أَوۡ يَكُونَ لَكَ بَيۡتࣱ مِّن زُخۡرُفٍ أَوۡ تَرۡقَىٰ فِي ٱلسَّمَآءِ وَلَن نُّؤۡمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيۡنَا كِتَٰبࣰ ا نَّقۡرَؤُهُۥۗ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّي هَلۡ كُنتُ إِلَّا بَشَرࣰ ا رَّسُولࣰ ا٩٣
93. Or you have a house of gold or you ascend into the sky. And [even then], we will not believe in your ascension until you bring down to us a book we may read." Say, "Exalted is my Lord! Was I ever but a human messenger
مدینہ کے ایک لڑکے کو دیکھنے کے لیے نبی کریم ﷺ کھجور کے پیڑوں کے پیچھے کیوں چھپے؟ دجال دراصل کون اور کیسا ہے؟
ساٹھ فٹ کے دیو ہیکل انسان کے قصے اور 'دجال صرف جدید ٹیکنالوجی کا نام ہے' جیسے نظریات بھول جائیں۔ دیکھیے مدینہ کی گلیوں میں ابن صیاد کی جانچ کے دوران نبی کریم ﷺ نے ہمیں کیا حقائق بتائے۔
- شائع شدہ
- ۱۶ منٹ کا مطالعہ
کیا دجال کوئی دیو ہیکل مخلوق ہے، کوئی نادیدہ عالمی سسٹم ہے، یا گوشت پوست کا ایک انسان؟ اس کا سب سے واضح جواب صحیح بخاری اور مسلم کے ایک حیرت انگیز واقعے میں ملتا ہے: جب نبی کریم ﷺ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھجور کے درختوں کی اوٹ سے ابن صیاد نامی ایک پراسرار لڑکے کو دیکھ رہے تھے۔
اگر آپ دس لوگوں سے پوچھیں کہ دجال کیسا دکھتا ہے تو آدھے لوگ کسی آسمان کو چھوتے دیو کا نقشہ کھینچیں گے، اور باقی آدھے کہیں گے کہ دجال کوئی انسان نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، اے آئی یا عالمی بینکنگ سسٹم کا استعارہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں گروہوں نے نبی کریم ﷺ کی اصل بات کو نظر انداز کر دیا ہے۔
صحیح احادیث کے مطابق المسیح الدجال حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے گوشت پوست کا ایک حقیقی انسان ہے۔ وہ کھاتا پیتا ہے، بازاروں میں چلتا ہے اور آخرکار فلسطین کے مقام 'بابِ لد' پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوگا۔ امام نووی رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح الہدیٰ (ہدایت کے مسیح) ہیں جبکہ دجال مسیح الضلالہ (گمراہ کرنے والا مسیح) ہے کیونکہ اس کی ایک آنکھ ممسوح (بے نور/مٹی ہوئی) ہے اور وہ چالیس دن میں زمین کا چکر لگائے گا۔
جزیرے والی حدیث (صحیح مسلم 2942) میں تمیم الداری نے اسے 'اعظم انسان رأیناہ خلقا' کہا۔ عربی میں اس کا مطلب ساٹھ فٹ کا دیو نہیں بلکہ نہایت چوڑے شانے اور مضبوط جثے والا بھاری بھرکم انسان ہے، جیسے کسی پہلوان کو دیکھ کر کہا جاتا ہے۔ ہمیں یہ بات اتنے یقین سے کیسے معلوم ہوئی؟ اس کا ثبوت خود مدینہ کی گلیوں میں پیش آنے والے واقعے میں موجود ہے!
مدینہ میں یہودیوں کے محلے میں صاف (ابن صیاد) نامی ایک عجیب و غریب لڑکا رہتا تھا۔ وہ عام لڑکوں کی طرح گلیوں میں گھومتا پھرتا تھا لیکن اس کی حرکتیں پراسرار تھیں۔ وہ کاہنوں کی طرح بڑبڑاتا اور دعویٰ کرتا کہ اس کے پاس خبریں آتی ہیں۔
ایک دن نبی کریم ﷺ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نکلے۔ بنو مغالہ کے قلعے کے پاس دیکھا کہ ابن صیاد دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ کھجور کے تنوں کی اوٹ لیتے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھے تاکہ اس سے پہلے کہ وہ آپ کو دیکھے، آپ چادر میں لپٹے ابن صیاد کی بڑبڑاہٹ سن سکیں (صحیح بخاری 1354، صحیح مسلم 2930)۔
کھجور کے باغ میں سوالات
نبی کریم ﷺ نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے چند سوالات کیے:
- خفیہ امتحان: آپ ﷺ نے دل میں سورہ دخان کی آیت 10 ('اس دن کا انتظار کرو جب آسمان واضح دھواں لائے گا') چھپا کر پوچھا: 'بتاؤ میں نے تمہارے لیے دل میں کیا چھپایا ہے؟'
- ادھورا جواب: ابن صیاد پوری آیت نہ بتا سکا۔ جنات کی مدد لینے والے کاہنوں کی طرح اس کی زبان سے صرف آدھا لفظ نکلا: 'الدُّخ!'
- نبوی تنبیہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'ذلیل ہو کر رہ! تو کبھی اپنی اوقات (کاہن کے درجے) سے آگے نہیں بڑھ سکے گا!'
- حضرت عمر کا ردِعمل: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا: 'یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں!' آپ ﷺ نے انہیں روک کر ایک عظیم اصول بیان فرمایا: 'اگر یہ واقعی وہی (دجال) ہے تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے، اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔'
نبی کریم ﷺ نے دجال کے چہرے، بالوں، آنکھوں اور چلنے کے انداز کی اتنی باریک تفصیلات کیوں بتائیں؟ اس لیے کہ جب دجال آئے گا تو وہ آنکھوں کو خیرہ کرنے والے کرتب دکھائے گا: آسمان سے بارش برسائے گا، بنجر زمین سے غلہ اگائے گا اور شیاطین کی مدد سے مردوں کی شکل بنا کر دھوکہ دے گا۔ اس وقت اگر کوئی اس کے 'کرتب' دیکھے گا تو الجھن میں پڑ سکتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے ہمیں ایک ایسا بصری شناختی کارڈ دے دیا جسے دجال کبھی بدل یا چھپا نہیں سکے گا:
- ۱۔ جسمانی ساخت اور رنگت: وہ ایک جوان (شاب) ہوگا، قد کا چھوٹا (قصیر) لیکن جسم سے نہایت چوڑا اور بھاری بھرکم (جسیم)، اور اس کی رنگت سرخی مائل سفید (احمر) ہوگی۔
- ۲۔ بالوں کا انداز: اس کے سر کے بال شدید گھنگھریالے اور گھنے (قطط) ہوں گے۔
- ۳۔ چلنے کا انداز: اس کی ٹانگوں اور قدموں کے درمیان غیر معمولی فاصلہ ہوگا (افحج) اور وہ پاؤں پھیلا کر چلے گا۔
- ۴۔ بے نور آنکھ اور ابھرا ہوا انگور: اس کی ایک آنکھ بالکل مٹی ہوئی اور بے نور (ممسوح) ہوگی جبکہ دوسری آنکھ ابھرے ہوئے انگور کی طرح (عنبۃ طافیۃ) ہوگی جس کے کونے پر موٹی جھلی ہوگی۔ اور سب سے بڑا اصول آپ ﷺ نے یہ بتا دیا: 'جان لو کہ تمہارا رب کانا (ایک آنکھ والا) نہیں ہے!' (صحیح بخاری 7131)۔
- ۵۔ پیشانی کی تحریر (ک ف ر): اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی پر واضح حروف میں ک ف ر (کافر) لکھا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا، چاہے وہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ (صحیح مسلم 2933)۔
- ۶۔ بے اولاد: خدائی کا دعویٰ کرنے کے باوجود وہ بانجھ ہوگا اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہوگی (صحیح مسلم 2927)۔
آپ نے اکثر بیانات یا یوٹیوب ویڈیوز میں یہ قصہ سنا ہوگا: 'دجال کے والدین تیس سال تک بے اولاد رہیں گے، اس کا باپ لمبا اور چڑیا کی چونچ جیسی ناک والا ہوگا، ماں بھاری جسم والی ہوگی اور وہ آنکھیں کھول کر سوئے گا...'
ذرا رکیے! کیا یہ روایت واقعی صحیح ہے؟
یہ روایت جامع ترمذی (2248) اور مسند احمد میں موجود ہے، لیکن محدثین کے نزدیک اس کی سند ضعیف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان نامی راوی ہیں جنہیں امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، ابو زرعہ اور دورِ حاضر کے محدث شیخ البانی رحمہم اللہ نے حافظے کی کمزوری کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے۔
پھر اس کے خاندان کے بارے میں صحیح احادیث سے کیا ثابت ہے؟
۱۔ وہ یہودی النسل ہوگا (جیساکہ صحیح مسلم میں ابن صیاد کے واقعے اور اصفہان کے ستر ہزار طیلسان اوڑھے پیروکاروں کی حدیث 2944 سے ثابت ہے)۔
۲۔ اس کا ظہور کسی شدید غصے (غضبۃ یغضبہا) کے واقعے سے ہوگا (صحیح مسلم 2932)۔
۳۔ اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہوگی (صحیح مسلم 2927)۔
بیسویں صدی میں کچھ متجددین اور عقلیت پسند مصنفین نے پیشگوئیوں کو استعارے کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے یہ تھیوری پیش کی کہ 'ایک آنکھ والا دجال کوئی انسان نہیں، بلکہ جدید مادہ پرست تہذیب، میڈیا یا ٹیکنالوجی ہے جو صرف مادی آنکھ سے دیکھتی ہے اور روحانی آنکھ سے اندھی ہے۔'
سننے میں یہ بات بڑی فلسفیانہ لگتی ہے، لیکن جیسے ہی آپ احادیث کھولتے ہیں یہ پوری تھیوری زمین بوس ہو جاتی ہے۔
۴ وجوہات جن سے یہ 'استعاراتی نظریہ' باطل ثابت ہوتا ہے
۱۔ کیا مدینہ کے ایک لڑکے پر 'جدید تہذیب' ہونے کا شبہ ہو سکتا تھا؟ نبی کریم ﷺ نے کھجور کے درختوں کے پیچھے چھپ کر ابن صیاد کو پرکھا تھا۔ اگر دجال کسی 'بینکنگ سسٹم یا ٹیکنالوجی' کا نام ہوتا تو ایک لڑکے کو دیکھ کر یہ شبہ کیوں کیا جاتا؟
۲۔ کیا کسی 'سسٹم' کے گھنگھریالے بال اور ٹیڑھی ٹانگیں ہوتی ہیں؟ آپ ﷺ نے دجال کے بالوں، پیشانی، آنکھ کے ابھار اور اس کے بانجھ ہونے کی جسمانی تفصیلات بتائیں۔
۳۔ کیا کسی 'نظریے' کو نیزے سے قتل کیا جا سکتا ہے؟ صحیح مسلم (2937) میں ہے کہ بابِ لد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر دجال نمک کی طرح پگھلے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے اپنے نیزے سے قتل کر کے نیزے پر لگا اس کا خون مومنوں کو دکھائیں گے۔ کسی سسٹم یا ٹیکنالوجی سے خون نہیں نکلتا!
۴۔ نوجوان شہید کی حدیث: صحیح مسلم (2938) میں ہے کہ دجال ایک مومن نوجوان کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کرے گا، ان کے درمیان چلے گا اور پھر اسے زندہ کر کے پوچھے گا: 'کیا اب مجھ پر ایمان لاتے ہو؟' وہ نوجوان اس کے منہ پر کہے گا: 'اب تو مجھے اور بھی پورا یقین ہو گیا کہ تو ہی دجال ہے!'
۞Referenced Quranic Verses
📜Primary Referenced Hadiths
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ لاِبْنِ صَيَّادٍ " تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ". فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ. فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَفَضَهُ وَقَالَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ. فَقَالَ لَهُ " مَاذَا تَرَى ". قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ " ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ". فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ. فَقَالَ " اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". فَقَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ". وَقَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ فَرَآهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، يَعْنِي فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ أَوْ زَمْرَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ يَا صَافِ ـ وَهْوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ ـ هَذَا مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم. فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ". وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ، أَوْ زَمْزَمَةٌ. وَقَالَ إِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ وَعُقَيْلٌ رَمْرَمَةٌ. وَقَالَ مَعْمَرٌ رَمْزَةٌ.
Narrated Ibn `Umar:`Umar set out along with the Prophet (ﷺ) with a group of people to Ibn Saiyad till they saw him playing with the boys near the hillocks of Bani Mughala. Ibn Saiyad at that time was nearing his puberty and did not notice (us) until the Prophet (ﷺ) stroked him with his hand and said to him, "Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?" Ibn Saiyad looked at him and said, "I testify that you are the Messenger of illiterates." Then Ibn Saiyad asked the Prophet (ﷺ), "Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) refuted it and said, "I believe in Allah and His Apostles." Then he said (to Ibn Saiyad), "What do you think?" Ibn Saiyad answered, "True people and liars visit me." The Prophet (ﷺ) said, "You have been confused as to this matter." Then the Prophet (ﷺ) said to him, "I have kept something (in my mind) for you, (can you tell me that?)" Ibn Saiyad said, "It is Al-Dukh (the smoke)." (2) The Prophet (ﷺ) said, "Let you be in ignominy. You cannot cross your limits." On that `Umar, said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Allow me to chop his head off." The Prophet (ﷺ) said, "If he is he (i.e. Dajjal), then you cannot overpower him, and if he is not, then there is no use of murdering him." (Ibn `Umar added): Later on Allah's Messenger (ﷺ) once again went along with Ubai bin Ka`b to the date-palm trees (garden) where Ibn Saiyad was staying. The Prophet (ﷺ) wanted to hear something from Ibn Saiyad before Ibn Saiyad could see him, and the Prophet (ﷺ) saw him lying covered with a sheet and from where his murmurs were heard. Ibn Saiyad's mother saw Allah's Apostle while he was hiding himself behind the trunks of the date-palm trees. She addressed Ibn Saiyad, "O Saf ! (and this was the name of Ibn Saiyad) Here is Muhammad." And with that Ibn Saiyad got up. The Prophet (ﷺ) said, "Had this woman left him (Had she not disturbed him), then Ibn Saiyad would have revealed the reality of his case
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ " إِنِّي لأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ".
Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) stood up amongst the people and then praised and glorified Allah as He deserved and then he mentioned Ad-Dajjal, saying, "I warn you of him, and there was no prophet but warned his followers of him; but I will tell you something about him which no prophet has told his followers: Ad- Dajjal is one-eyed whereas Allah is not
ضعیف روایت۔ مطالعے کے لیے دکھائی گئی، ثابت شدہ کے طور پر نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَمْكُثُ أَبُو الدَّجَّالِ وَأُمُّهُ ثَلاَثِينَ عَامًا لاَ يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلاَمٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ " . ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ فَقَالَ " أَبُوهُ طِوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فَرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِمَا فَقُلْنَا هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ فَقَالاَ مَكَثْنَا ثَلاَثِينَ عَامًا لاَ يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلاَمٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ . قَالَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ مَا قُلْتُمَا قُلْنَا وَهَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا قَالَ نَعَمْ تَنَامُ عَيْنَاىَ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ .
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah from his father who said:"The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The father of the Dajjal and hid mother, will abide for thirty years without bearing a son. Then a boy shall be born to them, having one eye in which there is some defect, providing little use. His eyes sleep but his heart does not sleep.' Then the Messenger of Allah(s.a.w) described his parents for us: 'His father is tall, with little fat, with a nose as if it were a beak. His mother is a bulky woman with long breasts.'" So Abu Bakrah said: "I heard about a child being born to some Jews in Al-Madinah. So Az-Zubair bin Al-'Awwam and I went until we entered upon his parents. They appeared as the Messenger of Allah(s.a.w) had described them. We said: 'Do you have any children?' They said: 'We remained for thirty years without any children being born to us, then we bore a boy, having one eye in which there is some defect, providing little use. His eyes sleep but his heart does not sleep.'" He said: "So we were leaving them, when he appeared, glittering in the sunlight in a velvet garment, murmuring something. He uncovered his head and said: 'What were you saying?' We said: 'Did you hear what we were saying?' He said: 'Yes, that my eyes sleep but my heart does not sleep
دجال کی حقیقت: وائرل افواہیں بمقابلہ صحیح سنت
سوشل میڈیا پر وائرل دعوے بمقابلہ صحیح احادیث اور مستند تاریخ۔
دجال ساٹھ فٹ لمبا دیو ہیکل انسان ہے جو سمندر پھلانگ سکتا ہے۔
صحیح احادیث میں اسے چھوٹے قد مگر چوڑے اور مضبوط جسم والا جوان بتایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت عمر نے مدینہ کے ایک عام قد و قامت کے لڑکے (ابن صیاد) کی جانچ کی تھی (صحیح مسلم 2930)۔
دجال کوئی انسان نہیں بلکہ اے آئی، ٹی وی یا مغربی تہذیب کا استعاراتی نام ہے۔
صحیح بخاری و مسلم کے مطابق دجال اولادِ آدم میں سے ایک انسان ہے جس کے گھنگھریالے بال اور بے نور آنکھ ہوگی، اور بابِ لد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نیزے پر اس کا خون نظر آئے گا (صحیح مسلم 2937)۔
یہ روایت سو فیصد صحیح ہے کہ دجال کے والدین تیس سال بے اولاد رہیں گے اور وہ آنکھیں کھول کر سوئے گا۔
ترمذی (2248) کی اس روایت کو امام احمد، یحییٰ بن معین اور شیخ البانی نے ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ اس کی سند میں کمزور راوی علی بن زید بن جدعان موجود ہیں۔
Frequently Asked Questions & Fact-Check
Key questions answered directly from authentic prophetic sources
کیا دجال ایک گوشت پوست کا انسان ہے یا جدید ٹیکنالوجی کا استعارہ؟
صحیح بخاری و مسلم کے مطابق دجال اولادِ آدم میں سے ایک حقیقی انسان ہے۔ وہ کھانا کھائے گا، بازاروں میں چلے گا اور بابِ لد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نیزے سے اسے قتل کر کے اس کا خون دکھائیں گے۔
مدینہ کا نوجوان ابن صیاد کون تھا؟ کیا وہ اصل دجال تھا؟
ابن صیاد مدینہ کا ایک یہودی نوجوان تھا جس میں کاہنوں جیسی عجیب باتیں تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے کھجور کے درختوں کے پیچھے سے اس کی جانچ کی مگر حتمی فیصلہ نہیں فرمایا۔ بعد میں وہ اسلام لایا اور واقعہ حرہ میں لاپتہ ہو گیا۔
صحیح احادیث کے مطابق دجال کے جسمانی خد و خال کیسے ہوں گے؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ چھوٹے قد مگر چوڑے اور مضبوط جسم کا جوان ہوگا، رنگ سرخی مائل سفید، بال گھنگھریالے، ٹیڑھی چال، ایک آنکھ بے نور اور دوسری پھولے ہوئے انگور جیسی، ماتھے پر 'ک ف ر' لکھا ہوگا اور وہ بے اولاد ہوگا۔
کیا دجال کے والدین کے تیس سال بے اولاد رہنے والی حدیث صحیح ہے؟
نہیں۔ جامع ترمذی (2248) اور مسند احمد کی یہ روایت ضعیف ہے۔ امام احمد، یحییٰ بن معین اور شیخ البانی نے تصدیق کی کہ اس کی سند راوی علی بن زید بن جدعان کے کمزور حافظے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
کوئی غلطی نظر آئی؟
غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔