حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ بَيۡنَ ٱلسَّدَّيۡنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوۡمࣰ ا لَّا يَكَادُونَ يَفۡقَهُونَ قَوۡلࣰ ا٩٣
93. Until, when he reached [a pass] between two mountains, he found beside them a people who could hardly understand [his] speech
قَالُواْ يَٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِنَّ يَأۡجُوجَ وَمَأۡجُوجَ مُفۡسِدُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا عَلَىٰٓ أَن تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدࣰّ ا٩٤
94. They said, "O Dhul-Qarnayn, indeed Gog and Magog are [great] corrupters in the land. So may we assign for you an expenditure that you might make between us and them a barrier
لوہے اور تانبے کی دیوار، دو الفاظ جو اسے توڑ دیں گے، اور ایک ننھے کیڑے کے ہاتھوں ناقابلِ شکست لشکر کا خاتمہ: یاجوج و ماجوج کی پوری کہانی
خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ان سے تلوار سے جنگ کیوں نہیں کریں گے، ہر روز کھودنے کے باوجود دیوار کیوں نہیں ٹوٹتی، اور زومبی یا قدیم قوموں والی انٹرنیٹ تھیوریز قرآن و حدیث سے کیوں ٹکراتی ہیں؟
- شائع شدہ
- ۱۴ منٹ کا مطالعہ
بابِ لد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کے خاتمے کے فوراً بعد اللہ ان کی طرف وحی بھیجے گا: 'میں نے اپنے ایسے بندے نکال دیے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں، پس میرے بندوں کو بحفاظت کوہِ طور پر لے جاؤ۔' یاجوج و ماجوج کون ہیں، ذوالقرنین نے انہیں لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے کی دیوار کے پیچھے کیسے بند کیا اور ان کا انجام کیسے ہوگا؟
فلموں اور پرانے قصے کہانیوں میں یاجوج اور ماجوج کو اکثر زومبی یا عجیب الخلقت مخلوق بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پرانے زمانے کی کچھ بے اصل کہانیوں میں یہاں تک کہا گیا کہ ان میں سے کچھ درختوں جتنے لمبے ہیں اور کچھ بالشت بھر کے جو ایک کان بچھا کر دوسرے کو اوڑھ لیتے ہیں!
مگر حافظ ابن کثیر (البدایہ والنہایہ) اور حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری) نے ان تمام من گھڑت قصوں کو رد کر دیا ہے۔ قرآن اور صحیح بخاری و مسلم کی روشنی میں ان کی اصل حقیقت یہ ہے:
- وہ سو فیصد انسان ہیں: وہ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد اور حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی نسل سے دو عظیم انسانی قبائل ہیں۔
- ان کا جسمانی حلیہ: مسند احمد کی صحیح روایت میں نبی کریم ﷺ نے ان کا حلیہ بیان فرمایا کہ وہ چوڑے چہروں، چھوٹی آنکھوں اور سرخی مائل بالوں والے ہوں گے اور ان کے چہرے تہہ بہ تہہ چمڑے کی ڈھال (المجن المطرقہ) کی طرح مضبوط اور ابھرے ہوئے ہوں گے۔
- بے پناہ تعداد: ان کی اصل طاقت ان کی ناقابلِ تصور تعداد اور تند خوئی ہے۔ صحیح بخاری (3348) میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن دوزخیوں کے ہر ایک ہزار افراد میں سے 999 یاجوج و ماجوج میں سے ہوں گے اور صرف ایک باقی انسانوں میں سے۔
سورہ کہف (18:93-98) میں اللہ تعالیٰ نے عادل بادشاہ ذوالقرنین کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ دو پہاڑوں کے درمیانی درے (بین السدین) تک پہنچے جہاں ایک قوم نے التجاء کی: 'اے ذوالقرنین! بے شک یاجوج اور ماجوج اس زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ خراج مقرر کر دیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں؟'
دیکھیے ذوالقرنین نے کس طرح ایک شاہکار دھاتی دیوار تعمیر کی:
- انہوں نے مال لینے سے انکار کیا: فرمایا: 'اللہ نے مجھے جو دے رکھا ہے وہ بہتر ہے، تم صرف جسمانی محنت سے میری مدد کرو!'
- پہلا مرحلہ (لوہے کے تختے): انہوں نے لوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے (زبر الحدید) چنوائے یہاں تک کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان خلا برابر ہو گیا۔
- دوسرا مرحلہ (دہکتی بھٹی): پھر حکم دیا کہ دھونکنیوں سے ہوا پھونکو (انفخوا) یہاں تک کہ سارا لوہا آگ کی طرح سرخ ہو گیا۔
- تیسرا مرحلہ (پگھلا ہوا تانبا): پھر فرمایا: 'لاؤ اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا (قطرا) انڈیل دوں!' دہکتے لوہے پر پگھلا ہوا تانبا ڈالنے سے وہ ایسی مضبوط اور چکنی دھاتی دیوار بن گئی کہ:
> 'پھر نہ وہ اس کے اوپر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب (سوراخ) لگا سکتے تھے' (سورہ کہف 18:97)۔
> 'یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے!' (سورہ کہف 18:98)۔
دو صحیح احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے سے لے کر دیوار ٹوٹنے کے دن تک وہاں کیا ہو رہا ہے:
پہلا منظر: جب نبی کریم ﷺ سرخ چہرے کے ساتھ بیدار ہوئے
صحیح بخاری (3346) اور صحیح مسلم (2880) میں ام المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا۔ آپ ﷺ نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کا حلقہ بنا کر فرمایا:
> 'لا الہ الا اللہ! عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آ لگا ہے! آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے!'
حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پوچھا: 'یا رسول اللہ! کیا ہمارے درمیان نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی ہم ہلاک ہو جائیں گے؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، جب خباثت (گناہ اور بے حیائی) عام ہو جائے گی!'
دوسرا منظر: ہر رات دیوار دوبارہ مضبوط کیوں ہو جاتی ہے؟
سنن ابن ماجہ (4080) اور جامع ترمذی (3153) کی صحیح حدیث میں ہے کہ یاجوج و ماجوج ہر روز اس دیوار کو کھودتے ہیں، یہاں تک کہ جب سورج کی کرنیں نظر آنے کے قریب ہوتی ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے:
> 'واپس چلو، کل آ کر اسے توڑ دیں گے!'
پھر اللہ رات کو اس دیوار کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ان کے نکلنے کا مقررہ وقت آئے گا تو ان کا سردار کہے گا:
> 'واپس چلو، ان شاء اللہ کل اسے توڑ دیں گے!'
اگلی صبح وہ آئیں گے تو دیوار کو ویسا ہی پائیں گے اور اسے توڑ کر زمین میں پھیل جائیں گے۔
دیوار ٹوٹنے کے بعد ان کے نکلنے کا منظر قرآن میں یوں بیان ہوا ہے:
> 'یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ پھسلتے ہوئے آئیں گے' (سورہ انبیاء 21:96)۔
صحیح مسلم (2937) میں حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں دجال کے قتل کے بعد کے واقعات تفصیل سے مذکور ہیں:
- کوہِ طور پر پناہ کا حکم: اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجے گا کہ 'میں نے اپنے ایسے بندے نکال دیے ہیں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں، اس لیے میرے بندوں کو کوہِ طور پر جمع کر لو۔'
- بحیرہ طبریہ کا خشک ہونا: یاجوج و ماجوج کی پہلی جماعت فلسطین کی طبریہ جھیل کے پاس سے گزرے گی اور اس کا سارا پانی پی جائے گی۔ جب ان کی آخری جماعت وہاں سے گزرے گی تو کہے گی: 'یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا!'
- کوہِ طور کا محاصرہ: وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو کوہِ طور پر محصور کر لیں گے، جہاں خوراک کی اتنی قلت ہو جائے گی کہ بیل کی ایک سری ان کے نزدیک تمہارے آج کے سو سونے کے دیناروں سے زیادہ قیمتی ہوگی۔
- آسمان کی طرف تیر چلانا: زمین میں فساد مچانے کے بعد وہ غرور سے کہیں گے کہ 'ہم نے زمین والوں کو زیر کر لیا، اب آسمان والوں کو زیر کرتے ہیں!' چنانچہ وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے اور اللہ بطور آزمائش ان کے تیر خون آلود واپس لوٹا دے گا۔
جب یاجوج و ماجوج اپنے غرور کی انتہا پر ہوں گے تو انسانی تاریخ کی اس سب سے بڑی فوج کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ کسی ہتھیار یا تلوار سے نہیں!
صحیح مسلم (2937) کے مطابق:
- کوہِ طور پر دعا: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے مومن ساتھی گڑگڑا کر اللہ کے حضور دعا کریں گے۔
- ننھے کیڑے (النغف) کا حملہ: اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں 'نغف' نامی ایک چھوٹا سا کیڑا پیدا فرما دے گا۔ اگلی صبح یاجوج و ماجوج کا پورا لشکر ایک ہی جان کی موت کی طرح بیک وقت بے جان ہو کر گر پڑے گا (کموت نفس واحدۃ)!
- زمین کی صفائی: جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی پہاڑ سے نیچے اتریں گے تو زمین پر ایک بالشت جگہ بھی ان کی لاشوں اور بدبو سے خالی نہ ہوگی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دعا کریں گے:
۱۔ اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے پرندے بھیجے گا جو ان لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ چاہے گا پھینک دیں گے۔
۲۔ پھر اللہ ایسی موسلا دھار بارش برسائے گا جو پوری زمین کو دھو کر آئینے کی طرح صاف اور چمکدار بنا دے گی (کالزلقہ)۔
- بے مثال برکت کا دور: پھر زمین کو حکم ہوگا کہ 'اپنے پھل اگا اور اپنی برکت لوٹا دے!' اس دور میں ایک انار کو پوری جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے کے سائے میں بیٹھے گی، اور ایک اونٹنی کا دودھ پورے قبیلے کے لیے کافی ہوگا۔
انٹرنیٹ پر یاجوج و ماجوج کی دیوار کے بارے میں دو انتہا پسندانہ نظریات اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں:
- پہلا نظریہ: 'یاجوج و ماجوج دراصل تیرہویں صدی کے منگول اور تاتاری تھے اور دیوار صدیوں پہلے ٹوٹ چکی ہے!'
- دوسرا نظریہ: 'گوگل ارتھ یا سیٹلائٹ کو وہ دیوار کیوں نہیں ملی؟ شاید وہ زمین کے اندر زومبی بن کر چھپے ہیں!'
آئیے دیکھتے ہیں کہ علماء کرام قرآن و سنت کی روشنی میں ان دونوں باتوں کا کیا جواب دیتے ہیں:
۱۔ تاتاریوں کا حملہ یاجوج و ماجوج کا خروج کیوں نہیں تھا؟ امام قرطبی اور حافظ ابن کثیر رحمہما اللہ نے واضح کیا کہ صحیح مسلم (2937) کے مطابق یاجوج و ماجوج کا خروج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور دجال کے قتل کے بعد ہوگا، وہ بحیرہ طبریہ کا پانی پی جائیں گے اور نغف نامی کیڑے سے ایک ہی رات میں ہلاک ہوں گے۔ تاتاریوں کے معاملے میں ان میں سے کوئی بات پیش نہیں آئی بلکہ بعد میں بہت سے تاتاری خود مسلمان ہو گئے!
۲۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں دیوار میں حلقے جتنے سوراخ کا کیا مطلب تھا؟ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں واضح کیا کہ وہ سوراخ فتنوں کے آغاز اور آخری زمانے کے قریب آنے کی علامت تھا، جبکہ دیوار کا مکمل طور پر گرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں ہوگا۔
۳۔ سیٹلائٹ پر دیوار کیوں نظر نہیں آتی؟ اللہ تعالیٰ نے مقررہ وقت (فاذا جاء وعد ربی) تک اس دیوار کے مقام کو اپنی حکمت سے مخفی رکھا ہے۔ اس پر ایمان لانے کے لیے کسی سائنسی افسانے یا زومبی کہانی گھڑنے کی ضرورت نہیں۔
۞Referenced Quranic Verses
قَالَ هَٰذَا رَحۡمَةࣱ مِّن رَّبِّيۖ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّي جَعَلَهُۥ دَكَّآءَۖ وَكَانَ وَعۡدُ رَبِّي حَقࣰّ ا٩٨
98. [Dhul-Qarnayn] said, "This is a mercy from my Lord; but when the promise of my Lord comes, He will make it level, and ever is the promise of my Lord true
حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتۡ يَأۡجُوجُ وَمَأۡجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبࣲ يَنسِلُونَ٩٦
96. Until when [the dam of] Gog and Magog has been opened and they, from every elevation, descend
📜Primary Referenced Hadiths
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ ـ رضى الله عنهن أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُولُ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ". وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا. قَالَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ " نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخُبْثُ ".
Narrated Zainab bint Jahsh:That the Prophet (ﷺ) once came to her in a state of fear and said, "None has the right to be worshipped but Allah. Woe unto the Arabs from a danger that has come near. An opening has been made in the wall of Gog and Magog like this," making a circle with his thumb and index finger. Zainab bint Jahsh said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we be destroyed even though there are pious persons among us?" He said, "Yes, when the evil persons will increase
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ، قَاضِي حِمْصَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ، جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلاَبِيَّ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ، نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَّضَ فِيهِ وَرَفَّعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِينَا فَقَالَ " مَا شَأْنُكُمْ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ غَدَاةً فَخَفَّضْتَ فِيهِ وَرَفَّعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ . فَقَالَ " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَيْكُمْ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ كَأَنِّي أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَمَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقْرَأْ عَلَيْهِ فَوَاتِحَ سُورَةِ الْكَهْفِ إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّأْمِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالاً يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا لَبْثُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ " أَرْبَعُونَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَسَنَةٍ أَتَكْفِينَا فِيهِ صَلاَةُ يَوْمٍ قَالَ " لاَ اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الأَرْضِ قَالَ " كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ فَيَأْتِي عَلَى الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالأَرْضَ فَتُنْبِتُ فَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ أَطْوَلَ مَا كَانَتْ ذُرًا وَأَسْبَغَهُ ضُرُوعًا وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ ثُمَّ يَأْتِي الْقَوْمَ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَيَنْصَرِفُ عَنْهُمْ فَيُصْبِحُونَ مُمْحِلِينَ لَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَىْءٌ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ . فَتَتْبَعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّحْلِ ثُمَّ يَدْعُو رَجُلاً مُمْتَلِئًا شَبَابًا فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُوهُ فَيُقْبِلُ وَيَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ يَضْحَكُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ إِذَا طَأْطَأَ رَأَسَهُ قَطَرَ وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ فَلاَ يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلاَّ مَاتَ وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَأْتِي عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ قَوْمٌ قَدْ عَصَمَهُمُ اللَّهُ مِنْهُ فَيَمْسَحُ عَنْ وُجُوهِهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لاَ يَدَانِ لأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ . وَيَبْعَثُ اللَّهُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌ . وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللَّهُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ حَتَّى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لأَحَدِكُمُ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللَّهُ عَلَيْهُمُ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الأَرْضِ فَلاَ يَجِدُونَ فِي الأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلاَّ مَلأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللَّهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ فَيُرْسِلُ اللَّهُ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا لاَ يَكُنُّ مِنْهُ بَيْتُ مَدَرٍ وَلاَ وَبَرٍ فَيَغْسِلُ الأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ ثُمَّ يُقَالُ لِلأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرُدِّي بَرَكَتَكِ . فَيَوْمَئِذٍ تَأْكُلُ الْعِصَابَةُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى أَنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ لَتَكْفِي الْقَبِيلَةَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْغَنَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ فِيهَا تَهَارُجَ الْحُمُرِ فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ " .
An-Nawwas b. Sam`an reported that Allah's Messenger (ﷺ) made a mention of the Dajjal one day in the morning. He (ﷺ) sometimes described him to be insignificant and sometimes described (his turmoil) as very significant (and we felt) as if he were in the cluster of the date-palm trees. When we went to him (to the Holy Prophet) in the evening and he read (the signs of fear) in our faces, he (ﷺ) said:What is the matter with you? We said: Allah's Messenger, you made a mention of the Dajjal in the morning (sometimes describing him) to be insignificant and sometimes very important, until we began to think as if he were present in some (near) part of the cluster of the date-palm trees. Thereupon he (ﷺ) said: I harbor fear in regard to you in so many other things besides the Dajjal. If he comes forth while I am among you, I shall contend with him on your behalf, but if he comes forth while I am not amongst you, a man must contend on his own behalf and Allah would take care of every Muslim on my behalf (and safeguard him against his evil). He (Dajjal) would be a young man with twisted, contracted hair, and a blind eye. I compare him to `Abd-ul-`Uzza b. Qatan. He who amongst you would survive to see him should recite over him the opening verses of Sura Kahf (xviii). He would appear on the way between Syria and Iraq and would spread mischief right and left. O servant of Allah! adhere (to the path of Truth). We said: Allah's Messenger, how long would he stay on the earth? He (ﷺ) said: For forty days, one day like a year and one day like a month and one day like a week and the rest of the days would be like your days. We said: Allah's Messenger, would one day's prayer suffice for the prayers of day equal to one year? Thereupon he (ﷺ) said: No, but you must make an estimate of time (and then observe prayer). We said: Allah's Messenger, how quickly would he walk upon the earth? Thereupon he (ﷺ) said: Like cloud driven by the wind. He would come to the people and invite them (to a wrong religion) and they would affirm their faith in him and respond to him. He would then give command to the sky and there would be rainfall upon the earth and it would grow crops. Then in the evening, their pasturing animals would come to them with their humps very high and their udders full of milk and their flanks stretched. He would then come to another people and invite them. But they would reject him and he would go away from them and there would be drought for them and nothing would be left with them in the form of wealth. He would then walk through the waste land and say to it: Bring forth your treasures, and the treasures would come out and collect (themselves) before him like the swarm of bees. He would then call a person brimming with youth and strike him with the sword and cut him into two pieces and (make these pieces lie at a distance which is generally) between the archer and his target. He would then call (that young man) and he will come forward laughing with his face gleaming (with happiness) and it would be at this very time that Allah would send Jesus, son of Mary, and he will descend at the white minaret in the eastern side of Damascus wearing two garments lightly dyed with saffron and placing his hands on the wings of two Angels. When he would lower his head, there would fall beads of perspiration from his head, and when he would raise it up, beads like pearls would scatter from it. Every non-believer who would smell the odor of his self would die and his breath would reach as far as he would be able to see. He would then search for him (Dajjal) until he would catch hold of him at the gate of Ludd and would kill him. Then a people whom Allah had protected would come to Jesus, son of Mary, and he would wipe their faces and would inform them of their ranks in Paradise and it would be under such conditions that Allah would reveal to Jesus these words: I have brought forth from amongst My servants such people against whom none would be able to fight; you take these people safely to Tur. And then Allah would send Gog and Magog and they would swarm down from every slope. The first of them would pass the lake of Tiberias and drink out of it. And when the last of them would pass, he would say: There was once water there. Jesus and his companions would then be besieged here (at Tur, and they would be so much hard pressed) that the head of the ox would be dearer to them than one hundred dinars and Allah's Apostle, Jesus, and his companions would supplicate Allah, Who would send to them insects (which would attack their necks) and in the morning they would perish like one single person. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then come down to the earth and they would not find in the earth as much space as a single span which is not filled with their putrefaction and stench. Allah's Apostle, Jesus, and his companions would then again beseech Allah, Who would send birds whose necks would be like those of Bactrian camels and they would carry them and throw them where God would will. Then Allah would send rain which no house of clay or (the tent of) camels' hairs would keep out and it would wash away the earth until it could appear to be a mirror. Then the earth would be told to bring forth its fruit and restore its blessing and, as a result thereof, there would grow (such a big) pomegranate that a group of persons would be able to eat that, and seek shelter under its skin and milch cow would give so much milk that a whole party would be able to drink it. And the milch camel would give such (a large quantity of) milk that the whole tribe would be able to drink out of that and the milch sheep would give so much milk that the whole family would be able to drink out of that and at that time Allah would send a pleasant wind which would soothe (people) even under their armpits, and would take the life of every Muslim and only the wicked would survive who would commit adultery like asses and the Last Hour would come to them
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ يَحْفِرُونَ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمُ ارْجِعُوا فَسَنَحْفِرُهُ غَدًا . فَيُعِيدُهُ اللَّهُ أَشَدَّ مَا كَانَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ حَفَرُوا حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمُ ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى وَاسْتَثْنَوْا فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيَنْشِفُونَ الْمَاءَ وَيَتَحَصَّنُ النَّاسُ مِنْهُمْ فِي حُصُونِهِمْ فَيَرْمُونَ بِسِهَامِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ عَلَيْهَا الدَّمُ الَّذِي اجْفَظَّ فَيَقُولُونَ قَهَرْنَا أَهْلَ الأَرْضِ وَعَلَوْنَا أَهْلَ السَّمَاءِ فَيَبْعَثُ اللَّهُ نَغَفًا فِي أَقْفَائِهِمْ فَيَقْتُلُهُمْ بِهَا " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ دَوَابَّ الأَرْضِ لَتَسْمَنُ وَتَشْكَرُ شَكَرًا مِنْ لُحُومِهِمْ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Gog and Magog people dig every day until, when they can almost see the rays of the sun, the one in charge of them says: "Go back and we will dig it tomorrow." Then Allah puts it back, stronger than it was before. (This will continue) until, when their time has come, and Allah wants to send them against the people, they will dig until they can almost see the rays of the sun, then the one who is in charge of them will say: "Go back, and we will dig it tomorrow if Allah wills.' So they will say: "If Allah wills." Then they will come back to it and it will be as they left it. So they will dig and will come out to the people, and they will drink all the water. The people will fortify themselves against them in their fortresses. They will shoot their arrows towards the sky and they will come back with blood on them, and they will say: "We have defeated the people of earth and dominated the people of heaven." Then Allah will send a worm in the napes of their necks and will kill them thereby.'" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in Whose Hand is my soul, the beasts of the earth will grow fat on their flesh
Geographical Map & Historical Coordinates
دربند درہ (سکندر کے دروازے)
بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین کے درمیان تاریخی لوہے کے دروازے، جن کا ذکر کلاسیکی جغرافیہ دانوں جیسے الادریسی اور ابن خردادبہ نے بڑے پیمانے پر کیا ہے۔
View on Satellite Map ↗جھیل طبریہ (بحیرہ گلیل)
وہ جھیل جسے یاجوج ماجوج اپنے ابتدائی حملے کے وقت مکمل طور پر خشک کر دیں گے۔
View on Satellite Map ↗طور پہاڑ (سینا / یروشلم کی بلندیاں)
وہ پناہ گاہ جہاں نبی عیسیٰ (علیہ السلام) اور زندہ بچ جانے والے مومنین اللہ کے حکم سے پناہ لیتے ہیں۔
View on Satellite Map ↗یاجوج و ماجوج: وائرل افواہیں بمقابلہ قرآن و سنت
سوشل میڈیا پر وائرل دعوے بمقابلہ صحیح احادیث اور مستند تاریخ۔
یاجوج و ماجوج انسان نہیں بلکہ زومبی یا لمبے کانوں والی عجیب مخلوق ہیں۔
حافظ ابن کثیر اور ابن حجر نے صحیح بخاری و مسلم سے ثابت کیا ہے کہ وہ سو فیصد انسان ہیں اور حضرت آدم و حضرت نوح کے بیٹے یافث کی نسل سے ہیں۔
ذوالقرنین کی دیوار دراصل دیوارِ چین ہے یا منگولوں کے دور میں ٹوٹ چکی ہے۔
دیوارِ چین اینٹ اور پتھر سے بنی ہے جبکہ ذوالقرنین کی دیوار دو پہاڑوں کے درمیان لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنی ہے (سورہ کہف 18:96) اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کے قتل کے بعد ٹوٹے گی (صحیح مسلم 2937)۔
Frequently Asked Questions & Fact-Check
Key questions answered directly from authentic prophetic sources
یاجوج و ماجوج انسان نہیں بلکہ زومبی یا لمبے کانوں والی عجیب مخلوق ہیں۔
حافظ ابن کثیر اور ابن حجر نے صحیح بخاری و مسلم سے ثابت کیا ہے کہ وہ سو فیصد انسان ہیں اور حضرت آدم و حضرت نوح کے بیٹے یافث کی نسل سے ہیں۔
ذوالقرنین کی دیوار دراصل دیوارِ چین ہے یا منگولوں کے دور میں ٹوٹ چکی ہے۔
دیوارِ چین اینٹ اور پتھر سے بنی ہے جبکہ ذوالقرنین کی دیوار دو پہاڑوں کے درمیان لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنی ہے (سورہ کہف 18:96) اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کے قتل کے بعد ٹوٹے گی (صحیح مسلم 2937)۔
کوئی غلطی نظر آئی؟
غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔