اسد درانی کی کتاب کی حقیقت

اسد درانی کی کتاب ۔۔۔۔

سابق آئی ایس آئی چیف جنرل درانی 1993ء میں پاک فوج سے ریٹائرڈ ہوئے۔ 
موصوف نے اعتراف کیا تھا کہ بے نظیر کو ہروانے کے لیے ائی ایس آئی نے سیاسی جماعتوں میں اتحاد کروایا تھا۔ اس اعتراف کے عوض ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اسد درانی کو بے نظیر بھٹو نے جرمنی میں سفیر لگا دیا تھا۔

( بے نظیر کے خلاف بنائے گئے اس سیاسی اتحاد کا اعترف مرحوم جنرل حمید گل بھی کرتے رہے اور ان کا دعوی تھا کہ وہ اتحاد بلکل درست تھا اور آئی ایس آئی کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق بے نظیر اس وقت اقتدار میں رہ کر قومی سلامتی خاص کر پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں )

اسد درانی نے سابق انڈین اینٹلی جنس چیف اے ایس دلت کے ساتھ ملکر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کو انڈیا نے زور و شور سے پبلش کیا ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے کچھ حیران کن دعوے کیے ہیں اور بہت سے معاملات میں انڈین موقف کی تائید کی ہے۔ مثلاً

“کارگل پاکستان اور مشرف کی غلطی تھی اور پاکستان شکست کھا رہا تھا”
( جبکہ دوسری جانب کئی سابق انڈین آرمی افسران انڈین شکست کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں )

” افغانستان میں انڈین کونسل خانوں کی تعداد پاکستان بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے اور وہ کونسل خانے پاکستان کے خلاف جاسوسی یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہے”
( موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ پھر وہ کونسل خانے کیا کام کرتے ہیں اور اپنی ریٹائرمنٹ کے دو عشروں بعد اس نے کب افغانستان جاکر وہ کونسل خانے گنے ہیں؟ )

سب سے حیران کن انکشاف اسامہ کے بارے میں کیا ہے کہ اس کے لیے جنرل کیانی کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور اسامہ کی اطلاع بھی شکیل آفریدی نے نہیں بلکہ ایک ریٹائرڈ آئی ایس آئی اہلکار نے امریکہ کو دی تھی اور اسامہ کو زندہ امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ موصوف نے آگے لکھا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اسامہ کے سر پر موجود پانچ ملین ڈالر انعام میں سے اس اہلکار کو کتنے ملے ہونگے۔ 
( خیال رہے کہ اسامہ کا واقعہ جنرل موصوف کی ریٹائرمنٹ کے بیس سال بعد پیش آیا۔ اس حوالے سے انتہائی باخبر رہنے والے بڑے بڑے صحافتی ادارے اور شخصیات کے علاوہ کئی ممالک کی اینٹلی جنس ایجنسیاں بھی بے خبر ہیں لیکن جنرل اسد درانی صاحب کو ایک ایک بات کا پتہ ہے )

جو لوگ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے بارے میں ذرا سا بھی جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے مختلف بازو ایک دوسرے سے بھی حساس معلومات شیر نہیں کرتے جب تک ضروری نہ ہو۔ 
لیکن یہاں پچیس سال قبل رئٹائرڈ ہونے والے سابق افسر کے انکشافات سے یوں معلوم ہو رہا ہے جیسے آئی ایس آئی اپنی ہر ایکٹوٹی کم از کم جنرل اسد درانی صاحب کو ضرور بتاتی رہی تاکہ سند رہے اور بوقت ضرور کام آئے۔ یا دوسرا یہ ہو سکتا ہے کہ اسد درانی صاحب آئی ایس آئی کے متوازی اپنا کوئی ذاتی اینٹلی جنس نیٹ ورک چلا رہے ہوں جس کا کام آئی ایس ائی کی نگرانی کرنا ہو؟

جنرل اسد درانی اپنی کتاب کی پبلسٹی کے لیے کافی پرجوش ہیں اور وہ انڈیا جانے کے لیے بھی بے تاب نظر آرہے ہیں۔

میری رائے کے مطابق ریٹائرڈ جنرل اسد درانی کی یہ کتاب تنہائی سے اکتائے ایک سٹھیائے ہوئے بڈھے کی منظر عام پر آنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں جس سے شائد وہ چند پیسے بھی کمانا چاہتا ہے۔ کتاب من گھڑت اور جھوٹے واقعات سے لبریز ہے۔

میرے خیال میں پاک فوج کو اسد درانی کا کورٹ مارشل کرنا چاہئے اور ان سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ کتاب میں بیان کیے گئے دعوؤں کو ثابت کریں اور ان دعوؤں کا سورس بتائیں۔

گندے انڈے ہر جگہ ہوتے ہیں۔ کچھ انڈے وقت گزرنے کے ساتھ گندے ہوجاتے ہیں۔ جنرل اسد درانی اور جنرل شاہد عزیز بھی اسی ٹائپ کے گندے انڈے ہیں۔ میرے خیال میں اب ان گندے انڈوں کو توڑ کر پھینکنے کا وقت آگیا ہے۔

نواز شریف اس کتاب پر کمیشن بنوانا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کو علم ہونا چاہئے کہ اسی جنرل نے دعوی کیا تھا کہ نواز شریف نے آئی ایس آئی سے رشوت لی تھی اس پر بھی کمیشن بننا چاہئے یا نہیں؟

باقی آپ یہ دیکھیں کہ اس کتاب کی ٹائمنگ کیسی ہے… جب پاکستان میں ہندوستان کے لیے نرم ترین گوشہ رکھنے والے نواز شریف پر سخت وقت ہے… اس پر وطن سے غداری جیسے الزامات لگ رہے ہیں…. اور بقول ہندوستانیوں کے کہ انہوں نے نواز شریف پر انویسٹ کیا ہے…. وہ اپنی انویسٹ منٹ کو ضائع نہیں ہو نے دے سکتے… یہ کتاب یقینا راتوں رات مکمل نہیں ہوئی لیکن اس کو شائع کرنے کا مقصد پاک آرمی اور آئی ایس آئی کے خفیہ کاموں کو منظر عام پر لا کر ان کی امیج خراب کرنے کی ایک کوشش ہے… یہ ہائبرڈ وار فیئر ہے… اس وار فیئر میں ہر چیز جھونکی جاتی ہے.. پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سمیت سوشل میڈیا بھی اس جنگ کا سب سے اہم ہتھیار ہے…. تبھی تو نوا شریف کہنے لگ گیا ہے کہ کیا صرف میں ہی غدار ہوں… اس کتاب نے اس پر آئے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے……….




حکومت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جماعتیں کہاں غلطی کرتی ہیں

4-اقتدار چھیننا

جن دینی تحریکوں پر اقتدار کا نشہ سوار ہے وہ پہلے سے برسرِاقتدار حکومتوں کو ہر طریقے سے ختم کرنے کے آرزو مند رہتی ہیں۔اور موقع کی تلاش میں رہتی ہیں کہ ان سے اقتدار چھینا جائے۔ اس کے لیے وہ برسر اقتدار پارٹیوں کے کمزور پہلو تلاش کرکے ان کے خلاف عوام کو  بھڑکاتی ہیں۔ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں کہ برسرِاقتدار پارٹیوں میں کمزوریاں نہیں ہوتیں، یہاں تو یہ بتانا ہے کہ آیا شریعت میں اس بات کا جواز ہے کہ برسر ِاقتدار مسلمان حکمرانوں سے ان کا اقتدار بزور اور زبردستی چھینا جائے۔ جو لوگ دین نہیں جانتے ان کی بات تو علیحدہ ہے۔ دین داری کے دعوے داروں اور ملک میں اسلام کو رائج کرنے کا ادّعا رکھنے والوں کو اس کی کوئی دلیل تو مہیا کرنی چاہئے۔وہ ایسی کوئی آیت یا حدیث تو لائیں جس میں مسلم حکمرانوں سے اقتدار چھیننے کی تعلیم ہو۔ ان کے سامنے یہ بات نہیں کہ فرعون کے ہاتھوں ظلم میں پسنے والے بنی اسرائیل کو فرعون سے اقتدار چھیننے کے بجائے اس کا علاقہ چھوڑنے کا حکم ہوا۔

انہی تحریکوں کے پروردہ ایک شخص سے راقم کی بات ہوئی تو اس نے واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ اللہ نے نہیں فرمایا کہ ظالموں سے اقتدار چھینو۔ میں نے کہا یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ تو وہ صاحب ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ اگر کوئی یہ دلیل پیش کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔”

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے سپرد کرو”۔

(النسآء : 4)

  لہٰذا ہمیں نااہل لوگوں سے چھین کر حکومت اس کے اہل کے سپرد کرنی چاہیے۔ تو یہاں دو باتیں عرض ہیں کہ حکومت چھیننے کا یہاں ذکرنہیں ، دوسرے یہ کہ جو خود اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرتا ہے شریعت کی نگاہ میں وہ خود ہی نااہل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے ہی ایک شخص کو نااہل قراردیا تھا۔ حوالہ آرہا ہے۔

5- حصول ِ اقتدار کا قرآن مجید میں کوئی حکم ہے؟

قرآن مجید اپنے ماننے والوں کو جن جن احکامات پر چلنے یا جن باتوں سے رکنے کا حکم دیتا ہے اور بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے  اسے صراحت  سے یا اشاروں سے سمجھا دیتا ہے مگر ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ بات لکھتا ہوں کہ حصولِ اقتدار کا حکم نہ صراحتًامجھے ملا ہے اور نہ اشارتاً۔ اگر حصول ِاقتدار اتناہی اہم فریضہ ہوتا ، جیسا کہ بعض جماعتوں نے  سمجھ رکھا ہے ، تو قرآن مجید میں اسکا حکم ہونا چاہیے تھا کہ اقتدار حاصل کرو۔

قرآم مجید میں ایسی وضاحتیں تو موجود ہیں کہ “جنہیں ہم زمین میں اقتدار دیتے ہیں تو  وہ تماز قائم کرتے ہیں، زکاۃ کا نظام قائم کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

( الحج : 41)

اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جسے اللہ اپنی خوشنودی سے اقتدار نصیب فرمائے، ان کی یہ خصوسیات اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ خوشنودی کا لفظ یہاں اس لیے استعمال کیا کہ فرعون ، ہامان ، نمرود کوبھی اقتدار   اللہ نے دیا تھا ور آج کے کافرون کو بھی دیتا ہےمگر اس میں اسکی رضا شامل نہیں ہوتی۔

زیادہ سے زیادہ ایسی تحریکوں کے پاس ایک یہ آیت اپنے موضوع پر موجود ہے کہ:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ۔

“تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف دعوت دے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے”۔

(آل عمران : 104)

یہاں “امۃ ” کا لفظ آیا ہے جس کے معنی لوگوں کے بھی ہیں۔  اگر جماعت مراد ہو بھی تو نبی کریم ﷺ کو ایک علیحدہ جماعت بنا کر اس کا ایک علیحدہ امیر مقرر کردینا چاہئے تھا جیسا کہ آج یہ لوگ سمجھتے ہیں۔  تیسرےیہ کہ جماعت اور حکومت دو علیحدہ علیحدہ اصطلاحیں ہیں۔ جماعت کا ہونا اور بات ہے اور حکومت کا اختیار اور بات ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے حکومت ضروری نہیں۔ ہر کوئی اپنی سطح پر یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ اگر یہ فریضہ حکومت ملنے کے بعد ہی ادا ہونا ہوتا تو قرآن مجید میں پہلے حکومت کےحصول کا ذکر ہوتا۔ اسی طرح جو جماعتیں اس آیت سے استدلال کرتی ہیں ان کے پاس حکومت نہیں ہے اور وہ اپنے طور پر یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ وہ اس فریضے کو بڑے اچھے انداز سے نبھا رہے ہیں۔

اسی طرح ایسے لوگوں کی زبانوں پر علامہ اقبال کا ایک شعر بھی گردش کرتا ہے:

جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو—-جدا ہودیں سیاست سے رہ جائی ہے چنگیزی

اور اس شعر کو وہ ایک شرعی حکم سمجھ کر اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی بھر پور کوکشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ شعر تو نظام حکومت اور سیاست سےدین کو الگ رکھنے کی روش کی مذمت میں ہے  کہ دین کو الگ رکھنے سے ہر نظام ظلم و ستم اور فساد سے عبارت ہوتا ہے۔ جبکہ قران و سنت اور ہماری سنہری تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست کا آغاز اقتدار ملنے کے بعد ہوتا ہے۔ حصول اقتدار کے لیے نہیں۔ اور ہماری بات اقتدار کےحصول کے متعلق چل رہی ہے۔ جسے اللہ اقتدار دے دے اسے کیا کرنا چاہیے یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اگر قرآن مجید میں یا حدیث نبوی میں حکومت اور اقتدار حاصل کرنے کا مسلمانوں کو کوئی حکم دیا گیا ہے تو ازراہ کرم ہمیں  بھی اس سے آگاہ کیا جائے تاکہ اپنے محترم قارئین تک ان نصوص کو پہنچایا جائے اور ان پر عمل درآمد ہو۔ حدیث میں تو عامل یا گورنر مقرر کرنے کی حد تک بھی کسی کی ذاتی چاہت یا شوق کو پسند نہیں کیا گیا چہ جائیکہ کسی کی چاہت کے مطابق اسے کسی ملک کا اقتدار سونپ دیا جائے۔ واضح حدیث ہے:

“لن نستعمل علی عملنا من ارادہ”۔

 “ہم اپنے امور پر اسے ہرگز عامل مقرر نہیں کرتے جو اس کا ارادہ رکھتا ہے”۔

( صحیح  مسلم : 1733)

 دوسری حدیث  میں ہے:

  “انا واللہ لانولی علٰی عملنا ھٰذا أحداً سألہ أو حرص علیہ” ۔

“اللہ کی قسم ! بے شک ہم اس کارِ حکومت پر کسی کو مقرر نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کو بھی نہیں اس کی حرص رکھتا ہے”۔

(صحیح مسلم : 1733)

ایک اور حدیث میں فرمایا:

 “فا نک ان اعطیتھا عن مسالہ وکلت الیھا ون اعطیتھا عن غیر مسالہ اعنت علیھا”۔

 ” بے شک اگر تمہیں یہ امارت تمہارے مطالبے پر دی گئی تو تمہیں اسی کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر یہ امارت تمہارے مطالبے کے بغیر تمہیں دی گئی تو اس پر ( اللہ کی طرف سے) تمہاری مدد بھی کی جائے گی”۔

(صحیح مسلم : 1823)

6- حصول اقتدار کے ہنگامی طریقے

اس طبقے اور پہلے طبقے میں فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ مسلمان حکمرانوں کو کافر قرار دیتاہے جبکہ پہلا  طبقہ انہیں ظالم ، فاسق اور نااہل تو قرار دیتا ہےمگر کافر نہیں۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ یہ طبقہ اس نظام کو ناجائز سمجھتا ہے جس سے  حکومت حاصل کی جائے ، اس لیے وہ کسی اور طریقے سے حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ پہلا طبقہ نظام جمہوریت کو درست سمجھتے ہوئے اسی کے تحت حکومت  کا متمنی ہے۔ مگر پہلے طبقے کی طرح اس دوسرے طبقے کا منہج اور طریقہ حصول اقتدار شرعی طور  پر محلِّ نظر ہے۔ اور گزشتہ صفحات میں کی گئی وضاحتیں اس کے لیے کافی ہیں مگر ایک مزید خامی جو اس طبقے کے اندر ہے وہ ہے اپنے اقتدار کے لئے بہت  سے مسلمانوں اور بلادِ اسلامیہ کو فتنہ وفساد سے دوچار کرنا ، وہاں کے باسیوں کے قتلِ عام کو روا سمجھنا ، ان پر حملے کرنا، حکومتوں کو نشانہ بنانا۔ یہ شریعتِ اسلامیہ میں بجائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔

اپنی سرگرمیں اور کارروائیوں کےلیے اس طبقے کا دامن بھی شرعی دلائل سے یکسر خالی ہے۔ پہلے طبقے کی طرح انہیں بھی حصولِ اقتدار کی منزل درکا ہے، اس سفر میں خواہ ہزاروں انسانوں کا خون ان کے سر آئے اور بلادِ اسلامیۃ شروفساد کی آماجگاہ بنے رہیں۔ پھر وہ فساد اور فسادیوں کے متعلق قرآن مجید کے تبصرے سے یکسر نابلد نظر آتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے؟

7-کیا پھر مسلمانوں کو اجتماعی یا انفرادی سطح پر ایسی کوئی کوشش کرنی چاہئے؟

اگر پہلے طبقے کے اقتدار کی چاہت اور اس کےحصول کا  طریقہ بھی درست نہیں اور دوسرے طبقے کا بھی درست نہیں کیا موجودہ مسلمانوں کو اس کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہئے؟ تیسرے طبقے کی طرح بس اپنے اپنے دائرہ میں مصروف رہنا چاہئے۔ نہیں ، نہیں۔

 مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ دین پر عمل ، دین کو غالب کرنے کی کوشش کریں، اور ہر مرحلے اور میدان میں اور نظریے اور سوچ اور فکر میں اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول کو اپنا شعار بنائیں اور اپنی اپنی سطح تک اس کی تنفیذ کی کوشش کریں۔۔۔۔ اس طرح ایک صالح معاشرہ قائم ہوگا اور پھر اللہ جسے چاہے گا اقتدار کی ذمہ داری سونپ دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی مکہ مکرمہ میں حکومت کی پیش کش کو ٹھکردایا تھا اور ساری توجہ لوگوں کے ذہن بدلنے پر دی تھی بالآخر بڑے ہی غیر محسوس انداز سے اللہ نے اہل ایمان کو مدینہ منورہ کے  اقتدار سے نوازا اور رفتہ رفتہ یہ پھیلتا ہی چلا گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اقتدار دینے کو اپنے ذمے لیا ہے۔

موجودہ اکثر  مسلمانوں سے یہ کام ہوتے نہیں ۔ یہ مستقل نوعیت کے کام ہیں۔ اس راہ میں مسلکوں اور جماعتوں کے بت پاش پاش ہوتے ہیں، کریڈٹ جماعتوں کے بجائے اسلام کو جاتا ہے۔اس لیے ہم ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ

الا ماشاء اللہ سب مسلمان ہی اپنی اپنی جماعت کو ترقی دینے میں مگن  ہیں اور جس نے جس تحریک  میں آنکھ کھولی ہے اور پرورش پائی ہے وہ اس کے نظریات سے سر مو انحراف کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اور اسلام ایک طرف کھڑا نظر آرہا ہے۔

یہاں ایک اور سوال سر اٹھا رہا ہے کہ کیا اسلام نے حکومت سازی کے اتنے اہم مسئلے پر روشنی نہیں ڈالی ؟

 اسکا جواب آئندہ  مضمون میں دیا جائے گا ۔(ان شا ء اللہ)




داعش سے دعوتِ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ کا اعلان براءت

 داعش سے  منہج نبویﷺ کا اعلان براءت

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

دور حاضر میں خارجی تنظیم داعش کے ظہور کے بعددشمنوں نے یہ سازش شروع کر دی کہ داعش ، محمد بن عبد الوھاب ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی پیرو کار ہے ، انہیں کے مسلک کو اپنی دلیل بناتے ہیں لہذا یہ وہی لوگ ہیں ، ان کا عقیدہ و منہج وہی امام اہل السنہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کے سلفی عقیدہ و منہج جیسا ہے ۔ 

لیکن میں کہتا ہوں کہ ان دونوں کے منہج کو ایک قرار دینا  مچھلی اور سانڈے کو ایک قرار دینے کے مترادف  ہے۔

لیکن چونکہ کئی خارجی فرقوں  نے اس چیز  کا دعویٰ کیا ہے کہ ہماری  دعوت اور محمد بن عبد الوہاب  رحمہ اللہ  کی دعوت ایک ہے۔

تو میں نے مناسب سمجھا کہ میں ان کے اس دعوے کا پول کھولوں،چنانچہ  میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نے یہی دعویٰ کیا ہے، اور اس نے  امام محمد بن عبدالوھاب کی کتاب “الدررالسنیۃ “(الدررالسنیۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب کے اور ان کے شاگردوں  کے ان رسائل کا مجموعہ ہے کہ جس میں توحید کا بیان اور غلو فی التکفیر کی ممانعت  ہے) سے کچھ مقامات کو اپنی بات کے دفاع میں ذکر کیا ہے  تو  میں نے اس کا بغور مطالعہ کیا تو مجھے اس کے تمام دعوے جھوٹ پر مبنی دکھائی دیے ۔لیکن چونکہ ان کا یہ دعویٰ ہے  تو میں ان سے کچھ سوالات کرنا چاہوں گا،چنانچہ اگر وہ ان کے صحیح جواب دیں تو ہم ان کے اس دعوے کو صحیح مان لیں گے۔ان شاء اللہ 

میں ان سے  ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا لفظ “داعش” (دولت الاسلامیہ فی العراق والشام) انہوں نے امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے اس قول سے  لیا ہے کہ:

معین چیز کی تکفیر نہیں کی جائے گی مگر جب اس پر حجت قائم ہو جائے اور حجت یہ ہے کہ  اس کے پاس اللہ کاکلام پہنچ جائے اور اس کا کوئی عذر بھی نہ ہو تو وہ کافر ہے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہم اسی  شخص کی تکفیر کرتے ہیں جو اللہ کی ہیئت کے بارے میں شرک کرے حالانکہ اس کیلئے بطلان شرک پر حجت واضح ہو چکی ہو۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہم ہر اس شخص کی تکفیر کرتے ہیں  کہ جو اسلام سے پھر جائے اور لوگوں کو اس سے روکے اور اسی طرح جو بندہ بتوں کی عبادت کرے حالانکہ اس کو اس بات کا علم ہو کہ  یہ مشرکوں کا کام اور دین ہے،اور اس کو لوگوں کیلئے مزین کر کے پیش کرے تو یہ وہ شخص ہے کہ جس کی ہم تکفیر کرتے ہیں ، اور ہر عالم بھی ان کو کافر قرار دیتا ہے،مگر جس کے دل میں کینہ و عداوت ہو یا وہ جاہل ہو۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے: جب کوئی شخص جہالت کی وجہ سےکافروں اور مشرکوں والا عمل کرے  یا کسی نے اس کو تنبیہ نہ کی ہو تو ہم اس شخص کو کافر قرار نہیں دیتے یہاں تک کہ  کوئی اس پر حجت قائم کرے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے: جب وہ انسان جو اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتا ہو لیکن اس کے کچھ اعمال کفریہ ہوں یا اس کا عقیدہ کفریہ ہو  اور اس کی وجہ یہ ہو کہ  وہ دینی تعلیمات سےجاہل ہو تو  وہ ہمارے نزدیک کافر نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر کفر کا فتویٰ لگانے والا  اس پر اتمام حجت  نہ کردے۔

یا انکا یہ قول اس کی دلیل ہے:ہر وہ شخص جس کے پاس قرآن پہنچ جائے(یعنی وہ اس کے اسرار و رموز اور احکام سے واقف ہو جائے) تو اس پر حجت قائم ہو جاتی ہے،لیکن جاہل کا معاملہ اس کے بر عکس ہے کہ وہ اہل علم کا محتاج ہوتا ہے۔

نوٹ: یہاں ایک بات ملاحظہ فرمائیں  کہ سابقہ تمام اقوال  میں کچھ امام صاحب سے  ،منقول ہیں اور  بعض ان کے شاگردوں کے ہیں۔

یا داعشی  شاید اس قول سے استدلال کرتے ہیں:فتنوں اور غلبہ  جہالت کے زمانے میں کسی کی معین تکفیر کرنا جائز نہیں ہے  مگر جب اس پر حجت قائم کر دی جائے اور اس کیلئے سارے معاملے کو کھول کر بیان کر دیا جائے۔

یا  شاید یہ قول ہو:ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے سوائے اس کے کہ  جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرے  اور اس پر حجت قائم کر دی گئی ہو۔

یا یہ نص ہو : ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے مگر جس پر تمام علماء کرام جمع ہو جائیں۔

اور اسی طرح:ہم اسی تعریف کے بعد کسی کی تکفیر نہیں کرتے ہیں ،جب وہ جان لے اور اس کا انکار کرے۔

یا یہ قول ہو سکتا ہے: ہم کسی کی تکفیر نہیں کرتے  مگر جو توحید کو جان لے پھر اس کی خلاف ورزی کرے  اور اس کو گالی دے اور خوارج کے مذہب پر چلے اور وہ شرک کو پہنچانتا ہو اور اس کو محبوب رکھتا ہو  اور لوگوں کو اس کی طرف بلاتا  اور رغبت دلاتا ہو  جب اس پر حجت قائم ہو جائے  تو وہ کافر ہے۔

ہو سکتا ہے یہ قول ہو : یہ مشرکین اور ان جیسے جو اولیاء اللہ کی عبادت کرتے ہیں ہم انکو کافر قرار دیتے ہیں بشرطیکہ ان پر حجت قائم کردی گئی ہو۔

تو یہ چند اقوال تھے لیکن اس کے علاوہ بھی  اس طرح کے کئی اقوال ہیں لیکن ہمارا مقصد یہ ہے کہ جو اس خارجی نے الدررالسنیۃ اور آئمۃ السلف پر بہتان لگایا ہے اس کو کھول کر واضح کر سکیں۔

تو یہ کچھ ائمہ  جن میں امام محمد بن عبدالوھاب  انکے بیٹے اور انکے ساتھی، انکے شاگرد اور ان کے شاگردوں کے شاگرد حضرات شامل ہیں ،کے تکفیر کے متعلق  چند اقوال تھے۔

تو میرا سوال یہ ہے کہ  ان اقوال میں کہاں سے داعش کا منہج نکلتا ہے؟

یقیناً کوئی بھی محقق اور ذی شعور  آدمی ان کے اس دعوے کی تردید کرے گا۔

اورہاں  اگر کسی کے پاس اس حوالے سے کچھ ہو تو ہمیں بھی دکھائیں  تاکہ ہم بھی اس سے مستفید ہو سکیں لیکن حقیقت بات یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں بس امام صاحب کا نام لے کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانا ہے کونسا کسی نے تحقیق کرنی ہے بس نام استعمال کرو۔

لہٰذا اس سے  یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ داعش اور نبوی دعوت میں زمین و آسمان کے مثل فرق ہے ۔اس لئے داعش اور نبوی منہج کے درمیان فرق سمجھیں اور کفار اور خوارج کے اس جال سے بچنے کی کوشش کریں۔

اللہ آپ کا حامی وناصر ہو،آمین




غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا

غیر شرعی قرار داد پاس کرنے کے سبب حکمرن پر تنقید کرنا.

غیرشرعی قرارداد پاس کرنے کے سبب حکمران پر تنقید کرنا 

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

اکثر ہمارے معاشرے میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکومت کی طرف سے کوئی ایسی قرارداد پاس کر دی جاتی ہے جو بسا اوقات شریعت اسلامی کے مخالف بھی ہو سکتی ہے ۔

سوال: کیا غیر شرعی ، گناہ والی یا شریعت مخالف قرارداد یا بل وغیرہ پاس کرنے پر حکمران پر اعتراض کیا جاسکتا ہے ؟ اس بارے میں سلف صالحین کا کیا عمل ہوا کرتا تھا؟ 

جواب: حکمران کی اطاعت واجب ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ

اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالی کی، اور اطاعت کرو رسول اللہ کی ، اور ان کی بھی جو تمہارےحکمران ہیں۔

(النساء: 59)

پس جو بات واجب اور اصل ہے وہ حکمران کی اطاعت ہے لیکن اگر وہ کسی معصیت وگناہ کا حکم دے تو اس کی اس معصیت میں اطاعت نہیں کی جائےگی۔ کیونکہ آپ ﷺ  کا فرمان ہے:

’’لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ‘‘ 

(خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔

[رواہ احمد برقم (20653)، والطبرانی فی الکبیر (18/381) واللفظ لہ عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ]

اور آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ:

’’إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ‘‘

(اطاعت تو صرف معروف کاموں میں کی جاتی ہے)

[رواہ البخاری برقم (7145، 4340)، ومسلم برقم (1840) من حدیث علی رضی اللہ عنہ]

لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ آپ حکمران کے خلاف خروج کریں یا اس کا تختہ الٹنا چاہیں، بس یہ ہے کہ آپ وہ معصیت نہ کریں جس کا وہ حکم دے رہا ہے اور اس کے علاوہ جن باتوں کا وہ حکم دے اسے بجالائیں۔ آپ اسی کی حکومت کے ماتحت رہیں، نہ اس کے خلاف خود نکلیں اور نہ دوسروں کو اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر ابھاریں، نہ ہی مجلسوں میں اور لوگوں کے سامنے اس کے خلاف باتیں کریں، کیونکہ اس سے شروفتنہ پھیلتا ہے۔ اور لوگوں کو ایسے وقت میں حکام کے خلاف بغض سے بھرنا جبکہ کفار ہماری تاک لگائے بیٹھے گردش ایام کے منتظر ہیں، اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر انہیں اس بات کی خبر ہوجائے تو وہ ان جذبانی مسلمانوں میں اپنا زہر سرائیت کرکے انہیں ان کے حکمرانوں کے خلاف بھڑکائیں گے، جس کے نتیجے میں فتنہ وفساد ہوگا،اور نتیجہ کافروں کا مسلمانوں پر تسلط کی صورت میں سامنے آئے گا۔

لہذا حکمران خواہ کیسے بھی ہوں ان میں خیر کثیر اور عظیم مصالح ہوتےہیں۔ وہ بھی ایک بشر ہیں معصوم نہیں بعض باتوں میں غلطی کرجاتےہیں۔ لیکن ان کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں خفیہ طور پر نصیحت کی جائے، یا ان تک پہنچائی جائے۔ اور ان کے سامنے صحیح بات پیش کی جائے۔لیکن مجالس میں بیٹھ کر ان پر کلام کرنا اور اس سے بھی شدید تر خطبوں اور تقاریر میں ان پر کلام کرنا اہل شقاق واہل نفاق واہل شر کا طریقہ ومنہج ہے کہ جو مسلمانوں کی حکومت میں انتشار مچانا چاہتے ہیں۔

ماخوذ از

(الاجابات المھمۃ فی المشاکل المدلھمۃ، سوال: 14)

 اللہ تعالی ہمیں اسلامی قوانین اورمنہج سلف کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین




داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

داعش علمائے اسلام و مفتیان کرام کی نظر میں

  • امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا اہل سنت و جماعت کے اصول میں یہ داخل ہے کہ مسلمانوں کی جماعت سے گہری وابستگی ہو اور حکمرانوں کے خلاف خروج نہ ہو۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ، ج28،ص 128)

لیکن داعش اہل سنت و جماعت کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کرتی ہے اور مسلم حکمرانوں سے جنگ کرتی ہے لہذا اگر وہ اپنے آپ کو سنی ظاہر کرے تب بھی اسلام کی نظر میں وہ سنی نہیں۔

  • محدث وفقیہ علامہ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش سے منسوب افراد انجانے ہیں ،جو کنیت اور نسب کے سہارے درپردہ رہتے ہیں ،اور چاقووں سے اہل سنت کا قتل کرتے ہیں جوکہ انسانیت کے قتل کی بدترین شکل ہے لہذا اس فتنے سے متاثر کمسن نوجوانوں کو محفوظ رہنا چاہیے ،اور اہل علم سے اسی طرح استفادہ کرنا چاہیے جس طرح خوارج سے متاثر ہونے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ کی نصیحت سے یذید الفقیر رحمہ اللہ نے اپنا مؤقف تبدیل کردیا تھا۔

(موقع الشیخ عبدالمحسن العباد، فتنۃ الخلافۃ الداعشیۃ العراقیۃ المزعومۃ )

  • رابطہ علمائے شام کے صدر شیخ اسامہ الرفاعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش ایک تکفیری و انتہا پسند تنظیم ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتی اور مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتی ہے جبکہ ان کا یہ خیال انہیں کفر تک پہنچاتا ہے اسی لیے ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب وسنت اور علمائے امت کی طرف رجوع کریں اور لوگ داعش  کے ساتھ ساتھ حزب اللہ (لبنان  کی شیعہ دہشت گرد تنظیم ) سے بھی احتیاط برتیں۔

(موقع الدررالشامیۃ ،دولۃ العراق والشام فی میزان علماء الاسلام)

  • علمائے ازہر مصر نے کہا کہ داعش عراق کی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کا طرز عمل انتہائی وحشیانہ ہے جو بے قصوروں کے خون کی پیاسی ہے جس کے خاتمے کے لیے سب کو متحد ہوجانا چاہیے ۔

(مؤسسۃ دام برس الاعلامیۃ الازھر یعرب عن….)

  • اتحاد عالمی برائے علمائے اسلام دوحہ قطر کے معتمد عمومی نے کہا کہ داعش کی کاروائیاں ناقابل قبول ہیں جو لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کی شبیہ کو بگاڑ کر پیش کررہی ہیں لہذا اسلام کی سچی تصویر پیش کرنے کے لیے علمائے دین کا کردار انتہائی ضروری ہے۔
  • ملک شام کے مناظر اسلام عدنان بن محمد العرعور حفظہ اللہ نے فرمایا کہ داعش ملک شام میں عراق کے راستے داخل ہوئے بعض علاقوں پر قبضہ کیا اور پھر اپنی حکومت کا اعلان کر دیا ، مقامی باشندوں پر خیانت کا الزام لگایا اور انہیں کافر و مرتد قرار دیا (ان کے عقیدے کے مطابق مرتد ہونے کے بعد) توبہ کی مہلت دیے بغیر ان کے قتل کو لازمی قرار دیا اور قتل سے نجات کی ایک ہی راہ بتائی کہ ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔

مزید فرمایا کہ داعش نے حکومت کے سربراہان و افسران کو اغوا کیا ،حکمرانوں کو کافر قرار دیا عورتوں اور بچوں کو بے گھر کیا اور بے قصور باشندوں کو بہیمانہ انداز سے ذبح کیا ،آخر یہ کونسی خلافت ہے؟

  • مصر کے عالم محمد سعید رسلان حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش انسانت کی بلی چڑھا کر اپنے معبود کا تقرب حاصل کرنا چاہتی ہے جس کا سربراہ جلاد ہے ،اور یہ تمام جہنم کے کتے ہیں لہذا ان کا بائیکاٹ کرو۔

(ذکر کردہ اور آئندہ اقوال شبکۃ الامام الآجری پر دستیاب ہیں جو اکثر MP3کی شکل میں ہیں )

  • ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ مدرس مسجد بنوی نے تین دفعہ قسم اٹھائی اور فرمایا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کسی بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ داعش کو پسند کرے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرے کیونکہ وہ امت کے لیے نقصان دہ ہیں ۔

مزید فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو دین میں صحابہ سے بہتر سمجھتے ہیں فلسطین پر یہود کے مظالم ہیں لیکن انہوں نے عراق اور شام میں رہ کر فلسطینی مسلمانوں کا دفاع نہیں کیا بلکہ سعودی عرب کے حدود کے قریب آگئے ،بعینہ یمن میں اہل السنہ کو حوثی روافض بری طرح موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور القاعدہ نے یمن میں رہ کر اہل السنہ کا دفاع نہیں کیا۔

                مزید  فرمایا کہ دنیا کے کسی بھی خطے کے مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ان  کے ہاتھ  پر بیعت کرے۔

  • ماہر عدلیہ ڈاکٹر سعد الحمید حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش نے دو بڑی سنگین غلطیاں کی ہیں:

(1)ناحق کافر قرار دینا۔             (2) بے قصوروں کا خون بہانا۔

  • شیخ محمد بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ ملک شام میں جاری جنگ جسے لوگ جہاد کا نام دیتے ہیں وہ در حقیقت فتنہ ہے ۔
  • محقق شیخ عبدالعزیز بن مرزوق الطریفی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش خوارج ہیں جو اللہ کے حکم کو قبول نہیں کرتے ہیں لہذا ان سے تعلق رکھنا جائز نہیں ہے ۔
  • داعی شیخ عبداللہ آل سعد المطیری حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ داعش جاہل ہیں جنہوں نے بہت ساری شرعی خلاف ورزیاں کی ہیں مثال کے طورپر انہوں نے شرعی عدالت کا انکار کیا ،ناحق کافر و مرتد قرار دیا ،بے قصوروں کا خون بہایا ،لہذا میں ان کے بڑوں کو اللہ سے توبہ کرنے اور حق کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور ان سے وابستہ افراد کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہوں۔
  • سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خود کش اور فدائی حملہ کرنا برائی ،گناہ ،شروفساد اورظلم وعناد ہے جسے انجام دینے والوں کا اللہ اور آخرت کے دن پر صحیح ایمان نہیں بلکہ وہ خباثت نفس  و شراست طبیعت  اور حسد میں مبتلا ہیں ،لہذا میں تمام کو نصیحت کرتا ہوں  کہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔
  • عاید بن خلیف الشمری حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کا نبوی منہج سے کوئی تعلق نہیں ، کیونکہ نبیﷺ جب علی رضی اللہ عنہ کو جہاد کے لیے روانہ کرتے تو تاکید کرتے کہ جاؤ انہیں اسلام کی دعوت دو اسی طرح انبیاء میں نوح ،ابراہیم ،موسی علیھم السلام اور محمدﷺ نے صبر سے کام لیا اور داعش کی طرح ذبح کرنے والی حکومتیں قائم نہیں کیں ،بلکہ نبی ﷺ نے مدینے کے یہود کو اسلام کی دعوت  دی ،اور انہیں امن دیا علاوہ ازیں دین اسلام میں مرتد کو تین دن تک توبہ کی مہلت دی جاتی ہے لیکن داعش کی ترتیب بالکل مختلف ہے۔
  • شیخ محمد بن رمزان الہاجری حفظہ اللہ لکچرار برائےرایل کمیشن الجبیل نے فرمایا کہ داعش اور جبہۃ النصرۃ حق پر نہیں کیونکہ یہ نومولود تنظیم ہے اور بنی ﷺ کے فرمان کے مطابق برحق جماعت ہمیشہ سے تھی اور تاقیامت رہے گی۔

مزید فرمایا کہ جس طرح خوارج کے پاس توحید کے باب میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے پاس بھی (بظاہر ) توحید کے باب میں خلل نہیں ، لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا ،حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت ہے۔

مزید فرمایا کہ غور طلب بات یہ ہے کہ داعش سے وابستہ افراد کی کنیتیں ہیں جیسے ابو مصعب الزرقاوی ،ابو بکر البغدادی ،ابو محمد الجولانی….. اور ان کے نام ان جانے ہیں۔

مزید فرمایا کہ داعش  خودکش اور فدائی حملوں کے ذریعے شہادت کی توقع رکھتی ہے جب کہ نبی ﷺ نے شہادت خودکشی کرنے والے کے لیے نہیں  بلکہ قتل کیے جانے والے کے لیے بتائی ، اور قتل کیے جانے سے پہلے حتی الامکان بچاؤ کا سامان اختیار کرنے پر ابھارا اور خود  زرہ پہنی۔

مزید فرماتے ہیں کہ داعش نے جب دیکھا کہ اہل علم  انہیں خوارج قرار دے رہے ہیں اور خوارج کی علامت سر حلق کرنا ہے ، تو اس علامت سے بچنے کے لیے وہ اپنے بال لمبے رکھنے لگے ہیں، لیکن خواہ بال حلق کیے ہوں یا لمبے رکھے ہوں فکر کے اعتبار سے وہ خوارج ہی ہیں۔

مزید فرمایا کہ اس تنظیم کے ساتھ علماء نہیں بلکہ سب کے سب سفہاء و جہلاء (نادان و بے وقوف ) ہیں۔

مزید فرمایا کہ ان کا خود ساختہ خلیفہ ہمیشہ پوشیدہ رہتا ہے۔

اور فرمایا کہ داعش نوجوانوں کو جہاد ،شہادت ،جنت ، اور حور…. جیسے الفاظ سے گمراہ کرتی ہے اور انہیں دھوکہ دیتی ہے۔

مزید فرمایا کہ قدیم زمانے کے خوارج حاکم کو طاغوت کہتے تھے اور داعش بھی مسلم حاکم کو طاغوت سے تعبیر کرتی ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح سےاول خوارج نے عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل کیا اسی طرح داعش مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے۔

مزید فرمایا کہ اہل سنت کا اصلاح  کرنے کا طریقہ احسن انداز سے ہوتا ہے ، لیکن داعش کا اصلاح کرنے کا طریقہ سلاح یعنی ہتھیار سے ہوتا ہے جو کہ خوارج کا طریقہ ہے۔

مزید فرمایا کہ مکہ میں شرک عام تھا ، کعبے کے اطراف بت تھے لیکن صحابہ نے کبھی داعش کی روش اختیار نہیں کی ، اور دور اندیشی  کی سے کام لیتے ہوئے حالات کے پیش نظر قریش کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا۔

اور فرمایا کہ داعش کی ظاہری  دینی شکل و صورت یا ان کے فدائی کا مرتے وقت مسکرانے سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیوں کہ علی رضی اللہ عنہ کا قاتل عبدالرحمان بن ملجم حافظ قرآن تھا، جس کی کسی وقت عمر رضی اللہ عنہ تعریف کی تھی ، اس باوجود وہ قاتل اور خارجی ثابت ہوا اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ، اور جس نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو شہید کیا وہ نماز کے لیے اول وقت میں آیا تھا۔

اور داعش ایک خونخوار اور وحشی تنظیم ہے ، جو صرف اہل سنت یا مسلمانوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

اور فتنہ پروروں سے آگاہ کرنا اور انہیں رسوا کرنا انتہائی  اعلی درجے کا جہاد ہے۔

شیخ بدربن علی العتیبی حفظہ اللہ نے فرمایا کہ قدیم خوارج نے نبی ﷺ اور عثمان  رضی اللہ عنہ کے عدل اور ان کی امانت میں شک کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی ہمارے حکمرانوں کے ساتھ کررہے ہیں، قدیم خوارج نے علی رضی اللہ عنہ و معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کو کافر قرار دیا بالکل اسی طرح یہ شرپسند فسادی بھی ہمارے امراء و علماء کو کافر قرار دیتے ہیں اور انہیں طاغوت کا لقب دیتے ہیں ، قدیم خوارج نے جعلی خطوط کا سہارا لیا اور علماء کے اقوال کو خلط ملط کیا بالکل اسی طرح یہ شرپسندفسادی بھی امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کے کلام سے غلط استدلال کرتے ہیں قدیم خوارج نے حاکم کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ،اس کی اصلاح کیے بغیر انقلاب لانے کی کوشش کی ، حاکموں پر بہتان باندھا ،انہیں یہود و نصاری کے غلام کہا منبروں پر انہیں برا کہا، انہیں کھلے طور پر کافر سمجھا ، ان کی خودساختہ خامیوں کو اچھالا ، کفر کی ساری آیات کا ان ہی کو مصداق جانا، تحکیم کے معاملے میں جہالت کا مظاہرہ کیا بعض آیات سے استدلال کیا اور بعض کو نظر انداز کیا، حکمرانوں کوسرعام رسواکیا، مسلمانوں کی زمین سےہجرت کرنے کو لازم قرار دیا ، جہاد اور توحید کا نعرہ بلند کیا، خود کو شہید و جنتی اور دوسروں کو جہنمی کہا، اسلامی  حکومت میں قیام پذیر ذمیوں کا قتل کیا، اور علماء کی بے حرمتی کی بالکل اسی طرح آج یہ شر پسند فسادی بھی کررہے ہیں۔

(موقع صید الفوائد ،ثلاثون علامۃ تدل…….)

بعض نے کہا کہ داعش گناہوں، اور اختلافی  مسائل کی بنا پر مسلمانوں کا قتل کرتی ہے، کبھی تو کسی مسلمان کو راستے میں کسی غیر مسلم سے بات چیت کرتے دیکھ کر قتل کرتی ہے،اور کبھی تو اس آدمی کا بھی قتل کرتی ہے جو ان کے وضع کردی جہاد کو چھوڑ کر حج کے لیے جاتا ہے۔

بعض نے کہا کہ ابو بکر البغدادی کو ارباب حل و عقد نے منتخب کیا ہے، اور جب اس کا رہنما (الظواہری ) ہی اس کی کرتوتوں سے راضی نہیں تھا تو وہ کیسے دوسروں سے اپنی بیعت کی کا تقاضہ کرسکتا ہے؟

بعض نے کہا کہ بغدادی کی ریاست غیر شرعی ہے، اور اس کے جھنڈے تلے جنگ کرنی جائز نہیں، کیوں کہ اس نے اللہ کی شریعت سے روگردانی کی ہے۔

بعض نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی عالم نے داعش کو درست قرار نہیں دیا، نہ ہی اس کے ساتھ اچھا گمان رکھا، اور نہ ہی ان کی جانب سے دفاع کیا ، بلکہ تمام اہل علم نے بالاتفاق انہیں ظالم قرار دیا۔

بعض نے کہا کہ داعش باغی، غالی، خونی اور گمراہ تنظیم ہے جو مسلمانوں کے مابین بڑی مہارت سے فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے، اور اسلامی ریاست کے بہانے باطل پھیلارہی ہے، اسی لیے ہر ممکن ذریعے سے اس کا مقابلہ کرنا واجب ہے۔

حیدرآباد دکن کے مفتیان میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مفتی خلیل احمد صاحبان نے بھی داعش سے چوکنا کیا ، بلکہ سارے ہندوستان سے تقریباً 1050علمائے کرام نے فتوٰی جاری کیا جس میں داعش کی مذمت  اور مخالفت کی اور کہا کہ داعش انتہائی خطرناک و خوف ناک اور غیر اسلامی بلکہ غیر انسانی ودہشت گرد تنظیم ہے کیونکہ وہ اسلام کے نام پر انسانیت کو شرمندہ کرنے والی گھناؤنی حرکتیں کر رہی  ہے، اور انسانی خون پانی کی طرح بہا رہی ہے لہذا دنیا بھر کے علمائے کرام کو ہر ممکن ذریعے سے اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف شعور بیدار کرنا چاہیے اور اس کی طرف سے جاری کردہ قتل کی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنا غیر اسلامی اور شریعت کے مغائر ہے۔

واضح رہے کہ ذکر کردہ فتوٰی پر 1070 مذہبی تنظیموں نے دستخط کیا اور اس کی نقل 50 ممالک کو روانہ کیں۔

تعجب کی بات ہے کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے داعش کی زائد جارحیت و سفاکانہ بربریت کے پیش نظر اسے ایک وحشی اور درندہ صفت تنظیم قرار دیا ہے۔

ایک جائزہ.

اللہ تعالی تمام انسانوں خاص کر مسلمانوں اور اسلام کو ان کے شر سےمحفوظ فرمائے۔آمین




داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

بسم اللہ الرحمان الرحیم

اہل داعش سلفی نہیں سفلی ہیں

مختلف شرپسند ذرائع ابلاغ یہ باورکروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ داعش ایک سلفی تنظیم ہے جب کہ سعودی سلفی علماء کے سابقہ فتوؤں سے پتہ چلا کہ داعش سلفی نہیں ، بلکہ سفلی اور خوارج ہیں ، کیونکہ سلفی تو کتاب و سنت کے پابند رہتے ہیں اور کتاب و سنت میں حکمرانوں کی اطاعت کی ہدایت ہے اور فتنے و فساد اور دہشت گردی کی ممانعت ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ شرپسند ذرائع ابلاغ نے داعش کو سلفی اور وہابی قرار دیا ، جب کہ امام و مجدد محمد بن عبدالوھاب رحمہ اللہ کی دینی خدمات اور اسلامی تعلیمات سے روشناس سعودی حکومت نے نہ صرف داعش کو دہشت گرد قرار دیا بلکہ مختلف ممالک کے تعاون و اتحاد سے اس کے خلاف جنگ بھی جاری رکھی۔

علاوہ ازیں شیخ عبیدالجابر حفظہ اللہ لکچرار برائے رایل کمیشن الجبیل نے کہا کہ داعش القاعدہ سے علیحدہ ہوئی اور القاعدہ کو (مصر کی ممنوعہ دہشت گرد تنظیم) اخوان المسلمین (جس کے معروف مفکر برطانیہ سے سند یافتہ اور تربیت یافتہ سید قطب ہے ،جس سے اسامہ بن لادن متاثر تھا۔) نے قائم کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ عراق میں داعش کا بانی ابو مصعب الزرقاوی ہے جو ابو محمد المقدسی کا شاگرد ہے اور محمد المقدسی محمد سرورزین العابدین اور حسن ایوب کا شاگرد ہے ،اور یہ دونوں مصر کی دہشت گردتنظیم اخوان المسلمین کے بڑے اور معروف مفکرین ہیں علاوہ ازیں مزید توجہ طلب بات یہ ہے کہ داعش وجبہۃ النصرہ نے صراحت کی ہے کہ ان کا فکری انحصار سید قطب کی کتابوں پر ہے۔

مزید فرمایا کہ جس طرح قدیم خوارج کےعقائد توحید میں خلل نہیں تھا اسی طرح داعش کے عقائد توحید کے باب میں بھی خلل نہیں لیکن جس طرح خوارج کی امتیازی خصوصیت علیحدگی اختیار کرنا حکمرانوں کو کافر قرار دینا اور حاکم وقت کی بیعت سے انکار کرنا ہے اسی طرح داعش کی بھی یہی خصوصیت  ہے۔

النہج الواضح کے لکچرار شیخ احمد السبیعی حفظہ اللہ نے کہا کہ داعش کے ایک ہاتھ میں ہتھیار اور دوسرے ہاتھ میں سید قطب کی تفسیر فی ظلال القرآن ہوتی ہے۔

ملک عراق کے شہر موصل میں واقع فقہ کونسل کے نائب صدر شعبان عبدالکریم نے کہا کہ داعش اقامت دین و عدل کے سہارے مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے جب کہ وہ دین و عدل سے کوسوں دور ہے  اور ہم دینی امور کےذمہ داران ہونے کی حیثیت سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ داعش خوارج ہیں اور ہمارے دین یا ہم اہل سنت کے نمائندے نہیں ہیں۔

بعض اہل علم نے کہا کہ جب ہم داعش کی جھوٹ اور خیانت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں منافق کہناپڑتا ہے۔اور جب ہم ان کو ناحق کافر قرار دینے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں خوارج کہنا پڑتا ہے۔اسی طرح جب ہم ان کے تقیہ کرنے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں روافض کہنا پڑتا ہے اور جب ہم ان کے ظلم و زیادتی  کو دیکھتے ہیں تو ہمیں انہیں باغی کہنا پڑتا ہے۔

محترم قارئین! ہم نے اس میں کچھ اقوال کو جمع کیا ہے تاکہ لوگوں خاص طور پر سلفی نوجوانوں کے ذہن سے یہ بات نکالی جا سکے کہ داعش سلفی جماعت ہے۔کیونکہ حقائق یہ بتاتے ہیں کہ داعش ایک سلفی نہیں بلکہ سلفیت کے لبادے میں چھپی ایک شعبدہ باز جماعت ہے۔ لہٰذا اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تمام مسلمانوں کو ان کی شعبدہ بازیوں اور ان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ فرمائے۔ آمیں یا ارحم الراحمین

وما علینا الا البلاغ المبین




موجودہ پر فتن دور میں کرنے کے کام احادیث کی روشنی میں

موجودہ پر فتن دور میں کرنے کے کام احادیث کی روشنی میں 

آئیے پُر فتن دور میں کرنے کے چند کاموں کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جن کی پابندی ایک عام مسلمان کے لئے ازحد ضروری ہے تا کہ وہ قُرب قیامت فتنوں سے محفوظ رہ سکے:

دانائی سے کام لیں:

جب فتنے ظاہر ہونے لگیں یا حالات بدلنے لگیں تو ایسے نازک حالات میں نرمی و بردباری اور دانائی سے کام لیں اور جلد بازی نہ کریں۔ نرمی اس بنیاد پر کہ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اس کو عمدہ بناڈالتی ہے اور جس چیز سے نکال لی جاتی ہے اس کو عیب دار بنادیتی ہے۔ سارے کاموں میں نرمی کا خیال رکھیں، رحم دلی سے پیش آئیں، غصہ ور نہ بنیں ۔ دانائی اس لیے کہ آپ ﷺنے قبیلہ عبدالقیس کے اشجع نامی آدمی سے کہا تھا’’تمہارے اندر دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں بردباری اور دانشمندی‘‘ دانشمندی و دانائی عمدہ خصلت ہے ۔فتنے کے لمحات اور بدلتے حالات کے وقت بردباری قابل ستائش ہے کیونکہ بردباری کے ذریعے ہر چیز کی اصلیت و حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے۔

غوروفکر کے بعد ہی حکم لگائیں:

فتنہ کے ظہور اور حالات کے بدلتے وقت بغیر سوچے سمجھے آپ کسی چیز کے بارے میں حکم نہ لگائیں اس قاعدہ پر عمل کرتے ہوئے کہ ’’کسی چیز پر حکم لگانا اس پر غوروفکر کرنے کے بعد ہوا کرتا ہے‘‘ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

‹ولاتقف مالیس لک بہ علم›  

(سورہ اسراء: 63)

 ’’جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ‘‘ یعنی ایسا معاملہ جس کو آپ نہیں جان رہے ہوں، اس کا پاس وخیال نہ ہو اور نہ ہی آپ کے پاس اس بارے میں کوئی ثبوت ہو تو اس سلسلے میں بات کرنے سے بچیں، چاہے آپ اس میں لیڈر بنیں ۔

عدل وانصاف کوملحوظ رکھیں:

تمام کاموں میں عدل وانصاف کو لازم پکڑیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو،گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو۔“(سورہ انعام) اور فرمان الہی ہے:”کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کردے،عدل کیا کروجو پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے۔“ (سورہ المائدہ﴾ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ جس جماعت سے محبت کرتے ہیں اور جس جماعت سے محبت نہیں کرتے دونوں کو ایک میزان وکسوٹی پر رکھ کر پرکھیں اور اس کے بعد حکم لگائیں۔

جماعت کولازم پکڑیں:

اللہ تعالی کا فرمان ہے: ‹وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا›

اوراللہ تعالی کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو ۔“

(آل عمران : 103)

اورنبی ﷺ نے فرمایا:”جماعت کو لازم پکڑو اوراختلاف سے بچو۔“

(ابوداؤد)

حضرت عثمان رضى الله عنه منیٰ میں اتمام کرتے تھے جبکہ سنت یہ ہے کہ نمازی منیٰ میں ہر چار رکعت والی نماز کو دو دو رکعت پڑھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شرعی تاویل کی بناءپر چار رکعت ہی پڑھتے رہے ،اس کے باوجود حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہکہا کرتے تھے نبی ﷺ کی سنت یہی ہے کہ ہرچار رکعت والی نماز دورکعت ہی پڑھی جائے، ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کہتے ہیں اور حضرت عثمانرضی اللہ عنہکے ساتھ چار رکعت پڑھتے ہیں آخرکیوں؟ تو انہوں نے فرمایا:”اختلاف بری بات ہے  

(سنن ابوداود)

 اور ایسا ان کے شرعی قاعدہ کو سمجھنے کی وجہ سے ہوا کیونکہ جو اس کے برخلاف کرے گا اسکے اور دوسروں کے فتنہ میں پڑنے سے مامون نہیں رہا جاسکتا۔

شرعی میزان پر پرکھیں:

جھنڈے جو فتنہ میں اٹھائے جاتے ہیں خواہ وہ دعاةکے ہوں یاملکوں کے‘ ضروری ہے کہ مسلمان ان کو صحیح کسوٹی پر وزن کریں ۔آپ دیکھیں کہ اس میں خالص اللہ تعالی کی عبادت وبندگی ہے یا نہیں ؟۔ رسالت محمدی کی گواہی پوری کی جاتی ہے یانہیں؟اوراس گواہی کا تقاضا ہے کہ شریعت مصطفوی کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔ کسوٹی پر پرکھنے کے بعد آپ پر لازم ہے کہ آپ کی محبت اس میزان کے لیے ہو جو صحیح طور پر اسلام کو بلندو بالا کرتا ہے ، پھرآپ ایسے لوگوں کو مخلصانہ نصیحت کریں۔ جب یہ میزان مشتبہ ہوجائے تو اس سلسلے میں مرجع علماء ہوں گے کیونکہ وہی لوگ صحیح شرعی حکم جانتے ہیں۔

فضیل بن عیاض رحمه الله اپنے وقت میں سلطان کے لیے کافی دعا کرتے تھے، ان سے کہا گیا کہ آپ ان کے لیے اپنے سے زیادہ دعا کرتے ہیں؟ فرمایا :ہاں کیونکہ اگر میں درست رہا تو میری درستگی اپنے لیے اور اپنے اردگرد رہنے والوں کے لیے ہوگی ، رہا سلطان کی درستگی تو وہ عام لوگوں کے لیے ہوگی۔

قول وعمل میں چوکس رہیں:

فتنے کے وقت گفتاروکردارکے کچھ الگ ہی ضابطے ہوتے ہیں چنانچہ ہروہ بات جو آپ کو اچھی لگے اسے کہہ ڈالنا یا ہر وہ کام جو اچھا لگے اسے کر گزرنا مناسب نہیں، کیونکہ فتنے کی گھڑیوں میں ایسا کرنے سے متعدد مسائل کھڑے ہوتے ہیں۔

تعجب کی بات نہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے کہا:

’’میں نے رسول اللہ ﷺ  سے دو بھرے برتن کے مانند حدیثیں یاد کیں (یعنی دوقسم کا علم سیکھا) جن میں سے ایک کو میں نے عام کردیا اور اگر دوسرے کوعام کرتا تو میری گردن کاٹ دی جاتی۔‘‘

(صحیح بخاری)

علماءکا کہنا ہے کہ اس سے مراد ایسی حدیثیں ہیں جو فتنے اور بنو امیہ وغیرہ سے تعلق رکھتی تھیں،شرعی احکام سے متعلق نہ تھیں اورحضرت ابوہریرہ رضى الله عنه نے یہ بات حضرت معاویہ رضى الله عنه کے زمانے میں کہی جبکہ لوگ گھمسان کی لڑائی اورجنگ وجدال کے بعد ان کے سایہ تلے اکٹھا ہوچکے تھے، انہوں نے انہیں اس لیے چھپا لیا تاکہ لوگ جدائی کے بعد حضرت معاویہ رضى الله عنه پر جو یکجا ہوچکے تھے پھر لڑنے بھڑنے نہ لگیں۔ اسی لیے حضرت ابن مسعود رضى الله عنه فرماتے ہیں: ’’آپ لوگوں سے کوئی ایسی بات نہ کریں جو ان کی سمجھ سے باہر ہو اور ان کے لیے فتنہ کا سبب بن جائے‘‘  (صحیح مسلم)

فتنے کے وقت لوگ بات کواچھی طرح سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں،لہذا ہر وہ بات جو معلوم ہے‘ نہیں کہنی چاہیے ، زبان پر لگام لگانا ضروری ہے، کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کی بات پر کیسے اثرات مرتب ہونگے؟آپ کی رائے کیا رنگ لائے گی؟ سلف رحمہم اللہ اپنے دین کی سلامتی کے پیش نظر فتنوں کے وقت بہت سارے مسائل میں خاموش رہے تاکہ اللہ سے امن وسلامتی کے ساتھ ملیں۔

صحیح بخاری کی روایت ہے،نبی صلى الله عليه وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ’’اگر تمہاری قوم کے لوگ کفر سے قریب نہ ہوتے(نئے مسلمان نہ ہوتے)تو کعبہ کو ڈھاکراس کو قواعد ِابراہیمی پربناڈالتا اور اس میں دو دروازے لگا دیتا۔‘‘ نبی پاک صلى الله عليه وسلم کو اندیشہ لاحق ہوا کہ کفارِقریش جو نئے نئے اسلام لائے ہیں کعبہ کو توڑکر اسکو قواعدِابراہیمی پر بنانے اور اس میں دو دروازے لگانے (ایک سے داخل ہواجائے اور دوسرے سے نکلا جائے)سے ایسا نہ ہو کہ لوگ غلط سمجھ لیں یا یہ سمجھ لیں کہ آپ فخر کرنا چاہتے ہیں یا آپ دینِ ابراہیمی کی بے حرمتی کرنا چاہتے ہیں یا کچھ اور خیال کربیٹھیں اس لیے آپ نے اسکو چھوڑدیا۔

نیک اعمال کا التزام و اہتما م :

جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے ۔

’’بادروا بالاعمال فتنا کقطع الیل المظلم‘‘

’’لوگو! سخت سیا ہ رات کی طرح گھنے فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو  ( کیونکہ وہ فتنے اتنے خطر ناک ہوں گے کہ ) صبح کے وقت بندہ مؤمن ہو گا تو شام تک کافر ہو جائے گا اگر شام کو مؤمن ہو گا تو صبح تک کافر ہو جائے گاآدمی دنیا کے معمولی مفاد کے عوض اپنا دین بیچ دے گا ۔ ‘‘

اور کثرت سے اللہ کی عبادت کا اہتمام : کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا :

’’العبادۃ فی الھرج کا لھجرۃ الی‘‘ 

’’قتل و غار ت کے دور میں عبادت کرنا میں محمد ﷺ کی طرف ہجرت کرنے کے مترادف ہے ۔ ‘‘

( صحیح مسلم رقم 2948) ( الشریعہ لآجری ص49 رقم 82)

فتنوں کے ایام میں مسلمان کے خلاف زبان اور ہاتھ کو روک لینا :

جیسا کہ سیدنا علی اور امیر معاویہرضی اللہ عنہکے درمیان ہونے والی جنگوں کے موقع پر سیدناعلیرضی اللہ عنہ ایک صحابی کے پاس آئے اور کہا کہ میرے ساتھ میدان جنگ میں چلو۔ تو اس صحابی نے کہا: میں نے نبیﷺ سے سنا ہے فتنوں کے دور میں تو لکڑی کی تلوار بنا لینا ( اور اب  جبکہ دو مسلمان گروہ باہم برسرپیکار رہیں ) اور میرے پاس لکڑی کی تلوار ہی ہے، اگراسی طرح پسند  کرتے ہیں تو چل پڑتا ہو ں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کو چھوڑ کر چلے گئے ۔

کسی کلمہ گو شخص یا جماعت یا ادارہ کی تکفیر سے اجتناب کرنا :

اگر آپ کو کسی شخص کے بارے میں کسی بات یا عمل کا علم ہوتا ہے تو آپ اس شخص یا ادارہ یا جماعت پر کفر کا حکم لگانے کی بجائے اس کے کفر یہ قول یا فعل پر حکم رکھیں ۔کہ اس کا فلاں کام یا بات کفر یہ یاشرکیہ ہے یعنی حکم عمل پر رکھیں افراد پر نہیں یہ سب سے محتاط انداز ہے اور اس معیّن شخص وغیرہ کی تکفیر سے اجتناب کریں ۔کیونکہ یہ آپکے ذمے نہیں !

فتنہ پرور لوگوں کی محافل سے کلی اجتناب

کم علم تکفیری اورگمراہ کن نظریا ت کے حامل لوگوں کی مجالس اور ان کے ساتھ بحث سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے اور دوست اگر برے ہوں تو بندہ بھی برا ہی سمجھا جاتا ہے۔

آخر میں ہم دعا گوہیں  کہ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اس فتنہ عظیم(فتنہ تکفیر) سے محفوظ فرمائے اور سیدھی راہ پر گامزن رکھے۔

آمین یا رب العالمین




باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

بسم اللہ الرحمان الرحیم

باطل فرقوں اور گمراہ کن تنظیموں سے آگاہ کرنا اہل سنت کا اصول اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کا معمول

بعض سادہ لوح افراد کا یہ ماننا ہے کہ ہم ظاہر کا اعتبار کرنے کے پابند ہیں، اور ہمیں ہر کلمہ گو کے ساتھ اچھا گمان رکھنا چاہیے، کیوں کہ ہرکسی کے پاس کچھ نہ کچھ خیر رہتا ہے، لہذا ہم کسی کے تعلق سے کسی کو چوکنا نہ کریں۔

شریعت کی رو سے یقیناً ہم ظاہر کے پابند ہیں ،اور اہل علم کسی بھی باطل فرقے اور گمراہ  کن تنظیم کی ظاہری سرگرمیوں کی بنا پر ہی ان سے چوکنا کرتے ہیں ، کیوں کہ منحرف افکار اور غلط طریقہ کار اختیار کرنے والوں سے چوکنا کرنا اہل سنت کا اصول اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ و تابعین کا معمول رہا ہے، جیسا کہ گزشتہ آرٹیکلز میں ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں، علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے متشابہ آیات کے پیچھے لگے رہنے والوں سے امت کو چوکنا کیا

(صحیح البخاری:4547)

اور بالخصوص خوارج کے متعلق فرمایا کہ جہاں کہیں تمہیں یہ ملیں تم ان کا قتل کرو کیوں کہ ان کے قاتل کے لیے روز قیامت اجر عظیم ہے۔

(صحیح البخاری:5057)

اورنبیﷺ کا فرمان ہے کہ اگریہ مجھے مل جائیں تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا۔

( صحیح البخاری:7432)

ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے سے زیادہ خوارج سے جنگ کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ: 37886)

امام ابن ہبیرہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی حکمت یہ ہے کہ خوارج سے جنگ کرنے میں اسلام کے اصل سرمایے کی حفاظت ہے، اور مشرکین سے جنگ کرنے میں نفع حاصل کرنا ہے، اور اصل سرمایے کی حفاظت نفع حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے ۔

(فتح الباری لابن حجر:37886)

اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے معاذہ عدویہ نے حائضہ کی نمازوں کی قضا کے متعلق سوال کیا تو ام المومنین نے انہیں خوارج سے چوکنا کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تم حروریہ (خارجی)ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں ، لیکن (معلومات حاصل کرنے کے لیے )سوال کر رہی ہوں ۔

(صحیح مسلم :ح69)

معاذہ عدویہ کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ گمراہ افکار  و افراد سے عوام کوبھی واقف رہنا چاہیے جیسا کہ وہ ان سے واقف تھیں اسی لیے کہا کہ میں حروریہ (خارجیہ)نہیں ہوں ، اوراگروہ خوارج سے واقف نہ ہوتیں تو ان کا جواب اس طرح نہیں ہوتا بلکہ سوال یہ ہوتا کہ حروری کون ہیں؟

مزید پتہ چلا کہ عوام کبھی طہارت ونماز کے مسائل سے ناواقف رہ سکتی ہے ، لیکن غلط نظریات کے حاملین سے انہیں واقفیت ضرور رہنی  چاہیے۔

جہاں رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گمراہوں سے چوکنا کیا وہیں حذیفہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام بھی خوداپنے طور پر شر سے بچنے کی فکر کرتے اور رسول اللہ ﷺ سے شر کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے۔

(صحیح البخاری:ح3606)

وہب بن منبہ رحمہ اللہ اپنے کمسن سادہ لوح شاگردوں سے فرماتے کہ تم خوارج سےہوشیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی گمراہ سوچ و افکار میں پھنسا نہ لیں کیوں کہ وہ اس امت کے لیے شر ہیں۔

(سیرآعلام النبلاء، الطبقۃ الثانیہ ،وھب بن منبہ :ج4،ص553)

امام آجری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قدیم و جدیدزمانے کے اہل علم میں کوئی اختلاف نہیں کہ خوارج نمازی ، روزے دار، اور بڑے عبادت گزار ہونے کے باوجود بہت بری قوم ہیں ،جو اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان ہیں ، ان کی یہ ساری عبادتیں ان کے لیے کار آمد نہیں ،وہ امر بالمعروف و نہیں عن المنکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے مفید نہیں کیوں کہ یہ ایسی قوم ہیں جو اپنی خواہشات کی بنا پر قرآن کی تاویل کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں چوکنا کیا نبی ﷺ نے ہمیں آگاہ کیا خلفائے راشدین نے ان سے ہوشیارکیا اور دیگر صحابہ و تابعیں نے بھی ان کے خلاف شعور بیدار کیا اس لیے کہ یہ اور ان کے پیروانجاس وار جاس (نجس و ناپاک ) ہیں ،جو حاکموں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں۔

(الشریعہ ،باب ذم الخوارج،ج1،ص325)

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ خوارج یہودونصاری سے زیادہ مسلمانوں کےلیےشر ہیں کیونکہ وہ ہراس مسلمان کے قتل کے درپے رہتے ہیں جو ان کا موافق نہ ہو ،مسلمانوں کی جان ومال اور ان کی اولاد کوحلال سمجھتے ہیں اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ان کی بڑی جہالت اور گمراہ کن بدعت کی وجہ سے انہی کاموں کو دین سمجھتے ہیں ۔

(منہاج السنۃ النبویۃ الفصل السادس ،ج10،ص248)

امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خوارج اگر طاقتور ہوجائیں تو عراق ہو کہ شام، ساری زمین میں فساد مچادیں ،نہ کسی چھوٹے بچے کو چھوڑیں اور نہ ہی کسی بچی کو ، نہ ہی کسی مرد کو بخشیں نہ ہی کسی عورت کو کیونکہ ان کے نزدیک لوگ اس قدر بگڑچکے ہیں کہ ان تمام کو قتل کرنا ہی ان کے سدھار کا واحد راستہ ہے۔

(البدایۃ والنھایۃ ج10،ص584)

امام ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ خوارج کی ابتدا عراق سے ہوئی۔

(فتح الباری ،المقدمہ)

تعجب کی بات ہے کہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے ساری دنیا میں خوارج کے شروفساد کے  لیے عراق اور شام کا نام لیا ، بالکل اسی طرح  امام ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی خوارج کی ابتدا عراق سے ہی بتلائی اور آپ دیکھ لیں کہ موجودہ دور کے خوارج یعنی تنظیم داعش عراق سے ہی  نکلی۔

آپ دیکھ لیجئے کہ نبیﷺ سے لیکر عصر حاضر کے تمام علماء تک، ہر عالم نے گمراہ فرقوں اور باطل فرقوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ کے نوجوانوں کیلئے ضروری سمجھا کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ امت مسلمہ کے نوجوان جذباتی ہونے کی وجہ سے ان گمراہ تنظیموں کا بہت جلد شکار بن جاتے ہیں اسی لئے انہوں نے ہر دور میں اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتے ہوئے امت مسلمہ کو ان خارجی تنظیموں سے آگاہ کیا تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان تنظیموں کی سازش کو بھانپتے ہوئے اور اسلاف کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے احباب کو ان خارجی فکر کی تنظیموں کی سازشوں سے بروقت آگاہ کریں تاکہ ہمارے احباب نیکی کے جزبے میں ان تنظیموں کی فکر کا شکار نہ ہوجائیں۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔ 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




تکفیری وخارجی کون؟

خارجی کون سائٹ
💥💥تکفیری وخارجی کون؟؟ 💥💥

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ اما بعد !

گزشتہ چند عشروں سے امت مسلمہ بدترین دہشت گردی کی زد  میں ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک ترقی کی سفر کے بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہیں ، مگر قابل افسوس تو یہ ہے کہ جہاں یہ خود دہشت گردی کا شکار ہے وہاں دہشت گردی کے لیبل بھی انہی پر ہیں۔

غور و خوض کے بعد دیکھا جائے تو اس ساری صورتحال کا ذمہ دار بڑی حد تک خود مسلمان ہیں، کیونکہ حقیقی دین سے دوری اور کتاب وسنت کی اصل روح سے ناواقفیت نے مسلمانوں کو اس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے۔ امت مسلمہ چونکہ پہلے ہی سے مختلف گروہوں اور مسالک میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اور شدت پسند، مسلح دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے مزید بھی نفرتوں اور عداوتوں کا شکار ہوگئی ہے ۔ مسلمان ، مسلمان پر کفر اور ارتداد کے فتوے لگاکر انہیں قتل کرنے پر تیار ہوجاتا ہے۔

یہ بات بڑی واضح ہے کہ اس ساری صورتحال کی وجہ تکفیری وخارجی سوچ ہے، کیونکہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو اسی وقت قتل کرنے پر تیار ہوتا ہے، جب وہ اسے کافر سمجھنے لگ جاتا ہے ، تب وہ اسے مرتد کے زمرے میں لاکر انکے جان ومال کو حلال سمجھ کر اس انتہائی شنیع اقدام پر تیار ہوجاتا ہے۔  لہذا منہج تکفیر کو اس صورتحال میں کلیدی کردار حاصل ہے، جو کہ حقیقی دین اسلام سے کوسوں دور ہے، بلکہ نبی کریم ﷺ نے اس تکفیری و خارجی سوچ کے فتنے سے بڑی شدت کے ساتھ ڈرایا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے تو یہ کلمہ ان میں سے کسی ایک پر ضرور لاگو ہوگا۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دوران جنگ قتل کر دیا ، جس نے قتل ہونے سے پہلے کلمہ پڑھا ، جس پر آپ ﷺ نے انتہائی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : اے اسامہ ! قیامت والے دن جب اللہ کے ہاں یہ اپنا کلمہ پیش کرے گا تو تم اس کا کیسے سامنا کرو گے ؟

ان جیسی بے شمار صحیح احادیث مبارکہ آپ ﷺ سے مروی ہیں ، جس میں مسلمان کے حرمت و ناموس کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے اور اس حرمت کو پامال کرنے والی تکفیری سوچ و فکر کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جتنی بھی شدت پسند دہشتگرد مسلح تنظیمیں نمودار ہوتی ہیں، انکی سوچ وفکر و نظریات میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔  اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز نئے نئے نام سننے کے باوجود شدت پسند تحریکیں  تحریک طالبان، القاعدہ ، جبھہ نصرہ، اور بالآخر داعش تک کا سفر کرنے والی تمام دہشت گرد ، شدت پسند تکفیری گروہوں  میں ایک ہی سوچ اور ایک ہی منہج کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔  

یہ سب تکفیری وخارجی نظریے اور منہج کے حامل گروہ ہیں ، جسکا سادہ الفاظ میں مطلب یہ کہ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہ سمجھے، دین اسلام کے وسیع مفہوم کو محدود، مخصوص مسائل کا نام دے کر تشدد کی راہ اپنا لیتے ہیں ۔ 

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، آپ ﷺ نے اپنی امت کو جیسے ہر آنے والے شر سے خبردار فرمایا : اسی طرح آپ ﷺ نے فتنہ خوارج سے بھی متنبہ کیا اس کی علامات بتلائی، اور انکے خطرناک عزائم سے خبردار فرمایا۔ ان کے  بارے نبی کریم ﷺ سے بے شمار احادیث روایت کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکا شر اور نقصان اسلام کیلئے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور ان خوارج کے مابین گھمسان کی جنگیں لڑی گئی جس میں ان خوارج کی کثیر تعداد ہلاک ہوئی ۔ 

اس سوچ کی نشر واشاعت میں اکابرین وزعماء تحریک سید قطب  کو کلیدی کردار حاصل ہے، متشدد، بیانات و تصنیفات کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں کے اذہان کو خراب کیا اور تشدد کی راہ دکھائی  اور یوں مصر میں تکفیر کی تحریک کا آغاز اخوانی تحریک کے رہنما سید قطب کی تحریروں اور بیانات سے ہوا۔ سید قطب جو کوئی عالم دین نہ تھا بلکہ ایک ادیب اور شاعر تھا ، جس نے اسلامی عقائد کو توڑ مروڑ کر اسلامی  معاشروں اور سوسائٹیز پر کفر کے فتوے لگا کر فتنہ تکفیر کی بنیاد ڈالی ،

سید قطب کے بارے میں ایک اخوانی عالم دین یوسف القرضاوی کہتے ہیں :
”اس مرحلے میں سید قطب کی وہ کتابیں سامنے آئیں، جو سید قطب کے فکر کے آخری مرحلے کی نمائندگی کر رہی تھیں اور ان کتابوں میں اسلامی معاشروں کی تکفیر، نظام اسلامی کے قیام کی دعوت کو مؤخر کرنا اور فقہ اسلامی کی تجدید، تشکیل اور اجتہاد کے احیاء کی دعوت کو مقدم کرنا مترشح ہوتا ہے۔ اسی طرح سید قطب کی یہ کتابیں اسلامی معاشروں سے شعوری علیحدگی اور اپنے کے علاوہ سے قطع تعلقی کی دعوت دیتی ہیں…” اور یہ تمام افکار ان کی تفسیر ‘فی ظلال القرآن’ کے دوسرے ایڈیشن میں وضاحت سے موجود ہیں۔

(أولیات الحرکة الاسلامیة : ص ١١٠)

شیخ ابو حسام الدین طرفاوی نے بھی اپنی کتاب ‘الغلو فی التکفیر’ میں سید قطب کو تکفیری فکر اور تحریک کا حقیقی بانی قرار دیا ہے۔ 

علامہ البانی رحمہ اللہ نے سید قطب کے بارے کہا:
“اسکو نہ تو دین اسلام کے اصولوں کا علم تھا اور نہ ہی فروعات کا اور وہ دین اسلام سے منحرف تھا “۔ 

انکے علاوہ بیسیوں علماء کرام نے اس فکر کی ترویج میں سید قطب کا ہی نام سر فہرست ذکر کیا ہے۔ نظریہ تکفیر کے علاوہ یہ شخص کئی ایسے غلط نظریات کا حامل بھی تھا، جن میں سے اختصاراً درج ذیل ہے؛ 

جلیل القدر صحابہ کرام پرطعن، انبیاء کے لیے غیر مناسب کلمات کے استعمالات، وحدت الوجود کا قائل ہونا ، حلول کے عقیدے کے مطابق قرآنی آیات کی تفسیر ، صفات باری تعالی میں تحریف، مسلمان معاشروں کی تکفیر، مسئلہ جبر میں جبریہ کی تقلید، کلمہ توحید کی غلط تفسیر، عقیدے میں خبر واحد بلکہ خبر متواتر کابھی انکار، قرآن کو اللہ کی مخلوق قرار دینا، میزان کا انکار، اشتراکیت کا قائل ہونے، روح کو ازلی قرار دینے، بتوں اور قبر پرستی کے شرک کو شرک اکبر نہ سمجھنا، رؤیت باری تعالی، صفت ید، صفت وجہ [ید سے مراد ہاتھ اور وجہ سے مراد چہرہ  ہے جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہیں اور ان کو ہمارے اعضاء کے ساتھ تشبیہ دینا حرام ہے  اللہ تعالی کےہاتھ اور چہرہ ویسا ہی جیسا اس کی شان کے لائق ہے ] اور استواء علی العرش کی باطل تاویلات پیش کرنا، صفت کلام سے مراد اللہ کا ارادہ لینا، نبوی معجزات کی توہین اور عقیدہ الولاء و البراء میں غلو کرنا و دیگر غلط نظریات و افکار شامل ہے۔ سید قطب کے ایسے عقائد کی ایک کتاب “سید قطب اور عقیدہ و منہج ” 

مصر میں تکفیر کا دوسرا مرحلہ ‘جماعت المسلمین’ سے شروع ہوا جنہیں’جماعة التکفیر والھجرة‘ کا نام دیا گیا۔ اس جماعت کی ابتداء حسن البناء کی قائم کردہ جماعت ‘الاخوان المسلمون‘ کے ان اراکین سے ہوئی جنہیں حکومت مصر کی طرف سے پابند سلاسل کیا گیا، بعد میں انجینئر علی اسماعیل، شکری مصطفی، سے لیکر ماہر عبد اللہ زناتی نے اس فکر کی احیاء میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اس جماعت کے بنیادی عقائد میں تکفیر اور ہجرت شامل ہے۔ تکفیر کے اصول کے تحت یہ ان حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں جو اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔ یہ حکمرانوں کے علاوہ ان مسلمان معاشروں کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو اپنے حکمرانوں کے فیصلوں پر راضی ہوں یا انہیں ووٹ دیں یا کسی طرح سے بھی ان کے ساتھ تعاون کریں۔ یہ ان علماء کی بھی تکفیر کرتے ہیں جو شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے مسلمان حکمرانوں کی تکفیر نہیں کرتے۔ یہ جماعت تمام مسلمانوں کے لیے اپنے امام سے بیعت کو واجب قرار دیتی ہے جس مسلمان تک ان کے امام کی دعوت پہنچ جائے اور وہ اس کی بیعت نہ کرے تو اس مسلمان کی بھی وہ تکفیر کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی ان کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد نکل جائے تو وہ بھی ان کے نزدیک مرتد اور واجب القتل ہے۔ اپنے ہجرت کے اصول کے تحت انہوں نے تمام اسلامی معاشروں کو دور جاہلیت کے معاشرے قرار دیا اور ان سے قطع تعلقی کا حکم جاری کیا ۔ اس جماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ موجودہ اسلامی معاشروں میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں ہے کیونکہ یہ جاہلی معاشرے ہیں اور جاہلی معاشرے کو اللہ کے رسول نے ایمان کی دعوت دی لہذا ان مسلمان معاشروں کو بھی مکہ کے جاہلی معاشرے پر قیاس کرتے ہوئے صرف ایمان کی دعوت دینی چاہیے۔ اس جماعت کے بعض اکابرین کو پھانسی چڑھا دیا گیا، بعض نے اپنے افکار سے رجوع کر لیا اور بعض مختلف علاقوں اور بلاد اسلامیہ میں منتشر ہو کر اپنی  یہ سوچ و فکر پھیلانے لگ گئے۔

(الموسوعة المیسرة ‘ جماعات غالیة ‘ جماعة التکفیر والھجرة سے مختلف اقتباسات)

اسکے بعد اس فکر کے لوگ باہمی انتشار اور افتراق کا شکار ہوتے چلے گئے اور روس کے خلاف جہاد 1986 میں ایمن الظواہری اور انکی جماعت “مصری اسلامک جہاد” کے اراکین نے افغانستان کا رخ کیا اور وہاں اپنی اس زہریلی فکر و نظریات کے فروغ کے کھلے مواقع تھے۔
اور افغانستان میں دنیا بھر سے اخوانی فکر کے حاملین کو اکھٹا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، چونکہ اسامہ بن لادن مالی لحاظ سے ایک مضبوط بیک گراونڈ رکھتا تھا، لہذا اسکے ہاتھوں القاعدہ کی بنیاد ڈالی، اور پھر یہاں بیٹھ کر انہوں نے دنیا بھر میں اپنی مسلح کاروائیوں کو جاری رکھا ، اس دوران اپنی تکفیری و اخوانی فکر کی ترویج و اشاعت کا کام بھی کرتا رہا، یہاں تک کہ طالبان کی حکومت بنی اور پھر 9/11 کو امریکہ پر حملے کروا کر طالبان کی حکومت ختم کرنے کے باعث بنے ۔

اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کوئی شخص چند مخصوص فقہی مسائل کی بنیاد پر سلفی نہیں کہلایا جاتا ، یا صرف رفع الیدین، امین بالجہر ماننے سے اہلحدیث نہیں ہوتا ، بلکہ سلفی منہج اور مسلک اہلحدیث ایک مکمل منہج و عقیدہ کا نام ہے، جس کو فالو کرنے والے کو سلفی کہا جاتا ہے۔

اسی لئے داعش اور القاعدہ و دیگر مسلح تنظیموں جیسی اخوانی تکفیری تحریکوں کے سربراہان سب کے سب رفع الیدین کیا کرتے ہیں مگر سلفی علماء انہیں ہرگز سلفی قرار دینے پر تیار نہیں، بلکہ یہ خود سلفی منہج کو اپنی تکفیری منہج کے سامنے بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سلفی حکومت سعودی عرب کی سب سے زیادہ مخالفت کرتے ہیں ، اور انکے حکمرانوں کو مرتد قرار دیتے ہیں۔

تو اس ساری صورتحال کی وجہ فتنہ تکفیر ہے ، جو ان تمام دہشت گرد اخوانی تنظیموں میں پایا جاتا ہے، جوکہ تحریک اخوان المسلمین کا بویا ہوا بیج ہے، جو کہ آج ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

قارئین کرام حیران ہونگے کہ اخوانی تحریک کے سربراہ سید قطب کی کتاب ” فی ضلال القران ” کو منہج تکفیر میں ایک اعلی مقام اور مرجعیت حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ عبداللہ عزام، اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری، ابوبکر بغدادی ، گلبدین حکمت یار ، مسعود اظہر ، ابو محمد العدناني ، أبو عمر الشيشاني جیسے جہادی سوچ رکھنے والے اپنی سوچ کی مرجع سید قطب کی کتاب کو قرار دیتے ہیں ، اور اس کتاب کی خاص تعریف کرتے ہیں، بلکہ کئی ایسی تصاویر منظر عام پر آئی ہے کہ جن میں یہ مذکورہ شخصیات خرافات و غلط نظریات سے بھرپور اس کتاب کا مطالعہ کرتے نظر آتے ہیں ۔
جبکہ دوسری طرف دنیا بھر میں اپنے آپ کو سیاسی اخوانی کہنے والے پاکستان میں جماعت اسلامی ، مصر میں جماعت الاخوان، افغانستان میں حزب اسلامی و دیگر تنظیمیں سید قطب کو اپنا ایک عظیم لیڈر ورہبر سمجھتی ہیں، اور انکے مخصوص نظریات وافکار سے نہ صرف متاثر ہیں بلکہ انہیں عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

ان تمام ثبوتوں اور قرائن سے علم الیقین ہوجاتا ہے کہ حاکمیت کا غلط مفہوم جسے سید قطب نے بیان کیا ، شدت پسند تحریکوں کے وجود کے بنیادی پتھروں میں سے ایک ہے، یہی وہ خارجی فکر ہے جس نے ان جماعتوں کو مسلم معاشرے کی تکفیر اور پھر انکے خلاف ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کیا، اور اس انتہائی سٹیج پر لاکر کھڑا کردیا کہ جس پر یہ لوگ اپنے علاوہ کسی اور کو مسلمان نہیں سمجھتے۔

▪️ یہ بات ایک بار پھر دہرانا چاہوں گا کہ فتنہ تکفیر کی جڑ اخوانی فکر ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں شدت پسند تحریکوں کے سربراہان اس فکر کے متبع نظر آتے ہیں ، اگرچہ اس فکر کو عملی جامہ پہنانے میں یہ سب مختلف ہیں ، کچھ زیادہ ہی متشدد جبکہ کچھ کم متشدد بن جاتے ہیں ، مگر سب کی سوچ اور فکر ایک ہوتی ہیں۔
داعش جیسی سفاک دہشت گرد تنظیم جس نے اپنے مخالف کو اذیت ناک موت دینے میں کوئی بھی طریقہ نہیں چھوڑا، آگ میں زندہ جلانے سے لیکر پانی میں ڈبونے، ٹینک کے نیچے لانے، گردنوں پر 20 ہزار وولٹ بجلی کے کیبل باندھ کر کرنٹ سے مارنے، اور ذبح کرنے تک انہوں نے اپنا متشدد نظریہ دنیا کے سامنے رکھا، اور پھر یہی داعش عراق اور شام میں دیواروں پر سید قطب کے متشدد نعرے درج کرکے دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے پیروکار ہیں۔
مگر اس کے باوجود اغیار کی کوشش ہوتی ہے کہ سلفیوں کو بدنام کیا جائے ، دنیا بھر میں پرامن ،اعتدال پسند، کتاب وسنت پر مبنی دعوت کا راستہ روکا جائے، اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے کہ یہ شدت پسند تحریکیں سلفی ہیں۔
مگر جب تک ہم مسلمان  زندہ ہیں منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کا دفاع کرتے رہینگے، اور نہ صرف مخالفین کے غلط پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دینگے بلکہ تمام ثبوتوں کے ساتھ انکی حقیقت دنیا پر عیاں کرینگے۔ ان شاء اللہ ۔

و ما علینا الا البلاغ




خوارج،کبار صحابہ کے قاتل۔ سیدنا طلحہ،زبیر،عمار بن یاسررضی اللہ عنہم

سیدنا زبیر طلحہخوارج،کبار صحابہ کے قاتل

سیدنا زبیربن عوام و طلحہ بن عبید اللہ  اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم

خوارج کی فطرت میں ایک یہ بات بھی  شامل ہے کہ وہ ہمیشہ اسلامی دنیا میں اختلاف اور فتنہ برپا کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور جو شخص مسلمانوں کی باہمی لڑائی سے ہاتھ کھینچنا چاہے تو یہ اس کو شہید کر دیتے ہیں ۔اور اس معاملے میں وہ کسی کا لحاظ نہیں رکھتے بلکہ بے دھڑک اسے قتل کر دیتے ہیں  ،چاہے وہ نبیﷺ کے معزز اصحاب ہی کیوں نہ ہوں۔چنانچہ ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہےکہ خوارج نے  جن کبار صحابہ کو قتل کیا ہے ان میں سے چار اصحاب رسولﷺان دس اشخاص میں شامل ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے کہ جنہیں  اہل اسلام عشرہ مبشرہ کے نام سے جانتے ہیں۔چنانچہ ہم ان اصحاب رسول ﷺ کے ساتھ خوارج نے جوسلوک کیا ، اس کو فرداً فرداً بیان کر رہے تھے  ۔

چنانچہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ  امت مسلمہ میں سے خوارج کے ہاتھوں سب سے پہلے شہید ہونے والے صحابی سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ عنہ ہیں۔جبکہ ان کے بعد نبیﷺ کے ان دو جلیل القدر صحابہ کا نام آتا ہےکہ جن کے ناموں کی ترتیب بھی عشرہ مبشرہ میں اکٹھی ہے اور جو شہید بھی ایک ہی وجہ سے ہوئے یعنی سیدنا زبیر بن عوام اور طلحہ بن عبید اللہ  رضی اللہ عنہم۔اور ان کے بعد جناب عمار رضی اللہ عنہ کو خوارج نے قتل کیا۔

اس سے قبل کہ میں ان کی شہادت کا واقعہ بیان کروں اس سے پہلےمیں ان اصحاب کی اسلام کیلئے ناقابل فراموش خدمات کوبیان کرنا  مناسب سمجھتا ہوں تا کہ قارئین اس بات کو بخوبی جان لیں کہ  خوارج نے کیسے کیسے جلیل القدر اور عظیم المرتبت لوگوں کو صرف اہل اسلام کو لڑانے کی اپنی ناپاک خواہش پوری کرنے کیلئے قتل کر دیا۔

فضائل ومناقب:

نام زبیر،کنیت ابوعبداللہ، لقب حواری رسول اللہ۔ نبی کریم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر کے داماد۔ ہجرت سے 28 سال پہلے پیدا ہوئے۔ سولہ برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔اسلام اور نبیﷺ کے دفاع میں سب سے پہلے تلوار اٹھانے کا اعزاز رکھنے والے،ان کی والدہ ان کو بچپن میں بہت مارا کرتی تھیں تو کسی کے استفسار پر فرمانے لگیں کہ اگر ابھی سے یہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہنا سیکھ جائے گا تو آگے چل کر یہ قوموں کا سپہ سالار بن جائے گا۔ پہلے حبشہ اور پھر مدینہ کو ہجرت کی۔ جنگ بدر میں بڑی جانبازی سے لڑے اور دیگر غزوات میں بھی بڑی شجاعت دکھائی ۔ جنگ خندق کے دن بنو قریظہ کی غداری کی تصدیق  کیلئے نبیﷺ کے تین دفعہ استفسار کرنےپر ہر دفعہ کھڑے ہوکر جانے کی اجازت طلب کی اور اجازت ملنے پر ان کی غداری کی تصدیق کی تو نبیﷺ نے یہ یادگارالفاظ ارشاد فرمائے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر  ہے۔ فتح مکہ کے روز رسول اللہ کے ذاتی دستے کے علمبردار تھے۔ جنگ فسطاط میں حضرت عمر نے چار افسروں کی معیت میں چار ہزار مجاہدین کی کمک مصر روانہ کی ۔ ان میں ایک افسر حضرت زبیر بھی تھے۔ اور اس جنگ کی فتح کا سہرا آپ کے سر ہے۔جناب عثمان کی شہادت کے بعد  ان کا قصاص لینے کا تقاضا کرنے لگے اور جناب معاویہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔

جنگ جمل کے موقع پر ان کا سامنا جناب علی  رضی اللہ عنہ سے ہوا تو دونوں حضرات کا آپس میں مکالمہ ہوا تو جناب زبیر نے لڑائی کا ارادہ ترک کردیا تو ان کے بیٹے اپنے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ آپ نے جب دونوں فریق میدان میں جمع کر دئیے‘ اور ایک دوسرے کی عداوت پر ابھار دیا تو اب چھوڑ کر جانے کا قصد فرماتے ہیں‘ مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کو دیکھ کر ڈر گئے‘ اور آپ کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی‘ یہ سن کر سیدنا زبیر اسی وقت اٹھے اور تن تنہا ہتھیار لگا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف گئے‘ اور ان کی فوج کے اندر داخل ہو کر اور ہر طرف پھر کر واپس آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آتے ہوئے دیکھ کر پہلے ہی اپنے آدمیوں کو حکم دے دیا تھا کہ خبر دار کوئی شخص ان سے متعرض نہ ہو اور ان کا مقابلہ نہ کرے‘ چنانچہ کسی نے ان کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی۔

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے واپس جا کر اپنے بیٹے سے کہا کہ میں اگر ڈرتا تو تنہا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اس طرح نہ جاتا‘ بات صرف یہ ہے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے سامنے قسم کھالی ہے کہ تمہارا مقابلہ نہ کروں گا اور تم سے نہ لڑوں گا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ قسم کا کفارہ دے دیں‘اور اپنے غلام کو آزاد کر دیں‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے‘ اور نبیﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔

(صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ ، حدیث:۴۴۷)

شہادت:

جب لڑائی شروع ہو گئی‘ تو سیدنا زبیر ابن العوام رضی اللہ عنہ جو پہلے ہی سے ارادہ فرما چکے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہ لڑیں گے‘ میدان جنگ سے جدا ہو گئے‘ اتفاقاً سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ لیا اور بڑھ کر ان کو لڑائی کے لیے ٹوکا‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے نہ لڑوں گا لیکن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ان کو لڑائی کا بانی سمجھنے کی وجہ سے ان سے سخت ناراض تھے‘انہوں نے حملہ کیا سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کے ہر ایک وار کو روکتے اور اپنے آپ کو بچاتے رہے‘ اور خود ان پر کوئی حملہ نہیں کیا‘ یہاں تک کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تھک کر رہ گئے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر چل دئیے‘ اہل بصرہ سے احنف بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کی ایک بڑی جمعیت لیے ہوئے دونوں لشکروں سے الگ بالکل غیر جانب دار حالت میں ایک طرف خیمہ زن تھے‘ انہوں نے پہلے ہی سے دونوں طرف کے سرداروں کو مطلع کر دیا تھا کہ ہم دونوں میں سے کسی کی حمایت یا مخالفت نہ کریں گے۔

سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میدان جنگ سے نکل کر چلے تو احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کی لشکر گاہ کے قریب سے ہو کر گذرے‘ احنف بن قیس کے لشکر سے ایک خارجی شخص عمرو بن الجرموز سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہو لیا‘ اور قریب پہنچ کر ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور کوئی مسئلہ ان سے دریافت کرنے لگا‘ جس سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کی نسبت کوئی شک و شبہ پیدا نہ ہوا‘ لیکن اس کی طبیعت میں کھوٹ تھا اور وہ ارادہ فاسد سے ان کے ہمراہ ہوا تھا‘ وادی السباع میں پہنچ کر نماز کا وقت آیا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے‘ بحالت نماز جب کہ سجدہ میں تھے‘ عمروبن الجرموز نے ان پر وار کیا‘اور سیدنا زبیر اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون

 وہاں سے وہ سیدھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ علی رضی اللہ عنہ کی حفاظت پر مامور ایک شخص نے آ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا قاتل آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کرتا ہے‘ آپ نے فرمایا اس کو اجازت دے دو‘ مگر ساتھ ہی اس کو جہنم کی بھی بشارت سنا دو‘ جب وہ سامنے آیا اور آپ نے اس کے ساتھ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار دیکھی تو آپ کے آنسو نکل پڑے‘ اور کہا کہ اے ظالم یہ وہ تلوار ہے جس نے عرصہ دراز تک رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی ہے۔

عمرو بن الجرموز پر ان الفاظ کا کچھ ایسا اثر ہوا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں ان کے سامنے ہی چند گستاخانہ الفاظ کہہ کر تلوار خود اپنے پیٹ میں ہی جھونک کر مر گیا‘ اور اس طرح واصل جہنم ہو گیا۔

اب ہم جنا ب طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے ہیں:

مکمل نام طلحہ بن عبید اللہ ابومحمد کنیت،فیاض اورخیرلقب،والد کا نام عبیداللہ تھا، اسلام قبول کرنے والے پہلے آٹھ افراد میں سے ایک اور حضرت محمد ﷺ کے صحابی تھے۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔جنا ب ابو بکر کی دعوت پر اسلام لائے ۔بدر کے موقع پر نبیﷺ نے ان کو کہیں بھیجا ہوا تھا اس لئے شریک نہ ہوسکے لیکن مال غنیمت سے حصہ پایا اور اس معاملے میں بمثل عثمان قرار پائے۔

غزوۂ احد میں جان نثاری اورشجاعت کے جو بے مثل جوہردکھائے یقناً تمام اقوامِ عالم کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے،تمام بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا تھا،حضرت ابوبکر صدیق نے ان کے جسم پر ستر سے زیادہ زخم شمار کیے تھے۔اور ان کا ایک ہاتھ سارے تیر جھیلنے کی وجہ سے شل ہو گیا تھا ۔درباررسالتﷺ سے اسی جان بازی کے صلہ میں “شہید” کا لقب ملا، صحابہ کرام کو واقعہ احد میں ان کی اس غیر معمولی شجاعت اورجانبازی کا دل سے اعتراف تھا، حضرت ابوبکر صدیق غزوۂ احد کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ یہ طلحہ کا مخصوص دن تھا، حضرت عمر ان کو صاحبِِ احد فرمایا کرتےتھے۔ خود حضرت طلحہ کو بھی اس کارنامے پر بڑا ناز تھا اورہمیشہ لطف وانبساط کے ساتھ اس کی داستان سنایا کرتے تھے۔یہ ان دو اصحاب میں سے ایک ہیں کہ جنہیں زبان نبوت سے “فداک ابی وامی”میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں، سننے کا اعزا ملا۔اور دوسرے سعد بن ابی وقاص تھے ۔

جناب عثمان کی شہادت کے بعد  ان کا قصاص لینے کا تقاضا کرنے لگے اور جناب معاویہ کے ساتھ شامل ہوگئے۔لیکن جنگ جمل کے موقع پر  جناب  زبیر کی پیروی کرتے ہوئے جنگ سے علیحدگی اختیا ر کرنا چاہی لیکن مروان بن الحکم جو کہ  اس لڑائی میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا‘ جب لڑائی شروع ہو گئی تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ میں بھی علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ہرگز نہ کروں گا‘ اسی خیال سے وہ لشکر سے الگ ہو کر ایک طرف کھڑے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی باتوں پر غور کر رہے تھے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ والی پیشگوئی کو یاد کر کے اس لڑائی سے بالکل جدا اور غیر جانب دار ہونا چاہتے تھے‘ اس حالت میں مروان بن الحکم نے ان کو دیکھا اور وہ سمجھ گیا کہ یہ لڑائی میں کوئی حصہ لینا نہیں چاہتے‘ اور صاف بچ کر نکل جانا چاہتے ہیں‘ چنانچہ اس نے اپنے غلام کو اشارہ کیا اس نے مروان کے چہرے پر چادر ڈال دی‘ مروان نے چادر سے اپنا منہ چھپا کر کہ کوئی شناخت نہ کرے ایک زہر آلود تیر کمان میں جوڑ کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنایا‘ یہ تیر سیدنا طلحہ کے پاؤں کو زخمی کر کے گھوڑے کے پیٹ میں لگا اور گھوڑا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے گرا‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے غلام کو بلایا ، جو اتفاقاً اس طرف ان کے سامنے آ گیا تھا ، انہوں نے اس غلام یا سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر جو وہاں آ گئے تھے ، نیابتاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی،چنانچہ سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ نے انہیں علاج کی غرض سے بصرہ بھیج دیا لیکن زہر اپنا کام مکمل کر چکا تھا اور یوں  36ھ میں نبیﷺ کا یہ عظیم جلیل القدر سپاہی خوارج کے دیے ہوئے زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے رب کے پاس جا پہنچا۔انا للہ وانا الیہ راجعون

جناب عمار رضی اللہ عنہ :

اب ہم جناب عمار رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے ہیں:

نام عمارکنیت ابو یقظان،یاسر رضی اللہ عنہ اور سمیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے اور جلیل القدر صحابی تھے۔عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نےدوراسلام کے شروع میں اسلام قبول کیا۔ ان کے والد یاسر اور والدہ اسلام کے پہلے شہیدوں میں سے تھے۔ نبیﷺ نے ان کے اہل خانہ کے مصائب کو دیکھتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا :

“صبراً آل یاسر،فان موعدکم الجنۃ”

اے آل یاسر صبر کرتے رہو،میں تم سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں۔

 یہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے سربراہ تھے۔ جنگ بدر اور دیگر جنگوں میں شریک تھے اور صلح حدیبیہ میں بھی شامل تھے۔

جناب عثمان کی شہادت کے بعد یہ جناب علی کے ساتھیوں میں سے تھے اور انہی کو دیکھ کر جناب طلحہ و زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جنگ جمل سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔

انکی شہادت کی تفصیلات تو واضح نہیں ہیں لیکن یہ چونکہ جنگ صفین کے موقع پر شہید ہوئے اور ان کے بارے میں نبیﷺ کی یہ پیشین گوئی تھی کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل  کرے گا۔

(صحیح مسلم، حدیث 6966 ، 6970)

اسی لئے علماء یہ استدلال کرتے ہیں کہ  ان کو خوارج نے ہی موقع پاکر شہید کر دیا تھا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

(تلخیص:تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی)