وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّٰلِحُونَ١٠٥
105. And We have already written in the book [of Psalms] after the [previous] mention that the land [of Paradise] is inherited by My righteous servants
وہ رہنما جو اقتدار سے بھاگ کر مکہ میں پناہ لے گا: اصل امام مہدی کی پہچان (اور جھوٹے دعویداروں کا پوسٹ مارٹم)
وہ نہ کوئی مہم چلائیں گے اور نہ لوگوں سے بیعت مانگیں گے۔ جانیے ان کے حلیے، ایک رات میں اصلاح، بیداء کے صحرا میں لشکر کے دھنسنے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نماز کی مستند تفصیلات۔
- شائع شدہ
- ۱۷ منٹ کا مطالعہ
تاریخ میں درجنوں لوگوں نے کھڑے ہو کر دعویٰ کیا کہ 'میں مہدی ہوں!' حالانکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک ایسا سادہ اصول دیا ہے جس سے ہر جھوٹا دعویدار فوراً پکڑا جاتا ہے: اصل مہدی کبھی اپنے لیے مہم نہیں چلائیں گے بلکہ قیادت کے خوف سے مدینہ سے مکہ چلے جائیں گے جہاں رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان انہیں مجبوراً بیعت لینی پڑے گی۔
سوشل میڈیا پر اکثر لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں: 'صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں لفظ مہدی کیوں نہیں ملتا؟'
جواب بہت سادہ ہے: صحیح بخاری اور مسلم میں امام مہدی کا واقعہ اور کردار پوری تفصیل سے موجود ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ان کے لقب کے بجائے ان کے اوصاف بیان ہوئے ہیں، جبکہ سنن ابی داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور مسند احمد کی صحیح احادیث میں ان کا نام اور لقب صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
صحیح بخاری (3449) اور صحیح مسلم (156) میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> 'تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ابنِ مریم تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا؟'
اسی طرح صحیح مسلم (2882) میں خانہ کعبہ میں پناہ لینے والے اس شخص کا ذکر ہے جس کے خلاف بھیجا گیا پورا لشکر مدینہ اور مکہ کے درمیان 'بیداء' کے مقام پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔
بیس سے زائد صحابہ کرام نے امام مہدی سے متعلق احادیث روایت کی ہیں۔ امام شوکانی، ابن تیمیہ، ابن القیم، کتانی اور شیخ البانی رحمہم اللہ کا اتفاق ہے کہ امام مہدی کی احادیث متواتر معنوی کے درجے کو پہنچتی ہیں۔ وہ قیامت کی چھوٹی علامات اور بڑی علامات کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
امام مہدی کی شناخت کے بارے میں کوئی ابہام نہ رہے، اس لیے نبی کریم ﷺ نے ان کے نام، نسب اور حلیے کی واضح نشانیاں بتائی ہیں:
- نام اور والد کا نام: ان کا نام نبی کریم ﷺ کے نام جیسا (محمد یا احمد) ہوگا اور ان کے والد کا نام آپ ﷺ کے والد کے نام جیسا (عبداللہ) ہوگا، یعنی محمد بن عبداللہ (سنن ابی داؤد 4282)۔
- خاندانی نسب: وہ اہلِ بیت میں سے سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی نسل اور ان کے بڑے صاحبزادے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اولاد سے ہوں گے (سنن ابی داؤد 4284)۔
- سیدنا حسن کی نسل کی خاص حکمت: حافظ ابن کثیر اور ابن القیم رحمہما اللہ ایک بہت خوبصورت نقطہ بیان کرتے ہیں کہ 41 ہجری میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا خون بچانے اور اتحاد کے لیے خلافت سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ چونکہ انہوں نے اللہ کی رضا کے لیے اقتدار چھوڑا، اس لیے اللہ نے ان کی نسل کو آخری زمانے کے عادل خلیفہ کے ذریعے عزت بخشی۔
- جسمانی حلیہ: ان کی پیشانی کشادہ اور روشن (اجلی الجبہہ) ہوگی اور ناک بلند و ستواں (اقنی الانف) ہوگی (سنن ابی داؤد 4285)۔
- دورِ حکومت: وہ سات، آٹھ یا نو سال حکومت کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیساکہ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی تھی، اور مال و دولت بغیر گنے تقسیم کیا جائے گا (صحیح مسلم 2913، سنن ابی داؤد 4285)۔
سنن ابن ماجہ (4085) اور مسند احمد (645) میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> 'مہدی ہم اہلِ بیت میں سے ہیں، اللہ ایک ہی رات میں ان کی اصلاح فرما دے گا (یصلحہ اللہ فی لیلۃ)۔'
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ 'ایک رات میں اصلاح' کا کیا مطلب ہے؟ کیا ان پر وحی نازل ہوگی؟ ہرگز نہیں! ختمِ نبوت کے بعد کسی پر وحی نہیں آ سکتی۔ حافظ ابن کثیر اور ملا علی قاری رحمہما اللہ نے اس کے تین واضح معانی بیان کیے ہیں:
۱۔ قیادت کی صلاحیت عطا ہونا: اس رات سے پہلے وہ ایک عام نیک اور منکسر المزاج انسان ہوں گے جو خود کو مہدی نہیں سمجھتے ہوں گے۔ پھر ایک ہی رات میں اللہ ان کے دل میں امت کی قیادت کی ہمت، بصیرت اور حکمت پیدا فرما دے گا۔
۲۔ توبہ کی قبولیت اور خاص توفیق: اللہ ان کی توبہ قبول فرما کر ان کے سینے کو کھول دے گا اور آنے والے عظیم حالات کے لیے انہیں درست فیصلوں کی توفیق بخشے گا۔
۳۔ دلوں کا ان پر جمع ہو جانا: بغیر کسی سیاسی مہم کے راتوں رات علماء اور اہلِ ایمان کے دل ان کی قیادت پر متفق ہو جائیں گے۔
دنیا کو سو فیصد یقین کیسے ہوگا کہ یہی شخص حقیقی امام مہدی ہیں؟ کسی سوشل میڈیا پوسٹ، خواب یا دعوے سے؟ ہرگز نہیں! نبی کریم ﷺ نے سنن ابی داؤد (4286) اور صحیح مسلم (2882-2884) میں یکے بعد دیگرے پیش آنے والے تین واضح مراحل بیان فرمائے ہیں:
پہلا مرحلہ: ایک حکمران کی موت اور شدید انتشار
ایک خلیفہ یا حکمران کی وفات کے بعد شدید اختلاف اور افراتفری پھیل جائے گی۔ اس فتنے سے بچنے کے لیے محمد بن عبداللہ مدینہ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلے جائیں گے اور قیادت سے دور رہنا چاہیں گے۔
دوسرا مرحلہ: رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان ناپسندیدگی کے باوجود بیعت
مکہ کے صالحین اور علماء ان کی علامات پہچان لیں گے اور ان کی ناپسندیدگی کے باوجود (وہو کارہ) انہیں باہر نکال کر خانہ کعبہ کے رکن (حجرِ اسود کے کونے) اور مقامِ ابراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔
تیسرا مرحلہ: سب سے بڑی نشانی, بیداء کے صحرا میں لشکر کا دھنسنا
ان کی بیعت کی خبر سنتے ہی شام کی طرف سے ایک لشکر ان سے لڑنے کے لیے بھیجا جائے گا۔ جب یہ لشکر مدینہ اور مکہ کے درمیان 'بیداء' کے صحرائی میدان میں پہنچے گا تو زمین پھٹ جائے گی اور اول سے آخر تک پورا لشکر زمین میں دھنسا دیا جائے گا!
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: 'یا رسول اللہ! اگر ان میں کوئی ایسا شخص ہو جسے زبردستی لایا گیا ہو یا جو محض مسافر ہو؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'دنیا میں وہ سب ایک ساتھ دھنسائے جائیں گے، البتہ قیامت کے دن ہر شخص اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا' (صحیح مسلم 2882)۔
امام مہدی کے دورِ قیادت میں ہی انسانی تاریخ کی سب سے بڑی آزمائش سامنے آئے گی: دجال کا خروج ہوگا۔ امام مہدی اور مومنین کا لشکر شام (دمشق اور بیت المقدس) میں جمع ہوگا۔
پھر وہ عظیم الشان صبح طلوع ہوگی جس کا آنکھوں دیکھا حال صحیح مسلم (2937 اور 156) میں بیان ہوا ہے:
- فجر کی نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی ہوگی اور امام مہدی امامت کے لیے آگے بڑھیں گے۔
- عین اسی لمحے دمشق کے مشرقی جانب سفید مینار کے پاس اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے نازل ہوں گے۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر امام مہدی احترام سے پیچھے ہٹیں گے تاکہ عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھائیں۔
- حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے:
> 'آپ ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں کیونکہ یہ اقامت آپ ہی کے لیے کہی گئی ہے!'
چنانچہ اللہ کے ایک عظیم رسول امتِ محمدیہ کے امام کے پیچھے فجر کی نماز ادا کریں گے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس میں یہ حکمت ہے کہ دنیا جان لے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوئی نئی شریعت لے کر نہیں بلکہ شریعتِ محمدیہ ﷺ کے تابع اور عادل حاکم بن کر تشریف لائے ہیں۔ نماز کے فوراً بعد وہ بابِ لد پر جا کر دجال کو قتل کریں گے۔
امام مہدی کے انتظار اور عقیدت کا فائدہ اٹھا کر پچھلے ایک ہزار سال میں کئی جھوٹے دعویداروں نے خود کو مہدی قرار دیا، مگر نبوی کسوٹی پر ہر ایک کا جھوٹ طشت از بام ہو گیا:
- ابن تومرت (وفات 1130ء، مراکش): مؤحدین تحریک کے بانی نے خود کو معصوم مہدی کہا، حالانکہ وہ قریشی نہیں بلکہ بربر قبیلے سے تھا اور مراکش ہی میں مر گیا۔
- سید محمد جونپوری (وفات 1505ء، ہندوستان): گجرات میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور افغانستان کے علاقے فرح میں انتقال کر گیا۔
- محمد احمد سوڈانی (وفات 1885ء، سوڈان): 1881ء میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور محض چار سال بعد ٹائیفائیڈ سے چل بسا۔
- مرزا غلام احمد قادیانی (وفات 1908ء): اس نے بیک وقت مہدی، مسیح (عیسیٰ علیہ السلام) اور نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا! حالانکہ متواتر احادیث میں امام مہدی (قریشی محمد بن عبداللہ) اور حضرت عیسیٰ ابن مریم (بنی اسرائیل کے نبی) دو بالکل الگ شخصیات ہیں جو دمشق کی مسجد میں ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔
- جہیمان العتیبی اور محمد بن عبداللہ القحطانی (1979ء، مکہ مکرمہ): نومبر 1979ء میں مسلح باغیوں نے مسجدِ حرام پر قبضہ کر کے محمد بن عبداللہ القحطانی کو صرف نام ملنے کی وجہ سے مہدی قرار دیا اور بندوق کے زور پر بیعت لینے کی کوشش کی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ چند ہی دنوں میں خود وہ جھوٹا مہدی (قحطانی) مارا گیا، نہ بیداء میں کوئی لشکر دھنسا اور نہ کوئی نبوی نشانی پوری ہوئی۔
بہت سے نوجوان قارئین اہلِ سنت کے تصورِ مہدی اور اثنا عشری شیعہ کے 'غائب امام' کے تصور کو ایک سمجھ لیتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے النہایہ فی الفتن والملاحم میں واضح کیا ہے کہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے:
- ۱۔ والد کا نام: صحیح احادیث کے مطابق امام مہدی کا نام محمد بن عبداللہ ہے، جبکہ اثنا عشری عقیدے میں ان کا نام محمد بن الحسن العسکری بتایا جاتا ہے۔
- ۲۔ شجرۂ نسب: صحیح سنت کے مطابق وہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اولاد سے ہیں، جبکہ شیعہ روایت میں انہیں حسینی قرار دیا جاتا ہے۔
- ۳۔ فطری پیدائش بمقابلہ ۱۱۵۰ سالہ غیبت: اہلِ سنت کے نزدیک امام مہدی اپنے وقت پر عام انسانوں کی طرح پیدا ہوں گے، جبکہ اثنا عشری عقیدے کے مطابق 260 ہجری (874ء) میں پانچ سال کا ایک بچہ عراق کے شہر سامراء کے ایک تہہ خانے (سرداب) میں داخل ہوا اور ساڑھے گیارہ سو سال سے غائب ہے۔
- ۴۔ منہج اور کردار: حقیقی امام مہدی سنتِ نبوی ﷺ اور صحابہ کرام کے طریقے پر خلافت قائم کریں گے۔
- ۵۔ عادل خلیفہ بمقابلہ معصوم عن الخطا: اہلِ سنت کے عقیدے میں انبیاء کرام کے سوا کوئی انسان معصوم نہیں ہوتا۔ امام مہدی ایک عادل خلیفہ اور مجدد ہوں گے۔
اس پوری بحث کا ہمارے آج کے عمل سے کیا تعلق ہے؟ علماء نوجوانوں کے لیے تین واضح عملی اصول بتاتے ہیں:
۱۔ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہ بیٹھیں: امام مہدی پر ایمان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان اپنی اصلاح اور دین کی خدمت چھوڑ کر بیٹھ جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تمہارے ہاتھ میں کھجور کا ایک پودا ہو تو اسے بھی لگا دو (مسند احمد 12902)۔
۲۔ خوابوں اور افواہوں پر کسی کی بیعت نہ کریں: جب تک رکن و مقام کے درمیان بیعت اور بیداء کے صحرا میں لشکر کے دھنسنے جیسی کھلی نشانیاں پوری نہ ہوں، کسی بھی دعویدار کے پیچھے نہ چلیں۔
۳۔ آج اپنی اصلاح کریں: اپنی نماز، اخلاق، علم اور ایمان کو مضبوط بنائیں۔
۞Referenced Quranic Verses
وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مِنكُمۡ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ كَمَا ٱسۡتَخۡلَفَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِينَهُمُ ٱلَّذِي ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ أَمۡنࣰ اۚ يَعۡبُدُونَنِي لَا يُشۡرِكُونَ بِي شَيۡـࣰٔ اۚ وَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ٥٥
55. Allah has promised those who have believed among you and done righteous deeds that He will surely grant them succession [to authority] upon the earth just as He granted it to those before them and that He will surely establish for them [therein] their religion which He has preferred for them and that He will surely substitute for them, after their fear, security, [for] they worship Me, not associating anything with Me. But whoever disbelieves after that - then those are the defiantly disobedient
📜Primary Referenced Hadiths
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَهُمْ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، - يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلاَّ يَوْمٌ " . قَالَ زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ " لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ " . ثُمَّ اتَّفَقُوا " حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلاً مِنِّي " . أَوْ " مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي " . زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ " يَمْلأُ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا " . وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ " لاَ تَذْهَبُ أَوْ لاَ تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَفْظُ عُمَرَ وَأَبِي بَكْرٍ بِمَعْنَى سُفْيَانَ .
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Prophet (ﷺ) said: If only one day of this world remained. Allah would lengthen that day (according to the version of Za'idah), till He raised up in it a man who belongs to me or to my family whose father's name is the same as my father's, who will fill the earth with equity and justice as it has been filled with oppression and tyranny (according to the version of Fitr). Sufyan's version says: The world will not pass away before the Arabs are ruled by a man of my family whose name will be the same as mine. Abu Dawud said: The version of 'Umar and Abu Bakr is the same as that of Sufyan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَسَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ يُثْنِي عَلَى عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ وَيَذْكُرُ مِنْهُ صَلاَحًا .
Narrated Umm Salamah, Ummul Mu'minin: The Prophet (ﷺ) said: The Mahdi will be of my family, of the descendants of Fatimah. Abdullah ibn Ja'far said: I heard AbulMalih praising Ali ibn Nufayl and describing his good qualities
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَى الْجَبْهَةِ أَقْنَى الأَنْفِ يَمْلأُ الأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ " .
Narrated AbuSa'id al-Khudri: The Prophet (ﷺ) said: The Mahdi will be of my stock, and will have a broad forehead a prominent nose. He will fill the earth will equity and justice as it was filled with oppression and tyranny, and he will rule for seven years
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَاسِينُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ " .
It was narrated from 'Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Mahdi is one of us, the people of the Household. Allah will rectify him in a single night
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا، عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَسَأَلاَهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا قَالَ " يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ " . وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ .
Harith b Abi Rabi'a and 'Abdullah b. Safwan both went to Umm Salama, the Mother of the Faithful, and they asked her about the army which would be sunk in the earth, and this relates to the time when Ibn Zubair (was the governor of Mecca). She reported that Allah's Messenger (ﷺ) had said that a seeker of refuge would seek refuge in the Sacred House and an army would be sent to him (in order to kill him) and when it would enter a plain ground, it would be made to sink. I said:Allah's Messenger, what about him who would be made to accompany this army willy nilly? Thereupon he said: He would be made to sink along with them but he would be raised on the Day of Resurrection on the basis of his intention. Abu Ja'far said. ' This plain, ground means the plain ground of Medina
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، - وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - قَالَ - فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا . فَيَقُولُ لاَ . إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ . تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الأُمَّةَ " .
Jabir b. 'Abdullah reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: A section of my people will not cease fighting for the Truth and will prevail till the Day of Resurrection. He said: Jesus son of Mary would then descend and their (Muslims') commander would invite him to come and lead them in prayer, but he would say: No, some amongst you are commanders over some (amongst you). This is the honour from Allah for this Ummah
Geographical Map & Historical Coordinates
مکہ (المسجد الحرام)
رکن اور مقام کے درمیان غیر ارادی بیعت کی جگہجہاں نیک علماء اور مومنین اسے پہچانتے ہیں اور اس کی اپنی مرضی کے خلاف اس سے بیعت کرتے ہیں۔
View on Satellite Map ↗بیضاء میدان (مکہ اور مدینہ کے درمیان صحرا)
خسف البیداء کا مقامجہاں مہدی کو قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا دشمن لشکر ایک الٰہی نشانے کے طور پر زمین میں دھنس جائے گا۔
View on Satellite Map ↗مدینہ (المُنَوَّرہ)
ابتدائی قیام اور ہجرت کا شہرایک حکمران وفات پا جائے گا، اختلاف پیدا ہوگا، اور مہدی مدینہ سے مکہ کی طرف بھاگ جائیں گے۔
View on Satellite Map ↗دمشق (اموی مسجد / سفید مینار)
فجر کے وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقاتجہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دو فرشتوں کے پروں پر نازل ہوں گے اور مہدی کی جماعت میں شامل ہوں گے۔
View on Satellite Map ↗یروشلم (بیت المقدس / القدس)
دارالحکومت خلافت راشدہعدل کا مقام جہاں عالمی ظلم کا خاتمہ ہوگا۔
View on Satellite Map ↗امام مہدی: وائرل افواہیں بمقابلہ صحیح سنت
سوشل میڈیا پر وائرل دعوے بمقابلہ صحیح احادیث اور مستند تاریخ۔
صحیح بخاری و مسلم میں امام مہدی کا ذکر نہیں، اس لیے یہ ایک کمزور روایت ہے۔
کعبہ میں پناہ، بیداء میں لشکر کا دھنسنا (صحیح مسلم 2882) اور نزولِ عیسیٰ کے وقت امامت کا واقعہ (صحیح بخاری 3449) بخاری و مسلم ہی میں موجود ہے، اور بیس سے زائد صحابہ سے یہ متواتر معنوی کے درجے میں ثابت ہے۔
خوابوں، اعداد کے حساب یا آن لائن اعلانات سے امام مہدی کو پہچانا جا سکتا ہے۔
حقیقی مہدی کبھی اپنے لیے مہم نہیں چلائیں گے۔ مکہ میں رکن و مقام کے درمیان ان سے مجبوراً بیعت لی جائے گی اور ان کی فیصلہ کن نشانی بیداء کے صحرا میں لشکر کا زمین میں دھنس جانا ہے (صحیح مسلم 2882)۔
Frequently Asked Questions & Fact-Check
Key questions answered directly from authentic prophetic sources
کیا صحیح بخاری اور مسلم میں امام مہدی کا نام صراحت کے ساتھ موجود ہے؟
اگرچہ بخاری و مسلم میں 'مہدی' کا لفظ صراحتاً نہیں مگر ان کے تمام اوصاف اور واقعات موجود ہیں: کعبہ میں پناہ لینا، بیداء میں لشکر کا دھنسنا (مسلم 2882) اور نزولِ عیسیٰ کے وقت امامت فرمانا (بخاری 3449)۔ ابوداؤد اور ترمذی میں ان کا نام اور لقب صراحتاً ثابت ہے۔
امام مہدی کا اصل نام اور نسب کیا ہوگا؟
نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ ان کا نام آپ ﷺ کے نام پر (محمد یا احمد) اور ان کے والد کا نام آپ ﷺ کے والد کے نام پر (عبداللہ) ہوگا۔ وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بڑے صاحبزادے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہوں گے (ابوداؤد 4282)۔
کیا امام مہدی اپنے لیے کوئی مہم چلائیں گے یا بیعت کا مطالبہ کریں گے؟
ہرگز نہیں! یہی سچے مہدی کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ وہ قیادت کے خوف سے مدینہ سے مکہ بھاگیں گے اور مکہ کے اہل علم ان کی مرضی کے بغیر کعبہ میں رکن اور مقامِ ابراہیم کے درمیان زبردستی ان سے بیعت لیں گے (ابوداؤد 4286)۔
دنیا کو قطعی طور پر کیسے یقین ہوگا کہ وہی حقیقی مہدی ہیں؟
شام سے ان پر حملہ کرنے کے لیے بھیجے گئے پورے لشکر کو اللہ تعالیٰ مدینہ اور مکہ کے درمیان بیداء کے صحرا میں زمین میں دھنسا دے گا (صحیح مسلم 2882)۔ یہ معجزاتی نشانی اس بات کا حتمی ثبوت ہوگی۔
اہل سنت کے امام مہدی اور اہل تشیع کے بارہویں امام میں کیا فرق ہے؟
اہل سنت کے مطابق امام مہدی آخری زمانے میں عام انسانوں کی طرح پیدا ہوں گے، نام محمد بن عبداللہ اور حسن رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہوں گے۔ شیعہ عقیدے کے مطابق وہ محمد بن حسن عسکری ہیں جو 1150 سال سے سامرا کے تہہ خانے میں غائب ہیں۔
کوئی غلطی نظر آئی؟
غلط درجہ، کمزور ترجمہ، ماخذ غائب یا پرانی معلومات؟ ہمیں بتائیں؛ ہر رپورٹ جائزے کی فہرست میں جاتی ہے اور متن میں ہر تبدیلی کسی عالم کی جانچ سے گزرتی ہے۔