسن ادائیگی کے ساتھ ان سے ہوشیار رہیں،اس بات کے پیش نظر کہ کسی کی ایذا رسانی کے بغیر مقصود حاصل ہو جائے۔

(فتح الباری 13/53، نیز دیکھئے: شرح نووی 328)

 انکار منکر کی شرط یہ ہے کہ اس سے بڑا منکر لازم نہ آئے، کیونکہ انکار منکر کے جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے درج ذیل چار درجے ہیں:

🔵پہلا درجہ: منکر زائل ہو جائے اور اس کی جگہ اس کی ضد (معروف) آجائے۔

🔴دوسرا درجہ : منکر بالکلیہ زائل نہ ہو بلکہ کم ہو جائے۔

🔵تیسرا درجہ: منکر کی جگہ ویسا ہی دوسرا منکر آجائے۔

🔴چوتھا درجہ: منکر کی جگہ پہلے سے بڑا منکر آجائے۔

مذکورہ درجات میں سے ابتدائی دو درجے تو مشروع ہیں اور تیسرا محل اجتہاد ہے اور چوتھا درجہ حرام ہے۔(اعلام الموقعین عن رب العالمین 3/16)

امام نووی رحمہ اللہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے قول”بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو ں “ کے سلسے میں فرماتے ہیں:ان کا مقصد امراء کو ان کی رعایا کے درمیان علانیہ تنبیہ کرنا ہے جیسا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین  عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا،اس میں امراء کے ساتھ ادب، نرمی ، انہیں خفیہ نصیحت اور لوگ جو کچھ ان کے بارے میں کہتے ہیں اسے ان تک پہنچانے کا بیان ہے تا کہ وہ اس سے باز رہیں…۔

(شرح نوووی 18/329)

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ  رعایا کے سامنے اور ان کی موجودگی میں مسلمانوں کے ولی امر کو علانیہ طور پر تنبیہ کرنا عام طور پر بہت بڑے شر و فساد  کا سبب ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کا نتیجہ اختلاف و افتراق یا امام المسلمین کے خلاف بغاوت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، اور ولی امر کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بھلائی کا حکم دے اور انہیں برائی سے روکے،پھر اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اس سے خامی کا صدور ہو کیونکہ وہ بشر ہے، لیکن اس کی اصلاح خفیہ  طور پر  حکمت اور محمود رواداری کے ساتھ کی جائے، اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے اور انتہائی متانت اور سنجیدگی سے اسے نصیحت کی جائے،یہی طریقہ قبولیت کے لائق ہے۔

( فتح الباری 13/52 ، عمدۃ القاری 15/166)

سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: مسلمانوں کے آئمہ و امراء کے عیوب  و نقائص کی تشہیر اور انہیں منبروں پر بیان کرناسلف کا طریقہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ تباہی و بربادی اور سمع و اطاعت نہ کرنے نیز اس بغاوت کا سبب ہے، جو سراپہ نقصان دہ ہے البتہ سلف صالحین کے یہاں معمول بہ طریقہ یہ تھا  کہ نصیحت ان کے اور ولی امر کے مابین ہوتی تھی اور خط و کبابت ہوا کرتی تھی یا ان علماء سے ملاقات ہوا کرتی تھی جو امراء و حکام سے تعلق رکھتے ہوں ،تاکہ انہیں بھلائی کی نصیحت کی جائے ، اور انکار منکر (برائی پر تنبیہ)کا طریقہ کار یہ ہے کہ منکر کے مرتکب کا ذکر کئے بغیر  انکار کیا جائے ،چنانچہ زنا کاری ،شراب نوشی ، اور سود خوری وغیرہ پر مرتکب کا ذکر  کیے بغیر تنبیہ کی جائے،اسی طرح گناہوں پرنکیر اور اس سے اجتناب کی تلقین بھی فاعل کا ذکر کیے بغیر کافی ہے،فاعل کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں خواہ حاکم ہو یا محکوم…۔

(حقوق الراعی والرعیہ، کے اخیر میں طبع شدہ  سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ   کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں،ص 27،28)




فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف

فرقہ معتزلہ کا مختصر تعارف 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اسماء کو مانتے ہیں لیکن صفات کے منکر ہیں، بس وہ مجرد یعنی صفت سے عاری اسم مانتے ہیں۔ اسماء الہی صرف الفاظ ہيں کہ جن کا نہ کوئی معنی ہے اور نہ صفت ۔

انہیں معتزلہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے امام واصل بن عطاء مشہور جلیل القدر تابعی امام حسن بصری رحمہ اللہ کے شاگرد ہوا کرتے تھے۔ جب اس نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے کبیرہ گناہ کے مرتکب کے حکم کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ نے اہل سنت والجماعت کا جو قول ہے وہی فرمایا:

انہ مؤمن ناقص الایمان، مؤمن بایمانہ فاسق بکبیرتہ

وہ ناقص الایمان مومن ہے، اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے اور کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے۔ 

مگر واصل بن عطاء اپنے شیخ کے اس جواب سے راضی نہ ہوا تو اس نے کنارہ کشی اختیار کرلی اور کہا: نہیں، میں ایسے کبیرہ گناہ کے مرتکب کو نہ مومن سمجھتا ہوں اور نہ کافر بلکہ وہ تو منزل بین المنزلتین  (دو منزلوں کے درمیان ایک منزل) پر ہے۔

پس اس نے اپنے استاد حسن بصری رحمہ اللہ کا حلقہ چھوڑ کر مسجد کے ایک کونے میں جگہ اختیار کرلی اور آہستہ آہستہ اوباش قسم کے لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے اور اس کے قول کے قائل ہوگئے۔

یہی حال ہوتا ہے گمراہی کے داعیان کا ہر دور میں کہ لازمی طور پر بہت سے لوگ ان کی طرف لپکے جاتے ہیں، اس میں بھی اللہ تعالی کی عظیم حکمتیں پنہاں ہیں۔انہوں نے حسن بصری جو کہ اہل سنت کے بہت بڑے امام تھے ، ان کی خیر وعلم والی مجلس کو چھوڑ کر ، اس گمراہ اور گمراہ گر معتزلی واصل بن عطاء کی مجلس اختیار کی۔

اس کے مشابہ بہت سے لوگ ہمارے اس زمانے میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو علماء اہل سنت والجماعت کی مجلس چھوڑ کر منحرف فکر کے مفکرین کی مجالس کو اختیار کرلیتے ہیں۔ پس آپ انہیں پائیں گے کہ انہی کی کیسٹوں اور کتابوں کی شدید حرص کرتے ہیں اور انہی پر قناعت کرکے بیٹھ جاتے ہیں ۔

اگر آپ ان سے کہیں کہ اس میں ایسی باتیں ہیں جو عقیدۂ اہل سنت والجماعت اور سلف صالحین کے خلاف ہے جیسے خلق قرآن ، یا تاویل صفات باری تعالی، یا پھر حکمرانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنا وغیرہ۔

تو وہ کہتے ہیں کہ: یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کتاب کی قرأت اور اس کی تقاریر سننے میں کوئی مانع نہیں، حالانکہ ہمارے سلف وخلف علماء کی کتب میں وہ کچھ ہے جو ان کی کتابیں پڑھنے سے ہمیں مستغنی کردیتا ہے۔ تو جو کوئی ان کی بات سنتاہے اسے وہ اس طرح سے گمراہ کرتے ہیں۔۔۔

﴿لِيَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ ۙ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۭ اَلَا سَاۗءَ مَا يَزِرُوْنَ

(النحل: 25)

تاکہ یہ لوگ اپنے کامل بوجھ بھی بروزقیامت اٹھائیں اور ان کے بھی جنہیں بغیر علم کے انہوں نے گمراہ کیا، کتنا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اپنے سر لے رہے ہیں۔ 

کیا یہ لوگ جانتے نہیں کہ ہمارے سلف صالحین تو اس سے بھی بائیکاٹ کرجایا کرتے تھے جو صرف ایک بدعت میں مبتلا ہوتا یا پھر صرف ایک صفت الہی کی تاویل کرتا؟

دیکھیں یہ امام عبدالوہاب بن عبدالحکم الوراق رحمہ اللہ جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے ہیں ان سے ابو ثور کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا:  ”میں اس کے بارے میں وہی مؤقف رکھتا ہوں جو امام احمد رحمہ اللہ کا ہے کہ ابو ثور اور جو اس کے قول کا قائل ہو ان سب سے بائیکاٹ کیا جائے “۔

یہ صرف اس لیے کہ اس نے صورت الہی سے متعلق جو حدیث ہے اس کی ایسی تاویل کی جو سلف کے قول کے خلاف تھی۔ جب اس کا یہ حال ہے تو اس شخص کا کیا حال ہوگا کہ جس کی غلطیوں کو بیان کرنے کے لیے کتابیں در کتابیں بھر دی جاتی ہیں؟؟!

اس کے باوجود آپ ان میں سے بعض کو یہ کہتا ہوا پائیں گے کہ:

یہ تو معمولی سے غلطیاں ہیں جو اس کی کتب پڑھنے میں مانع نہیں!!۔ فلاحول ولاقوۃ الا باللہ۔

پس یہ لوگ تب  سے معتزلہ کے نام سے پہچانے جانے لگے کیونکہ انہوں نے اہل سنت والجماعت سے اعتزال (دوری) اختیار کی۔ انہوں نے اللہ تعالی کی صفات کا انکار کیا اور اسماء کو صفات سے عاری محض بے صفت کا نام ثابت کیا۔ اور مرتکب کبیرہ گناہ کے بارے میں آخرت کے تعلق سے وہی خوارج کے قول کے قائل ہوگئے کہ وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں رہے گا لیکن دنیا کے معاملے میں خوارج سے تھوڑا اختلاف کیا اور کہا کہ وہ دو منزلوں کے مابین ایک منزل میں ہے یعنی نہ مومن ہے نہ کافر۔ جبکہ خوارج اسے سیدھا کافر کہتے ہیں۔اور یہ مسلمان ہی نہیں مانتے ۔ فرق بہت معمولی ہے ۔ 

سبحان اللہ! کیا کوئی یہ عقیدہ رکھ سکتا ہے کہ انسان نہ مومن ہو اور نہ ہی کافر؟!۔

اللہ تعالی تو فرماتا ہے:   ﴿هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّمِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ

(التغابن: 2)

اسی اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا پس تم میں سے کوئی کافر ہے تو کوئی مومن

یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی المنزلۃ بین المنزلتین (دو منزلوں کے مابین کسی منزل) پر ہے، لیکن کیا یہ لوگ کچھ فقہ وفہم رکھتے بھی ہیں؟؟۔

پھر اس معتزلہ مذہب سے اشاعرہ مذہب پیدا ہوا۔ 

ماخوذ از

لمحة عن الفرق الضالة 




حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران کی  خیر خواہی آخر کیسے ؟ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

حکومت ، سلطہ اور جاہ جلال ایسی چیز ہےکہ جہاں ہر کسی کا اپنی مرضی کرنے کو جی چاہتا ہے تبھی تو وہ کئی گناہوں کو بالکل معمولی سمجھتے ہوئے کر گزرتا ہے ، جہاں اسے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اتنے کروڑوں  عوام میں تحت ہیں ، میں جو بھی کرنا چاہوں وہ ہو گا ۔ تو ایسے میں اللہ کی یاد اس کا ڈر ، خوف اور بھی کم ہو جاتی ہے ، اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کی کوتاہیاں اور برائی اچھالنے کی بجائے انہیں نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئیے اسی کے پیش نظر کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے ؛ 

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((الدين النصيحة، قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم))

(مسند احمد404،403/3 ومستدرک حاکم: 290/3)

“دین خیرخواہی ہے۔ہم نے پوچھا: کس سے؟ آپ نے فرمایا: اللہ سے،اس کی کتاب سے،اس کے رسول سے،مسلمانوں کے اماموں سے اور عام مسلمانوں سے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

((نضَّر الله امرأً سَمِع مقالتي فوَعَاها وحَفِظها وبَلَّغها، فرُبَّ حامل فِقْه إلى مَن هو أفقه منه، ثلاث لا يغلُّ عليهنَّ قلبُ مسلم: إخلاصُ العمل لله، ومناصحة أئمة المسلمين، ولزوم جماعتهم؛ فإنَّ الدَّعْوة تُحيط من ورائهم))

(فتح الباری 72،71/13)

اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیوں کہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھاسکتا،(۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیوں کہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی بات کے سننے اور اس کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانے،یاد کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے والے کے حق میں خوشی،چہرے کی تروتازگی اور اس کے حسن و جمال کی دعا فرمائی ہے جو ایمان کے آثار اور باطن کے اس سے روشن ہونے نیز دل کے مسرت  و شادمانی سے ہمکنار اور لذت یاب ہونے کے سبب چہرے کو عطا ہوتی ہے،چنانچہ جو ان چاروں مراتب کو انجام دے گا وہ نبی ﷺ کی ظاہر و باطن کے حسن  و جمال پر مشتمل دعا سے فیضیاب ہو گا۔

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم 1/276.274،بتحقیق علی بن حسن بن عبدالحمید)

امام ابن قیم  رحمہ اللہ  مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

  • نبی ﷺ کا فرمان: اور مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی…..۔

یہ چیز بھی  خیانت اور دھوکہ دہی کے منافی ہے کیونکہ خیر خواہی اور خیانت دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،چنانچہ جو شخص آئمہ و امراء اور امامت(رعایا) کی خیر خواہی کرے گا وہ خیانت سے بری ہو گا۔ 

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم: 1 /275 تا 278)

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

مسلمانوں کے امام وامراۃ کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں ان کی درستی, نیکی اور عدل و انصاف سے محبت کرنا نیز ان کے ہاتھوں پر امت کے اتفاق سے محبت اور ان پر امت کے اختلاف و افتراق کو ناپسند کرنا،اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کو نیکی سمجھنا ان کے خلاف بغاوت کے جواز کا عقیدہ رکھنے والے سے بغض رکھنا اور اللہ کی اطاعت میں ان کے غلبہ و سربلندی کو پسند کرنا۔

(جامع العلوم والحکم: 1/222)

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں حق پر ان کی مدد کرنا،اطاعت کرنا،انہیں حق کی نصیحت کرنا،نرمی و ملائمت سے انہیں تنبیہ کرنا،ان سے اختلاف کرنے اور لڑنے جھگڑنے سے احتراز کرنا اور ان کے لئے توفیق کی دعا کرنا نیز غیروں کو اس پر ابھارنا۔

(مرجع سابق 1/223 نیز مسلمانوں کے امراء کی اطاعت کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ ابن تیمیہ 28/391،390،ومنہاج السنۃ النبویہ 3/390)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں کے امراء کی اطاعت اور انکی خیر خواہی کا حکم دیا ہے وہ انسان پر بعینہ اسی طرح واجب ہےجس طرح پانچ وقت کی نمازیں ،زکاۃ، روزہ ،حج بیت اللہ اور ان کے علاوہ دیگر وہ  اعمال واجب ہیں جن  کی بجا آوری کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ اس نے اس کا معاہدہ نہ کیا ہو اور اس کے لیے پختہ خلاص نہ اٹھائی ہو، اور اگر وہ اس پر قسم کھالے تو یہ چیز امراء  کی اطاعت اور ان کی خیرخواہی کے سلسلہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مزید تاکید وتثبیت ہوگی،  چنانچہ ان کی باتوں کی قسم کھانے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قسم شدہ امر  کی خلاف ورزی کرے…. کیوں کہ اللہ عزوجل نے حکمرانوں اورامراءکی اطاعت اور خیرخواہی کو واجب قرار دیا ہے، وہ یوں بھی  واجب ہے  خواہ وہ  قسم نہ بھی کھائے ،تو اب جبکہ اس نے  قسم کھالی ہے ان کی اطاعت اس پر بدرجہ اولیٰ واجب ہوگی ،اسی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےجوان کی  نافرمانی اور خیانت سے منع فرمایا ہے وہ اس پر حرام ہیں خوا ہ  اس نے قسم نہ بھی کھائی ہو ۔

(فتاوی ابن تیمیہ 35/10،9)

اور آئمہ و امراء کو نصیحت ان کے اور ناصح کے مابین نرمی و ملائمت ،  حکمت  و دوراندیشی ،  عمدہ نصیحت اور مناسب اسلوب میں خفیہ طور پر ہوگی۔ 

شیخ علامہ عبدالرحمان بن ناصر سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رہا مسلمانوں کے آئمہ کی خیر خواہی کا مسئلہ:تو مسلمانوں کے آئمہ سے مراد سلطان اعظم سے لیکر امیر و قاضی تک ان کے امراء اور ذمہ داران ہیں،چونکہ ان لوگوں کے فرائض اور ذمہ داریاں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر ہیں،اس لئے ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے انہیں نصیحت کرنا واجب ہے،اس بات کے پیشِ نظر ان کی امامت کا اعتقاد رکھا جائے،ان کی ولایت ( حکمرانی) کا اعتراف کیا جائے،معروف میں ان کی اطاعت کی جائے،ان کے خلاف بغاوت نہ کی جائے،رعایا کو ان کی اطاعت اور ان کے حکم کی تعمیل پر ابھارا جائے،بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو،اپنی استطاعت بھر انہیں نصیحت اور اپنی رعایا کی دیکھ بھال  کے سلسلے میں جو چیزیں ان سے مخفی ہوں ان کی وضاحت کی جائے ـہر شخص اپنے اعتبار سےـ ان کی اصلاح و درستی اور تو فیق کیلئے  دعا کی جائے کیونکہ ان کی بہتری میں رعایا کی بہتری ہے ،انہیں برا بھلا کہنے،ان کی عیب جوئی  اور انکی خامیوں اور برائیوں کو  عام کرنے سے باز رہا جائے،کیونکہ اس میں برائی ،نقصان اور بہت بڑا فساد ہے،چنانچہ ان کی خیر خواہی کا تقاضہ  یہ ہے کہ ان چیزوں سے بچا جائے اور دوسروں کو تنبیہ کی جائے،اور جو شخص ان کی جانب سے کوئی نا جائز چیز دیکھے اسے چاہیے کہ انہیں علانیہ  نہیں بلکہ خفیہ طور پر نرمی اور ایسے اسلوب میں تنبیہ کرے  جو برمحل ہو  اور مقصود حاصل ہو جائے،کیونکہ ہر شخص بالخصوص  امراء اور حکام کے حق میں  یہی چیز مطلوب ہے،کیونکہ انہیں اس طرح تنبیہ کرنے میں بڑی خیر ہے، اور یہ سچائی اور اخلاص کی علامت ہے ،اور اس (مذکورہ طریقہ پر) نصیحت کرنے والے!دیکھنا لوگوں کی مدح سرائی آپ کی نصیحت  کو ضائع و برباد  نہ کردے،اس لئے کہ آپ لوگوں کو کہتے پھریں کہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے اور ایسا ایسا کہا ہے،کیونکہ یہ ریا کاری اور ضعف اخلاص کی علامت ہے،اور اس کے دیگر نقصانات بھی ہیں جو معروف ہیں۔

(الریاض الناضرۃ والحدائق النیرۃ الزاہرہ،ص38تا 49)




مسلمانوں پر ہتیار اٹھانے کا حکم 4

مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے کی مذمت

مسلمانوں پر ہتیار اٹھانے کا حکم 4

مسلمان پر ہتھیار اٹھانے کا حکم

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

شریعت اسلامیہ ایک مسلم  کو زندگی کے ہر موڑ پر   رہنمائی میسر کرتی ہے۔اور وہ چیزیں کہ جن کے وجہ سے ایک مسلم رب کی معصیت کا ارتکاب کر بیٹھے، ان چیزوں کو بیان کرتے ہوئے سختی کے ساتھ ان سے روکتی ہے اور ان چیزوں پر عمل پیرا شخص کو سخت وعیدیں سناتی ہے۔اسی لئے محدثین کی اصطلاح میں اس عمل کو “سد الذرائع” کا نام دیا گیا ہے ۔

چنانچہ اسی طرح کے معاملات میں سے ایک کسی مسلم کی طرف مذاقاً  ہتھیار  اٹھانا ہے ۔اسی لئے شریعت اسلامیہ نے اس سے سختی سے روکاہے۔چنانچہ نبی کریمﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

” لا يشير أحدکم إلی أخيه بالسلاح فإنه لا يدري أحدکم لعل الشيطان ينزع في يده فيقع في حفرة من النار”

تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید کہ شیطان اس کے ہاتھ سے اسلحہ چلوا دے اور پھر وہ دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔

 صحیح المسلم، کتاب البرواصلۃ والآداب، باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی مسمل، رقم الحدیث 126 (2617)،(4/20)

یہاں اِستعارے کی زبان میں بات کی گئی ہے یعنی ممکن ہے کہ ہتھیار کا اشارہ کرتے ہی وہ شخص طیش میں آجائے اور غصہ میں بے قابو ہو کر اسے چلا دے۔ چنانچہ اس عمل کی مذمت اور قباحت بیان کرنے کے لئے اسے شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے تاکہ لوگ اِسے شیطانی فعل سمجھیں اور اس سے باز رہیں۔

اسی طرح ایک اور جگہ پر اس عمل کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

“من حمل علينا السلاح فليس منا”

جس نے ہم پر اسلحہ اٹھایا تو وہ ہم میں سے(یعنی سنت پر عمل پیرا لوگوں میں سے)نہیں۔

(سنن ابن ماجہ،باب من شھرالسلاح)

یہاں ایک بات ملحوظ خاطر رہے کہ اس اسلحہ اٹھانے سے مراد قتال کیلئے اسلحہ اٹھانا ہے  نہ کہ اپنےاور دوسروں کے  دفاع کیلئے اسلحہ اٹھانا جیسا کہ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتا ب”فتح الباری “میں لکھتے ہیں:

“المراد من حمل عليهم السلاح لقتالهم لما فيه من إدخال الرعب عليهم لا من حمله لحراستهم مثلا فأنه يحمله لهم لا عليهم”

“من حمل عليهم السلاح”  سے مراد آدمی پر اس کو قتل کرنے یا اس پر رعب ڈالنے کی غرض سے اسلحہ اٹھانا ہے جبکہ اپنے یا دوسروں کے دفاع میں اسلحہ اٹھا نے والا اس وعید میں شامل نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ ان کیلئے اسلحہ اٹھا رہا ہے نہ کہ ان پر اسلحہ اٹھا رہا ہے(یعنی اسلحہ وہ اپنے لوگوں پر نہیں اٹھارہا بلکہ اپنے آپ اور اپنے لوگوں پرحملہ آور  شخص جو کہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ،کے خلاف اٹھا رہا ہے)

سلاح (ہتھیار) ہر وہ ہتھیار ہے جو جنگ میں مارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے نیزہ، تلوار، بندوق، پستول، کلاشنکوف، خنجر وغیرہ لہٰذا ان سے کسی مسلمان بھائی (اور اسی طرح اسلامی مملکت میں رہنے والے ذمی) کو ڈرانا حرام ہےچاہے وہ بالقصدہو  یا مذاق کے طور پرکیونکہ  ان میں سے کسی کے ساتھ بھی اشارہ کرنا نہایت خطرناک ہے، ہوسکتا ہےکہ شیطان وہ ہتھیار اس سے غیرارادی طور پر چلوا دے اورسامنے والا شخص قتل ہوجائے اور یہ شخص اس وجہ سے جہنمی بن جائے۔ لیکن بدقسمتی سے اسلام کی اس تعلیم کے برعکس آج کل ہتھیار کی نمائش اور اس کا بےجا استعمال بہت عام ہوگیا ہےچنانچہ خوشی کے موقعے پر ہوائی فائرنگ کا بھی رواج بڑھتا جارہا ہے جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے اور اس کی نقصانات بھی آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔والعیاذ باللہ العظیم

اسی طرح ایک اور جگہ پر نبیﷺ نے  یہ الفاظ ارشاد فرمائے:

“من سل علينا السيف فلیس منا”

جس نے کسی مسلم پر تلوار اٹھائی تو وہ ہم میں سے نہیں۔ 

 (مسلم،باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال لا إله إلا الله،ح:162)

اسی طرح ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:

“مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّه”

جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔

(صحیح المسلم، کتاب البرواصلۃ والآداب، باب النھی عن الاشارۃ بالسلاح الی مسلم ، رقم الحدیث 125 (2616)، 3/2020)

نبی کریمﷺکے ارشاد گرامی“وان کان اخاہ لابیہ وامہ” (اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہو)سے مقصود یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا منع ہے، خواہ اس شخص کے اس کے گھریلو تعلقات ہوں اور اچھا خاصا مذاق ہو۔

علاوہ ازیں ایسے اشارہ کرنے والے پر فرشتوں کی لعنت کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا اشارہ کرنا حرام ہے۔           

(شرح النووی: 16/ 170)

چنانچہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ریاض الصالحین میں مذکورہ بالا دونوں حدیثوں پر درج ذیل عنوان قائم کیا ہے:

مسلمان کی طرف ہتھیار وغیرہ سے اشارہ کرنے کی ممانعت، اشارہ خواہ مذاق سے ہو یا سنجیدگی سے، نیز بے نیام تلوار کو ہاتھ میں لینے کی ممانعت۔    

(ریاض الصالحین ص520)

آپ غور کیجئے کہ جب کسی مسلم کی طرف مذاقاً ہتھیار اتھانے کی اتنی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور اس گناہ کے مرتکب شخص کواتنی سخت وعید سنائی گئی ہے تو کسی مسلمان کو اذیت دینا، یا اس کی پٹائی کرنا، یا اس کو زخمی کرنا، یا اس کو قتل کرنا اللہ تعالی کے ہاں کس قدر سنگيں جرم ہوگا-

اسی طرح نبیﷺ نے صرف کسی دوسرے پر اسلحہ اٹھانے سے ہی نہیں بلکہ عمومی حالات میں بھی اسلحہ کی نمائش  کو ممنوع قرار دیا۔چنانچہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:

“نَهَی رَسُولُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا”

رسول اکرم ﷺ نے ننگی تلوار لینے دینے (یعنی پکڑانے سے) منع فرمایا۔

(ترمذي، کتاب الفتن، باب ما جاء في النهي عن تعاطي السيف مسلولا، 4 : 464، رقم: 21632)

ننگی تلوار کے لینے دینے میں جہاں زخمی ہونے کا احتمال ہوتا ہے وہاں اسلحہ کی نمائش سے اشتعال انگیزی کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ دین اسلام  کا خیر و عافیت اور مذہب امن و سلامتی ہونے کا اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نےکھلم کھلااسلحہ کی نمائش پر پابندی لگا دی، تاکہ اسلامی معاشرہ امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے ۔ اسی طرح مذکورہ حدیث میں لفظ “مَسْلُول” اس اَمر کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ریاست کے جن اداروں کے لیے اسلحہ ناگزیر ہو وہ بھی اس کو غلط استعمال سے بچانے کے لیے انتظامات کریں۔

درج بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ جب اسلحہ کی نمائش، دکھاوا اور دوسروں کی طرف اس سے اشارہ کرنا سخت منع ہے جبکہ مسلم معاشروں میں اسلحہ لہراتے ہوئے اسلام کے نفاذ کے نام پر آتشیں گولہ و بارود سے مخلوق خدا کے جان و مال کو تلف کرنا کتنا قبیح عمل اور ظلم ہوگا! اور یاد رہے تاریخ اسلامی میں یہ طریقہ ہمیشہ سے خوارج کا رہا ہےکہ وہ کسی مسلم کو قتل کرنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے۔چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ داعش اور تحریک طالبان پاکستان  کے لوگ کسی بھی مسلمان کو قتل کرنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے اور اسی پر بس نہیں بلکہ وہ ان کوکافر قرار دینے کے بعد قتل کرنا  ضروری اور فرض سمجھتے ہیں ۔




خوارج کے فرقے

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

خوارج کے فرقے

 

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خارجیوں کے بہت سے فرقے اور جماعتیں ہیں،لیکن یہ سب خروج و بغاوت  اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر الگ رہنے پر متفق ہیں،ان کا سب سے مشہور نام “خوارج”ہے ، ان کو حروریہ بھی کہا جاتا ہے،کیونکہ ابتدائے امر میں کوفہ کے قریب ”حروراء “ نامی جگہ سے یہ لوگ نکلے تھے۔

⬅️ ان کا ایک نام مارقہ بھی ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے ان کے متعلق فرمایا:

“يمرقون من الدين”

وہ دین سے نکل جائیں گے۔

(بخاری4094) 

⬅️ ایک نام مکفرہ بھی ہے(یعنی تکفیر کرنے والے)کیونکہ یہ اپنے مخالفین،اور گناہ کرنے والوں  کو کافر قرار دیتے ہیں ۔

⬅️ ان کا ایک نام شُراۃ بھی ہے (یعنی خریدنے والے)کیونکہ انکا گمان تھا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لیا ہے،اور اسے جنت کے بدلے بیچ دیا ہے۔

⬅️ پہلے کے خارجیوں میں سب سے سخت قسم کے ازارقہ  تھے،جو نافع بن الازرق الحنفی کے پیروکار تھے،خوارج کے فرقوں میں  سے کوئی فرقہ ازراقہ سے زیادہ طاقتور اور ان سے زیادہ تعداد والا نہیں تھا،یہ لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کے زمانہ خلافت میں نافع کے ساتھ بصرہ سے نکل کر اہواز کی جانب گئے،اور اہواز اور اس کے آس پاس کے علاقوں اور اس کے ماوراء فارس اور کرمان کے شہروں پر قبضہ کر لیا ،اون ان علاقوں میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما   کے گورنروں کو قتل کر دیا۔

یہ ازارقہ خوارج کے تمام فرقوں میں سے  سب سے زیادہ انتہاپسند تھے ،ان کے کچھ منفرد اعتقادات تھے، جن کی وجہ سے وہ خوارج کے دیگر فرقوں سے الگ ہو گئے،ان کے وہ عقائد یہ ہیں:

🔵انہوں نے شادی شدہ زانی پر رجم کے شرعی حکم کو باطل قرار دیا۔

🔴جو شخص شادی شدہ مرد پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف نہیں ہے۔

🔵جو شادی شدہ عورت پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔

🔴انہوں نے چور کا ہاتھ کندھے کے پاس سے کاٹا،اور اس سزا کو انہوں نے ہر قسم کی چوری پر واجب کیا،خواہ چوری کیا ہوا مال کتنا ہی کم ہو۔

🔵انہوں نے حائضہ عورت پر حالت حیض میں نماز اور روزہ واجب قرار دیا۔

🔴انہوں نے ان تمام عورتوں اور بچوں کے خون کو مباح قرار دیا،جو ان کے خیمے(ان کی جماعت)کے نہیں تھے۔

🔵جو لوگ ان کے پاس ہجرت کر کے آتے تھے،ان کے سلسلے میں ان کا یہ معمول اور طریقہ کار تھا کہ ان میں سے ہر ایک کا امتحان لیتے تھے ، امتحان کی صورت یہ ہوتی تھی کہ اپنے مخالفین کے قیدیوں میں سے  ایک قیدی اس کے حوالے کر کے حکم دیتے تھے کہ اسے قتل کرو،اگر وہ قیدی کو قتل کر دیتا تو اس کو جماعت کی رکنیت کا پروانہ دیدیتے،ورنہ اسے قتل کر دیتے۔

🔵ان کا گمان تھا کہ ان کے مخالفین کے بچے مشرک ہیں، اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ ان کے مخالفین کے علاقے دیار کفر ہیں،اور ان کی امانتوں کو واپس کرنا واجب نہیں۔

🔵وہ یہود و نصاری اور مجوسیوں کا قتل حرام قرار دیتے ہیں۔

🔴ان کا کہنا ہے کہ جس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا وہ کافر ہے، اس کے سبب وہ اسلام سے مکمل طور پر خارج ہو گیا،اور دوسری ملتوں کے کفار کے ساتھ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔

🔵تحکیم کے معاملے میں وہ علی رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دیتے ہیں،اور دونوں حکم ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو ،اور اسی کے ساتھ عثمان، طلحہ، زبیر، عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور ان کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کو بھی کافر قرار کہتے ہیں،اور یہ کہ وہ سب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴ان کے موافقین اور متبعین میں سے جو شخص ہجرت کر کے ان کے علاقے میں نہیں آیااسے یہ مشرک گردانتے ہیں،خواہ وہ ان کے مذہب اور ان کے عقیدے میں ان کے موافق ہی کیوں نہ ہو۔

ان سب کے علاوہ بھی ان کی بدعتیں اور ہاکت خیز و تباہ کن گمراہیاں ہیں،دیکھیں

(تاریخ الطبری5/528،566،614،613،568)ومقالات الاسلامیین(1/157-162)

خوارج کے نت نئے طریقوں اور منصوبوں کی بنا پر ان کے نئے نئے نام اور القاب بھی سامنے آتے رہتے ہیں ، یا تو عوام الناس ان کو یہ نام و القاب  دیتے ہیں، یا وہ خود اپنے اوپر ان کا اطلاق کر لیتے ہیں، اس سے انہیں لوگوں سے اپنی حقیقت چھپانا مقصود ہوتا ہے ، ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا، اور اپنے گھناؤنے افعال کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، جیسے ہمارے موجودہ زمانے میں ان خوارج کو القاعدہ، الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام یعنی ”داعش“ اور الجبہۃ النصرۃ ، بوکو حرام ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار وغیرہ ناموں سے جانا جاتا ہے۔

⬅️ خوارج کے فرقوں میں سب سے زیادہ خبیث اور بد ترین فرقہ ”القعدیہ“ ہے ، ان کا کام صرف زبان کے زریعے حکمران کے خلاف خروج و بغاوت کرتے ہوئے آگ بھڑکا کر رکھنا ہوتا ہے ، اور غیر محسوس انداز میں یہ مسلم حکومت وقت کے خلاف مسلح باغیوں کی فوج تیار کر رہے ہوتے ہیں ، ان کی ذہن سازی اور دلائل مہیا کر رہے ہوتے ہیں ، اعلانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ حاکم کے عیوب و نقائص ذکر کر کے اور ان کی اچھی سیرت و کردار کی غلط تصویر کشی کر کے ان کے خلاف عوام کو ورغلاتے ہیں، اور حکومت و ریاست میں ان سے مزاحمت کرتے ہیں۔

فرقہ قعدیہ کے حوالے سے ہماری ویب سائٹ پر الگ سے ایک مضمون شائع کیا جا چکا ہے شائقین یہاں سے قعدیہ بدترین فرقہ خوارج کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔