وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوۡمِهِۦٓ إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُكُمۡ أَن تَذۡبَحُواْ بَقَرَةࣰۖ قَالُوٓاْ أَتَتَّخِذُنَا هُزُوࣰ اۖ قَالَ أَعُوذُ بِٱللَّهِ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ٦٧
67. And [recall] when Moses said to his people, "Indeed, Allah commands you to slaughter a cow." They said, "Do you take us in ridicule?" He said, "I seek refuge in Allah from being among the ignorant
قَالُواْ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةࣱ لَّا فَارِضࣱ وَلَا بِكۡرٌ عَوَانُۢ بَيۡنَ ذَٰلِكَۖ فَٱفۡعَلُواْ مَا تُؤۡمَرُونَ٦٨
68. They said, "Call upon your Lord to make clear to us what it is." [Moses] said, "[Allah] says, 'It is a cow which is neither old nor virgin, but median between that,' so do what you are commanded
قَالُواْ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوۡنُهَاۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةࣱ صَفۡرَآءُ فَاقِعࣱ لَّوۡنُهَا تَسُرُّ ٱلنَّٰظِرِينَ٦٩
69. They said, "Call upon your Lord to show us what is her color." He said, "He says, 'It is a yellow cow, bright in color - pleasing to the observers
قَالُواْ ٱدۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ إِنَّ ٱلۡبَقَرَ تَشَٰبَهَ عَلَيۡنَا وَإِنَّآ إِن شَآءَ ٱللَّهُ لَمُهۡتَدُونَ٧٠
70. They said, "Call upon your Lord to make clear to us what it is. Indeed, [all] cows look alike to us. And indeed we, if Allah wills, will be guided
قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةࣱ لَّا ذَلُولࣱ تُثِيرُ ٱلۡأَرۡضَ وَلَا تَسۡقِي ٱلۡحَرۡثَ مُسَلَّمَةࣱ لَّا شِيَةَ فِيهَاۚ قَالُواْ ٱلۡـَٰٔنَ جِئۡتَ بِٱلۡحَقِّۚ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُواْ يَفۡعَلُونَ٧١
71. He said, "He says, 'It is a cow neither trained to plow the earth nor to irrigate the field, one free from fault with no spot upon her.' " They said, "Now you have come with the truth." So they slaughtered her, but they could hardly do it
ٹیکساس سے لائی گئی ۵ سرخ گائیں اور 'دو سفید بالوں' کی کڑی شرط: شیلوہ کے ایک محدب عدسے نے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل کیوں مچا دی؟
تورات کے تین ہزار سال پرانے قانون میں دو سفید بالوں کی شرط کیوں ہے، ٹیکساس سے پانچ سرخ بچھڑیاں خصوصی پرواز سے تل ابیب کیسے لائی گئیں اور معائنے میں آخر کیا نکلا؟
The questionتھرڈ ٹیمپل کی تحریک چلانے والوں کو ایک بے عیب سرخ بچھڑی کی راکھ کیوں درکار ہے، اور ٹیکساس سے لائی گئی ان پانچ بچھڑیوں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
ستمبر 2022ء میں امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے ایک فارم سے پانچ سرخ بچھڑیاں تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر اتریں۔ عام لوگوں کے لیے یہ مویشیوں کی ایک کھیپ تھی، مگر ٹیمپل ماؤنٹ کے سرگرم گروہوں کے نزدیک یہ دو ہزار سالہ مذہبی پابندی کھولنے کی کنجی تھی۔
روایتی ربی احاطے میں قدم رکھنے سے کیوں روکتے ہیں اور کون سی ایک رسم اس پابندی کو ختم کر سکتی ہے؟
ٹیکساس کی پانچ گائیں عالمی خبروں کی زینت کیوں بنیں، یہ سمجھنے کے لیے آپ کو پہلے یہودی مذہبی قانون (ہلاخاہ) کی دو ہزار سال پرانی الجھن سمجھنی ہوگی۔
تورات کی کتاب گنتی (باب 19) کے مطابق جو شخص کبھی کسی مردے کو چھو لے، قبر کے پاس سے گزرے یا ایسی چھت کے نیچے آئے جہاں میت ہو، تو اس پر سب سے بڑی مذہبی نجاست لازم آتی ہے جسے 'طامے میت' (Tamei Met) کہا جاتا ہے۔ 70 عیسوی میں دوسرے ہیکل کی تباہی کے بعد سے آج دنیا کا ہر شخص اس نجاست کی حالت میں شمار ہوتا ہے اور اس حالت میں مقدس احاطے میں داخل ہونا سخت ترین گناہ سمجھا جاتا ہے۔
اور یہ نجاست کیسے دور ہوتی ہے؟ عام پانی سے غسل کرنے سے یہ ختم نہیں ہوتی۔ تورات میں اس کا صرف ایک ہی علاج بتایا گیا ہے: ایک مکمل طور پر بے عیب سرخ بچھڑی (Parah Adumah) کی راکھ کو بہتے چشمے کے پانی میں ملا کر چھڑکنا! مشناہ (پارہ 3:5) کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے لے کر 70 عیسوی میں دوسرے ہیکل کی تباہی تک پوری تاریخ میں صرف نو سرخ بچھڑیاں تیار کی گئیں، اور ابن میمون (رمبم) نے لکھا کہ دسویں بچھڑی مسیحا کے دور میں تیار ہوگی۔
| دور / تعداد | نگران کاہن | تاریخی اہمیت |
|---|---|---|
| پہلی گائے | حضرت موسیٰؑ اور الیعزر کاہن | سینا کا بیابان؛ سلیمانؑ کے پہلے ہیکل تک راکھ کا استعمال۔ |
| دوسری گائے | عزرا الکاتب (حضرت عزیرؑ) | بابل کی قید سے واپسی پر دوسرے ہیکل کے لیے تیار کی گئی۔ |
| تیسری تا نویں گائے | دوسرے ہیکل کے مختلف کاہن (شمعون صادق وغیرہ) | 70ء میں رومی تباہی سے پہلے 420 سال کے دوران وقفے وقفے سے تیار ہوئیں۔ |
| دسویں گائے | مسیح بادشاہ (ابن میمون کی پیش گوئی) | ابن میمون نے لکھا: 'دسویں گائے مسیح بادشاہ تیار کرے گا، خدا کرے وہ جلد ظاہر ہو۔' |
ماخذ: مشناہ پارہ 3:5؛ ابن میمون، مشنہ تورات، احکام پارہ ادومہ 3:4۔
مسجد اقصی کے چبوترے پر داخلے کی تاریخی پابندی
70ء میں رومیوں کی تباہی کے بعد راکھ ختم ہو گئی، جس کی وجہ سے روایتی یہودی قانون کے مطابق آج تمام انسان ناپاک ہیں۔ اسی لیے اسرائیل کی چیف ربی کونسل نے چبوترے کے دروازوں پر بورڈ لگا رکھے ہیں کہ وہاں داخلہ شرعاً حرام ہے۔ سرخ گائے کی راکھ بنتے ہی یہ پابندی خود بخود ختم ہو جائے گی۔
صرف دو سفید بال یا کان کا ایک سوراخ ہونے سے گائے فوراً نااہل کیوں ہو جاتی ہے؟
ہزاروں سال میں صرف نو گائیں ہی اس معیار پر پوری کیوں اتریں؟ اس لیے کہ مشناہ کے باب 'پارہ' میں اس کی شرائط انتہائی سخت ہیں:
- دو بالوں کا اصول (Two-Hair Rule): گائے کی پلکوں اور نتھنوں سے لے کر دم تک ہر بال قدرتی طور پر سرخ ہونا چاہیے۔ اگر محدب عدسے (Magnifying glass) سے معائنہ کرتے ہوئے صرف دو سفید یا کالے بال بھی مل جائیں تو گائے فوراً نااہل قرار پاتی ہے!
- کبھی جوا یا بوجھ نہ رکھا گیا ہو: پیدائش سے لے کر کبھی اس کی پیٹھ پر کوئی رسی، زین یا بوجھ نہ رکھا گیا ہو۔
- کان میں کوئی چھید یا داغ نہ ہو: جدید فارموں میں پیدائش کے وقت مویشیوں کے کان میں شناختی ٹیگ لگایا جاتا ہے، مگر کان میں ایک سوراخ بھی اس گائے کو ہمیشہ کے لیے نااہل کر دیتا ہے۔

اور سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت کا نام ہی 'سورہ البقرہ' (گائے والی سورت) ہے، جہاں (آیات 67 تا 71) اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ کس طرح بنی اسرائیل نے ایک گائے ذبح کرنے کے سادہ حکم کو بار بار سوالات کر کے اس کے رنگ، عمر اور بے عیب ہونے کی کڑی شرائط میں بدل لیا:
قانونی راستہ نکال کر ٹیکساس سے پانچ سرخ گائیں تل ابیب کیسے پہنچائی گئیں؟
دہائیوں تک یروشلم کے 'ٹیمپل انسٹی ٹیوٹ' اور 'بونیہ اسرائیل' نامی تنظیم نے دنیا بھر کے فارموں میں ایسی بچھڑی تلاش کی جس کے جسم پر دو سفید بال بھی نہ ہوں اور جس کے کان میں سرکاری ٹیگ کا سوراخ بھی نہ ہوا ہو۔
بالآخر 2022ء میں امریکہ کے کچھ ایونجیلیکل مسیحی گروہوں کی مدد سے انہیں ٹیکساس کے ایک فارم میں پانچ ریڈ اینگس (Red Angus) بچھڑیاں مل گئیں جن کے کانوں میں ٹیگ نہیں لگایا گیا تھا۔ لیکن وہاں ایک قانونی رکاوٹ تھی: اسرائیلی زرعی قانون کے تحت امریکہ سے تجارتی مویشی کے طور پر زندہ گائیں درآمد کرنے پر پابندی تھی!
انہوں نے اس پابندی کا توڑ کیسے نکالا؟ ایک قانونی شق کا سہارا لے کر انہوں نے ان پانچ گایوں کو مویشی کے بجائے 'پالتو جانور' (Pets) کے طور پر رجسٹر کرایا! چنانچہ 15 ستمبر 2022ء کو تقریباً پانچ لاکھ ڈالر کے خرچ سے ان پانچ بچھڑیوں کو نیویارک سے تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا۔
ٹیکساس سے پانچ ریڈ اینگس بچھڑے بین گوریان ایئرپورٹ پہنچے اور پالتو جانور کے طور پر کلیئر ہوئے۔
CBS News & Al Jazeera ↗کرسچن صیہونی گروپ بونے اسرائیل اور بائرن سٹنسن نے مویشیوں کی تلاش اور پرواز کے اخراجات برداشت کیے۔
Religion News Service ↗بچھڑوں کو تاریخی مقام شیلوہ میں عمومی نمائش اور مسلسل نگرانی کے لیے رکھا گیا۔
The Times of Israel ↗
سنہری دروازے کے سامنے جبلِ زیتون کی زمین، پتھر کے برتن اور دیودار کی لکڑی
مشناہ کے قانون کے مطابق سرخ بچھڑی کی یہ رسم کہاں ادا کی جاتی ہے؟ یہ احاطے کے اندر نہیں ہو سکتی، بلکہ تورات (گنتی 19:3) اور مشناہ پارہ (3:9) کے مطابق یہ مشرق میں وادی قدرون کے پار جبلِ زیتون (Mount of Olives) پر ایسے مقام پر ہونی چاہیے جہاں سے کاہن کی نظر سیدھی مشرقی دروازے (باب الرحمۃ / گولڈن گیٹ) کے اوپر سے اندرونی احاطے پر پڑے۔

گایوں کے آنے سے کئی سال پہلے ہی سرگرم ربیوں نے جبلِ زیتون کی ڈھلوان پر عین اسی زاویے پر زمین کا ایک قطعہ خرید لیا تھا اور وہاں ایک سفید چبوترہ بھی تیار کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ ان کے قانون کے مطابق مٹی یا دھات کے برتن ناپاک ہو سکتے ہیں لیکن پتھر کے تراشے ہوئے برتن (Kelei Even) کبھی نجس نہیں ہوتے۔ چنانچہ یروشلم میں چونے کے پتھر کے برتن، دیودار کی لکڑی، زوفا کی جھاڑی اور قرمزی اون بھی تیار کی گئی۔

- گائے کی دیکھ بھال / شیلوہ
- قربান গাহ اور حرم
- آمد اور پیش گوئی کے مقامات
اگر آج ہر کاہن بھی نجاست کی حالت میں ہے تو پھر یہ رسم ادا کون کرے گا؟
یہیں سب سے بڑی قانونی الجھن سامنے آتی ہے جس پر خود آرتھوڈوکس ربیوں میں شدید اختلاف ہے: اگر آج زمین پر موجود ہر شخص 'طامے میت' ہے تو پھر پہلی سرخ بچھڑی ذبح کرنے کے لیے مکمل طور پر پاک کاہن (کوہن) کہاں سے آئے گا؟
قدیم زمانے میں (مشناہ پارہ 3:2 کے مطابق) کاہن خاندان کی حاملہ خواتین کے لیے کھوکھلی چٹانوں کے اوپر خاص حویلیاں بنائی جاتی تھیں تاکہ زمین کے نیچے کسی پرانی قبر کی نجاست بھی بچے تک نہ پہنچے، اور وہ بچہ کبھی کسی قبرستان یا ہسپتال کے قریب نہیں جاتا تھا۔
آج ٹیمپل انسٹی ٹیوٹ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کوہن نسل کے ایسے لڑکے تیار کیے ہیں جن کی پیدائش کسی ہسپتال میں نہیں ہوئی (کیونکہ ہسپتالوں میں مردہ خانے ہوتے ہیں) اور جو کبھی کسی قبرستان کے قریب نہیں گئے، جبکہ روایتی حریدی علماء اس طریقے کو تسلیم نہیں کرتے۔
شیلوہ میں جب بچھڑیوں کی عمر تین سال ہوئی تو محدب عدسے کے نیچے کیا نکلا؟ (۲۰۲۴ تا ۲۰۲۶ اپڈیٹ)
ستمبر 2022ء میں آنے کے بعد ان بچھڑیوں کی عمر کم تھی (تورات کے قانون کے مطابق بچھڑی کا تیسرے سال میں داخل ہونا شرط ہے)۔ اس لیے انہیں مغربی کنارے کے قدیم مقام شیلوہ (Tel Shiloh) میں خصوصی باڑوں اور کیمروں کی نگرانی میں رکھا گیا۔

مارچ اور اپریل 2024ء میں جب بچھڑیاں تیسرے سال میں داخل ہوئیں تو عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر افواہیں گرم ہو گئیں کہ قربانی بس چند دن کی بات ہے۔ لیکن پھر قدرت کا قانون حرکت میں آیا۔ جیسے جیسے مویشی کی عمر بڑھتی ہے اس کی گردن، ناک اور دم کے پاس قدرتی طور پر سفید یا سیاہ بال نکل آتے ہیں۔ جب شیلوہ میں ربیوں نے محدب عدسوں (Magnifying glasses) سے ان کا معائنہ کیا تو ان پانچ میں سے کئی بچھڑیوں کے جسم پر سفید اور سیاہ بال نکل آئے جس سے وہ دو بالوں کے اصول کے تحت نااہل ہو گئیں!

2025ء تا 2026ء تک جبلِ زیتون پر کسی مستند سرخ بچھڑی کی باقاعدہ قربانی عمل میں نہیں آئی (2025ء کے وسط میں صرف ایک نااہل قرار دی گئی بچھڑی پر مشق کی گئی)، اور اب مقامی طور پر افزائشِ نسل کی کوششیں جاری ہیں۔
پانچ گائیں علاقائی سیاست کا محور کیوں بن گئیں اور ایک مومن کو بغیر گھبرائے ان خبروں کو کیسے دیکھنا چاہیے؟
شیلوہ کے باڑے میں کھڑی پانچ گائیں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی کا موضوع کیوں بن گئیں؟ اس کی وجہ بیت المقدس کی زمینی حقیقت ہے۔
پچھلے سو سال سے لاکھوں مذہبی یہودیوں کو احاطۂ اقصیٰ میں داخل ہونے سے روکنے والی سب سے بڑی رکاوٹ ان کے اپنے چیف ربینیٹ کا مذہبی فتویٰ تھا۔ اگر شدت پسند تنظیمیں عام لوگوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ انہوں نے سرخ بچھڑی کی راکھ تیار کر کے یہ پابندی ختم کر دی ہے تو المسجد الاقصیٰ پر دباؤ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
یہاں تک کہ جنوری 2024ء میں غزہ جنگ کے سو دن مکمل ہونے پر جاری ہونے والے سرکاری بیان میں المسجد الاقصیٰ کو درپیش خطرات کے ضمن میں باقاعدہ 'سرخ گایوں (البقرات الحمر) کے لائے جانے' کا ذکر کیا گیا۔
لیکن بطور مسلمان کیا ہمارا ایمان یا علاماتِ قیامت کا وقت اس بات پر منحصر ہے کہ شیلوہ کی کسی تنظیم کو دو سفید بالوں کے بغیر گائے ملتی ہے یا نہیں؟ ہرگز نہیں!
اسلامی عقیدے کے مطابق گائے کا حکم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کی شریعت کا ایک واقعہ تھا جو اپنے وقت میں پورا ہو چکا اور شریعتِ محمدیہ ﷺ کے آنے کے بعد منسوخ ہو چکا ہے۔ آخری زمانے کے واقعات, بیت المقدس کی آبادی، امام مہدی کا ظہور، دجال کا فتنہ اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام, صرف اللہ کے فیصلے اور نبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کے مطابق ہوں گے۔
اس لیے ہمارا کام یہ ہے کہ افواہوں سے خوفزدہ نہ ہوں، بغیر تحقیق کے وائرل پوسٹیں شیئر نہ کریں، المسجد الاقصیٰ کی حرمت اور عدل کے ساتھ کھڑے رہیں اور مسنون اعمال کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ " . ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَ - أَوْ مَنْكِبِهِ - ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ هَا هُنَا أَوْ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ . يَعْنِي مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ .
Narrated Mu'adh ibn Jabal: The Prophet (ﷺ) said: The flourishing state of Jerusalem will be when Yathrib is in ruins, the ruined state of Yathrib will be when the great war comes, the outbreak of the great war will be at the conquest of Constantinople and the conquest of Constantinople when the Dajjal (Antichrist) comes forth. He (the Prophet) struck his thigh or his shoulder with his hand and said: This is as true as you are here or as you are sitting (meaning Mu'adh ibn Jabal)
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ، قَاضِي حِمْصَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ، جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلاَبِيَّ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ، نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا فَقَالَ " مَا شَأْنُكُمْ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ . فَقَالَ " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالاً يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ " أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلاَةُ يَوْمٍ قَالَ " لاَ اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ " كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَىْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ . فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلاً مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأَسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ فَلاَ يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلاَّ مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لاَ يَدَانِ لأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ . وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ . وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهُمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الأَرْضِ فَلاَ يَجِدُونَ فِي الأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلاَّ مَلأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لاَ يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ . فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ " .
An-Nawwas b. Sam`an reported that Allah's Messenger (ﷺ) made a mention of the Dajjal one day in the morning. He (ﷺ) sometimes described him to be insignificant and sometimes described (his turmoil) as very significant (and we felt) as if he were in the cluster of the date-palm trees. When we went to him (to the Holy Prophet) in the evening and he read (the signs of fear) in our faces, he (ﷺ) said:What is the matter with you? We said: Allah's Messenger, you made a mention of the Dajjal in the morning (sometimes describing him) to be insignificant and sometimes very important, until we began to think as if he were present in some (near) part of the cluster of the date-palm trees. Thereupon he (ﷺ) said: I harbor fear in regard to you in so many other things besides the Dajjal. If he comes forth while I am among you, I shall contend with him on your behalf, but if he comes forth while I am not amongst you, a man must contend on his own behalf and Allah would take care of every Muslim on my behalf (and safeguard him against his evil). He (Dajjal) would be a young man with twisted, contracted hair, and a blind eye. I compare him to `Abd-ul-`Uzza b. Qatan. He who amongst you would survive to see him should recite over him the opening verses of Sura Kahf (xviii). He would appear on the way between Syria and Iraq and would spread mischief right and left. O servant of Allah! adhere (to the path of Truth). We said: Allah's Messenger, how long would he stay on the earth? He (ﷺ) said: For forty days, one day like a year and one day like a month and one day like a week and the rest of the days would be like your days. We said: Allah's Messenger, would one day's prayer suffice for the prayers of day equal to one year? Thereupon he (ﷺ) said: No, but you must make an estimate of time (and then observe prayer). We said: Allah's Messenger, how quickly would he walk upon the earth? Thereupon he (ﷺ) said: Like cloud driven by the wind. He would come to the people and invite them (to a wrong religion) and they would affirm their faith in him and respond to him. He would then give command to the sky and there would be rainfall upon the earth and it would grow crops. Then in the evening, their pasturing animals would come to them with their humps very high and their udders full of milk and their flanks stretched. He would then come to another people and invite them. But they would reject him and he would go away from them and there would be drought for them and nothing would be left with them in the form of wealth. He would then walk through the waste land and say to it: Bring forth your treasures, and the treasures would come out and collect (themselves) before him like the swarm of bees. He would then call a person brimming with youth and strike him with the sword and cut him into two pieces and (make these pieces lie at a distance which is generally) between the archer and his target. He would then call (that young man) and he will come forward laughing with his face gleaming (with happiness) and it would be at this very time that Allah would send Jesus, son of Mary, and he will descend at the white minaret in the eastern side of Damascus wearing two garments lightly dyed with saffron and placing his hands on the wings of two Angels. When he would lower his head, there would fall beads of perspiration from his head, and when he would raise it up, beads like pearls would scatter from it. Every non-believer who would smell the odor of his self would die and his breath would reach as far as he would be able to see. He would then search for him (Dajjal) until he would catch hold of him at the gate of Ludd and would kill him. Then a people whom Allah had protected would come to Jesus, son of Mary, and he would wipe their faces and would inform them of their ranks in Paradise and it would be under such conditions that Allah would reveal to Jesus these words: I have brought forth from amongst My servants such people against whom none would be able to fight; you take these people safely to Tur. And then Allah would send Gog and Magog and they would swarm down from every slope. The first of them would pass the lake of Tiberias and drink out of it. And when the last of them would pass, he would say: There was once water there. Jesus and his companions would then be besieged here (at Tur, and they would be so much hard pressed) that the head of the ox would be dearer to them than one hundred dinars and Allah's Apostle, Jesus, and his companions would supplicate Allah, Who would send to them insects (which would attack their necks) and in the morning they would perish like one single person. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then come down to the earth and they would not find in the earth as much space as a single span which is not filled with their putrefaction and stench. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then again beseech Allah, Who would send birds whose necks would be like those of Bactrian camels and they would carry them and throw them where God would will. Then Allah would send rain which no house of clay or (the tent of) camels' hairs would keep out and it would wash away the earth until it could appear to be a mirror. Then the earth would be told to bring forth its fruit and restore its blessing and, as a result thereof, there would grow (such a big) pomegranate that a group of persons would be able to eat that, and seek shelter under its skin and milch cow would give so much milk that a whole party would be able to drink it. And the milch camel would give such (a large quantity of) milk that the whole tribe would be able to drink out of that and the milch sheep would give so much milk that the whole family would be able to drink out of that and at that time Allah would send a pleasant wind which would soothe (people) even under their armpits, and would take the life of every Muslim and only the wicked would survive who would commit adultery like asses and the Last Hour would come to them
Read more:The Temple Institute (Machon HaMikdash) ↗Boneh Israel Project ↗Al Jazeera Investigation: The Red Heifers and the Third Temple ↗CBS News: Texas Red Heifers Arrive in Israel ↗
سرخ بچھڑی (Red Heifer): وائرل افواہیں بمقابلہ مصدقہ حقائق
وائرل افواہوں اور مستند حقائق کا فرق۔
سرخ بچھڑی اسلام میں قیامت کی علامات میں سے ایک ہے جس کا مسلمان انتظار کر رہے ہیں۔
ہرگز نہیں! سرخ بچھڑی کی رسم تورات کی کتاب گنتی (باب 19) کا ایک قدیم قانون ہے جسے آج مخصوص ٹیمپل ماؤنٹ تنظیمیں پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قرآن و سنت کی علاماتِ قیامت میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔
ٹیکساس سے لائی گئی پانچ بچھڑیاں اپریل 2024ء میں جبلِ زیتون پر ذبح کی جا چکی ہیں۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔ 2024ء اور 2025ء کے دوران شیلوہ میں ان بچھڑیوں کے جسم پر سفید اور سیاہ بال نکل آئے جس کی وجہ سے وہ دو بالوں کی شرط کے تحت نااہل قرار پائیں۔
Frequently Asked Questions & Fact-Check
Key questions answered directly from authentic prophetic sources
تھرڈ ٹیمپل کی تحریک چلانے والوں کو ایک بے عیب سرخ بچھڑی کی راکھ کیوں درکار ہے، اور ٹیکساس سے لائی گئی ان پانچ بچھڑیوں کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
ستمبر 2022ء میں امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے ایک فارم سے پانچ سرخ بچھڑیاں تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے پر اتریں۔ عام لوگوں کے لیے یہ مویشیوں کی ایک کھیپ تھی، مگر ٹیمپل ماؤنٹ کے سرگرم گروہوں کے نزدیک یہ دو ہزار سالہ مذہبی پابندی کھولنے کی کنجی تھی۔
کوئی غلطی نظر آئی؟
غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔