الفتن

ان میں سے کوئی آزمائیں

فیکٹ چیک اور سیاق و سباقمحققین سے تصدیق شدہ

لاکھوں لوگ غرقد کے درخت کو پہچاننے میں غلطی کیوں کر رہے ہیں؟ صحیح حدیث، جنت البقیع کا تعلق اور وائرل پائن درختوں کا فیکٹ چیک

ہر چند ماہ بعد لمبے صنوبر (پائن) کے درختوں کی تصویر اس کیپشن کے ساتھ وائرل ہوتی ہے کہ 'دیکھیے لاکھوں غرقد کے درخت لگائے جا رہے ہیں!' لیکن جب آپ جانیں گے کہ اصل غرقد کا پودا کیسا ہوتا ہے اور مدینہ کے قبرستان کے نام سے اس کا کیا تعلق ہے تو آپ حیران رہ جائیں گے۔

  • شائع شدہ
  • ۱۸ منٹ کا مطالعہ
Executive Summary

صحیح بخاری اور مسلم میں نبی کریم ﷺ نے آخری زمانے میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت ہونے والے معرکے کے تناظر میں ایک خاردار صحرائی جھاڑی 'الغرقد' کا ذکر فرمایا۔ آج سوشل میڈیا پر لمبے صنوبر اور زیتون کے درختوں کو غرقد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ آئیے اصل حقیقت جانتے ہیں۔

1

۱۔ صحیح مسلم کی متعلقہ روایت کا متن اور اسنادی درجہ

صحیح بخاری (2926) اور صحیح مسلم (2922) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری زمانے کی ایک بڑی علامت کا ذکر فرمایا جس میں پتھر اور درخت بھی بول اٹھیں گے سوائے ایک خاردار جھاڑی کے:
> '...سوائے غرقد کے (إِلَّا الْغَرْقَدَ)، کیونکہ وہ ان کے درختوں میں سے ہے۔'

کسی سوشل میڈیا تبصرے پر جانے سے پہلے امام نووی (شرح صحیح مسلم)، حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری) اور حافظ ابن کثیر رحمہم اللہ نے واضح کیا ہے کہ اس حدیث کو علاماتِ قیامت کی مکمل ترتیب کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔

2

۲۔ کتبِ لغت میں خاردار جھاڑی (غرقد) کے نباتاتی اوصاف

عربی لغت اور نباتاتی تحقیق کھولتے ہی سب سے پہلی حیران کن بات یہ سامنے آتی ہے کہ غرقد صنوبر یا شاہ بلوط کی طرح کوئی لمبا تنا رکھنے والا درخت نہیں ہے!

قدیم عربی لغات (لسان العرب اور القاموس المحیط) کے مطابق صحرائی خاردار جھاڑی 'العوسج' جب بڑی اور گھنی ہو جائے تو عرب اسے 'الغرقد' کہتے ہیں۔ جدید نباتات میں شام، سیناء اور حجاز کے علاقے میں یہ دو خاردار صحرائی جھاڑیوں پر بولا جاتا ہے:

  • ۱۔ Nitraria retusa (غرقد): یہ نمکین زمین اور شدید خشکی برداشت کرنے والی ایک گھنی خاردار جھاڑی ہے جس کی اونچائی 1 سے 2.5 میٹر (3 سے 8 فٹ) ہوتی ہے۔ یہ بحیرہ مردار، وادی عربہ، سیناء اور صحرائے نقب میں قدرتی طور پر اگتی ہے۔
  • ۲۔ Lycium shawii (عوسج): یہ بھی 1 سے 3 میٹر اونچی نوکیلے کانٹوں والی جھاڑی ہے جو جزیرہ نما عرب اور فلسطین میں عام ہے۔
💡 یہ جھاڑی اوٹ کیسے بنتی ہے؟
صحرا میں ہوا کے ساتھ اڑنے والی ریت غرقد کی الجھی ہوئی خاردار شاخوں میں پھنس کر دو سے تین میٹر اونچے اور چوڑے ٹیلے (Nebkha) بنا دیتی ہے جو قدرتی مورچے یا آڑ کا کام دیتے ہیں۔
3

۳۔ حجاز میں غرقد کی موجودگی اور "بقیع الغرقد" کے نام کا تاریخی پس منظر

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کے بالکل ساتھ واقع اس مشہور قبرستان کو, جہاں حضرت عثمان، سیدہ فاطمہ، ام المومنین عائشہ اور دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مدفون ہیں, صحیح بخاری اور مسلم میں 'بقیع الغرقد' کیوں کہا جاتا ہے؟

عربی میں 'بقیع' اس کھلی زمین کو کہتے ہیں جہاں مختلف پودوں کی جڑیں ہوں، اور اس جگہ بڑی تعداد میں یہی خاردار غرقد کی جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں! جب صحابہ کرام کی تدفین کے لیے ان جھاڑیوں کو صاف کر کے قبرستان بنایا گیا تو اس جگہ کا تاریخی نام ہمیشہ کے لیے 'بقیع الغرقد' پڑ گیا (صحیح مسلم 974)۔

📌 اس حقیقت سے دو بڑی باتیں واضح ہوتی ہیں:
۱۔ مدینہ کا ہر صحابی اچھی طرح جانتا تھا کہ غرقد کا پودا کیسا ہوتا ہے کیونکہ وہ روزانہ مسجدِ نبوی کے پاس اسے دیکھتے تھے۔
۲۔ یہ پودا بذاتِ خود کوئی 'منحوس' شے نہیں بلکہ ایک عام صحرائی پودا ہے جس کے نام پر صحابہ کے قبرستان کا نام رکھا گیا۔
4

۴۔ علاماتِ قیامت کی ترتیب میں اس معرکے کا مقام: عیسیٰ (ع) کے ہاتھوں دجال کی شکست

سوشل میڈیا پر سب سے بڑی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ اس حدیث کو ائمہ حدیث کی تشریح اور زمانی ترتیب کے بغیر آج کے حالات پر چسپاں کر دیا جاتا ہے۔

فتح الباری (حافظ ابن حجر) اور البدایہ والنہایہ (حافظ ابن کثیر) میں محدثین نے صحیح مسلم (2922) کو سنن ابن ماجہ (4077) اور مسند احمد (3546) کی روایات کے ساتھ ملا کر اس کا درست وقت واضح کیا ہے:

  • یہ واقعہ کب پیش آئے گا؟ یہ آج کی کسی عام سیاسی جنگ کا بیان نہیں بلکہ آخری زمانے میں دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے نزول کے بعد پیش آنے والا واقعہ ہے۔
  • کس لشکر کے ساتھ ہوگا؟ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بابِ لد پر دجال کو قتل کریں گے تو دجال کے مسلح لشکر کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے کے طور پر پتھر اور درخت بھی بول اٹھیں گے سوائے غرقد کی جھاڑی کے۔
⚖️ شرعی اصول: علماء کرام نے واضح کیا ہے کہ علاماتِ قیامت کی احادیث کو بنیاد بنا کر عام شہریوں یا کسی پوری قوم کے خلاف نفرت یا ظلم کرنا شریعت میں ہرگز جائز نہیں۔
5

۵۔ جدید دور میں شجرکاری سے منسوب مبالغہ آمیز دعووں کا محاکمہ

آج اگر آپ یوٹیوب، ٹک ٹاک یا فیس بک پر 'غرقد کا درخت' سرچ کریں تو آپ کو تین وائرل دعوے نظر آئیں گے۔ آئیے حقائق کی روشنی میں ان کا جائزہ لیتے ہیں:

افواہ نمبر ۱: لمبے صنوبر (پائن) یا زیتون کے درختوں کی تصویر دکھا کر غرقد کہنا
تقریباً ہر وائرل ویڈیو میں لمبے سبز صنوبر (Aleppo Pine) یا زیتون (Olive) کے درختوں کی قطاریں دکھا کر کہا جاتا ہے کہ 'یہ غرقد کے جنگلات ہیں!' حالانکہ اصل غرقد (Nitraria retusa) ایک چھوٹی خاردار صحرائی جھاڑی ہے، نہ کہ صنوبر یا زیتون کا درخت!

افواہ نمبر ۲: 'جیوش نیشنل فنڈ (JNF) نے ۲۴ کروڑ غرقد کے درخت لگائے ہیں!'
یہ ۲۴ کروڑ کا عدد KKL-JNF کے 1901ء سے اب تک کے کل شجرکاری ریکارڈ سے لیا گیا ہے۔ لیکن ان کے اپنے شائع شدہ نباتاتی ریکارڈ کے مطابق ان ۲۴ کروڑ درختوں میں 95 فیصد سے زائد پائن (صنوبر)، سرو (Cypress)، سفیدہ (Eucalyptus)، بلوط اور زیتون کے درخت ہیں! غرقد کوئی لکڑی یا سایہ دینے والا جنگلاتی درخت نہیں بلکہ کھاری زمین میں خود رو اگنے والی جھاڑی ہے۔

افواہ نمبر ۳: 'صحرائے نقب کا یتیر جنگل (Yatir Forest) غرقد کا جنگل ہے!'
بہت سی پوسٹوں میں صحرائے نقب کے کنارے واقع یتیر جنگل کی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں، حالانکہ 1964ء سے لگائے گئے اس جنگل کے چالیس لاکھ درخت بھی پائن اور سرو کے ہیں، غرقد کے نہیں۔

6

۶۔ مشرقِ وسطیٰ اور بلادِ شام کے صحرائی خطوں میں غرقد کا قدرتی وجود

جب ہم صنوبر کی غلط تصاویر کو ہٹا کر فلسطین، اردن اور سیناء کے اصل نباتاتی سروے دیکھتے ہیں تو اصل غرقد (Nitraria retusa اور Lycium shawii) کے بارے میں دو واضح حقائق سامنے آتے ہیں:

۱۔ وسیع قدرتی مسکن: بحیرہ مردار کی وادی، وادی اردن، وادی عربہ، صحرائے نقب اور جزیرہ نما سیناء کی نمکین زمینوں میں اصل غرقد کی جھاڑیاں قدرتی طور پر بڑی تعداد میں اگتی ہیں جہاں دوسرے پودے نمکیات کی وجہ سے زندہ نہیں رہ پاتے۔
۲۔ صحرائی ٹیلوں کا استحکام: صحرائی زمینوں میں ریت کے طوفان روکنے کے لیے مقامی صحرائی جھاڑیاں (Nitraria، Atriplex اور Tamarix) کام آتی ہیں، جبکہ سڑکوں اور سرحدی پٹیوں کے گرد اوٹ کے لیے لگائے جانے والے لمبے درخت زیادہ تر سفیدہ (Eucalyptus) اور صنوبر (Pine) ہوتے ہیں۔

7

۷۔ علمی تقاضا: غیر مصدقہ خبروں کے مقابلے میں تحقیقی دیانت کا التزام

ذرا سوچیں کہ جب کوئی نوجوان سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ دیکھتا ہے کہ 'یروشلم کا یہ صنوبر کا درخت حدیث والا غرقد ہے!' اور پانچ منٹ بعد گوگل لینز پر دیکھتا ہے کہ وہ ایک عام پائن یا زیتون کا درخت ہے تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

لوگ سوشل میڈیا پیج کی غلطی پکڑنے کے بجائے اصل حدیث کے بارے میں شکوک کا شکار ہو جاتے ہیں! اسی لیے ہمارے اسلاف تحقیق (تثبت) کے معاملے میں بے حد محتاط تھے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان سو فیصد حق ہے اور اسے کسی جعلی تصویر یا مبالغہ آرائی کی ضرورت نہیں۔

8

৮۔ حدیث کا حاصل: نصوصِ وحی پر یقین اور مثبت اسلامی عمل

آئیے دو نبوی اصولوں کے ساتھ اس بحث کو سمیٹتے ہیں:

۱۔ شیئر کرنے سے پہلے تحقیق کریں (سورہ حجرات 49:6): علاماتِ قیامت کے بارے میں کوئی بھی تصویر یا خبر فارورڈ کرنے سے پہلے حدیث کا درجہ اور اصل ماخذ ضرور چیک کریں۔
۲۔ ہاتھ میں موجود پودا لگانے کی حدیث: جہاں ایک حدیث میں غرقد کی جھاڑی کا ذکر ہے، وہیں مسند احمد (12902) اور الادب المفرد (479) میں نبی کریم ﷺ کا یہ سنہری فرمان بھی یاد رکھیں:
> 'اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کھجور کا ایک چھوٹا پودا (فصیلہ) ہو، اور وہ کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگا سکتا ہو تو ضرور لگا دے!'

مومن کا کام سوشل میڈیا پر خوف اور افواہیں پھیلانا نہیں بلکہ آخری سانس تک خیر، عدل اور عمل کا پودا لگانا ہے۔

۞Referenced Quranic Verses

الممتحنةسورہ ۶۰ · آیت ۸سورة الممتحنة
  1. لَّا يَنۡهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يُقَٰتِلُوكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوكُم مِّن دِيَٰرِكُمۡ أَن تَبَرُّوهُمۡ وَتُقۡسِطُوٓاْ إِلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ۝٨

    8. Allah does not forbid you from those who do not fight you because of religion and do not expel you from your homes - from being righteous toward them and acting justly toward them. Indeed, Allah loves those who act justly

الإسراءسورہ ۱۷ · آیت ۱۰۴سورة الإسراء
  1. وَقُلۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ لِبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱسۡكُنُواْ ٱلۡأَرۡضَ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ ٱلۡأٓخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيفࣰ ا۝١٠٤

    104. And We said after Pharaoh to the Children of Israel, "Dwell in the land, and when there comes the promise of the Hereafter, We will bring you forth in [one] gathering

📜Primary Referenced Hadiths

صحيح مسلم ↗Hadith ۲۹۲۲صحیحصحيح مسلمرقم ٢٩٢٢

لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ: يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ، فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ

قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے لڑیں اور مسلمان انہیں قتل کریں، یہاں تک کہ یہودی پتھروں اور درختوں کے پیچھے چھپ جائے، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ میرے پیچھے ایک یہودی ہے، آؤ اور اسے قتل کرو, سوائے غرقد کے، کیونکہ وہ یقیناً یہودیوں کے درختوں میں سے ہے۔

صحيح البخاريHadith ۲۹۲۵صحیحNarrated by ʿAbdullah bin ʿUmarصحيح البخاريرقم ٢٩٢٥

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ تُقَاتِلُونَ الْيَهُودَ حَتَّى يَخْتَبِيَ أَحَدُهُمْ وَرَاءَ الْحَجَرِ فَيَقُولُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar:Allah's Messenger (ﷺ) said, "You (i.e. Muslims) will fight with the Jews until some of them will hide behind stones. The stones will (betray them) saying, 'O `Abdullah (i.e. slave of Allah)! There is a Jew hiding behind me; so kill him

سنن ابن ماجهHadith ۴۰۷۷ضعیفNarrated by It wasسنن ابن ماجهرقم ٤٠٧٧

ضعیف روایت۔ مطالعے کے لیے دکھائی گئی، ثابت شدہ کے طور پر نہیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ، يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَكَانَ أَكْثَرُ خُطْبَتِهِ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَنِ الدَّجَّالِ وَحَذَّرَنَاهُ فَكَانَ مِنْ قَوْلِهِ أَنْ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ مُنْذُ ذَرَأَ اللَّهُ ذُرِّيَّةَ آدَمَ أَعْظَمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلاَّ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَأَنَا آخِرُ الأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الأُمَمِ وَهُوَ خَارِجٌ فِيكُمْ لاَ مَحَالَةَ وَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ فَأَنَا حَجِيجٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ وَإِنْ يَخْرُجْ مِنْ بَعْدِي فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَيَعِيثُ يَمِينًا وَيَعِيثُ شِمَالاً ‏.‏ يَا عِبَادَ اللَّهِ أَيُّهَا النَّاسُ فَاثْبُتُوا فَإِنِّي سَأَصِفُهُ لَكُمْ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا إِيَّاهُ نَبِيٌّ قَبْلِي إِنَّهُ يَبْدَأُ فَيَقُولُ أَنَا نَبِيٌّ وَلاَ نَبِيَّ بَعْدِي ثُمَّ يُثَنِّي فَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ ‏.‏ وَلاَ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ أَوْ غَيْرِ كَاتِبٍ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنَّ مَعَهُ جَنَّةً وَنَارًا فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ فَمَنِ ابْتُلِيَ بِنَارِهِ فَلْيَسْتَغِثْ بِاللَّهِ وَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ الْكَهْفِ فَتَكُونَ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلاَمًا كَمَا كَانَتِ النَّارُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَقُولَ لأَعْرَابِيٍّ أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ لَكَ أَبَاكَ وَأُمَّكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ نَعَمْ ‏.‏ فَيَتَمَثَّلُ لَهُ شَيْطَانَانِ فِي صُورَةِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَقُولاَنِ يَا بُنَىَّ اتَّبِعْهُ فَإِنَّهُ رَبُّكَ ‏.‏ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يُسَلَّطَ عَلَى نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَيَقْتُلَهَا وَيَنْشُرَهَا بِالْمِنْشَارِ حَتَّى يُلْقَى شِقَّتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا فَإِنِّي أَبْعَثُهُ الآنَ ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّ لَهُ رَبًّا غَيْرِي ‏.‏ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ وَيَقُولُ لَهُ الْخَبِيثُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَأَنْتَ عَدُوُّ اللَّهِ أَنْتَ الدَّجَّالُ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ بَعْدُ أَشَدَّ بَصِيرَةً بِكَ مِنِّي الْيَوْمَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ فَحَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَاللَّهِ مَا كُنَّا نُرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلاَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ ‏.‏ قَالَ الْمُحَارِبِيُّ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى حَدِيثِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ ‏"‏ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَأْمُرَ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ وَيَأْمُرَ الأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَمُرَّ بِالْحَىِّ فَيُكَذِّبُونَهُ فَلاَ تَبْقَى لَهُمْ سَائِمَةٌ إِلاَّ هَلَكَتْ وَإِنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنْ يَمُرَّ بِالْحَىِّ فَيُصَدِّقُونَهُ فَيَأْمُرَ السَّمَاءَ أَنْ تُمْطِرَ فَتُمْطِرَ وَيَأْمُرَ الأَرْضَ أَنْ تُنْبِتَ فَتُنْبِتَ حَتَّى تَرُوحَ مَوَاشِيهِمْ مِنْ يَوْمِهِمْ ذَلِكَ أَسْمَنَ مَا كَانَتْ وَأَعْظَمَهُ وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ وَأَدَرَّهُ ضُرُوعًا وَإِنَّهُ لاَ يَبْقَى شَىْءٌ مِنَ الأَرْضِ إِلاَّ وَطِئَهُ وَظَهَرَ عَلَيْهِ إِلاَّ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ لاَ يَأْتِيهِمَا مِنْ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهِمَا إِلاَّ لَقِيَتْهُ الْمَلاَئِكَةُ بِالسُّيُوفِ صَلْتَةً حَتَّى يَنْزِلَ عِنْدَ الظُّرَيْبِ الأَحْمَرِ عِنْدَ مُنْقَطَعِ السَّبَخَةِ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلاَثَ رَجَفَاتٍ فَلاَ يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلاَ مُنَافِقَةٌ إِلاَّ خَرَجَ إِلَيْهِ فَتَنْفِي الْخَبَثَ مِنْهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَيُدْعَى ذَلِكَ الْيَوْمُ يَوْمَ الْخَلاَصِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ بِنْتُ أَبِي الْعُكَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ ‏"‏ هُمْ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ وَجُلُّهُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ فَبَيْنَمَا إِمَامُهُمْ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبْحَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَلِكَ الإِمَامُ يَنْكُصُ يَمْشِي الْقَهْقَرَى لِيَتَقَدَّمَ عِيسَى يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَيَضَعُ عِيسَى يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيمَتْ ‏.‏ فَيُصَلِّي بِهِمْ إِمَامُهُمْ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ افْتَحُوا الْبَابَ ‏.‏ فَيُفْتَحُ وَوَرَاءَهُ الدَّجَّالُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفِ يَهُودِيٍّ كُلُّهُمْ ذُو سَيْفٍ مُحَلًّى وَسَاجٍ فَإِذَا نَظَرَ إِلَيْهِ الدَّجَّالُ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ وَيَنْطَلِقُ هَارِبًا وَيَقُولُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِنَّ لِي فِيكَ ضَرْبَةً لَنْ تَسْبِقَنِي بِهَا ‏.‏ فَيُدْرِكُهُ عِنْدَ بَابِ اللُّدِّ الشَّرْقِيِّ فَيَقْتُلُهُ فَيَهْزِمُ اللَّهُ الْيَهُودَ فَلاَ يَبْقَى شَىْءٌ مِمَّا خَلَقَ اللَّهُ يَتَوَارَى بِهِ يَهُودِيٌّ إِلاَّ أَنْطَقَ اللَّهُ ذَلِكَ الشَّىْءَ لاَ حَجَرَ وَلاَ شَجَرَ وَلاَ حَائِطَ وَلاَ دَابَّةَ - إِلاَّ الْغَرْقَدَةَ فَإِنَّهَا مِنْ شَجَرِهِمْ لاَ تَنْطِقُ - إِلاَّ قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ الْمُسْلِمَ هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ اقْتُلْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ وَإِنَّ أَيَّامَهُ أَرْبَعُونَ سَنَةً السَّنَةُ كَنِصْفِ السَّنَةِ وَالسَّنَةُ كَالشَّهْرِ وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ وَآخِرُ أَيَّامِهِ كَالشَّرَرَةِ يُصْبِحُ أَحَدُكُمْ عَلَى بَابِ الْمَدِينَةِ فَلاَ يَبْلُغُ بَابَهَا الآخَرَ حَتَّى يُمْسِيَ ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي فِي تِلْكَ الأَيَّامِ الْقِصَارِ قَالَ ‏"‏ تَقْدُرُونَ فِيهَا الصَّلاَةَ كَمَا تَقْدُرُونَهَا فِي هَذِهِ الأَيَّامِ الطِّوَالِ ثُمَّ صَلُّوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ فَيَكُونُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِي أُمَّتِي حَكَمًا عَدْلاً وَإِمَامًا مُقْسِطًا يَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَذْبَحُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَتْرُكُ الصَّدَقَةَ فَلاَ يُسْعَى عَلَى شَاةٍ وَلاَ بَعِيرٍ وَتُرْفَعُ الشَّحْنَاءُ وَالتَّبَاغُضُ وَتُنْزَعُ حُمَةُ كُلِّ ذَاتِ حُمَةٍ حَتَّى يُدْخِلَ الْوَلِيدُ يَدَهُ فِي فِي الْحَيَّةِ فَلاَ تَضُرَّهُ وَتُفِرُّ الْوَلِيدَةُ الأَسَدَ فَلاَ يَضُرُّهَا وَيَكُونُ الذِّئْبُ فِي الْغَنَمِ كَأَنَّهُ كَلْبُهَا وَتُمْلأُ الأَرْضُ مِنَ السِّلْمِ كَمَا يُمْلأُ الإِنَاءُ مِنَ الْمَاءِ وَتَكُونُ الْكَلِمَةُ وَاحِدَةً فَلاَ يُعْبَدُ إِلاَّ اللَّهُ وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا وَتُسْلَبُ قُرَيْشٌ مُلْكَهَا وَتَكُونُ الأَرْضُ كَفَاثُورِ الْفِضَّةِ تُنْبِتُ نَبَاتَهَا بِعَهْدِ آدَمَ حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّفَرُ عَلَى الْقِطْفِ مِنَ الْعِنَبِ فَيُشْبِعَهُمْ وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ عَلَى الرُّمَّانَةِ فَتُشْبِعَهُمْ وَيَكُونَ الثَّوْرُ بِكَذَا وَكَذَا مِنَ الْمَالِ وَتَكُونَ الْفَرَسُ بِالدُّرَيْهِمَاتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُرْخِصُ الْفَرَسَ قَالَ ‏"‏ لاَ تُرْكَبُ لِحَرْبٍ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ لَهُ فَمَا يُغْلِي الثَّوْرَ قَالَ ‏"‏ تُحْرَثُ الأَرْضُ كُلُّهَا وَإِنَّ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ ثَلاَثَ سَنَوَاتٍ شِدَادٍ يُصِيبُ النَّاسَ فِيهَا جُوعٌ شَدِيدٌ يَأْمُرُ اللَّهُ السَّمَاءَ فِي السَّنَةِ الأُولَى أَنْ تَحْبِسَ ثُلُثَ مَطَرِهَا وَيَأْمُرُ الأَرْضَ فَتَحْبِسُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا ثُمَّ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فِي السَّنَةِ الثَّانِيَةِ فَتَحْبِسُ ثُلُثَىْ مَطَرِهَا وَيَأْمُرُ الأَرْضَ فَتَحْبِسُ ثُلُثَىْ نَبَاتِهَا ثُمَّ يَأْمُرُ اللَّهُ السَّمَاءَ فِي السَّنَةِ الثَّالِثَةِ فَتَحْبِسُ مَطَرَهَا كُلَّهُ فَلاَ تَقْطُرُ قَطْرَةٌ وَيَأْمُرُ الأَرْضَ فَتَحْبِسُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ فَلاَ تُنْبِتُ خَضْرَاءَ فَلاَ تَبْقَى ذَاتُ ظِلْفٍ إِلاَّ هَلَكَتْ إِلاَّ مَا شَاءَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ فَمَا يُعِيشُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ قَالَ ‏"‏ التَّهْلِيلُ وَالتَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَيُجْرَى ذَلِكَ عَلَيْهِمْ مَجْرَى الطَّعَامِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيَّ يَقُولُ يَنْبَغِي أَنْ يُدْفَعَ هَذَا الْحَدِيثُ إِلَى الْمُؤَدِّبِ حَتَّى يُعَلِّمَهُ الصِّبْيَانَ فِي الْكُتَّابِ ‏.‏

It was narrated that Abu Umamah Al-Bahili said:"The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us, and most of his speech had to do with telling us about Dajjal. He warned about him, and among the things he said was: 'There will not be any tribulation on earth, since the time Allah created the offspring of Adam, that will be greater than the tribulation of Dajjal. Allah has not sent any Prophet but he warned his nation about Dajjal. I am the last of the Prophets, and you are the last of the nations. He will undoubtedly appear among you. If he appears while I am among you, I will contend with him on behalf of every Muslim, and if he appears while I am not among you, then each man must fend for himself and Allah will take care of every Muslim on my behalf. He will emerge from Al-Khallah, between Sham and Iraq, and will wreak havoc right and left. O slaves of Allah, remain steadfast. I will describe him to you in a manner in which none of the Prophets has described him before me. He will start by saying "I am a Prophet," and there is no Prophet after me. Then a second time he will say: "I am your Lord." But you will not see your Lord until you die. He is one-eyed, and your Lord is not one-eyed, and written between his eyes is Kafir. Every believer will read it, whether he is literate or illiterate. Part of his Fitnah will be that he will have with him Paradise and Hell, but his Hell will be a Paradise and his Paradise a Hell. Whoever is tested with his fire (hell), let him seek the help of Allah and recite the first Verses of Al-Kahf, then it will be cool and safe for him, as the fire was for Ibrahim. Part of his Fitnah will be that he will say to a Bedouin: "What do you think, if I resurrect your father and mother for you, will you bear witness that I am your Lord?" He will say: "Yes." Then two devils will appear to him in the form of his father and mother and will say: "O my son, follow him, for he is your Lord." And part of his Fitnah will be that he will overpower a single soul and kill him, then he will cut him with a saw until he falls in two pieces. Then he will say: "Look at this slave of mine; I will resurrect him now, then he will claim that he has a Lord other than me." Then Allah will resurrect him and the evil one will say to him: "Who is your Lord?" and he will say: "Allah is my Lord, and you are the enemy of Allah, you are Dajjal. By Allah, I have never had more insight about you than I have today." (An addition) Abul-Hasan Tanafisi said: "Muharibi told us: 'Ubaidullah bin al-Walid Al-Wassafi told us, from 'Atiyyah, that Abu Sa'eed said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'That man will be the highest in status in my nation in Paradise'" - He said: "Abu Sa'eed said: 'By Allah, we did not think that man would be anyone other than 'Umar bin Khattab, until he passed away. - Muharibi said: "Then we went back to the narration of Abu Rafi'." He said: - 'Part of his Fitnah will be that he will command the sky to rain, and it will rain, and he will command the earth to bring forth vegetation and it will do so. And part of his Fitnah will be that he will pass by a clan and they will disbelieve in him, so all their flocks will perish and none will be left. And part of his Fitnah will be that he will pass by a clan who will believe in him, so he will command the sky to rain, and it will rain, and he will command the earth to bring forth vegetation and it will do so, until their flocks will come back in the evening of that day, bigger and fatter than they have ever been, with their flanks stretched and their udders full of milk. There will be no part of the earth left that he does not enter and prevail over, except for Makkah and Al-Madinah, for he will not approach them on any of their mountain paths but he will be met by angels with unsheathed swords, until he will stop at the red hill at the end of the marsh. Then Al-Madinah will be shaken with its people three times, and no hypocrite, male or female, will be left, all will come out to him. Thus it will be cleansed of impurity just as the bellows cleanses the iron of dross. And that day will be called the Day of Deliverance.' "Umm Sharik bint Abi 'akar said: 'O Messenger of Allah, where will the Arabs be that day?' He said: 'On that day they will be few, and most of them will be in Baitul-Maqdis (Jerusalem), and their leader will be a righteous man. When their leader has stepped forward to lead them in subh prayer, 'Eisa bin Maryam will come down to them. Their leader will step backwards so that 'Eisa can come forward and lead the people in prayer, but 'Eisa will place his hand between his shoulders and say to him: "Go forward and pray, for the Iqamah was given for you." Then their leader will lead them in prayer. When he has finished, 'Eisa (as), will say: "Open the gate." So they will open it and behind it will be Dajjal with seventy thousand Jews, each of them carrying an adorned sword and wearing a greenish cloak. When Dajjal looks at him, he will start to melt as salt melts in water. He will run away, and 'Eisa (as), will say: "I have only one blow for you, which you will not be able to escape!" He will catch up with him at the eastern gate of Ludd, and will kill him. Then Allah will defeat the Jews, and there will be nothing left that Allah has created which the Jews will be able to hide behind, except that Allah will cause it to speak - no stone, no tree, no wall, no animal - except for Al-Gharqad (the box-thorn), for it is one of their trees, and will not speak - except that it will say: "O Muslim slave of Allah, here is a Jews, come and kill him!" "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'His (Dajjal's) days will number forty years: a year like half a year, a year like a month, a month like a week, and the rest of his days will be like sparks from a fire (i.e., they will pass quickly). One of you will enter the gate of Al-Madinah in the morning and not reach its other gate until evening comes.' It was said: 'O Messenger of Allah, how should we pray on those short days?' He said: 'Estimate (the times of) the prayer, as you do on these long days, then pray.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Eisa bin Maryam (as), will be a just judge and a just ruler among my nation. He will break the cross, slaughter the pigs, abolish the Jizyah and charity will be left. No one will be appointed to (collect the Zakah of) sheep and camels. Grudges and mutual hatred will disappear and the venom of every venomous creature will be removed, so that a baby boy will but his hand in a snake and it will not harm him, and a baby girl will make a lion run away, and it will not harm her; and the wolf will be among the sheep like their sheepdog. The earth will be filled with peace just as a vessel is filled with water. The people will be united and none will be worshipped except Allah. War will cease and Quraish will no longer be in power. The earth will be like a silver platter, with its vegetation growing as it did at the time of Adam, until a group of people will gather around one bunch of grapes and it will suffice them, and a group will gather around a single pomegranate and it will suffice them. An ox will be sold for such and such amount of money, and a horse will be sold for a few Dirham.' They said: 'O Messenger of Allah, why will horses be so cheap?' He said: 'They will never be ridden in war again.' It was said to him: 'Why will oxen be so expensive?' He said: 'Because all the land will be tilled. Before Dajjal appears there will be three difficult years in which the people will suffer severe famine. In the first year, Allah will command the sky to withhold one third of its rain and the earth to withhold one third of its produce. In the second year, He will command the sky to withhold two thirds of its rain and the earth to withhold two-thirds of its produce. In the third year, he will command the sky to withhold all of its rain, and not a single drop will fall, and the earth to withhold all of its produce, and nothing will grow. All cloven-hoofed animals will die, except those that Allah wills.' It was said: 'What will the people live on at that time?' He said: 'Tahlil, Takbir, Tasbih and Tahmid. That will take the place of food for them.'" Abu 'Abdullah (Ibn Majah) said: "I heard Abul-Hasan Tanafisi say: 'I heard 'Abdur-Rahman Al-Muharibi say: "This Hadith should be sent to every teacher so that they can teach it to the children in the schools

🗺️

Gharqad Forest Areas, Buffer Zones & Habitat Cartography

MEDITERRANEAN SEA (بحر الروم)GULF OF AQABALake Tiberias (طبريا)DEAD SEA (بحر لوط)-430m · Hyper-Saline🌲 YATIR FOREST (غابة يتير)4M+ Trees · Negev Desert Edge🌿 NEGEV AFFORESTATION BELTDune Stabilization & Perimeter Hedges🧂 NATIVE NITRARIA RETUSASaline Nebkhas & Salt-Bush Hummocks⚔️ Gate of Ludd (Lod)Site of Isa's Victory over Dajjal (Ibn Majah 4077)🕌 Jerusalem (Al-Quds)31.78° N, 35.22° E · EpicenterBeershebaGaza Buffer Zone➜ Historic Origin: Baqi' al-Gharqad24.47° N, 39.61° E · Ancient Gharqad GroveCleared for the historic Muslim cemeteryMap Cartography LegendAfforestation & Hedgerow BeltsNative Saline Nitraria retusaGate of Ludd Victory SiteStrategic & Historical Centers

Cartography: The Gate of Ludd, the Dead Sea saline depressions (native Nitraria retusa habitat), the Yatir Forest & Negev buffer afforestation belt, and the historic Baqi' al-Gharqad grove in Madinah.

بقیع الغرقد (مدینہ)

تاریخی مدینہ کا قبرستان جو اصل میں قدیم غرقد کے جنگل سے اُگا ہوا تھا
📍 24.467° N, 39.615° E

اس کا نام غرقد کے خاردار درختوں کے جھنڈ کے نام پر رکھا گیا جو وہاں اُس وقت اُگے تھے جب نبی ﷺ نے اِسے قبرستان کے طور پر مقرر فرمایا۔

View on Satellite Map ↗

بابِ لُد (لود، فلسطین)

ایک آخری زمانے کی ویب سائٹ جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) دجال کا خاتمہ کرتے ہیں (ابن ماجہ 4077)
📍 31.95° N, 34.89° E

فلسطین کا ایک قدیم شہر جو جدید تل ابیب کے بین گوریون ہوائی اڈے کے قریب ہے، جہاں آخری تصادم اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔

View on Satellite Map ↗

یتیر فارسٹ اور جنوبی نقب کا کنارہ

اسرائیل کا سب سے بڑا مصنوعی جنگل (40 لاکھ سے زائد درخت) صحرائی سرحد پر
📍 31.345° N, 35.056° E

ماؤنٹ ہیبرون کی ڈھلوانوں اور شمالی نقب میں وسیع جنگلاتی علاقہ، جو زندہ سبز رکاوٹوں کا کام دیتا ہے۔

View on Satellite Map ↗

بحرِ مردار کا نشیبی علاقہ (نمکین میدان)

ہیلوفائٹک نائٹرارِیا ریٹوسا کا بنیادی قدرتی نباتاتی مسکن
📍 31.5° N, 35.45° E

انتہائی خشک، انتہائی نمکین مٹی جہاں مقامی صحرائی باکس تھورن اور سالٹ بش جھاڑیاں ریت کے نیبکھاس کو تھامے رکھتی ہیں۔

View on Satellite Map ↗

شمالی نقب بفر اور کِبوٹز کے گرد و نواح

فعال شجرکاری پٹیاں اور خشک سالی برداشت کرنے والی خاردار حفاظتی باڑیں
📍 31.25° N, 34.79° E

لائسیئم شاوی اور صحرائی جھاڑیوں کی وسیع پیمانے پر شجرکاری جو ٹیلوں کے استحکام اور حفاظتی باڑ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

View on Satellite Map ↗

یروشلم / القدس

آخری زمانے کے واقعات اور محاصرے کا مرکزی نقطہ
📍 31.776° N, 35.234° E

وہ مقدس شہر جسے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول سے پہلے دجال کی فوج نے محاصرے میں لے لیا۔

View on Satellite Map ↗
⚖️

غرقد کا درخت: وائرل پوسٹیں بمقابلہ مصدقہ حقائق

سوشل میڈیا پر وائرل دعوے بمقابلہ صحیح احادیث اور مستند تاریخ۔

❌ وائرل دعویٰ #1

غرقد یروشلم کے گرد جنگلات میں لگایا جانے والا لمبا صنوبر یا زیتون کا درخت ہے۔

✅ اصل حقیقت

عربی لغت اور نباتات کے مطابق الغرقد (*Nitraria retusa*) کوئی لمبا درخت نہیں بلکہ 1 سے 2.5 میٹر اونچی خاردار صحرائی جھاڑی ہے جو بحیرہ مردار اور وادی عربہ کی نمکین زمین میں قدرتی طور پر اگتی ہے۔

❌ وائرل دعویٰ #2

غرقد ایک ایسا پراسرار پودا ہے جسے مدینہ کے لوگوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

✅ اصل حقیقت

مدینہ میں مسجدِ نبوی کے ساتھ واقع قبرستان کا اصل نام ہی 'بقیع الغرقد' ہے (صحیح مسلم 974) کیونکہ تدفین سے پہلے وہاں غرقد کی جھاڑیاں موجود تھیں۔

🛡️

اصل تیاری کیا ہے؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرے گا وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا (صحیح مسلم 809)۔ اس لیے سوشل میڈیا کی وائرل تھیوریز کے پیچھے بھاگنے کے بجائے مسنون اعمال کو مضبوطی سے تھامیں۔

Frequently Asked Questions & Fact-Check

Key questions answered directly from authentic prophetic sources

غرقد یروشلم کے گرد جنگلات میں لگایا جانے والا لمبا صنوبر یا زیتون کا درخت ہے۔

عربی لغت اور نباتات کے مطابق الغرقد (*Nitraria retusa*) کوئی لمبا درخت نہیں بلکہ 1 سے 2.5 میٹر اونچی خاردار صحرائی جھاڑی ہے جو بحیرہ مردار اور وادی عربہ کی نمکین زمین میں قدرتی طور پر اگتی ہے۔

غرقد ایک ایسا پراسرار پودا ہے جسے مدینہ کے لوگوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

مدینہ میں مسجدِ نبوی کے ساتھ واقع قبرستان کا اصل نام ہی 'بقیع الغرقد' ہے (صحیح مسلم 974) کیونکہ تدفین سے پہلے وہاں غرقد کی جھاڑیاں موجود تھیں۔

کوئی غلطی نظر آئی؟

غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔

ترمیم تجویز کریں یا غلطی کی اطلاع دیں

غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔

معاملہ کیا ہے؟