آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

آیت تحکیم اور سید قطب

آیت تحکیم اور سید قطب کی کج فہمی

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

جب بھی کوئی شخص آئمہ تفسیر کی تفاسیر کامطالعہ کرے  گا تو اس کو بغور دیکھنے پر یہ بات ملے گی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ بن عباس،سیدنا براء بن عازب،سیدنا حذیفہ بن یمان ،  ابراہیم نخعی،سعدی،ضحاک،ابو صالح،ابو مجلز،عکرمہ،قتادہ، عامر،شعبی،عطاءوطاؤوس اور اسی طرح امام طبری نے”جامع البیان “میں،امام غزالی نے”مستصفیٰ”میں،امام ابن عطیہ نے”محرر وجیز” میں،امام فخر الدین رازی نے  “مفاتیح الغیب “میں،امام قرطبی اور امام ابن جزی نے ” تسہیل ” میں،ابو حیان نے “بحر محیط” میں،حافظ ابن کثیر نے  “تفسیر القرآن العظیم”میں ، علامہ آلوسی نے ” روح المعانی ” میں  ، امام طاہر بن عاشور نے ” التحریر والتنویر ” اور شیخ شعراوی  نے اپنی  “تفسیر ” میں،الغرض تمام مفسرین  نےآیت تحکیم کی ایک ہی متفقہ تفسیر بیان فرمائی ہےکہ:

اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے کے مطابق  فیصلہ نہ کرنے والا اس وقت کافر ہو گا ، جب اللہ تعالی کے فیصلے کو دل سے نہ مانے اور زبان سے اس کا انکار کرے ۔

لیکن ان تمام حضرات کے مقابلے میں سید قطب اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

“اس قطعی و جازم  ،سب کےلیے عام اور سب کو شامل بات   میں جھگڑنا  حقیقت سے منہ پھیر کر بھاگنے  کے سوا کچھ نہیں ، اس قسم کے فیصلہ میں تاویل کرنا قرآنی  کلمات میں تحریف کرنا ہے۔” 

(فی ظلال القرآن” پ 6 مائدہ، تحت الآیۃ 44،  2/898.)

لیکن اگر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ سید قطب نے یہ بات کہہ کر تمام آئمہ کرام کو قرآن کے کلمات  میں تحریف کرنے والا ٹھہرا دیاہے۔کیونکہ ان تمام آئمہ عظام  نے اس آیت کے ظاہری  معنی میں تاویل کر کے فرمایا کہ:

“اللہ تعالی کے فیصلے کا منکر کافر ہے، جبکہ اللہ تعالی کے  نازل کردہ فیصلے  کے مطابق فیصلہ نہ کرنے  والا کافر نہیں۔” 

سید قطب کی اس تکفیری سوچ کو اگر ہم ماضی میں تلاش کریں  تو سوائے خارجیوں کے اور کوئی اس سوچ کا حامل نہیں ملتا، امام آجری “الشریعہ ” میں فرماتے ہیں کہ:

عطاء بن دینار سے مروی ہے کہ سعید بن جبیر علیہ الرحمہ نے اللہ تعالی کے فرمان :

(واخر متشابہات) (آلعمران 8) کے بارے میں فرمایا  : متشابہات قرآن کریم میں وہ آیات ہیں کہ جب  ان کی تلاوت کی جائے تو  پڑھنے والوں کو ان کے معانی سمجھنے میں شبہ واقع ہو ، اسی سبب سے وہ شخص گمراہ ہو جاتا ہے  جو یہ کہے کہ اس آیت کے یہی معنیٰ ہیں جو میں نے سمجھا (حالانکہ متشابہ آیات کا حقیقی معنی اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے ، اور آیات کا ظاہر غیر مراد ہوا کرتا ہے ) ہر گروہ قرآنِ مجید کی کوئی آیت پڑھتا ہے ، اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ہدایت کو پہنچ چکا ہے ۔

اور جس متشابہ آیت  کے معنی    کے پیچھے حروریہ  (یہ خوارج کا ایک نام ہے ) لگ گئے وہ اللہ تعالیٰ کا فرمان  (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ) (44) ہے ،چنانچہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کیلئے اس آیت کا سہارا لیتے ہیں:

(ثُـمَّ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّـهِـمْ يَعْدِلُوْنَ (1) 

وہ لوگ جنہوں نے  کفر کیا  وہ اپنے رب کے ساتھ برابری والے ٹھہراتے ہیں ، یعنی مشرک ہیں “ 

لہذا جب کوئی حکمران ناحق فیصلہ کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس نے کفر کیا ، اور جو کفر کرے اس نے رب تعالیٰ کے ساتھ  کسی کو شریک   ٹھہرایا اور جو رب تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے بے شک وہ مشرک ہے ، لہذا یہ امت مشرک ہے ، پھر وہ بغاوت کیلئے نکلتے ہیں ، اور اہل اسلام کو قتل کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں۔

(“الشریعہ ” باب ذکر السنن والآثار فیما ذکرناہ ، ر:44، 1/341.)

اسی طرح سید قطب نے علماء حق کی مخالفت کرتے ہوئےنظریہ علمائے حق کو  زمانہ جاہلیت  کی ثقافت  قرار دے دیا ، کہتے ہیں کہ : بہت ساری ثقافتیں جنہیں ہم اسلامی ثقافت  اور اسلامی نظریہ ، یا اسلامی فلسفہ ، یا اسلامی فکر سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت میں وہ سب زمانہ جاہلیت کی باتیں ہوا کرتی ہیں ۔

(معالم فی الطریق ” جیل قرآنی فرید ، ص 17،18)

چنانچہ آپ دیکھ لیجئے کہ سید قطب کی گمراہی کا سبب یہی ہے  کہ اس نے  وحی الٰہی کو  سمجھنے کیلئے پختہ علمائے اسلام  کی تفاسیر سے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد کو ترجیح دی۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کیلئے  اس نے اپنے ہی آئینے اور اپنی ہی ذات پر اعتماد کر لیا ، اور اپنے خاص تصورات پر  ہی اس کا دارومدار ہے ۔اس طرح قرآن کریم کی تفسیر کے معاملے میں سید قطب نے اپنے آپ کو اہل علم  کے مرتبہ سے گرا دیا  ۔ 

چنانچہ وہ اپنی کتاب “التصویر الفنی ” کے آغاز میں  یوں رقمطراز ہیں :

” میں مدارس علمیہ  میں داخل ہوا ، کتب تفسیر میں  تفسیر قرآن پڑھی ، اساتذہ سے تفسیر سنی  ، تو جو قرآن میں نے  اساتذہ سے پڑھا تھا یا سنا تھا ، اس قرآن کو اتنا خوبصورت اور لذیذ نہیں پایا ، جو لذیذ و جمیل قرآن میں نے بچپن میں پایا تھا ، آآآہ! قرآن کے حسن و جمال کی تمام علامتیں  مِٹ کر رہ گئیں ، یہ (علماء کے پاس پڑھا جانے والا )قرآن لذت و شوق سے خالی ہے ، بلکہ تم بھی دو قرآن پاؤ گے ، ایک بچپن والا شوق دلانے والا ،میٹھا اور آسان قرآن ، اور دوسرا جوانی  کا قرآن  جو مشکل ، تنگ ، پیچیدہ ،  اور ریزہ ریزہ ہے ، تفسیر کے معاملہ میں   کسی اور کی پیروی کو ایک جرم خیال کرنے لگا ، یہ سوچ کر میں اسی قرآن کی طرف پلٹ آیا  جو تفسیر کے بغیر مصحف میں ہے ، اس قرآنِ عظیم کی طرف نہیں جو کتب تفسیر میں ہے ، تو اب جب میں نے تفسیر کے بغیر قرآن پڑھا  تو اپنا  خوبصورت   اور لذیذ کھویا ہوا قرآن دوبارہ پالیا ، جو شوق کو ابھارنے والا ہے……۔

(التصویر الفنی فی القرآن ،لقد وجدت القرآن ص 8)

والعیاذ باللہ العظیم

استغفر اللہ اتوب الیہ

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ کس قدر  خطرناک عبارت ہے ،  قرآن کو سمجھنے کے معاملے میں  اس شخص کا طریقہ اور ذہنیت  صاف معلوم ہو رہی ہے ، اس شخص نے علمائے امت کی ان کاوشوں  سے مکمل طور پر منہ موڑ لیا  جنہوں نے چودہ سو سال سے نص قرآنی اور اس کے فہم کیلئے محنت کی ، بلکہ جو انہوں نے علمی خلاصہ و نتیجہ  پیش کیا  اُسے یہ شخص زمانہ جاہلیت کی  سوچ قرار دیتا ہے ، اور اپنی اس سمجھ پر  اعتماد کرتا ہے جو بطور خود بچپن میں محسوس کیا کرتا تھا  ، اس علمی دقیق و پختہ شعور کے بغیر جو علمائے امت کو حاصل ہے  ، وہ اپنے اس کلام سے یہی بتانا  چاہتا ہے  کہ کسی بھی آیت کے کوئی  دقیق معنی ٰ نہیں ہوا کرتے ، جس کے استنباط (اَحکام نکالنے)  کے لئے علماء کی ضرورت  ہو ، حالانکہ اس کی یہ بات  خود قرآنِ کریم کے بھی خلاف ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

ولَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِى الْاَمْرِ مِنْـهُـمْ لَـعَلِمَهُ الَّـذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَه مِنْـهُـمْ (سورۃ النساء 83) 

اور اگروہ  اس معاملے کو رسول ﷺ اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو وہ اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ 

تکفیری فکرو سوچ ہر زمانے میں  اس آیت میں  تحریف کر کے پیدا کی گئی ہے ، اور تاریخ اسلام کے ہر دور میں اس آیت کے صحیح معنیٰ و مفہوم  کو جو اہل علم  حضرات بیان کرتے چلے آئے ہیں  ، اُسے چھوڑ کر خارجی  حضرات  اس آیت کے غلط معنیٰ و مفہوم بیان کر کے  بغاوت و قتل و غارت گری کرتے چلے آرہے ہیں ، جیسا کہ خطیب بغدادی  نے “تاریخ بغداد ” میں روایت کیا ہے “ابن ابن داؤد کہا کرتے تھے کہ :

خوارج میں سے ایک شخص مامون الرشید کے پاس پیش کیا گیا ، مامون نے پوچھا : تمہیں ہماری مخالفت پر کس چیز نے ابھارا ؟

اس نے کہا : کتاب اللہ کی ایک آیت نے ۔

مامون نے کہا کون سی آیت ؟ 

اس نے کہا  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّـٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْكَافِرُوْنَ (44)

مامون نے کہا : کیا تم یہ جانتے ہو کہ  یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُتاری گئی ہے ؟

اس نے کہا :جی ہاں 

مامون نے کہا : تمہارے پاس کیا دلیل ہے ؟

اس نے کہا : اِجماعِ امت (یعنی سارے مسلمان یہی کہتے ہیں  کہ یہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتاب ہے ، اس کے سِوا کوئی دلیل نہیں)

مامون نے کہا : جس طرح تم نے اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے پر اِجماعِ امت  کی بات مان لی ، اِسی طرح اس کی تفسیر کے معاملے  میں بھی اِجماعِ امّت کی بات مان لو! (کہ کافر وہ ہے جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کامنکر ہو ، وہ حاکم کافر نہیں جو اللہ کے نازل کردہ فیصلے کو  دل سے مانتا ہو ،لیکن عمل نہ کرے ) اِس پر اُس خارجی نے کہا  کہ آپ نے بالکل درست کہا ، اور السلام علیک یا امیر المومنین کہتا ہوا چلا گیا۔

(“تاریخ بغداد” حرف الھاء من آباء العبادلۃ .5330  ،عبداللہ امیر المومنین المامون بن ھارون الرشید….اِلخ ، 10/184.183 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے  ، سنتِ نبویﷺ اور منہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)




خوارج کبار صحابہ کے قاتل

خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی شہادت

خوارج کبار صحابہ کے قاتل
خوارج،کبار صحابہ کے قاتل
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت

حافظ عمر خطاب بهٹوی حفظہ اللہ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خوارج کی تاریخ میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ استدلالات  کی بنیاد پر امت کے کبار اور معزز لوگوں کو بھی قتل کرنے سے گریز نہیں کرتے ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار صحابہ کرام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، میں اس کو فرداً فرداً بیان کررہا تھا۔

چنانچہ  امت مسلمہ میں خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد سیدنا زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کا نام آتا ہے ۔اور ان کے بعد خوارج کے ہاتھوں اللہ کی جنتوں کے مہمان بننے والے جلیل القدر صحابی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں ،  ہم   ان کی شہادت کی دلدوز داستان بھی بیان کریں گے۔

یہاں اب سیدنا علی رضی اللہ عنہ  کی مختصر حالات زندگی اور فضائل ومناقب پر روشنی ڈالنا چاہوں گا تاکہ قاری پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے کہ خوارج اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے اسلام کے بدترین دشمن ہیں اور ان کا سب سے بڑا مشن اہل اسلام کو بچانا نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ان قائدین کو  دھوکے سے شہید کرنا ہے کہ جو امت محمدیہ  کے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔

حالات زندگی اور خدمات:

علی بن ابی طالب (599ء –661ء) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔ یہ نبیﷺکے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں بچپن میں نبیﷺ کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی۔اور انہی کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔ حضرت علی پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ کی عمر اس وقت تقریباً دس یا گیارہ سال تھی۔

 اسلام قبول کرنے کے بعد  ان پر بھی مشکلات آئیں۔ہجرت کے وقت نبیﷺکے بستر پر آرام کیا اور حالت یہ تھی گھر سے باہر قریش کے سارے قبائل کے بہترین حرب و جنگ کے ماہر لوگ نبیﷺ کو قتل کرنے کا خیال دل میں رکھے باہر کھڑے تھے اور موقع کا انتظار کر رہے تھے۔ہجرت کے بعد تمام غزوات میں نبیﷺ کے ہمراہ رہے۔خندق کے موقع پر قریش کے ایک بڑے سورما عمرو بن عبدودجو کہ خندق پار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اس کے مقابلے سے لوگ کتراتے تھے،اس کو قتل کیا۔خیبر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر فتح کروایا۔ایک غزوے میں نبیﷺ نے اپنا نائب بنایا ۔یہ کاتب نبیﷺ تھے ،چنانچہ جب سہیل نےصلح حدیبیہ کے موقع پر “رسول اللہ” کا لفظ مٹانے کو کہا تو انہوں نے انکار کردیا ،پھر نبیﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے وہ لفظ مٹایا۔وفات نبویﷺ کے بعد خلفاء ثلاثہ کے مشیر خاص رہے۔چنانچہ تمام خلفاء میں سے کسی نے بھی انہیں کسی غزوے میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی۔یہ صحابہ میں بہترین قاضی تھے ،اللہ نے معاملے کہ تہہ تک پہنچنے کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔یہ بہترین فقیہ تھے اور اہل علم اور کبار صحابہ میں سے شمار کئے جاتے تھے، چنانچہ جب صحابہ کسی مسئلے میں تردد کا شکار ہوجاتے تو ان سے رجوع کرتے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد امت نے انہیں بالاتفاق خلیفہ بنادیا۔(اختلافات اس بات پر تھے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ قاتلین عثمان سے فوراً بدلہ لیں لیکن جناب علی کا یہ خیال تھا کہ حالت کو سنبھل لینے دیں پھر ان کا قصاص لیں گے)

شہادت:

مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان  رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا۔ بعد میں ان میں اختلافات پیدا ہو گئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔ باغی جماعت کے بقیہ ارکان بدستور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد و پیش میں موجود رہے تاہم ان کی طاقت اب کمزور پڑ چکی تھی۔

چنانچہ جناب علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے جنگ نہروان میں  خارجیوں کی جڑ کا ٹنے کے بعدبھاگنے والے خارجیوں میں سے تین خارجی ابن ملجم، برک بن عبداللہ اور عمرو بن بکر تیمی اکٹھے ہوئے اور انہوں نے منصوبہ بنایا کہ حضرت علی، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں قتل کر دیا جائے۔

انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ تعالی کے ہاتھ خود ساختہ فروخت کیا، خود کش حملے کا ارادہ کیا اور تلواریں زہر میں بجھا لیں۔ ابن ملجم کوفہ آ کر دیگر خوارج سے ملا جو خاموشی سے مسلمانوں کے اندر رہ رہے تھے۔ اس کی ملاقات ایک حسین عورت قطام سے ہوئی ، جس کے باپ اور بھائی جنگ نہروان میں مارے گئے تھے۔ ابن ملجم ا س کے حسن پر فریفتہ ہو گیا اور اسے نکاح کا پیغام بھیجا۔ قطام نے نکاح کی شرط یہ رکھی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دےاور کچھ دنیاوی مال بطور حق مہر مانگا تو وہ کہنے لگا کہ میں صرف جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر سکتا ہوں تو وہ اسی پر راضی ہوگئی کہ وہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو قتل کردےاور اپنا ایک چچا زاد بھائی “وردان “اس کی مدد پر مامور کردیا۔  جب اس کے اس مقصد کا پتہ ایک اور خارجی شبیب کو چلا تو اس نے  ابن ملجم کو روکا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات کا حوالہ بھی دیا لیکن ابن ملجم نے اسے قائل کر لیا۔

اس نے نہایت ہی سادہ منصوبہ بنایا اور صبح تاریکی میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب فجر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف آ رہے تھے  تو اس نے آپ کے سر پرتلوار سے  حملہ کر کے آپ کو شدید زخمی کر دیا۔  اس کے بقیہ دو ساتھی جو حضرت معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہما کو شہید  کرنے روانہ ہوئے تھے، ناکام رہے۔ برک بن عبداللہ، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے گیا تھا، انہیں زخمی کرنے میں کامیاب ہو گیا لیکن انہوں نے اسے پکڑ لیا۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ اس دن بیمار تھے، اس وجہ سے انہوں نے فجر کی نماز پڑھانے کے لیے خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا تھا۔  خارجی عمرو بن بکر نےانہیں  عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دھوکے میں شہید کر دیا۔ اس کے بعد وہ گرفتار ہوا اور مارا گیا۔

جناب علی رضی اللہ  عنہ شدید زخمی تھے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں کچھ وصیتیں کرنے کا وقت دے دیا، چنانچہ انہوں نے چند وصیتیں کیں ،جو وصیتیں ان کے ذات پر کیچڑ اچھالنے والے کے منہ پر زبردست طمانچہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔چنانچہ ان کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں:

آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا:

میں تمہیں اور اپنی تمام اولاد اور اپنے تمام گھر والوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہارا رب ہے۔ اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ صرف اسلام ہی کی حالت میں جان دینا۔ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اپنے رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنا، اس سے اللہ تم پر حساب نرم فرما دے گا۔ یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرنا، ان پر یہ نوبت نہ آنے دینا کہ وہ اپنی زبان سے تم سے مانگیں اور نہ ہی تمہاری موجودگی میں پریشانی میں مبتلا ہوں۔ اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ سے پڑوسیوں کے حقوق کے بارے میں بھی ڈرنا کیونکہ تمہارے نبیﷺ کی نصیحت ہے۔

(طبری:3/2،355)

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

تمہارے موجود ہوتے ہوئے کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔ اپنے نبی کے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔پشت دکھانے، رشتوں کو توڑنے اور تفرقہ سے بچتے رہنا۔ نیکی اور تقوی کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اور نافرمانی اور سرکشی میں کسی کی مدد نہ کرنا۔ اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اللہ تعالی تمہاری ، تمہارے اہل خاندان کی حفاظت کرے جیسے اس نے تمہارے نبی کریمﷺ کی حفاظت فرمائی تھی۔ میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتا ہوں۔

(طبری:3/2،356)

ان وصیتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں آپ کی رائے کیا تھی؟ آپ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خاص کر اس بات کی تلقین فرمائی کہ صحابہ کرام کو ساتھ ملایا جائے، ان سے تفرقہ نہ پیدا کیا جائے اور انہی کے ساتھ رہا جائے خواہ اس کے لیے انہیں کسی بھی قسم کی قربانی دینا پڑے۔ چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت حسن نے یہی کیا اور  قربانی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی، جس پر ملت اسلامیہ قیامت تک فخر کرتی رہے گی۔

اپنے قاتل کے بارے میں  حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا وصیت فرمائی:

بنو عبدالمطلب! کہیں تم میری وجہ سے مسلمانوں کے خون نہ بہا دینا،  اور یہ کہتے نہ پھرنا کہ امیر المومنین قتل کیے گئے ہیں (تو ہم ان کا انتقام لے رہے ہیں) سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا۔ حسن! اگر میں اس کے وار سے مر جاؤں تو قاتل کو بھی ایک ہی وار میں ختم کرنا کیونکہ ایک وار کے بدلے میں ایک وار ہی ہونا چاہیے۔ اس کی لاش کو بگاڑنا نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ تم لوگ مثلہ سے بچو ۔

(طبری:3/2،356)

اس کے بعد21 رمضان 40ھ کوفجر کی نماز کے وقت اسلام کا یہ بطل جلیل خوارج کی چالاکیوں کا شکار ہوکر ہمیشہ کیلئے امت محمدیہ کو داغ مفارقت دے گیا ۔

انا للہ وانا الیہ راجعون

اس کے بعد اس خارجی کو بھی قصاصاً قتل کردیا گیا۔          

“خس کم جہاں پاک”




کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟؟.

کیا خوارج آج بھی موجود ہیں؟

الحمدللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ! وبعد:

آج بہت سے مسالک بھی ایک دوسرے کو خوارج کہتے ہیں، آخر وہ کیا چیز ہے جو خوارج کو دراصل ممتاز اور نمایاں کرتی ہے؟ 

خوارج کی پہچان انکے (نہایت بھیانک اور) گمراہ فکر و عقیدے اور پھر اسی کی بنیاد پر اسلامی ریاستوں، مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں میں بغاوت، قتل و غارت گری اور اموال کو لوٹنے جیسے اعمال سے مشروط ہے.
اس بدترین گروہ کا شمار موجودہ مسالک یا مذاہب اربعہ میں سے کسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ایک الگ گروہ ہے، جو تمام مذاہب و مسالک سے اپنا حصہ حاصل کرسکتا ہے. اور اس فتنہ خوارج نے قرآن و سنت کے مطابق،دین اسلام کے ابتدائی دور سے لیکر قیامت کی دیواروں تک، کسی نہ کسی تنظیم یا گروہ کی شکل میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے.

جیسا کہ امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کانوا أهل سيف وقتال، ظهرت مخالفتهم للجماعة؛ حين کانوا يقاتلون الناس. وأما اليوم فلا يعرفهم أکثر الناس.. . . ومروقهم من الدين خروجهم باستحلالهم دماء المسلمين وأموالهم.

(ابن تيمية، النبوات : 222)

”وہ اسلحہ سے لیس اور بغاوت پر آمادہ تھے، جب وہ لوگوں سے قتال کرنے لگے تو اُن کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت سے مخالفت و عداوت ظاہر ہوگئی۔ تاہم عصرِ حاضر میں (بظاہر دین کا لبادہ اوڑھنے کی وجہ سے) لوگوں کی اکثریت انہیں پہچان نہیں پاتی۔ ۔ ۔ ۔ وہ دین سے نکل گئے کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خون اور اَموال (جان و مال) کو حلال و مباح قرار دیتے تھے”۔
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
وهؤلاء الخوارج ليسوا ذلک المعسکر المخصوص المعروف فی التاريخ، بل يخرجون إلی زمن الدجّال.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 495، 496)

“اور یہ خوارج (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد کا) وہ مخصوص لشکر نہیں ہے جو تاریخ میں معروف ہے بلکہ یہ دجال کے زمانے تک پیدا ہوتے اور نکلتے رہیں گے۔”
پھر آخر میں ابن تیمہ رحمہ اللہ فیصلہ کن طور پر لکھتے ہیں:
وتخصيصه صلی الله عليه وآله وسلم للفئة التی خرجت فی زمن علی بن أبی طالب، إنما هو لمعان قامت بهم، وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم، لأن التخصيص بالذکر لم يکن لاختصاصهم بالحکم، بل لحاجة المخاطبين فی زمنه عليه الصلاة والسلام إلی تعيينهم.

(ابن تيميه، مجموع فتاوٰی، 28 : 476، 477)

اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُس ایک گروہ کو خاص فرمانا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نکلا تھا، اس کے کئی معانی ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں۔ ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا۔ کیونکہ ان کا خاص طور پر ذکر کرنا ان کے ساتھ حکم کو خاص کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے ان مخاطبین کو (مستقبل میں) ان خوارج کے تعین کی حاجت تھی”۔
دین محمدیہ میں شریعت اسلامی کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک کھڑی کرنا اور مسلمانوں میں امن و عامہ کو تباہی سے دوچار کرنا خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔اس پر تاریخ گواہ ہے۔
ہم اپنی اس تحریر کا اختتام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اسی قول پر کرتے ہیں کہ:
“وکل من وجدت فيه تلک المعانی ألحق بهم”
“ہر وہ شخص یا گروہ جس میں وہ صفات پائی جائیں اسے بھی ان کے ساتھ ملایا جائے گا”۔

اللہ تمام مسلمانوں پر رحم فرمائے۔ آمین




داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت (جدید ایڈیشن)۔

داعش اور شریعت پوسٹ

داعش اور شریعت

(جدید ایڈیشن)

ایک تحقیقی جائزہ 

مصنف : مناظر اسلام فضیلۃ الشیخ محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ 

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

ٹوٹل صفحات :176 

سائز : 4 ایم بی

ڈاؤنلوڈ لنک :https://archive.org/details/Daesh_aor_shariat_aek_jaeza_201706

خارجی تنظیم داعش نے اپنی خود ساختہ جھوٹی خلافت کے نام پر امت مسلمہ کا بے دریغ خون بہایا، اسلام کے نام پر ایسے ایسے قبیح اور شنیع جرائم کا ارتکاب کیا کہ جس کا کسی بھی صورت میں دین اسلام سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

اس کتاب میں مناظر اسلام محمد یحیی عارفی حفظہ اللہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں داعش کے تمام جرائم کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی جائزہ اور ان کے غلط استدلال کا رد پیش کر کے ان خوارج کے قبیح چہرے کو خوب واضح کیا ہے ۔

78b33a42-a4bd-488a-aa34-359eeb6310eb

مکتبہ رد فتن 




تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش (جدید ایڈیشن)۔

تلبیسات داعش پوسٹر

تلبیسات داعش

(جدید ایڈیشن)

داعش کے گمراہ کن نظریات کا تعاقب

مصنف : فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفطہ اللہ تعالی

نظر ثانی : فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالی 

ٹوٹل صفحات : 128

ڈاؤنلوڈ لنک : https://archive.org/details/Talbisat_Daesh 

سائز : 3 ایم بی

داعش امت مسلمہ کے لئے ایک خطرناک فتنہ بن کر ابھرنے والی ، خوارج کے افکار کو پروان چڑھانے والی تنظیم جو بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے ذہنوں میں مختلف قسم کے اشکالات اور شبہات پھیلا کر مسلمانوں کو دھکا دے رہی ہے ۔

اس کتاب میں فضیلۃ الشیخ مفتی عبد العزیز نعیم حفظہ اللہ نے اس خارجی تنظیم کے مسلمانوں میں پھیلائے گئے اشکالات و شبہات کا تعاقب کرتے ہوئے قرآن و سنت کے روشنی میں مدلل اور تحقیقی جواب پیش کیا ہے ۔ 

866fac73-4980-4f4e-9ea4-9deb230552ea

مکتبۃ رد فتن 




حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

حکمران کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار2

حکمرانوں کو نصیحت کرنے کا شرعی طریقہ کار

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

موجودہ زمانے کے مسلم ممالک میں مسلم حکمرانوں پر غلط طریقہ کار سے  تنقید اور ان کی برائیوں کو اچھالا جاتا ہے جس کی ایک حد تک شریعت سے ہمیں بالکل اجازت نہیں ملتی ۔ حکمران چاہے جیسے بھی ہوں کتنے ہی گناہ گار کیوں نہ ہوں جب تک وہ مسلمان ہیں ، اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، مسلمان انہیں اپنا حکمران سمجھتے ہیں تب تک ان کے ساتھ ایسے رویہ اختیار کرنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ملتی۔ 

اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہ سے کہا گیا: اگر آپ فلاں (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ صحیح مسلم ح: 2989 میں ہے) کے پاس جا کر گفتگو کرتے !! تو آپ نے فرمایا : تمہارا خیال ہے کہ میں ان سے گفتگو کروں تو تمہیں سنا کر اعلانیہ کروں !! میں خفیہ طور پر ان سے گفتگو کروں گا ۔

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے : اللہ کی قسم میں نے اپنے اور ان کے درمیان (خفیہ طور پر) ان سے گفتگو کی ہے ،  بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو جاؤں۔

(صحیح بخاری حدیث نمبر 7098،3267،اور مسلم 2989)

چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے  امیر باعظمت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکمت کا اسلوب اپنایا کیونکہ امیر و حاکم کی نصیحت میں اس کے مقام و مرتبہ کی رعایت ضروری ہے ،اس لئے کہ لوگوں کے ساتھ  ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق  معاملہ کرنا حکمت  کی اساس ہے ،اسی  لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے : حدیث (مذکور) میں  امراء کی تعظیم ملحوظ رکھنے اور ان کے ساتھ ادب سے پیش آنے نیز لوگ ان کے سلسلہ میں جو کچھ کہتے ہیں اس کو ان تک پہنچانے کا بیان ہے (اس سے غیب و چغلی اور لگائی بجھائی کے طور پر لوگوں کی باتیں پہنچانا مقصود نہیں) تا کہ وہ باز رہیں اور نرمی اور حسن ادائیگی کے ساتھ ان سے ہوشیار رہیں،اس بات کے پیش نظر کہ کسی کی ایذا رسانی کے بغیر مقصود حاصل ہو جائے۔

(فتح الباری 13/53، نیز دیکھئے: شرح نووی 328)

 انکار منکر کی شرط یہ ہے کہ اس سے بڑا منکر لازم نہ آئے، کیونکہ انکار منکر کے جیسا کہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا ہے درج ذیل چار درجے ہیں:

🔵پہلا درجہ: منکر زائل ہو جائے اور اس کی جگہ اس کی ضد (معروف) آجائے۔

🔴دوسرا درجہ : منکر بالکلیہ زائل نہ ہو بلکہ کم ہو جائے۔

🔵تیسرا درجہ: منکر کی جگہ ویسا ہی دوسرا منکر آجائے۔

🔴چوتھا درجہ: منکر کی جگہ پہلے سے بڑا منکر آجائے۔

مذکورہ درجات میں سے ابتدائی دو درجے تو مشروع ہیں اور تیسرا محل اجتہاد ہے اور چوتھا درجہ حرام ہے۔(اعلام الموقعین عن رب العالمین 3/16)

امام نووی رحمہ اللہ اسامہ رضی اللہ عنہ کے قول”بجائے اس کے کہ میں ایک ایسا دروازہ کھولوں،کہیں اسے سب سے پہلے کھولنے والا میں ہی نہ ہو ں “ کے سلسے میں فرماتے ہیں:ان کا مقصد امراء کو ان کی رعایا کے درمیان علانیہ تنبیہ کرنا ہے جیسا کہ قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین  عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا،اس میں امراء کے ساتھ ادب، نرمی ، انہیں خفیہ نصیحت اور لوگ جو کچھ ان کے بارے میں کہتے ہیں اسے ان تک پہنچانے کا بیان ہے تا کہ وہ اس سے باز رہیں…۔

(شرح نوووی 18/329)

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ  رعایا کے سامنے اور ان کی موجودگی میں مسلمانوں کے ولی امر کو علانیہ طور پر تنبیہ کرنا عام طور پر بہت بڑے شر و فساد  کا سبب ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کا نتیجہ اختلاف و افتراق یا امام المسلمین کے خلاف بغاوت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، اور ولی امر کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بھلائی کا حکم دے اور انہیں برائی سے روکے،پھر اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ اس سے خامی کا صدور ہو کیونکہ وہ بشر ہے، لیکن اس کی اصلاح خفیہ  طور پر  حکمت اور محمود رواداری کے ساتھ کی جائے، اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جائے اور انتہائی متانت اور سنجیدگی سے اسے نصیحت کی جائے،یہی طریقہ قبولیت کے لائق ہے۔

( فتح الباری 13/52 ، عمدۃ القاری 15/166)

سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: مسلمانوں کے آئمہ و امراء کے عیوب  و نقائص کی تشہیر اور انہیں منبروں پر بیان کرناسلف کا طریقہ نہیں ہے ، کیونکہ یہ تباہی و بربادی اور سمع و اطاعت نہ کرنے نیز اس بغاوت کا سبب ہے، جو سراپہ نقصان دہ ہے البتہ سلف صالحین کے یہاں معمول بہ طریقہ یہ تھا  کہ نصیحت ان کے اور ولی امر کے مابین ہوتی تھی اور خط و کبابت ہوا کرتی تھی یا ان علماء سے ملاقات ہوا کرتی تھی جو امراء و حکام سے تعلق رکھتے ہوں ،تاکہ انہیں بھلائی کی نصیحت کی جائے ، اور انکار منکر (برائی پر تنبیہ)کا طریقہ کار یہ ہے کہ منکر کے مرتکب کا ذکر کئے بغیر  انکار کیا جائے ،چنانچہ زنا کاری ،شراب نوشی ، اور سود خوری وغیرہ پر مرتکب کا ذکر  کیے بغیر تنبیہ کی جائے،اسی طرح گناہوں پرنکیر اور اس سے اجتناب کی تلقین بھی فاعل کا ذکر کیے بغیر کافی ہے،فاعل کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں خواہ حاکم ہو یا محکوم…۔

(حقوق الراعی والرعیہ، کے اخیر میں طبع شدہ  سماحۃ الشیخ علامہ  محقق شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ   کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں،ص 27،28)




حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران سے خیر خواہی آخر کیسے ؟

حکمران کی خیر خواہی آخر کیسے؟؟

حکمران کی  خیر خواہی آخر کیسے ؟ 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

حکومت ، سلطہ اور جاہ جلال ایسی چیز ہےکہ جہاں ہر کسی کا اپنی مرضی کرنے کو جی چاہتا ہے تبھی تو وہ کئی گناہوں کو بالکل معمولی سمجھتے ہوئے کر گزرتا ہے ، جہاں اسے نظر آ رہا ہوتا ہے کہ اتنے کروڑوں  عوام میں تحت ہیں ، میں جو بھی کرنا چاہوں وہ ہو گا ۔ تو ایسے میں اللہ کی یاد اس کا ڈر ، خوف اور بھی کم ہو جاتی ہے ، اسی لئے تو رسول اللہ ﷺ نے حکمرانوں کی کوتاہیاں اور برائی اچھالنے کی بجائے انہیں نصیحت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ آئیے اسی کے پیش نظر کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے ؛ 

تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((الدين النصيحة، قلنا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم))

(مسند احمد404،403/3 ومستدرک حاکم: 290/3)

“دین خیرخواہی ہے۔ہم نے پوچھا: کس سے؟ آپ نے فرمایا: اللہ سے،اس کی کتاب سے،اس کے رسول سے،مسلمانوں کے اماموں سے اور عام مسلمانوں سے۔

اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:

((نضَّر الله امرأً سَمِع مقالتي فوَعَاها وحَفِظها وبَلَّغها، فرُبَّ حامل فِقْه إلى مَن هو أفقه منه، ثلاث لا يغلُّ عليهنَّ قلبُ مسلم: إخلاصُ العمل لله، ومناصحة أئمة المسلمين، ولزوم جماعتهم؛ فإنَّ الدَّعْوة تُحيط من ورائهم))

(فتح الباری 72،71/13)

اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اسے محفوظ رکھے اور دوسروں تک پہنچائے ، کیوں کہ بہت سے علم کی سمجھ رکھنے والے علم کو اس تک پہنچادیتے ہیں جو ان سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان کا دل دھوکہ نہیں کھاسکتا،(۱) عمل خالص اللہ کے لیے (۲) مسلمانوں کے ائمہ کے ساتھ خیر خواہی (۳) اور مسلمانوں کی جماعت سے جڑ کر رہنا ، کیوں کہ دعوت ان کا چاروں طرف سے احاطہ کرتی ہے۔

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی بات کے سننے اور اس کو اپنے دل و دماغ میں بٹھانے،یاد کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے والے کے حق میں خوشی،چہرے کی تروتازگی اور اس کے حسن و جمال کی دعا فرمائی ہے جو ایمان کے آثار اور باطن کے اس سے روشن ہونے نیز دل کے مسرت  و شادمانی سے ہمکنار اور لذت یاب ہونے کے سبب چہرے کو عطا ہوتی ہے،چنانچہ جو ان چاروں مراتب کو انجام دے گا وہ نبی ﷺ کی ظاہر و باطن کے حسن  و جمال پر مشتمل دعا سے فیضیاب ہو گا۔

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم 1/276.274،بتحقیق علی بن حسن بن عبدالحمید)

امام ابن قیم  رحمہ اللہ  مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

  • نبی ﷺ کا فرمان: اور مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی…..۔

یہ چیز بھی  خیانت اور دھوکہ دہی کے منافی ہے کیونکہ خیر خواہی اور خیانت دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے بلکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں،چنانچہ جو شخص آئمہ و امراء اور امامت(رعایا) کی خیر خواہی کرے گا وہ خیانت سے بری ہو گا۔ 

(مفتاح دارالسعادۃ لابن قیم: 1 /275 تا 278)

علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

مسلمانوں کے امام وامراۃ کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں ان کی درستی, نیکی اور عدل و انصاف سے محبت کرنا نیز ان کے ہاتھوں پر امت کے اتفاق سے محبت اور ان پر امت کے اختلاف و افتراق کو ناپسند کرنا،اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کو نیکی سمجھنا ان کے خلاف بغاوت کے جواز کا عقیدہ رکھنے والے سے بغض رکھنا اور اللہ کی اطاعت میں ان کے غلبہ و سربلندی کو پسند کرنا۔

(جامع العلوم والحکم: 1/222)

ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:

مسلمانوں کے آئمہ و امراء کی خیر خواہی کے معنیٰ ہیں حق پر ان کی مدد کرنا،اطاعت کرنا،انہیں حق کی نصیحت کرنا،نرمی و ملائمت سے انہیں تنبیہ کرنا،ان سے اختلاف کرنے اور لڑنے جھگڑنے سے احتراز کرنا اور ان کے لئے توفیق کی دعا کرنا نیز غیروں کو اس پر ابھارنا۔

(مرجع سابق 1/223 نیز مسلمانوں کے امراء کی اطاعت کے بارے میں ملاحظہ فرمائیں: فتاویٰ ابن تیمیہ 28/391،390،ومنہاج السنۃ النبویہ 3/390)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مسلمانوں کے امراء کی اطاعت اور انکی خیر خواہی کا حکم دیا ہے وہ انسان پر بعینہ اسی طرح واجب ہےجس طرح پانچ وقت کی نمازیں ،زکاۃ، روزہ ،حج بیت اللہ اور ان کے علاوہ دیگر وہ  اعمال واجب ہیں جن  کی بجا آوری کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اگرچہ اس نے اس کا معاہدہ نہ کیا ہو اور اس کے لیے پختہ خلاص نہ اٹھائی ہو، اور اگر وہ اس پر قسم کھالے تو یہ چیز امراء  کی اطاعت اور ان کی خیرخواہی کے سلسلہ میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی مزید تاکید وتثبیت ہوگی،  چنانچہ ان کی باتوں کی قسم کھانے والے کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قسم شدہ امر  کی خلاف ورزی کرے…. کیوں کہ اللہ عزوجل نے حکمرانوں اورامراءکی اطاعت اور خیرخواہی کو واجب قرار دیا ہے، وہ یوں بھی  واجب ہے  خواہ وہ  قسم نہ بھی کھائے ،تو اب جبکہ اس نے  قسم کھالی ہے ان کی اطاعت اس پر بدرجہ اولیٰ واجب ہوگی ،اسی طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نےجوان کی  نافرمانی اور خیانت سے منع فرمایا ہے وہ اس پر حرام ہیں خوا ہ  اس نے قسم نہ بھی کھائی ہو ۔

(فتاوی ابن تیمیہ 35/10،9)

اور آئمہ و امراء کو نصیحت ان کے اور ناصح کے مابین نرمی و ملائمت ،  حکمت  و دوراندیشی ،  عمدہ نصیحت اور مناسب اسلوب میں خفیہ طور پر ہوگی۔ 

شیخ علامہ عبدالرحمان بن ناصر سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رہا مسلمانوں کے آئمہ کی خیر خواہی کا مسئلہ:تو مسلمانوں کے آئمہ سے مراد سلطان اعظم سے لیکر امیر و قاضی تک ان کے امراء اور ذمہ داران ہیں،چونکہ ان لوگوں کے فرائض اور ذمہ داریاں دوسرے لوگوں سے بڑھ کر ہیں،اس لئے ان کے مقام و مرتبہ کے اعتبار سے انہیں نصیحت کرنا واجب ہے،اس بات کے پیشِ نظر ان کی امامت کا اعتقاد رکھا جائے،ان کی ولایت ( حکمرانی) کا اعتراف کیا جائے،معروف میں ان کی اطاعت کی جائے،ان کے خلاف بغاوت نہ کی جائے،رعایا کو ان کی اطاعت اور ان کے حکم کی تعمیل پر ابھارا جائے،بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو،اپنی استطاعت بھر انہیں نصیحت اور اپنی رعایا کی دیکھ بھال  کے سلسلے میں جو چیزیں ان سے مخفی ہوں ان کی وضاحت کی جائے ـہر شخص اپنے اعتبار سےـ ان کی اصلاح و درستی اور تو فیق کیلئے  دعا کی جائے کیونکہ ان کی بہتری میں رعایا کی بہتری ہے ،انہیں برا بھلا کہنے،ان کی عیب جوئی  اور انکی خامیوں اور برائیوں کو  عام کرنے سے باز رہا جائے،کیونکہ اس میں برائی ،نقصان اور بہت بڑا فساد ہے،چنانچہ ان کی خیر خواہی کا تقاضہ  یہ ہے کہ ان چیزوں سے بچا جائے اور دوسروں کو تنبیہ کی جائے،اور جو شخص ان کی جانب سے کوئی نا جائز چیز دیکھے اسے چاہیے کہ انہیں علانیہ  نہیں بلکہ خفیہ طور پر نرمی اور ایسے اسلوب میں تنبیہ کرے  جو برمحل ہو  اور مقصود حاصل ہو جائے،کیونکہ ہر شخص بالخصوص  امراء اور حکام کے حق میں  یہی چیز مطلوب ہے،کیونکہ انہیں اس طرح تنبیہ کرنے میں بڑی خیر ہے، اور یہ سچائی اور اخلاص کی علامت ہے ،اور اس (مذکورہ طریقہ پر) نصیحت کرنے والے!دیکھنا لوگوں کی مدح سرائی آپ کی نصیحت  کو ضائع و برباد  نہ کردے،اس لئے کہ آپ لوگوں کو کہتے پھریں کہ میں نے انہیں نصیحت کی ہے اور ایسا ایسا کہا ہے،کیونکہ یہ ریا کاری اور ضعف اخلاص کی علامت ہے،اور اس کے دیگر نقصانات بھی ہیں جو معروف ہیں۔

(الریاض الناضرۃ والحدائق النیرۃ الزاہرہ،ص38تا 49)




خوارج کے فرقے

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

خوارج کے فرقے

 

خوارج کے فرقے،القاب اور نام

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

خارجیوں کے بہت سے فرقے اور جماعتیں ہیں،لیکن یہ سب خروج و بغاوت  اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ کر الگ رہنے پر متفق ہیں،ان کا سب سے مشہور نام “خوارج”ہے ، ان کو حروریہ بھی کہا جاتا ہے،کیونکہ ابتدائے امر میں کوفہ کے قریب ”حروراء “ نامی جگہ سے یہ لوگ نکلے تھے۔

⬅️ ان کا ایک نام مارقہ بھی ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ نبیﷺ نے ان کے متعلق فرمایا:

“يمرقون من الدين”

وہ دین سے نکل جائیں گے۔

(بخاری4094) 

⬅️ ایک نام مکفرہ بھی ہے(یعنی تکفیر کرنے والے)کیونکہ یہ اپنے مخالفین،اور گناہ کرنے والوں  کو کافر قرار دیتے ہیں ۔

⬅️ ان کا ایک نام شُراۃ بھی ہے (یعنی خریدنے والے)کیونکہ انکا گمان تھا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لیا ہے،اور اسے جنت کے بدلے بیچ دیا ہے۔

⬅️ پہلے کے خارجیوں میں سب سے سخت قسم کے ازارقہ  تھے،جو نافع بن الازرق الحنفی کے پیروکار تھے،خوارج کے فرقوں میں  سے کوئی فرقہ ازراقہ سے زیادہ طاقتور اور ان سے زیادہ تعداد والا نہیں تھا،یہ لوگ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کے زمانہ خلافت میں نافع کے ساتھ بصرہ سے نکل کر اہواز کی جانب گئے،اور اہواز اور اس کے آس پاس کے علاقوں اور اس کے ماوراء فارس اور کرمان کے شہروں پر قبضہ کر لیا ،اون ان علاقوں میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما   کے گورنروں کو قتل کر دیا۔

یہ ازارقہ خوارج کے تمام فرقوں میں سے  سب سے زیادہ انتہاپسند تھے ،ان کے کچھ منفرد اعتقادات تھے، جن کی وجہ سے وہ خوارج کے دیگر فرقوں سے الگ ہو گئے،ان کے وہ عقائد یہ ہیں:

🔵انہوں نے شادی شدہ زانی پر رجم کے شرعی حکم کو باطل قرار دیا۔

🔴جو شخص شادی شدہ مرد پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف نہیں ہے۔

🔵جو شادی شدہ عورت پر زنا کی تہمت لگائے،اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔

🔴انہوں نے چور کا ہاتھ کندھے کے پاس سے کاٹا،اور اس سزا کو انہوں نے ہر قسم کی چوری پر واجب کیا،خواہ چوری کیا ہوا مال کتنا ہی کم ہو۔

🔵انہوں نے حائضہ عورت پر حالت حیض میں نماز اور روزہ واجب قرار دیا۔

🔴انہوں نے ان تمام عورتوں اور بچوں کے خون کو مباح قرار دیا،جو ان کے خیمے(ان کی جماعت)کے نہیں تھے۔

🔵جو لوگ ان کے پاس ہجرت کر کے آتے تھے،ان کے سلسلے میں ان کا یہ معمول اور طریقہ کار تھا کہ ان میں سے ہر ایک کا امتحان لیتے تھے ، امتحان کی صورت یہ ہوتی تھی کہ اپنے مخالفین کے قیدیوں میں سے  ایک قیدی اس کے حوالے کر کے حکم دیتے تھے کہ اسے قتل کرو،اگر وہ قیدی کو قتل کر دیتا تو اس کو جماعت کی رکنیت کا پروانہ دیدیتے،ورنہ اسے قتل کر دیتے۔

🔵ان کا گمان تھا کہ ان کے مخالفین کے بچے مشرک ہیں، اور ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا تھا کہ ان کے مخالفین کے علاقے دیار کفر ہیں،اور ان کی امانتوں کو واپس کرنا واجب نہیں۔

🔵وہ یہود و نصاری اور مجوسیوں کا قتل حرام قرار دیتے ہیں۔

🔴ان کا کہنا ہے کہ جس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا وہ کافر ہے، اس کے سبب وہ اسلام سے مکمل طور پر خارج ہو گیا،اور دوسری ملتوں کے کفار کے ساتھ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔

🔵تحکیم کے معاملے میں وہ علی رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دیتے ہیں،اور دونوں حکم ابو موسیٰ اشعری اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو ،اور اسی کے ساتھ عثمان، طلحہ، زبیر، عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اور ان کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کو بھی کافر قرار کہتے ہیں،اور یہ کہ وہ سب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

🔴ان کے موافقین اور متبعین میں سے جو شخص ہجرت کر کے ان کے علاقے میں نہیں آیااسے یہ مشرک گردانتے ہیں،خواہ وہ ان کے مذہب اور ان کے عقیدے میں ان کے موافق ہی کیوں نہ ہو۔

ان سب کے علاوہ بھی ان کی بدعتیں اور ہاکت خیز و تباہ کن گمراہیاں ہیں،دیکھیں

(تاریخ الطبری5/528،566،614،613،568)ومقالات الاسلامیین(1/157-162)

خوارج کے نت نئے طریقوں اور منصوبوں کی بنا پر ان کے نئے نئے نام اور القاب بھی سامنے آتے رہتے ہیں ، یا تو عوام الناس ان کو یہ نام و القاب  دیتے ہیں، یا وہ خود اپنے اوپر ان کا اطلاق کر لیتے ہیں، اس سے انہیں لوگوں سے اپنی حقیقت چھپانا مقصود ہوتا ہے ، ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنا، اور اپنے گھناؤنے افعال کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے، جیسے ہمارے موجودہ زمانے میں ان خوارج کو القاعدہ، الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام یعنی ”داعش“ اور الجبہۃ النصرۃ ، بوکو حرام ، تحریک طالبان پاکستان ، جماعت الاحرار وغیرہ ناموں سے جانا جاتا ہے۔

⬅️ خوارج کے فرقوں میں سب سے زیادہ خبیث اور بد ترین فرقہ ”القعدیہ“ ہے ، ان کا کام صرف زبان کے زریعے حکمران کے خلاف خروج و بغاوت کرتے ہوئے آگ بھڑکا کر رکھنا ہوتا ہے ، اور غیر محسوس انداز میں یہ مسلم حکومت وقت کے خلاف مسلح باغیوں کی فوج تیار کر رہے ہوتے ہیں ، ان کی ذہن سازی اور دلائل مہیا کر رہے ہوتے ہیں ، اعلانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ حاکم کے عیوب و نقائص ذکر کر کے اور ان کی اچھی سیرت و کردار کی غلط تصویر کشی کر کے ان کے خلاف عوام کو ورغلاتے ہیں، اور حکومت و ریاست میں ان سے مزاحمت کرتے ہیں۔

فرقہ قعدیہ کے حوالے سے ہماری ویب سائٹ پر الگ سے ایک مضمون شائع کیا جا چکا ہے شائقین یہاں سے قعدیہ بدترین فرقہ خوارج کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔ 




عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم باتیں

 عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم  باتیں 

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

عقیدہ خوارج سے متعلق چند اہم نکات جن کا علم ہونا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے ، وگرنہ وہ جانے انجانے میں خوارج کی صف میں شامل ہوسکتا ہے،ہم ان  اصول کو آسان الفاظ میں بیان کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ملاحظہ کیجیے ؛ 

  • مسلمانوں کے آئمہ  و امراء کے خلاف بغاوت کرنا کتاب و سنت سے حرام ہے۔
  • مسلمانوں کے ذمہ داروں مثلاً حکام اور علماء و امراء کی اطاعت معروف و بھلائی میں رعایا پر واجب ہے،اس میں کوئی شک نہیں۔
  • ہر وہ شخص جو ایسے امام کے خلاف بغاوت کرے جس پر مسلمانوں کی جماعت متفق ہو اور کبیرہ گناہ کی بنیاد پر اس کی تکفیر کرے اسے خارجی کہا جائے گا،اس کے حق میں حکومت وقت کے لئے حکم شرعی نافذ کرنا ضروری ہو جاتا ہے وگرنہ یہ مزید لوگوں کے عقائد میں خرابی پیدا کرے گا۔
  • تکفیر کے کچھ اصول ہیں جنہیں جاننا اور ازبر کرنا ضروری ہے،یہاں تک کہ طالب علم اپنے معاملے سے آگاہ ہو جائے۔
  • علم شرعی کے طلب گار کیلئے تکفیر کےضوابط کی معرفت بہت اہم ہے۔
  • تکفیر کے کچھ موانع ہیں جنہیں جانناضروری ہے۔
  • اہل سنت و جماعت تمام فرقوں میں متوسط و معتدل ہیں خواہ تکفیر کے مسئلہ میں یا دیگر مسائل میں ،اللہ سبحانہ و تعالی نے اس امت کے بارے میں ارشاد فرمایا:
    وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا 
    ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول [ﷺ] تم پر گواه ہوجائیں

(البقرۃ: 143)

  • تکفیر کا مسئلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ  کا حق ہے،لہذا کافر وہی ہے جسے اللہ اور اس کا رسول کافر قرار دیں۔
  • کسی بھی شخص پر کفر کا حکم لگانے سے پہلے چاہیے کہ بغیر علم اللہ کی ذات پر بات کہنے کے اندیشہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس میں بارہا غور و فکر کر لیا جائے ، کیونکہ جس کسی انسان پر کفر کا حکم لگایا جائے ، اس پر شریعت اسلامیہ میں موجود مرتد کے احکام کی تنفیذ ضروری ہو جاتی ہے جو کہ متفقہ طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے اس فریضہ کو اگر ہر کوئی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے گا معاشرے فساد اور تباہ بربادی کا شکار ہو گا اور یہ ہر گز بھی اسلام کے حق میں نہیں ہے ۔
  • تکفیر کے مسئلہ میں اہل سنت و جماعت کا مستند کتاب و سنت پر اجماع ہیں۔
  • اہل سنت و جماعت کے مخالف فرقے احوال و مقاصد کے اعتبار سے مختلف ہیں،چنانچہ ان میں سے کچھ کافر ہیں،کچھ فاسق،ظالم اور گمراہ ہیں،اور کچھ خطاکار ہیں،جن کی مغفرت کا امکان ہے،اس بات کی وضاحت میں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ،امام ابن القیم،اور شیخ عبد الرحمان بن ناصر سعدی رحمہم اللہ کے اقوال پچھلے مضامین میں بیان کیے جا چکے ہیں ۔
  • شریعت اسلامیہ اہل قبلہ میں سےکسی پر بھی کفر کا حکم نہیں لگاتی،یہاں تک کہ اسے کھول کھول کر بتا دیا جائے،دلیل کے ساتھ حق کی راہنمائی کر دی جائے،وضاحت کے بعد فاسد عقلوں منتشر ذھنوں میں ابھرنے والے شبہات زائل کر دیئے جائیں، چنانچہ اس کے بعد بھی اگر کوئی اپنے کفر پر بدستور مصر (اڑا) رہے تو پھر حکومت وقت اس کے لئے کامیاب علاج موجود ہے، اور وہ شریعت اسلامیہ میں مرتد کے احکام ہیں، اس سے توبہ کرائی جائے گی،اگر توبہ کرلے تو ٹھیک وگرنہ اسے کفر وارتداد کی سزا میں حکومت وقت قتل کا فیصلہ سنا دے گی ، حکومت کے علاوہ کسی کو بھی کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ حدود کے نفاذ کو اپنے ہاتھ میں لے اس سے معاشرے میں مزید انارکی پھیلنے کا شدید اندیشہ ہو سکتا ہے ۔ 
  • دلیل و برھان کے ساتھ حق کی معرفت اور یہ کہ سابقہ دلائل کی روشنی میں نجات یافتہ جماعت”اہل سنت و جما عت“ ہی ہے اور ان کے علاوہ جو فرقے ہیں وہ حق پر نہیں بلکہ اپنے حالات کے اعتبار سے ہیں،جیساکہ پوائنٹ 11 میں گزرا۔اس بات کا علم کہ  حق و باطل کے مابین ستیزہ کاری  ہمیشہ سے رہی ہے لیکن الحمدللہ غلبہ و سر بلندی اخیر میں حق کی ہی ہوتی ہے،رہا باطل تو وہ مٹ جاتا ہےجب کہ حق ثابت و پائیدار ہوتا ہےکسی طرح نہیں  ڈگمگاتا۔
  • شرعی منہج سے انحراف کی خطر ناکی اور اس پر مرتب ہونے والے احکام کی معرفت۔

یہ تمام ایسی باتیں ہیں جنہیں یاد رکھنا اور ان کا خیال رکھنا ہر مسلمان کے لئے از حد ضروری ہے ۔ تاآنکہ ہم فتنہ و فساد سے محفوظ زندگی گزار سکیں ۔ ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے اعمال کو قبولیت بخشے اور ان کوہمارے لئے نفع بخش اور بابرکت بنائے،وہی اس کا مالک ہے اور اس پر قادر ہے۔آمین




تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 2

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 2

تکفیر مسلم کے متعلق ائمہ کا قطعی فیصلہ 

امام ابن تیمیہ ، امام ذھبی اور ابو الحسن الاشعری رحمہم اللہ کا آخری فیصلہ

فضیلۃ الشیخ مفتی ابو الحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد

کسی بھی مسلمان کو اپنے سوچے سمجھے اصول و قواعد پر کافر قرار دے دینا نہائت خطرناک عمل ہے جو کہ خوارج کا طرہ امتیاز ہے ، ہر دور میں سر فہرست خوارج کی ایک خاص نشانی رہی ہے جو خوارج کے تمام فرقوں اور گروہوں میں پائی جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اس فسادی عمل سے بطور خاص ڈرایا اور متنبہ فرمایا ہے اور اس کی تباہیوں سے آگاہ فرمایا ہے ۔ جو کئی مرتبہ ہم بیان کر چکے ہیں ۔ یہاں مختصرا ہم صرف چند اہم ائمہ عظام کا مسلمان کی تکفیر کے حوالے سے طریقہ کار بیان کیا جائے گا کہ کس طرح وہ اس مسئلہ کو حساس اور نہایت اہم سمجھتے ہوئے نہائت احتیاط سے کام لیتے اور ایک ایک لفظ سوچ سمجھے کر بیان فرماتےتھے ۔ 

امام ابو الحسن علی بن اسماعیل الاشعری کا اعلان حق

امام محمد بن احمد بن عثمان الذھبی ( المتوفی 748ھ ) لکھتے ہیں :

رأيت للاشعري كلمة أعجبتني وهي ثابتة رواها البيهقي، سمعت أبا حازم العبدوي، سمعت زاهر بن أحمد السرخسي يقول:

لما قرب حضور أجل أبي الحسن الاشعري في داري ببغداد، دعاني فأتيته، فقال: أشهد على أني لا أكفر أحدا من أهل القبلة، لان الكل يشيرون إلى معبود واحد، وإنما هذا كله اختلاف العبارات.

” میں نے اشعری کا ایک کلام دیکھا جس نے مجھے حیرت و تعجب میں ڈال دیا اور وہ ثابت ہے اسے امام بیھقی نے روایت کیا ہے انہوں نے کہا میں نے ابو حازم العبدوی سے سنا انہوں نے کہا میں زاہر بن احمد السرخسی سے سنا وہ کہتے ہیں :

جب میرے گھر میں بغداد کے اندر ابو الحسن الاشعری کے موت کا وقت قریب ہو گیا ، تب انہوں نے مجھے بلایا تو میں ان کے پاس آیا انہوں نے کہا : مجھ پر گواہ ہو جا ، میں اہل قبلہ میں سے کسی ایک کی بھی تکفیر نہیں کرتا اس لئے کہ تمام ایک معبود کی جانب اشارہ کرتے ہیں اور یہ سب محض عبارات کا اختلاف ہے ۔ “

یہ ابو الحسن الاشعری وہ ہیں جو اشاعرہ کے امام ہیں یہ پہلے معتزلی تھے پھر انہوں نے معتزلہ کی حمایت میں کتب لکھی تھیں پھر خود ان کا ابطال کیا اور دیوبندی اور بریلوی علماء انہیں عقیدے میں اپنا امام مانتے ہیں ۔

انہوں نے آخری زندگی میں کلمہ حق بلند کیا اور اہل السنۃ اہل الحدیث کا منہج اختیار کیا اور اہل القبلہ کی تکفیر سے رجوع کر لیا ۔ لیکن ان کے ماننے ولوں نے غلط روش اپنائی اور آج مسلمانان عالم کی تکفیر پر کمر بستہ ہیں اور محض تکفیر نہیں بلکہ تقتیل و تفجیر کی آخری حدوں کو چُھو رہے ہیں ۔ ھداھم اللہ تعالی الی صراط مستقیم ۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا آخری قول

امام ذھبی رحمہ اللہ ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ کا کلام نقل کرنے کے بعد اپنے اور اپنے شیخ محترم ابن تیمیہ کے بارے میں رقمطراز ہیں :

قلت: وبنحو هذا أدين، وكذا كان شيخنا ابن تيمية في أواخر أيامه يقول: أنا لا أكفر أحدا من الامة، ويقول: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ” لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن ” فمن لازم الصلوات بوضوء فهو مسلم.

” میں کہتا ہوں : اس طرز کو میں اپناتا ہوں اور اسی طرح ہمارے شیخ امام ابن تیمیہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کہتے تھے : میں امت میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتا اور کہتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” وضوء کی حفاظت مومن کے علاوہ کوئی نہیں کرتا تو جس نے وضوء کے ساتھ نمازوں کو لازم کر لیا وہ مسلم ہے ۔ “

اس سے معلوم ہوا کہ امام ذھبی اور ان کے شیخ امام ابن تیمیہ کا بھی آخری فیصلہ یہی ہے کہ وہ کسی مسلم کی تکفیر نہیں کرتے تھے اور احتیاط کی روش اپنانے میں ہی خیر ہے ۔ بعض جہال امام ابن تیمیہ وغیرہ کی مجمل عبارات پیش کر کے لوگوں کی تکفیر پر کمر بستہ ہیں اور اسلام اور اہل اسلام کے لئے بدنما دھبہ ہیں ۔ ایسے جہال علمائے کرام کی تکفیر سے بھی نہیں چونکتے ۔

امام ابن تیمیہ کی نظر میں یہ ایک بہت بڑا منکر ہے کہ جہلاء کو علماء کی تکفیر پر مسلط کر دیا جائے ۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

فإن تسليط الجهال على تكفير علماء المسلمين من أعظم المنكرات ؛ وإنما أصل هذا من الخوارج والروافض الذين يكفرون أئمة المسلمين

” پس بلا شبہ جہال کو مسلمانوں کے علماء کی تکفیر پر مسلط کر دینا سب سے بڑی منکر چیز ہے اور اس کی اصل خوارج اور روافض میں سے ہے جو آئمۃ المسلمین کی تکفیر کرتے ہیں ۔ “

خوارج اور روافض ایسے خبثاء ہیں جنہوں نے امت مسلمہ کے اولین گروہ مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی اور ان پر طعن و تشنیع کا دروازہ کھولا اور آج انہی کی کوکھ سے جنم لینے والے بعض مُخبّثین امت مسلمہ کی تکفیر کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں ۔

اور حیرت و افسوس اس بات پر ہے کہ بعض اہل السنۃ ، اہل الحدیث کی طرف منسوب لوگ بھی اس آفت کی لپیٹ میں آچکے ہیں اس سے قبل اس بات کا اظہار امام دقیق العید اور علامہ ابن الوزیر الیمانی بھی کر چکے ہیں ۔

امام ابن دقیق العید فرماتے ہیں :

وهي ورطة عظيمة وقع فيها خلق من المتكلمين ومن المنسوبين إلى السنة وأهل الحديث

” اور یہ ایک بہت بڑا بھنور ہے جس میں متکلمین اور سنت و حدیث کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگ پھنس چکے ہیں۔ “

اور علامہ ابن الوزیر الیمانی رقمطراز ہیں :

فمن العجب تكفير كثير ممن لم يرسخ في العلم لكثير من العلماء وما دروا حقيقة مذاهبهم وهذه هذه وما يعقلها إلا العالمون

” تعجب ہے بہت سارے وہ لوگ جنہیں علم میں رسوخ نہیں ہے وہ کثیر علماء کی تکفیر کرتے ہیں اور وہ ان کی مذاہب کی حقیقت نہیں جانتے اور ان مباحث کو علماء کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا ۔ “

اور علماء کسی کی تکفیر کرنے سے قبل بار ہا دفعہ غور و فکر کرتے ہیں بلکہ جس قدر ممکن ہو کسی مسلم سے سرزد ہو جانے والے قول کفر کی توجیہات کرتے ہیں تا کہ وہ شخص مسلم برادری سے خارج نہ ہو اور اس کی گمراہی کی اصلاح ہو ۔

ماخوذ از

مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب