فَٱرۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَأۡتِي ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانࣲ مُّبِينࣲ١٠
10. Then watch for the Day when the sky will bring a visible smoke
يَغۡشَى ٱلنَّاسَۖ هَٰذَا عَذَابٌ أَلِيمࣱ١١
11. Covering the people; this is a painful torment
رَّبَّنَا ٱكۡشِفۡ عَنَّا ٱلۡعَذَابَ إِنَّا مُؤۡمِنُونَ١٢
12. [They will say], "Our Lord, remove from us the torment; indeed, we are believers
جب پورا آسمان واضح دھوئیں سے بھر جائے گا: سورہ دخان کی آیت اور دو جلیل القدر صحابہ کا علمی مکالمہ
کیا سورہ دخان میں مذکور 'دھواں' مکہ کے قحط کے وقت ظاہر ہو چکا ہے، یا یہ قیامت کی دس بڑی علامات میں سے ایک ہے؟ دیکھیے علماء نے دونوں اقوال کو کیسے جمع کیا۔
- شائع شدہ
- ۱۱ منٹ کا مطالعہ
سورہ دخان (44:10-11) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 'اس دن کا انتظار کرو جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ دردناک عذاب ہے۔' اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کے درمیان دو مختلف آراء تھیں جنہیں ملانے سے پوری تصویر واضح ہو جاتی ہے۔
قرآنِ کریم کی سورہ الدخان (سورہ 44، آیات 10 تا 12) کھولیں تو یہ منظر سامنے آتا ہے:
> 'پس اس دن کا انتظار کرو جب آسمان ایک واضح دھواں (دخان مبین) لائے گا جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ ایک دردناک عذاب ہے۔ (اس وقت وہ کہیں گے:) اے ہمارے رب! ہم سے یہ عذاب ٹال دے، بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں!'
اب اس آیت کے ساتھ صحیح مسلم (2901) کی مشہور حدیث ملا کر پڑھیں جس میں حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> 'قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو...' اور ان دس بڑی علامات میں آپ ﷺ نے سب سے پہلے دھواں (الدخان)، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، نزولِ عیسیٰ اور یاجوج و ماجوج کا ذکر فرمایا۔
یہاں پہنچ کر بحث بہت دلچسپ ہو جاتی ہے۔ صحابہ کرام کے بڑے مفسرین کے درمیان سورہ دخان کے اس 'دھوئیں' کے بارے میں دو رائے سامنے آئیں:
پہلی رائے: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ, مکہ کے قحط کی دھندلاہٹ
صحیح بخاری (4821) اور صحیح مسلم (2798) میں ہے کہ جب قریشِ مکہ نے سرکشی کی تو نبی کریم ﷺ نے بددعا فرمائی کہ 'اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے سات قحط سالوں کی طرح ان پر بھی سات سال قحط مسلط فرما۔' قحط اتنا شدید ہوا کہ لوگ چمڑے اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور بھوک کی شدت سے جب کوئی آسمان کی طرف دیکھتا تو آنکھوں کے سامنے دھوئیں جیسی دھندلاہٹ (کہیئۃ الدخان) نظر آتی۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ سورہ دخان کا دھواں گزر چکا ہے۔
دوسری رائے: حضرت علی، ابن عباس، ابن عمر اور حذیفہ رضی اللہ عنہم, آخری زمانے کا حقیقی دھواں
دوسری طرف حضرت علی، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر، ابو سعید خدری اور حذیفہ رضی اللہ عنہم کا موقف تھا کہ 'دخان مبین' (واضح اور حقیقی دھواں) قیامت کی بڑی علامات میں سے ہے جو ابھی ظاہر ہونا باقی ہے، کیونکہ آیت میں 'واضح دھوئیں' کا ذکر ہے نہ کہ صرف بھوک کےخیال کا۔
تو پھر کس کی بات درست تھی, حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی؟
جب آپ امام نووی (شرح صحیح مسلم)، حافظ ابن کثیر، امام قرطبی اور حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری) کی تشریحات پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں صحابہ کی بات اپنی اپنی جگہ بالکل حق ہے:
- ۱۔ مکہ کا قحط ایک ابتدائی نمونہ تھا: قریشِ مکہ نے قحط کے دوران بھوک کی شدت سے جو دھندلاہٹ دیکھی، وہ اس آیت کا ابتدائی اور جزوی مصداق (شانِ نزول) تھا۔
- ۲۔ قیامت سے پہلے کا عالمی دھواں اصل اور مکمل ظہور ہے: چونکہ صحیح مسلم (2901) کی صحیح حدیث میں خود نبی کریم ﷺ نے دجال، نزولِ عیسیٰ اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے ساتھ 'الدخان' کو دس بڑی علامات میں شمار فرمایا ہے، اس لیے قیامت سے پہلے ایک حقیقی اور واضح دھواں ضرور ظاہر ہوگا!
جب آخری زمانے کا وہ دھواں (الدخان) آسمان پر چھا جائے گا تو انسانوں پر اس کا کیا اثر ہوگا؟ امام طبری اور حافظ ابن کثیر نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور تابعین کے اقوال نقل کیے ہیں:
- مومن پر اثر: مومن کو اس دھوئیں سے صرف ہلکے زکام (کالزکمہ) جیسی کیفیت محسوس ہوگی۔
- کافر اور منافق پر اثر: کافر کے نتھنوں اور کانوں میں دھواں بھر جائے گا جس سے اس کا دم گھٹنے لگے گا اور وہ پکار اٹھے گا: 'اے ہمارے رب! ہم سے یہ عذاب ٹال دے، بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں!' (سورہ دخان 44:12)۔
جب بھی دنیا میں کوئی آتش فشاں پھٹتا ہے یا ناسا کسی شہابِ ثاقب کی خبر دیتا ہے تو یوٹیوب پر ویڈیوز آ جاتی ہیں کہ 'کیا 2029 میں سورہ دخان کا دھواں ظاہر ہونے والا ہے؟!'
آئیے یہاں سنت کا صحیح اصول سمجھیں:
۱۔ سال یا تاریخ مقرر کرنا غلط ہے: قیامت کی دس بڑی علامات میں سے کسی کے لیے بھی کوئی سن یا تاریخ مقرر کرنا علمِ غیب میں دخل اندازی ہے۔
۲۔ وحی کو سائنسی قیاس آرائی کا پابন্দ نہ بنائیں: اللہ تعالیٰ یہ دھواں جس سبب سے چاہے یا بغیر کسی ظاہری سبب کے اپنی قدرت سے ظاہر فرما سکتا ہے۔
۳۔ اصل پیغام: جب بڑی علامات تسبیح کے ٹوٹے ہوئے دانوں کی طرح یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گی اور سورج مغرب سے نکل آئے گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا (صحیح مسلم 157)۔ اس لیے آسمان کے بدلنے سے پہلے آج ہی اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں۔
۞Referenced Quranic Verses
📜Primary Referenced Hadiths
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ - وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ فُرَاتٍ، الْقَزَّازِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ اطَّلَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ فَقَالَ " مَا تَذَاكَرُونَ " . قَالُوا نَذْكُرُ السَّاعَةَ . قَالَ " إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ " . فَذَكَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَّةَ وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صلى الله عليه وسلم وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَثَلاَثَةَ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ .
Hudhaifa b. Usaid al-Ghifari reported:Allah's Messenger (ﷺ) came to us all of a sudden as we were (busy in a discussion). He said: What do you discuss about? They (the Companions) said. We are discussing about the Last Hour. Thereupon he said: It will not come until you see ten signs before and (in this connection) he made a mention of the smoke, Dajjal, the beast, the rising of the sun from the west, the descent of Jesus son of Mary (Allah be pleased with him), the Gog and Magog, and land-slides in three places, one in the east, one in the west and one in Arabia at the end of which fire would burn forth from the Yemen, and would drive people to the place of their assembly
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا رَأَى مِنَ النَّاسِ إِدْبَارًا قَالَ " اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ ". فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَىْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ وَالْجِيَفَ، وَيَنْظُرَ أَحَدُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى الدُّخَانَ مِنَ الْجُوعِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ} إِلَى قَوْلِهِ {عَائِدُونَ * يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى} فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ، وَقَدْ مَضَتِ الدُّخَانُ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ.
Narrated Masruq:We were with `Abdullah and he said, "When the Prophet (ﷺ) saw the refusal of the people to accept Islam he said, "O Allah! Send (famine) years on them for (seven years) like the seven years (of famine during the time) of (Prophet) Joseph." So famine overtook them for one year and destroyed every kind of life to such an extent that the people started eating hides, carcasses and rotten dead animals. Whenever one of them looked towards the sky, he would (imagine himself to) see smoke because of hunger. So Abu Sufyan went to the Prophet (ﷺ) and said, "O Muhammad! You order people to obey Allah and to keep good relations with kith and kin. No doubt the people of your tribe are dying, so please pray to Allah for them." So Allah revealed: "Then watch you For the day that The sky will bring forth a kind Of smoke Plainly visible ... Verily! You will return (to disbelief) On the day when We shall seize You with a mighty grasp. (44.10-16) Ibn Mas`ud added, "Al-Batsha (i.e. grasp) happened in the battle of Badr and no doubt smoke, Al-Batsha, Al-Lizam, and the verse of Surat Ar-Rum have all passed
اس ذخیرے کی پالیسی کے تحت درجہ بند نہیں۔ درج شدہ تحقیقات فہرست میں ہیں۔
The Prophet ﷺ said: 'Indeed your Lord has warned you of three things: the Smoke, which will affect the believer like a slight cold, while it will penetrate the disbeliever and inflate him until it exits from every ear and pore; the Beast; and the Dajjal.'
الدخان (دھواں): وائرل تھیوریز بمقابلہ مستند تفسیر
سوشل میڈیا پر وائرل دعوے بمقابلہ صحیح احادیث اور مستند تاریخ۔
سورہ دخان کا دھواں یقینی طور پر فلاں سال زمین سے ٹکرانے والا ایک شہابِ ثاقب ہے۔
کسی صحیح حدیث میں شہابِ ثاقب یا کسی سال کا تعین نہیں ہے۔ بڑی علامات کی تاریخ مقرر کرنا اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔
حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کے اقوال میں ایسا تضاد ہے جو حل نہیں ہو سکتا۔
امام نووی، ابن کثیر اور ابن حجر نے واضح کیا کہ دونوں اقوال برحق ہیں: مکہ کا قحط ابتدائی نمونہ تھا اور صحیح مسلم (2901) میں مذکور دھواں قیامت کی دس بڑی علامات میں سے ہے۔
Frequently Asked Questions & Fact-Check
Key questions answered directly from authentic prophetic sources
سورہ دخان کا دھواں یقینی طور پر فلاں سال زمین سے ٹکرانے والا ایک شہابِ ثاقب ہے۔
کسی صحیح حدیث میں شہابِ ثاقب یا کسی سال کا تعین نہیں ہے۔ بڑی علامات کی تاریخ مقرر کرنا اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔
حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کے اقوال میں ایسا تضاد ہے جو حل نہیں ہو سکتا۔
امام نووی، ابن کثیر اور ابن حجر نے واضح کیا کہ دونوں اقوال برحق ہیں: مکہ کا قحط ابتدائی نمونہ تھا اور صحیح مسلم (2901) میں مذکور دھواں قیامت کی دس بڑی علامات میں سے ہے۔
کوئی غلطی نظر آئی؟
غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔