الفتن

ان میں سے کوئی آزمائیں

تاریخ اور پیشگوئیمسودہ، ابھی جائزہ نہیں لیا گیا

ایک پہاڑی چٹان پر تین ہزار سال کی تاریخ: بیت المقدس، دو بار تباہ ہونے والی عبادت گاہ اور 'تھرڈ ٹیمپل' کی اصل کہانی

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا، بخت نصر اور رومی جنرل ٹیٹس کی تباہی سے لے کر اس دن تک جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے کچرا صاف کیا, اور بیت المقدس کے مستقبل کے بارے میں نبوی پیشگوئیاں۔

The questionیروشلم کی ایک پہاڑی نے دو قدیم تباہیوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بحالی اور آج کی 'تھرڈ ٹیمپل' تحریک کو کیسے دیکھا, اور صحیح احادیث اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟

Executive Summary

یروشلم کے قلب میں واقع پینتیس ایکڑ کا ایک پتھریلا احاطہ آج پوری دنیا کی سیاست اور مذہبی بحثوں کا مرکز ہے۔ آج کی خبروں میں 'تھرڈ ٹیمپل' کی بحث کو سمجھنے کے لیے آپ کو پہلے المسجد الاقصیٰ کی تین ہزار سالہ تاریخ سے گزرنا ہوگا۔

باب ۱ · آغاز اور حضرت سلیمان علیہ السلام

کعبہ کے چالیس سال بعد: مسجدِ اقصیٰ کی پہلی بنیاد کس نے رکھی اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے کیا کیا؟

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخ حضرت سلیمان علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن صحیح بخاری (3366) اور صحیح مسلم (520) میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا سوال دیکھیے:

انہوں نے پوچھا: 'یا رسول اللہ! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'مسجدِ حرام۔' پوچھا: 'پھر کون سی؟' فرمایا: 'مسجدِ اقصیٰ۔' پوچھا: 'ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ تھا؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'چالیس سال!'

حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں واضح کیا ہے کہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام سے ہزاروں سال پہلے توحید کی عبادت گاہ کے طور پر مسجدِ اقصیٰ کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔

پھر دسویں صدی قبل مسیح میں جب حضرت داؤد اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہما السلام کو بیت المقدس کی بادشاہت عطا ہوئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس قدیم بنیاد پر عظیم الشان عبادت گاہ کی تجدید و توسیع فرمائی جس میں اللہ کے حکم سے جنات نے بھی کام کیا (سورہ سبا 34:12-13)۔ تعمیر مکمل ہونے پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ سے تین دعائیں مانگیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ جو شخص صرف نماز کی نیت سے اس مسجد میں آئے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو کر نکلے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو (سنن نسائی 693)۔

سبأسورہ ۳۴ · آیت ۱۲–۱۴سورة سبأ
  1. وَلِسُلَيۡمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهۡرࣱ وَرَوَاحُهَا شَهۡرࣱۖ وَأَسَلۡنَا لَهُۥ عَيۡنَ ٱلۡقِطۡرِۖ وَمِنَ ٱلۡجِنِّ مَن يَعۡمَلُ بَيۡنَ يَدَيۡهِ بِإِذۡنِ رَبِّهِۦۖ وَمَن يَزِغۡ مِنۡهُمۡ عَنۡ أَمۡرِنَا نُذِقۡهُ مِنۡ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ۝١٢

    12. And to Solomon [We subjected] the wind - its morning [journey was that of] a month - and its afternoon [journey was that of] a month, and We made flow for him a spring of [liquid] copper. And among the jinn were those who worked for him by the permission of his Lord. And whoever deviated among them from Our command - We will make him taste of the punishment of the Blaze

  2. يَعۡمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانࣲ كَٱلۡجَوَابِ وَقُدُورࣲ رَّاسِيَٰتٍۚ ٱعۡمَلُوٓاْ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكۡرࣰ اۚ وَقَلِيلࣱ مِّنۡ عِبَادِيَ ٱلشَّكُورُ۝١٣

    13. They made for him what he willed of elevated chambers, statues, bowls like reservoirs, and stationary kettles. [We said], "Work, O family of David, in gratitude." And few of My servants are grateful

  3. فَلَمَّا قَضَيۡنَا عَلَيۡهِ ٱلۡمَوۡتَ مَا دَلَّهُمۡ عَلَىٰ مَوۡتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلۡأَرۡضِ تَأۡكُلُ مِنسَأَتَهُۥۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلۡجِنُّ أَن لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ ٱلۡغَيۡبَ مَا لَبِثُواْ فِي ٱلۡعَذَابِ ٱلۡمُهِينِ۝١٤

    14. And when We decreed for Solomon death, nothing indicated to the jinn his death except a creature of the earth eating his staff. But when he fell, it became clear to the jinn that if they had known the unseen, they would not have remained in humiliating punishment

سنن النسائي ↗Hadith ۶۹۳صحیحسنن النسائيرقم ٦٩٣

لَمَّا فَرَغَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ مِنْ بِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سَأَلَ اللَّهَ ثَلاَثًا: حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ، وَمُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، وَأَلاَّ يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ أَحَدٌ لاَ يُرِيدُ إِلاَّ الصَّلاَةَ فِيهِ إِلاَّ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ

جب سلیمانؑ بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ سے تین دعائیں مانگیں: عادلانہ فیصلے کی توفیق، بے مثال سلطنت، اور جو صرف نماز کے لیے آئے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے جیسے نومولود بچہ۔

صحيح البخاري ↗Hadith ۳۳۶۶صحیحصحيح البخاريرقم ٣٣٦٦

قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ أَىٌّ قَالَ ‏"‏ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى ‏"‏‏.‏ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ سَنَةً ‏"

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ فرمایا: مسجد حرام۔ میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ فرمایا: مسجد اقصی۔ میں نے پوچھا: دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ فرمایا: چالیس سال۔

باب ۲ · ۵۸۶ قبل مسیح: پہلی تباہی

جب بابل کے بادشاہ بخت نصر نے پہلی عبادت گاہ کو جلا کر راکھ کر دیا

حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ وہاں کے حکمران طبقے میں شرک، ظلم اور مصلحین کے قتل جیسے گناہ عام ہو گئے۔ جیساکہ سورہ بنی اسرائیل (17:4-7) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ان کے پہلے فساد کی میعاد پوری ہوئی تو اللہ نے ان پر سخت جنگجو بندے مسلط کر دیے۔

586 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر (Nebuchadnezzar II) نے یروشلم کا محاصرہ کیا، شہر کی فصیلیں توڑ دیں، حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ عبادت گاہ کو نذرِ آتش کر کے زمین بوس کر دیا اور زندہ بچ جانے والے عمائدین کو زنجیروں میں جکڑ کر بابل لے گیا۔

اور اسی تباہی کے دوران اصل تابوتِ سکینہ (Ark of the Covenant) تاریخ سے غائب ہو گیا جو بعد میں بننے والے دوسرے ہیکل میں بھی کبھی واپس نہ مل سکا۔

الإسراءسورہ ۱۷ · آیت ۴–۵سورة الإسراء
  1. وَقَضَيۡنَآ إِلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَّتَيۡنِ وَلَتَعۡلُنَّ عُلُوࣰّ ا كَبِيرࣰ ا۝٤

    4. And We conveyed to the Children of Israel in the Scripture that, "You will surely cause corruption on the earth twice, and you will surely reach [a degree of] great haughtiness

  2. فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ أُولَىٰهُمَا بَعَثۡنَا عَلَيۡكُمۡ عِبَادࣰ ا لَّنَآ أُوْلِي بَأۡسࣲ شَدِيدࣲ فَجَاسُواْ خِلَٰلَ ٱلدِّيَارِۚ وَكَانَ وَعۡدࣰ ا مَّفۡعُولࣰ ا۝٥

    5. So when the [time of] promise came for the first of them, We sent against you servants of Ours - those of great military might, and they probed [even] into the homes, and it was a promise fulfilled

باب ۳ · دوسری تعمیر اور ہیرودیس

بابل سے واپسی اور بادشاہ ہیرودیس کی دیو ہیکل توسیع

ستر سال بعد جب فارس کے بادشاہ سائرس نے بابل فتح کیا تو جلاوطن لوگوں کو یروشلم واپس جانے کی اجازت ملی اور 516 قبل مسیح میں انہوں نے وہاں دوسری عبادت گاہ (Second Temple) تعمیر کی۔ صدیوں بعد (20 قبل مسیح کے قریب) رومیوں کے مقرر کردہ بادشاہ ہیرودیس (Herod) نے پہاڑی کے گرد بھاری پتھروں کی دیواریں اٹھا کر اس احاطے کو وسیع کیا۔

اسی دوسری عبادت گاہ کے احاطے میں اللہ کے تین عظیم انبیاء حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہم السلام اور سیدہ مریم علیہا السلام نے عبادت کی۔

لیکن ان انبیاء کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کر دیا گیا اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مذہبی اجارہ داروں کی منافقت بے نقاب کی تو انہوں نے رومی گورنر کے ساتھ مل کر انہیں سولی دینے کی سازش کی، جس پر اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بحفاظت اپنی طرف اٹھا لیا (سورہ نساء 4:157-158)۔

باب ۴ · ۷۰ عیسوی: رومیوں کے ہاتھوں دوسری تباہی

۷۰ عیسوی: رومی جنرل ٹیٹس کی فوج نے دوسری عبادت گاہ کو کیسے پیوندِ خاک کیا؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی کے محض چند دہائیوں بعد دوسری بڑی تباہی آ پہنچی۔ 66 عیسوی میں رومی سلطنت کے خلاف بغاوت ہوئی اور 70 عیسوی کے موسمِ گرما میں رومی سپہ سالار ٹیٹس (Titus) نے چار رومی لشکروں کے ساتھ یروشلم کا محاصرہ کر لیا۔

محصور شہر کے اندر باغی دھڑوں نے خود ایک دوسرے کے غلے کے گودام جلا دیے۔ اگست 70 عیسوی میں رومی فوج نے اندر داخل ہو کر دوسری عبادت گاہ کو آگ لگا دی۔ آگ کی شدت سے سونا پگھل کر پتھروں کی دراڑوں میں بہہ گیا، اور اس سونے کو نکالنے کے لیے رومی سپاہیوں نے ایک ایک پتھر اکھاڑ کر الگ کر دیا۔

پینسٹھ سال بعد (135 عیسوی میں) بار کوخبا بغاوت کے بعد رومی شہنشاہ ہیڈرین نے کھنڈرات پر ہل چلا کر شہر کا نام ایلیا کیپیٹولائنا رکھ دیا اور وہاں یہودیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔

اور پھر تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ پیش آیا: 363 عیسوی میں بت پرست رومی شہنشاہ جولین (Julian the Apostate) نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کو غلط ثابت کرنے کی ضد میں یروشلم میں تیسرا ہیکل تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ لیکن جب مزدوروں نے بنیادیں کھودنا شروع کیں تو خود جولین کے ہم عصر غیر عیسائی رومی مؤرخ امیانس مارسیلینس (Ammianus Marcellinus) نے لکھا کہ زمین کے نیچے سے خوفناک آگ کے گولے اور زلزلے کے جھٹکے نکلے جنہوں نے مزدوروں کو بھگا دیا اور منصوبہ ہمیشہ کے لیے ترک کر دیا گیا!

الإسراءسورہ ۱۷ · آیت ۷سورة الإسراء
  1. إِنۡ أَحۡسَنتُمۡ أَحۡسَنتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡۖ وَإِنۡ أَسَأۡتُمۡ فَلَهَاۚ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ ٱلۡأٓخِرَةِ لِيَسُـُٔواْ وُجُوهَكُمۡ وَلِيَدۡخُلُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةࣲ وَلِيُتَبِّرُواْ مَا عَلَوۡاْ تَتۡبِيرًا۝٧

    7. [And said], "If you do good, you do good for yourselves; and if you do evil, [you do it] to yourselves." Then when the final promise came, [We sent your enemies] to sadden your faces and to enter the temple in Jerusalem, as they entered it the first time, and to destroy what they had taken over with [total] destruction

باب ۵ · شبِ معراج اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ

کچرے کے ڈھیر سے دوبارہ مقدس عبادت گاہ تک: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے صخرہ کو کیسے صاف کیا؟

بازنطینی دورِ حکومت میں صدیوں تک بیت المقدس کے اس مقدس احاطے کو ویران چھوڑ کر شہر کا کچرا پھینکنے کی جگہ بنا دیا گیا تھا۔ پھر اسراء اور معراج کی وہ مبارک رات آئی جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ کو مسجدِ حرام سے المسجد الاقصیٰ لے آیا جہاں آپ ﷺ نے ابراہیم، موسیٰ، داؤد، سلیمان اور عیسیٰ علیہم السلام سمیت تمام انبیاء کی امامت فرمائی (صحیح مسلم 172)۔

غور کیجیے کہ اس واقعے کا پیغام کیا تھا: ابراہیم، داؤد، سلیمان اور عیسیٰ علیہم السلام کی توحید کی میراث اور اس مقدس مسجد کی امانت باضابطہ طور پر خاتم النبیین محمد ﷺ اور آپ کی امت کے سپرد کر دی گئی!

15 ہجری (637 عیسوی) میں جب مسلمانوں نے بغیر ایک قطرہ خون بہائے امن کے ساتھ بیت المقدس فتح کیا تو عیسائی بطریق صفرونیوس کی درخواست پر خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خود تشریف لائے اور تاریخی عہد نامہ لکھ کر دیا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجدِ اقصیٰ کا احاطہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔

جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ پورا مقدس احاطہ کچرے کے ڈھیر میں دبا ہوا ہے تو امیر المومنین نے کیا کیا؟ انہوں نے کسی مقامی شخص کو حکم دینے کے بجائے خود گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنی چادر بچھائی اور اپنے ہاتھوں سے کچرا اٹھا کر باہر پھینکنا شروع کر دیا! خلیفۂ وقت کو دیکھ کر تمام صحابہ اور مجاہدین فوراً آگے بڑھے اور پورا احاطہ صاف کر کے جنوبی جانب مسجد تعمیر کی۔

باب ۶ · آج کی 'تھرڈ ٹیمپل' تحریک اور نبوی پیشگوئیاں

آج کی 'تھرڈ ٹیمپل' تحریک کی حقیقت اور بیت المقدس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی پیشگوئیاں

اب سوال یہ ہے کہ آج 'تھرڈ ٹیمپل' (تیسرے ہیکل) کی تعمیر کے بارے میں روایتی یہودی ربیوں اور جدید شدت پسند تنظیموں کے موقف میں کیا فرق ہے؟

یہاں ایک بہت اہم حقیقت ہے جو اکثر سوشل میڈیا ویڈیوز میں نہیں بتائی جاتی: صدیوں سے روایتی آرتھوڈوکس یہودی ربیوں کا متفقہ فتویٰ (جو آج بھی احاطے کے دروازے پر چیف ربینیٹ کے بورڈ پر درج ہے) یہ رہا ہے کہ آج کسی یہودی کے لیے اس احاطے میں قدم رکھنا بھی مذہبی طور پر ممنوع ہے کیونکہ ہر شخص مردے کی نجاست (طامے میت) کی حالت میں ہے!

تاہم 1980ء کی دہائی کے آخر سے چند مخصوص تنظیموں, خاص طور پر 1987ء میں قائم ہونے والے 'دی ٹیمپل انسٹی ٹیوٹ' (Machon HaMikdash)، 'بونیہ اسرائیل' اور ان کی حامی مذہبی صیہونی تنظیموں, نے اس قدیم پابندی کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کیے۔ انہوں نے ہیکل کے ساٹھ سے زائد برتن (سونے کا منورہ، چاندی کے نقارے اور کاہنوں کے لباس) تیار کر لیے ہیں اور تطہیر کی رسم کے لیے ٹیکساس سے سرخ بچھڑیاں بھی منگوائی ہیں۔

تو پھر آخری زمانے میں بیت المقدس کے بارے میں ہمارے نبی کریم ﷺ نے کیا پیشگوئی فرمائی ہے؟ سنن ابی داؤد (4294) اور مسند احمد (22023) میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
> 'بیت المقدس کی آبادی یثرب (مدینہ) کی ویرانی کی علامت ہوگی، یثرب کی ویرانی بڑی جنگ (الملحمہ) کے نکلنے کی علامت ہوگی، بڑی جنگ کا نکلنا قسطنطنیہ کی فتح کی علامت ہوگی، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے خروج کی علامت ہوگی!'

اور جب دجال نکل کر بیت المقدس میں مومنین کا محاصرہ کرے گا تو حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، قریب ہی بابِ لد پر دجال کو قتل کریں گے اور اسی مبارک سرزمین سے عدل و انصاف قائم کریں گے۔

سنن أبي داودHadith ۴۲۹۴حسنNarrated by Mu'adh ibn Jabalسنن أبي داودرقم ٤٢٩٤

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَ - أَوْ مَنْكِبِهِ - ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ هَا هُنَا أَوْ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ ‏.‏ يَعْنِي مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ‏.‏

Narrated Mu'adh ibn Jabal: The Prophet (ﷺ) said: The flourishing state of Jerusalem will be when Yathrib is in ruins, the ruined state of Yathrib will be when the great war comes, the outbreak of the great war will be at the conquest of Constantinople and the conquest of Constantinople when the Dajjal (Antichrist) comes forth. He (the Prophet) struck his thigh or his shoulder with his hand and said: This is as true as you are here or as you are sitting (meaning Mu'adh ibn Jabal)

صحيح مسلمHadith ۲۹۳۷aصحیحصحيح مسلمرقم ٢٩٣٧a

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ، قَاضِي حِمْصَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ، جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلاَبِيَّ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ، نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالاً يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ ‏"‏ أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلاَةُ يَوْمٍ قَالَ ‏"‏ لاَ اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ ‏"‏ كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَىْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ ‏.‏ فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلاً مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأَسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ فَلاَ يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلاَّ مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لاَ يَدَانِ لأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ ‏.‏ وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ ‏.‏ وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهُمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الأَرْضِ فَلاَ يَجِدُونَ فِي الأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلاَّ مَلأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لاَ يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ ‏.‏ فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ ‏"‏ ‏.‏

An-Nawwas b. Sam`an reported that Allah's Messenger (ﷺ) made a mention of the Dajjal one day in the morning. He (ﷺ) sometimes described him to be insignificant and sometimes described (his turmoil) as very significant (and we felt) as if he were in the cluster of the date-palm trees. When we went to him (to the Holy Prophet) in the evening and he read (the signs of fear) in our faces, he (ﷺ) said:What is the matter with you? We said: Allah's Messenger, you made a mention of the Dajjal in the morning (sometimes describing him) to be insignificant and sometimes very important, until we began to think as if he were present in some (near) part of the cluster of the date-palm trees. Thereupon he (ﷺ) said: I harbor fear in regard to you in so many other things besides the Dajjal. If he comes forth while I am among you, I shall contend with him on your behalf, but if he comes forth while I am not amongst you, a man must contend on his own behalf and Allah would take care of every Muslim on my behalf (and safeguard him against his evil). He (Dajjal) would be a young man with twisted, contracted hair, and a blind eye. I compare him to `Abd-ul-`Uzza b. Qatan. He who amongst you would survive to see him should recite over him the opening verses of Sura Kahf (xviii). He would appear on the way between Syria and Iraq and would spread mischief right and left. O servant of Allah! adhere (to the path of Truth). We said: Allah's Messenger, how long would he stay on the earth? He (ﷺ) said: For forty days, one day like a year and one day like a month and one day like a week and the rest of the days would be like your days. We said: Allah's Messenger, would one day's prayer suffice for the prayers of day equal to one year? Thereupon he (ﷺ) said: No, but you must make an estimate of time (and then observe prayer). We said: Allah's Messenger, how quickly would he walk upon the earth? Thereupon he (ﷺ) said: Like cloud driven by the wind. He would come to the people and invite them (to a wrong religion) and they would affirm their faith in him and respond to him. He would then give command to the sky and there would be rainfall upon the earth and it would grow crops. Then in the evening, their pasturing animals would come to them with their humps very high and their udders full of milk and their flanks stretched. He would then come to another people and invite them. But they would reject him and he would go away from them and there would be drought for them and nothing would be left with them in the form of wealth. He would then walk through the waste land and say to it: Bring forth your treasures, and the treasures would come out and collect (themselves) before him like the swarm of bees. He would then call a person brimming with youth and strike him with the sword and cut him into two pieces and (make these pieces lie at a distance which is generally) between the archer and his target. He would then call (that young man) and he will come forward laughing with his face gleaming (with happiness) and it would be at this very time that Allah would send Jesus, son of Mary, and he will descend at the white minaret in the eastern side of Damascus wearing two garments lightly dyed with saffron and placing his hands on the wings of two Angels. When he would lower his head, there would fall beads of perspiration from his head, and when he would raise it up, beads like pearls would scatter from it. Every non-believer who would smell the odor of his self would die and his breath would reach as far as he would be able to see. He would then search for him (Dajjal) until he would catch hold of him at the gate of Ludd and would kill him. Then a people whom Allah had protected would come to Jesus, son of Mary, and he would wipe their faces and would inform them of their ranks in Paradise and it would be under such conditions that Allah would reveal to Jesus these words: I have brought forth from amongst My servants such people against whom none would be able to fight; you take these people safely to Tur. And then Allah would send Gog and Magog and they would swarm down from every slope. The first of them would pass the lake of Tiberias and drink out of it. And when the last of them would pass, he would say: There was once water there. Jesus and his companions would then be besieged here (at Tur, and they would be so much hard pressed) that the head of the ox would be dearer to them than one hundred dinars and Allah's Apostle, Jesus, and his companions would supplicate Allah, Who would send to them insects (which would attack their necks) and in the morning they would perish like one single person. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then come down to the earth and they would not find in the earth as much space as a single span which is not filled with their putrefaction and stench. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then again beseech Allah, Who would send birds whose necks would be like those of Bactrian camels and they would carry them and throw them where God would will. Then Allah would send rain which no house of clay or (the tent of) camels' hairs would keep out and it would wash away the earth until it could appear to be a mirror. Then the earth would be told to bring forth its fruit and restore its blessing and, as a result thereof, there would grow (such a big) pomegranate that a group of persons would be able to eat that, and seek shelter under its skin and milch cow would give so much milk that a whole party would be able to drink it. And the milch camel would give such (a large quantity of) milk that the whole tribe would be able to drink out of that and the milch sheep would give so much milk that the whole family would be able to drink out of that and at that time Allah would send a pleasant wind which would soothe (people) even under their armpits, and would take the life of every Muslim and only the wicked would survive who would commit adultery like asses and the Last Hour would come to them

⚖️

المسجد الاقصیٰ اور تھرڈ ٹیمپل: وائرل افواہیں بمقابلہ تاریخی حقائق

وائرل افواہوں اور مستند حقائق کا فرق۔

❌ وائرل دعویٰ #1

المسجد الاقصیٰ صرف جنوبی جانب والی سرمئی گنبد کی عمارت ہے یا صرف سنہری گنبد والی عمارت۔

✅ اصل حقیقت

اسلامی شریعت اور تاریخ کے مطابق دیواروں سے گھرا پورا 144 دونم (35 ایکڑ) کا احاطہ 'المسجد الاقصیٰ' ہے جس میں قبلی مسجد، قبۃ الصخرہ اور تمام صحن شامل ہیں۔

❌ وائرل دعویٰ #2

تمام یہودی مذہبی پیشوا آج احاطۂ اقصیٰ میں داخل ہونے اور تیسرا ہیکل بنانے پر متفق ہیں۔

✅ اصل حقیقت

روایتی آرتھوڈوکس ربیوں کے فتوے کے مطابق نجاست (طامے میت) کی وجہ سے احاطے میں قدم رکھنا بھی ممنوع ہے۔ وہاں داخلے اور تعمیر کی مہم مخصوص تنظیمیں جیسے ٹیمپل انسٹی ٹیوٹ اور بونیہ اسرائیل چلا رہی ہیں۔

🛡️ اس فتنے سے بچاؤ کے لیے نبوی رہنمائی

سورۃ الکہف کا آغاز یاد کریں

"جس نے سورۃ الکہف کے شروع کی دس آیات یاد کر لیں، وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔"

Muslim 809a

ہر نماز میں پناہ مانگو

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ

آخری تشہد کے بعد: ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنوں سے، اور مسیح الدجال کے فتنے کی برائی سے۔“

Muslim 588a

Frequently Asked Questions & Fact-Check

Key questions answered directly from authentic prophetic sources

یروشلم کی ایک پہاڑی نے دو قدیم تباہیوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بحالی اور آج کی 'تھرڈ ٹیمپل' تحریک کو کیسے دیکھا, اور صحیح احادیث اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟

یروشلم کے قلب میں واقع پینتیس ایکڑ کا ایک پتھریلا احاطہ آج پوری دنیا کی سیاست اور مذہبی بحثوں کا مرکز ہے۔ آج کی خبروں میں 'تھرڈ ٹیمپل' کی بحث کو سمجھنے کے لیے آپ کو پہلے المسجد الاقصیٰ کی تین ہزار سالہ تاریخ سے گزرنا ہوگا۔

کوئی غلطی نظر آئی؟

غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔

ترمیم تجویز کریں یا غلطی کی اطلاع دیں

غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔

معاملہ کیا ہے؟